تکمیلِ دین، تدریج کا قانون اور صحبتِ شیخ کی اہمیت (ماہِ رجب کی حقیقت اور نفس کی اصلاح کا طریقہ کار)
اشاعت اول: اتوار، 21 جنوری 2024
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے ماہِ رجب کی آمد پر سنت اور بدعت کے فرق کو واضح کیا۔ آپ نے فرمایا کہ دین مکمل ہوچکا ہے، لہذا اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرنے کی گنجائش نہیں، البتہ ضعیف روایات پر فضائل کی نیت سے عمل کرنے میں حرج نہیں بشرطیکہ اسے سنتِ مؤکدہ نہ سمجھا جائے۔ حضرت شیخ صاحب نے دین کے نفاذ اور انسان کی اصلاح میں "تدریج" (آہستہ آہستہ بہتری) کے قانون کو بیان کیا اور پشاور یونیورسٹی کے پروفیسروں کی مثال دی کہ کیسے وہ دھیرے دھیرے دین کی طرف آئے۔
بیان کا مرکزی حصہ اصلاح کے لیے کسی ماہر (شیخ) کی ضرورت پر مبنی تھا، جیسے بیماری کے لیے ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت نے اصلاح کی تین اقسام بیان کیں: نفس کی اصلاح (نفسِ مطمئنہ بننا)، دل کی اصلاح (دنیا کی محبت نکلنا)، اور عقل کی اصلاح (سنت کو اپنی عقل پر ترجیح دینا)۔ آخر میں شیخِ کامل کی پہچان کے لیے چند اصول بیان فرمائے جن میں عقیدہ اہلِ سنت، علمِ فرضِ عین، باعمل ہونا، اور صحبت کا سلسلہ نبی کریم ﷺ تک پہنچنا شامل ہے۔