صوفیاء کرام کے طبقات اور ان کی نسبتیں

(اشاعتِ اول) جمعرات،14 نومبر، 2019

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

صوفیاء کرام کے طبقات اور ان کی نسبتیں

ما شاء اللہ بہت اہم topic ہے۔ 

اس فقیر کو بتایا گیا ہے کہ صحابہ، تابعین اور جمہور صالحین کی نسبت احسان ہے۔ نسبتِ احسان مرکب ہے نسبتِ طہارت اور نسبتِ سکینہ سے اور اس کے ساتھ عدالت، تقویٰ اور سماحت یعنی حسنِ اخلاق کے انوار اور اس کی برکتیں بھی شامل ہیں۔ چنانچہ ان بزرگوں کے کلام کا اصلی مفہوم ان کے ارشادات کا صحیح مقصود اسی نسبتِ احسان پر دلالت کرتا ہے۔ (اب ذرا اپنے تجربات بتاتے ہیں) 

میں نے ائمہ اہلِ بیت کی ارواح کو دیکھا کہ وہ عالمِ ارواح میں ایک دوسرے کا دامن مضبوطی سے پکڑے ہوئی ہیں اور حظیرۃ القدس میں ان کو بڑی منزلت حاصل ہے اور میں نے وہاں یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اہلِ بیت کی ارواح کی قوت خارج سے زیادہ عالمِ ارواح کے باطن میں ہے۔ 

یہی بات تقریباً حضرت مجدد صاحب نے بھی کی ہے، ایک مکتوب میں اپنے شیخ کو جو لکھا ہے۔ پھر اس کے بعد، اہلِ بیت کے جو مقامات ہیں، وہ مجھ پر کھل گئے، اور اس کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی، وہ ساری باتیں بتا دیں۔ عجیب دنیا ہے ما شاء اللہ یہ بھی۔ اہل بیت کی ایک نسبت ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کو بھی وہ نصیب فرما دے، تو ان کے ساتھ محبت کی وجہ سے وہ حاصل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جتنے بھی بڑے بڑے اولیاء ہیں، ان سب کو اہلِ بیت کے ساتھ زیادہ بہت محبت تھی۔ وہ اس نسبت کے حامل اسی وجہ سے ہوگئے تھے۔ حضرت مجدد صاحب کا، جیسے مکتوبات شریف میں اکثر جو دعا کرتے ہیں، "یا اللہ! آلِ فاطمہ کے طفیل میری دعاؤں کو قبول فرما"۔ اس طرح، اور تو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی کا ذکر فرما رہے ہیں۔

وہ صوفیاء متقدمین جن کا ذکر طبقاتِ سلمی اور رسالۂ قشیری میں ہے، ان کی مختلف نسبتیں ہیں۔ ان میں سے بعض بزرگ نسبتِ احسان رکھتے ہیں۔ اور بعض نسبتِ عشق و وجد اور ان میں سے ایک جماعت نسبتِ تجرد رکھتی ہے اور ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جن میں کا ہر شخص ان نسبتوں میں سے ایک نہ ایک نسبت اس طرح رکھتا ہے کہ وہ نسبت نسبتِ یاد داشت سے ملی ہوتی ہے، ان سب نسبتوں کا لبِ لباب ہم اس کتاب کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ 

حضرت غوث اعظم نسبت اویسی رکھتے ہیں اور ان کی اس نسبت کے ساتھ نسبتِ سکینہ کی برکات بھی ملی ہوئی ہیں۔

تقریباً یہی حال کاکا صاحب کا ہے، مطلب نسبتِ اویسی اور نسبتِ سکینہ۔ وہ مجھے مسرت شاہ صاحب ایک دن کہنے لگے اچانک، کیا وجہ ہے کہ کاکاخیلوں پہ نسبتِ سکینہ جلدی طاری ہوتی ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے کیا پتا، مجھے کیا پتا۔ تو یہ مطلب کاکا صاحب کا خصوصی مطلب وہ ہے۔

حضرت غوث اعظم کی اس نسبت کی تفصیل یہ ہے کہ شخصِ اکبر کے دل پر ذات الہٰی کی تجلی ہوئی اور یہ تجلی نمونہ بنی باری تعالیٰ کی ذات کا۔ جس شخص کو یہ نسبت حاصل ہوتی ہے وہ شخص اکبر کے اس نقطۂ تجلی کا محبوب و مقصود بن جاتا ہے۔ اب چونکہ نفوس افلاک ملاء اعلیٰ اور ارواح کاملین کی محبت شخص اکبر کے اسی نقطے کے ضمن میں آتی ہے، اس لئے یہ نسبت رکھنے والا شخص اکبر کے نقطۂ تجلی کی وساطت سے سب کا محبوب و مقصود بن جاتا ہے۔ الغرض جب اس نسبت کا حامل شخصِ اکبر کی اس تجلی کا محبوب ٹھہرا تو اس محبوبیت کی وجہ سے اس پر تجلیاتِ الہٰی میں سے ایک تجلی کا فیضان ہوا۔ اور یہ تجلی جامع ہوتی ہے قدرت الہٰی کے ان چار کمالات یعنی ابداع، خلق، تدبیر اور تدلی کی، جو اس نظام کائنات میں مصروفِ عمل ہیں۔ چنانچہ اس تجلی کی طفیل اس نسبت رکھنے والے شخص سے بے انتہا خیر و برکت کا ظہور ہوتا ہے۔ خواہ وہ اس اظہار کمال کا قصد کرے یا نہ کرے اور اس فیض کی طرف اس کی توجہ ہو یا نہ ہو۔ گویا کہ اس شخص سے خیر و برکت کا یہ صدور ایک طے شدہ امر ہے اور یہ اس کے ارادے کے بغیر ہی معرض وجود میں آرہا ہے۔ 

سورج سے نکل رہی ہیں ناں ساری چیزیں، سورج کا ارادہ ہو یا نہ ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سب لوگ مستفید ہورہے ہوتے ہیں سورج سے۔ 

حضرت غوث اعظم کی زبان سے فخر اور بڑائی کے جو بلند آہنگ کلمات نکلے اور آپ کی ذات گرامی سے تسخیرِ عالم کے جو واقعات رونما ہوئے، یہ سب کچھ آپ کی اسی نسبت کا نتیجہ تھا۔ اس ضمن میں بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب یہ نسبت تکمیل کو پہنچتی ہے تو اس کی وجہ سے کسی قدر نسبتِ یاد داشت بھی جو نسبتِ توحید سے ملی ہوئی ہوتی ہے، حاصل ہوجاتی ہے۔ یہ سب نسبتیں جن کا کہ اوپر بیان ہوا ان کے آثار جیسے کہ ان نسبت والوں کے اپنے احوال و طبائع ہوتے ہیں، انہی کے مطابق ہی ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ 

4-خواجہ نقشبند کی اصل نسبت نسبتِ یاد داشت ہے اور بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ یہ نسبت احسان کی نسبت تک پہنچا دیتی ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر خواجہ نقشبند کا یہ ارشاد وارد ہوا ہے کہ "مسلمانی اور طاعت و انقیاد سرتاپا نور و صفا ہیں"۔ 

5-خواجگان چشت میں سے مشائخِ متقدمین کو نور و طہارت و سکینہ کی نسبت جو نسبتِ عشق سے ملی ہوئی ہے، حاصل تھی۔ اور جو دور متوسط کے مشائخ ہیں ان کی نسبتِ نسبت عشق تھی جس میں کہ نور و سکینہ کی نسبت کی آمیزش تھی اور ان بزرگوں کی نسبت میں خاص طور پر اسمائے الہٰیہ کے انوار اور ان کے برکات کا بڑا اثر تھا اور خواجگانِ چشت میں سے جو آخری دور کے مشائخ ہیں ان کو نسبتِ عشق جس میں کہ کسی قدر نسبتِ توحید بھی ملی ہوئی تھی، حاصل تھی۔ 

6-سہروردی طریقے کے بزرگوں کی نسبت نورِ طہارت اور نورِ سکینہ کی تھی، اور ان کی اس نسبت کے ساتھ نسبتِ یاد داشت بھی شامل تھی۔ 

سلسلۂ اکبریہ کے مشائخ کی نسبت توحید تھی جس میں کہ بعض کے نزدیک تو عشق و وجد کی نسبت ملی ہوئی تھی۔ اور دوسروں کے خیال میں ان مشائخ کی اس نسبت توحید کے ساتھ ساتھ نورِ سکینہ کی آمیزش تھی۔ 

طبقۂ کبرویہ کی نسبت ایک سی نظر نہیں آتی۔ متقدمین میں اس نسبت کی کیفیت اور تھی متاخرین میں کچھ اور۔ 

طریقۂ شاذلیہ میں نسبت کی تفصیل یہ ہے کہ وہ نقطہ جو شخصِ اکبر کے قلب میں ہے اور وہ نمونہ ہے باری تعالیٰ کی ذات کا۔ اس نسبت کی وجہ سے سالک کا نفسِ ناطقہ اس نقطے کی مثالی صورت سے اور نیز اس کے اردگرد ملاء اعلیٰ کے جو فیوض پھیلے ہوئے ہیں، ان سے اتصال پیدا کرلیتا ہے۔ اور اس اتصال کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ سالک کو اس تدبیر پر پورا پورا اعتماد حاصل ہوجاتا ہے جو انسان کو مدارجِ قرب الہٰی تک پہنچانے میں برابر مصروف کار ہے اور جسے تدلی کا نام دیا گیا ہے۔ اس تدلی سے ”فَاَکُوْنُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُ بِہٖ“ کی نسبت یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، سالک کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت ﴿اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ۖ  وَ هُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ﴾ (الأعراف: 196) میں اسی نسبت کی طرف اشارہ ہے۔ باقی اللہ ان امور کو بہتر جانتا ہے۔

مزید برآں یہ بھی یاد رہے کہ ان سب طریقوں کی نسبتیں ہمیشہ ایک طریق پر وقوع پذیر نہیں ہوتیں۔ اس معاملہ میں سالکوں کی اپنی کوشش اور رجحان کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ بہرحال جیسے کسی سالک کی کوشش و رجحان ہوتا ہے اسی کے مطابق اسے کسی نسبت کے حصول کی استعداد ملتی ہے۔ مزید برآں ایک خاص نسبت کے آثار کی تحقیق صرف اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے۔ جب کہ یہ نسبتیں بالکل خالص ہوتیں اور ایک نسبت میں دوسری نسبت کی آمیزش نہ ہوتی۔ یہ خصوصیت متاخرین کے ہاں تو شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ہر نسبت کے جدا جدا اثرات کی تحقیق اس وقت بھی ممکن ہوسکتی تھی جب کہ سالک ائمہ طریقہ سے ان کی مخصوص نسبت کو بجنسہٖ بغیر کسی تبدیلی و تغیر کے لیتے اور اس طرح نہ ہوتا کہ مثلاً خرقہ یا بیعت کے ذریعہ انہوں نے ایک نسبت درست کی۔ اور ریاضت و مجاہدہ سے دوسری نسبت حاصل کرلی۔ اور یہ بات بہت سے لوگوں میں جو تصوف کے طریقوں کی طرف منسوب ہیں، عام طور پر پائی جاتی ہے۔ 

الغرض اگر تصوف کے ان مختلف طرق کی نسبتوں اور ان کی خصوصیات پر نظر ہو تو ایک ذہین آدمی بڑی آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ خواجہ نقشبند قبروں کی باقاعدہ زیارت کو کیوں قابل اعتبار نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک وہ واقعات اور معاملات جو سالک سے اس کی طاعات کی قبولیت سے قبل ظاہر ہوتے ہیں، کس بنا پر درخور اعتناء نہیں ہیں اور نیز وہ یہ بھی جان لے گا کہ چشتی طریقے کے بزرگ سماع کی طرف کیوں اتنی رغبت رکھتے ہیں۔ ان باتوں کو سمجھنے کے لئے تمہیں غور و تدبر کرنا چاہئے۔ 

اس فقیر کو بتایا گیا ہے کہ حضرت غوث اعظم کے طریقے کی مثال ایک ایسی ندی کی ہے کہ کچھ دور تو وہ زمین کی سطح کے اوپر اوپر بہتی رہی پھر وہ زمین کے اندر غائب ہوگئی۔ اور اندر ہی اندر دور تک بہا کی، اور اس نے زمین کے اندرونی مسامات کو نمناک کردیا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ چشمہ کی شکل میں پھوٹ نکلی اور پھر دور تک زمین کی سطح کے اوپر اوپر بہتی چلی گئی۔ الغرض اس کا زمین کی سطح پر ظاہر ہونے اور پھر زیر سطح غائب ہونے کا سلسلہ اسی طرح برابر جاری رہا۔ بعینہٖ یہی حال طریقہ جیلانیہ کا ہے، گو اس طریقہ کا سلسلہ خرقہ تو مسلسل چلا آرہا ہے۔ لیکن اخذِ نسبت کا سلسلہ اس طریقے میں متصل نہیں رہا۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوا کہ ایک بار یہ طریقہ رونما ہوا اور اس کے بعد مفقود ہوگیا۔ اور پھر دوبارہ بطریقِ اویسی بغیر کسی مرشد کے توسط سے اس طریق کا کسی بزرگ کے باطن سے ظہور ہوا۔ اور سچ پوچھے تو یہ طریقہ جیلانیہ تمام تر اویسیہ ہی ہے اور اس طریقے سے انتساب رکھنے والے بزرگ بڑی رفعت اور سطوت کے مالک ہوتے ہیں۔ باقی رہا طریقِ نقشبندیہ تو وہ بمنزلہ اس ندی کے ہے جو برابر سطح زمین کے اوپر اوپر بہتی چلی جائے۔ جو بزرگ اس طریقے سے منتسب ہوتا ہے، اس کی ذات اس عالمِ ناسوت میں خدا تعالیٰ کے قوی اور مقتدر اسماء کی مظہر ہوتی ہے۔ مختصراً طریقِ نقشبندیہ کی مثال یوں سمجھئے کہ جیسے کوئی نقاش کسی دیوار پر خوشنما نقوش بنا دیتا ہے اور طریقۂ جیلانیہ کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص آئینے کو صاف اور مجلّا کرتا ہے تاکہ باہر سے اس پر خوشنما نقوش کا عکس پڑ سکے یا جیسے کوئی تلوار کو اس طرح صیقل کرے کہ اس کا اصلی جوہر نمایاں ہوجائے۔ چنانچہ جس شخص کو طریقۂ جیلانیہ کی نسبت حاصل ہوتی ہے، وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ جو کچھ اس پر باہر سے عکس پڑ رہا ہے یہ کمال دراصل اس کی خود اپنی فطرت میں موجود ہے اور یہ اسے بغیر کسی محنت اور ریاضت کے حاصل ہوگیا ہے۔ طریقۂ چشتیہ مقبولوں کا طریقہ ہے۔ اس طریقے کے متوسلین عوام الناس میں بڑے مقبول ہوتے ہیں اور نیز صوفیاء میں سے چشتی بزرگ عام لوگوں سے زیادہ مشابہ ہوتے ہیں۔ باقی جو اصل حقیقت ہے وہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ 

ان میں عجز بہت زیادہ ہوتا ہے، یہ چشتی جو بزرگ ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے۔ وہ شعر ہے ناں،

افروختن و سوختن و جامہ دریدن پروانہ ز من، شمع ز من، گُل ز من آموخت

جلنا اور پگھلنا اور کپڑے پھاڑنا، یہ پتنگے نے ہم سے سیکھا ہے، اور شمع نے ہم سے سیکھا ہے، اور پھول نے ہم سے سیکھا ہے۔

تو یہ اپنی عزت کو خاک میں ملا دیتے ہیں، پروا نہیں کرتے، بڑے simple رہتے ہیں۔ کوئی خاص شان نہیں رکھتے، اس وجہ سے عوام میں زیادہ مقبول ہوتے ہیں، کیونکہ عوام کے ساتھ ملے جلے ہوتے ہیں ناں، عوام میں زیادہ مقبول ہوتے ہیں۔ تو جب کہ نقشبندی حضرات باوقار رہتے ہیں، وہ صحو کی طرف زیادہ غالب ہوتے ہیں، اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس سے طریق کی بدنامی کا ڈر ہو، یا جس سے کوئی نقصان مطلب ہوسکتا ہو، عقلی طور پر وہ تمام کام اپنی طرح اسے انجام دیتے ہیں۔ اور قادری حضرات کا تو بتا دیا کہ اویسی ہیں زیادہ تر، مطلب یہ ہے کہ یہ انسان کا، جس کو نسبتِ اویسی حاصل ہوجائے کسی بھی طریقہ سے، تو ان کو فیض مل جائے گا، اور باقی انہوں نے محنت جو کی ہے، اس کے ساتھ وہ شامل ہوجائے گا اور اس کو چلا دے گا۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ ایک خانقاہ ہے، جیلانی خانقاہ ہے، تو اس سے ہمیشہ فیض ملتا رہے۔ غائب بھی ہوجاتا ہے۔ حلیمی صاحب چونکہ قادری ذوق رکھتے تھے، تو حضرت نے مجھے یہ باتیں سمجھائی تھیں۔ حضرت نے فرمایا تھا کہ بہت سارے لوگ چشمے کے گرد بیٹھے ہوتے ہیں، چشمہ خشک ہوچکا ہوتا ہے، وہ کسی اور جگہ نکلا ہوتا ہے، اور یہ اُدھر انتظار کررہے ہوتے ہیں یہاں سے نکلے گا، لیکن وہ وہاں سے چلا گیا ہوتا ہے۔ مطلب یہ والی بات ہے۔ کیونکہ وہ معاملہ ذرا اور ہے۔ تو اس وجہ سے جس کو مربوط طریقہ ہم کہہ سکتے ہیں، مسلسل چلتے ہوئے، وہ نقشبندی طریقہ ہے جو مسلسل ایک طریق پہ چلتا رہتا ہے، اس کے ڈانڈے آپس میں ملے ہوتے ہیں۔

اب رہا فقیر کا طریقہ:- (سبحان اللہ) جب فقیر نے جذب کی راہ طے کرلی تو اس کے سامنے ان تمام اکابر کی طرف ایک کشادہ راستہ کھل گیا۔ اور اس نے اوپر کی یہ ساتوں کی ساتوں نسبتیں بطریقِ ذوق و وجدان اور بواسطۂ بحث و نظر معلوم کیں۔ اور ان میں خوب تحقیق بھی کی۔ چنانچہ اس فقیر کو جو نسبت عطا کی گئی ہے وہ انہی سات نسبتوں سے مرکب ہے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب میں خود اپنے آپ میں ہوتا ہوں تو مجھ پر ایک ایسی اجمالی صورت ظاہر ہوتی ہے جو ان ساتوں نسبتوں کا خلاصہ ہے۔ اور جب میں اپنے آپ کو ان نسبتوں میں سے کسی ایک کے سپرد کردیتا ہوں اور اس کی طرف پوری طرح اپنے دل کو متوجہ کرلیتا ہوں تو مجھے خاص اس نسبت میں استغراق حاصل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ ان دو حالتوں میں سے جہاں تک پہلی حالت کا تعلق ہے اس میں مجھ پر ان سات نسبتوں میں سے ہر نسبت کے آثار اجمالی طور پر اور ایک دوسرے سے ملے جلے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور دوسری حالت میں جبکہ میں صرف ایک نسبت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تو خاص اس نسبت کے آثار بڑی تفصیل سے اور علیحدہ حیثیت میں مجھ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ بہرحال ان تمام نسبتوں میں اور خاص طور پر ان میں اجمالی لحاظ سے مجھے بڑا رسوخ اور ثبات عطا کیا گیا ہے۔ 

یا کریم، یا اللہ، یا سبحان۔ اصل میں بعض دفعہ تحدیثِ نعمت کے طور پر اللہ پاک ایسے کلمات ان بزرگوں کی زبان سے نکلوا دیتے ہیں۔ ایک وقت گزرا، بزرگوں کی نسبتیں اپنے اپنے رنگ میں چلتی رہیں، قادریہ نسبت، چشتیہ نسبت، سہروردی نسبت، شاذلی نسبت، نقشبندی نسبت، ساری نسبتیں اپنے اپنے رنگ میں چلتی رہیں۔ پھر یہ نسبتیں آپس میں مخلوط ہوگئیں، جیسے ابھی حضرت نے بھی ذکر کیا ہے، مخلوط ہوگئیں۔ اور آپس میں ان کا جدا کرنا بڑا مشکل ہوگیا۔ کچھ کچا پن بھی آگیا۔ کچا پن یہ ہے کہ جو جس کی نسبت تھی، اس پہ وہ مطمئن ہوگیا اور سمجھا کہ شاید یہی ایک ہے۔ آج کل کے دور کا یہ بڑا مسئلہ ہے۔ تو انہوں نے باقی نسبتوں کی ناقدری کی، اور ناقدری جس نسبت کی بھی کی جائے تو اس سے تو انسان محروم ہو ہی جاتا ہے۔ مطلب وہ تو ہے، مطلب general rule ہے کہ جس چیز کی بھی ناقدری ہوجائے، وہ اس سے محروم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا

مثلاً نقشبندی حضرت صاحب ہیں، اس نے نقشبندیت بھی صحیح حاصل نہیں کی۔ ’’صحیح حاصل نہیں کی‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ جو نسبتِ یاد داشت اس کا اصل ہے، اس کو صحیح طور پر نہیں ملا، لیکن بیعت کے لحاظ سے اور attachment کے لحاظ سے نقشبندی تھا، اور کچھ اسباق وغیرہ کرلیے، اور پھر یوں سمجھ لیجئے کہ بڑوں کے ساتھ affiliation کی وجہ سے اپنے آپ کو گویا کہ اپنے زعم میں بڑا کرنے کے لئے یہ الاپنے لگا کہ نقشبندی سب سے اونچے ہیں، مطلب اس طرف ان کا رجحان چلا گیا۔ اب اس نے باقی جتنی نسبتوں کی ناقدری کی، ان سے تو محروم ہو ہی گیا۔ دوسری طرف، چونکہ یہ ساری نسبتیں ایسی نسبتیں ہیں یہ سارے آپس میں مربوط ہیں، لہٰذا کسی ایک کی ناقدری سب کی ناقدری ہوتی ہے۔ تو وہ اپنے سے بھی محروم ہوگیا، جو اپنی نسبت ہے، اس سے بھی محروم ہوگیا۔ کیونکہ اگر اپنی نسبت اس کو حاصل ہوتی صحیح انداز میں، تو کبھی بھی دوسروں کی تنقیص نہ کرتا۔ اگر اپنی نسبت ان کو صحیح طور پہ حاصل ہوتی، تو کم از کم للّہیت تو ساری نسبتوں میں حاصل ہوجاتی ہے۔ تو جس میں للّہیت ہوتی ہے، وہ تو جو بھی نسبت اللہ کی طرف لے جاتی ہے، اس کی ناقدری نہیں کرسکتا۔ تو لہٰذا وہ گویا کہ نہ اپنا رہا، نہ دوسرا حاصل کیا، اور اس کا نتیجہ محرومی ہوجاتی ہے۔

اس وجہ سے اِس وقت اس چیز کی بڑی ضرورت تھی کہ ان تمام نسبتوں کا احیاء ہوجائے، ان تمام نسبتوں کا احیاء ہوجائے۔ کیونکہ وجہ کیا ہے؟ کہ ایک فتنہ برپا ہوگیا اور ایک مسئلہ بن گیا، جس کی وجہ سے ساری چیزیں مخلوط ہوگئیں، اور جس کی وجہ سے انسان اپنی چیز کو بھی حاصل نہیں کرسکا، دوسروں کے اوپر بھی وہ طعنہ زنی کرنے لگا، نقصان ہوگیا۔ تو اب کچھ اِس قسم کی بات گویا کہ ہونی تھی کہ کچھ لوگ ایسے ہوں ، جیسے شاہ ولی اللہ نے فرمایا کہ ہمیں ساری نسبتوں کا مطلب وہ حامل بنا دیا گیا، کچھ لوگ ایسے ہوں جو کہ ہر نسبت کے ساتھ attach ہوں، اگرچہ ان کی اپنی ذاتی نسبت کوئی بھی ہو، لیکن وہ ہر نسبت کے ساتھ attach ہوتے ہیں۔ یہ حضرت نے بالکل یہ جو بات فرمائی ہے، مدت سے میرے ذہن کے اندر یہ چیز اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ موجود ہے۔ پڑھا آج ہے، پڑھا آج ہے، لیکن یہ ذہن میں یہ بات موجود تھی کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ جب کبھی میں چشتی باتیں کرتا ہوں، تو لگتا ہے کہ جیسے میں چشتی ہوں۔ کوئی یہ نہیں دیکھ سکتا کہ یہ نقشبندی ہوگا۔ حالانکہ مجھے اپنے شیخ نے بتایا کہ آپ کی نسبت نقشبندی ہے، اور میں خود مانتا بھی ہوں۔ لیکن جس وقت چشتی موضوع پہ بات کرتا ہوں تو وہ بالکل ایسا لگتا ہے جیسے میں چشتی ہوں۔ جب میں قادریوں کی بات کرتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں قادری ہوں۔ ہوتا ہے۔ اگر سہروردی کی بات شروع ہوجائے تو ایسا لگتا ہے جیسے میں سہروردی ہوں، اور نقشبندی کی بات ہوجائے تو پھر ایسا لگتا ہے جیسے میں نقشبندی ہوں۔ اس طرح ساری نسبتیں ۔

اس سے وہ چیز میرے دماغ کے اندر، دل کے اندر یہ چیز طاری رہی کہ گویا کہ جس نسبت کی طرف بھی توجہ مجھے ہوجائے، تو اس کے اثرات مجھ پر ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ حضرت نے بالکل یہی بات کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس نسبت کی طرف بھی میں متوجہ ہوتا ہوں، اس نسبت کے اثرات مجھ پر ہونے لگتے ہیں، اور وہ مجھے اسی طرح اس وقت بنا لیتے ہیں۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بے شک میں خود اپنی ذات میں کچھ بھی ہوں، لیکن اس نے ماحول بنا دیا کہ سارے سلسلوں کی تشریح کرسکوں، یعنی سارے سلسلوں کے بارے میں بات ہوسکے۔ کیونکہ کسی کے اوپر اگر ایک سلسلہ کا طاری ہے، تو وہ پھر باقیوں کے بارے میں تو بات نہیں کرسکتا۔ ہاں! تنقیص نہیں کرے گا، لیکن بات بھی نہیں کرسکے گا۔ بات تو تب کرسکے گا جب اس پر وہ کیفیت طاری ہوجائے نا۔

تو اس چیز کو میں نے محسوس کیا، وہ جو غزلیں لکھی تھیں قادری سلسلہ کی، اور چشتی سلسلہ کی، اور نقشبندی سلسلہ کی، اور سہروردی سلسلہ کی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یہ نسبتوں کا وجدان کے اوپر جو طاری ہونا ہے، یہ اسی طریقہ سے موجود ہوتا ہے اور اس طریقے سے آجاتا ہے۔

تو اس وجہ سے یہ ساری نسبتیں ہیں موجود، بلکہ یہاں تک ہے، الحمد للہ، الحمد للہ،ثم الحمد للہ،تحدیثِ نعمت کے طور پہ عرض کرتا ہوں کہ میں جب صحابہ کی بات کرتا ہوں، تو مجھے لوگ صحابہ کا دفاع کرنے والا سمجھتے ہیں، اور ہونا بھی چاہئے۔ اور اگر اہلِ بیت کی بات کرتا ہوں، تو پھر وہی لوگ سمجھتے ہیں کہ بھئی یہ تو اہلِ بیت کا، اس کا داعی ہے۔ اور اگر امہات المؤمنین کا، تو پھر تو ظاہر ہے مطلب۔ تو یہ ساری چیزیں جو آپس میں، جس کو کہتے ہیں نا، وہ ہر ایک کی اپنی اپنی شان ہے، اور اس کی شان کو بیان کرنے کی ضرورت بھی ہے، تاکہ ہر نسبت سے فائدہ اٹھایا جاسکے، یا کم از کم جو اس نسبت کا حامل ہے، وہ ضائع نہ ہوجائے، مطلب ان تک وہ چیز پہنچ سکے۔

تو اس وجہ سے آج کل جس چیز کی ضرورت تھی، اس وقت الحمد للہ اللہ کا احسان ہے کہ مجھے چشتیوں کی گود میں پال کے نقشبندی بنایا، چشتیوں کی گود میں پال کے نقشبندی بنایا، اور کاکا صاحب کے خاندان میں پیدا کرکے سہروردی بنایا۔ کاکا صاحب چونکہ اویسی بھی تھے، سہروردی بھی تھے، تو مطلب یہ ہے کہ سہروردی بنایا۔ اور ساتھ قادری حضرات کے بارے میں ہماری اپنی imagination ہے، جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے، لیکن بہرحال محسوسات کے دائرہ میں تو آتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ہمارے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے اپنی اولاد کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس کی کوئی reason ہمیں نہیں معلوم، لیکن ہے ایسی بات۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے ہی بات ہے۔ تو وہ پھر چیزوہ وہاں سے گویا کہ حاصل ہوئی۔ تو اس طریقہ سے یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جامع سلاسل والی بات جو بات ہے، جو اللہ پاک نے اس دور میں پیدا کرنی تھی، وہ ہمارے سلسلہ کو اللہ پاک نے یہ توفیق بخشی۔ اس وجہ سے ہمارا سلسلہ، یہ اس طرح الحمد للہ، اللہ پاک نے اس کو پیدا فرما دیا کہ اس سلسلے میں ہر سلسلے کی نسبت کی نَشو و نُما کا مادہ موجود ہے۔ جو جس سلسلہ کا بھی ہے، وہ آجائے، یا جس سلسلے کے ساتھ نسبت رکھنے والا ہے، وہ الحمد للہ یہاں پر کوئی رکاوٹ نہیں پائے گا۔ چاہے کوئی قادری ہے، چاہے کوئی نقشبندی ہے، چاہے چشتی ہے، چاہے سہروردی ہے، چاہے شاذلی ہے، چاہے رفاعی ہے، چاہے کوئی اور بزرگ سے، یا اہل بیت میں سے ہے، یا اور مطلب جو۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ یہاں پر الحمد للہ اللہ پاک نے ان سب کے فیوض و برکات کو اپنے فضل سے جمع کردیا ہے۔ یہ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت تھی، جس کے لئے زبان پہ یہ باتیں جاری ہوگئیں۔ فرمایا:

وَلَوْ أَنَّ لِيْ فِيْ كُلِّ مُنْبَتِ شَعْرَةٍ لِسَانًا لَمَا اسْتَوْفَيْتُ وَاجِبَ حَمْدِهٖ

"اگر میرے ہر بال کی جڑ زبان بن جائے اور میں اس کی حمد بیان کرنے لگوں تو پھر میں بھی اس کی حمد کا حق ادا نہیں کرسکوں گا"۔ 

اب اگر کوئی شخص ہماری نسبت کا طالب ہے تو سب سے پہلے اسے یہ کرنا چاہئے کہ وہ راہِ جذب کو تا آخر تمام کرلے۔ 

بالکل، تقریباً ہمارا طریقہ یہی ہے، جو ذکر اذکار کی لائن ہے وہ طریقہ جذب ہے۔ اور الحمد للہ، یہاں پر دو طریقوں سے طے ہوتا ہے، ایک طریقہ ذکرِ جہری سے ہے اور پھر مراقبات کے ذریعہ سے ہے۔ تو طریقہ ذکرِ جہری اور مراقبات، یہ ما شاء اللہ، یہ اللہ تعالیٰ نے ما شاء اللہ یہ جو ہے ناں، وہ اس کے ذریعہ سے جذب کی جو کیفیت پیدا کرنے کا اس کو ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

لیکن یہ چیز غالباً کسی مجذوب کے فیض تربیت کے بغیر میسر نہیں آتی۔ اس کے لئے سالک کو چاہئے کہ وہ کسی مجذوب کے زیرِ عاطفت، اس کی پر تاثیر شخصیت کی مدد سے اس مرحلہ کو طے کرے۔

یہ وہ مجذوب نہیں جس پہ شریعت نافذ نہیں ہوتی، یعنی جس کو کیفیتِ جذب حاصل ہو، مطلب یہ وہ والی بات ہے۔

یاد رہے کہ اس معاملہ کا تعلق تعلیم و تعلم اور گفت و شنود سے زیادہ نہیں۔ جب سالک راہِ جذب کو تمام کرلے تو پھر اوپر کی ان سات نسبتوں میں سے ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ حاصل کرے۔ اور ہر ایک سے فرداً فرداً اپنا ربط پیدا کرے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد جب وہ مراقبے میں جائے تو سب سے پہلے طہارت، سکینہ اور اویسیہ کی نسبتوں کی طرف متوجہ ہو اور جب اس کی چشمِ بصیرت ان نسبتوں کو دیکھنے لگے تو سالک ان نسبتوں کو جاننے اور ان کے رنگ میں رنگے جانے کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھے اور نسبت یادِ داشت کو اپنا مطمح نظر بنائے۔ 

یعنی گویا کہ طریقہ کار کیا ہے؟

جانا تو سب کی طرف ہے، لیکن سب سے پہلے طہارت۔ یعنی اپنے آپ کو پاک و صاف رکھے، خیالات کو بھی پاک رکھے، جو مراقبات سے حاصل ہوسکتا ہے، خیالات کو بھی پاک رکھے، اپنے آپ کپڑوں کو بھی پاک رکھے، اپنی environment کو بھی پاک رکھے۔ مطلب وہ خوشبوؤں کا استعمال اور تمام چیزوں کا، اس کے حساب سے، اور پھر سکینہ کی طرف اور اویسی نسبتوں کی طرف جو ہے ناں، مطلب وہ کرے۔

اور جب اس کی چشمِ بصیرت ان نسبتوں کو دیکھنے لگے تو سالک ان نسبتوں کو جاننے اور ان کے رنگ میں رنگے جانے کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھے اور نسبت یادِ داشت کو اپنا مطمح نظر بنائے اور کوشش کرے کہ اس کا اپنا نقطۂ وجود یعنی وہ اصل حقیقت جس سے خود اس کی اپنی ذات عبارت ہے یا دوسرے لفظوں میں اس کا "انا" باری تعالیٰ کی طرف جو تمام وجودوں کا سر چشمہ یعنی وجود خالص ہے مائل ہو اور اس امر میں وہ پوری طرح کوشاں رہے۔ یہی لبِ لباب ہے توحید کا اور یہی مقصود ہے عشق سے۔ یعنی نسبتِ یاد داشت کے ذریعہ سے نسبت توحید اور نسبت عشق کی طرف، پھر وہاں سے کیفیت وجد۔ 

جب سالک تکمیل کی یہ منزل طے کرلے گا تو لامحالہ اس کے اندر "حقیقتِ وجد" بروئے کار آئے گی۔ کیونکہ یہ لازمی نتیجہ ہوتا ہے اس نسبت کا۔ الغرض جن طرق تصوف کے متعلق ہم نے ابتدائے کلام میں اشارہ کیا تھا یہاں ان کا بیان ختم ہوتا ہے۔ 

درسِ شرف نبود ز الواحِ ابجدی لوحِ جمالِ دوست مرا برابر است 

تصوف و طریقت کے مسائل تو اوپر بیان ہوچکے، اب ہم

(الف) ان چار اخلاق پر بحث کریں گے جن کی تکمیل و اشاعت ہی انبیاء کی بعثت کا اصل مقصود تھا اور اس کے بعد

(ب) بنی نوع انسان کی فطری استعدادوں کا ذکر ہوگا اور ہم بتائیں گے کہ کس استعداد والے کے لئے کون سا کام مناسب اور موزوں ہوتا ہے اور

(ج) قدرت کی طرف سے انسان کے اندر جو لطائف ودیعت کئے گئے ہیں ان پر گفتگو ہوگی۔ نیز

(د) اصحاب یمین کے مختلف طبقات کا ذکر ہوگا۔ اور

(ہ) خوارق عادت امور اور کرامات کیسے ظہور پذیر ہوتی ہیں، ان پر ہم بحث کریں گے۔ 

بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں تصوف و طریقت کے مسائل کو پوری طرح سمجھنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ اس لئے ہم یہاں ان کو مختصر طور پر بیان کررہے ہیں۔ اولیاء کے احوال و کوائف میں عام طور پر جو اختلاف پایا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو بہت زیادہ ریاضت کرتے ہیں بعض بہت کم۔ اور بعض سے کرامات ظاہر ہوتی ہیں اور دوسروں سے سرے سے کوئی کرامت ظاہر نہیں ہوتی۔ یہ چیزیں جاننے کے بعد سالک کو ان میں اور نیز اس طرح کے جو اور مسائل ہیں ان میں تشویش لاحق نہیں ہوگی۔ 

تو ابھی تک ہم نے نسبتوں کی بات چلائی تھی، اب اس کے بعد اخلاق کی چار بنیادی باتیں، ان کی ان شاء اللہ ہوگی۔

تو آج ان شاء اللہ ہمیں کم از کم اس بات کی اہمیت کا احساس ہوا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جو اللہ پاک نے اپنے فضل سے ہماری خانقاہ کے اندر یہ مختلف دروس شروع کرائے، تو اس کی کتنی افادیت ہے۔ یعنی اگر یہ چیزیں ہمیں نہ معلوم ہوتیں، تو یہ اپنے تجربہ سے تو ہم لوگ کرسکتے تھے؟ وہ تو بہت زیادہ ٹائم اس میں لگتا، یا پتا نہیں ہوتا بھی یا نہیں ہوتا۔ لیکن اب کم از کم ہمیں معلوم تو ہے ناں، راستہ تو کم از کم پتا چل رہا ہے ناں کہ کون سی چیز کیا ہے، اس کے بارے میں ہمیں معلومات تو ہیں ناں۔

تو گویا کہ ان بزرگوں کی تعلیمات کے ذریعہ سے ہم لوگوں کو کم از کم راستہ کا پتا چل جاتا ہے، باقی تو ہمت ہے، عمل اور ہمت ہے۔ تو اس کے لئے اگر کسی میں ہمت ہوگی، تو راستہ اپنے لئے بنا لیں گے، ہمت نہیں ہوگی تو نہیں ہو، لیکن کم از کم علمی لحاظ سے ان کو اس چیز کا پتا چل گیا کہ کم از کم کسی جگہ کنفیوز تو نہیں ہوگا ناں، پریشان تو نہیں ہوگا ناں کہ ایک چیز ایک ہے اور اس کو دوسری سمجھ رہا ہو۔ تو ان نسبتوں کی تشریح سے ان شاء اللہ ہمیں کچھ اندازہ ہورہا ہے کہ ہمیں کس رخ سے کام کرنا چاہئے، کس طرح کام کرنا چاہئے، اور کس کے لئے کون سا راستہ زیادہ بہتر ہے۔ بزرگوں کی نَعُوْذُ بِاللہ مِنْ ذَالِکَ، ہم یہ نہ کریں کہ فلاں بزرگ یہ تھا، بعض فلاں بزرگ۔ ہمیں کس کے راستہ پہ جانا زیادہ بہتر ہے اور کس طریقہ سے۔

اب اللہ پاک نے مجھ میں جو استعداد ایک کی رکھی ہے، تو میں دوسرے کی طرف جاؤں گا تو وہاں میں ضائع ہوجاؤں گا، حالانکہ وہ بھی بہت اچھی بات ہوگی، اچھی چیز۔ لیکن اس کی استعداد مجھ میں ہے نہیں، مجھ میں کسی اور چیز کی ہے۔ تو اگر میں اس کو سمجھ جاؤں، تو میرا وقت بچ جائے گا، میں اس طرح نہیں کروں گا۔ تو یہی اصل میں بنیادی بات ہے کہ ہم لوگوں کو اس کا علم بھی ہونا چاہئے، اور سمجھ بھی ہونی چاہئے، پھر ہمت بھی ہونی چاہئے۔ تو علم و ہمت اور سمجھ، یہ انسان کو ما شاء اللہ ایک مؤثر نظام تک پہنچا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ 


وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ


صوفیاء کرام کے طبقات اور ان کی نسبتیں - ہمعات - دوسرا دور