وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ (تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو)

(اصل بیان) جمعہ،8 دسمبر ، 2023 کو ری براڈکاسٹ کیا گیا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد الکوثر - ریلوے جنرل ہسپتال، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ ﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ﴾ وَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ“۔ وَقَالَ اللهُ تَعَالىٰ: ﴿بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا، وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾ وَقَالَ اللهُ تَعَالىٰ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”اَلدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ“۔ صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


معزز خواتین و حضرات! آج کل جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں، اس کے لیے ہمارے مذہب میں، اسلام میں بہت زبردست رہنمائی موجود ہے۔ لیکن ہم سننے والے بن جائیں، سمجھنے والے بن جائیں، عمل کرنے والے بن جائیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:

” ایک وقت آئے گا کہ میری امت پہ دوسرے لوگ حملہ آور اس طرح ہوں گے جیسے دسترخوان بچھا دیا جائے اور کھانے کی دعوت دے دی جائے، اس طرح لوگ ایک دوسرے کو دعوت دیں گے تم پر حملہ کرنے کے لیے۔صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اس وقت ہم کم تعداد میں ہوں گے؟ فرمایا: نہیں، تم بہت زیادہ ہو گے۔ لیکن تمہارے دلوں کے اندر موت کا خوف آجائے گا، دنیا کی محبت آئے گی۔“

اور آج کل ہم یہی دیکھ رہے ہیں، ایسے ہی ہو رہا ہے۔ تو علاج بالضد ہوتا ہے۔ جب وجہ معلوم ہو جائے تو اس کے مطابق ہی علاج کرنا ہوتا ہے۔ تشخیص تو ہو گئی ہے چودہ سو سال پہلے، اب عمل کرنے کی دیر ہے۔

اس وقت لوگ ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں، تمہاری وجہ سے یہ ہو گیا، تمہاری وجہ سے یہ ہو گیا، تمہاری وجہ سے یہ ہو گیا، اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ میرا کیا قصور ہے۔ اس سے حل نکلے گا۔ دوسرے کا کیا قصور ہے، اس سے بحث و مباحثے کا سلسلہ کھلتا ہے۔ اپنے اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے۔ کہ ہم کس چیز میں پیچھے ہیں؟ یہی صحابہ کا طریقہ تھا۔ صحابہ کرام ایک جگہ کا محاصرہ کر چکے ہیں لیکن فتح میں کافی دیر لگ گئی۔ جو امیر تھے انہوں نے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ یہ صورتحال ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند اکابر صحابہ کو ساتھ بھیجا، چند، اور یہ فرمایا کہ لگتا ہے کہ تم لوگوں سے کوئی سنت چھوٹ رہی ہے۔ اس کا ذرا سوچو۔ صحابہ کرام سننے والے بھی تھے، ماننے والے بھی تھے۔ ﴿سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾ یہ ان کا وطیرہ تھا۔ امیر نے اپنے شوریٰ والے کو جمع کیا اور ان کے سامنے امیر المومنین کا خط رکھ دیا کہ امیر المومنین ویسے تو نہیں کہہ رہے، کوئی مسئلہ ہے۔ دیکھیں کون سی سنت چھوٹ رہی ہے۔ تو معلوم ہوا، ان کا خیال اس طرف گیا کہ مسواک کی سنت شاید مصروفیت کی وجہ سے رہ گئی ہے۔

تو پھر امیر نے حکم دیا کہ سب مسواک شروع کر لو۔ تو انہوں نے، ظاہر ہے جو درخت وغیرہ تھے، ٹہنیاں کاٹ کاٹ کے مسواک بنا دیے، تقسیم کر دیے، سب نے مسواک کرنا شروع کر لیا۔ کفار پہ بڑا رعب پڑ گیا کہ پتہ نہیں ان کا کیا ارادہ ہے۔ اس طریقے سے فتح ہو گیا۔

اب اصل بات کیا ہے؟ دو باتیں ہوتی ہیں جو لازمی ہیں ہر کام میں۔ ہر چیز کا اللہ پاک نے ایک سبب بنایا ہے۔ لہٰذا سبب سے اعراض کرنا، یہ بھی اللہ پاک کی نافرمانی ہے۔

﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾

مقابلے کے لیے گھوڑے تیار رکھو

اور

﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾

اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے

تو اللہ پر بھروسہ لازمی ہے۔ ہمارے ہاں یہ بات ہے کہ جب اسباب کی طرف لوگ نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ چھوڑ دیتے ہیں۔ سمجھتے ہیں بس ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ دیکھو نا، وہ صرف وہی آیت، وہی احادیث شریفہ یاد رکھتے ہیں جو کہ اسباب سے متعلق ہوتی ہیں۔ دوسری طرف دھیان نہیں دیتے۔ اور جو توکل کی بات کرتے ہیں، اسباب کو چھوڑ دیتے ہیں تو پھر وہ صرف وہی باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ مسواک کی بات میں نے کی، اس کو لیں گے۔ اور اصل جو اسباب ہیں، ان کی ناقدری کریں گے۔

دونوں باتیں لازمی ہیں، دونوں کو جمع کرنا لازمی ہے۔ اسباب حتی الوسع پورے کرنا، اس کی کوشش کرنا اور اگر نہ ہو، فکر نہ کرنا، اللہ کافی ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں موجود ہے کہ بارہا تھوڑی جماعت، بڑی جماعت کے اوپر غالب آ گئی۔ تو ہے، اس طرح ہوا ہے، ہو سکتا ہے، ہوتا رہے گا اگر اللہ پر بھروسہ ہو۔

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی!

بالکل ٹھیک ہے اگر آپ نے پوری کوشش کی ہے، تلوار و تفنگ تیار رکھنے کی، پھر بھی نہ ہوا تو پھر واقعی بے تیغ بھی لڑ رہا ہے، پھر تو صحیح ہے۔ لیکن اگر آپ نے کوشش ہی نہیں کی ہے، غفلت کی وجہ سے آرام سے بیٹھے ہیں، ارادہ ہی نہیں کیا، پھر اس غفلت کو کوئی اور نام نہ دیں۔ پھر ہمارا مسئلہ ہے۔ اس سے نقصان ہوگا۔

اس وقت جو صورتحال ہے، ہمارا ان دو انتہاؤں کی طرف رجحان ہے۔ درمیان کی کوشش بہت کم لوگ کر رہے ہیں۔ یہ جو فرمایا گیا

﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ﴾

اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو

تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ تو مومن ہونا ضروری ہے۔ ایمان کے اندر پھر ساری چیزیں شامل ہیں۔ یعنی دیکھیں، ایمان میں اللہ کا ایک ماننا، اللہ پاک کے سارے صفات کے ساتھ جیسا کہ مروی ہیں آپ ﷺ سے، اُس طرح ماننا، یہ ایمان میں شامل ہے۔ آپ ﷺ کو آخری نبی مان کر، آپ ﷺ کے طریقے کو آخری طریقہ سمجھ کر اس کے مطابق اللہ پاک کو راضی کرنا، یہ ایمان میں شامل ہے۔ ایمان سے باہر نہیں ہے۔

اگر کسی کا ایمان اس درجہ ہو جائے تو پھر اس کا عمل اس کے مطابق ہو جاتا ہے۔ "اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا" اگر صحیح طور پہ آ جائے تو "سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا" خود بخود ہو جائے گا۔ یہ بات ہے۔ تو شروع ہوتا ہے "اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا" سے۔

﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ﴾

اس وقت جو حالات ہیں، وہ بہت زیادہ دگرگوں ہیں، ہمارے اپنے شامتِ اعمال کی وجہ سے۔ بے حسی کا ایک میدان ہے اور ہم لوگ غافل ہیں۔ حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: اللہ کا قانون بڑا اٹل ہے اور ہم بہت غافل ہیں۔ اللہ کا قانون بہت اٹل ہے۔ اب دیکھیں نا، کوئی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ آگ جلاتی ہے، یہ بھی اللہ کا قانون ہے۔ لیکن اگر ہم اپنی کسی ذمہ داری کو چھوڑ دیں، اس کو پورا نہ کریں تو کیا اس کا اثر نہیں ہوگا؟ وہ بھی تو اللہ کا قانون ہے۔

دوسری بات عرض کرتا ہوں کہ ہر شخص ذمہ دار ہے۔

"ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ"

معمولی سے معمولی آدمی جو کچھ نہیں کر سکتا، وہ بھی ذمہ دار ہے اس کا جتنا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اتنے کا حساب ہوگا۔ اور جو بہت اعلیٰ اختیارات والا شخص ہے، اس سے اس کے حساب سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتا رہا ہے۔ تو ہمیں اپنا اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اپنی اپنی جگہ۔ یہ آپ حضرات نے سنا ہوگا حدیث شریف، کہ ایک عورت کی وجہ سے چار مرد جہنم جا سکتے ہیں۔ اس کا خاوند، اس کا باپ، اس کا بیٹا، اس کا بھائی۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ ذمہ دار ہے۔ وہ اس سے غافل نہیں ہو سکتا کہ میری بہن کیا کر رہی ہے، میری بیوی کیا کر رہی ہے، میری ماں کیا کر رہی ہے اور میری بیٹی کا، مطلب یہ سب کے بارے میں اس کو معلوم ہونا چاہیے۔

یہ ذمہ داری کا احساس بہت اہم ہے۔ اس مسئلے کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ اصل میں ہم لوگوں نے دین کو دین کے لحاظ سے شاید پڑھا ہی نہیں۔ صحیح بات کرتا ہوں، یہ کوئی مبالغے کی بات نہیں کر رہا۔ دین کے سمجھ کے لحاظ سے ہم نے دین کو پڑھا نہیں ہے۔ ہر ایک نے بس اپنے مزاج کے مطابق دین کو پڑھا ہے، اپنے مزاج کے مطابق، جس کا جو مزاج ہے، اس کے مطابق دین کو پڑھا ہے۔ حالانکہ دین ہمارا مزاج نہیں ہے، ہمارا مزاج دین کے مطابق ہونا چاہیے۔ یعنی مزاج تو کسی کا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پٹھان ہے اس کا اپنا مزاج ہے، پنجابی ہے اس کا اپنا مزاج ہے، انڈین کا ہے اس کا اپنا مزاج ہے، بلوچی ہے اس کا اپنا مزاج ہے، عرب کا اپنا مزاج ہے، عجم کا اپنا مزاج ہے۔ ٹھیک ہے، مسئلہ کوئی نہیں۔ جس مزاج پر کسی کو پیدا کیا گیا اس سے کوئی بحث نہیں۔ بحث اس سے ہے اگر اس کا مزاج دین کے ساتھ ٹکراتا ہے، اس وقت اس کو کیا کرنا چاہیے؟ مزاج کے مطابق چلنا چاہیے یا دین کے مطابق چلنا چاہیے؟ ہاں، بس یہی بات ہے۔ تو اپنے مزاج کو دین کا پابند کرنا، یہ ہے کام۔ یہ کرنا پڑے گا۔ اپنے مزاج کو دین کا پابند کرنا۔

اللہ اکبر!

اللہ نے جیسا پیدا کیا ہے وہ تیرا کام نہیں ہے۔ اللہ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کرنا ہمارا کام ہے۔ اب دیکھو کسی کے لیے کون سا کام مشکل ہوگا، کسی کے لیے کون سا کام مشکل ہوگا۔ مثلاً دین کے کچھ کام پٹھانوں کے لیے بہت آسان ہیں، کچھ کام ان کے لیے ممکن ہے مشکل ہیں۔ کچھ کام پنجابیوں کے لیے بہت آسان ہیں، کچھ کام ان کے لیے مشکل ہیں۔ اس میں اختلاف ہو سکتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں، مسئلہ نہیں۔ لیکن جو آسان ہے وہ تو خیر ہے ہی، وہ تو ایک Positive بات ہے۔ جو مشکل ہے اس پر ان کو اجر ملے گا۔ وہاں ان کو اجر زیادہ ملے گا۔ جو پٹھان کے لیے مشکل ہے، وہ جب کرے گا اس پر عمل دین پر تو اس وقت اس کا بڑا اجر اس وقت اس کو ملے گا۔ اور پنجابی کے لیے جو عمل مشکل ہے، تو اس وقت جب اس پر وہ عمل کرے گا تو اس کا بڑا اجر اس کو ملے گا۔ اب بتاؤ انصاف ہو گیا یا نہیں ہوا؟ کسی کے لیے کیا مشکل، کسی کے لیے کیا آسان۔ لیکن اللہ کا حکم ایک ہے، اللہ کا حکم سب کے لیے ایک ہے۔ وہ اس میں کوئی فرق نہیں ہے، عرب عجم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حکم سب کے لیے ایک ہے۔ ہاں البتہ کیفیات سب کی مختلف ہیں۔ اسی کے لیے تو تربیت کی ضرورت ہوتی ہے نا۔ تربیت یہی تو ہوتی ہے کہ اپنے مزاج کو شریعت کے ساتھ مطابق کرنا، یہی تربیت ہے۔ یعنی سب کو ایک چیز پر جمع کرنا جو شریعت ہے، اس پر جمع کرنا۔ تو پھر کام بنتا ہے۔

اب میں عرض کرتا ہوں کہ میں نے عرض کیا نا کہ اس کی جڑیں بڑی گہری ہیں۔ مثلاً: بہت سارے لوگ ہیں جو صرف عقیدے کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ توحید کا ہے، پیغمبر کو ہم آخری نبی مانتے ہیں، اور جو عقائد صحیحہ ہیں وہ ہم رکھتے ہیں، بس کافی ہے۔ ہے دنیا میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو صرف یہی کہتے ہیں۔ تو کیا یہ بات صحیح ہے؟ بھئی یہ بات صحیح ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ ہمارے ریاضی میں ایک Condition ہوتا تھا: Necessary اور Sufficient۔ یعنی ضروری اور کافی۔ کوئی چیز ضروری تو ہوتا ہے لیکن کافی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر دیکھو، میری ناک ہے لیکن آنکھیں نہیں ہیں۔ تو کیا خیال ہے؟ کافی ہے؟ ناک ضروری ہے یا نہیں ہے؟ لیکن کیا آنکھوں کے نہ ہونے سے کام بنے گا؟ اتنا نقصان ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ناک ضروری ہے لیکن پورے جسم کے لیے کافی نہیں ہے، بہت ساری اور چیزیں بھی چاہییں۔ دماغ بہت ضروری ہے، دل کی بھی اتنی اہمیت ہے۔ پھیپھڑے بھی ایسے ہی ضروری ہیں، Liver بھی ایسے ہی ضروری ہے۔ ہر چیز کی اپنی اپنی ضرورت ہے۔ آپ کسی ایک چیز کو ضروری قرار دے کر دوسروں کو صِفر سے ضرب نہیں دے سکتے۔ بس یہی مثال اس کی بھی ہے۔ تو عقائد ضروری ہیں، لازمی ہیں، ماننے پڑیں گے، بغیر اس کے کوئی عمل قبول نہیں ہوگا، یہ ساری باتیں اپنی جگہ۔ لیکن نماز نہیں پڑھو گے، اس کی سزا ملے گی۔ اور اگر نماز پڑھنے کو لازم نہیں سمجھو گے تو عقیدہ ہی خراب ہو گیا، کافر ہو گیا۔ اگر نماز پڑھنے کو لازم ہی نہیں سمجھا تو پھر کیا ہے؟ کافر ہو جائے گا۔ صرف یہ ہے کہ اگر نماز کو ضروری تو سمجھتا ہے، مطلب جو ہے نا عقیدتاً، لیکن کمزوری ہے، نہیں پڑھ رہا۔ تو نہ پڑھنے کی وجہ سے سزا ہوگی، الا ماشاءاللہ۔

اب جب یہ بات سمجھ میں آ گئی۔ نماز کے ساتھ روزہ ہے، زکوۃ ہے، حج ہے، یہ چاروں چیزیں فرض ہیں۔ اپنے اپنے Condition میں۔ نماز کے لیے Condition یہ ہے کہ اس کا وقت داخل ہو۔

﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾

آپ ظہر کی نماز عصر کے وقت میں نہیں پڑھ سکتے۔ عصر کی نماز مغرب کے وقت میں نہیں پڑھ سکتے۔ اس کے لیے اپنا وقت ہے۔ اس طرح نماز کے اور شرائط بھی ہیں۔ ان تمام شرائط کو ملحوظِ خاطر رکھنا پڑے گا، اس پر عمل کرنا پڑے گا۔ روزوں کے ساتھ بھی یہی بات ہے، رمضان شریف کے اپنے اصول ہیں، مسائل ہیں، زکوۃ کے بھی ہیں، حج کے بھی ہیں۔ ان تمام مسائل کو جاننا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا یہ ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اس لیے فرمایا:

”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ“

اتنا علم حاصل کرنا کہ یہ سارے کام ہم کر سکیں، یہ ہر شخص کے اوپر چاہے مرد ہے، چاہے عورت ہے، لازم ہے۔ فرض ہے۔

یہ تو عبادات کی بات ہو گئی۔ اب کچھ لوگ اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں، بس! ہم بڑے پکے مسلمان ہیں کیونکہ عقیدہ بھی ہمارا صحیح ہے، نماز بھی پڑھ رہے ہیں، روزہ بھی رکھ رہے ہیں، زکوۃ بھی دے رہے ہیں، حج بھی کر رہے ہیں۔ نہیں بھئی، ابھی کچھ اور باقی ہے۔ اور وہ ہے "معاملات"۔ معاملات، یہ ہمارا آپس میں جو لین دین ہوتا ہے، وہ "معاملات" کہلاتے ہیں۔ اس کے اپنے قوانین ہیں۔ ان قوانین کا خیال نہ رکھنا ان معاملات کو فاسد بنا سکتا ہے۔ خدانخواستہ اگر اس میں کوئی گڑبڑ ہو جائے اور کسی کا حق آپ کے ذمے آ جائے تو اس کا وہاں جواب دینا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے حدیث شریف میں آتا ہے، پوچھا آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے: مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے کہا: وہی جو ہم مفلس سمجھتے ہیں، یعنی جس کے پاس مال نہ ہو۔ فرمایا: اصل مفلس وہ ہے جو پہاڑوں جتنی نیکیاں لا چکے ہوں گے قیامت کے روز۔ لیکن کسی کا حق مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا نقصان کیا ہوگا۔ اس طرح وہ حقوق والے لوگ آ جائیں گے، وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے حقوق کو اس طرح پورا کروائیں گے کہ اس کی نیکیاں اٹھا اٹھا کے ان کو دینا شروع کر لیں گے، ان کے حق کے مطابق۔ حتیٰ کہ اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور ابھی لوگوں کے حقوق باقی ہوں گے۔ تو پھر لوگوں کے گناہ اٹھا اٹھا کر اس کے کھاتے میں ڈالے جائیں گے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے اتنی نیکیاں کمائی ہوں گی لیکن یہ دوسروں کے گناہوں کی پاداش میں جہنم چلا جائے گا۔ دوسروں کے گناہوں کی پاداش میں جہنم چلا جائے گا۔ اب دیکھیں یہ کیا چیز ہے؟

کمانا اور بات ہے، بچانا دوسری بات ہے۔ آپ بے شک کتنا کمائیں لیکن آپ بچائیں نہیں تو کیا فائدہ؟ تو لہٰذا معاملات کا درست رکھنا بہت ضروری ہے اور اس وقت تقریباً تقریباً، میں سمجھتا ہوں شاید 90 فیصد لوگ تو اس میں گڑبڑ کر رہے ہیں۔ اپنی تمام نیکیاں ضائع کر رہے ہیں۔ دو روپے کے فائدے کے لیے اپنا بڑا نقصان کر لیتے ہیں۔ یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔ لہٰذا اپنے معاملات کو درست رکھنا لازم ہے۔ تو معاملات کا علم بھی پھر ہونا چاہیے نا۔ معاملات کا علم بھی پھر ہونا چاہیے۔ اس لیے ایسے معاملات کا علم بھی فرضِ عین ہے۔ اس کا علم بھی حاصل کرنا اور شاید ہی آج کل اس کی تعلیم ہو رہی ہو، شاید ہی۔ جیسے میں نے عرض کیا 90 فیصد لوگوں کا، 90 فیصد لوگوں کا اس پر عمل نہیں، اندازہ ہے میرا۔ لیکن 95 فیصد لوگ اس کو پڑھا بھی نہیں رہے۔ اب بتاؤ نقصان کن کا ہو گیا؟ نقصان کن کا ہو گیا؟ ہاں، پڑھانا چاہیے۔ قرآن کا درس ضرور دو، حدیث کا درس ضرور دو، لیکن یہ بھی تو پڑھاؤ نا۔ یہ کون پڑھائے گا؟ اس کے پڑھانے کے لیے فرشتے آئیں گے؟ اگر اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے پوچھے پھر کیا جواب دو گے؟ یہ اس کے لیے بہت اہم ہے۔ ذمہ داری ہے۔

بہرحال یہ ہے کہ معاملات کا علم سیکھنا چاہیے، اس کو پڑھانا چاہیے، اس پر عمل کرنا چاہیے ورنہ ہمارے اعمال محفوظ نہیں ہیں۔ دو باتیں ہو گئیں۔

تیسری بات: ہماری آپس میں رہن سہن، معاشرت۔ سبحان اللہ! اتنی اچھی معاشرت اللہ پاک نے ہمیں دی ہے کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اتنی اچھی معاشرت۔ یہ آپ ان لوگوں سے پوچھے جو نئے نئے مسلمان ہوتے ہیں اور پھر اب اسلام کو Study کرتے ہیں، ان کو پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی معاشرت کیسی ہے۔ اسلام کے اندر جو معاشرت ہے اس میں سب کے حقوق مقرر ہیں، مقرر ہیں، پہلے سے طے شدہ ہیں۔ باپ کا حق، ماں کا حق، بیٹی کا حق، بیٹے کا حق، اچھا دوستوں کا حق، پڑوسی کا حق، استاد کا حق، شاگرد کا حق، سب چیزیں طے شدہ ہیں۔ اگر کوئی شخص ان حقوق کی پاسداری کرتا ہے، سبحان اللہ! یعنی اس کے لیے بھی دنیا جنت نظیر ہو جاتی ہے، دوسروں کے لیے بھی۔ اتنا پاک و صاف دین ہے۔ ماشاءاللہ!

ایک غالباً مشہور ادیب تھا، اشفاق صاحب پتہ نہیں، میں بھول گیا۔ تو وہ کافی لکھاری ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا لندن کے ایک پارک میں۔ تبلیغی جماعت، کچھ جوان مطلب آئے ہوئے تھے۔ وہ وہاں نماز پڑھ رہے تھے۔ تو جو لوگ، ظاہر ہے وہ ان کے لیے نئی چیز تھی۔ تو سب لوگ دیکھنے کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ کہتے ہیں لڑکیوں کا ایک گروہ آ گیا، وہ بھی کھڑی ہو گئیں، دیکھ رہی تھیں۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو ان میں سے ایک لڑکی آگے بڑھی، ان سے کہا یہ آپ لوگ کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا ہم عبادت کر رہے تھے، یہ کون سی عبادت ہے؟ انہوں نے نماز کا بتایا، کتنی دفعہ ہوتا ہے؟ اس نے یہ بتایا، ساری تفصیلات اس نے بتا دیے۔ ایک courtesy کے طور پر اس نے ہاتھ آگے کیا، یعنی رخصت چاہا کہ میں ہاتھ ملا کے آگے جاؤں۔ یہ ان کے ہاں اس طرح ہے ظاہر ہے۔ اس نے ہاتھ فوراً پیچھے کر دیا، یہ تو میری بیوی کا حق ہے، یہ کسی اور کو نہیں دے سکتا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ لڑکی گر گئی۔ جیسے shock مل جاتا ہے نا کسی کو، گر گئی، کہتے ہیں کتنی خوش قسمت ہے وہ عورت جو تیری بیوی ہے۔ کتنی خوش قسمت ہے وہ عورت جو تیری بیوی ہے۔ کہ یہ بات ہے ان کو، وہ جہنم میں جل رہے ہیں، آپ لوگ ان کو دیکھ دیکھ کر رشک کر رہے ہیں، خدا کی قسم وہ جہنم میں جل رہے ہیں۔ میں نے ان کو دیکھا ہے۔ کیا حال ہے ان کا!! میں خود جرمنی میں تھا۔ ایک اپارٹمنٹ میں نے لے لیا، ایک عرب ساتھی نے ڈھونڈ لیا۔ اس عرب ساتھی نے کہا اپارٹمنٹ تو اچھا ہے، زمین پر ہے، گراؤنڈ فلور پر ہے، لیکن یہ تیسرا اپارٹمنٹ ایک تو دوسرا تو وہ تھا، تیسرا کوئی عورت تھی۔ یہ شیطان عورت ہے، تمہیں تنگ کرے گی۔ میں نے کہا ان شاءاللہ تنگ نہیں کرے گی۔ اس نے کہا کیسے؟ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ خیر، چند دن تک تو ہماری، وہ اپنے وقت پہ آتی، میں اپنے وقت پہ جاتا، لہٰذا آپس میں آمنا سامنا ہی نہیں ہوتا تھا۔

مجھے ان کی اس Life کا بہت پہلے سے اندازہ ہے۔ خیر، وہ بالکل تنہا تھی، بچے ان کے چلے جاتے ہیں، اٹھارہ سال کے جب ہو جائیں پھر وہ ان کا کوئی وہ نہیں لیتے نام۔ شوہر علیحدہ، پتہ نہیں کیا کیا زندگی عجیب، وہ اکیلے رہتی تھی۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آپ ایک کیک بنا لیں۔ تو کیک بنا لیا۔ میں نے اپنی بیٹی، ساڑھے تین سال کی تھی اس وقت، میں نے اس کو کہا کہ تم جا کر گھنٹی مارو، اور جیسے وہ باہر آئے نا تو اس کو کہیں کہ Geschenk، Geschenk وہ تحفے کو کہتے ہیں۔ جیسے اس نے گھنٹی ماری، وہ باہر نکل آئی، بچی کو دیکھا، اس نے کیک پکڑا ہوا تھا۔ Geschenk۔ افوہ! وہ تو بالکل خوشی سے مست ہو گئی۔ اس کو اٹھا لیا، کہتے ہیں میں اس کو ضرور کھاتی لیکن میرا معدہ خراب ہے، سامنے ہمیں دیکھا، یہ آپ کی بچی ہے؟ ہاں، ہماری بچی ہے۔ یہ کیا مجھے کھیلنے کے لیے دے سکتے ہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں، بالکل ٹھیک ہے۔ اچھا لے کے، ان کے پاس جتنے کھلونے تھے سارے اس کو دے دیے اور پھر کبھی کبھی ہم سے وہ مانگتی تھی۔ اور پھر ایسی ہو گئی جیسے ہماری خادمہ ہو۔ مجھے وہ کہتا ہے یار تو نے کیا عجیب کام کر دیا! تیرے لیے تو بالکل مختلف، میں نے کہا مجھے پتہ ہے ان بیچاروں کی دکھتی رگ کیا ہے۔ Life ختم، Life style ختم، وہ تو بالکل ایک جانوروں کی زندگی میں رہ رہے ہیں۔ ان کی زندگی تو جانوروں کی ہے۔

﴿أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ﴾

ہم لوگوں کو اللہ نے بہت پیاری زندگی دی ہے، بہت پیاری۔ ہم صرف اپنے قوانین کو جان لیں، اپنی معاشرت کو جان لیں، اس کے مطابق رہنا سیکھ لیں پھر آپ دیکھیں کہ ہمیں یہ جنت نظیر زندگی ملتی ہے یا نہیں ملتی۔ بہت خوبصورت دین ہمیں دیا ہے: ماں کا اپنا حق، باپ کا حق، بیٹے کا اپنا حق، پڑوسی کا اپنا حق، حتیٰ کہ سیٹ پر ساتھ بیٹھے ہوئے بس میں جا رہے ہیں، اس کا اپنا حق ہے۔ ہر چیز پہلے سے طے شدہ ہے۔ الحمد للہ! اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید، سبحان اللہ! آپ کسی حکم پر عمل کرتے ہیں، سبحان اللہ! اللہ کی طرف سے دل میں ایک تسلی آتی ہے، اس کا ایک فائدہ آپ کو نظر آتا ہے، اس کا ایک فائدہ آپ کو نظر آتا ہے، محسوس ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تائید ہوتی ہے۔ بہرحال آپ ﷺ کے طریقے پر اگر ہم چلیں گے یعنی شریعت کے مطابق ہم زندگی گزاریں گے، اور صحیح عقائد رکھیں گے، عبادات صحیح طریقے سے کریں گے، معاملات صحیح طریقے سے کریں گے، معاشرت صحیح طریقے سے کریں گے اور ایک بات رہ گئی لیکن ٹائم ختم ہو گیا، پھر کبھی ان شاء اللہ ہو جائے گا، اخلاق! جو اس کی تکمیل ہے۔ ان چاروں چیزوں کی تکمیل، اخلاق۔ تو ان شاءاللہ پھر آپ دیکھیں کہ ہماری زندگی کیسی اچھی بنتی ہے۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں اپنی نفس کی خواہشوں کو پورا کرکے نفس کو مطمئن کرنا، امکان ہی نہیں ہے اس بات کا۔ اس بات کا امکان ہی نہیں کہ آپ نفس کی خواہشوں کو پورا کرکے نفس کو مطمئن کر سکیں، ناممکن ہے یہ۔ کیونکہ نفس ایک ایسی چیز ہے جتنی خواہش اس کے پورا کرو گے، اتنا ہی یہ مانگے گا، اتنا ہی زیادہ مانگے گا، اتنا ہی زیادہ مانگے گا۔ حتیٰ کہ اخیر میں بعض لوگ صرف اس وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں کہ ان کو کچھ اور نظر نہیں آتا۔ ایسے case کو perversion case کہتے ہیں۔ ہاں، perverted لوگ ہوتے ہیں وہ بیچارے۔ وہ نارمل لوگ نہیں ہوتے۔ وہ psycho بن جاتے ہیں۔ پھر ان کے معاملات عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی بعض لوگ آتے ہیں اور لٹریچر میں تو بہت زیادہ ہیں، میڈیکل Books میں بھی ان چیزوں کے بارے میں ہے۔ مقصد میرا یہ ہے کہ ہم لوگ نارمل زندگی اگر گزارنا چاہتے ہیں، satisfied زندگی اگر گزارنا چاہتے ہیں تو اپنے عقائد کو صحیح رکھیں، اپنی عبادات کو صحیح کرنا سیکھیں، اپنے معاملات کو ٹھیک کریں، اپنی معاشرت کو ٹھیک کریں، اپنے اخلاق کو درست کر لیں، پھر یہ ایمان والی بات مکمل ہو جائے گی،

﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ﴾

اس پر بات پوری ہو جائے گی۔ پھر اس کے بعد اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ایسی ہو جائے گی، وہ ایک سنت والی بات بھی سمجھ میں آ جائے گی نا، وہ جو ابھی حدیث شریف میں نے آپ کو سنایا تھا، وہ بھی بات سمجھ میں آ جائے گی۔ پھر آپ ما شاء اللہ پوری دنیا کو Lead کر سکیں گے، پوری دنیا آپ کے پیچھے چلے گی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے اندر یہ چیزیں تھیں، تو پوری دنیا کے ساتھ ٹکرایا۔ ہاں، دیکھو کیا ہوا پھر۔ اللہ تعالیٰ ان کے رستے بناتا رہا نا، چلتا رہا، تو مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوگ یہ دیکھیں کہ ہمیں کامیاب ہونا ہے، تو کیسے کامیاب ہونا ہے؟ کامیابی کا طریقہ اللہ پاک نے بتا دیا ہے:

﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ﴾

اللہ تعالیٰ مجھے بھی نصیب فرمائے، آپ کو بھی۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

اس موقع پر دعا کر لیں کہ اللہ پاک فلسطین کے مجاہدین کو فتح نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہت دکھ والی بات ہے، اس وقت عالمِ اسلام سے ان کے لیے کوئی سپورٹ نہیں مل رہا۔ اگر مل رہا ہے تو وہ ناکافی ہے۔ یہ ہمارا اپنا نقصان ہے، وہ بیچارے اپنا کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب کر لے اور اللہ جل شانہ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور اللہ ان کے دشمنوں کو تہس نہس کر دے اور برباد کر دے۔ آمین۔


وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ (تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو) - جمعہ بیان