سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 738 (اس مجلس میں سوالات 16 دسمبر 2019 سے لیے گے ہیں)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

یہ سوال و جواب کی نشست، روحانی اور عملی زندگی کے مسائل پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی سب سے بڑی دلیل اور تقدیر جیسے پیچیدہ مسائل کا حل، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپؐ کی کامل اتباع میں ہے۔ شرکاء کے ذاتی روحانی امراض، مثلاً حسد اور غصہ، کے لیے نفس کی مخالفت اور سنت پر عمل کرنے کو بہترین علاج قرار دیا جاتا ہے۔ مختصراً، یہ مجلس اس بات پر زور دیتی ہے کہ دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا انحصار صرف نبی کریمؐ کی غیر مشروط محبت اور پیروی پر ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں تصوف سے متعلق جو سوالات لوگوں کے ذہنوں میں اٹھتے ہیں، ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سوال نمبر 1:

روح تو نظر نہیں آ سکتی۔ (روح تو کہا جاتا ہے یہ صرف pumping device ہے)۔ ہاں یہ بہت زبردست question ہے۔ (مطلب اس کو relate کس طرح کیا جاتا ہے؟) جواب:

اصل میں دیکھیں ناں، روح ہر جگہ ہے یا نہیں جسم میں؟ ہمیں تو صرف گوشت نظر آ رہا ہے، ہڈی نظر آ رہی ہے، رگیں نظر آ رہی ہیں، لیکن روح تو نظر نہیں آ سکتی۔ روح تو ہر جگہ ہے ناں۔ تو جو روح، جس طرح جسم کا پورا حصہ ہے، مطلب اس کا دل ہے، اس کی تمام۔۔۔۔ اس طرح روح کی بھی کچھ ہوں گی ناں چیزیں۔ تو وہ جو روح یہاں پر، مطلب جو دل کی جگہ پر جو روح ہے، کیونکہ وہ ظاہر ہے روح کی shape بھی وہی ہے جو جسم کی shape ہے، کیونکہ مطلب، وہ اس کے اندر enclosed ہے ناں۔ تو یہ جو جگہ ہے یہ spiritual heart ہے۔ تو یہ جو بات کی جاتی ہے وہ spiritual heart کی کی جاتی ہے۔ وہ spiritual، کیونکہ جیسے مثال کے طور پر آپ fridge کی جو machinery ہے وہ اس سے نکال لیں تو کسی اور میں رکھ دیں تو وہی fridge بن جائے گی۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ جو spirit ہے وہ جسم کے اندر ہے، تو اصل تو چلانے والا یہ ہے ناں۔ تو وہ جو القاء اور الہام والا تعلق ہے وہ اس روح کے ساتھ ہے اور pumping کا تعلق اِس دل کے ساتھ ہے۔ میں اس کی بہت آسان مثال دیتا ہوں کہ محبت اور نفرت، یہ دل میں ہوتے ہیں۔ یہ ایک عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے وہ کہاں محسوس ہوتی ہے، کسی کو اِدھر محسوس ہوئی ہے؟ ظاہر ہے وہ یہاں محسوس ہوتی ہے۔ نفرت بھی ادھر ہی محسوس ہوتی ہے۔ باقاعدہ دل repel کرتا ہے۔ یعنی، مطلب اگر کسی کے ساتھ آپ نہیں ملنا چاہتے ہوں ناں، تو آپ ان کے ساتھ بے شک گلے مل لیں ناں، لیکن آپ کا دل وہ repel کرے گا، آپ نہیں مل سکیں گے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ چیزیں اِدھر ہیں۔ اسی طرح ایمان اور کفر، یہ بھی اِدھر ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت دی ہو تو وہ کسی کافر، مسلمان میں فرق اس طرح کر سکتا ہے کہ وہ اس کے دل کی طرف دیکھے گا۔ یہ حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ جو تھے، یہ لاہور کے، تو ان کے ساتھ ایک ایران سے کوئی آیا تھا مناظرہ کرنے کے لئے، وہ آیا تھا، وہ مناظرہ کرنے کے لئے آیا تھا، تو جیسے جیسے مطلب وہ آ رہے تھے ان کے پیچھے، میاں میر رحمۃ اللہ علیہ وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میاں میر بیٹھے ہوئے تھے، وہ دھوپ تاپ رہے تھے۔ تو حضرت نے فرمایا: "یہ جو آگے آگے آ رہا ہے ناں، یہ اس کا دل کالا ہے۔" یہ جو آگے آگے آ رہا ہے، اس کا دل کالا ہے۔ تو وہ جب قریب آگیا تو یہ وہی تھا۔ اب انہوں نے دل کی بات بتائی، انہوں نے دماغ کی بات نہیں بتائی۔ کفر اور ایمان، یہ بھی دل میں ہوتے ہیں اور محبت و نفرت، یہ بھی دل میں ہوتے ہیں۔

سوال نمبر 2:

Atheist نے سوال کیا تھا کہ آپ کیا اللہ پر یقین رکھتے ہیں؟

جواب:

انہوں نے کہا، "میں مسلمان ہوں، کیوں نہیں رکھتا؟" انہوں نے کہا، "آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ اللہ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔" تو انہوں نے کہا: "کیا ایک گواہی پر آپ اتنی بڑی حقیقت مان سکتے ہیں؟" تو پٹھانوں کا علاقہ تھا، وہ تو کھڑے ہوکر مارنے لگے۔ تو حضرت نے اشاروں اشاروں میں بٹھایا کہ بھئی میں جواب دیتا ہوں، آپ لوگ کیوں بات کرتے ہیں؟ پھر لوگ بیٹھ گئے۔ حضرت نے پھر ان کو ذرا باتوں میں involve کر کے بہت دور لے گئے، کہ جیسے وہ بات بھول گئے اور پھر اس سے پر بات کرنے لگے کہ ما شاء اللہ! آپ کے والد صاحب کیسے ہیں؟ کہتے ہیں وہ تو فوت ہوگئے۔ تو والدہ کیا صحیح ہے؟ کہتا ہے، "بوڑھی ہے۔" وہ تو بڑی سچی ہوگی کیونکہ پرانی عمر کی ہے۔ تو اس نے کہا کہ "نہیں، کبھی کبھی اپنے مقصد کے لئے جھوٹ بھی بول لیتی ہے۔" broad-minded تو بنتے ہیں ناں لوگ۔ وہ اپنے مقصد کے لئے جھوٹ بھی بول لیتی ہے۔ انہوں نے کہا، "اچھا! تو کیا خیال ہے، آپ واقعی اس کے بیٹے ہیں جس کا آپ نام لے رہے ہیں؟ بس وہ غصہ ہوگیا، "مولانا گالی تو نہ دو۔" انہوں نے کہا، "دیکھو، تونے اتنی بڑی بات کی، میں نے کچھ نہیں کہا۔ اب میں بات کر رہا ہوں تو آپ غصہ ہو رہے ہیں، تو غصے کا حق تو آپ کو بھی نہیں ہے۔ logic پہ بات کریں گے ناں، تو logic یہ کہتی ہے کہ تو بقول آپ کے خود، وہ کبھی کبھی جھوٹ بولتی ہے اپنے مقصد کے لئے، اور واقعہ یہ ہے کہ عینی گواہی صرف ایک ہے، کوئی اور ہے نہیں۔ تو اس سے بڑا مقصد اس کا اور کیا کون ہوگا اپنی عزت کو بچانے کے لئے؟ تو اگر وہ جھوٹ بول رہی ہو تو پھر؟ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ابو آپ کا باپ ہے؟ میں logic کی بنیاد پہ کہتا ہوں، تو آپ logic کی بنیاد پر مجھے جواب دیں۔" اب وہ بالکل ہوگیا، جو ہے ناں، ظاہر ہے وہ fail ہوگیا۔ answer اس کے پاس نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو یہ شان تھی کہ ان کے دشمن بھی ان کو صادق و امین کہتے تھے، تو ان کی بات تو میں نہ مانوں اور آپ ایک ایسی عورت کی جو کہ بقول آپ کے خود بھی جھوٹ بولتی ہے، آپ اس کے اوپر اتنا یقین کرتے ہیں؟ تو یہ بتاؤ۔" بس اس سے وہ لاجواب ہوگیا۔ تو اصل میں بنیادی بات تو یہی ہے ناں آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس لئے میں اکثر میں نے بیانوں میں کہا تھا ناں کہ اصل ایمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان ہے، اس لئے خدا تعالیٰ کا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسی طرح ہم اللہ پر ایمان ہے۔ یعنی اللہ پاک کی صفات کس نے بتائیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائیں۔ کتابوں پر ایمان اس کی وجہ سے ہے، قرآن پر ایمان اس وجہ سے ہے، رسولوں پر ایمان اس کی وجہ سے ہے۔ ہر ایمان جو ہے ناں، مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے، ذریعے سے ہے۔ بنیادی بات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مقام اللہ پاک نے دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ ساری چیزوں کا وہ ہے، تکوینی فیض بھی وہی ہے، تشریعی فیض بھی وہی ہے، سب جو ہے ناں مطلب۔۔۔۔ اور یہاں تک فرمایا کہ ﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ﴾1 یہ معمولی بات نہیں ہے ذرا اس کے weight کو اندازہ کر لیں تو پھر پتہ چلے گا کہ ﴿فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ2 کوئی معمولی بات ہے؟ یہ یہ چیز ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ سوال نمبر 03:

حضرت اس میں ایک اور suggestion ہے۔ یہ جو ہمارے سوال و جواب کا ہے، اور کچھ نہیں، facebook پہ ایک page بنا دیا جائے، اس پہ relay کیا جائے۔ ہم بہت زیادہ اپنی جو thought process ہیں اور یہ سوال و جواب، یہ۔ ہر جگہ پہ اور وہ جتنے بھی ہم community میں بیٹھے ہیں، ہم اس کو like کر رہے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ نہ کوئی تصویر ہو، نہ کچھ دوسرے۔۔۔۔

جواب:

دیکھیں، وہ تو، دیکھیں، میں آپ کو بات بتاؤں، میں خود تو نہیں آتا لیکن آپ جو پہلے سے facebook پر ہیں، جو پہلے سے facebook پر ہیں، تو اس کو چلائیں۔

(نہیں حضرت، جیسے تزکیہ کی ہماری website ہے ناں، ایسے ہی اس کا page بنا لیا جائے۔)

(Page بنا ہوا ہے۔ (page بنا ہوا ہے؟) خواتین چلا رہی ہیں کوئی میرے خیال میں۔ page بنا ہوا ہے، حضرت کے بیانات اس پہ آتے ہیں اور clips چھوٹے چھوٹے حضرت کے آتے ہیں page پہ۔)

(اب وہ یہ ہے کہ جیسے ہم لوگ یہاں بیٹھے ہیں، سو سے سو، ہزار، دس ہزار، تو وہ میسج across، اور خصوصاً ان countries میں، بھائی ہے، میرا ایک کزن ہے، دو اور چار پانچ جاننے والے ہیں، تو وہ یہ جو سوال و جواب کا سلسلہ ہے ناں، یہ اس سے بہت زیادہ clarity آتی ہے۔) (ہاں بالکل) بہت زیادہ clarity آتی ہے۔

الحمد للہ ہم نے جو کام شروع کیا ہے ناں اپنی web، وہ جو سوال و جواب، ابھی تک ہمارے جتنے تقریباً 400 سے زیادہ session ہوئے ہیں ناں، یہ ان شاء اللہ ایک بہت بڑا ذخیرہ بننے والا ہے۔ اس کا میں نے ان کو بتایا، میں نے کہا اس طرح کر لو کہ اس کے جوابات تو بے شک audio ہوں کیونکہ اس کو text میں convert کرنے میں بڑا ٹائم لگے گا، لیکن اس کے جو questions ہیں وہ text form میں کرو۔ questions اگر text میں ہوں گے تو searchable ہو جائیں گے۔ جب وہ searchable ہو جائیں گے تو جس کو جو ضرورت ہوگی تو وہ ادھر سے catch کرکے مطلب اس کو سن لے گا، download کر لے گا۔

(subject base بھی اس میں دئیے جاسکتے ہیں کہ جی۔) (مزید بھی categorize۔) (کہ جتنے سوال ہیں۔)

(اس کا design بنایا ہے (design بنایا جاتا ہے) اور اس کی app کے اوپر بھی کام شروع کر رہے ہیں، ان شاء اللہ۔)

بالکل، ہاں کیونکہ واقعی یہ ایک بہت، ہمارے پاس ایک انمول خزانہ ہے۔ یہ میں نے آپ کو بتایا، تصوف کا خلاصہ چھوٹی سی کتاب ہے لیکن اس کا جتنا فائدہ ہوا ہے ناں، کسی اور کتاب کا اتنا نہیں ہوا۔

(عمر بھائی، you take the lead. آپ ایک پیج design کریں۔) (design ہوگیا ہوا ہے، اس کے اوپر بھی کام ہو رہا ہے۔)

اس کا جتنا فائدہ ہوا ہے، کسی اور کتاب کا نہیں ہوا۔ چھوٹی سی کتاب ہے لیکن وہ یہ نہیں، تصوف کے بالکل مخالفین ہیں، ان کو ہم نے دی، بس ان کا منہ بالکل بند ہوگیا۔

سوال نمبر 04:

خالق کہے کہ میں نے تمہیں یہ کہا ہے اور تم یہ کام کر رہے ہو۔ جواب:

اصل میں خالق جو ہوتا ہے ناں، وہ اس کا تو ہم ہمارے تصور سے بھی beyond ہے۔ ہم لوگ نہیں۔۔۔۔ جس کو کہتے ہیں وراء الوراء ہے، البتہ وہ communicate کرتا ہے پیغمبروں کے ذریعہ سے، ٹھیک ہے ناں

(جن کو communicate کر رہا ہے، ان کو بھی پیدا کرنے والی وہی ذات ہے۔) (جی بے شک۔)

(اس میں شیطان شامل ہے، اس کو بھی پیدا کرنے والی وہی ذات ہے۔)

بے شک، اس کو بھی وہی پیدا، اسی نے پیدا کیا ہے۔ تو دیکھیں، اللہ پاک خود قرآن میں نفس کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا۪ۙ ۝ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا﴾3 اللہ پاک فرماتا ہے اس نفس کو میں نے دو چیزیں الہام کیں، ایک اس کے فجور یعنی جو برائیوں کے تقاضے ہیں اور ایک اس کا تقویٰ، پھر اجازت دی کہ جو کوئی follow کرنا

چاہے، جو کوئی کرنا چاہے کر لے، لیکن نتیجہ سن لے: ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا﴾4 یقیناً کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ یعنی اس کی برائیوں سے بچ گیا۔ ﴿وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ﴾5 (تو دوسری طرف جو ذات ہے، وہ شیطان جو ہے، وہ بھی اسی کی پیدا کردہ ہے۔ ہم نے کوئی امریکہ، اسرائیل یا کسی سے نہیں لیا، تو یہ آپس میں competitionہے)

نہیں، کوئی competition نہیں ہے۔ صرف بات یہ ہے کہ شیطان جو ہے، اس کو اپنے نفس نے خراب کر لیا۔ یعنی اس کو جب اللہ تعالیٰ نے کہا۔۔۔ مطلب وہ تو بڑی اچھی پوزیشن پہ تھا۔

(تھوڑی سی اپنی back story پہ چلیں تو حضرت آدم علیہ السلام کے آنے کی ایک وجہ ہو، اور وہ نہ situation بنتی تو یہ ساری کائنات ایسے نہ ہوتی۔)

لیکن میں عرض کرتا ہوں ناں۔ شیطان جو تھا ناں، شیطان، وہ تو بڑی اچھی پوزیشن پہ تھا، معلم الملکوت، ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ جیسے اللہ پاک نے فرمایا کہ ﴿وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً﴾6 وہ جو ہے ناں اس کے بعد فرمایا کہ فرشتوں نے سجدہ کیا اور شیطان نے نہیں کیا، تو اللہ پاک نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیوں نہیں کیا؟ جب کہ میں نے اس کو اپنے ایک خاص طریقہ سے پیدا کیا۔ تو اس نے کہا ﴿خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ﴾7 تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا، اس وجہ سے میں نے نہیں کیا۔ تو پھر اس پر جو ہے ناں اللہ پاک نے اس کو نکال دیا کہ "اچھا، مطلب یہ میری بات کو نہیں مانتا اور اپنی طبیعت کی بات کو مانتا ہے۔"

(آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔ لیکن پیدا کرنے والی ذات تو وہی ہے۔)

نہیں، تو پیدا تو کسی کو بھی کر سکتا ہے۔

(اب اللہ نہ کرے ہم جہنم میں جائیں یا کہیں جائیں، وہاں کے بھی خالق تو وہی ہی ہیں۔)

اس میں جو ہے ناں، اس میں بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ اللہ پاک ہدایت کے مطلب بھی پیدا کرنے والے ہیں، گمراہی کو بھی پیدا کرنے والے ہیں، لیکن ہدایت کے بارے میں فرماتے ہیں، "اس کو لو، اس کو نہ لو۔" یہی تو امتحان ہے۔

(مثلاً ایک چھوٹی سی بات ہے، میں نے ایک میزائل بنایا، اس میں میں نے کچھ artificial intelligence بھی ڈال دی، اس کو میں نے فائر کر لیا، وہ اپنے ٹارگٹ پہ hit نہیں کیا، تو وہ میزائل کا قصور ہے یا creator کا fault ہے؟)

اصل میں دیکھیں ناں، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جس کو آپ وہاں مثال دے سکتے ہیں اس کی، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جیسے کھانے پینے کی مثال ہم اللہ تعالیٰ کی نہیں دے سکتے، وہ ان چیزوں سے پاک ہے، اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جس کا مثال ہم دے سکتے ہیں، جس طرح اللہ بھی رحیم ہے، انسان بھی رحیم ہے، اللہ بھی کریم ہے، انسان بھی کریم ہے۔ تو یہ میزائل کی مثال ادھر نہیں دی جاسکتی۔ مطلب اللہ پاک نے۔۔۔۔ جی عرض کرتا ہوں ناں۔

(اس کو کوئی سمجھنے کا آسان طریقہ؟)

سمجھنے کا آسان طریقہ تو مجھے۔ ایک دفعہ میں نے حضرت سے پوچھا، مولانا اشرف صاحب، ہمارے شیخ سے، "حضرت مجھے اپنی اصلاح کا آسان طریقہ بتا دیں۔" چونکہ میں atomic energy commission میں تھا، تو انہوں نے فرمایا، "مجھے ایٹم بنانے کا آسان طریقہ بتا دو تو آپ کو یہ بتا دوں گا۔" ظاہر ہے، بم بنانے کا آسان طریقہ تو نہیں ہوتا۔

(کیوں نہیں ہے؟ وقت کے ساتھ چیزیں change ہوتی جا رہی ہیں۔)

نہیں نہیں، ایٹم بم بنانے کا آسان طریقہ آپ مجھے بتا دیں۔

(دیکھیں، یہ وقت کے ساتھ change ہوتی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ہم ایٹم بم بنا ہی نہیں سکتے تھے۔ اب آہستہ آہستہ stages کم ہوتی جا رہی ہیں۔)

نہیں نہیں، نہیں، میں آپ سے عرض کرتا ہوں۔ there are 25 steps۔ پچیس steps ہیں اور اس کے اوپر کتنا وقت لگتا ہے۔

(first time. first time)

نہیں نہیں، first time نہیں۔ وہ بات صحیح ہے۔ لیکن ایٹم بم بنانے کا جو طریقہ ہے، اس میں جو پھر enrichment ہے اور وہ تمام چیزیں، اس procedure تک جانا، یہ مطلب practically gain کرنا، وہ آسان نہیں ہوتا۔ (بالکل صحیح ہے) اصل بات یہ ہے، لیکن وہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ تو حضرت نے مثال دی ہے ناں۔ حضرت نے مثال دی۔ اب بات یہ ہے کہ کسی چیز کو بھی حاصل کرنے کے لئے effort کرنی پڑتی ہے۔ میں آپ کو بتاؤں، یہ ساری چیزیں موجود ہیں۔ میرے پاس ایک کتاب ہے عبقات، جس کا ہم نے درس دیا ہے دو دفعہ، اس میں ان questions کے جوابات موجود ہیں، لیکن اس کے لئے base بنانی پڑتی ہے۔ پوری ایک base بنانی پڑتی ہے، مطلب جس کو کہتے ہیں ناں، وہ ایک step سمجھو، دوسرا سمجھو، تیسرا سمجھو، چوتھا سمجھو، پھر اس کے بعد انسان کی understanding develop ہوتی ہے۔

(میرا صرف اتنا point ہے، کیا یہ چیزیں آنکھیں بند ہونے سے پہلے سمجھ آ سکتی ہیں یا آنکھیں بند ہونے کے بعد ہی ساری picture clear ہوتی ہے؟)

آنکھیں بند ہونے کے بعد تو پھر نتیجہ سامنے آئے گا۔ اس وقت تو پھر کچھ اور نہیں ہو سکے گا، صرف نتیجہ سامنے آئے گا کہ آیا میں حق پر ہوں، حق پر نہیں تھا، حق پہ تھا۔ اس وقت نتیجہ سمجھ میں آجائے گا۔ اِس وقت سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اور بہترین شخصیت کون ہے؟ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ناں، تو جو اس نے بتایا بس ہم اس کو مان لیں۔ سب سے آسان طریقہ یہی ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ آسان نہیں ہے، باقی مشکلات ہیں۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، صحابہ کرام کچھ تقدیر کے بارے میں discussion کر رہے تھے۔ تقدیر ایک ایسا topic ہے ناں جس میں انسان out ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جیسے کہ آپ کمپیوٹر کے اوپر ایسا problem solve کرنا چاہیں جو اس کی حیثیت سے باہر ہے، تو ظاہر ہے کمپیوٹر hang ہو جائے گا۔ تو اس پر وقت لگانے میں انسان اپنا وقت ہی ضائع کرتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام کو اس چیز میں discussion کرتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں آپ کو ایک چیز بتانے والا تھا لیکن آپ کی اس discussion کی وجہ سے اللہ پاک نے مجھ سے وہ چیز اٹھا لی۔ وہ لیلۃ القدر کے بارے میں، وہ اب مجھے یاد نہیں رہا، ہاں البتہ اب اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔" یہ فرمایا۔ اس کا مطلب ہے کہ اب تقدیر پہ اجمالی ایمان تو ہے، اجمالی ایمان سے مراد یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں اللہ پاک ہر چیز کرتا ہے، لیکن اس کی details میں جانے میں، واقعتاً اس کی گتھیاں سلجھانے میں اتنی complication ہو جاتی ہے کہ پھر اس کے بعد۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ایک چیز کو رکھیں گے، جیسے مثال کے طور پر، تو دوسرا آپ کے ہاتھ سے جاتا ہے، دوسرا رکھیں گے تو تیسرا آپ کے ہاتھ سے۔ یہ مسائل ہیں۔

(میں وہی پوچھنا چاہ رہا تھا کہ اس کا کوئی solution ہے؟)

بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پہ آجائیں، بس سب سے آسان طریقہ یہ ہے۔

الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے، میں کہتا ہوں اللہ پاک کا اس شخص کے اوپر بہت فضل ہے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نصیب فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر چلنے کا اس کا ارادہ ہو جائے، بے شک نہ چل سکے لیکن ارادہ ہو جائے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلنا ہے۔ یہ بہت، بہت اس کی خوش قسمتی ہے۔ اس کے بعد کم از کم وہ راستے پہ پڑ گیا۔ اب کتنا قدم اٹھاتا ہے وہ علیحدہ بات ہے، وہ اس کی اپنی اپنی effort ہے، لیکن کم از کم راستے پہ پڑ تو گیا۔

سوال نمبر 05:

اچھا آج کے دور میں کہیں practical اسلام نظر آتا ہے یا صرف؟ جواب:

اصل میں دیکھیں، میں آپ کو بتاؤں۔ یہ question بڑا اچھا question ہے۔ یہ ہمارے ایک صاحب تھے، اس نے بڑے اچھے طریقے سے explain کیا تھا۔ ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، مولانا احمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ، وہ جنوبی افریقہ گئے تھے۔ وہاں کے حضرات نے ان سے کہا کہ "حضرت آپ تشریف لائے، آپ تھکے ہوئے بھی ہیں، آپ کو آرام کرنے کی بھی ضرورت ہے، آپ کو کھانے کی بھی ضرورت ہے، آپ کو نماز پڑھنے کی بھی ضرورت ہے، ہمیں پتہ ہے، لیکن ایک شخص ایسے ہوا تھا جو انگلینڈ میں مسلمان ہوا، پھر اس نے کہا کہ میں مسلمانوں کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ تو میں ذرا مسلمانوں کے۔۔۔۔ تو یہاں پر آ کر صومالیہ آگیا۔ تو صومالیہ میں اس نے جو کرپشن وغیرہ، جو لوگوں کے برے اعمال دیکھے ناں، تو وہ بہت disheartened ہوگیا اور واپس جانا چاہ رہا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ یہ مرتد نہ ہو جائے۔ تو اب ایسی صورت میں آپ کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ان سے ملنا چاہتے ہیں؟ یا آپ، مطلب ہمیں پتہ ہے کہ آپ کی ضرورت ہے۔" حضرت نے فرمایا، "بھئی کھانا بھی بعد میں کھایا جاسکتا ہے، نماز راستے میں پڑھی جاسکتی ہے اور تھکاوٹ کی کوئی پروا نہیں، چلو پہلے اس سے ملتے ہیں۔" چلے گئے، جیسے وہ پہنچ گئے تو وہ سامان ہی باندھ رہا تھا۔ سامان باندھ رہا تھا تو اس کو۔۔۔۔ "جی حضرت، یہ فلاں صاحب ہیں انڈیا سے تشریف لائے ہیں۔" تو انہوں نے اپنی رام کہانی سنانی شروع کی۔

تو انہوں نے کہانی شروع کی، انہوں نے کہا، "بھئی آپ کی کہانی کا مجھے پتہ ہے۔ اب صرف میں آپ کو ایک بات سنانے کے لئے آیا ہوں، باقی آپ کی مرضی۔" کہتے ہیں، "بالکل ٹھیک ہے، بتائیے۔" انہوں نے کہا، "کم از کم اسلام کے بارے میں آپ کو پتہ ہے کہ صحیح مذہب ہے؟" کہتا ہے، "بالکل، اسی وجہ سے میں مسلمان ہوا ہوں۔" انہوں نے کہا، "آپ کو گلہ ہے کہ مسلمان اس کو follow نہیں کر رہے ہیں۔" کہتا ہے، "ہاں۔" انہوں نے کہا، "آپ وہ first person ہو جائیں کہ آپ follow کرنا شروع کر لیں تاکہ اور لوگ آپ کو follow کریں۔" Why do you wait for the other? Let's start with yourself. بس وہ کہتے ہیں، اس کو ہوش آگیا، کہتا ہے، "بس میں نہیں جا رہا۔" وہ رک گیا۔

(کہ دوسری سائیڈ پہ اگر دیکھیں ناں تو بہت زیادہ ہم بدنام ہیں being a Pakistani, being a Muslim۔ وہ Qualities جو ہم میں موجود ہیں۔)

اس کا جواب موجود ہے، لیکن اصل میں بات یہ ہے کہ اگر کوئی confuse ہونا چاہتا ہے تو confuse ہونے کے دلائل بہت زیادہ ہیں۔ لیکن اس کا جواب موجود ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان جو ہے ناں، مسلمان، یہ ایمان رکھتا ہے اور ایمان کی یہ حالت ہے کہ بے شک گناہ گار کیوں نہ ہو، بالآخر یہ جنت جائے گا، بالآخر جنت جائے گا۔ (ان شاء اللہ) اس وجہ سے شیطان کو چونکہ اس کا پتہ ہے تو کبھی آرام سے نہیں بیٹھتا، نیک کام نہیں کرنے دیتا، کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ اگر یہ کسی کو مسکرا کر بھی دیکھے گا ناں تو اس کو بھی ثواب ملے گا، لہٰذا وہ ہر چیز میں اس کو خراب کرتا ہے۔ جب کہ کافر کے بارے میں وہ مطمئن ہوتا ہے کہ جب تک یہ کلمہ نہ پڑھ لے، اُس وقت تک یہ میرا ہے، چاہے کتنے اچھے کام کر لے، تو ادھر ہی دنیا میں ہی ملے گا ناں، وہاں تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ لہٰذا کافر پہ اتنی محنت کرتا ہے صرف کہ بس یہ کافر رہے، باقی اس پہ مزید محنت نہیں کرتا، جب کہ مسلمان کی ہر چیز پہ محنت کرتا ہے۔ اس وجہ سے مسلمان میں۔۔۔۔ علماء نے اس کی نشانی بتائی ہے کہ اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ شیطان کون سے کام کرتا ہے اور نفس کون سے کام کرتا ہے غلط، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو کافر مسلمان میں مشترک برائیاں ہیں، وہ نفس کی وجہ سے ہیں، کیوںکہ کافر کے ساتھ بھی نفس ہے، مسلمان کے ساتھ بھی نفس ہے۔ اور جو برائیاں کافر میں تو نہ ہوں اور مسلمان میں ہوں تو وہ شیطان کی وجہ سے ہیں، وہ شیطان کی وجہ سے ہیں، کیونکہ ظاہر ہے شیطان مسلمانوں سے وہ برائی کروائے گا اور کافروں سے نہیں کروائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اگر یہاں پر پاکستان میں، انڈیا پاکستان میں اگر کوئی قادیانی ہو جاتا ہے تو پہلے وہ 2.5٪ زکوۃ نہیں دے سکتا تھا، اب پھر قادیانی جماعت کو 10٪ دیتا ہے۔ پھر جو ہے ناں، مطلب یہ ہے کہ اس کو جو ہے ناں وہ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی استعمال کرنا اس کے لئے شروع کر لیتا ہے، تحمل بھی ان میں آ جاتا ہے، برداشت بھی ان میں آ جاتی ہے۔ یہ کونسی چیز ہے؟ کیونکہ اب شیطان نے اس سے وہ چیز نکال لی، بس وہ بس اب صرف اس کو اپنا وہ وکیل بنانا چاہتا ہے۔ جب کہ مسلمان کو صحیح نہیں ہونے دینا چاہتا۔

اچھا دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہم باہر کے ملکوں میں دیکھیں، یورپ میں دیکھیں، امریکہ میں دیکھیں کئی بار، تو لوگ کہتے ہیں، "یار یہ ان کا کلچر بہت اچھا ہے، یہ اس لئے اچھے ہیں۔" یہی بات ہے ناں؟ اب کمال کی بات یہ ہے کہ یہاں کے ہمارے حکمران خراب لوگ ہوتے ہیں، ہمیں پتہ ہے، ہمیں نظر آتا ہے۔ وہاں کے حکمران ان کے اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے آپ کے لئے تو غلطی برداشت کر لیتے ہیں، حکمران کے لئے غلطی نہیں برداشت کرتے۔ وہ ذرہ بھر بھی ان کی ہوتی ہے تو ان کے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے ان کے حکمران ان کے اچھے لوگ ہیں، لیکن ان کے حکمران مسلمانوں کے ساتھ کبھی اچھا سلوک کرتے ہیں؟ نہیں۔ جتنے دھوکے وہ مسلمانوں کو دے سکتے ہیں، چاہے کسی بھی صورت میں ہوں، وہ دے دیں گے۔ اب اپنے ساتھ ٹھیک ہوں گے، جب مسلمانوں کے ساتھ deal آئے گی تو وہاں پر ساری چیزیں بدل جائیں گی۔ مطلب، تو کیا بات ہے؟ شیطان کا پتہ چل گیا کہ شیطان نے جب مسلمان کے ساتھ معاملہ آگیا، ان کو اب استعمال کرنا شروع کر لیا، اور جب ان کی آپس کی بات ہوتی ہے تو ان کو دوسری طرح استعمال ہونے دیتے ہیں۔ اگر اس context میں دیکھیں تو یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے۔ البتہ میں کہتا ہوں کہ یہ تو آج کل کے دور کی بات ہے ناں، صحابہ کرام بھی تو انسان تھے ناں اور مسلمان بھی تھے، ان کو شیطان کیوں ورغلا نہیں سکتا تھا؟ ان سے کیوں مطلب جو ہے ناں، اتنے اچھے اچھے کام ہو سکتے تھے، شیطان ان سے نہیں چھڑا سکتا تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ایمانوں پہ جو محنت کی تھی، وہ اس level کی تھی کہ شیطان کی رسائی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ ہمارے سامنے target یہ ہے کہ ہم صحابہ کے طریقہ پہ چلیں۔

(لیکن ان کا جب ہم end دیکھتے ہیں تو ان کو شہادت اور وہ مطلب جو نظر آ رہی ہے، وہ یہی چیز ہے۔ (کیا چیز؟) چار جو مطلب ہمارے خلفاء راشدین ہیں، ان کے جو end آ رہا ہے، تو ان کو مطلب شہید کردیا گیا۔)

نہیں، تو شہادت تو بڑا رتبہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا۔

(لیکن مطلب اس کا ہوا کہ لوگوں میں یا کم از کم بیچ میں ایسے میر جعفر موجود تھے جو کہ۔)

نہیں، دیکھیں میں آپ کو بتاؤں، ہر اچھائی کے ساتھ قریب کسی طرح برائی تو ہو سکتی ہے، لیکن وہ میں آپ کو بتاؤں، جب میں سائے کو دیکھتا ہوں تو مجھے سورج بھی نظر آنا چاہیے۔ میں تو سورج کی بات کر رہا ہوں اِس وقت۔ تو جو حضرات تھے، مطلب وہ تو موجود تھے ناں، تو ان کے جو character کی جو بلندی ہے، وہ ان کے مقابلے کے پھر لوگوں میں وہ سمجھ آتی ہے ناں۔ اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ ہمیں صحابہ کے طریقہ پہ چلنا چاہیے اور اُس وقت جو چیزیں، مثال کے طور پر صحابہ کے مقابلہ میں ہوئی تھیں، وہ ہمارے لئے علم کی بنیادیں ہیں کہ ہم ان چیزوں سے بچ جائیں۔ جہاں جہاں پر اس قسم کا مسئلہ ہو تو ہم ان چیزوں سے بچ جائیں، تو ہمارے سامنے پورا chapter کھل جائے گا۔

سوال نمبر 06:

جی، ہماری وظیفہ کی مدت پوری ہوئی ہے۔ جی، آپ نے ہم دونوں کو اسم ذات 1500 مرتبہ دیا تھا۔ میرا مجاہدہ تو تین مہینے تک ہے اور میری سہیلی کو آپ نے جو دیا تھا کہ جو کام میں پہلے نہیں کر سکتی، اب کروں گی۔ جواب:

تو ٹھیک ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر آپ، مطلب یہی ہے، تو آپ کا تو تین مہینے تک جاری رہے گا، اور وہ جو سہیلی ہے، وہ اپنے مجاہدے کے بارے میں بتا دے کہ وہ کیا feel کر رہی اور کیا ہو رہا ہے۔

سوال نمبر 07:

حضرت، آپ نے رذائل کی list بھیجنے کی ہدایت فرمائی تھی، ذیل میں انہیں لکھنے کی کوشش کی ہے۔ 1۔ سستی۔ 2۔ دیر سے اٹھتی ہوں۔ 3۔ زیادہ کھانا کھاتی ہوں۔ 4۔ کچھ نہ کچھ چکھتی رہتی ہوں۔ 5۔ میٹھا بہت اچھا لگتا ہے۔ 6۔ چائے بہت اچھی لگتی ہے۔ بچوں کی طرف سے لاپروائی ہے۔ ان کو میں خود نہیں پڑھاتی۔ نندوں سے بغض ہے۔ ساس گھر میں نہ ہو تو بہت خوشی ہوتی ہے۔ دماغ میں دیور وغیرہ سے پردہ ہے لیکن عمل میں نہیں ہے۔ جو عمل شروع کرتی ہوں مستقل نہیں ہوتا۔ ورزش نہیں کرتی۔ مہمانوں سے چڑچڑاہٹ ہوتی ہے۔ اکیلا پن اچھا لگتا ہے۔ اعتراضات بہت کرتی ہوں، خاص کر چھوٹی نند کی ہر بات پر۔ اپنی بات سے اگر دوسروں کی بات کو یا خیال کو کچھ نہ سمجھنا، چاہے وہ ٹھیک بھی ہو۔ فارغ رہنا اچھا لگتا ہے۔ اونچا بولتی ہوں، چیختی رہتی ہوں۔ شوہر سے گلے کرتی ہوں۔ گھر کے کام بوجھ سمجھ کر مجبوراً کرتی ہوں۔ کام پہلے کرنا اور نماز بعد میں پڑھنا۔ undisciplined routine۔ فارغ رہنا اچھا لگتا ہے۔ احساس کمتری پاتی ہوں۔ جسم میں سستی اور چڑچڑاہٹ ہے۔ ماحول و حالات کا اثر لینا اور متاثر ہونا۔ ذکر کی جگہ فضول لا یعنی باتوں کو سوچنا، video وغیرہ دیکھ لینا۔ معمولات کا وقت پر نہ کرنا، رات کو سونے سے پہلے کرتی ہوں، اس وقت بھی تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ ہوتا ہے، کبھی پورا کر پاتی ہوں کبھی نہیں۔ یہ چیزیں میں نہ خود چاہتی ہوں نہ اپنے بچوں میں۔ یقیناً اور بھی بہت کمیاں ہیں مجھ میں۔ اللہ پاک انہیں درست کرنے کے قابل بنائے، اور ایک بات لکھنا بھول گئی ہوں کہ اپنے شیخ سے رابطہ میں انتہائی سستی کرتی ہوں۔ تین چار مہینوں میں جب حالت انتہائی خراب ہو جائے تو صرف اس غرض کے لئے رابطہ کرتی ہوں۔

جواب:

اچھا، ٹھیک ہے جی اصل بات۔ یہی اصل میں بنیادی اصلاح ہے، یعنی انسان جب کسی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو وہ اپنی برائیاں بیان کرتا ہے، اپنی کمزوریاں، اپنی بیماریاں بیان کرتے ہیں، یہ نہیں کہ مطلب میں تو فلاں میں ٹھیک ہوں، فلاں بھی ٹھیک ہے، فلاں بھی ٹھیک ہے، وہ تو علاج نہیں ہے، وہ تو صرف information ہے۔ تو یہ الحمد للہ یہ ذکر اذکار کی برکات ہیں، یہ جو اتنی information اس نے دی ہے، its only because of ذکر and فکر، یہی چیز ہم چاہتے ہیں۔ تو اب الحمد للہ علاج بھی شروع ہو جائے گا اور علاج کرنے والا تو اصل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، لیکن بہرحال انسان اپنی طرف سے شروع کرتا ہے اور اللہ پاک پھر مدد فرماتے ہیں۔ تو میں ان سے عرض کر رہا ہوں کہ فی الحال یہ چار کام کر لیں کہ شیخ سے رابطہ باقاعدہ کر لیں، یہ top priority پہ ہے، کیونکہ یہ اس کا مطلب key point ہے، دوسرا key point، شوہر سے گلے شکوے بند کریں اور جو ہوں وہ اللہ سے مانگیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ڈال دے، کیونکہ شوہر کے گلے شکووں پر حدیث شریف میں وعید آئی ہے کہ بہت ساری عورتیں دوزخ میں جائیں گی۔ تو پوچھا کہ کیوں؟ تو فرمایا کہ شوہر کی ناشکری اور دوسرا یہ کہ لعنت ملامت، یہ دو باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں۔ تو خواتین کے لئے یہ target points ہیں، اور video دیکھنا بند کر لیں کیونکہ تمام، بہت سارے امراض کی یہ مطلب وجہ ہے آج کل کے دور میں، اور نماز کا وقت جیسے داخل ہو، سب کام چھوڑ کر پہلے نماز پڑھیں۔ یہ اصل میں چار کام ہیں جو کہ ما شاء اللہ آسانی کے ساتھ کر سکتی ہیں کہ شیخ سے رابطہ باقاعدہ کر لیں، شوہر سے گلے شکوے بند کر لیں، اور video وغیرہ نہ دیکھیں، اور نماز جیسے ہی وقت داخل ہو جائے، فوراً وہ پڑھ لیں۔ ان شاء اللہ اس سے باقی بہت ساری خوبیاں نکل آئیں گی، بہت سارے امراض دب جائیں گے ان شاء اللہ، اور بہت ساری خوبیاں اس سے نکل آئیں گی، ان شاء اللہ۔

سوال نمبر 08:

حضرت جی،

As this is in your information that I suffered anxiety two months before but الحمد للہ I recovered well with your prayers. But nowadays, I am suffering again حضرت جی I did ذکر: ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ‘‘ ,two hundred times۔ ’’اِلَّا اللہ‘‘ ,four hundred times۔ ’’اَللہُ اَللہ‘‘ ,four hundred times۔

And اللہ, hundred times in the last 1.5 months. حضرت جی، my family is looking for رشتہ for me but I resist going for that. Although I stopped but still I feel lack of confidence and because of my sickness maybe, it will be difficult for me۔ حضرت جی، I want to know, should I continue this ذکر with the same number or delay my marriage due to health issues?

جواب:

جہاں تک ذکر کا تعلق ہے، وہ تو آپ یہ کر لیں کہ: 200 times ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ‘‘ 400 times ’’اِلَّا اللہ‘‘ and 600 times ’’اَللہُ اَللہ‘‘ اور 100 دفعہ ’’اَللہ‘‘۔ یہ آپ شروع کر لیں ابھی نیا، اور دوسرا یہ ہے کہ اپنی شادی کو لیٹ نہ کریں، یہ سنت ہے۔ سنت کی برکت سے بہت سارے مسائل آپ کے حل ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔

سوال نمبر 09:

السلام علیکم حضرت والا،

How should I get rid of this رذیلہ? I asked which one? تو He told me, "not having اخلاص and telling friends to not call me حضرت. And No. 2, My نفس seeking honor in the eyes of people." It seems like the root disease is حب جاہ but you are the doctor and I am patient.

جواب:

میرے خیال میں کچھ چیزیں mix ہو رہی ہیں، اس وجہ سے ذرا تھوڑا سا خیال رکھنا پڑے گا۔ بعض دفعہ انسان over conscious ہو جاتا ہے تو کچھ چیزیں وسوسہ کی صورت میں وجود میں آتی ہیں جو کہ انسان کو اصلی لگتی ہیں۔ وہ یہی بات میں نے حضرت سے عرض کی تھی تو حضرت نے فرمایا تھا کہ ریا جو ہے، یہ کوئی خود بخود انسان کو نہیں لگتی بلکہ اس کی باقاعدہ نیت کرنی پڑتی ہے، اختیاری فعل ہے، اور ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘8 تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ تو اگر آپ کی نیت ریا کی نہیں ہے تو پھر پروا نہ کریں، پھر وہ وسوسہ ہوگا۔ چونکہ اختیار میں جب تک ہے تو آپ نہ کریں، اور جب اختیار میں نہیں تو وسوسہ ہوگیا۔ two way solution, no problem۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اختیار میں ہے تو نہ کریں، اور اختیار میں نہیں ہے تو وسوسہ ہے۔ وسوسہ کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ لہٰذا میرے خیال میں اتنا زیادہ disturb نہیں ہونا چاہیے۔

The solution is very simple.

سوال نمبر 10:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ غصہ کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور الحمد للہ اب دل کے اندر اتنی چڑ بھی نہیں ہوتی اور غصے کو بھی کافی حد تک کنٹرول بھی خاموشی کے ذریعہ کر لیتا ہوں۔ ایک بات جو میں نے اب محسوس کی ہے کہ میرے اندر حسد کا مادہ آ جاتا ہے اور ادارے میں کوئی ایسا کام جو میں کر سکتا ہوں، دوسرے کو دیا جائے، کوئی شخص اگر اس کو اچھے طریقہ سے کر لے تو مجھے خواہ مخواہ تکلیف ہوتی ہے۔ میں اس کو آخرت کا تصور کر کے، دنیا کی بے ثباتی کر کے، اس کے حق میں دعا کر کے دبا لیتا ہوں، مگر آپ سے گزارش ہے کہ دعا کریں کہ مجھے اس سے نجات مل جائے۔ کوشش کرتا ہوں کہ کِبر طبیعت میں نہ آئے مگر اس کے باوجود عہدہ کی وجہ سے کہیں نہ کہیں میرے دل میں اس کی موجودگی ضرور ہوگی۔ meetings میں میری رائے نہ ماننے کی صورت میں طبیعت میں الجھن ضرور پیدا ہوتی ہے، لیکن میں اس کا احساس کر کے اس کو بھی دبا لیتا ہوں، لیکن بہرحال لغزش ہو ہی جاتی ہے۔ اس بارے میں بھی اگر ہدایت مل جائے تو مہربانی ہوگی۔ پچھلے دو ڈھائی سالوں سے شہوانی خیالات کا جو زیادہ غلبہ رہا ہے اور کئی دفعہ مشکل بھی، لیکن دو تین ہفتے سے اس میں کافی واضح کمی ہوگئی ہے، لیکن ڈرتا ہوں کہ کہیں عارضی نہ ہو۔ اس سلسلے میں بھی آپ سے بہت دعا کی درخواست ہے۔ نمازوں کا chart اور پابندی گزشتہ دو تین سال سے ایک ہی صورت میں ہے جس میں بہتری نہیں ہو رہی، آپ سے اس بارے میں بھی ہدایت اور رہنمائی کی درخواست ہے۔ ازدواجی زندگی میں بھی گزشتہ دو تین سال سے کچھ مسائل آ رہے ہیں، اس بارے میں آپ سے رہنمائی اور ہدایت لینا چاہتا ہوں، لیکن بات تھوڑی تفصیل کی ہے، اس لئے اگر آپ وقت دیں تو میں حاضر ہو کے اس کے بارے میں discuss کر لوں گا۔

جواب:

ما شاء اللہ رو بہ ترقی ہیں حالات، الحمد للہ۔ اللہ تعالیٰ مزید بہتر فرما دے۔ یہ جو حسد کا مادہ ہے تو یہ انسان کو اپنے آپ کو یہ satisfy کرنا چاہیے کہ نعمتیں چونکہ اللہ تعالیٰ تقسیم فرماتے ہیں یا صلاحیتیں بھی اللہ تعالیٰ تقسیم فرماتے ہیں، اور الله جل شانهٗ چونکہ تمام چیزوں کو جانتا ہے، لہٰذا وہ بہترین تقسیم ہوتی ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چیز اگر کسی کو مل جائے تو وہی اس کے لئے گلے کا پھندا بن سکتا ہے اگر وہ اس کے لئے وہ اہل نہ ہو۔ تو اس وجہ سے جو چیز نہیں دی گئی تو اس پر satisfy ہونا چاہیے کہ شکر ہے کہ میں اس کے پھندے سے بچ گیا ہوں۔ تو مطلب ظاہر ہے، کیونکہ دنیا میں کسی چیز میں کم ہونا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس کی وجہ سے کوئی آخرت کا نقصان ہو جائے تو وہ تو بہت بڑی بات ہے۔ لہٰذا ایسا اپنے آپ کو disturb نہیں کرنا چاہیے۔ آپ اس طرح کر لیں کہ جو بھی کوئی اچھا کام کر لے، اس کو دل کھول کے داد دے دیا کریں۔ دل کھول کے داد دے دیا کریں، تو اس سے اس کا بھی علاج ہو جائے گا، نفس کا علاج ہو جائے گا۔ ایک بات یاد رکھیں، نفس جو ہے یہ مجاہدہ سے ٹھیک ہوتا ہے اور مجاہدہ نفس کی مخالفت کا نام ہے۔ تو نفس جو چاہتا ہے اس کے مقابلہ پہ جو چیز ہو بس وہی کر لو، تو حسد چاہتا ہے کہ اس کی برائی بیان کرو، تو آپ اس کی خوب اچھائی بیان کریں۔ اس کو دل کھول کے داد دے دیا کریں، تو یہ کیا ہوتا ہے کہ جیسے نفس کے اوپر آرے چلیں گے اور اس سے اُس کی اصلاح بھی ہوگی، ان شاء اللہ۔ تو باقی یہ ہے کہ رائے کی جہاں تک بات ہے تو ہمیں تو یہ بتایا جاتا تھا کہ اگر کسی کی رائے مانی جا رہی ہو تو اس کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں میں نے غلط رائے دے کر کہیں کام خراب تو نہیں کیا، جس کی نہ مانی جائے اسے تو شکر کرنا چاہیے کہ اچھا ہوا کہ مطلب میں امتحان سے بچ گیا ہوں۔ وہ ایک بی بی تھی ناں تو مجھ سے پوچھا کہ وہ ضیاء الحق کے دور میں ذرا قانون شہادت پاس ہو رہا تھا، تو اس نے کہا کہ عورتوں کی شہادت آدھی کیوں ہے؟ میں نے کہا بی بی جن کی پوری ہے وہ شہادت دینے کے لئے تیار ہیں؟ کہ آپ کو بڑی فکر ہے کہ آپ شہادت نہیں دے رہیں۔ میں نے کہا جہاں آپ کی شہادت کی ضرورت ہے وہاں پوری ہے۔ اور جہاں آپ کی ضرورت نہیں ہے تو شکر کرو کہ تمہیں درمیان میں involve نہیں کیا جا رہا۔ اللہ پاک نے آپ کو بچایا ہے، اپنے گھر آرام سے بیٹھی رہو۔ تو اسی طریقہ سے، مطلب یہ ہے کہ جو مطلب ظاہر ہے اگر کسی کی رائے نہ مانی جائے تو well and good، ہاں بالکل، مطلب کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ فیصلہ کرنے والا دوسرا ہے، باقی یہ ہے کہ اختیاری میں سستی نہیں کریں اور غیر اختیاری کے درپے نہ ہوں، یہ بنیادی اصول ہے۔ ٹھیک ہے ناں؟ تو اس وجہ سے جو chart والا مسئلہ ہے، یہ اختیاری ہے، اس میں آپ کمی نہ کریں، اس کو تو آپ ready رکھیں جیسے بھی ہو، کیونکہ یہ اختیاری بات ہے، یہاں چونکہ غیر اختیاری بات کوئی نہیں ہے، لہٰذا آپ اس کو تو مکمل کر لیا کریں، باقی جو بات آپ فرما رہے ہیں، ان شاء اللہ اس پہ بھی discussion ہو جائے گی۔

سوال نمبر 11:

السلام علیکم حضرت جی، میں فلاں ہوں۔ اللہ آپ کو صحت و عافیت میں رکھے۔ حضرت جی، میں نے غضِ بصر کا مجاہدہ کیا تھا، اس کے بعد خاموشی کا مجاہدہ آپ نے دیا تھا 10 منٹ کا، لیکن پانچ ماہ کیا باقاعدہ، الحمد للہ۔ آپ کو ساتھ ساتھ بتاتی بھی رہی لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی کہ ٹھیک کیا ہے، یا پھر دوسری پریشانی میں چھوٹ گیا مجھ سے۔ اکثر favorite discussion سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کون سی ہے۔ alarm لگا کر جب دل کرتا تھا، مجاہدہ کر لیتی تھی۔ کبھی فائدہ ہو جاتا اور کبھی بس ایک duty پوری کرنے والی بات ہوتی۔

جواب:

سب سے پہلے تو اس کی بات کر لوں، favorite discussion کس کو کہتے ہیں۔ favorite discussion اُس چیز میں discuss کرنے کو آپ کا جی چاہے، تو اسی وقت ہی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی discussion ہو رہی ہے تو آپ کا جی نہیں چاہتا، تو آرام سے بیٹھ جائیں، پھر تو بڑی اچھی بات ہے، وہ تو آپ کا favorite ہے ہی نہیں۔ اور اگر آپ کا جی چاہتا ہے تو وہی آپ کا favorite ہے، تو پھر 10 منٹ کے لئے آپ خاموش رہیں۔ تو یہی مطلب جو ہے ناں وہ اس کی جو ہے ناں، وہ بات ہو جائے گی۔

اچھا، گناہوں سے بچ پاتی ہوں اکثر، لیکن فضول بولنے پر سمجھ نہیں آتی قابو پانے کی۔ تو خاموشی کا مجاہدہ میں نے کیوں دیا تھا؟ خاموشی کا مجاہدہ اسی لئے تھا ناں کہ مطلب یہ ہے کہ فضول بات، اب ظاہر ہے، مطلب یہ ہے کہ جب آپ کا بات کرنے کو جی چاہتا ہے تو دیکھو کہ یہ بات مجھے کرنی چاہیے یا نہیں کرنی چاہیے۔ تو جو خاموشی کا مجاہدہ آپ نے کیا، تو اتنی دیر خاموش رہ کر آپ سوچیں کہ مجھے یہ بات کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے۔ تو اگر آپ کو پتہ چل جائے کہ کرنا چاہیے تو پھر کر لو، اور اگر آپ کو پتہ چل جائے کہ نہیں کرنا چاہیے تو رک جاؤ، اس میں کون سا مشکل کام ہے۔

اچھا، ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ کبھی کسی کو بغیر مانگے مشورہ نہ دیا کریں۔ میرے خیال میں آپ کی بہت ساری چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ صاحب نے یہ قانون ہمیں بتایا ہے کہ بغیر مانگے کسی کو مشورہ نہیں نہ دیا کریں۔ مشورہ کوئی اتنا سستا ہے کہ لوگ مفت میں دے دیا کریں؟ لوگ تو اس کے بڑے پیسے لیتے ہیں۔ تو آپ مفت میں اپنے مشورے ٹھونک دیا کرتے ہیں، تو یہ تو غلط بات ہے، تو آپ اطمینان سے بیٹھیں، اگر کوئی آپ سے مشورہ مانگے تو پھر تسلی کے ساتھ اس کو مشورہ دیں، وہ خدمت ہوگی، پھر وہ غلط نہیں ہوگا۔ اور اگر نہ مانگے تو بس آپ بری الذمہ ہیں، پھر کوئی بات نہیں۔ تو اس طریقے سے ان شاء اللہ آپ کا معاملہ آسان ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ۔

سوال نمبر 12:

السلام علیکم حضرت جی۔ ذکر آخری دفعہ اگست کے شروع میں لیا تھا، اس کے بعد بلا ناغہ 30 دن مکمل نہیں کر سکا۔ کئی دفعہ ارادہ کیا کہ اب ناغہ نہیں ہوگا لیکن غفلت کا شکار ہوتا رہا۔ کچھ دفعہ تو بیس دن سے زیادہ بلا ناغہ ذکر ہوا لیکن پھر کئی دفعہ ناغہ ہوگیا۔ ڈاکٹر کی دی ہوئی medicines لے رہا ہوں، اور اب روز مرہ کی routine میں کچھ بہتری محسوس ہوتی ہے اور پہلے کی طرح کئی کئی دن زندگی سے کٹ جانے کی علت میں افاقہ ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق علاج slowly ہوگا۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو آج سوموار کے دن سے توبہ کر کے دوبارہ سے ذکر و نماز کی پابندی کروں؟ اصلاح کے عمل میں اپنی غفلت سے جو نقصان ہو چکا ہے، اس پر افسوس ہے اور آپ سے مکمل commitment کا ارادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ استقامت دے، دعا کی درخواست ہے۔

جواب:

نیکی اور پوچھ پوچھ۔ اب آپ توبہ کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو روکوں گا؟ آپ فوراً توبہ کر لیں اور بس کام شروع کر لیں۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب