اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج کے دن ہمارے ہاں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب ’’ہمعات‘‘ اس کی تعلیم ہوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے خوارق و کرامات کے بارے میں مضمون چل رہا تھا، چونکہ کچھ حصہ اس کا باقی تھا، لہٰذا اس حصے کو cover کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ جو پہلے ہوچکا ہے اس کا ایک مختصر تعارف مطلب بتا دیا جائے تاکہ آئندہ کا جو حصہ ہے وہ بھی سمجھ میں آجائے۔
خوارق و کرامات
خلاصہ:
خوارق و کرامات کے بارے میں عموماً بتایا جاتا ہے کہ یہ اسباب سے نہیں بلکہ اسباب کو توڑ کے ہوتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ بھی اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں، لیکن ان کے اسباب مخفی ہوتے ہیں جو کہ عام لوگوں کے علم میں نہیں ہوتے، اس لیے ان کو خوارق سمجھا جاتا ہے۔ ان خوارق میں جیسے کشف بھی آتا ہے تو اس کے بارے میں اتنا تو معلوم ہے کہ ہر ایک کو نہیں ہوتا، بلکہ کسی کسی کو ہوتا ہے اور ان کو بھی ہر وقت ضروری نہیں کسی کسی وقت ہوتا ہے، اس بات سے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جن کو ہوتا ہے ان میں ان کے مخفی اسباب پائے جاتے ہیں تب تو ان کو ہوتا ہے اور جن میں نہیں ان میں نہیں ہوتے۔ مثلاً بعض باتیں جو اس کے بارے میں تجربے سے معلوم ہوچکی ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ مجنونوں کو بھی ہوسکتا ہے حتیٰ کہ جانوروں کو بھی۔ دوسرے لفظوں میں جس کو جس وقت ہوتا ہے اس وقت اس کے لیے اللہ تعالیٰ اس کے مقرر کردہ اسباب جو مخفی ہوتے ہیں، وہ پورے کرلیتے ہیں، جس وقت نہیں ہوتا اس وقت وہ اسباب پورے نہیں ہوتے۔ ان مخفی اسباب میں ان میں ہر نوع کے لیے ایک نہ ایک ریاضت بھی شامل ہے جو کہ وجدان اور فراست سے معلوم ہونا ممکن ہے۔ اور کسی صاحب خوارق کے ساتھ مجالست سے بھی، ان کی طرزِ زندگی میں غور و خوض کرنے سے بھی کچھ سمجھ میں آسکتا ہے اور بعض کی اپنی مناسبت بھی اس سے ہوتی ہے، جیسا کہ ہر لوہا مقناطیس نہیں بن سکتا، چاہے اس کو کتنا ہی مقناطیس سے رگڑا جائے اور بعض بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے بھی رگڑنا درکار ہوگا۔ پس اس میں رگڑنا گویا کہ ریاضت کی طرح ہے اور اس کے بننے کی صلاحیت مناسبت کی طرح ہے۔ مستقبل کے واقعات کا جاننا یہ بھی خوارق میں سے سمجھا جاتا ہے جو کہ کسی کو خواب میں نظر آتا ہے یا کسی کو جاگتے میں ایک جھلک کے انداز میں اور کسی کو بين النوم واليقظة میں ایسی حالت میں پیش آسکتی ہے۔ کبھی کسی کی قوتِ واہمہ میں ہونے والے حادثات کی کوئی بے تصویر اور شکل کی ایک ویڈیو سی تخیل میں چلتی ہے جس سے تجربے کے بعد کچھ اشارے اخذ کیے جاسکتے ہیں، کبھی کسی کو آواز وغیرہ کی صورت میں بھی معلوم ہوجاتا ہے۔ ان کے پیچھے جو صورت ہوتی ہے اس میں دنیا میں رونما ہونے والے حوادث کا ملاء اعلیٰ میں متشکل ہو کر ملاء سافل میں اس کی خبر ہونے اور ان سے کچھ ایسے حضرات کو جو بہیمی تقاضوں سے بلند ہوں، ان کو خبر ہوجانا جن کا قلبی رخ ملاء اعلیٰ کی طرف کسی وجہ سے ہوچکا ہو، ممکن ہے۔ البتہ اس کے لیے بھی ان کا حادثات سے طبعی مناسبت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس کو ہم سائنس کی زبان میں resonance کہتے ہیں، یعنی حادثات کی frequency ان افراد کی ایک جیسی ہو یا بالفاظ دیگر ان میں طبعی مناسبت ہو۔ خوارق کے اسباب میں ایک سبب شخصِ اکبر میں ایک ہی قوتِ واحد کا جاری و ساری ہونا ہے، اس شخصِ اکبر کے نفس کو نفسِ کلیہ بھی کہہ سکتے ہیں اور اس کے جسد کو جسدِ کل، جس میں ایک نظام تدبیر کا چلتا ہے اس طرح جس طرح کہ ہر نبات اور حیوان میں نظام تدبیر کا چلتا ہے، اس کا موجودہ نام آج کل DNA ہے جو genes میں ہوتا ہے۔ ان تمام تدبیری نظاموں کا بڑے نظام کے ساتھ ایسے تعلق ہوتا ہے کہ اس بڑے نظام کے اثرات ان چھوٹے نظاموں پر پڑتے ہیں اور چھوٹے نظاموں کے اثرات اس بڑے نظام پر بالکل اس طرح جیسے ہمارے دل کا اثر دیکھنے، سننے اور بولنے کے نظاموں پر پڑتا ہے، اور بولنے، سننے اور دیکھنے کا اثر دل پر پڑتا ہے۔ پس یہ سارے نظام حظیرۃ القدس کے ساتھ جس طرح وابستہ ہوتے ہیں، اس کا اشارہ ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ﴾ میں ہوسکتا ہے۔ یہ حظیرۃ القدس ہمارے لیے ایسے ہے جیسے جسم کے لیے روح ہوتی ہے۔ تہجد کے وقت کی اور عرفات کی دعا اور صلوٰۃ الاستسقاء اور دوسرے اس قسم کے اعمال کا اثر ایسے ہی باقی نظاموں پر پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نظام بہت مکمل بنائے ہیں، ان کی معرفت سے ان نظاموں کو اگر استعمال کیا جائے تو وہ تمام فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں جن کے لیے یہ نظام بنے ہیں۔ ان نظاموں کو متحرک کرنے کے لیے بہیمی اثرات سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے استحضار کے ساتھ ان نظاموں کی معرفت کو استعمال کرنا ہوتا ہے جس سے جلدی اثرات ظاہر ہوجاتے ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ ہر شخص کے ساتھ دو نظام تو ہر وقت موجود ہوتے ہیں، جو ان کے دل میں القاء کرتے رہتے ہیں، ایک شیطان کا اور دوسرا ملائکہ کا، جن کو عموماً ضمیر کہتے ہیں۔ اس طرح ملائکہ، جن اور روحیں بھی کسی شکل میں انسان کے ادراکات کو متاثر کرتے ہیں، یہ ہمہ وقت موجود رہتی ہیں، لیکن ان کا ادراک ان لوگوں کو ہوتا ہے جو اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلیتے ہیں۔ جیسے کوئی اپنے آپ کو اپنے گرد و پیش کے علائق سے منقطع کرسکتے ہوں۔ خوارق میں ہمت اور توجہ کا قائم رہنا بھی ہے، کسی شخص کی جبلت میں اگر تصرف کی قوت ودیعت کی گئی ہو اور محنت اور ریاضت کے ذریعے اس کی مناسبت کو بڑھایا جاسکتا ہو تو اس شخص کا عزم و ارادہ ان باہمی نظاموں کے ذریعے حظیرۃ القدس تک پہنچتا ہے تو وہاں سے پھر باہمی نظاموں کے ذریعے ملاءِ اسفل تک اثر پہنچتا ہے، جس سے اس کے ارادہ کے موافق کام ظہور پذیر ہوجاتے ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ہماری قدرتِ مدرکہ کے ذریعے پہلے خیال وجود میں آتا ہے، پھر اس سے ہم میں عزم و ارادہ وجود میں آتا ہے، اور انہی کے اثرات کا نتیجہ ہے کہ ملائکہ، جن اور وہ روحیں جو اپنے جسموں سے الگ ہوچکی ہوتی ہیں مختلف شکلوں میں انسانوں کے لیے ظاہر ہوتی ہیں۔ ملائکہ، جن اور روحیں اس عالم میں ظاہر ہونے کے لیے کسی شکل کی محتاج ہوتی ہیں، ان کے لیے کسی چیز کا تصور کرتی ہیں جس سے عالم مثال کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھل جاتا ہے جس سے ان کے اس تصور میں طاقت آتی ہے اور یہ کسی خاص صورت میں رونما ہوتی ہیں، اور اس صورت کی خاص ہیئت و کیفیت تمام لوگوں کے حسِّ مشترک کو متاثر کرکے اس کو لوگوں کے قابلِ ادراک بنا کر اس کے ادراکات میں اپنا نقش جماتی ہے، جیسا کہ فرشتے ان کے دلوں میں الہامات اور شیاطین وساوس ڈالتے ہیں۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ان چیزوں کی صورتیں ہیولائے عنصری میں نقش ہوجاتی ہیں جو کہ چاروں عناصر میں مشترک عنصر ہے، اس میں ان کے انعکاس کے بعد یوں ہوتا ہے کہ نفوس قدسیہ میں سے ایک شخص جو مبداء اول کے جوارح میں سے ایک جارح ہوتا ہے وہ تدبیر الٰہی کے ذریعوں میں سے ایک ذریعے بن جاتا ہے۔ چنانچہ جب یہ پوری ہمت سے ان ملائکہ، جنوں یا روحوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو تدبیر عالم مثال اور حظیرۃ القدس سے بھی بے نہایت قوتیں اس موقع پہ نازل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ایک صورت ظہور پذیر ہوتی ہے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے آگ اور آپ ﷺ کے سامنے جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے۔ اس قسم کے عوامل سے صوفیاء کرام کے وہ خوارق وابستہ ہوتے ہیں جس میں وہ عالم تدبیر و خلق میں کوئی تصرف کرتے ہیں، جیسے کسی گناہگار کو اپنی توجہ سے توبہ کرائیں یا کسی کا دل مسخر کیا یا کسی کے ذہن میں کسی ہونے والے واقعے کا علم منتقل کیا ہے یا کسی کی بیماری کو دور کردیا وغیرہ۔ خوارق کے اسباب میں ایک سبب برکت بھی ہے جو ملاء اعلیٰ اور ملاء سافل کے کسی شخص کی رحمت کی نظر سے ہوتی ہے، جس سے ان کی قوت اس شخص سے جا ملتی ہے اور اس شخص کا یوں احاطہ کرتی ہے۔
یہاں تک ہوچکا ہے تو اب ان شاء اللہ اگلا پھر پڑھتے ہیں ان شاء اللہ۔