اسلام میں نماز کی حقیقت: قرآنی دلائل، فطری ترتیب اور سورہ فاتحہ کا مفہوم

کتابی حوالہ: سیرت النبی ﷺ مرتبہ سید سلیمان ندوی رحمۃ الہ علیہ، جلد نمبر 5، باب: عبادات- نماز

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

گزشتہ سے پیوستہ

--- اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ اسلام میں نماز کن ارکان کے ساتھ مقرر ہوئی ہے گو اس کے لئے یہ بالکل کافی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تمام عمر خود کس طرح نماز پڑھی اور صحابہؓ کو کس طرح کی نماز سکھائی کیوں کہ نماز کی یہ عملی کیفیت پورے تواتر کے ساتھ اس عہد سے لے کر آج تک موجود ہے اور دوست و دشمن اور مخالف و موافق کو معلوم ہے اور اسلام کے ہر فرقہ میں یکساں طور سے عملاً بلا اختلاف مسلّم ہے تاہم نظریہ پسند لوگوں کے لئے قرآن پاک سے ان کا ثبوت پہنچا دینا زیادہ مناسب ہوگا۔

ہم پہلے رب العزت کی بارگاہ میں مؤدب کھڑے ہوتے ہیں۔

﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾

یہ قیام کی طرف اشارہ ہو گیا۔

نماز کا آغاز خدا کا نام لے کر کرتے ہیں کہ

﴿وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ﴾

اور اپنے پروردگار کا نام لیا پس نماز پڑھی۔

﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾

اور اپنے رب کی بڑائی کر۔

یعنی تکبیرِ تحریمہ ہو گیا۔

لفظ اللہ اکبر جس کی نماز میں بار بار تکرار کی جاتی ہے اسی حکم کی تعمیل ہے۔

اس کے بعد خدا کی حمد و ثنا کرتے اور اس سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں۔

﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ﴾

اور جب تو کھڑا ہو تو اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح کر۔

پھر قرآن پڑھتے ہیں۔

﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾

قرآن میں سے جتنا ہو سکے پڑھو۔

قرآن کی ان آیتوں میں خدا کے اسماء اور صفات کا تذکرہ کرتے ہیں اور اس کی حمد خصوصیت کے ساتھ بیان کرتے ہیں جس سے اس کی بڑائی (تکبیر) ظاہر ہوتی ہے۔

﴿قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ۝ وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا﴾

چونکہ اس کی یہ حمد سورہ فاتحہ میں بہ تمام و کمال مذکور ہے اس لئے اس سورہ کو ہر نماز میں پہلے پڑھتے ہیں اس کے بعد قرآن میں جتنا پڑھنا ممکن اور آسان ہوتا ہے اس کو پڑھتے ہیں۔ پھر خدا کے سامنے ادب سے جھک جاتے یعنی رکوع کرتے ہیں۔

﴿وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾

اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

پھر اس سے آگے پیشانی کو زمین پر رکھ دیتے یعنی سجدہ کرتے ہیں۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

اے ایمان والو! جھکو (رکوع کرو) اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی پرستش کرو اور نیک کام کرو تا کہ کامیاب ہو۔

ان دونوں (رکوع و سجدہ) میں خدا کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں۔

﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾

﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلىٰ﴾

آنحضرت ﷺ کی ربانی تعلیم کے مطابق پہلا حکم رکوع میں اور دوسرا سجدے میں ادا ہوتا ہے۔

قیام رکوع اور سجود کی یہ ترتیب سورہ حج (ذکر ابراہیم) اور آل عمران (ذکر مریم) سے اور یہ امر کہ سجدہ پر ایک رکعت تمام ہو جاتی ہے سورہ نساء ( ذکر نماز خوف) سے ثابت ہے۔ در حقیقت ارکان کی یہ ترتیب بالکل فطری اور عقلی ہے۔ پہلے کھڑا ہونا پھر جھک جانا پھر سجدہ میں گر پڑنا اس میں خود طبعی اور فطری ترتیب ہے۔ تعظیم کی ابتدائی اور کثیر الوقوع شکل یہ ہوتی ہے کہ آدمی کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب کیفیات اور جذبات میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ جھک جاتا ہے اور جب فرط بے خودی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو اپنے بلند ترین حصہ جسم (یعنی پیشانی) کو اپنے محسن اور معظم کے پست ترین حصہ جسم (یعنی پاؤں) پر رکھ دیتا ہے۔ یہی سب ہے کہ سجدہ نماز کی کیفیات کی انتہائی صورت ہے۔ قرآن نے کہا ہے۔

﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب﴾

اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔

گو سجدہ قربت الہی کی اخیر منزل ہے شاید اسی لئے وہ ہر رکعت میں مکرر ادا کیا جاتا ہے۔

نماز تمام جسمانی احکام عبادت کا مجموعہ ہے:

قرآن پاک کی مختلف آیتوں میں ہم کو مختلف قسم کی جسمانی‘ لسانی اور قلبی عبادتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ جسم کو ادب سے کھڑا رکھنے پھر جھکانے اور سرنگوں کرنے کا حکم ہے۔ مختلف دعاؤں کے پڑھنے کی تاکید ہے۔ خدا کی تسبیح و تحمید کا ارشاد ہے۔ دعا اور استغفار کی تعلیم ہے۔ دل کے خضوع و خشوع کا فرمان ہے۔ رسول پر درود بھیجنے کا امر ہے۔ اس لئے نماز کی تشکیل اس طرح کی گئی کہ اس ایک عبادت کے اندر قرآن پاک کی تمام جسمانی‘ لسانی اور روحانی عبادتوں کے احکام یکجا ہو گئے۔ اسی لئے ایک نماز قرآن کے تمام گونا گوں جسمانی‘ لسانی اور روحانی عبادات کا مجموعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں مسلمانوں کو قیام‘ رکوع‘ سجود‘ تہلیل‘ تسبیح‘ تکبیر‘ قرآت‘ قرآن‘ ذکر الہی اور درود پڑھنے کے جو احکام عطا کئے گئے ہیں ان کی مجموعی تعمیل کا نام نماز ہے جس میں یہ تمام مفرد احکام مجموعی حیثیت سے انجام پاتے ہیں۔ دوسری طرف ان احکام کی بجا آوری میں ایک ترتیب پیدا کی گئی ہے کہ اگر وہ نہ ہوتی اور یہ کام انسانوں کی ذاتی انتخاب پر چھوڑ دیا جاتا کہ جو چاہے رکوع کر لے جو چاہے سجدہ کر لے جو چاہے صرف قیام کر لے جو چاہے زبان ہی سے ذکر و قرأت پر اکتفا کر لے اور جو چاہے صرف دل سے دھیان کر کے اس فرض سے ادا ہو جائے تو ہر فرد سے فرائض الہٰی کے متعدد ارکان چھوٹ جاتے جن پر کبھی عمل نہ ہوتا اور عجب نہیں کہ افراد کی طبعی سستی اور سہل انگاری ان پورے احکام کی تعمیل میں مانع آتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام مسلمانوں کی عبادت کی واحد اور منظم شکل پیدا نہ ہوتی۔ نہ جماعت ہو سکتی اور نہ نماز کو ایک مذہب کی عبادت خاص کہا جا سکتا اور نہ جماعتی رمز و شعار کی وحدت کی شان اس سے پیدا ہو کر مسلمانوں کو واحد امت بناتی اور بتاتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ اپنے رسول کو اس عبادت کی عملاً تعلیم دی اور رسول نے امت کو سکھایا اور امت نے نسلاً بعد نسل موجودہ اور آئندہ نسل کو سکھایا اور اس پورے تواتر عمل کے ساتھ جن میں ذرا بھی شک و شبہ نہیں وہ آج تک محفوظ ہے۔

مطلب یہ ہے کہ قرآن میں تو اشارے ہوتے ہیں، اجمال ہوتا ہے، اور حدیث شریف میں تفصیل ہوتی ہے۔ اور احادیثِ شریفہ تین قسم کی ہیں: یعنی پہلی قسم جو قولی ہوتا ہے کہ یہ کرو ،یہ نہ کرو۔ دوسری قسم فعلی ہوتی ہے، کیا کیا اور کیا نہیں کیا۔ اور تیسری قسم تقریری ہوتی ہے، کیا کرنے دیا، کیا نہیں کرنے دیا۔

تو یہ تینوں قسم جو احادیث شریفہ ہیں اس میں قرآن کی تفصیل سامنے آ جاتی ہے۔ تو اب نماز کے لیے اشارے تو قرآن میں تھے، یہ سارے بتا دیے ، اشارے تو موجود تھے، لیکن اس کی تفصیل قرآن میں موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کوئی کہ میں کہتا ہوں میں صرف قرآن ہی مانتا ہوں اور حدیث کو مانتا نہیں ہوں، لہٰذا میں اس پر عمل کیسے کروں۔ تو اس کو بتایا جائے قرآن ہی میں ہے: ﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾، اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔

تو اللہ کے رسول کی اطاعت کیسے کرو گے؟ وہ تو قرآن میں نہیں آئے گا، قرآن کے بعد ہے۔ قرآن تو نازل ہو گیا۔ تو اس کے بعد رسول ﷺ کا جو طریقہ ہے وہ آپ احادیثِ شریفہ سے سیکھیں گے۔ وہ آپ احادیث شریفہ سے سیکھیں گے، اس کے لیے آپ احادیث شریفہ کے محتاج ہیں، وہ کرنے پڑیں گے۔

تو آپ ﷺ کا جو طریقہ ہے وہ قرآن کی منشاء اور تفصیل کو بیان کرتا ہے۔ گویا کہ قرآن کی تفسیر جو ہے حدیث شریف سے اخذ کی جا سکتی ہے۔ تو نماز کا جو طریقہ ہے، یعنی تمام اشارے جو دیے گئے ان اشاروں سے پتہ کیا لگتا ہے اور کیا ہونا چاہیے، یہ آپ ﷺ نے منظم پیش کر دیا اپنی عملی نماز، اپنی عملی نماز سے۔ اور تقریری انداز میں بھی، کسی نے نماز غلط پڑھی اس کو روک دیا، اس طرح نہیں پڑھنا۔ اور کسی کو بتا دیا کہ اس طرح کرو۔ تو یہ سب چیزیں جو ہیں یعنی کہ اس طریقے سے ثابت ہوتی ہیں۔

گویا کہ یہ کتاب جو ہم پڑھ رہے ہیں اس میں ماشاء اللہ یہ بڑی بات زبردست بات ہے کہ اس میں ہم سیرت کے ساتھ ساتھ گویا کہ تدوینِ اعمال کا نظام بھی فقہی انداز میں سیکھ رہے ہیں۔ یعنی فقہی انداز میں سیکھ رہے ہیں کہ کس طریقے سے تدوینِ اعمال ہوئے ہیں۔ یعنی ہمیں گویا کہ یہ بات دلائل سے اس طرح بتا بتا کر سمجھائی جاتی ہے کہ یہ چیز کس طرح ثابت ہے۔ اس کی تفصیل ہمیں بتاتی ہے۔

نماز کی دعا:

نماز کی مختلف حالتوں میں ان حالتوں کے مطابق دعائیں پڑھی جاتی ہیں اور پڑھی جا سکتی ہیں۔ خود آنحضرت ﷺ سے نماز کی مختلف حالتوں کی بیسیوں مختلف دعائیں مروی ہیں اور ہر مسلمان ان میں سے جو چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن نماز کی وہ اصلی دعا جس سے ہمارے قرآن کا آغاز ہوتا ہے جس کو نماز میں پڑھنے کی تاکید آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے، جس کو آپ نے تمام عمر نماز کی ہر رکعت میں پڑھا ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک تمام مسلمان پڑھتے آئے ہیں وہ سورۃ فاتحہ ہے جو مقاصد نماز کے ہر پہلو پر حاوی اور محیط ہے اسی لئے وہ اسلام میں نماز کی اصلی دعا ہے۔ یہ وہ دعا ہے جو خدا نے بندوں کی بولی میں اپنے منہ سے ادا کی۔

یعنی اللہ جل شانہ نے یہ سکھایا ہے کہ تم ایسے کرو۔ اللہ پاک نے اس کے الفاظ اتارے ہیں۔

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۝ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۝ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾

جتنی بھی دعائیں ہیں باقی اس کے علاوہ، وہ دعائیں منقول ہیں۔ مطلب یا کسی پیغمبر نے وہ دعا کی ہے، یا کسی اللہ کے ولی نے وہ دعا کی ہے، یا کسی بھی بندے نے دعا کی ہے اللہ پاک نے اس کو قرآن میں بیان کیا ہے۔ اور احادیث شریفہ کی دعائیں بھی آپ ﷺ سے منقول ہیں۔

لیکن یہ سورۃ فاتحہ کی جو دعا ہے، یہ منقول نہیں ہے، یہ نازل ہے۔ یہ کسی اور کی دعا نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ نے خود سکھایا ہے کہ تم ایسے مانگو۔ یہ وہ دعا ہے جو بنیادی طور پر سکھائی گئی ہے۔ اس وجہ سے اس کی جامع ترین ہونا خود بخود سمجھ میں آتا ہے کہ اس سے بہتر دعا اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہ جامع ترین دعا ہے۔ جس کے اندر حسنِ ترتیب بھی ہے اور اسبابِ اجابت بھی ہیں اور حصولِ مقاصد بھی ہے۔

حسن ترتیب کا تو یہ حال ہے کہ تعریف سے شروع ہوتا ہے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾۔ پھر اللہ پاک کے دو مبارک اسم ہو ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾۔ پھر ہمارا اللہ کے ساتھ واسطہ ہے آخرت میں ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق جوڑنے کا طریقہ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾۔ پھر بہترین چیز مانگنا ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾۔ پھر اس بہترین چیز کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ﴿صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ﴾۔ پھر ایسی چیزوں سے بچنا جس سے نقصان ہو سکتا ہے ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾۔ پھر سب پر آمین۔ اب بتائیں اس میں کونسی چیز رہ گئی ہے؟

تو یہ وہ دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود سکھائی ہے، اس وجہ سے ہر رکعت کے اندر اس کو پڑھا جانا ہے، انفرادی نماز کی جو ہے اور اجتماعی نماز، سب میں، ہر رکعت کے اندر قرات ممکن ہے بعض میں نہ ہو لیکن سورۃ فاتحہ ہوگا۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ امام کے پیچھے اگر ہو تو امام کا جو سورۃ فاتحہ ہے وہ آپ کا سورۃ فاتحہ ہے، وہ ایک علیحدہ بات ہے۔

یہ وہ دعا ہے جس کو ہر مسلمان ہر نماز میں دہراتا ہے جس کے بغیر ہر نماز نا تمام اور ادھوری رہتی ہے ۲؎ یہ دعا اسلام کی تمام تعلیمات کا عطر اور خلاصہ ہے۔ خدا کی حمد و ستائش ہے۔ توحید ہے۔ اعمال کی جزا اور سزا کا یقین ہے۔ عبادت کے مخلصانہ ادا کا اقرار ہے۔ توفیق و ہدایت کی طلب ہے۔ اچھوں کی تقلید کی آرزو اور بروں کی پیروی سے بچنے کی تمنا ہے۔ جس وقت اس حمد میں خدا کی پہلی صفت کل جہانوں کا پروردگار زبان پر آتی ہے تو اس کی تمام قدرتیں اور بخششیں جو زمین سے آسمان تک پھیلی ہیں سب سامنے آ جاتی ہیں۔ جہانوں کی وسعت کے تخیل سے اس کی عظمت اور کبریائی کی وسعت کا تخیل پیدا ہوتا ہے۔ سارے جہانوں کے ایک ہی پروردگار کے تصور سے کل کائنات ہستی کی برادری کا مفہوم ذہن میں آتا ہے۔ انسان ہوں کہ حیوان‘ چرند ہوں کہ پرند‘ پھر انسانوں میں امیر ہوں یا غریب‘ مخدوم ہوں یا خادم‘ بادشاہ ہوں یا گدا‘ کالے ہوں یا گورے‘ عرب ہوں یا عجم‘ کل مخلوقات خلقت کی برادری کی حیثیت سے یکساں معلوم ہوتی ہے۔ خدا کو رحمان و رحیم کہہ کر پکارنے سے اس کی بے انتہا رحمت‘ بے پایاں شفقت‘ غیر محدود بخشش اور نا قابل بیان کیف محبت کا سمندر دل کے کوزہ میں موجیں مارنے لگتا ہے۔ روز جزا کے مالک کا خیال ہم کو اپنے اپنے اعمال کی ذمہ داری اور مواخذہ سے باخبر اور خدا کے جلال و جبروت سے مرعوب کر دیتا ہے۔ ”ہم تجھی کو پوجتے ہیں“ کہہ کر ہم اپنے دل کی زمین سے ہر قسم کے شرک کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتے ہیں ”ہم تجھی سے مدد مانگتے ہیں“ بول کر ہم تمام دنیاوی سہاروں اور بھروسوں کو ناچیز سمجھتے اور صرف خدا کی طاقت کا سہارا ڈھونڈھتے اور سب سے بے نیاز ہو کر اسی ایک کے نیازمند بن جاتے ہیں۔ سب سے آخر ہم اس سے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق چاہتے ہیں۔ یہ سیدھی راہ (راہ مستقیم) کیا ہے؟ اس کی شریعت کے احکام ہیں۔

﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۝ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۝ وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ﴾ ) انعام۔ رکوع 19(

کہہ دے (اے پیغمبر) آؤ میں تم کو پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے۔ یہ کہ اس کے ساتھ شرک نہ کرو، ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو‘ غربت کے سبب اپنی اولاد کو قتل مت کرو، ہم تم کو اور ان کو روزی دیتے ہیں، بے حیائی کی باتوں کے نزدیک نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر میں (فحش) ہوں یا باطن میں، جس جان کو خدا نے محترم کیا ہے اس کو مت مارو لیکن انصاف کے ساتھ۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا حکم خدا نے تم کو دیا ہے۔ شاید کہ تم سمجھو اور یتیم کے مال کے پاس مت جاؤ لیکن اچھی نیت سے، یہاں تک کہ وہ اپنی قوت کو پہنچ جائے اور ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا رکھو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا حکم نہیں دیتے۔ جب تم بات بولو تو انصاف کی گو تمہارا عزیز ہی کیوں نہ ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا خدا نے تم کو حکم دیا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو اور بے شبہ یہی ہے میرا سیدھا راستہ (صراط مستقیم) تو تم اسی کی پیروی کرو۔

تو یہ ان شاء اللہ آج کے لیے ہے، اللہ جل شانہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالیٰ عَلىٰ خَيْرِ خَلْقِهٖ۔


اسلام میں نماز کی حقیقت: قرآنی دلائل، فطری ترتیب اور سورہ فاتحہ کا مفہوم - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور