زبان کی حفاظت اور آفاتِ لسان

(اشاعتِ اول) جمعہ،18 فروری، 2022- بمقام:خانقاہ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ

اَمَّا بَعْدُ

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

{مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ}

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: مَنْ يَضْمَن لي مَا بيْنَ لَحْيَيْهِ، وَما بيْنَ رِجْلَيْهِ، أَضْمَن لَهُ الجَنَّةَ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: لا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ، قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: مَنْ صَمَتَ نَجَا۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانٌ مِنْ نَارٍ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: مَن عَيَّرَ أخَاهُ بِذَنبٍ لَم يَمُت حَتَّى يَعمَلَهُ۔ یعنی مِن أمرٍ قَد تَابَ مِنهُ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: لَا تُظْهِرِ الشَّمَاتَةَ لِأَخِيكَ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ وَيَبْتَلِيكَ۔

وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام: إذَا مُدِحَ الفَاسِقُ غَضِبَ الرَّبُّ تَعَالیٰ وَاهْتَزَّ لَهُ العَرشُ۔

صدق اللہ العلی العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم۔


معزز خواتین و حضرات!

پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ہر ایک شخص سے۔

1. ایک یہ کہ اپنے وقت کو کیسے استعمال کیا؟

2. دوسرا یہ کہ اپنے مال کو کیسے کمایا؟

3. تیسرا یہ کہ مال کو کیسے خرچ کیا؟

4. چوتھا یہ کہ علم کو کیسے استعمال کیا؟

5. اور پانچواں یہ کہ اپنے جسم کو کن چیزوں میں استعمال کیا؟

اب اس حدیث شریف کے مطابق ہمیں ان پانچ سوالوں کے جواب کی عملی تیاری کرنی ہے، کیونکہ وہاں پر زبان کی بات نہیں ہوگی، وہاں عمل پیش ہوگا۔ اگر کسی کا عمل ان سوالوں کے جواب دے رہا ہے تو وہ کامیاب ہے، اور اگر کسی کا عمل ان سوالوں کا جواب نہیں دے پا رہا تو وہ ناکام ہے۔

اب ہیں تو یہ پانچ چیزیں، لیکن اس میں سب سے اخیر میں جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے جسم کو کن چیزوں میں استعمال کیا ہے؟ یعنی انسان کے جسم کے اندر مختلف اعضاء ہیں جو مختلف کاموں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ ہر انسان کے پاس دماغ ہے، دل ہے، زبان ہے، آنکھیں ہیں، کان ہیں، ہاتھ پاؤں ہیں۔ یہ سب جسم کے اعضاء مختلف کاموں میں استعمال ہوتے ہیں۔ کان سننے میں، آنکھیں دیکھنے میں، زبان بولنے میں، دماغ سوچنے میں اور دل محبت میں اور نفرت میں، ایمان میں، کفر میں۔ الغرض یہ جو ہمارے جسم کے مختلف اعضاء ہیں، ان کے بارے میں پوچھ ہوگی۔

آج اصل میں صرف ایک عضو، جس کا فائدہ اور شر بہت زیادہ ہے، اس کے بارے میں ان شاء اللہ بات ہوگی۔ اور وہ ہے زبان کے بارے میں۔

زبان یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے، لیکن اس کے گناہ بہت ہیں۔ اس واسطے شریعتِ مقدسہ نے خاموشی کی تعریف فرمائی ہے اور خاموش رہنے کی رغبت دی ہے، الا یہ کہ اظہارِ حق کی ضرورت پیش آئے۔ اس کے بارے میں پوچھنے کی تو یہ حد ہے کہ

اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں تو وہ، یعنی انسان، کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر اس کے پاس ایک تاک لگانے والا تیار موجود ہوتا ہے۔

یعنی جو لفظ بھی ہمارے زبان سے نکل رہا ہے، وہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی چیز Miss نہیں ہوتا۔

اب ہم تین قسم کی باتیں کر سکتے ہیں:

مفید، نقصان دہ، اور خاموشی۔

اب میں اگر اس حدیث شریف کی طرف چلا جاؤں، جو ہے تو یہ نہیں اس کے بارے میں لیکن اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ بری صحبت سے خلوت اچھی ہے، اور اچھی صحبت خلوت سے اچھی ہے۔ پس اچھا بولنا، حق کے لیے بولنا، یہ خاموشی سے بہتر ہے۔ اور خاموشی غلط بولنے سے بہتر ہے۔

اب جیسے کہ ماحول کے اندر چونکہ شر کا غلبہ ہے، لہٰذا اچھا ماحول کا ملنا بہت مشکل ہے، تو مجبوراً انسان کو خلوت اختیار کرنی پڑتی ہے اگر وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ بعینہٖ اسی طریقے سے، آج کل جب انسان بولتا ہے، تو یا تو انسان کو اپنی زبان پر خوب Control ہو اور اس وقت بولے جب بولنے کی ضرورت ہو، اس وقت خاموش ہو جس وقت خاموشی کی ضرورت ہو، پھر تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر اس طرح Control نہیں ہے، تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔

بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ حق کے بولنے کے لیے بھی خاموشی کی ضرورت ہے۔ اب لوگ کہیں گے بھئی یہ کیا تو نے بات کر لی؟ حق کے بولنے کے لیے خاموشی کی کیسے ضرورت ہے؟ تو ہوشیار لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو۔ یعنی جو بولنا چاہتے ہو اس کا پہلے اندازہ کر لو کہ یہ بولنا اچھا ہے، فائدہ کرے گا یا نقصان دہ ہے، نقصان کرے گا؟ اب اس بات کے سوچنے کے لیے کچھ وقت کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ ظاہر ہے وقت کی ضرورت ہے۔ اس وقت آپ اگر بولیں گے تو یہ تولنے کے بغیر بولنا ہوگا، جس کا نقصان ہو سکتا ہے۔ تو اتنا خاموشی ضروری ہے کم از کم حق بولنے کے لیے بھی کہ انسان پہلے سوچ سکے کہ مجھے کیا بولنا ہے اور کیا نہیں بولنا۔

یہ جو فرمایا گیا کہ انسان جب خاموشی اختیار کرتا ہے تو اس کی زبان پہ پھر حق بولتا ہے، تو اس کی وجہ کیا ہے؟ خاموش رہنا جب انسان سیکھ لیتا ہے، تو بروقت بولنا آسان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو مسلسل بولنے کا عادی ہے اور وہ رک ہی نہیں سکتا، تو وہ مفید باتیں کم کرے گا اور غلط باتیں زیادہ اس سے ہو جائیں گی۔

ہمارے بزرگوں نے ایک بات کی ہے اور فرمایا ہے کہ شیخ زبان ہوتا ہے اور مرید کان ہوتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہ شیخ کو یہ سیکھنا ہوتا ہے پہلے کہ کب بولنا ہے اور کب بولنا نہیں ہے۔ اور جس وقت وہ سیکھ لیتا ہے یہ، تو پھر بروقت بولنے کا طریقہ اس کو اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے گا، تو اس کے بعد جب وہ بولے گا تو دوسرے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ اور مرید چونکہ ابھی اس کو سیکھ رہا ہے، ابھی راستے میں ہے، اس وجہ سے اگر وہ بولتا رہے گا تو ممکن ہے کہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا رہے۔

تو زبان کے بارے میں احتیاط بہت کرنی ہے۔ اس کے بارے میں احادیثِ شریفہ بہت صراحت کے ساتھ آئی ہوئی ہیں۔ جیسے آیتِ کریمہ ابھی میں نے تلاوت کی اور اس کا ترجمہ بتایا، اس میں جتنی صراحت ہے، انسان کو معلوم ہو جاتا ہے۔ اس طرح احادیثِ شریفہ بھی ہیں۔

مثلاً ابھی میں نے جو احادیثِ شریفہ تلاوت کی ہیں، اس میں سے پہلے حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھے اس چیز کی ضمانت دے جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان میں ہے، اور اس کی جو اس کے دونوں رانوں کے درمیان میں ہے، میں اس شخص کے لیے جنت کا ضامن ہوتا ہوں۔ (بخاری شریف)۔

تو دو جبڑوں کے درمیان جو چیز ہے اس کو زبان کہتے ہیں۔ اور زبان چونکہ جب بھی بولتی ہے تو اس میں رسک (Risk) ہوتا ہے کہ اچھا بولے گی یا غلط بولے گی۔ اس وجہ سے اگر کوئی اس بات کا احتیاط کرے اور اس کو غلط استعمال نہ ہونے دے، تو ان شاء اللہ اس کا فائدہ وہ خود دیکھ لے گا۔ اور دوسری بات دونوں رانوں کے درمیان وہ جو مسئلہ ہے، وہ تو سب کو پتا ہے کہ دنیا میں بہت بڑا نقصان اس سے ہو رہا ہے۔

ارشاد فرمایا آپ ﷺ نے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔ ) متفق علیہ (

گالی اصل میں جب دی جاتی ہے، عموماً لوگوں کے سامنے ہوتی ہے، کم از کم اس کے سامنے تو ہوتی ہے جس کو دی جا رہی ہے۔ اور جب اعلانیہ کوئی انسان گناہ کا کام کرے تو وہ فسق ہے۔ تو مسلمان کو جو گالی دینا ہے، یہ بھی فسق کی ایک قسم ہے۔ بہت سارے لوگ ویسے ہی عادتاً وہ گالیاں اپنے بات چیت میں دیتے رہتے ہیں۔ یہ بہت بری عادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نظروں سے گرا دیتی ہے آدمی کو۔ اس وجہ سے کم از کم اتنا تو زبان پہ Control ہونا چاہیے کہ کوئی گالی زبان پہ نہ آئے، کلمۂ کفر زبان پہ نہ آئے۔ ورنہ وہ ہمارے پشتو میں ضرب المثل ہے کہ وہ۔۔۔ بات نے زبان سے کہا تم مجھے منہ سے نکالو ناں، میں تمہیں شہر سے نکلواتی ہوں (شہر سے نکلواتی ہوں)۔

وہ بالکل صحیح ہے، بعض دفعہ کوئی بات ایسی انسان کی زبان سے نکل جاتی ہے جس پہ بعد میں وہ بہت پچھتاتا ہے، لیکن وہ ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد اس کو واپس کرنا ممکن نہیں ہوتا اور بعض دفعہ اس کے Consequences بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔

ہم نے ایف۔ایس۔سی (F.Sc) کی کتابوں میں، اردو کی کتابوں میں ایک واقعہ پڑھا تھا انشاء اللہ خان کا۔ وہ ایک گزرے ہیں۔ تو یہ درباری آدمی تھے اور نواب صاحب کے ساتھ تھے۔ تو نواب صاحب کی محفلیں جمتی تھیں۔ تو یہ نواب صاحب جو تھے وہ باندی کے بیٹے تھے۔ تو ویسے بھی بعض مالدار لوگوں میں شیخی پسندی زیادہ ہوتی ہے، تو اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنے کے لیے کہتے، "جی بھئی ہم بھی تو نجیب الطرفین ہیں"۔ نجیب الطرفین دونوں طرف کے سید کو کہتے ہیں، ماں کی طرف سے بھی اور باپ کی طرف سے بھی۔ تو ان شاء اللہ خان ویسے ان کا بڑا پسندیدہ وہ درباری تھا، لیکن مسلسل وہ بولتا جاتا تھا، اس کا فن یہی تھا۔ تو اس نے کہا: "نجیب الطرفین بلکہ 'انجب'!"

بس بات زبان سے نکل گئی۔ یہ اصل میں اردو کے ایک محاورے کے ساتھ مل گئی وہ بات۔ وہ اردو کا محاورہ یہ ہے کہ "باندی کا بیٹا انجب کہلاتا ہے"۔ اب وہ باندی کا بیٹا تو تھا۔ تو بس اس بات کو نواب صاحب نے دل پر لے لیا۔ اور اس کی بعد کی زندگی بڑی ہی خراب زندگی ہو گئی۔ جیل میں رہے اور پتا نہیں کیا کیا ان کے ساتھ وہ۔۔۔ اب دیکھو صرف ایک بات تھی، قصداً بھی نہیں کی تھی، بے احتیاطی ہو گئی، نتیجۃً نقصان کتنا ہو گیا۔ یہ میں نے ایک دنیا کے نقصان کے حساب سے بتایا، اس طرح دین کا نقصان انسان بہت کر لیتا ہے۔ بعض دفعہ کبھی اس طرح کوئی طعنہ دیتا ہے کسی کو، کسی بیچارے کا دل کو چیر لیتا ہے۔ اس کے دل سے جو آہ نکلتی ہے وہ اللہ پاک کی طرف پہنچتی ہے۔

ہم آج کل شادی بیاہ کی محفلوں میں دیکھتے ہیں، اس وقت تو میں جاتا بھی نہیں ہوں، معذرت کر لیتا ہوں کیونکہ اس میں خطرات ہی خطرات ہیں۔ تو اس میں میں نے دیکھا ہے کہ نوجوان لوگ جو ہوتے ہیں، یہ بعض ان میں پکھڑ (Phakkar) قسم کے ہوتے ہیں، تو یہ کسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، کسی کو Target کر لیتے ہیں، پھر سب ان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ وہ بیچارہ جھینپتا ہے اور بیٹھا ہوتا ہے ، وہ کچھ کر نہیں سکتا کیونکہ زیادہ بھی ہوتے ہیں اور وہ تیز بھی ہوتے ہیں۔ اور ایسی چیزوں پہ طعنے دیتے ہیں جس پہ طعنہ بنتا ہی نہیں ہے، مثلاً اگر جسم میں کوئی نقصان ہے تو، مثلاً بھینگا ہے کوئی، تو ظاہر ہے اس کا اپنا نقصان تو یہ نہیں ہے اگر کوئی۔۔۔ اور نقصان ہے کسی کا تو ظاہر ہے مطلب وہ تو اس کے۔۔۔ اللہ پاک نے جیسے پیدا کر لیا۔ لیکن لوگ اس کو نہیں دیکھتے اور ان کو اٹھا لیتے ہیں باتوں پہ۔ اس وجہ سے ہمیں بہت احتیاط رکھنا چاہیے، خیال رکھنا چاہیے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا"۔) متفق علیہ (

چغلی یہ ایک عادت ہے، بری عادت۔ چغلی اس کو کہتے ہیں کہ ایک آدمی کی بات سن کے دوسرے تک پہنچانا۔ یہ چغلی ہوتی ہے۔تو چغلی ایسی بری عادت ہے کہ جو انسان کو انسان سے لڑاتی ہے۔ ایک فن بن جاتا ہے۔ بعض لوگ باتوں کو اس طرح موڑ دیتے ہیں کہ وہ بیشک اس نے۔۔۔ کیا ہو گیا لیکن اس سے شر ہی پھیلتا ہے۔ بڑا نقصان ہے۔

ایک بڑے عالم تھے، مجھ سے کہا جی پہلے دو دوست تھے، علماء تھے۔ بعد میں کچھ بات پہ اختلاف ہو گیا، تو ظاہر ہے پھر جب اختلاف ہو جاتا ہے پھر محفلوں میں باتیں ہوتی ہیں ایک دوسرے کے بارے میں۔ کسی نے ایک کی باتیں دوسرے تک پہنچائی تھیں۔ تو مجھے کہا جی وہ اس طرح کہتے ہیں۔ اب میں نے کہا کہ یقیناً اس وقت تو اختلاف ہے لیکن جب اختلاف نہیں تھا تو وہ تو بڑی حمایت کی باتیں کرتے تھے۔ تو میں نے وہ پہلے دور والی بات اٹھا کے، میں نے کہا: "حضرت! میں نے تو ان سے آپ کی بڑی تعریفیں سنیں، وہ تو آپ کا بہت زیادہ یاد کرتے رہے اور آپ کے بہت زیادہ حق میں بولتے رہے۔" تو بہت خوش ہوئے، کہتے ہیں: "اللہ تعالیٰ آپ کو بہت اجر دے، آپ نے میرا دل بہت خوش کر لیا۔ ایک مسلمان کے لیے میرا دل صاف کر دیا۔" اب ظاہر ہے اور کیا بات تھی؟ بات بھی صحیح تھی، اس واقعے سے، ان حالات سے پہلے تو ایک دوسرے کے دوست تھے۔ تو اب ضرورت ہی کیا ہے کہ خواہ مخواہ یہ مخالفت کی باتیں ایک دوسرے کی پہنچائی جائیں؟ آمنے سامنے ہو تو چلو کوئی بات ہے پھر، کوئی Settlement ہو جائے گی، لیکن پیٹھ پیچھے، یہ تو فساد ہی فساد ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، نقصان ہی ہوتا ہے۔

نیز ارشاد فرمایا آپ ﷺ نے کہ: "بیشک سچ نیکی ہے اور بیشک نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور بیشک جھوٹ بدی ہے اور بدی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔" (مسلم شریف)۔

اب یہ جھوٹ اور سچ جو ہے، یہ بھی زبان کا فعل ہے۔ بعض دفعہ انسان جھوٹ بڑی معمولی چیز کے لیے بولتا ہے۔ یعنی لوگوں کی نظروں میں ذرا وقعت حاصل کرنے کے لیے۔ حالانکہ جب وہ بات غلط ثابت ہوگی تو جو وقعت تھی وہ بھی گر جائے گی۔ مطلب اگر وہ کوئی مثال کے طور پر کوئی عیب اس میں ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کا خیال نہیں رکھ رہے، تو یہ جھوٹ بھی شامل ہو جائے گا کہ یہ جھوٹا بھی ہے۔ تو خواہ مخواہ کیا ضرورت ہے؟ دیکھیں بعض لوگ عادتوں سے مجبور ہوتے ہیں، تو وہ اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ تو کبھی بھی اس قسم کی بات نہیں کرنی چاہیے جس پہ بعد میں انسان کو پچھتانا پڑے۔

اور یہ بھی ایک بات سناؤں، وہ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ایک جھوٹ کے لیے پھر کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ واقعتاً پھر اس کے لیے پھر انسان پھر حساب کرتا رہتا ہے کہ بھئی یہ اس طرح نہیں تھا، اب یہ میرا مطلب یہ نہیں تھا، اور یہ تھا وہ تھا، وہ سارے مطلب جو ہے نا وہ جھوٹ۔ تو یہ پہلے ہی سے انسان اختیار۔۔۔ خیال کرے، کیا ضرورت ہے؟ یہ "جھوٹی آن بان"، یہ بھی ہوتا ہے۔ لوگ اپنی جھوٹے آن بان بنا لیتے ہیں۔ اس سے پھر بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

آپ ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ارشاد فرمایا کہ: "کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے؟" انہوں نے عرض کیا: " کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا کہ: "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جو اس کو ناپسند کرتا ہو۔" عرض کیا گیا کہ "اگر وہ بات میرے بھائی میں موجود ہو جو میں کہتا ہوں؟" اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی تو! اگر وہ بات اس میں ہو جس کا تو ذکر کرے تب ہی تو تو نے اس کی غیبت کی۔ اور اگر اس میں وہ بات ہو ہی نہیں جو تو ذکر کر رہا ہے، تب تو تو نے اس پر بہتان باندھا، جو غیبت سے بھی بڑھ کر گناہ ہے۔"

اب اس میں واقعی بہت کم لوگ۔۔۔ "جی میں اس کے منہ پر بھی یہ بات کر سکتا ہوں!"، "بھئی تو کون سا کمال تو کر رہا ہے؟" منہ پر بے حیائی ہوگی اگر وہ بات کر رہے ہو، اور پیٹھ پیچھے غیبت ہوگی۔ تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ مطلب یہ۔۔۔ بھئی اگر کوئی فیصلہ کرنے والا ہو، پھر تو بات صحیح ہے۔ مثال کے طور پر حاکم ہے، اس کو فیصلہ کرنا ہے، یا کوئی خاندان کا بڑا ہے، وہ فیصلہ کرنے والا ہے کسی چیز کا، تو وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ جی اس نے بات کی ہے؟ تو یہ والی بات انسان کو کرنی چاہیے۔ لیکن اگر ایسی بات نہیں ہے، تو پھر تو نہ کریں۔

ارشاد فرمایا رسول کریم ﷺ نے کہ: "جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی۔" سبحان اللہ! واقعتاً بہت ساری چیزوں سے بچ گیا چپ رہنے سے۔ چپ رہنا بہت ماشاء اللہ، بہت بڑی عقلمندی ہے۔ اپنے بہت سارے عیوب کو چھپا دیتا ہے۔ ہاں جی! اگر انسان چپ رہتا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ وہ ظاہر ہوتا رہتا ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے، ارشاد فرمایا کہ: "انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ اس بات کو چھوڑ دے جس سے اس کو کوئی فائدہ مقصود نہ ہو۔"

اس کو "ترکِ ما لا یعنی" کہتے ہیں۔ مطلب جو ہے نا وہ جس کا نہ دنیا میں فائدہ ہو نہ آخرت میں فائدہ ہو، اس چیز کو تو چھوڑنا ہی بہتر ہے نا۔ تو کچھ باتیں انسان ویسے ہی لایعنی کرتے رہتے ہیں۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ "ترکِ ما لا یعنی"، یہ ایک بہت بڑا شعبہ ہے۔ ہمارا بہت سارا وقت فضول باتوں میں لگتا ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر ہم ان اوقات میں اللہ کا ذکر کریں، اور اللہ کا ذکر نہ کریں تو خاموش رہیں۔ خاموش رہنے سے فائدہ ہوگا، حفاظت ہوگی، اور ذکر کرنے سے ماشاء اللہ اجر ملے گا۔

اس وجہ سے ذکر کی جو عادت ہے نا وہ بنانی چاہیے۔ ویسے تو انسان ذکر کرنا چاہتا ہے، لیکن عادت جب نہیں ہوتا تو نہیں کر سکتے۔ تو عادت بنانے کے لیے انسان کو پہلے بہت سارا ذکر کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ ذکر اس کے دل میں رچ بس جائے۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر جب یہ خالی ہاتھ ہوتے ہیں نا، تو وہ جو دل ہے وہ چونکہ ذکر کے ساتھ مانوس ہوتا ہے، وہ خود بخود اس کو ذکر پہ لاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ذکر پہ۔۔۔ وہ جو ہے نا وہ اس کے ذکر کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ یہ چونکہ اصل میں بات یہ ہے کہ ذکر روشنی ہے دل کی، اطمینان ہے۔ اب یہ جو روشنی دل میں پہنچ جائے، تو دل اس کے ساتھ عادی ہو جاتا ہے۔ تو جس وقت وہ ذکر نہیں کر رہا ہوتا تو وہ ظلمت، اندھیرا ہوتا ہے۔ اس سے گھبراتا ہے۔ تو فوراً وہ Response کرتا ہے کہ ذکر ہونا چاہیے۔ تو پھر انسان ذکر کرنے لگتا ہے۔ تو اپنے آپ کو اس کا عادی بنا لیں۔ عادی بنانے کے لیے ہم اکثر بتاتے ہیں، جب خانقاہ میں لوگ آتے ہیں وقت لگانے کے لیے، تو ان کو کثرت کے ساتھ ذکر بتاتے ہیں۔ تو بعض لوگ حیران ہوتے ہیں کہ بھئی یہ اتنا سارا کیوں بتاتے ہیں؟ مطلب تھوڑا سا ہی کافی ہوگا۔ تو ہم کہتے ہیں ہاں باقی تو یہی ہے کہ آپ اپنے فرائض اور یہ تمام کام جو ہے نا وہ اپنے طور پہ کر رہے ہوں گے، لیکن خانقاہ میں تو آپ نے وقت ہی اس کے لیے دیا ہے نا۔ جب وقت دیا ہے تو اب اپنے آپ کو ذکر کے ساتھ عادی کر لو۔ جب ذکر کے ساتھ عادی ہو جاؤ گے، پھر جہاں بھی جاؤ گے تو ذکر آپ کے ساتھ ہوگا۔

اس کا بہت آسان میں بتاتا ہوں کہ اس کا فائدہ کیا ہے کہ اگر آپ کسی مثال کے طور پر ڈاکٹر سے Appointment آپ نے لیا ہے اور آپ وہاں پہنچ گئے اور ڈاکٹر ابھی نہیں پہنچا، رش میں پھنس گیا یا مریض بہت زیادہ ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ تو آدمی کڑھتا رہتا ہے، ادھر ادھر پھرتا ہے، کچھ مطلب اس کو سمجھ نہیں آتا۔ تو ایسے وقت میں اگر وہ ذکر کا عادی ہے تو پریشانی نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے: "بھئی جی گھر میں بھی تو ذکر ہی کر رہا تھا، تو ادھر ذکر کروں گا"۔ اچھا اس طریقے سے اگر کوئی جہاز لیٹ ہو جائے یا گاڑی لیٹ ہو جائے یا کوئی اور انسان کو انتظار کرنا پڑ جائے کسی موقع پہ، سبحان اللہ! وہ ذکر کرنا شروع کر لے گا۔ اس کو محسوس ہی نہیں ہوگا کہ میں نے جو ہے نا وہ کیا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو لوگ محسوس کرتے ہیں کہ بھئی یہ تو ایسا نہ ہو تو پھر ذکر کم ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے وہ ذکر کے لیے وہ ایسے چاہتے ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ذکر کو عادت بنانا چاہیے، اس سے پھر ماشاء اللہ یہ سارے فائدے خود بخود حاصل ہونے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "جو شخص دنیا میں دو رویا ہو (کہ اس کے منہ پر اس کی بات کہے اور دوسرے کے منہ پر اس کی)، قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی زبان ہوگی۔"

یہ چونکہ وہ آگ اس لیے کہ وہ لڑا رہا ہے لوگوں کو، اور لڑائی تو آگ ہے، فساد ہے۔ تو وہ زبان اس کی وہاں آگ کی ہوگی۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: "جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو عار دلائی، تو نہ مرے گا وہ شخص جب تک کہ اس کو (اس گناہ کو) نہ کرے۔" راوی نے کہا ہے، یعنی آپ کی مراد یہ ہے کہ جب اس گناہ سے عار دلا دے کہ جس سے وہ توبہ کر چکا ہو۔

یعنی مثال کے طور پر ایک آدمی بری عادتوں میں تھا، اور پھر بعد میں اس نے توبہ کر لیا۔ اب توبہ کرنے کے بعد اللہ نے اس کا سب کچھ معاف کر دیا۔ تو تم کون ہو حساب کرنے والے؟ حساب تو اللہ پاک کرے گا۔ حساب نہیں کر سکتا۔ پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ کتنی غلطیوں میں مبتلا ہو۔ اور کم از کم یہ عیب تو کر ہی رہے ہو نا جو مطلب اس کو طعنے دے رہے ہو، یہ تو کر ہی رہے ہو۔ تو مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کو بھی طعنہ مارتا ہے جو کسی چیز سے توبہ کر چکا ہو، تو یہ اللہ جل شانہٗ کا نظام، قانون اپنے ہاتھ میں لینے والی بات ہے۔ تو سزا اس کو یہ ملتی ہے کہ وہ موت سے پہلے پہلے اس گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

اور اگر توبہ سے قبل عار دلائی تو گویا اس پر وعید کا مستحق نہیں ہے، مگر یہ بھی ممنوع ہے کیونکہ توبہ سے قبل بھی خیر خواہی سے نصیحت کرنا چاہیے۔ عار دلانا اس وقت بھی برا ہے۔ اگر عار دلانی ہی مصلحت ہو تو دوسری بات ہے۔

مطلب بعض دفعہ بعض لوگ اس کے بغیر سنتے نہیں ہیں، مطلب محسوس نہیں کرتے، تو ان کو تو چلو ٹھیک ہے، اگر اس سے کوئی فساد نہ بنتا ہو۔ لیکن اس سے قبل جو ہے، تو ٹھیک ہے، لیکن بعد میں تو ظاہر ہے اللہ پاک نے اس کو معاف کر دیا۔ تو تم کون ہو اس کے ساتھ حساب کرنے والے؟

اور ارشاد فرمایا کہ: "اپنے بھائی کے رنج پر خوشی ظاہر نہ کرنا، شاید اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرما دے اور تجھے مبتلا کر دے۔"

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ کوئی دشمن ہوتا ہے کسی کا، ہاں رشتہ داریوں میں یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ اب کوئی بیمار ہو جائے تو آدمی خوش ہو جائے، "دیکھو نا یہ اس طرح اس طرح کر رہا تھا تو ابھی اس کے ساتھ یہ ہو گیا"۔ بھئی خوش نہیں ہونا چاہیے، جب اس کے ساتھ ہو رہا ہے تو تمہارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، بلکہ اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کرنے والی ذات تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ لہٰذا اگر اللہ پاک اس بات پر تجھ سے ناراض ہو جائے اور تجھ پر بھی وہ مصیبت ڈال دے، تو پھر کیا ہوگا؟ تو بہت مشکل بات ہے، اس وجہ سے ہمیں کسی کی مصیبت پر ہمیں خوشی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔

ارشاد فرمایا کہ: "جب فاسق کی تعریف کی جائے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے، اور عرش اس کی وجہ سے ہل جاتا ہے۔"

یہ اصل میں بعض لوگ خوشامدی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ ایک فاسق فاجر کی تعریف ان سے دنیوی مفادات حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے۔ اللہ کو یہ چیز پسند نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے جو فاسق کی تعریف کرتا ہے تو اس سے عرش ہل جاتا ہے۔ اللہ پاک کو پسند نہیں ہے یہ۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "جب تم منہ پر تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو اس کے منہ میں مٹی ڈال دو۔"

کیونکہ منہ پر تعریف کرنے والے آپ کو، وہ ہے تو خوشامدی، لیکن آپ کو نقصان پہنچا رہا ہے، آپ کا گردن مار رہا ہے، نقصان پہنچا رہا ہے۔ مطلب اگر آپ میں وہ آگیا۔۔۔ یعنی فخر آگیا یا عجب آگیا یا کوئی اور چیز آگئی، تکبر آگیا، تو وہ تو آپ نے اپنا بہت بڑا نقصان کیا۔ تو وہ اس نقصان کا ذریعہ بن گیا۔ اس وجہ سے اس کو گویا کہ اس کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اس کے منہ میں مٹی۔۔۔ تاکہ آئندہ کے لیے وہ ایسی حرکت نہ کرے۔ بعض بزرگوں نے ایسا ، عملی طور پہ بھی کیا، کسی نے ان کی تعریف کی تو۔۔۔ غالباً حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، تو انہوں نے مٹی دے دی، کہتے ہیں: "میں حدیث شریف پہ عمل کر رہا ہوں۔" تو یہ بات ہے۔

ان کو سختی سے منع کرو لیکن اگر کسی کو سختی کی ہمت نہ ہو یا مناسب نہ ہو تو پھر نرمی سے منع کرنے کا مضائقہ نہیں ہے۔

حالات آج کل جیسے ہیں، وہ ظاہر ہے گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بیٹھنے والے ان کی طرح تھے، لہٰذا انہوں نے تو مان لیا ہوگا، لیکن آج کل اگر کسی کے ساتھ یہ کرو تو پتا نہیں کیا ہو جائے۔

ارشاد فرمایا رسول کریم ﷺ نے کہ: "جس شخص نے جھوٹ کو چھوڑا اس حال میں کہ وہ باطل ہو (یعنی جس موقع پر شریعت نے اجازت نہ دی ہو، اس موقع پر جھوٹ کو چھوڑ دے)، تو اس کے واسطے جنت کے کنارے پر مکان بنا دیا جائے گا۔ اور جو شخص جھگڑے کو ترک کر دے اس حال میں کہ وہ حق پر ہے، تو اس کے واسطے جنت کے درمیان مکان بنا دیا جائے گا۔"

مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ہے، اس کا حق نہیں ہے لیکن وہ ٹانگ اڑا رہا ہے، "یہ میری یہ۔۔۔ میری چیز"۔ اور لوگوں کو پریشان کیا ہوا ہے۔ اب اگر وہ اللہ سے ڈر کر، توبہ کر کے اس کو چھوڑ دے کہ بھئی ٹھیک ہے جی میں نہیں لے رہا، تو اللہ پاک اس کو بھی نوازے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی ایک بری خصلت سےلوگوں کو نقصان پہنچانے سے بچا دیا۔

اور اگر وہ اس وجہ سے نہیں کر رہا کہ خواہ مخواہ فساد ہوگا اور یہ ہوگا وہ ہوگا، میں چھوڑ دیتا ہوں، اور اس کا حق ہو، تو اس وقت اللہ پاک اس کے لیے جنت کے درمیان مکان بنا دے گا۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے، بوجہ اس فعلِ ناشائستہ کے بدبو کے جو اس بندہ نے کیا ہے۔"

دیکھیں بدبو کی دو Reasons ہوتی ہیں۔ ایک اس کا Spiritual Reason ہے اور ایک اس کا Physical Reason ہے۔ Physical Reason یہ ہوتا ہے کہ جیسے مثال کے طور پر بعض چیزیں جلتی ہیں تو اس سے بدبو آتی ہے، بعض چیزیں سڑتی ہیں تو اس سے بدبو آتی ہے۔ بعض چیزیں پرانی ہو جاتی ہیں تو اس سے بدبو آ جاتی ہے۔ یہ انسانوں کے لیے ہے، انسان اس بدبو کو Sense کرتے ہیں، وہ محسوس کر سکتے ہیں۔

لیکن جو بدبو گناہ سے آتی ہے، وہ فرشتے محسوس کرتے ہیں۔ اور بعض انسان، یہ فرشتوں کے ساتھ اتنا میل جول ہوتا ہے ان کا، یعنی اچھے اعمال کی وجہ سے، کہ ان میں بھی فرشتوں کی وہ خصلت آ جاتی ہے۔ تو ان کو بھی ایسی چیزوں سے بدبو آنے لگتی ہے، نفرت ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں کو قے کرتے دیکھا گیا ہے۔ ان کے سامنے کوئی جھوٹ بولا گیا، ان کو قے ہو گیا۔ اب قے غیر اختیاری چیز ہے، مطلب ظاہر ہے انسان کے بس میں تو نہیں ہے۔ لیکن اس کو قے ہو گیا، تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی طبیعت فرشتوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ وہ جو Spiritual بدبو ہے، اس کو بھی Sense کرنے لگتا ہے، اور پھر اس کا اثر اس کے Physical System پر ہونے لگتا ہے۔

تو یہ بات ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جھوٹ کسی مرحلے پہ بھی نہیں بولنا چاہیے، بہت خطرناک گناہ ہے۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "مسلمان نہ طعنہ مارنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا ہوتا ہے، اور نہ بے حیائی کی بات بکنے والا ہوتا ہے، اور نہ بدزبان ہوتا ہے۔"

طعنہ مارنا، طعنہ مارنا ابھی گزر گیا ہے، اس کے بارے میں احادیث شریف گزر گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کے عیب کو اچھالنا، اور کسی کو ان کے کم ہونے کا یا کمزور ہونے کا اس کا یاد دلانا، یہ طعنہ مطلب مارا جاتا ہے۔

لعنت، یہ لعنت کے الفاظ بعض لوگ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ لعنت یہ اللہ پاک کا نظام ہے۔ لعنت کا مطلب ہے رحمت سے دوری۔ تو مجھے بتاؤ انسان کو، انسان رحمت سے دور کر سکتا ہے؟ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔ تو وہ اس کا نظام ہے، تو ہمیں یہ نہیں۔۔۔ ہاں البتہ یہ بات ہے کہ حقیقت میں اگر کوئی شخص ایسی حرکت کر رہا ہے جو کہ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے وہ قانون بتا دیا جائے، جیسے(لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ) ۔ تو وہ تو اللہ پاک نے فرمایا ہے، لہٰذا اس میں کسی کا نام نہیں ہے، لیکن حقیقت کا بیان ہے (لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ)۔ تو ٹھیک ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ظاہر ہے وہ اللہ پاک کا قانون ہے، وہ ہمارا اور آپ کی بات نہیں ہے۔

اور نہ بے حیائی کی بات بکنے والا ہوتا ہے۔ بے حیائی اصل میں انسان کی بعض ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو سچ بھی ہوں، لیکن اس کا ظاہر کرنا مناسب نہ ہو۔ تو جو اس کو ظاہر کرتا ہے اس کو بھی بے حیائی کہتے ہیں۔ یہ بعض گاؤں میں اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو اس قسم کی باتیں بہت کھل کے کرتے ہیں، اور لوگ ان کو سن سن کے ہنستے ہیں۔ وہ تھے ہمارے جہانگیرہ میں بھی ایک شخص ایسے تھے، بہت ہی زیادہ اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔ اپنے گھر کی باتیں، دوسروں کی۔۔۔ مطلب کسی کے۔۔۔ وہ لوگ سمجھتے ہیں بڑا Frank ہے، بھئی خدا کے بندو! جس چیز سے اللہ نے روکا ہے تم کیا اس کی تعریف کرو گے؟ تو مطلب یہ ہے کہ یہ بہت غلط بات ہے۔ جس چیز کو اللہ پاک نے بیان کرنے سے روکا ہے، تو حکمت یہی ہے کہ اس سے رک جاؤ، اس کو نہ کرو۔ بیشک وہ صحیح ہی کیوں نہ ہو، صحیح بات ہو۔ اب جیسے میاں بیوی کی باتیں ہوتی ہیں، وہ اللہ پاک نے اس کو چھپانے کا حکم دیا ہے، یہ پردے کی باتیں ہیں۔ اب اگر کوئی اس کو ظاہر کرتا ہے تو بے حیائی ہے۔ وہ مطلب ظاہر ہے وہ حیا اس میں نہیں ہے۔

اور نہ بدزبان ہوتا ہے۔ یہ انسان جو بھی بات کرتا ہے نا، اگر وہ صحیح طریقے سے کرتے ہیں تو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ اور اگر غلط طریقے سے کرتا ہے تو بیشک صحیح بات ہی کیوں نہ کر رہا ہو، اس کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ یہ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں:

"’’ وخوره‘‘ او ’’انغره‘‘ یو شې دې، پهٔ یو ښه ښکاري په بل بد"

یعنی "کھاؤ" اور "پیٹ بھر لو" (پتا نہیں کیا کہتے ہیں، "ٹھونس لو")۔ تو یہ دونوں باتیں ایک ہی ہے، لیکن ایک پہ انسان اچھا نظر آتا ہے، دوسرے پہ برا نظر آتا ہے۔ تو انسان کو اچھی زبان اختیار کرنی چاہیے، جس سے نفرت نہ پھیلے، جس سے کسی چیز کی ناقدری نہ ہو، جس سے کسی کی عزتِ نفس پہ حرف نہ آئے۔ ایسی زبان انسان بول لے، یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔

مثال کے طور پر دیکھو نا اگر کسی کو کہہ دیا "تُو"۔ بات تو ٹھیک ہے، انسان "تُو" تو کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کہہ دیں "آپ"، "آپ"۔ تو یہ ماشاء اللہ ایک اچھی بات ہے، اس کی عزت آپ نے کی۔ تو آپ کی بھی عزت ہوگی۔ اور اس طرح اگر آپ نے کوئی اس قسم کی بات کر لی جو کہ انسان کو غصہ دلانے والی ہو یا بے عزت کرنے والا ہو، تو ظاہر ہے اس قسم کی باتوں سے Reaction کے طور پہ پھر وہی چیزیں آئیں گی۔ ماحول خراب ہوگا۔

تو یہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدزبان ہوتے ہیں۔ ان کی عام باتوں میں بھی اتنی غلط باتیں ہوتی ہیں، غلط طریقے سے، کہ اس کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اب جب تک اس کے پاس طاقت ہوتی ہے اور مجبور ہوتے ہیں لوگ، تو مجبوراً لوگ سنتے ہیں۔ لیکن جس وقت کسی لوگوں کا ان پہ قابو آ جاتا ہے تو پھر وہ اپنی ساری کسریں نکال لیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں اب جو ہے نا بہت خیال رکھنا چاہیے۔ زبان اچھی بولے۔

نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے


مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی نگاہ بھی بلند رکھنی چاہیے، یعنی جنت کا اور اللہ پاک کی رضا کا، اور اچھی طریقے سے بات کرنی چاہیے، اور دوسرے لوگوں کے غم کو اپنا غم سمجھنا۔ تو یہ پھر یہ ہے کہ اس پر لوگوں کا اعتماد آ جاتا ہے، پھر لوگ ان کو اپنا بڑا بنا لیتے ہیں اور اللہ پاک بھی ان سے کام لیتے ہیں۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


زبان کی حفاظت اور آفاتِ لسان - جمعہ بیان