نماز کی حقیقت

جلد نمبر 5، باب: عبادات (نماز)- (اصل درس) جمعرات،16 جولائی، 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

نماز کی حقیقت

نماز کے لئے اصل عربی لفظ ”صلوٰۃ“ ہے۔ صلوٰۃ کے معنی عربی اور عبرانی زبانوں میں ”دعا“ کے ہیں اس لئے نماز کی لفظی حقیقت خدا سے درخواست اور التجا ہے۔

تشریح:

﴿وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِؕ1 صبر کے ذریعہ اور نماز کے ذریعہ سے اللہ پاک سے مدد مانگو۔ تو مانگنا کیا ہوتا ہے؟ دعا ہے نا۔

متن:

اور اس کی معنوی حقیقت بھی یہی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی نماز کی یہی تشریح فرمائی ہے۔ معاویہ بن حکم سلمی ایک نو مسلم صحابی تھے، ان کو اسلام کے جو آداب بتائے گئے ان میں ایک چیز یہ بھی تھی کہ جب کبھی کسی مسلمان کو چھینک آئے اور وہ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ“ کہے تو اس کے جواب میں تم ”یَرْحَمُکَ اللہُ“ کہو۔ اتفاق سے ایک دفعہ نماز باجماعت ہورہی تھی، معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس میں شریک تھے۔ ان کے پاس کسی مسلمان کو چھینک آئی، انہوں نے نماز کی حالت میں ”یَرْحَمُکَ اللہُ“ کہہ دیا۔ صحابہ نے ان کو گھورنا شروع کیا۔ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز ہی میں کہا: ”تم سب مجھے کیوں گھور رہے ہو؟“ صحابہ نے زانو پر ہاتھ مارے اور ”سُبْحَانَ اللہ“ کہا۔ اب وہ سمجھے کہ بولنے سے منع کیا جا رہا ہے۔ نماز ہوچکی تو آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ نماز میں کون باتیں کر رہا تھا؟ لوگوں نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ ﷺ نے ان کو پاس بلا کر نہایت نرمی سے سمجھایا کہ ”نماز قرآن پڑھنے اور اللہ کو یاد کرنے اور اس کی پاکی اور بڑائی بیان کرنے کا نام ہے۔ اس میں انسان کو باتیں کرنا مناسب نہیں“ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا: ”اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ“2 دعا عبادت کا مغز ہے اور حضرت نعمان بن بشیر انصاری روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اَلدُّعَاءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ“3 دعا ہی عبادت ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ کہہ کر کہ تمھارا پروردگار فرماتا ہے، اس تفسیر کی تائید میں یہ آیت پڑھی۔ جس میں دعا ہی کا نام عبادت بتایا گیا ہے۔

﴿ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ4

”مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہں وہ عنقریب جہنم میں جائیں گے۔“

مستدرک حاکم (کتاب الدعاء) میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”بہترین عبادت دعا ہے“۔ اس کے بعد آیت مذکور تلاوت فرمائی۔ قرآن پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ کے ضمن میں نماز کی حقیقت صرف ایک لفظ میں ظاہر کی گئی ہے یعنی خدا کی یاد، فرمایا:

﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ5

”اور میری یاد کے لئے نماز کھڑی کر“


کامیابی اسی کے لئے ہے جو خدا کو یاد کرکے نماز ادا کرتا ہے۔

﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۝ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى6

”کامیاب وہ ہوا جس نے پاکی حاصل کی اور خدا کا نام یاد کیا، پس نماز پڑھی“

انسان کو اپنی روحانی تڑپ، دلی بے چینی، قلبی اضطراب اور ذہنی شورش کے عالم میں جب دنیا اور دنیا کی ہر چیز فانی، عقل کی ہر تدبیر درماندہ، جسم کی ہر قوت عاجز اور سلامتی کا ہر راستہ بند نظر آتا ہے تو سکون و اطمینان کی راحت اس کو صرف اسی ایک قادرِ مطلق کی پکار دعا اور التجا میں ملتی ہے۔ وحی الہٰی نے اس نکتہ کو ان الفاظ میں ادا کیا:

﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ7

”ہاں! خدا ہی کی یاد سے دل تسکین پاتے ہیں۔“

یہی وجہ ہے کہ مصیبتوں کے ہجوم اور تکلیفوں کی شدت کے وقت ثبات قدم اور دعا ہی چارہ کار بنتے ہیں۔

﴿وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِؕ8

”ثابت قدمی اور نماز (یا دعا) کے ذریعہ سے اپنی مصیبتوں میں مدد چاہو۔“

زمین سے لے کر آسمان تک کائنات کا ذرہ ذرہ خدائے قادر و توانا کے سامنے سرنگوں ہے۔ آسمان زمین، چاند ستارے، دریا پہاڑ، جنگل جھاڑ، چرند پرند؛ سب اس کے آگے سربسجود ہیں اور اس کے مقرر کردہ احکام و قوانین کی بے چون و چرا اطاعت کررہے ہیں، یہی ان کی تسبیح و نماز ہے۔

﴿وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰـكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ9

”اور (دنیا میں) کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ اس (خدا) کی حمد کی تسبیح پڑھتی ہے البتہ تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔“

﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِؕ- وَكَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُؕ10

”کیا تو نہیں دیکھتا کہ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج، چاند، تارے، پہاڑ، درخت، جانور اور بہت سے آدمی اس کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے آدمیوں پر اس کا عذاب ثابت ہوچکا (یوں کہ وہ اس کو سجدہ نہیں کرتے تھے)

غور کرو! کائنات کا ذرہ ذرہ بلا استثناء خدا کے سامنے سرنگوں ہے۔ لیکن استثناء ہے تو صرف انسان میں کہ بہتیرے اس کو سجدہ کرتے ہیں اور بہتیرے اس سے روگرداں ہیں اسی لئے وہ عذاب کے مستحق ہوچکے۔ انسان کے علاوہ تمام تر مخلوقات بلا استثناء اطاعت گزار ہے کیونکہ وہ ذاتی ارادہ اور اختیار سے سرفراز نہیں، خدا کے حکم کے مطابق وہ ازل سے اپنے کام میں مصروف ہے اور قیامت تک مصروف رہے گی لیکن انسان ذاتی ارادہ و اختیار کا ایک ذرہ پا کر سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہے۔ اسلام کی نماز انہی سرکش اور باغی انسانوں کو دوسری مطیع و فرمانبردار مخلوقات کی طرح اطاعت و انقیاد اور بندگی و سرافگندگی کی دعوت دیتی ہے۔ جب دنیا کی تمام مخلوقات اپنی اپنی طرز اور اپنی اپنی بولیوں میں خدا کی حمد و ثنا اور تسبیح و تہلیل میں مصروف ہے تو انسان کیوں نہ اپنے خدا کی تقدیس کا ترانہ گا کر اپنی اطاعت کا ثبوت پیش کرے اور یہی نماز ہے۔


نماز کی روحانی غرض و غایت


نماز کی روحانی غرض و غایت یہ ہے کہ اس خالقِ کُل، رازقِ عالم، مالک الملک، منعمِ اعظم کی بے غایت بخششوں اور بے پایاں احسانوں کا شکر ہم اپنے دل اور زبان سے ادا کریں، تاکہ نفس و روح اور دل و دماغ پر اس کی عظمت و کبریائی اور اپنی عاجزی و بے چارگی کا نقش بیٹھ جائے، اس کی محبت کا نشہ رگ رگ میں سرایت کر جائے، اس کے حاضر و ناظر ہونے کا تصور ناقابلِ زوال یقین کی صورت میں اس طرح قائم ہو جائے کہ ہم اپنے ہر دلی ارادہ و نیت اور ہر جسمانی فعل و عمل کے وقت اس کی ہوشیار اور بیدار آنکھوں کو اپنی طرف اٹھا ہوا دیکھیں جس سے اپنے برے ارادوں پر شرمائیں اور ناپاک کاموں کو کرتے ہوئے جھجھکیں اور بلآخر ان سے بالکل باز آئیں۔

صحیحین کی ”کتاب الایمان“ میں ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ صحابہ کے مجمع میں تشریف فرما تھے، ایک شخص نے سائل کی صورت میں آکر ایمان، اسلام کی حقیقت دریافت کی۔ آپ ﷺ نے اس کی تشریح فرمائی، پھر پوچھا کہ یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پروردگار کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو کیونکہ اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح ایک اور شخص کو نماز کے آداب کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ نماز کی حالت میں کوئی شخص سامنے نہ تھوکے کیونکہ اس وقت وہ اپنے رب کے ساتھ راز و نیاز کی باتوں میں مصروف ہوتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات جب آپ اعتکاف میں بیٹھے تھے اور شاید لوگ الگ الگ تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے سر مبارک باہر نکال کر فرمایا: ”لوگو! نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس کو جاننا چاہئے کہ وہ کیا عرض معروض کر رہا ہے۔ نماز میں ایک دوسرے کی آواز کو مت دباؤ“۔ ان تعلیمات سے اندازہ ہوگا کہ نماز کی عادت سے ایک مخلص نمازی کے دل و دماغ پر کیسے نفسیاتی اثرات طاری ہو سکتے ہیں اور اس کے اخلاق و عادات پر کتنا گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لئے قرآن پاک میں اس نکتہ کی شرح اس طرح کی گئی۔

﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِؕ- وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ11

تشریح:

اس پر ایک واقعہ سنو! سچا واقعہ ہے، آج کل کے دور کا۔ ایک صاحب تھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق تھا، لیکن عیاشی میں پڑ گئے تھے اور عیاشی کے تقریبًا ہر قسم کے گناہوں میں ملوث تھے۔ اور بقول اس کے کہ کوئی گناہ ایسا نہیں تھا جو اس نے نہ کیا ہو۔

اب گناہ کیا ہے؟ یہ نفس کا غلام بننا ہے، شیطان کا گویا کہ ساتھی بننا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دور ہونا ہے۔ تو اس کا انسان کی روحانیت پر جو اثر پڑتا ہے، ابتدا میں وہ محسوس نہیں کرتا بلکہ آدمی سمجھتا ہے کہ میں اس سے زیادہ یہ کروں گا تو سکون مل جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ مزید زیادہ عیش کروں گا تو سکون مل جائے گا۔ جیسے AC میں بیٹھوں گا تو سکون مل جائے گا، بڑی اچھی گاڑی میں بیٹھوں گا تو سکون مل جائے گا، بہت اچھے گھر میں بیٹھوں گا تو سکون مل جائے گا، اس میں بہت بڑا garden ہوگا تو سکون مل جائے، میرے نوکر چاکر ہوں تو سکون مل جائے گا۔ یعنی یہ گویا کہ اس کے تصورات میں یہ چیز ہوتی ہے۔ لیکن وہ بے سکونی کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ۔ اب بے سکونی بذات خود ایک عذاب ہے لیکن اس بے سکونی کے ساتھ وقت کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز اس کا اضافہ ہوتا ہے اور وہ اضافہ مایوسی کا ہے۔ کہ جب اس کو نظر آتا ہے کہ میں دیکھو ہر قسم کا غلط کام کر رہا ہوں مطلب گویا کہ میں عیاشی کر رہا ہوں سب کچھ کر رہا ہوں اس کے باوجود مجھے سکون نہیں مل رہا تو مجھے کب ملے گا، مجھے کب ملے گا؟ یہ وہ ایسی چیز ہے جو کہ اس کو تباہی کے دہانےکی طرف لے جاتی ہے، جس کا end خودکشی ہے۔ اس کی ابتدا کھوکھلے قہقہے ہیں، بہت تیز drum music ہے، مار کٹائی ہے، لڑائی جھگڑے ہیں؛ یہ اس کی ابتدا ہے کیونکہ اس کا اندر کا جو باغی نفس ہے وہ جو ہے نا مطلب اب اس کی خواہشات پورا کرکے گویا کہ وہ سکون کی طرف جانا چاہتا ہے لیکن وہ جتنا اس طرف جا رہا ہے مزید بے سکونی کی طرف کیونکہ راستہ اس نے غلط منتخب کیا ہے، سکون والا راستہ ہے ہی نہیں۔

تو اس کے ساتھ بھی یہ ہوا کہ end میں خودکشی کے لئے تیار ہوگیا۔ کہ ظاہر ہے مطلب مجھے تو کسی حالت میں بھی سکون نہیں ملا تو بس مار دو اپنے آپ کو اور مارنے کا پروگرام بنایا خود اس کے اپنے بیان کردہ یہ بات ہے اور میری اس سے ملاقات بھی ہوچکی ہے۔ تو خودکشی کا طریقہ بھی بہت خطرناک ذہن میں رکھا۔ اور وہ یہ تھا کہ شراب میں میں جو خواب آور گولیاں ہیں ڈال دوں گا اور اس کو پی لوں گا۔ اللہ غفور رحیم ہے۔ یعنی یہ اس کو شیطان نے سمجھایا ہوا تھا کہ اللہ غفور رحیم ہے، بس ٹھیک ہے۔ پروگرام تو اس نے بنا لیا، اس کا چچا بہت بڑا عالم تھا، بہت بڑے بزرگ تھے تو اس نے کہا کہ چلو مارنا تو ہے اپنے آپ کو تو چلو آخری وقت میں ملاقات کر لو چچا سے۔ تو ملاقات کے لئے گئے ان کو کچھ اپنے احوال بتائے اور اپنا ارادہ بتایا۔ انہوں نے کچھ بھی نصیحت نہیں کی، انہوں نے کہا: جا جا، نماز پڑھو، اس طرح کہا: جا جا نماز پڑھو۔ اب اس نے کہا اچھا چچا میرا خیرخواہ ہے تو میں آج ان کی بات مان لیتا ہوں پھر کرلوں گا۔ تو جاکر نہائے صاف کپڑے پہنے، نماز کا وقت تو تھا نہیں تو ظاہر ہے اس نے پھر نفلی نماز پڑھنی تھی یا قضا پڑھنی ہوگی جو بھی ہو بہرحال وقت کی نماز تو اس وقت کی جو بھی نماز ہوگی تو وہ پڑھنی تھی۔

تو وہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوگیا نماز کے لئے اور بس سجدے کی دیر تھی کہ بس میں نے رونا شروع کر دیا، روتا رہا، روتا رہا، روتا رہا، خوب رویا۔ اور بس اللہ کی طرف سے رحمت کا فیصلہ ہوا تو جب اس نے نماز پوری کی تو بالکل بدل چکا تھا۔ خودکشی کا ارادہ ترک کیا، اپنے چچا کو فیصلہ سنایا، بہت خوش ہوئے۔ پھر اس نے نماز باقاعدگی کے ساتھ پڑھنی شروع کی، توبہ کرلی، مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے اور ایسی مثالی شخصیت بن گئے کہ ان کا یہ حال تھا کہ ایک تو لوگوں کے کام بہت آتے تھے۔ یعنی دفتر سے سودا لانا، یہ کرنا ان کے دوسرے ادھر ادھر کے کام، یہ بس اس میں لگے رہتے تھے عبادت میں۔ اور یہ ہے کہ ان کے سامنے کوئی غیبت نہیں کرسکتا تھا۔ اگر غیبت کوئی شروع کرلیتا تو خاموشی کے ساتھ، اس کو کچھ نہیں کہتا ادھر سے چل کے دوسری جگہ بیٹھ جاتے یعنی اس میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ یہ مطلب ان کی حالت تھی اور بڑی اچھی موت اللہ تعالیٰ نے نصیب فرما دی تہجد کے وقت۔ تو یہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا کرم اور اللہ تعالیٰ کا احسان، اللہ کا احسان تو بہت زیادہ ہے، بہت کرم ہے تو وہ نماز کے ذریعہ سے انسان حاصل کرسکتا ہے۔

﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ12

ہاں جی نماز کے ذریعے سے انسان۔۔۔۔ تو نماز میں بڑی روحانیت ہے اور یہ روحانیت ہر خاص و عام کو ملتی ہے۔ مطلب اس کے دروازے کسی پر بھی بند نہیں ہیں لیکن ہر ایک کو حسب استعداد کم و بیش ملتی ہے۔ جو زیادہ اللہ کے قریب ہو تو اس کو زیادہ ملتی ہے جو نسبتاً کم اللہ کے قریب ہوں تو کم ملتی ہے لیکن ملتی سب کو ہے۔

تو نماز ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہمیں اللہ پاک کے قریب کرتا ہے۔ ہمیں نفسانی جو اثرات ہیں ہمارے اوپر جو ہوچکے ہوتے ہیں ان اثرات کو دھوتا ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچاتا ہے۔ اس لئے جو ارشاد فرمایا نا حدیث شریف میں کہ جس کے گھر کے راستے میں پانچ نہریں ہوں اور ان پانچ نہروں سے وہ ہر نہر میں نہا کے آگے بڑھتا ہو تو گھر تک پہنچتے ہوئے کیا اس کے اوپر گند وغیرہ باقی رہا ہوگا؟ تو یہ نماز کے مطلب ظاہر ہے وہ نماز تطہیر ہے تطہیر کا نظام ہے۔



  1. ترجمہ: ”اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو“ (البقرۃ: 45)

    نوٹ! حاشیے میں موجود تمام آیات کا ترجمہ آسان ترجمہ قرآن از مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم سے لیا گیا ہے۔

  2. (ترمذی، حدیث نمبر: 3371)

  3. (ترمذی، حدیث نمبر: 2969) اس حدیث کی سند کمزور ہے۔

  4. (المومن: 60)

  5. (طہ: 14)

  6. (اعلیٰ: 14-15)

  7. (الرعد: 28)

  8. (البقرۃ: 46)

  9. (بنی اسرائیل: 44)

  10. (الحج: 18)

  11. (العنکبوت: 45)


نماز کی حقیقت - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور