سرمایہ داری و اشتراکیت کے معاشی تضادات اور اسلام کا عادلانہ نظام
سیرت النبی ﷺ، جلد 5، زکوۃ، اشاعت اول: 29 اکتوبر 2020 بمطابق: 12 ربیع الاول 1442 ہجری، (حصہ چہارم)
حرمتِ گداگری بمقابلہ قناعت و خودداری
زکوٰۃ و بیت المال: معاشی عدل کا ضامن
قرضِ حسنہ اور بلا سود مالیاتی نظام
قرض کے مسائل: اسراف، نمود و نمائش اور سماجی دباؤ
کفایت شعارانہ منصوبہ بندی اور اسلامی طرزِ تعمیر و ترقی
وسائل سے مالامال پاکستان اور بدانتظامی کا المیہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں جیسے کہ آپ سب جانتے ہوں گے۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت النبی سے ہم تعلیم کرتے ہیں۔
گزشتہ سے پیوستہ
6۔ لیکن جو لوگ بدقسمتی سے کسبِ معاش نہیں کر سکتے ان کو بھی الحاح، کثرتِ سوال، لجاجت اور گڑگڑا کر زبردستی مانگنے کی نہایت سختی کے ساتھ ممانعت کی، آپ ﷺ نے فرمایا۔ ﴿لیس المسکین الذی تردہ الاکلة والا کلْتان و لکن المسکین الذی لیس لہ غنی و یستحی و لا یسأل الناس الحافاً﴾ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول الله عزوجل لا یسألون الناس الحافا) مسکین وہ نہیں ہے جس کو لقمہ دو لقمے دروازوں سے واپس لوٹا دیتے ہیں، مسکین وہ ہے جو بے نیاز نہیں ہے لیکن حیا کرتا ہے اور لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتا۔ پھر یہ بھی بتا دیا کہ گداگری اور بھیک کا طریقہ جو سخت مجبوری کی حالت کے علاوہ ہو وہ ہر حال میں انسان کی شرم و حیا اور غیرت و آبرو کو برباد کر دیتا ہے، فرمایا۔ ﴿ما زال الرجل یسئل الناس حتی یاتی یوم القيامة ليس فى وجهه مضغة لحم﴾ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب من سال الناس تکثرا) آدمی ہمیشہ مانگتا پھرتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا ایک ٹکڑا نہ ہوگا۔ یہ اس کی سزا ہوگی کہ اس نے دنیا میں مانگ مانگ کر اپنے چہرہ سے عزت و آبرو کی رونق خود دھو دی تھی۔ ان ضروری اصلاحات کے ساتھ اسلام نے زکوٰۃ کے نظام کو قائم کیا اور ان تمام برائیوں اور بداخلاقیوں کی جڑ کاٹ دی جو اس مفت خوری سے انسانوں میں پیدا ہو سکتی تھیں اور ساتھ ہی انسانی برادری کے دونوں طبقوں کو ترازو کے پلڑے میں برابر رکھ کر ان کو باہمی معاونت، باہمی مشارکت، باہمی ہمدردی اور امداد کا سبق سکھایا اور اس طرح پوری جماعتِ انسانی کو باہم جوڑ کر ایک کر دیا۔ پست و بلند کے تفرقے ممکن حد تک کم کر دیئے اور اس اقتصادی بربادی سے جماعت کو محفوظ رکھنے کا طریقہ بتا دیا جو اکثر اپنی بھیانک شکلوں سے اس کو ڈرایا کرتی ہے۔
آنحضرت ﷺ کی اس تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت مند صحابہؓ میں یہ فیاضی آ گئی کہ وہ دین و ملت کی خدمت کے لئے اپنی ساری دولت لٹا کر بھی سیر نہ ہوتے تھے، اور غریب صحابیوں میں یہ قناعت اور خودداری پیدا ہو گئی کہ وہ کسی سے کسی کام کا سوال کرنا بھی عیب سمجھتے تھے۔ دولت مند اپنی زکوٰۃ آپ لے کر بیت المال کے دروازوں تک خود آتے تھے اور غریب اپنے افلاس و حاجت کو خدا کے سوا دوسروں کے سامنے پیش کرنا توکل کے منافی سمجھتے تھے اور تیسری طرف آنحضرت ﷺ کے بعد جب فراغت آئی تو جماعت کے بیت المال میں اتنا سرمایہ رہتا تھا کہ زکوٰۃ کے کسی مصرف کے لئے کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ضرورت مندوں کو اسی رقم سے قرض بھی دیا جاتا تھا اس طرح یہ ایک ایسا مالی و باقتصادی نظام تھا کہ بلا نفع قرض دینے میں افراد کو جو تامل ہوتا ہے وہ اس جماعتی نظام کے ماتحت آسان تھا اور سود کی لعنت کے بغیر داد و ستد کا راستہ کھلا ہوا تھا۔
آخر میں حضرت نے بڑے عمدہ طریقے سے ایک بات فرما دی۔ روانی میں فرما دی ہے اگر کوئی اس پر غور نہ کرے تو شاید پتہ بھی نہ چلے۔ اللہ کا شکر ہے وہ چلتے چلتے سمجھ آ گئی۔ حضرت نے فرمایا کہ
جب فراغت آئی تو جماعت کے بیت المال میں اتنا سرمایہ رہتا تھا کہ زکوٰۃ کے کسی مصرف کے لئے کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ضرورت مندوں کو اسی رقم سے قرض بھی دیا جاتا تھا یہاں پر بات اگر روک دیتے تو شاید بات سمجھ میں نہ آتی۔ حضرت نے فرمایا: اس طرح ایک ایسا مالی و اقتصادی نظام تھا کہ بلا نفع قرض دینے میں، یعنی جس کو قرض حسنہ کہتے ہیں۔ سودی قرضہ بھی ہوتا ہے اور قرض حسنہ بھی ہوتا ہے۔ بلا نفع قرض دینے میں افراد کو جو تامل ہوتا ہے کیونکہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا mode ہی ختم ہو جائے گا۔ یعنی مطلب جو بنیاد ہے کاروبار کی، سرمایہ جو ہے جس پر ہم اور کما سکتے ہیں وہ ختم ہو جائے گا۔ تو جو تامل ہوتا ہے وہ اس جماعتی نظام کے ماتحت آسان تھا۔ اور سود کی لعنت کے بغیر داد و ستد کا راستہ کھلا ہوتا تھا۔ یعنی چونکہ جماعت میں یہ نظام چل رہا تھا تو لوگوں کی زکوۃ کا مال چونکہ اس میں پڑا ہوتا تھا نتیجتاً جس کو قرض دینا ہوتا تھا اسے قرض دے دیتے تھے۔ اور ان کے جماعتی نظام کے لیے چونکہ وہ سود کی ضرورت نہیں تھی لہٰذا بغیر سود کے وہ نظام چل رہا تھا۔ اور ویسے عام حالات میں لوگوں کا دل کھوٹا ہوتا ہے۔ وہ جب کسی کو قرض حسنہ دیں۔
بالخصوص آج کل کے دور میں ایک اور مسئلہ بھی آ گیا ہے کہ کسی کو قرض حسنہ دینا اس وجہ سے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ لوگ قرض ادا نہیں کرتے۔ یعنی کمال کی بات ہے کہ قرض لیتے وقت بھی قرض واپس کرنے کی نیت نہیں ہوتی۔ قرض لیتے وقت بھی قرض واپس کرنے کی نیت نہیں ہوتی۔ بس ایسا ہوتا ہے جیسے کہ مطلب اپنے آپ کو مجبور سمجھ کر دوسروں پہ حق سمجھتے ہیں کہ ہمیں دے اور جو انہوں نے دے دیا وہ ہمیں اپنا حق دے دیا۔ اب واپس کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تقریباً تقریباً آج کل یہ صورتحال ہے۔b
اب میں آپ کو اس کی مثال دوں۔ قرض انسان کس وقت لیتا ہے یا کس وقت لینا چاہیے؟ اور قرض واپس کرنے میں رکاوٹ کیا ہے اور وہ رکاوٹ کیسے دور ہو سکتی ہے؟ یہ دو باتیں ہیں اس کو اچھی طرح جان لیں۔ قرض انسان اس وقت لے جب اس کا ایک ضروری امر جو اس کے لیے ضروری ہے وہ مشکل میں پڑ جائے۔ یہ نہیں کہ کوئی عیش کی بات ہو۔ مثلاً میں کار لینا چاہتا ہوں، تو کار تو عیش ہے۔ میں ریفریجریٹر لینا چاہتا ہوں، ریفریجریٹر بھی عیش ہے۔ میں پنکھا لینا چاہتا ہوں، وہ بھی عیش ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر لوگ گزارہ کرتے رہے ہیں۔ اب اس کے لیے میں قرض لوں تو یہ میں نے کیا لیا؟ عیش کے لیے لے لیا۔ اب عیش کے لیے جب لے لیا تو میں اپنے عیش کو کم کیسے کروں گا بعد میں دینے کے لیے؟ تو وہ تو میری ضرورت بن گئی۔ جب میری ضرورت بن گئی تو کبھی بھی مجھے واپسی کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اگر میں نے ضرورت کے مطابق قرض لیا ہو تو ضرورت کے مطابق جب ضرورت پوری ہو جائے تو اس کو ادا کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ اگر میری requirement ضرورت کے مطابق ہو۔ کہ جو میرے لیے ضرورت ہے وہ صرف وہی ہے اصل میں۔
اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے۔ وہ اچھا کھا رہا ہے اچھا پی رہا ہے عیش کے ساتھ رہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے جب ہو جائے گا تو پھر آپ کو دیں گے قرض واپس۔ بھئی کس وقت ہو گا؟ اگر آپ نے اپنا معیار کچن کا ایک لاکھ روپے خرچ رکھا ہوا ہے تو آپ سے بچت کب ہو گی؟ آپ یہ سمجھیں کہ اس معاشرے کے اندر minimum level جو کچن کا خرچ ہے اس پہ اپنے آپ کو لا کر اپنا قرض ادا کرنا ہو گا۔ پھر تو آپ قرض ادا کر سکیں گے۔ لیکن اگر آپ نے maximum level کا معیار رکھا ہوا ہے، تو پھر آپ قرض کیسے ادا کریں گے؟ ناممکن ہے۔ معاملہ اصل میں اکثر میں یہ عورتوں میں ہوتا ہے۔ اب مثال کے طور پر ایک شخص وہ اچھے عہدے پر ہے یا اچھا کاروباری ہے۔ اب وہ تو اپنی دولت جو کماتا ہے اس کے لحاظ سے وہ خرچ بھی کرتا ہے، تو اس کو آپ پابند بھی نہیں کر سکتے اس کے لحاظ سے وہ زندگی گزار رہا ہے۔ اب اس کا بھائی جو اتنا نہیں کما رہا۔ تو بے شک اس کو تو اس کا خیال ہو کہ میں اتنا نہیں کما رہا لہٰذا مجھے اتنا خرچ نہیں کرنا لیکن اس کی بیوی گزارہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہتی ہے میری دیورانی جو ہے وہ جتنا خرچ کر رہی ہے اتنا تو مجھے بھی خرچ کرنا ہے۔ بے شک میرے میاں کی کم ہے آمدنی لیکن کیوں؟ ظاہر ہے میرا بھی اتنا حق بنتا ہے۔ نتیجتاً وہ اس صورت میں پھر وہ یہ مشکلات بن جاتی ہیں۔ یہی آج کل قرض دینے میں مشکل ہے۔ اور یہی قرض واپس کرنے میں مشکل ہے۔ جس کی وجہ سے قرض حسنہ کا رواج تقریباً تقریباً ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر جو قرض دیتا ہے اس کو سب سے پہلے یہ سوچنا ہوتا ہے کہ کیا یہ قرض واپس بھی کر سکے گا یا نہیں؟ جو عمومی حالت میں نہیں ہوتا واپسی کے ق ابل۔ ہمارے پشتو میں اس کے لیے کچھ ضرب الامثال بھی ہیں۔ کیونکہ ہر معاشرے کا یہ مسئلہ ہے۔ تو ہمارے پشتو میں کہتے ہیں وہی در بکو پسے جوڑے سپلئی زڑیگی نہ زڑیگی در بکو۔ یعنی جب آپ کسی مطلب قرض کسی نے آپ کو دے دیا۔ تو جب وہ آئے گا واپس تو آپ کہیں گے جی بس دے دیں گے۔ تو کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کئی جوڑے جوتے کے پرانے ہو جائیں گے۔ آتے آتے۔ لیکن یہ پرانا نہیں ہو گا یہ دے دیں گے۔ کب دیں گے؟ کس وقت دیں گے؟ کیسے دیں گے؟ پھر وہ ظلم کے ساتھ لیتے ہیں۔ کبھی گریبان پکڑ لیا کبھی کیا کر لیا۔ ان کے لیے ظلم بھی نہیں ہوتا وہ۔ شریعت اجازت دیتی ہے نا پھر ایسے اگر وہ قرض واپس نہ کرے۔ تو شریعت اجازت تو دیتی ہے نا مطلب اس طرح زبردستی لینے کی۔ تو یہ مطلب گویا کہ اس قسم کی جو چیزیں ہیں یہ مسائل ہیں۔ شرعی مسائل ہیں معاشرتی مسائل ہیں۔ تو اللہ کرے کہ ہمیں یہ چیزیں سمجھ میں آ جائیں۔
مسلمانوں کا نظام بہت خوبصورت نظام ہے۔ ذرا اس نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں طرف کی اس میں اصلاح کی وہ صورتیں رکھی گئی ہیں۔ لینے والے کی بھی دینے والے کی بھی۔ مالداروں کی بھی غریبوں کی بھی۔ state کی بھی۔ یعنی ہر چیز کی اس میں پورا نظام رکھا گیا ہے۔ نتیجتاً بہت آسانی کے ساتھ سب کچھ ہو جاتا ہے۔ بہت آسانی کے ساتھ سب کچھ ہو جاتا ہے۔ یعنی جو بڑے بڑے projects جو کافی رقم خرچ کرنے پہ پورے نہیں ہوتے وہ تھوڑی رقم سے بھی پورے ہو جاتے ہیں۔ اگر سب چیزیں اس کے مطابق ہو جائیں۔ افغانستان میں جب اسلامی حکومت آئی تھی تو یہ منظر لوگوں نے دیکھا تھا کہ بالکل یعنی مطلب جو project کروڑوں کا ہوتا تھا وہ لاکھوں میں ہوتا تھا۔ دیکھا تھا لوگوں نے۔ کوئی امن و امان کا مسئلہ کوئی نہیں تھا۔ بہت آسانی تھی، فراوانی تھی۔ حالانکہ غریب ملک تھا۔ کہیں ایک دم مالدار تو نہیں ہو گیا تھا۔ بس اصول صحیح ہو گئے تھے۔ اصول صحیح ہو گئے تھے۔
تو یہی اگر اصول صحیح ہو جائیں تو ہمارے لیے موجودہ حالت میں یعنی آپ یقین کیجیے کہ پاکستان جیسا ملک اس کو اللہ جل شانہ نے اتنے زیادہ وافر وہ چیزیں دی ہیں جو دوسرے لوگوں کے ساتھ اتنی نہیں ہیں۔ مثلاً اس میں ہر ایک موسم ہے۔ لہٰذا ہر موسم کا پھل اس میں ہے۔ ہر موسم کا اناج اس میں ہے۔ ہر موسم کا غلہ اس میں ہے۔ تھوڑی planning اور coordination کی ضرورت ہے۔ تو یہ ساری چیزیں بہت آسانی کے ساتھ ہو سکتی ہیں۔ ہم لوگ اگر اپنے مخلص ہو جائیں، اپنے یعنی اپنے آپ کے مخلص ہو جائیں تو اپنے مسائل خود حل کر سکتے ہیں۔ بہت آسانی کے ساتھ۔ لیکن ہم لوگوں کی یہ بات ہے کہ ہم لوگ خود کچھ کام نہیں کرنا، ہم کہتے ہیں کوئی اور ہمارے لیے کر لے۔ وہ پشتو میں کہتے ہیں: د اکبر باچا لاټان۔ یعنی اکبر بادشاہ کے دور کے جو کاہل لوگ ہیں باقاعدہ ان کو جو ملتا تھا۔ تو وہ اس قسم کا بس وہ سب کاہل بیٹھے ہوئے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی اور کام کرے۔ یہ بہت عجیب بات ہے۔ بہت سارے projects ہو سکتے ہیں خود اپنی مدد آپ کے تحت۔ آپ کے بجلی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ آپ کے دوسرے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ agriculture آپ کی بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر آپ تھوڑا سا سوچیں۔ ان شرعی اصولوں کی بنیاد پر جو شریعت نے مقرر کی ہیں، تو بہت مسائل ہمارے حل ہو سکتے ہیں۔
ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ افسوس ان کو تو دنیا بھی کمانا نہیں آتا، ہم تو ان کی دنیا کے لیے بھی روتے ہیں۔ ان کو تو دنیا بھی کمانا نہیں آتا۔ اور بات بالکل صحیح ہے۔ یہ نظام، پاکستان جس وقت بنا تھا یہ PECO industry بہت بڑی industry تھی۔ اور ہمارا جو نظام تھا وہ کافی اچھے نظاموں میں شمار ہوتا تھا اس وقت۔ لیکن اِس وقت ہم کہاں پر کھڑے ہیں؟ تو یہ ہم لوگوں کی کمزوریاں ہیں۔ صرف management کمزوریاں ہیں۔ طریقہ کار کی کمزوریاں ہیں۔ ورنہ چیزیں موجود ہیں۔ افراد موجود ہیں، labour، بہترین labour موجود ہے۔ بہترین labour پاکستان کے ساتھ موجود ہے۔ بہترین وسائل موجود ہیں۔ بہترین موسم موجود ہیں۔ تو اگر اس سے ہم لوگ فائدہ اٹھانا چاہیں تو ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔