الحمدللہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
معزز خواتین و حضرات!آج ہم انشاءاللہ یہاں پر، یعنی Glasgow میں، ڈالنے کا جو مصلیٰ ہے، اس میں حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی شریف کے درس کا اہتمام کر رہے ہیں۔ یہ درس ہمارے ہاں منگل کے دن ہوا کرتا ہے خانقاہ میں، اور ایک دفعہ الحمدللہ اختتام پذیر ہوا ہے، تقریباً پندرہ سال میں۔ اور پھر اس کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے۔
اس درس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا کیونکہ نئی جگہ ہے تاکہ یہاں کے حضرات کو بھی پتہ چلے۔ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت بڑے عالم گزرے ہیں، مفتی تھے اپنے وقت کے۔ اور نقل و عقل کے بہت بڑے امام سمجھے جاتے تھے۔ اس وقت یہی ہوتا تھا۔ لیکن اللہ پاک نے ان کو جس مقام کے لیے قبول فرما لیا، وہ یہ تھا کہ اللہ جل شانہ کے ساتھ جو محبت اور عشق کا تعلق ہے، اس کے فروغ کے لیے ان کو استعمال فرما دیا۔
تو اس وقت حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ ہوا کرتے تھے۔ یہ حضرت کمال رحمۃ اللہ علیہ ان کے مرید تھے اور بہت شرمیلے بھی تھے۔ تو اپنے شیخ سے کہا کہ حضرت لوگ اپنے احوال کو بہت اچھے طریقے سے بیان کر لیتے ہیں اپنے شیخ کے سامنے، مجھے تو بیان کرنے کا طریقہ نہیں آتا تھا۔ تو حضرت نے فرمایا: "اللہ پاک آپ کو ایسی زبان عطا فرمائیں گے کہ پوری دنیا میں تمہاری بات پہنچ جائے گی۔"
اب دیکھیں خدا کی شان! ایک ایسے شخص کو زبان دی جا رہی ہے جس کا... مطلب یہ ہے کہ خود اس کو یہ احساس ہے کہ میرے پاس یہ نہیں ہے۔ خیر، اس وقت تو ان کو ظاہر ہے سمجھ نہیں آئی۔
تو شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ، ان کے اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالا کہ اس عالم، نوجوان عالم (نوجوان تھے اس وقت)... مطلب ان کی، اس لائن کی تربیت کی جائے۔ اور یہ تربیت کا ایک مختلف طریقہ ہے، عام طریقہ نہیں ہے۔ عام طریقہ تو یہ ہے کہ مرشد کے پاس لوگ جاتے ہیں تلاش کر کے اور پھر وہ جو بتاتے ہیں، اس کے مطابق کام کرتے ہیں، یہی عام طریقہ ہے اور اس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ منتخب لوگ ہوتے ہیں نا، ان کے لیے اللہ پاک راستے خود چنتے ہیں۔ یہ وہ محبوبیت والا راستہ ہے۔ جو کہ مطلب یہ کہ normal procedure نہیں ہوتا۔
یہ بھی normal procedure والی بات نہیں تھی۔ یہ بیٹھے ہوئے تھے حضرت، ایک جگہ، اپنے مطالعے میں اور لکھنے میں... ظاہر ہے لکھ رہے تھے کتابوں کے۔ حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کا ادھر آنا ہوا، اور ان سے پوچھا: "مولوی! یہ کیا ہے؟" اس انداز میں یعنی پوچھا۔حضرت بھی اپنے فن کے بڑے تھے، تو لہٰذا بڑی طمطراق سے جواب دے دیا: "یہ قال ہے جسے تو نہیں جانتا۔"بات تو صحیح تھی۔ قال تو تھا اور وہ جانتے بھی نہیں تھے۔
تو حضرت نے ان کو ذرا ترچھی نگاہ سے دیکھا... میں نے کہا نا یہ normal procedure نہیں ہے۔ تو حضرت نے ان کو ترچھی نگاہ سے دیکھا، تو اس میں آگ لگ گئی، ان کتابوں میں، اور اس کاغذ کے اوراق میں آگ لگ گئی۔ تو حضرت ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے، مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ۔ تو حضرت جو ہے نا... مطلب حضرت ڈر گئے۔
تو اس... پھر حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ آئے، ان کتابوں کو جو آگ میں جل رہی تھیں، ان کو ندی میں پھینک دیا۔ اس پر مولانا روم غصے بھی ہوئے اور رونے لگ گئے کہ: "تو نے میری عمر بھر کی کمائی کو ڈبو دیا! یہ کیا کر دیا؟" اس نے کہا: "اچھا؟ تمہارا علم بس اتنا ہی تھا؟ اتنے ہی پر فخر تھا آپ کا؟ تو چلو، بچا لیتے ہیں۔"
نیچے ندی میں اتر گئے، اور کتابوں کو اٹھا کر... اب ندی سے نکال رہے ہیں پانی میں سے، تو پانی میں کتاب جو ہوتا ہے وہ تو ڈوب... ڈوب جاتا ہے تو وہ تو گیلا ہوتا ہے۔ بجائے گیلے ہونے کے، اس سے گرد جھاڑ کر ان کو دے رہے ہیں۔ جیسے الماری سے نکال کے کوئی کتاب مطلب... وہ گرد جھاڑ کے ان کو دے رہے ہیں۔
اب مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ حیران ہیں کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: "یہ کیا ہے؟"انہوں نے کہا: "یہ حال ہے جسے تو نہیں جانتا۔"جواب... دیکھیں نا، مطلب دے دیا۔حیرت کی بات تو تھی، حیران و پریشان... حضرت نے معذرت کی، کہا جی "میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔"
حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کو لوگ 'پرندہ' کہتے تھے کیونکہ ان کا پتہ نہیں چلتا تھا کہ کدھر ہیں۔ اج Glasgow میں ہیں، تو دوسرے دن اس میں... Bolton میں، تیسرے دن دیکھا کہ Birmingham میں ہیں۔ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کہاں ہیں۔ تو ظاہر ہے بس گم ہو گئے۔ گم ہو گئے تو تلاش میں تھے حضرت، کہ یہ کیا بات ہے، کون تھے یہ؟ لیکن بہرحال، کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔
ایک دن کسی سفر پہ جا رہے تھے، حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ۔ اب ظاہر ہے، بہت بڑے عالم تھے، لوگ رخصت کر رہے تھے۔ گھوڑے پہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور شان سے مطلب... ظاہر ہے وہ سفر کر رہے ہیں۔ اتنے میں حضرت لوگوں کے درمیان سے نکل کر آئے، اور ان کی باگ پکڑی، اور کہا: "مولوی! جانے سے پہلے ایک سوال کا جواب دو۔"انہوں نے کہا: "کیا جواب... سوال، کیا سوال ہے؟"انہوں نے کہا کہ: "ایک شخص کہتا ہے سُبْحَانِي مَا أَعْظَمَ شَأْنِي، میں پاک ہوں اور میری ذات کتنی اونچی ہے، میری شان کتنی اونچی ہے۔ ایک تو یہ کہہ رہا ہے۔ اور دوسرا کہتا ہے: یا الٰہی! میں نے تیری ثناء کا حق ادا نہیں کیا۔ کون بڑے ہیں؟"
اب یہ دونوں قول... جیسے پہلا قول، سبحان... بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جو ولی اللہ ہیں۔ اور دوسرا قول حضور ﷺ کا ہے۔ تو حضور ﷺ تو... ظاہر ہے مطلب، آپ ﷺ۔ تو عالم تھے اور جانتے تھے۔ انہوں نے کہا یہ دوسرا قول۔
فرمایا: "کیوں؟"پہلے قول میں تو شان بیان کی جا رہی ہے، دوسرے قول میں عاجزی ہے۔ تو یہ کیوں؟فرمایا: "پہلے کا ظرف چھوٹا تھا، تھوڑے میں چھلک گیا، اور دوسرے کا ظرف بڑا تھا، اس کو کچھ بھی نہیں ہوا، وہ اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھ رہا تھا۔"
اور بس، اتنا سننا تھا کہ حضرت نے باگ چھوڑی اور لوگوں کے درمیان گم ہو گئے۔ اب حضرت تو تڑپ گئے کیونکہ یہ سوال یہ جواب ان کے پوری شان کو کچوکا لگانے والا تھا۔ کیونکہ ان کو بتایا جا رہا تھا کہ تو جو اپنے آپ کو بڑا سمجھ رہا ہے تو تیری حالت کیا ہے؟ جو بڑے ہوتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ تو عاجزی کرتے ہیں۔ یہ مطلب گویا کہ ان کو کچوکا لگانے والی بات تھی۔
بہت تلاش کیا، لیکن کہاں ملتے تھے؟ تو ایک دن کسی نے کہا کہ فلاں جگہ پر اس طرح آدمی نظر آیا ہے۔ تو جلدی جلدی ان کے پاس چلے گئے، دیکھا تو واقعی وہی تھے۔ تو ان کے پاؤں پہ گر گئے، کہتے ہیں: "حضرت مجھے اپنی فرزندی میں قبول فرما لیں۔"فرمایا: "جا جا! میرے ساتھ تو رہ ہی نہیں سکتا۔ میں رند آدمی ہوں اور تو مولوی ہے، مفتی ہے۔ کہاں مفتی، کہاں رند؟ یہ دونوں کا ملآپ نہیں ہو سکتا، جا اپنا کام کرو۔" اب وہ جتنا یہ مطلب اظہار کریں کہ محبت کا، اتنا وہ دھتکاریں۔
اس پر جو ہے نا... حضرت نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے۔"انہوں نے کہا کہ: "حضرت مجھے آزما لیجئے، میں انشاءاللہ آپ کے ساتھ ہی رہوں گا۔" وہی حضرت خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام والی جو واقعہ ہے نا، کہ میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا: "جی حضرت مجھے آزما لیجئے، میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔"انہوں نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے۔ پھر میرے لیے شراب لے آئیے۔"اب یہ مزید... مفتی اعظم، اور کسی کے لیے شراب لائیے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن انہوں نے کہا، چلو وعدہ کیا ہے اور ممکن ہے ضرور اس میں کوئی حکمت ہو، تو ذرا معلوم ہو جائے کہ آخر یہ کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ دو واقعے تو دیکھ چکے تھے نا۔ تو وہ جو ہے نا، مطلب یہ ہے کہ چلے گئے۔
تو کسی شراب خانے سے چادر اوڑھ کے، بوتل اپنے بغل میں دبا کے، چپکے سے آ رہے ہیں، جس علاقے میں جاؤ لوگ اس کو نہیں جانتے۔ اور چونکہ نظام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھا، تو بس وہ ٹھوکر لگی۔ ٹھوکر لگی تو بوتل نیچے گر گئی۔ اب لوگوں نے دیکھ لیا، کہتے ہیں: "اچھا، یہ مولوی شراب پیتا ہے؟" اب یہ یہ جو ہے نا مطلب ہے کہ اگے اور لوگ پیچھے، جوان تو تھے۔ دوڑتے دوڑتے، دوڑتے، جنگل کی راہ لے لی۔ اب جنگل میں بھی کافی دور تک گئے تو اطمینان ہو گیا کہ اب لوگ میرے پیچھے نہیں پہنچ سکتے، تو ذرا پھر ارام سے چلنا شروع کر لیا۔
تو دیکھا کہ سامنے سے حضرت آ رہے ہیں۔ فرمایا: "آؤ بیٹا! اب تو کہیں نہیں جا سکتا۔ یہ سارا نظام اسی لیے تھا کہ تو کہیں پھر واپس نہ چلا جائے۔ اب تو میرے ساتھ ہی رہے گا۔" پھر ان کو اپنے ساتھ کر دیا، دو سال کے اندر جو کچھ دینا تھا، وہ دے دیا۔ یہ اصل میں یہ ساری بات تھی۔
تو ان کو اللہ پاک نے چن لیا تھا اس مقصد کے لیے۔ اب یہ جو مثنوی شریف ہے، اس کے بارے میں ایک بہت بڑے عالم، صوفی تو تھے ہی، عالم تھے بہت بڑے، حضرت مولانا عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ۔ بہت بڑے عالم گزرے ہیں ہرات میں۔ بہت بڑا مدرسہ تھا حضرت کا۔ حضرت نے فرمایا:"مثنوی مولوی معنویہست قرآن در زبان پہلوی"
جو مثنوی مولانا روم ہے، یعنی یہ جو ہم ابھی پڑھ رہے ہیں، فرمایا یہ تو فارسی میں قرآن پاک پڑھایا جا رہا ہے۔ اچھا، اس پر میں خود غور کرتا تھا، کہ حضرت نے اتنی بڑی بات کیوں کی؟ یہ تو بہت بڑی بات ہے کہ اس کو کیسے justify کیا جائے گا؟
تو میرے ذہن میں ایک بات آئی کہ اصل میں قرآن جو ہے شانِ نزول کے مطابق اترا ہے۔ پہلے ایک واقعہ ہوتا تھا، اس واقعے کے مطابق احکامات... احکامات آتے تھے۔ اچھا، اب وہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ تو جانتے ہیں کہ پہلے کیا کام ہونا... ہونا ہوگا، اس کے مطابق احکام بھیج دیتے تھے۔ وہ تو اللہ پاک کا کام ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔ لیکن مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کیا کہ انہوں نے حکایات بیان کیں۔ وہ حکایات بعض دفعہ فرضی حکایات ہوتی تھیں۔ یعنی اصلی حکایات ہوتی بھی نہیں تھیں۔ مثلاً طوطے کی کہانی ہے، گدھے کی کہانی ہے، کچھ اس طرح، وہ تو ظاہر ہے ایک فرضی کہانی ہوتی تھی۔ لیکن اس کہانی میں حضرت بہت اعلیٰ مضامین بیان فرما لیتے تھے، سمجھانے کے لیے۔
تو یہ ایک بات جو میں نے دیکھی، میں نے کہا شاید اس وجہ سے انہوں نے کہا ہے کہ انداز قرآن کا ہے، کہ جو حکایت ہے اس کے مطابق اعلیٰ مضامین بیان کیے جا رہے ہیں۔ یہ مطلب یہ وجہ ہے۔ تو بہرحال اب چونکہ ایک دفعہ یہ تو مکمل ہو چکا ہے، الحمدللہ۔ تو اب دوسری دفعہ چونکہ یہ شروع ہے، تو دوسری دفعہ شروع میں ہم نے یہ خیال کیا کہ ہم اس کا اردو منظوم ترجمہ بیان کریں، بجائے اس کے کہ فارسی زبان کا جو الفاظ ہوں، کیونکہ لوگوں کو فارسی نہیں اتی آج کل۔ تو اس وجہ سے اردو منظوم ترجمے کے ساتھ ہم آج کل اس کو پڑھ رہے ہیں اور پھر اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
تو آج دفترِ اول کی حکایت نمبر 27 ہے۔ اس قصے کی کہانی یہ ہے کہ ایک ظالم مطلب... بادشاہ تھے۔ وہ بادشاہ جو تھا وہ عیسائیوں کو قتل کرتا تھا۔ تو وہ قتل کرتا تھا، بہت بے تحاشا۔تو اس کے وزیر نے کہا کہ: "آپ جو اس طرح قتل کرتے ہیں، تو آپ کے اوپر ظالم کا دھبہ لگتا ہے۔ تو اس طرح نہ کریں، میں کوئی طریقہ ایسے چلاتا ہوں جس سے یہ خود مطلب جو ہے نا ختم ہو جائیں گے۔"اس نے کہا: "وہ کیسے؟"اس نے کہا: "میرا ناک کان آپ کاٹ دیں اور پھر مجھے ملک بدر کر دیں۔ مطلب وہ جو ہے نا... تو میں جو ہے نا مطلب گویا کہ اس طرح شو کر لوں گا کہ میں عیسائی ہوں، اور تم میرے خلاف ہو، تو تم نے مجھے سزا دے دی ہے۔ تو میں وہاں جا کر جب یہ رہ پڑوں گا تو ان کا میں بڑا بن جاؤں گا، مطلب وہ مجھ پر اعتماد کر لیں گے۔ پھر میں اپنے طریقے سے ان کو ایک دوسرے کے خلاف کر لوں گا، اس طریقے سے مطلب یہ کام ہو جائے گا۔"
تو یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ وہ وزیر تھا بادشاہ کا۔ تو وزیر نے پھر یہ کیا کہ وہاں مطلب، آج جس وقت وہ ہے، تو چھ سال تک تو ادھر رہا۔ اور لوگ جو ہے نا اس کو دیکھتے تھے، پھر بعد میں انہوں نے دیکھا کہ بھئی یہ تو ہمارا بڑا وہ ہے، یعنی خیر خواہ ہے، تو لوگ ان کو بزرگ سمجھنے لگے۔ ان سے مطلب وہ... جو... تو پھر وہ جو ہے نا... مطلب بارہ امیر تھے، بارہ امیروں کو اس نے ایک ایک الگ الگ انجیل پڑھائی۔الگ الگ انجیل پڑھائی، اور ہر ایک کو کہا کہ تم میرے خلیفہ ہو گے میرے بعد۔
تو اس طریقے تک یہاں اس کو پہنچا دیا، تو پھر بعد میں اپنے طریقے کے مطابق، جو اس کی planning تھی، اس نے اپنے آپ کو disconnect کر دیا، خلوت میں چلے گئے، اور لوگوں سے ملتے نہیں تھے۔ تو لوگ جو ہے نا ان کو بہت منتیں... التجا کر رہے ہیں کہ: "آپ مہربانی کر کے باہر تشریف لائیے، آپ کی بڑی ضرورت ہے، اور ایسا ہے اور ایسا ہے۔" تو یہ سلسلہ ابھی شروع ہے۔ ابھی ہم یہاں سے اس کو شروع کر رہے ہیں۔
دفتر اول: حکایت: 27
وزیر کا اپنے مریدوں اور پیروکاروں کو دُور کرنا
1
بولے گفتگو کے خواہشمند ہواور زبان و کان کے پابند ہو
اب ان کو سمجھا رہے ہیں۔ یہ سارا ڈرامہ ہے، لیکن بہرحال یہ ہے کہ مطلب ہو تو یہی رہا ہے۔ (وزیر نے) کہا خبردار! اے (ظاہری) گفتگو کے پابندو! تم جو ظاہری طور پر گفتگو کرتے ہو اس کے پابند ہو (اور اس) وعظ و کلام کے متلاشیو! جو زبان (سے کہنے) اور کان (سے سننے) کا ہے۔
یعنی تم اپنا سارا زور اسی پہ نکالتے ہو، اور انہی کو سب کچھ سمجھتے ہو، حالانکہ یہ نہیں ہے۔ ظاہر کچھ ہے، باطن کچھ ہے۔"
2
ظاہری کان میں ذرا پنبہ رکھیںباطنی سے ظاہری جدا رکھیں
اس ناچیز (ظاہری) حس کے کان میں روئی دے لو۔ اپنی (باطنی) آنکھ سے (ظاہری) حس کی رکاوٹ دُور کر دو۔
یعنی تم جو ظاہر میں پھنسے ہوئے ہو اور اصل چیز یعنی جو باطنی ہے، اس سے کٹے ہوئے ہو... کیونکہ باطن روح ہے اور ظاہر جسم ہے۔ تو تم جسم میں پھنسے ہوئے ہو اور روح سے نالاں ہو۔ تو یہ جسم کو ذرا control کر دو اور پھر روح سے کام لو، اس کے ساتھ تعلق پیدا کرو۔ یہ اصل میں گویا کہ ان کو دھوکہ دے رہا ہے۔ لیکن بہرحال بزرگی کی شان میں دھوکہ دے رہا ہے کہ جیسے یہ کوئی بزرگ ہے۔
3
ظاہری کان جب تلک بہرہ نہ ہوتو فعال کان باطن کا آپ کا نہ ہو
یعنی ظاہری کان جب تک آپ کا بہرا نہ بنے، یعنی خبردار نہ رہے باز نہ رہے ان تمام environments سے، پھر کیا ہے آپ کا باطن کھل جائے گا
بات تو اس کی صحیح تھی۔ بات اس کی اس طرح صحیح ہے، بات عرض کرتا ہوں کہ جب انسان ظاہری چیزوں کو دیکھے گا... اب میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں: Social Media۔ اب social media یہ کان بھی ہے اور آنکھ بھی ہے آج کل۔ لوگ اس میں دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں اور لوگ اس میں سن بھی رہے ہوتے ہیں۔ اچھا، تو جو information social media سے آتی ہے، انسان اس سے اتنا متاثر ہوتا ہے کہ جو ان لوگوں نے social media کے جو لوگ ہیں انہوں نے جو سوچا ہوتا ہے، وہی ذہن لوگوں کا بنا لیتے ہیں۔ تو حقیقت سے تو disconnect کر لیتے ہیں نا۔ اصل چیز تو وہ نہیں ہوتی، وہ تو ان کی planning کے مطابق ہوتی ہے۔
تو اب اگر کسی کو بچانا ہو تو کیا کریں گے؟ social media سے disconnect کریں گے نا۔ کہ بھئی تھوڑا سا اس سے disconnect ہو جاؤ تاکہ تم پر حقیقت کھل جائے۔ خلوت میں چلے جاؤ، ان چیزوں کی طرف نہ دیکھو، پھر اللہ پاک سے رجوع کرو۔ جب اللہ پاک سے رجوع کرو گے، تو اللہ پاک تمہارے دل پہ صحیح بات ڈالے گا۔ لیکن پہلے ان چیزوں سے اپنے آپ کو disconnect تو کر لو۔ تو بات تو بالکل صحیح ہے، لیکن وہ تو اپنی planning کے مطابق چل رہا ہے، لیکن بہرحال بات بالکل صحیح کر رہا ہے۔وہ یہ ہے کہ: جب تک محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک رہے گا تب تک مدرکات ِباطنیہ کی طرف توجہ ناممکن ہے
اب ظاہری کیا ہے؟ نفس ہے۔ قلب ہے، عقل ہے۔ اس میں جب تک گند آئے گا، اس وقت تک اصلاح تو نہیں ہو سکتی نا۔ جب تک اصلاح نہیں ہوگی، آپ کو اصل چیز معلوم نہیں ہوگی۔ کیونکہ آپ کے اوپر خواہشات حاوی ہیں۔ خواہشات جب حاوی ہوں گے تو ظاہر ہے آپ اصل چیز کو نہیں پا سکیں گے۔ جیسے اللہ پاک فرماتے ہیں:كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ"ہرگز نہیں! بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو لیتے ہو اور جو بعد میں انے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔"
یہ انسان کی سرشت ہے۔ تو یہ مطلب ان کو بتاتے ہیں کہ جب تک محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک رہے گا تب تک مدرکات ِباطنیہ کی طرف توجہ ناممکن ہے۔
4
بے حس و بے گوش بے فکرت بنواِرْجِعِی کے اہل سماعت بنو
مطلب: یہ اشارہ ہے اس آیت کی طرف
﴿یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ﴾ (الفجر: 27-28)
یعنی اے جانِ مطمئن! اپنے پروردگار کی طرف خود خوش ہوتی اور اس کو خوش کرتی چلی جا
مراد یہ ہے کہ اگر حواسِ ظاہری کے شغل کو بند یا کم کر دو اور محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک نہ رکھو تو اپنے گوشِ باطن سے پروردگار کے بلانے کی آواز سن لو۔
مطلب یہ ہے کہ انسان جب تک اپنے نفسانی خواہشات میں منہمک رہتا ہے، تو روحانیت مغلوب ہوتی ہے۔ لہٰذا جیسے مثال کے طور پر پانچ لوگ ہیں، چھ لوگ ہیں، جو چیخ چیخ کر بول رہے ہیں، جھوٹ بول رہے ہیں۔ اور ایک ادمی آہستہ آہستہ سچ بول رہا ہے۔ تو اس کو سچ کا کیا پتہ چلے گا؟ وہ پانچوں جو جھوٹ ہیں ان کے اوپر غالب آ جائیں گے۔ تو جب تک ان پانچ جھوٹوں سے وہ اپنے آپ کو disconnect نہیں کرے گا، تو وہ ایک محسوس ہوگی؟ وہ ایک محسوس نہیں ہوگی۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ اس کی ایک سرشت یہ ہے کہ نفس کی جب مانو گے تو یہ مزید منواے گا۔
اور روح کی جب مانو گے تو روحانیت بڑھے گی۔یا اس کو حدیث شریف کے پیرائے میں اگر ہم سمجھنا چاہیں تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ: "جو شخص کوئی نیکی کرتا ہے، اس کا فوری اجر یہ ہے کہ دوسری نیکی آسان ہو جاتی ہے۔ اور گناہ جب کرتا ہے تو اس کی فوری سزا یہ ہوتی ہے کہ دوسرا گناہ اسان ہو جاتا ہے۔"لہٰذا اگر کوئی نفس کی خواہشات کو پورے کرتا ہے، تو نفس اس کے اوپر مزید غالب آ جائے گا، اس سے مزید غلطیاں کروائے گا۔ اور جب اللہ پاک کی بات مانے گا، تو اس کو اللہ پاک مزید نیکیوں کی توفیق دیتا رہے گا۔
تو یہ والی بات ہے کہ جب تک تم اپنی نفسانیت پر غالب نہیں آؤ گے، اس وقت تک روحانیت وہ مغلوب رہے گی۔
5
جب تلک ہو تم مگن بیداری میںکب ہو خواب کے دنیائے اسراری میں
مطلب یہ ہے کہ جب تک تم بیداری کے تمام چیزوں کو دیکھ رہے ہو، تو خواب میں اگر کوئی اچھی چیز تمہیں دکھائی جانی ہے، اس سے تم آگاہی نہیں حاصل کر سکتے۔
6
سیرِ بیرونی یہ بول و کام ہیںسیرِ باطن از بالائے بام ہیں
مطلب یہ جو سیر بیرونی جو ہے، مطلب یہ آپ بیرونی چیزوں سے جو اثر لے رہے ہیں، یہ تمہارا فعل اور قال ہے۔ یہ اس کا ہے۔ لیکن جو سیرِ باطن ہے وہ اوپر سے آ رہا ہے۔ وہ مطلب یہ ہے کہ اس کا اس سے تعلق کوئی نہیں، بلکہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مزید تشریح فرمائی ہے۔ کہ جب انسان سیر الی اللہ پورا کر لیتا ہے، یعنی قلب کو بھی صاف کر لیتا ہے، نفس کو بھی کنٹرول کر لیتا ہے، عقل کو بھی فہیم سنت کر لیتا ہے۔ تو پھر اللہ پاک دو راستے اور کھول دیتے ہیں۔
ہر شخص کے، ایک راستہ دل سے ملائے اعلیٰ تک جاتا ہے۔ اور دوسرا راستہ عقل سے، سر کے ذریعے ملائے اعلیٰ تک جاتا ہے۔یعنی پہلا قلب سے، روح کے ذریعے سے، اور دوسرا عقل سے سر کے ذریعے سے ملائے اعلیٰ تک۔ تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وارداتِ قلبی ملائے اعلیٰ سے ان پہ وارد ہوتے رہتے ہیں۔ اور جو سر ہے، اس سے فراستِ باطنی اس کو حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ فیصلہ جب کرتا ہے تو اس میں اس فراست کا اثر ہوتا ہے۔
یہ والی بات ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ سیرِ باطن از بالائے بام ہے۔مطلب: ہم ظاہری اور حسی حالات کی منازل طے کرنے کے لیے اعضاء و جوارح سے کام لیتے ہیں، جن کا میدانِ عمل یہ دنیا ہے۔ لیکن جس سیر و سفر کا کعبہ مقصودِ ذاتِ حق ہے، وہ ماورائے دنیا ہے اور اس کا تعلق ہمارے باطن سے ہے۔
7
حسِ خشکی خشکی سے پیدا ہوئیبحرِ عرفاں ہاں موسیٰ کی جا ہوئی
(ظاہری) حس نے خشکی (ہی خشکی) دیکھی ہے۔ کیونکہ وہ خشکی سے پیدا ہوئی ہے (مگر) موسائے جان نے پیدا ہوتے ہی دریائے (معرفت) میں پاؤں رکھا۔
مطلب: حواسِ ظاہر چونکہ اعضائے جسمانی کی قوتیں ہیں جو عناصر سے بنے ہیں۔ اس لیے وہ دنیا ہی کی سیر کر سکتے ہیں اور روح چونکہ عالمِ امر سے ہے۔ اس لیے وہ باطن کی سیر کرتی ہے۔ عالمِ دنیا کو خشکی سے اور باطن کو دریا سے تشبیہ دی ہے اور جانِ موسیٰ علیہ السلام کے استعارہ میں یہ مناسبت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہی دریا میں بہا دیے گئے تھے۔ فرماتے ہیں کہ حواس کی حسی سیر محدود اور موجبِ غفلت ہے اور روح کی باطنی سیر جس کا مقام عالمِ امر ہے۔ مایۂ بصیرت اور غیر محدود ہے۔
یعنی ہماری جو دنیا ہے نا، میں آپ کو کیا بتاؤں؟ اس کی کیا حیثیت ہے؟یعنی اگر کائنات میں اس کا دیکھا جائے نا وہ ایک clip آئی تھی، جس میں انہوں نے دیکھا کہ دنیا جتنا وہ اس سے rocket اوپر جاتا ہے، تو یہ دنیا مطلب چھوٹی ہوتی جاتی ہے، مزید بہت پہلے بہت بڑی ہوتی ہے، پھر چھوٹی، پھر چھوٹی، پھر چھوٹی، پھر ایک نقطہ... پھر وہ نقطہ بھی غائب ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ مطلب پورا جو مزید جو اس کے planets ہیں وہ بھی غائب، پھر اس کے بعد سورج اور پھر سورج بھی غائب اور پھر اس کے بعد اور دنیا... مطلب وہ آہستہ آہستہ مطلب وہ جتنا اوپر جاتا ہے تو اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔
تو یہ بات ہے کہ یہ جو مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ جو ظاہری چیز ہے، وہ ہمارے حواس پہ جو چھائی ہوئی ہے، یہ اصل میں پورے کائنات کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ اور ہم نے اس کو بہت کچھ سمجھا ہوا ہے۔ وہ علامہ اقبال نے بھی کہا تھا نا:قافلہ تھک کر فضائے پیچ و خم میں رہ گیامہر و ماہ و مشتری کو میں نہ سمجھاتا میں
مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو بہت پیچھے ہو جاتی ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ جس جو اتنی وسیع کائنات ہے، تو اس کے پیدا کرنے والے کی کیا بات ہوگی؟ اس کے حالات کے بارے میں کیا بات ہوگی؟ تو اس مطلب یہ ہے کہ جتنی نظر وسیع ہوتی جائے گی، تو اپنی کم مائیگی کا احساس بڑھتا جائے گا۔ اور اپنے حالات کا اعتراف انسان کو نصیب ہوگا۔
7
حسِ خشکی خشکی سے پیدا ہوئیبحرِ عرفاں ہاں موسیٰ کی جا ہوئی
(ظاہری) حس نے خشکی (ہی خشکی) دیکھی ہے۔ کیونکہ وہ خشکی سے پیدا ہوئی ہے (مگر) موسائے جان نے پیدا ہوتے ہی دریائے (معرفت) میں پاؤں رکھا۔
8
جسم خشک کی سیر خشکی پر ہی ہےسیرِ باطن بحر کے اوپر ہی ہے
جسمِ خشک (عنصری) کی سیر (عالمِ ظاہری کی) خشکی پر واقع ہوئی ہے (اور) روح کی سیر نے دریائے (باطن) کے وسط میں پاؤں رکھا ہے۔
مطلب: یعنی اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دریائے باطن میں پاؤں رکھے۔
اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دریائے باطن میں پاؤں رکھے۔
مطلب یہ ہے کہ وہ آگے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مگر پھر بھی جو روح دریائے باطن سے غیر مانوس ہے تو اس کے حرمان کی وجہ نیچے بیان فرماتے ہیں:
9
لذاتِ دنیا میں ہم چرتے رہےگاہ پہاڑ گاہ جنگل بھٹکتے رہے
مطلب جو لذتی دنیا ہے اس میں ہم چرتے رہے۔اب دیکھیں حدیث شریف میں آتا ہے۔ یہ لذاتِ دنیا میں ہم چرتے ہیں نا، وہ اس کا تو یعنی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، وہ تو خود بخود ہمارا ہے۔ مثلاً بازار جاتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ لوگوں سے ملتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ یہ موبائل کھولتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ مطلب ہماری ساری زندگی انہی چیزوں میں پڑی ہوئی ہے۔ تو آپ ﷺ نے اس کے توڑ کے لیے کیا فرمایا؟"جب تم جنت کی چراگاہوں میں پہنچو، تو اس میں خوب چرو۔"صحابہ کرام نے پوچھا: "جنت کی چراگاہیں کون سی ہیں؟"فرمایا: "ذکر کے حلقے۔"
ذکر کے حلقوں سے مراد کیا ہے؟ جہاں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔جب اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، تو ہمارا اصل مقصود تو وہی ہے۔ تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم تو اس کے لیے نہیں آئے تھے ان چیزوں کی لذتوں کے لیے۔ ہم تو ان لذتوں کے لیے نہیں آئے تھے۔
میں آپکو ایک واقعہ سناتا ہوں، بہت زبردست واقعہ۔حضرت شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کا۔ یہ شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ جو تھے، یہ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے تھے۔ اور شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ ہندوستان کے بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں، بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں۔
تو ان کے پوتے تھے، ظاہر ہے ان کے باپ بھی سجادہ نشین تھے اور شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ بھی سجادہ نشین تھے۔ لیکن شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کو پتہ چل گیا کہ وہ چیز ہمارے ہاں نہیں رہی جو ہمارے دادا کے وقت میں تھی۔ اس میں وہ چیز رہ گئی، مطلب کمی ہو گئی۔ تو اس کو کیسے حاصل کیا جائے؟ اللہ پاک نے اس کو سعادت بخشی، یہ کہ سوچ ان کو آ گئی۔ ورنہ لوگوں کو خیال نہیں آتا اس چیز کا۔
تو لوگوں سے پوچھا کہ ہمارے شیخ کا سب سے بڑا خلیفہ کون ہے؟ یعنی جن کا کام بہت پھیلا ہوا ہے اور کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا شیخ جلال رحمۃ اللہ علیہ۔ تو وہ شیخ جلال رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلے گئے۔
ان کو جب پتہ چلا کہ صاحبزادے صاحب آئے ہوئے ہیں تو وہ تو پورے جتنے لوگ ان کے تھے مریدین تھے سارا ان لاؤ لشکر کے ساتھ استقبال کے لیے آ گیا۔ کہ ہمارے صاحبزادے صاحب آئے ہوئے ہیں۔ اب پہنچ گئے، ان کا استقبال کیا، ان کی دعوتیں شروع ہو گئیں۔ کبھی ایک دعوت کر رہے ہیں، کبھی دوسرا دعوت کر رہا ہے، تین دن تک دعوتیں چل رہی تھیں۔
انہوں نے کہا: "حضرت میں تو ان دعوتوں کے لیے تو نہیں آیا تھا۔"اب یہاں سے اصل بات شروع ہوتی ہے۔"میں تو ان دعوتوں کے لیے نہیں آیا تھا۔" تو حضرت نے پوچھا: "کس چیز کے لیے آئے تھے؟" انہوں نے کہا: " آپ جو چیز لے آئے ہیں ہمارے دادا کی طرف سے، میں اس چیز کے لیے آیا ہوں۔"
تو انہوں نے پوچھا کہ: "اچھا واقعی آپ اسی کے لیے آئے ہیں؟"انہوں نے کہا: "ہاں۔"انہوں نے کہا: "پھر وہ اس لباس میں حاصل نہیں ہو سکتی جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔"انہوں نے کہا کہ: "ٹھیک ہے۔ یہ لباس ضروری نہیں ہے۔"انہوں نے خادموں کا لباس منگوایا۔ ان سے کہا یہ لباس پہنو۔ انہوں نے پہن لیا۔ انہوں نے جا کر حمام جو تھا نا اس میں پہنچا دیا، آگ جس میں ڈالی جاتی ہے۔ تو فرمایا کہ: "یہ لکڑی ہے، یہ آپ نے کاٹنی ہے۔ اور یہ اس میں آپ نے ڈالنی ہے۔ اس کو حمام کو گرم رکھنا ہے۔ بس آپ کا کام یہی ہے۔ اور آپ دن کے وقت تو یہی کریں گے، رات کو آپ آرام کریں گے، نماز اپنے وقت پہ پڑھیں گے، کھانا اپنے وقت پہ ملے گا، مجھ سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے، بس آپ کا یہی کام ہے۔"
تشکیل ہو گئی، بس وہ شروع ہو گیا۔ اب دیکھیں اصل میں ہوتا کیا ہے؟ اس واقعے میں بہت بڑی عبرتیں ہیں۔ تو اس پر حضرت تو تیار تھے اس کے لیے، شروع کر دیا۔جس طرح فرمایا اس طرح کرتا رہا، چھ مہینے گزر گئے۔ چھ مہینے کے بعد حضرت نے ایک بھنگن کو بلایا جو وہاں کام کرتی تھی کہ جا کر یہ جو گندگی کا ٹوکرا ہے، وہ اس کو اس طرح غیر محسوس انداز میں اس طرح گرانا ہے کہ کچھ حصہ ان کی طرف بھی آجائے۔ اور دیکھو کہ وہ کیا کرتا ہے۔" تو انہوں نے ایسے ہی کیا، تو انہوں نے اس کو گھور کے دیکھا اور کہا: "نہ ہوا گنگوہ، یعنی گنگوہ ہوتا تو میں تمہیں دیکھ لیتا کہ تو کس طرح کرتی ہے۔"
انہوں نے جا کر رپورٹ دے دی، کہا: "اچھا، ابھی سجادگی کا خو بو باقی ہے۔ خو بو باقی ہے۔تو خیر ایسا ہوا کہ پھر چلتے رہے، تقریبا چھ مہینے اور گزر گئے۔ پھر ان کو اس طرح، کہا کہ "کچھ اور قریب ان کے گرا دینا۔" (پھر) گرایا اس دفعہ انہوں نے گھور کے دیکھا لیکن کہا کچھ بھی نہیں۔ تو انہوں نے جا کے رپورٹ کی، کہتے ہیں: ماشاءاللہ ترقی ہوئی ہے۔
پھر اگلی دفعہ کچھ عرصہ اس طرح کرتے رہے، اور پھر آخر میں فرمایا کہ: "اس طرح کر لے کہ کچھ اس کے اوپر ہی پڑ جائے۔" اس دفعہ جب انہوں نے کیا، تو وہ بن گئے تھے، تو وہ افسوس کرنے لگے کہ: "میں غلط جگہ پہ بیٹھا ہوا تھا اور آپ کو تکلیف ہو گئی اور اس میں ہاتھ سے اس میں ڈالنے لگے اور یہ اور وہ چیزیں۔ اس پر وہ جو بھنگن گئی تو انہوں نے کہا: حضرت، وہ میاں تو بڑے تبدیل ہو گئے، اب تو اس طرح کہنے لگے۔ کہتے ہیں: "ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، بہت اچھا ہوا، بہت اچھا ہوا، چلو اب آخری طریقہ۔آخری طریقہ یہ ہوا کہ فرمایا جی: شکار کے لیے چلتے ہیں۔دو شکاری کتے تھے، ان کے حوالے کیے گئے۔ ان کو کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں ہے۔ کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں ہے۔ اب شکاری کتے تازہ، اور یہ کمزور۔ تو انہوں نے اپنے کمر کے ساتھ ان کو دونوں کو باندھ لیا، رسی ان کی باندھ لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس وقت شکاری کتوں نے شکار دیکھ لیا تو اچھل پڑے۔ اچھل پڑے تو بیچارے گر پڑے۔ اب ان کو کھینچ رہے ہیں، کبھی جھاڑیوں میں، کبھی پتھروں پہ، لہولہان ہوتے جا رہے ہیں۔ اتنے میں حضرت بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کو اونگھ آئی۔ اونگھ آئی تو حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اونگھ میں، گویا کہ خواب میں آئے، فرمایا: "میں نے تو تجھ سے اتنی محنت نہیں لی تھی، جتنی تو نے میرے پوتے سے لی ہے۔
تو ان کو فورا سمجھ میں آ گیا: اوہو، یہ تو اور ہو گیا معاملہ۔ تو خیر بہرحال وہ جاگ گئے، اور انہوں نے بندے دوڑا دیے کہ "جاؤ جاؤ بھئی! اس باؤلے کو پکڑ کے لے آؤ، کہاں پر گیا؟" تو دیکھا کہ جھاڑیوں میں پڑے ہوئے ہیں لیکن چہرہ ہشاش بشاش ہے، تکلیف کا کوئی احساس نہیں۔ بہت خوش ہے۔ بہت خوش ہے۔ تو اس پر پوچھا: بھئی کیا ہوا؟انہوں نے کہا: "تجلی ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجلی ہو گئی۔" تو اس تجلی کے شوق میں، انتظار میں تھے کہ پھر تجلی ہو جائے۔ پھر تجلی ہو جائے۔" تو اپنے سانس کو روکے رکھا، کہ میں تب سانس لوں گا جب دوبارہ تجلی ہوگی۔ ظاہر ہے وہ بڑی چیز ہوتی ہے۔
تو کچھ دیر تک تو نہیں ہوئی، لیکن جب ہو گئی، تو یکدم سانس جو کھلا تو اس سے تین پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ تو اوپر سے آواز آئی: "اپنے شیخ کو کہو کہ تمہیں چوزوں کا شوربہ پلائے۔" اور ایک دوائی آسمان سے آ گئی، وہ ان کے منہ میں ڈال دی گئی۔ تو اس طریقے سے حضرت نے ماشاءاللہ ان کا علاج پھر کیا۔ جب بالکل ٹھیک ہو گئے تو ان کو خلعت پہنائی، فرمایا: "تم خوش نصیب ہو کہ ہم جو نعمت تیرے گھر سے لائے تھے، وہ آپ اپنے گھر لے جا رہے ہیں۔"
یہ ہوتی ہے تربیت۔ اب لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں کیوں یہ کرتے ہیں۔ مجھے بتاؤ یہ چیز، یہ سجادگی کا جو خیال ہے، وہ کس طرح آسانی سے جا سکتا ہے کسی کے دماغ سے؟ نہیں جا سکتا۔ تو اس کو لے جانے کے لیے، کہ "میں کچھ ہوں"، وہ اس کو لے جانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ محنت اسی قسم کی ہوتی ہے۔
تو بہرحال یہ ہے کہ حضرت وہ بتاتے ہیں:
لذاتِ دنیا میں ہم چرتے رہےگاہ پہاڑ گاہ جنگل بھٹکتے رہے
چونکہ عمر (لذّاتِ دنیا کی) خشکی سے راستے میں کٹی۔ کبھی پہاڑ کبھی جنگل اور کبھی بیابان میں (بھٹکتے پھرتے رہے۔)
10
سیرِ باطن کا کہاں آبِ حیاتپائے گا کیونکر تو پھر باطن کی بات
(پھر) تو (سیرِ باطن کا) آبِ حیات کہاں پائے (اور) دریائے (باطن) کی موج کو کہاں چیرے۔
یہ تیرے ساتھ کیسے ہوگا؟"
11
خاکی موج ہے فہم و وہم و فکرِ ما موجِ آبی محو و سکر اور فنا
مطلب یہ ہے کہ جو خاکی ہے، جو خشکی والی بات ہے وہ ہماری سمجھ ہے، ہمارا وہم ہے اور ہماری فکر ہے۔ اور جو دریائے معرفت ہے، وہ کیا ہے؟ اس میں محو ہونا ہے، اور اس میں فنا ہونا ہے۔
خاکی موج ہمارا فہم و وہم اور فکر ہے (جو دنیوی امور کے آلاتِ احساس ہیں) آبی موج، محو اور (معرفت) کا نشہ اور فنا ہے۔
12
مستہلک فکرِ حسی میں تم ہو گممعرفت کا جام نہ پی سکتے ہو تم
مطلب یہ ہے کہ تم فکرِ حسی میں جب تک گم ہو گے، تو معرفت کا جام تم کیسے پی سکتے ہو؟ وہ تمہیں کیسے ملے گا؟مطلب تم اپنے احساسات کی قید میں ہو۔ تم اپنے احساسات کے قید میں ہو۔ لہٰذا تم اس سے باہر نہیں آسکتے۔ جب تک تم اپنے احساسات کے قید میں ہو، اس وقت تک معرفت نہیں تمہیں حاصل ہو سکتی۔
اپنے احساسات میں قید سے باہر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کھائے نہیں، پیے نہیں، سوئے نہیں۔ نہیں، یہ والی بات نہیں! ان کا غلام نہ بنے۔ مثال کے طور پر نیند اچھی طرح آ رہی ہے لیکن نماز کا وقت ہے۔ اس وقت وہ نیند اس کو نماز سے محروم نہ کر سکے۔ اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ۔ وہ اس کے دل کو سمجھے۔ اور اس وقت اٹھے، چاہے کتنی تکلیف ہو، کیونکہ اس وقت اللہ کا حکم ہے۔ اس وقت آپ نے اپنے جسم کا نہیں ماننا، اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کی ماننا ہے۔
اس طرح آپ کو کھانے کو بہت جی چاہتا ہے لیکن روزہ ہے۔ آپ نے اللہ کا ماننا ہے۔ اپنے اپنے جسم کا تو نہیں ماننا۔ اب دیکھ لیں! ہمارے پاکستان میں یہاں (گلاسگو میں) تو وہ چیز نہیں ہوسکتی۔ ہمارے پاکستان و ہندوستان میں یہ جو پتھر کوٹنے والے جو مزدور ہوتے ہیں نا، جون جولائی میں سڑک جو کرتے ہیں، ان کا روزہ ہوتا ہے۔ اور Air conditioned کمروں میں بیٹھنے والوں کا روزہ نہیں ہوتا۔یہ کیا چیز ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو احساس ہے تو وہ اس حالت میں بھی روزہ رکھتے ہیں۔ اور یہ جو air conditioned کمروں میں بیٹھنے والے ہیں، یہ اپنے احساسات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو ہر وقت اپنی پڑی ہے کہ میرا فلاں چیز نہیں، میری فلاں چیز نہیں، لہٰذا وہ ان چیزوں سے وہ اس طرح ہے۔ اس طرح حج کے موقع پر دیکھا جائے۔ تو اس میں ان احساسات کو توڑا جاتا ہے۔ حج کے جتنے بھی اعمال ہیں اس میں احساسات کو توڑا جاتا ہے، کہ تم جو سمجھتے ہو، وہ ایسا نہیں ہے۔ جو میں کرواتا ہوں، اس طرح کرنا پڑے گا۔ اس وجہ سے مطلب وہ کرنا پڑتا ہے۔
تو بہرحال یہ ہے کہ:
مستہلک فکرِ حسی میں تم ہو گممعرفت کا جام نہ پی سکتے ہو تم
13
ظاہری گفتار قلب کا ہے حجاب
ہو خموش کچھ ہوش سے ہو باریاب
ہوش سے تھوڑا سا باہر آ جاؤ، پھر تم باریاب بن جاؤ گے
ظاہری گفتگو غبار کی طرح حجابِ قلب ہوتی ہے۔ خبردار! کچھ مدّت خاموش رہو اور ہوش رکھو۔
اس حدیث کے مضمون پر مشتمل ہے۔
"عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
لَا تُکْثِرِ الْکَلَامَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللہِ، فَاِنَّ کَثْرَۃَ الْکَلَامِ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللہِ قَسْوَۃٌ لِلْقَلْبِ، وَ اِنَّ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللہِ تَعَالٰی الْقَلْبُ الْقَاسِیُّ" (ترمذی)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
"اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ گفتگو نہ کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ بولنا دل کی سختی کا موجب ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ سے زیادہ دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہے"۔
اب دیکھ لیں۔۔ تو اب یہ ہماری باتیں کس لیے ہوں؟ وہ صرف اس لیے ہوں کہ اس میں اللہ پاک کا ذکر ہو۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے ساتھ ہم بولیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر ہماری زبان پہ مطلب جاری ہو۔
جس طرح آپ ﷺ نے بھی فرمایا، پوچھا گیا کہ ہر وقت میں کیا کام کروں؟ صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم اپنی زبان کو ذکر سے تر رکھو۔" رَطْبُ اللِّسَانِ رہو۔ ذکر سے رَطْبُ اللِّسَانِ رہو۔"
تو مطلب یہ چیزیں ہیں۔
دفتر اول: حکایت: 28
"مریدوں کا پھر عرض کرنا کہ خلوت سے نکلئے"
کیوں کہ ہم آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں
1
سارے بولے اے حکیمِ رخنہ جُویہ جفا کی باتیں ہم سے نہ کریو
یہ اس طرح باتیں تو ہمارے ساتھ نہ کریں نا، مطلب ظاہر ہے کہا کہ مہربانی کر کے ہم پر رحم فرمائیں۔ سب نے عرض کیا اے دانا! (بوجہِ استغناء ہماری حالت کا) خلل گوارا کرنے والے یہ ٹال مٹول اور یہ جفا (کی باتیں) ہم سے نہ کہیے۔
2
ہم اسیرِ شوق ہیں ٹل جائیں گے کببے دل و بے جان دھوکہ ہم کھائیں گے کب
ہم اسیر (شوق) ہیں کب تک ہم کو ٹالنے کے لیے یہ دھوکا (دوگے)؟ ہم بے دل و بے جان ہیں۔ کب تک یہ عتاب کرو گے؟
بلکہ ایک شکوٰی عتاب آمیز ہے جو غلبۂ عشق کے خاص لوازم سے ہے۔
3
جب کیا قبول ہمیں از ابتدا
"جب تم نے ہمیں عادی کر لیا اس قسم کا، ملائمت کا اور احسان کا اور تعلق کا تو،
مرحمت کر نظر اب تا انتہا
اب اس کو اگے تک بڑھائیے، مطلب اس کو ختم نہ فرمائیے۔"
4
ضعف و عجز و فقرِ ما جانتے ہیں آپ
"ہمارے ضعف کو، عجز کو، فقر کو آپ جانتے ہیں۔
درد ہمارے کی دوا جانتے ہیں آپ
جو ہمارے درد ہیں، اس کی دوا بھی آپ جانتے ہیں۔ لہٰذا آپ ہم پر مہربانی فرمائیں، باہر تشریف لائیں۔"
5
حسبِ طاقت بوجھ چوپائے پہ ڈالحسبِ قوت کام ضعیفوں سے نکال
مطلب: مرید عرض کرتے ہیں کہ آپ گوشہ نشین رہے تو ترویجِ دین اور تنسیقِ مہماتِ مذہب کا بار ہم پر پڑ جائے گا۔ جس کے برداشت کرنے کی اہلیت ہم نہیں رکھتے۔
اس کے ضمن میں سلوک و طریقت کی یہ تعلیم بھی آ گئی کہ طالبوں پر ان کی استعداد سے زیادہ بار نہ ڈالنا چاہیے۔ یعنی تکمیل سے پہلے منصبِ ارشاد بخش دینا اور صلاحیت کے بغیر مسندِ خلافت عطا کرنا مناسب نہیں۔
یہ بہت اہم بات ہے۔ دیکھیں میں آپ کو بتاؤں یہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں نہیں آ سکتیں۔ یعنی ایک انسان ہے اگر اس کی وہاں پر selection نہیں ہوئی، یعنی عالمِ بالا میں selection نہیں ہوئی، اور آپ نے اس کو وہ کام دے دیا، تو ادھر سے مدد نہیں ہے۔ تو کیسے کرے گا وہ کام؟ نتیجتاً لوگ بھی پریشان ہو جائیں گے، وہ بھی پریشان ہو جائے گا۔ بظاہر تو خوش ہو جائے گا کہ اس کو آپ نے ایک دے دیا۔ لیکن یہ دنیا کی چیز تو ہے نہیں، یہ تو آخرت کی چیز ہے۔ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے۔ لہٰذا یہ جس وقت کام کرے گا تو وہ کام میں اس کے ساتھ وہ مدد نہیں ہوگی، جس طرح مدد مقبول لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
جیسے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ: "آپ لوگ روزہ اس طرح تواتر سے نہ رکھیں۔" تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ بھی تو اس طرح کرتے ہیں۔ فرمایا: "میری طرح تم میں کون ہے؟ مجھے تو اللہ میاں کھلاتے ہیں، پلاتے ہیں۔"
یہ گویا کہ اشارہ ہے کہ جن کی قبولیت ہو جاتی ہے، ان کے ساتھ پھر اللہ پاک کی مدد ہوتی ہے۔ وہ چیزیں عام چیزوں سے بالاتر ہوتی ہیں۔ عام لوگ اس کو نہیں سمجھ پاتے کہ یہ کس طرح یہ کام ہو رہا ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسباب کے اندر، جو قدرت کو جو چھپا دیا جاتا ہے، اس طریقے سے کام ہوتے ہیں۔ تو پہلے سے اگر آپ نے ان کو دے دیا کام، تو وہ چیز اس کے ساتھ ہوگی نہیں، نتیجتاً وہ بس کچومر نکلوا دیں گے، پریشان ہو جائے گا۔
6
ہر پرندے کے مناسب کھانا ہوکسی کا انجیر کسی کا دانہ ہو
ہر پرندے کا کھانا اس کے اندازے کے موافق (ہوتا) ہے۔ ہر پرندے کی خوراک انجیر کب ہو سکتی ہے۔
وہ تو ہر ایک کا الگ ہے۔
7
روٹی بچے کو اگر کھلاؤ گےتو اس بے چارے کو مردہ پاؤ گے
ہماری پرنانی تھی، پرنانی تھی۔ یہ نہیں ہوتا یعنی ہم اس کو مینا کہتے ہیں، مینا، وہ جو بولنے والا پرندہ ہوتا ہے۔ تو وہ اس کو کھلا رہی تھی، کھلا رہی تھی، کھلا رہی تھی... ظاہر ہے اس میں اتنا وہ نہیں تھا، وہ تو رحم کر کے کھلا رہی تھی کہ بھوکی ہے۔ اور ظاہر ہے اس کا بھر گیا تو بس وہ مر گئی۔تو مطلب یہ ہے کہ اس طرح بچے کو اگر روٹی کھلاؤ گے تو وہ تو مر جائے گا۔
8
دانت وہ بچہ اگر نکالے گاروٹی اسکے بعد وہ بھی کھائے گا
مطلب اگر دانت اس کے آ جائیں گے پھر اس کے بعد اس کو روٹی دو گے تو پھر روٹی کھا لے گا۔
9
پر نہ ہوں جس کے اگر اڑنے لگےبلی کا لقمہ وہ پھر بننے لگے
جس کے پر نہیں ہوں، اور آپ نے اس کو اڑنے دے دیا... یہ پرندے اس بارے میں بڑے ہوشیار ہوتے ہیں۔ وہ نہیں نکلنے دیتے اپنے بچوں کو جب تک کہ وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔ اس طرح یہ بلی وغیرہ اپنے بچوں کو بھی باہر نہیں نکلنے دیتے۔ اس کو پہلے ٹریننگ دیتے ہیں، ہم نے دیکھا ہے ان کو ٹریننگ دیتے ہوئے۔ باقاعدہ دیوار پہ چڑھنے کی ٹریننگ دیتے ہیں۔ وہ اس قسم کا وہ کرتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ چیز ہوتا ہے۔ تو جب تک ایسا نہ ہو تو اس وقت تک ان کو گویا کہ خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔
اب اگر آپ نے ان کو بنا دیا پیر صاحب بنا دیا، تو شیطان تو طاق میں ہے۔ وہ اپنا لقمہ بنا لے گا۔ وہ اپنا مرید بنا لے گا اس کو۔ تم اس کو پیر بنا لو گے اور وہ اس کو اپنا مرید بنا لے گا، پھر کیا کرو گے؟ تو یہ خطرناک بات ہے۔
10
لیک پر اسکے جب نکلنے لگےبے تکلف خود بخود اڑنے لگے
جس وقت اس کے پر نکل جائیں، پھر اس کے بعد وہ خود بخود اڑنے لگے گا۔
مطلب: ان اشعار کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ طریقت کے مبتدی کی مثال اس بچۂ مرغ کی سی ہے جس کے ابھی پر نہیں نکلے۔ جس طرح بے پر بچہ اڑنے لگے تو بلی کا نوالہ بنتا ہے۔ اسی طرح مبتدی اگر پیر کی صحبت ترک کر کے خود پیری کا دعوٰی کرنے لگے تو اغوائے شیطانی سے روحانی ہلاکت کا شکار ہوتا ہے۔
آپ تو چھوڑیں، پیری مریدی تو دور کی بات ہے، علم کی بات کرتا ہوں۔ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ ایک وقت میں ان کو خیال ہو گیا کہ اب میں دوسروں کے جوابات دے سکتا ہوں۔ تو اپنا ایک الگ مسند بنا لیا۔ الگ مسند بنا لیا تو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع ہو گئی۔ تو حضرت نے ایک آدمی کو سوال دے دیا کہ یہ سوال جا کر ان سے پوچھو۔ اب جا کر اس نے سوال پوچھا، تو اس نے جواب دے دیا۔ وہ حضرت کے پاس آئے، حضرت نے اس پہ مزید اشکال کہا کہ پھر یہ کیا مطلب ہے اس کا؟ تو جس وقت اس کے پاس اشکال گیا تو انہوں نے کہا یہ سوال تو اس کا نہیں، یہ تو پھر کہیں اور سے آ رہا ہے۔ یہ کہیں اور سے آ رہا ہے، لہٰذا انہوں نے اپنا سارا کچھ ختم کر کے پھر دوبارہ حضرت کے پاس آ گئے۔
مطلب وہ حضرات اس چیز کو بھی دیکھتے تھے۔ اب آج کل مفتی بہت آسانی سے بنتے ہیں نا۔ ایک سال میں بس مفتی بن جاتے ہیں۔ تو پھر کیا کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ فتویٰ کا وہ تمام چیز تو نہیں ہوتا نا، مطلب جو اس قسم کی جو ہونا چاہیے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، پہلے وقتوں میں بڑی مشکل سے ہوتی تھیں۔ پتہ نہیں اب بھی دارالعلوم کراچی میں تین سال کی ٹریننگ دیتے ہیں ان کو، افتاء کورس... افتاء کورس تین سال کا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ان کو اپنے نام کے ساتھ مفتی نہیں لکھنے دیتے۔
یعنی ابھی تک ان کے دارالافتاء میں صرف تین چار مفتی ہیں۔ باقی سب نائب مفتی ہیں، یا دارالافتاء کے وہ ارکان ہیں۔ مفتی نہیں ہیں۔ کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ مفتی نام سے آگیا...لکھا ہوا ہے کہ: "مجھے خود مولانا محمود اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب دی، تذکرۃ الرشید... تو بڑے لجاجت سے کہا: یہ میرے نام کے ساتھ مفتی میں نے نہیں لکھا، یہ لوگوں نے لکھا ہے۔ میں نے نہیں لکھا!" یہ اس طریقے سے یہ بات ہے۔ اس طرح کوئی شخص گئے جو ان کے شاگرد تھے دارالعلوم سے، انہوں نے افتاء کیا تھا تین سال کا کورس۔ انہوں نے اپنی کوئی کتاب لکھی، اس پر مفتی لکھا تھا۔ انہوں نے حضرت کو پیش کر لیا مفتی رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو۔ حضرت نے اتنا ڈانٹا کہ: "تمہیں کس نے مفتی بنایا ہے؟ کون تجھے مفتی کہتا ہے؟" بجائے اس کو مبارکباد دینے کے ان کو خوب ڈانٹا۔ مطلب یہ چیزیں ضروری ہیں، تربیت میں یہ چیزیں سمجھ میں آتی ہیں۔
لیکن جب استفاضہ تام کے بعد مقامِ تمکین حاصل ہو جائے تو اس کی مثال اس پرندے کی سی ہے جو پَر دار ہو گیا ہے اور اُڑنے پر قادر ہے۔ ایسی حالت میں اس کو ترکِ صحبت مضر نہیں۔
11
آپ کے ملفوظات نفس خاموش کرےاور کلام آپ کا کان کو باہوش کرے
(مرید کہتے ہیں۔ حضرت!) آپ کے ملفوظات (یعنی وہ ان کو کہتے ہیں) (نفس) شیطان کو خاموش کر دیتے ہیں۔ آپ کا کلام ہمارے کان کو (سراپائے) ہوش بنا دیتا ہے۔
مطلب: وزیرِ گوشہ نشین نے باہر نکلنے اور مریدوں سے ہمکلام ہونے کے عذر میں جو باتیں پیش کی تھیں ان میں چار باتیں تھیں:
(1) خاموش رہنا اچھا ہے۔
(2) باطنی کان کو آمادۂ سماع رکھنا چاہیے۔
(3) حسِ خشکی بُری اور دریائے معرفت اچھا ہے۔
(4) باطنی سیر (کا قبلۂ توجہ) بالائے فلک ہے۔
اب مرید ان چاروں عذروں کو صحیح مانتے ہوئے، دوسرے پیرایہ میں خواہشِ دیدار پر اصرار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس شعر میں پہلی دو باتوں کے متعلق گزارش کرتے ہیں کہ بے شک نفس کو خاموش کرنا اور سمعِ باطن سے کام لینا ضروری ہے مگر یہ مقصد بھی آپ کے کلام ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ (آپ باہر آئیں گے تو ہمیں یہ چیز حاصل ہوگی نا) یعنی آپ کا کلام ہی نفس و شیطان کو خاموش اور ہمارے سمع اور باطن کو تیز کر سکتا ہے۔
12
کان آپکے گفت سے باہوش پائیں ہماپنی خشکی ہو آپ کے دریا سے نم
جب آپ بولتے ہیں تو ہمارے کان (ہمہ تن) ہوش ہوتے ہیں۔ جب آپ دریائے (افاضہ بن کر بہتے) ہیں تو ہماری (صفاتِ جسمانیہ) کی خشکی (صفاتِ روحانیہ کا) دریا (بن جاتی) ہے۔
مطلب: پہلے مصرعہ میں دوسرے عذر کے متعلق عرضِ مکرر ہے اور دوسرے مصرعہ میں تیسرے عذر کے متعلق گذارش ہے کہ بے شک ہم بھی دریائے باطن کے آگے حیات کی خشکی کو ہیچ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ دولت بھی آپ ہی کی صحبت سے میسر ہو سکتی ہے۔
13
ہو طفیل آپ کے منور کل جہاںاور لگے زمین بہتر از آسماں
اے وہ کہ آپ (کی برکات) سے بالائے فلک (سے لے کر) زیرِ زمین تک (سارا عالم) منور ہے۔ آپ کی بدولت ہم کو زمین (بھی) آسمان سے اچھی (لگتی) ہے۔
مطلب: وزیر کے چوتھے عذر کے متعلق گزارش ہے کہ بے شک سیرِ باطن کا قبلۂ توجہ بالائے فلک ہے مگر ہمارے لیے تو آپ کا آستانہ فلک سے بڑھ کر ہے۔
یعنی ہمیں تو فلک سے بھی کچھ ملے گا تو آپ کے ذریعے سے ملے گا۔ لہٰذا آپ باہر تشریف لائیں تاکہ ہم بھی کچھ حصہ پائیں۔)
14
ہو فلک تاریک بنا آپ کے عجبآپ کے ہوتے زمین تاریک ہے کب
(ہم اگر) آسمان پر (بھی جا پہنچیں تو) آپ کے بغیر ہم کو اندھیرا (محسوس ہوتا) ہے۔ اے (افقِ ہدایت کے) چاند! آپ کی موجودگی میں یہ زمین کب تاریک ہے۔
مطلب: آپ کی معیّت حاصل ہے تو زمین بھی ہمارے لیے رشکِ فلک ہے اور اگر معیت نہیں تو فلک اور عجائباتِ فلک سے بھی کوئی لطف و لذت نہیں۔
یہ مجھے ایک اور چیز یاد آگئی۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے ہر دل عزیز خلیفہ تھے، اور شاعر تھے، بہت بڑے۔ ایک دفعہ ایک مشاعرے میں چلے گئے۔ مشاعرے میں آزاد لوگ ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں ان مشاعروں کا بڑا رواج تھا۔ تو اچکن پہنے ہوئے ہیں، متشرع ہیں، کراکلی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ آواز بھی بڑی اچھی ہے۔ لیکن لوگ hooting کر رہے ہیں۔hooting کر رہے ہیں کہ: "یہ کیا ہے، مولوی کہاں سے آ گیا؟ یہ مطلب یہ ہے کہ یہاں پر مشاعرے میں مولوی کہاں سے آ گیا؟" تو حضرت کو بالکل اثر نہیں ہو رہا۔ hooting کر رہے ہیں، کر رہے ہیں، کر رہے ہیں۔ ایک ظالم نے اذان بھی دینی شروع کی کہ بھئی یہ مسجد تو نہیں ہے کہ یہاں پر مولوی آ گیا ہے۔ حضرت پھر بھی خاموش ہیں۔ جب لوگ جب دب گئے، تو حضرت نے پہلا مصرعہ کہا:
گھٹا اٹھی ہے تو بھی کھول زلف عنبریں ساقی
وہ بہت جو فقرہ سننا تھا کہ لوگ کو سانپ سونگھ گیا! بھئی یہ کیا ہے، یہ تو بہت بڑا زبردست شاعر ہے! اس کے بعد جو دوسرا مصرعہ پڑھا:
ترے ہوتے فلک سے کیوں ہو شرمندہ زمیں ساقی
جب تو موجود ہے، تو زمین فلک سے کیوں شرمندہ ہو؟
تو لوگ سمجھے کوئی مجازی شاعری ہے۔ لیکن دوسرے تیسرے شعر میں جب یہ بات آپ ﷺ کے لیے کہی گئی، بس سب کو پتہ چل گیا کہ تو نعت شریف ہے۔ لیکن پھر بعد میں کسی کو کہنے کی کچھ جرات نہیں ہوئی۔ سب کو اس لائن کے اوپر لے آئے۔ تو یہاں پر بھی یہ بات کی گئی ہے کہ:
تیرے ہوتے زمین بھی ہمارے لیے رشکِ فلک ہے۔
15
آپ کے چاند چہرے سے شب تاریک ہے کببے بنا نور آپ کے دن تاریک ہے جب
یہ تو میرے خیال میں سمجھ میں آ رہا ہے۔
16
خاک پہ سبقت لے گئے آسمان سے ہم
یعنی ہم زمین پر ہیں، لیکن ہم آسمان سے سبقت لے گئے ہیں۔ اس وجہ سے…
ہوتے گر آسمان پہ بن آپ کے ہوں کم
یعنی اگر آپ کے بغیر ہم آسمان پہ بھی چلے جائیں تو پھر بھی کم ہوں گے۔ یعنی اس وقت ہم بہتر حالت میں ہیں۔ آپ کے طفیل ہم زمین پر (مقیم ہونے کے با وجود) آسمان سے بھی سبقت لے گئے (اور) آپ کے بغیر ہم (اگر) آسمان پر بھی (جا پہنچتے تو) خاک کی طرح پست ہوتے۔
مطلب: یعنی گو ہم زمین پر مقیم ہیں۔ مگر آپ کی تعلیم و تلقین کی برکات سے ہمارا رتبہ آسمان سے بڑھ کر ہے۔
لیکن اگر ان برکات سے محروم ہو کر آسمان پر بھی جا رہتے تو یہ مکانی بلندی اس روحانی رفعت کے مقابلہ میں ہمارے لیے کچھ بھی موجبِ فضیلت نہ ہوتی۔ بلکہ ہم خاک کی طرح نا چیز ہوتے۔
17
صورتِ رفعت ملی آسمان کواور حقیقت اسکی ملی جان کو
ظاہری بلندی آسمان کو (حاصل) ہے۔ اصلی بلندی پاک روح کو۔
مطلب: اوپر جو کہا تھا کہ آپ کی صحبت میں ہم زمین پر بھی سر بلند ہیں اور اگر صحبت سے محروم ہوں تو آسمان پر جا کر بھی پست رہیں گے۔ اب اس فرق کی وجہ بتاتے ہیں کہ آسمان جسم ہے اور جسم کی بلندی ظاہری و صوری ہوتی ہے اور روح ایک امرِ معنوی ہے۔ اس کی رفعت بھی معنوی و باطنی ہے اور چونکہ روح مقصود ہے اور جسم غیر مقصود اس لیے روح کی بلندی بمقابلہ جسم کی بلندی کے مقصود ہے۔
18
صورتِ رفعت برائے جسمہاپیشِ معنٰی جو ہیں اسماء کی طرح
ظاہری بلندی اجسام کے لیے ہے (اور) اجسام معنٰی کے آگے (بمنزلہ) اسماء (کے) ہیں۔
یعنی معنی کے سامنے الفاظ کیا ہیں اصل چیز تو معنی ہے۔ اجسام تو ایک اس کی ایک ظاہری صورت ہے۔ تو جس طرح کسی چیز کا نام ہو، تو نام تو مطلوب نہیں ہوتا، وہ چیز مطلوب ہوتا ہے۔ نام سے تعارف ہوتا ہے لیکن مقصود تو چیز ہوتا ہے مثلاً آپ کہتے ہیں مجھے امرود دے دو۔ تو کیا امرود کا نام آپ کو چاہیے یا امرود چاہیے؟ تو امرود تو اس کا تعارف ہے۔ لیکن اصل تو امرود کا حقیقت ہے کہ آپ کو مل جائے۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ معنی کے سامنے اسماء کی طرح ہے۔
19
اللہ اللہ یک نظر بر ما فگنلَا تُقَنِّطْنَا فَقَدْ طَالَ الحَزَنْ
برائے خدا! برائے خدا! ایک نظر ہم پر ڈالو۔ ہم کو نا امید نہ کرو۔ کیونکہ غم حد سے بڑھ گیا۔
تو یہ گویا کہ اس کو کہنے کے بدولت حضرت نے تصوف کی بہت ساری چیزیں بیان کر دیں۔ یہی طریقہ مثنوی شریف کا ہے۔
اللہ جل شانہ ہمیں حضرت کے فیوض کے ذریعے سے، اس راستے کے بہت ساری فیوض و برکات نصیب فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کی غلطی سے بچا لے۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین۔
برحمتک یا ارحم الراحمین۔