فیضِ وہبی: علمِ انبیاء و مشائخ کا سرچشمہ اور آدابِ طلب
دفتر اول حکایت نمبر 11، منظوم اردو مثنوی شریف: 4 جون 2024 کے بیان کا دوسرا اور آخری حصہ ری براڈکاسٹ کیا گیا
حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مثنوی شریف کے اشعار کی شرح کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا کہ انبیاء اور مشائخ کو حاصل ہونے والا علم درحقیقت "علمِ وہبی" (الٰہی عطیہ) ہوتا ہے، جو کسبی علوم (کتابوں کے مطالعہ سے حاصل شدہ علم) سے کہیں زیادہ وسیع اور دائمی ہوتا ہے، جس کی واضح دلیل حضرت نوح علیہ السلام کا نو سو سال تک ہر روز نیا وعظ فرمانا ہے۔ آپ نے اس امر پر زور دیا کہ یہ علوم قلب کے انکشافات (مکاشفات) اور روح کی کشادگی سے جاری ہوتے ہیں، اور اس فیضِ وہبی کو حاصل کرنے کی بنیادی شرط صرف اور صرف ادب اور سچی طلب ہے۔ شیخ نے خبردار کیا کہ یہ روحانی راستہ قِیل و قال (بحث و مباحثہ) کو قبول نہیں کرتا، کیونکہ یہ حال (روحانی کیفیت) بڑا نازک مہمان ہوتا ہے اور ذرا سی ناقدری یا بے ادبی سے روٹھ کر واپس ہو جاتا ہے؛ لہٰذا، طالبِ صادق کو چاہیے کہ وہ اپنے شیخ کے سامنے مکمل عاجزی اور خلوص کے ساتھ اپنی جھولی پھیلائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری ہونے والا علم اس کے نصیب میں آ سکے۔