نسبتِ توحید

(اشاعتِ اول) جمعرات،7 نومبر، 2019 کا دوسرا اور آخری حصہ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

یہ بیان وجود کے مراتب کی وضاحت کرتا ہے، جس میں کائنات کے ماخذ نفسِ کلیہ (وجودِ منبسط) کو ظاہر الوجود کا مرتبہ قرار دیا گیا ہے، جسے بعض لوگ غلطی سے ذاتِ الٰہی سمجھ بیٹھے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اس کی پرزور تردید کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ذاتِ حق نفسِ کلیہ سے سو گنا زیادہ منزہ اور ماورا ہے، اور ان دونوں کے درمیان تعلق ابداع (عدم سے ایجاد) کا ہے نہ کہ خلق کا، جس کی حقیقت (انیت) معلوم مگر کیفیت (کیفیہ) عقلِ انسانی کے احاطہ سے باہر ہے۔ مزید برآں، یہ بحث توحید کے دو درجوں توحیدِ علمی (علم و فکر پر مبنی) اور توحیدِ حالی (وجودی نقطۂ بیداری پر مبنی) کا فرق بیان کرتی ہے، جہاں توحیدِ علمی کو نقصانات کا سبب ٹھہرایا گیا ہے، جبکہ توحیدِ حالی کو ولایت و کمال کی جڑ قرار دیا گیا ہے، اور کاملین کے لیے نفسِ کلیہ اور ذاتِ باری دونوں کا بیک وقت مشاہدہ (نظرِ شامل) لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نسبتِ توحید - ہمعات - دوسرا دور