درسِ مثنوی: ظاہری حواس سے باطنی کمال تک کا سفر

درس نمبر 27، دفتر اول، حکایت نمبر 27 تا 28

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
ڈارنلے مصلیٰ مسجد - 70 وڈ ہیڈ روڈ، گلاسکو، G53 ، 7NN، یو کے
  • حضرت مولانا رومؒ اور حضرت شمس تبریزؒ کی ملاقات اور عشقِ الٰہی کا سفر۔
    • علمِ ظاہر (قال) اور علمِ باطن (حال) کے درمیان فرق۔
      • مثنوی شریف کا تعارف اور اس کا اندازِ بیان (حکایات کے پردے میں قرآنی تعلیمات)۔
        • مثنوی کے دفترِ اول کی حکایات (یہودی بادشاہ کے وزیر کی عیسائیوں میں دراندازی اور اس کا مریدوں کو خلوت کا دھوکہ دینا)۔
          • نفسانیت اور ظاہری حواس (محسوسات) کی قید سے نکل کر روحانیت (مدرکاتِ باطنیہ) کی طرف سفر۔
            • سوشل میڈیا اور ظاہری فتنوں سے دوری (Disconnect) کی ضرورت۔
              • اولیاء اللہ کے واقعات (حضرت شاہ ابو سعیدؒ اور امام ابو یوسفؒ کے واقعات) اور نفس کی تربیت و اصلاح۔
                • کثرتِ کلام سے ممانعت اور ذکرِ الٰہی سے دل کو آباد کرنے کی فضیلت۔
                  • طریقت میں قبل از وقت منصب ملنے کے نقصانات (پرندے اور بلی کی مثال)۔

                    الحمدللہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

                    معزز خواتین و حضرات! آج ہم انشاءاللہ یہاں پر، یعنی Glasgow میں، ڈالنے کا جو مصلیٰ ہے، اس میں حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی شریف کے درس کا اہتمام کر رہے ہیں۔ یہ درس ہمارے ہاں منگل کے دن ہوا کرتا ہے خانقاہ میں، اور ایک دفعہ الحمدللہ اختتام پذیر ہوا ہے، تقریباً پندرہ سال میں۔ اور پھر اس کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے۔

                    اس درس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا کیونکہ نئی جگہ ہے تاکہ یہاں کے حضرات کو بھی پتہ چلے۔ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت بڑے عالم گزرے ہیں، مفتی تھے اپنے وقت کے۔ اور نقل و عقل کے بہت بڑے امام سمجھے جاتے تھے۔ اس وقت یہی ہوتا تھا۔ لیکن اللہ پاک نے ان کو جس مقام کے لیے قبول فرما لیا، وہ یہ تھا کہ اللہ جل شانہ کے ساتھ جو محبت اور عشق کا تعلق ہے، اس کے فروغ کے لیے ان کو استعمال فرما دیا۔

                    تو اس وقت حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ ہوا کرتے تھے۔ یہ حضرت کمال رحمۃ اللہ علیہ ان کے مرید تھے اور بہت شرمیلے بھی تھے۔ تو اپنے شیخ سے کہا کہ حضرت لوگ اپنے احوال کو بہت اچھے طریقے سے بیان کر لیتے ہیں اپنے شیخ کے سامنے، مجھے تو بیان کرنے کا طریقہ نہیں آتا تھا۔ تو حضرت نے فرمایا: "اللہ پاک آپ کو ایسی زبان عطا فرمائیں گے کہ پوری دنیا میں تمہاری بات پہنچ جائے گی۔"

                    اب دیکھیں خدا کی شان! ایک ایسے شخص کو زبان دی جا رہی ہے جس کا... مطلب یہ ہے کہ خود اس کو یہ احساس ہے کہ میرے پاس یہ نہیں ہے۔ خیر، اس وقت تو ان کو ظاہر ہے سمجھ نہیں آئی۔

                    تو شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ، ان کے اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالا کہ اس عالم، نوجوان عالم (نوجوان تھے اس وقت)... مطلب ان کی، اس لائن کی تربیت کی جائے۔ اور یہ تربیت کا ایک مختلف طریقہ ہے، عام طریقہ نہیں ہے۔ عام طریقہ تو یہ ہے کہ مرشد کے پاس لوگ جاتے ہیں تلاش کر کے اور پھر وہ جو بتاتے ہیں، اس کے مطابق کام کرتے ہیں، یہی عام طریقہ ہے اور اس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ منتخب لوگ ہوتے ہیں نا، ان کے لیے اللہ پاک راستے خود چنتے ہیں۔ یہ وہ محبوبیت والا راستہ ہے۔ جو کہ مطلب یہ کہ normal procedure نہیں ہوتا۔

                    یہ بھی normal procedure والی بات نہیں تھی۔ یہ بیٹھے ہوئے تھے حضرت، ایک جگہ، اپنے مطالعے میں اور لکھنے میں... ظاہر ہے لکھ رہے تھے کتابوں کے۔ حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کا ادھر آنا ہوا، اور ان سے پوچھا: "مولوی! یہ کیا ہے؟" اس انداز میں یعنی پوچھا۔ حضرت بھی اپنے فن کے بڑے تھے، تو لہٰذا بڑی طمطراق سے جواب دے دیا: "یہ قال ہے جسے تو نہیں جانتا۔" بات تو صحیح تھی۔ قال تو تھا اور وہ جانتے بھی نہیں تھے۔

                    تو حضرت نے ان کو ذرا ترچھی نگاہ سے دیکھا... میں نے کہا نا یہ normal procedure نہیں ہے۔ تو حضرت نے ان کو ترچھی نگاہ سے دیکھا، تو اس میں آگ لگ گئی، ان کتابوں میں، اور اس کاغذ کے اوراق میں آگ لگ گئی۔ تو حضرت ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے، مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ۔ تو حضرت جو ہے نا... مطلب حضرت ڈر گئے۔

                    تو اس... پھر حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ آئے، ان کتابوں کو جو آگ میں جل رہی تھیں، ان کو ندی میں پھینک دیا۔ اس پر مولانا روم غصے بھی ہوئے اور رونے لگ گئے کہ: "تو نے میری عمر بھر کی کمائی کو ڈبو دیا! یہ کیا کر دیا؟" ہاں جی! اس نے کہا: "اچھا؟ تمہارا علم بس اتنا ہی تھا؟ اتنے ہی پر فخر تھا آپ کا؟ تو چلو، بچا لیتے ہیں۔"

                    نیچے ندی میں اتر گئے، اور کتابوں کو اٹھا کر... اب ندی سے نکال رہے ہیں پانی میں سے، تو پانی میں کتاب جو ہوتا ہے وہ تو ڈوب... ڈوب جاتا ہے تو وہ تو گیلا ہوتا ہے۔ بجائے گیلے ہونے کے، اس سے گرد جھاڑ کر ان کو دے رہے ہیں۔ جیسے الماری سے نکال کے کوئی کتاب مطلب... وہ گرد جھاڑ کے ان کو دے رہے ہیں۔

                    اب مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ حیران ہیں کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: "یہ کیا ہے؟" انہوں نے کہا: "یہ حال ہے جسے تو نہیں جانتا۔" جواب... دیکھیں نا، مطلب دے دیا۔ حیرت کی بات تو تھی، حیران و پریشان... حضرت نے معذرت کی، کہا جی "میں اپ کے ساتھ چلوں گا۔"

                    حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کو لوگ 'پرندہ' کہتے تھے کیونکہ ان کا پتہ نہیں چلتا تھا کہ کدھر ہیں۔ اج Glasgow میں ہیں، تو دوسرے دن اس میں... Bolton میں، تیسرے دن دیکھا کہ Birmingham میں ہیں۔ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کہاں ہیں۔ تو ظاہر ہے بس گم ہو گئے۔ گم ہو گئے تو تلاش میں تھے حضرت، کہ یہ کیا بات ہے، کون تھے یہ؟ لیکن بہرحال، کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔

                    ایک دن کسی سفر پہ جا رہے تھے، حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ۔ اب ظاہر ہے، بہت بڑے عالم تھے، لوگ رخصت کر رہے تھے۔ گھوڑے پہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور شان سے مطلب... ظاہر ہے وہ سفر کر رہے ہیں۔ اتنے میں حضرت لوگوں کے درمیان سے نکل کر آئے، اور ان کی باگ پکڑی، اور کہا: "مولوی! جانے سے پہلے ایک سوال کا جواب دو۔" انہوں نے کہا: "کیا جواب... سوال، کیا سوال ہے؟" انہوں نے کہا کہ: "ایک شخص کہتا ہے سُبْحَانِي مَا أَعْظَمَ شَأْنِي، میں پاک ہوں اور میری ذات کتنی اونچی ہے، میری شان کتنی اونچی ہے۔ ایک تو یہ کہہ رہا ہے۔ اور دوسرا کہتا ہے: یا الٰہی! میں نے تیری ثناء کا حق ادا نہیں کیا۔ کون بڑے ہیں؟" ہاں جی؟

                    اب یہ دونوں قول... جیسے پہلا قول، سبحان... بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جو ولی اللہ ہیں۔ اور دوسرا قول حضور ﷺ کا ہے۔ تو حضور ﷺ تو... ظاہر ہے مطلب، آپ ﷺ۔ تو عالم تھے اور جانتے تھے۔ انہوں نے کہا یہ دوسرا قول۔

                    فرمایا: "کیوں؟" پہلے قول میں تو شان بیان کی جا رہی ہے، دوسرے قول میں عاجزی ہے۔ تو یہ کیوں؟ فرمایا: "پہلے کا ظرف چھوٹا تھا، تھوڑے میں چھلک گیا، اور دوسرے کا ظرف بڑا تھا، اس کو کچھ بھی نہیں ہوا، وہ اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھ رہا تھا۔"

                    اور بس، اتنا سننا تھا کہ حضرت نے باگ چھوڑی اور لوگوں کے درمیان گم ہو گئے۔ اب حضرت تو تڑپ گئے کیونکہ یہ سوال یہ جواب ان کے پوری شان کو کچوکا لگانے والا تھا۔ کیونکہ ان کو بتایا جا رہا تھا کہ تو جو اپنے آپ کو بڑا سمجھ رہا ہے تو تیری حالت کیا ہے؟ جو بڑے ہوتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ تو عاجزی کرتے ہیں۔ ہاں جی؟ یہ مطلب گویا کہ ان کو کچوکا لگانے والی بات تھی۔

                    بہت تلاش کیا، لیکن کہاں ملتے تھے؟ تو ایک دن کسی نے کہا کہ فلاں جگہ پر اس طرح آدمی نظر آیا ہے۔ تو جلدی جلدی ان کے پاس چلے گئے، دیکھا تو واقعی وہی تھے۔ تو ان کے پاؤں پہ گر گئے، کہتے ہیں: "حضرت مجھے اپنی فرزندی میں قبول فرما لیں۔" فرمایا: "جا جا! میرے ساتھ تو رہ ہی نہیں سکتا۔ میں رند آدمی ہوں اور تو مولوی ہے، مفتی ہے۔ کہاں مفتی، کہاں رند؟ یہ دونوں کا ملاپ نہیں ہو سکتا، جا اپنا کام کرو۔" ہاں جی! اب وہ جتنا یہ مطلب اظہار کریں کہ محبت کا، اتنا وہ دھتکاریں۔

                    اس پر جو ہے نا... حضرت نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے۔" انہوں نے کہا کہ: "حضرت مجھے آزما لیجئے، میں انشاءاللہ آپ کے ساتھ ہی رہوں گا۔" وہی حضرت خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام والی جو واقعہ ہے نا، کہ میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا: "جی حضرت مجھے آزما لیجئے، میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔" انہوں نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے۔ پھر میرے لیے شراب لے آئیے۔" اب یہ مزید... مفتی اعظم، اور کسی کے لیے شراب لائیے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن انہوں نے کہا، چلو وعدہ کیا ہے اور ممکن ہے ضرور اس میں کوئی حکمت ہو، تو ذرا معلوم ہو جائے کہ آخر یہ کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ دو واقعے تو دیکھ چکے تھے نا۔ تو وہ جو ہے نا، مطلب یہ ہے کہ چلے گئے۔

                    تو کسی شراب خانے سے چادر اوڑھ کے، بوتل اپنے بغل میں دبا کے، چپکے سے آ رہے ہیں، جس علاقے میں جاؤ لوگ اس کو نہیں جانتے۔ اور چونکہ نظام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھا، تو بس وہ ٹھوکر لگی۔ ٹھوکر لگی تو بوتل نیچے گر گئی۔ اب لوگوں نے دیکھ لیا، کہتے ہیں: "اچھا، یہ مولوی شراب پیتا ہے؟" اب یہ یہ جو ہے نا مطلب ہے کہ اگے اور لوگ پیچھے، جوان تو تھے۔ دوڑتے دوڑتے، دوڑتے، جنگل کی راہ لے لی۔ اب جنگل میں بھی کافی دور تک گئے تو اطمینان ہو گیا کہ اب لوگ میرے پیچھے نہیں پہنچ سکتے، تو ذرا پھر ارام سے چلنا شروع کر لیا۔

                    تو دیکھا کہ سامنے سے حضرت آ رہے ہیں۔ فرمایا: "آؤ بیٹا! اب تو کہیں نہیں جا سکتا۔ یہ سارا نظام اسی لیے تھا کہ تو کہیں پھر واپس نہ چلا جائے۔ اب تو میرے ساتھ ہی رہے گا۔" ہاں جی؟ پھر ان کو اپنے ساتھ کر دیا، دو سال کے اندر جو کچھ دینا تھا، وہ دے دیا۔ ہاں جی؟ یہ اصل میں یہ ساری بات تھی۔

                    تو ان کو اللہ پاک نے چن لیا تھا اس مقصد کے لیے۔ اب یہ جو مثنوی شریف ہے، اس کے بارے میں ایک بہت بڑے عالم، صوفی تو تھے ہی، عالم تھے بہت بڑے، حضرت مولانا عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ۔ بہت بڑے عالم گزرے ہیں ہرات میں۔ بہت بڑا مدرسہ تھا حضرت کا۔ حضرت نے فرمایا: "مثنوی مولوی معنوی ہست قرآن در زبان پہلوی"

                    جو مثنوی مولانا روم ہے، یعنی یہ جو ہم ابھی پڑھ رہے ہیں، فرمایا یہ تو فارسی میں قرآن پاک پڑھایا جا رہا ہے۔ اچھا، اس پر میں خود غور کرتا تھا، کہ حضرت نے اتنی بڑی بات کیوں کی؟ یہ تو بہت بڑی بات ہے کہ اس کو کیسے justify کیا جائے گا؟

                    تو میرے ذہن میں ایک بات آئی کہ اصل میں قرآن جو ہے شانِ نزول کے مطابق اترا ہے۔ پہلے ایک واقعہ ہوتا تھا، اس واقعے کے مطابق احکامات... احکامات آتے تھے۔ اچھا، اب وہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ تو جانتے ہیں کہ پہلے کیا کام ہونا... ہونا ہوگا، اس کے مطابق احکام بھیج دیتے تھے۔ وہ تو اللہ پاک کا کام ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔ لیکن مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کیا کہ انہوں نے حکایات بیان کیں۔ وہ حکایات بعض دفعہ فرضی حکایات ہوتی تھیں۔ یعنی اصلی حکایات ہوتی بھی نہیں تھیں۔ مثلاً طوطے کی کہانی ہے، گدھے کی کہانی ہے، کچھ اس طرح، وہ تو ظاہر ہے ایک فرضی کہانی ہوتی تھی۔ لیکن اس کہانی میں حضرت بہت اعلیٰ مضامین بیان فرما لیتے تھے، سمجھانے کے لیے۔

                    تو یہ ایک بات جو میں نے دیکھی، میں نے کہا شاید اس وجہ سے انہوں نے کہا ہے کہ انداز قرآن کا ہے، کہ جو حکایت ہے اس کے مطابق اعلیٰ مضامین بیان کیے جا رہے ہیں۔ یہ مطلب یہ وجہ ہے۔ تو بہرحال اب چونکہ ایک دفعہ یہ تو مکمل ہو چکا ہے، الحمدللہ۔ تو اب دوسری دفعہ چونکہ یہ شروع ہے، تو دوسری دفعہ شروع میں ہم نے یہ خیال کیا کہ ہم اس کا اردو منظوم ترجمہ بیان کریں، بجائے اس کے کہ فارسی زبان کا جو الفاظ ہوں، کیونکہ لوگوں کو فارسی نہیں اتی آج کل۔ تو اس وجہ سے اردو منظوم ترجمے کے ساتھ ہم آج کل اس کو پڑھ رہے ہیں اور پھر اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

                    تو آج دفترِ اول کی حکایت نمبر 27 ہے۔ اس قصے کی کہانی یہ ہے کہ ایک ظالم مطلب... بادشاہ تھے۔ وہ بادشاہ جو تھا وہ عیسائیوں کو قتل کرتا تھا۔ تو وہ قتل کرتا تھا، بہت بے تحاشا۔ تو اس کے وزیر نے کہا کہ: "آپ جو اس طرح قتل کرتے ہیں، تو آپ کے اوپر ظالم کا دھبہ لگتا ہے۔ تو اس طرح نہ کریں، میں کوئی طریقہ ایسے چلاتا ہوں جس سے یہ خود مطلب جو ہے نا ختم ہو جائیں گے۔" اس نے کہا: "وہ کیسے؟" اس نے کہا: "میرا ناک کان آپ کاٹ دیں اور پھر مجھے ملک بدر کر دیں۔ مطلب وہ جو ہے نا... تو میں جو ہے نا مطلب گویا کہ اس طرح شو کر لوں گا کہ میں عیسائی ہوں، اور تم میرے خلاف ہو، تو تم نے مجھے سزا دے دی ہے۔ تو میں وہاں جا کر جب یہ رہ پڑوں گا تو ان کا میں بڑا بن جاؤں گا، مطلب وہ مجھ پر اعتماد کر لیں گے۔ پھر میں اپنے طریقے سے ان کو ایک دوسرے کے خلاف کر لوں گا، اس طریقے سے مطلب یہ کام ہو جائے گا۔"

                    تو یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ وہ وزیر تھا بادشاہ کا۔ تو وزیر نے پھر یہ کیا کہ وہاں مطلب، آج جس وقت وہ ہے، تو چھ سال تک تو ادھر رہا۔ اور لوگ جو ہے نا اس کو دیکھتے تھے، پھر بعد میں انہوں نے دیکھا کہ بھئی یہ تو ہمارا بڑا وہ ہے، یعنی خیر خواہ ہے، تو لوگ ان کو بزرگ سمجھنے لگے۔ ان سے مطلب وہ... جو... تو پھر وہ جو ہے نا... مطلب بارہ امیر تھے، بارہ امیروں کو اس نے ایک ایک الگ الگ انجیل پڑھائی۔ الگ الگ انجیل پڑھائی، اور ہر ایک کو کہا کہ تم میرے خلیفہ ہو گے میرے بعد۔ ہاں جی؟

                    تو اس طریقے تک یہاں اس کو پہنچا دیا، تو پھر بعد میں اپنے طریقے کے مطابق، جو اس کی planning تھی، اس نے اپنے آپ کو disconnect کر دیا، خلوت میں چلے گئے، اور لوگوں سے ملتے نہیں تھے۔ تو لوگ جو ہے نا ان کو بہت منتیں... التجا کر رہے ہیں کہ: "آپ مہربانی کر کے باہر تشریف لائیے، آپ کی بڑی ضرورت ہے، اور ایسا ہے اور ایسا ہے۔" تو یہ سلسلہ ابھی شروع ہے۔ ابھی ہم یہاں سے اس کو شروع کر رہے ہیں۔

                    وزیر کا اپنے مریدوں اور پیروکاروں کو دور کرنا۔

                    بولے گفتگو کی خواہش مند ہو اور زبان و کان کے پابند ہو

                    اب ان کو سمجھا رہے ہیں۔ یہ سارا ڈرامہ ہے، لیکن بہرحال یہ ہے کہ مطلب ہو تو یہی رہا ہے۔ یعنی وزیر نے کہا: "خبردار! اے ظاہری گفتگو کے پابند ہو، تم جو ظاہری طور پر گفتگو کرتے ہو اس کے پابند ہو اور اس وعظ و کلام کے متلاشی ہو جو زبان سے کہنے اور کان سے سننے کے ہیں۔ یعنی تم اپنا سارا زور اسی پہ نکالتے ہو، اور انہی کو سب کچھ سمجھتے ہو، حالانکہ یہ نہیں ہے۔ ظاہر کچھ ہے، باطن کچھ ہے۔"

                    ظاہری کان میں ذرا پنبہ رکھیں باطنی ظاہری جدا رکھیں

                    "یعنی اس ناچیز ظاہری جسم کے کان میں روئی دے لو اور اپنی باطنی آنکھ سے ظاہری حس کی رکاوٹ کو دور کر لو۔" یعنی تم جو ظاہر میں پھنسے ہوئے ہو اور اصل چیز یعنی جو باطنی ہے، اس سے کٹے ہوئے ہو... کیونکہ باطن روح ہے اور ظاہر جسم ہے۔ تو تم جسم میں پھنسے ہوئے ہو اور روح سے نالاں ہو۔ تو یہ جسم کو مطلب ذرا control کر دو اور پھر مطلب جو ہے نا روح سے کام لو، اس کے ساتھ تعلق پیدا کرو۔ یہ اصل میں گویا کہ ان کو دھوکہ دے رہا ہے۔ لیکن بہرحال بزرگی کی شان میں دھوکہ دے رہا ہے کہ جیسے مطلب یہ کوئی بزرگ ہے۔

                    ظاہری کان جب تک بہرا نہ ہو تو فعال کان باطن کا آپ کا نہ ہو

                    "یعنی ظاہری کان جب تک اپ کا بہرا نہ بنے، یعنی خبردار نہ رہے باز نہ رہے ان تمام environments سے، ان تمام چیزوں سے جو اپ کو ادھر ادھر کی طرف لگا رہی ہیں، تب تک اپ کا باطن نہیں کھلے گا۔"

                    بات تو اس کی صحیح تھی۔ بات اس کی اس طرح صحیح ہے، بات عرض کرتا ہوں کہ جب انسان ظاہری چیزوں کو دیکھے گا... اب میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں: Social Media۔ اب social media جو ہے نا... مطلب یہ کان بھی ہے اور آنکھ بھی ہے آج کل۔ مطلب لوگ اس میں دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں اور لوگ اس میں سن بھی رہے ہوتے ہیں۔ اچھا، تو جو information social media سے اتی ہے، انسان اس سے اتنا متاثر ہوتا ہے کہ جو ان لوگوں نے social media کے جو لوگ ہیں انہوں نے جو سوچا ہوتا ہے، وہی ذہن لوگوں کا بنا لیتے ہیں۔ تو حقیقت سے تو disconnect کر لیتے ہیں نا۔ اصل چیز تو وہ نہیں ہوتی، وہ تو ان کی planning کے مطابق ہوتی ہے۔

                    تو اب اگر کسی کو بچانا ہو تو کیا کریں گے؟ social media سے disconnect کریں گے نا۔ کہ بھئی تھوڑا سا اس سے disconnect ہو جاؤ تاکہ تم پر حقیقت کھل جائے۔ خلوت میں چلے جاؤ، ان چیزوں کی طرف نہ دیکھو، پھر اللہ پاک سے رجوع کرو۔ جب اللہ پاک سے رجوع کرو گے، تو اللہ پاک تمہارے دل پہ صحیح بات ڈالے گا۔ لیکن پہلے ان چیزوں سے اپنے آپ کو disconnect تو کر لو۔ تو بات تو بالکل صحیح ہے، لیکن وہ تو اپنی planning کے مطابق چل رہا ہے، لیکن بہرحال بات بالکل صحیح کر رہا ہے۔ ہاں جی؟

                    وہ یہ ہے کہ: "جب تک محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک رہے گا، تب تک مدرکاتِ باطنیہ کی طرف توجہ ناممکن ہے۔" اب ظاہری کیا ہے؟ نفس ہے۔ قلب ہے، عقل ہے۔ اس میں جب تک گند آئے گا، اس وقت تک اصلاح تو نہیں ہو سکتی نا۔ جب تک اصلاح نہیں ہوگی، اپ کو اصل چیز معلوم نہیں ہوگی۔ کیونکہ اپ کے اوپر خواہشات حاوی ہیں۔ خواہشات جب حاوی ہوں گے تو ظاہر ہے اپ اصل چیز کو نہیں پا سکیں گے۔ جیسے اللہ پاک فرماتے ہیں: كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ "ہرگز نہیں! بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو لیتے ہو اور جو بعد میں انے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔"

                    ہاں جی! یہ انسان کی سرشت ہے۔ تو یہ مطلب ان کو بتاتے ہیں کہ "جب تک محسوساتِ ظاہریہ میں انہماک رہے گا، تب تک مدرکاتِ باطنیہ کی طرف توجہ ناممکن ہے۔"

                    بے حس و بے گوش و بے فکرت بنو ارْجِعِي کے اہل سماعت بنو

                    یعنی یہ اشارہ ہے اس ایت کی طرف: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً یعنی: "اے جانِ مطمئن! اپنے پروردگار کی طرف خود خوش ہوتی اور اس کو خوش کرتی ہوئی چلی جا۔" مراد یہ ہے کہ اگر حواس ظاہری کے شغل کو بند یا کم کر دو، اور محسوسات ظاہریہ میں انہماک نہ رکھو، تو اپنے گوشِ باطن سے پروردگار کے بلانے کی آواز سن لو گے۔

                    ہاں جی! مطلب یہ ہے کہ انسان جو ہے، جب تک اپنے نفسانی خواہشات میں منہمک رہتا ہے، تو روحانیت مغلوب ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ اب جیسے مثال کے طور پر پانچ لوگ ہیں، چھ لوگ ہیں، جو چیخ چیخ کر بول رہے ہیں، جھوٹ بول رہے ہیں۔ اور ایک ادمی آہستہ آہستہ سچ بول رہا ہے۔ تو اس کو سچ کا کیا پتہ چلے گا؟ وہ پانچوں جو جھوٹ ہیں ان کے اوپر غالب ا جائیں گے۔ تو جب تک ان پانچ جھوٹوں سے وہ اپنے آپ کو disconnect نہیں کرے گا، تو وہ ایک محسوس ہوگی؟ وہ ایک محسوس نہیں ہوگی۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ اس کی ایک سرشت یہ ہے کہ نفس کی جب مانو گے تو یہ مزید منواے گا۔

                    اور روح کی جب مانو گے تو روحانیت بڑھے گی۔ یا اس کو حدیث شریف کے پیرائے میں اگر ہم سمجھنا چاہیں تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ: "جو شخص کوئی نیکی کرتا ہے، اس کا فوری اجر یہ ہے کہ دوسری نیکی آسان ہو جاتی ہے۔ اور گناہ جب کرتا ہے تو اس کی فوری سزا یہ ہوتی ہے کہ دوسرا گناہ اسان ہو جاتا ہے۔" لہٰذا اگر کوئی نفس کی خواہشات کو پورے کرتا ہے، تو نفس اس کے اوپر مزید غالب آ جائے گا، اس سے مزید غلطیاں کروائے گا۔ اور جب اللہ پاک کی بات مانے گا، تو اس کو اللہ پاک مزید نیکیوں کی توفیق دیتا رہے گا۔

                    تو یہ والی بات ہے کہ جب تک تم اپنی نفسانیت پر غالب نہیں آؤ گے، اس وقت تک روحانیت وہ مغلوب رہے گی۔

                    جب تلک ہو تم مگن بیداری میں کب ہو خواب کہ دنیائے اسرار میں

                    مطلب یہ ہے کہ جب تک تم بیداری کے تمام چیزوں کو دیکھ رہے ہو، تو خواب میں اگر کوئی اچھی چیز تمہیں دکھائی جانی ہے، اس سے تم آگاہی نہیں حاصل کر سکتے۔ ہاں جی؟

                    سیر بیرونی یہ بول و کام ہے سیر باطن از بالائے بام ہے

                    مطلب یہ جو سیر بیرونی جو ہے، مطلب یہ اپ بیرونی چیزوں سے جو اثر لے رہے ہیں، یہ تمہارا فعل اور قال ہے۔ یہ اس کا ہے۔ لیکن جو سیرِ باطن ہے وہ اوپر سے ا رہا ہے۔ وہ مطلب یہ ہے کہ اس کا اس سے تعلق کوئی نہیں، بلکہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مزید تشریح فرمائی ہے۔ کہ جب انسان سیر الی اللہ پورا کر لیتا ہے، یعنی قلب کو بھی صاف کر لیتا ہے، نفس کو بھی control کر لیتا ہے، عقل کو بھی مطلب جو ہے نا وہ فہم و سنت کر لیتا ہے۔ تو پھر اللہ پاک دو راستے اور کھول دیتے ہیں۔

                    ہر شخص کے، ایک راستہ دل سے ملائے اعلیٰ تک جاتا ہے۔ اور دوسرا راستہ عقل سے، سر کے ذریعے ملائے اعلیٰ تک جاتا ہے۔ یعنی پہلا قلب سے، روح کے ذریعے سے، اور دوسرا عقل سے سر کے ذریعے سے ملائے اعلیٰ تک۔ تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وارداتِ قلبی ملائے اعلیٰ سے ان پہ وارد ہوتے رہتے ہیں۔ اور جو سر ہے، اس سے فراستِ باطنی اس کو حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ فیصلہ جب کرتا ہے تو اس میں اس فراست کا اثر ہوتا ہے۔

                    یہ والی بات ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ سیرِ باطن از بالائے بام ہے۔ یعنی ہم ظاہری اور حسی حالات کے منازل طے کرنے کے لیے اعضاء و جوارح سے کام لیتے ہیں۔ جس کا میدان عملی دنیا ہے۔ لیکن جس سیر و سفر کا کعبہ، مقصودِ ذاتِ حق ہے، وہ ماورائے دنیا ہے، اس کا تعلق ہمارے باطن کے ساتھ ہے۔

                    حس خشکی خشکی سے پیدا ہوئی بحر عرفاں ہاں موسیٰ کی جا ہوئی

                    مطلب ظاہری حس نے خشکی ہی خشکی دیکھی ہے۔ کیونکہ خشکی سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ جو چیزیں ہمارے ارد گرد ہیں، ان سے پیدا... مگر موسائے جان، یعنی موسیٰ علیہ السلام وہ تو پیدا ہوتے ہی دریا میں ڈال دیے گئے تھے۔ تو یہاں مطلب... مطلب یہ کہ دریا معرفت میں انہوں نے پاؤں رکھا۔

                    یعنی حواسِ ظاہر چونکہ اعضائے جسمانی کی قوت ہیں جو عناصر سے بنے ہیں، اس لیے وہ دنیا ہی کی سیر کر سکتے ہیں۔ اور روح چونکہ عالمِ امر سے ہے۔ اس لیے وہ باطن کی سیر کرتی ہے۔ عالم دنیا کو خشکی سے، اور باطن کو دریا سے تشبیہ دی ہے۔ اور جان موسیٰ علیہ السلام کے استعارے سے یہ مناسبت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہی دریا میں بہا دیے گئے تھے۔ فرماتے ہیں کہ: حواس کی حسی سیر محدود اور موجبِ غفلت ہے، اور روح کی باطنی سیر، جس کا مقام عالمِ امر ہے، مایہ بصیرت اور غیر محدود ہے۔

                    یعنی ہماری جو دنیا ہے نا، میں آپ کو کیا بتاؤں؟ اس کی کیا حیثیت ہے؟ یعنی اگر کائنات میں اس کا دیکھا جائے نا تو اس کی حیثیت ایک نقطے کی بھی نہیں ہے۔ ہاں جی؟

                    وہ ایک clip ائی تھی، جس میں انہوں نے دیکھا کہ دنیا جو ہے نا، مطلب جتنا وہ جو ہے نا اس سے rocket اوپر جاتا ہے، تو یہ دنیا مطلب چھوٹی ہوتی جاتی ہے، مزید بہت پہلے بہت بڑی ہوتی ہے، پھر چھوٹی، پھر چھوٹی، پھر چھوٹی، پھر ایک نقطہ... پھر وہ نقطہ بھی غائب ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ مطلب پورا جو مزید جو اس کے planets ہیں وہ بھی غائب، پھر اس کے بعد سورج اور پھر سورج بھی غائب اور پھر اس کے بعد اور دنیا... مطلب وہ اہستہ اہستہ مطلب جو ہے نا وہ جتنا اوپر جاتا ہے تو اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔

                    تو یہ بات ہے کہ یہ جو مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ جو ظاہری چیز ہے، وہ ہمارے حواس پہ جو چھائی ہوئی ہے، یہ اصل میں پورے کائنات کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ اور ہم نے اس کو بہت کچھ سمجھا ہوا ہے۔ وہ علامہ اقبال نے بھی کہا تھا نا: قافلہ تھک کر فضائے پیچ و خم میں رہ گیا مہر و ماہ و مشتری کو میں نہ سمجھاتا میں

                    مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو بہت پیچھے ہو جاتی ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ جس جو اتنی وسیع کائنات ہے، تو اس کے پیدا کرنے والے کی کیا ذات ہوگی؟ ہاں جی؟ اس کے حالات کے بارے میں کیا بات ہوگی؟ تو اس مطلب یہ ہے کہ جتنی نظر وسیع ہوتی جائے گی، تو اپنی کم مائیگی کا احساس بڑھتا جائے گا۔ اور اپنے حالات کا اعتراف انسان کو نصیب ہوگا۔

                    جسم خشکی سیر خشکی پر ہی ہے سیر باطن بحر کے اوپر ہی ہے

                    ہاں جی! یعنی جسم خاکی انصری کی سیر عالم ظاہر کی خشکی پر واقع ہوئی ہے اور روح کی سیر نے دریائے باطن کے وسط میں پاؤں رکھا ہے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دریائے باطن میں پاؤں رکھے۔ ہاں جی؟ مطلب یہ ہے کہ وہ اگے کی جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر پھر بھی جو روح دریائے باطن سے غیر مانوس ہے، تو اس کی حرمان کی وجہ سے نیچے بیان فرماتے ہیں:

                    لذاتِ دنیا میں ہم چرتے رہے گاہ پہاڑ گاہ جنگل بھٹکتے رہے (گاہ پہاڑ گاہ جنگل بھٹکتے رہے)

                    مطلب یہ جو لذتی دنیا ہے اس میں ہم چرتے رہے۔ اب دیکھیں حدیث شریف میں اتا ہے۔ یہ لذاتِ دنیا میں ہم چرتے ہیں نا، وہ اس کا تو یعنی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، وہ تو خود بخود ہمارا ہے۔ مثلاً بازار جاتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ لوگوں سے ملتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ یہ mobile کھولتے ہیں تو لذاتِ دنیا میں چرتے ہیں۔ مطلب ہماری ساری زندگی انہی چیزوں میں پڑی ہوئی ہے۔ تو اپ ﷺ نے اس کے توڑ کے لیے کیا فرمایا؟ "جب تم جنت کی چراگاہوں میں پہنچو، تو اس میں خوب چرو۔" صحابہ کرام نے پوچھا: "جنت کی چراگاہیں کون سی ہیں؟" فرمایا: "ذکر کے حلقے۔"

                    ذکر کے حلقوں سے مراد کیا ہے؟ جہاں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔ جب اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، تو ہمارا اصل مقصود تو وہی ہے۔ تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم تو اس کے لیے نہیں ائے تھے ان چیزوں کی لذتوں کے لیے۔ ہاں جی؟ ہم تو ان لذتوں کے لیے نہیں ائے تھے۔

                    میں اپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، بہت زبردست واقعہ۔ حضرت شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کا۔ یہ شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ جو تھے، یہ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے تھے۔ اور شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ ہندوستان کے بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں، بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں۔

                    تو ان کے پوتے تھے، ظاہر ہے ان کے باپ بھی ظاہر ہے سجادہ نشین تھے اور شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ بھی سجادہ نشین تھے۔ لیکن شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کو پتہ چل گیا کہ وہ چیز ہمارے ہاں نہیں رہی جو ہمارے دادا کے وقت میں تھی۔ اس میں وہ چیز رہ گئی، مطلب کمی ہو گئی۔ تو اس کو کیسے حاصل کیا جائے؟ اللہ پاک نے اس کو سعادت بخشی، مطلب یہ کہ سوچ مطلب ان کو ا گئی۔ ورنہ لوگوں کو خیال نہیں اتا اس چیز کا۔

                    تو لوگوں سے پوچھا کہ ہمارے شیخ کا سب سے بڑا خلیفہ کون ہے؟ یعنی جن کا کام بہت پھیلا ہوا ہے اور کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا شیخ جلال رحمۃ اللہ علیہ۔ تو وہ شیخ جلال رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلے گئے۔

                    ان کو جب پتہ کہ صاحبزادے صاحب ائے ہوئے ہیں تو وہ تو پورے مطلب جو ہے نا وہ... یعنی جتنے لوگ ان کے تھے مریدین تھے سارا ان لاؤ لشکر کے ساتھ استقبال کے لیے ا گیا۔ کہ ہمارے صاحبزادے صاحب ائے ہوئے ہیں۔ اب پہنچ گئے، ان کا استقبال کیا، ان کی دعوتیں شروع ہو گئیں۔ کبھی ایک دعوت کر رہے ہیں، کبھی دوسری دعوت کر رہے ہیں، تین دن تک دعوتیں چل رہی تھیں۔

                    انہوں نے کہا: "حضرت میں تو ان دعوتوں کے لیے تو نہیں ایا تھا۔" اب یہاں سے اصل بات شروع ہوتی ہے۔ "میں تو ان دعوتوں کے لیے نہیں ایا تھا۔" تو حضرت نے پوچھا: "کس چیز کے لیے ائے تھے؟" انہوں نے کہا: "اب تو اپ جو چیز لے ائے ہیں حضرت... مطلب ہمارے دادا کے مطلب طرف سے، میں اس چیز کے لیے ایا ہوں۔"

                    تو انہوں نے پوچھا کہ: "اچھا واقعی اپ اسی کے لیے ائے ہیں؟" انہوں نے کہا: "ہاں۔" انہوں نے کہا: "پھر وہ اس لباس میں حاصل نہیں ہو سکتی جو اپ نے پہنا ہوا ہے۔" ہاں جی! انہوں نے کہا کہ: "ٹھیک ہے۔ یہ لباس ضروری نہیں ہے۔" انہوں نے خادموں کا لباس منگوایا۔ ان سے کہا یہ لباس پہنو۔ انہوں نے پہن لیا۔

                    انہوں نے جا کر حمام جو تھا نا اس میں پہنچا دیا، جو آگ جس میں ڈالی جاتی ہے۔ تو فرمایا کہ: "یہ لکڑی ہے، مطلب یہ اپ نے کاٹنی ہے۔ اور یہ اس میں اپ نے ڈالنی ہے۔ اس کو حمام کو گرم رکھنا ہے۔ بس اپ کا کام یہی ہے۔ اور اپ جو ہے نا مطلب دن کے وقت تو یہی کریں گے، رات کو اپ ارام کریں گے، نماز اپنے وقت پہ پڑھیں گے، کھانا اپنے وقت پہ ملے گا، مجھ سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے، بس اپ کا یہی کام ہے۔"

                    تشکیل ہو گئی، مطلب جو ہے نا بس وہ شروع ہو گیا۔ اس پر جو ہے نا وہ... اب دیکھیں اصل میں ہوتا کیا ہے؟ اس واقعے میں بہت بڑی عبرتیں ہیں۔ تو اس پر جو ہے نا وہ حضرت نے مان لیا، تو تیار تھے اس کے لیے، شروع کر دیا۔ جس طرح فرمایا اس طرح کرتا رہا، چھ مہینے گزر گئے۔ چھ مہینے کے بعد حضرت نے ایک بھنگن کو بلایا جو وہاں کام کرتی تھی۔

                    کہا: "یہ جو گندگی کا جو ٹوکرا ہے، وہ اس کو اس طرح غیر محسوس انداز میں اس طرح گرانا ہے کہ کچھ حصہ ان کی طرف بھی ا جائے۔ ہاں جی؟ اور دیکھو کہ وہ کیا کرتا ہے۔" ہاں جی؟ تو انہوں نے ایسے ہی کیا، تو انہوں نے اس کو گھور کے دیکھا اور کہا: "نہ ہوا گنگوہ، یعنی گنگوہ ہوتا تو میں تمہیں دیکھ لیتا کہ تو کس طرح کرتی ہے۔" ہاں جی؟

                    انہوں نے جا کر report دے دی، کہا: "اچھا، ابھی سجادگی کا خو بو باقی ہے۔" ہاں جی! "خو بو باقی ہے۔" تو خیر ایسا ہوا کہ پھر چلتے رہے، تقریبا چھ مہینے اور گزر گئے۔ پھر ان کو اس طرح، کہا کہ "کچھ اور قریب ان کے گرا دینا۔" گرا... اس دفعہ جو ہے نا انہوں نے گھور کے دیکھا لیکن کہا کچھ بھی نہیں۔ تو انہوں نے جا کے report کی، کہتے ہیں: "ماشاءاللہ ترقی ہوئی ہے۔" ہاں جی؟

                    پھر اگلی دفعہ کچھ عرصہ اس طرح کرتے رہے، اور پھر اخر میں فرمایا کہ: "اس طرح کر لے کہ کچھ اس کے اوپر ہی پڑ جائے۔" ہاں جی؟ اس دفعہ جب انہوں نے کیا، تو وہ بن گئے تھے، تو وہ افسوس کرنے لگے کہ: "میں غلط جگہ پہ بیٹھا ہوا تھا اور اپ کو تکلیف ہو گئی اور..." اس میں ہاتھ سے اس میں ڈالنے لگے اور یہ اور وہ چیزیں۔

                    اس پر جو ہے نا وہ جو بھنگن گئی تو انہوں نے کہا: "حضرت، وہ میاں تو بڑے تبدیل ہو گئے، اب تو اس طرح کہنے لگے۔" کہتے ہیں: "ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، بہت اچھا ہوا، بہت اچھا ہوا، چلو اب اخری طریقہ۔" اخری طریقہ یہ ہوا کہ فرمایا جی: "وہ اس کے شکار کے لیے چلتے ہیں۔" دو شکاری کتے تھے، ان کے حوالے کیے گئے۔ ان کو کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں ہے۔ کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں ہے۔ اب شکاری کتے تازہ، اور یہ کمزور۔

                    تو انہوں نے اپنے کمر کے ساتھ ان کو دونوں کو باندھ لیا، رسی ان کی باندھ لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس وقت شکاری کتوں نے شکار دیکھ لیا تو اچھل پڑے۔ اچھل پڑے تو بیچارے گر پڑے۔ اب ان کو کھینچ رہے ہیں، کبھی جھاڑیوں میں، کبھی پتھروں پہ، لہولہان ہوتے جا رہے ہیں۔ ہاں جی؟

                    اتنے میں حضرت بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کو اونگھ ائی۔ اونگھ ائی تو حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اونگھ میں، گویا کہ خواب میں ائے، فرمایا: "میں نے تو تجھ سے اتنی محنت نہیں لی تھی، جتنی تو نے میرے پوتے سے لی ہے۔" ہاں جی؟

                    تو ان کو فورا سمجھ میں ا گیا: "اوہو، یہ تو اور... اور ہو گیا معاملہ۔" تو خیر بہرحال وہ جاگ گئے، اور انہوں نے بندے دوڑا دیے کہ "جاؤ جاؤ بھئی! اس باؤلے کو پکڑ کے لے اؤ، کہاں پر گیا؟" ہاں جی؟ تو دیکھا کہ جھاڑیوں میں پڑے ہوئے ہیں لیکن چہرہ ہشاش بشاش ہے، تکلیف کا کوئی احساس نہیں۔ بہت خوش ہے۔ بہت خوش ہے۔

                    تو اس پر جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ پوچھا: "بھئی کیا ہوا؟" انہوں نے کہا: "تجلی ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجلی ہو گئی۔" تو مطلب "اس تجلی کے شوق میں، انتظار میں تھے کہ پھر تجلی ہو جائے۔ ہاں، پھر تجلی ہو جائے۔" تو اپنے سانس کو روکے رکھا، کہ میں تب سانس لوں گا جب دوبارہ تجلی ہوگی۔ ظاہر ہے وہ بڑی چیز ہوتی ہے۔

                    تو کچھ دیر تک تو نہیں ہوئی، لیکن جب ہو گئی، تو یکدم سانس جو کھلا تو اس سے تین پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ تو اوپر سے اواز ائی: "اپنے شیخ کو کہو کہ تمہیں چوزوں کا شوربہ پلائے۔" اور ایک دوائی اسمان سے ا گئی، وہ ان کے منہ میں ڈال دی گئی۔ تو اس طریقے سے مطلب جو ہے نا وہ... حضرت نے ماشاءاللہ ان کا علاج پھر کیا۔ جب بالکل ٹھیک ہو گئے تو ان کو خلعت پہنائی، فرمایا: "تم خوش نصیب ہو کہ ہم جو نعمت تیرے گھر سے لائے تھے، وہ اپ اپنے گھر لے جا رہے ہیں۔"

                    یہ... یہ ہوتی ہے تربیت۔ ہاں جی؟ اب لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں کیوں یہ کرتے ہیں۔ مجھے بتاؤ یہ چیز، یہ سجادگی کا جو خیال ہے، وہ کس طرح اسانی سے جا سکتا ہے کسی کے دماغ سے؟ ہاں جی؟ نہیں جا سکتا۔ تو اس کو لے جانے کے لیے، کہ مطلب یہ کہ "میں کچھ ہوں"، وہ اس کو لے جانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ محنت اسی قسم کی ہوتی ہے۔

                    تو بہرحال یہ ہے کہ حضرت مطلب جو ہے نا وہ بتاتے ہیں: لذاتِ دنیا میں ہم چرتے رہے گاہ پہاڑ گاہ جنگل بھٹکتے رہے

                    یعنی چونکہ عمر لذاتِ دنیا کی خشکی سے، راستے میں کٹی، کبھی پہاڑ، کبھی جنگل، کبھی بیابان، اس میں بھٹکتے رہے۔

                    سیرِ باطن کا کہاں آبِ حیات پائے گا کیوں کر تو پھر باطن کی بات

                    "پھر تو سیرِ باطن کا آبِ حیات کہاں پائے گا؟ اور دریائے باطن کی موج کو کہاں چیرے گا؟ یہ تیرے ساتھ کیسے ہوگا؟"

                    خاکی موج ہے فہم و وہم و فکرِ ما موجِ آبی محو و سکر اور فنا

                    مطلب یہ ہے کہ جو خاکی ہے، —------مطلب ہماری سمجھ ہے، ہمارا وہم ہے اور ہماری فکر ہے۔ اور جو مطلب جو یعنی دریائے معرفت ہے، وہ کیا ہے؟ اس میں محو ہونا ہے، اس اور اس میں فنا ہونا ہے۔ ہاں جی؟

                    تو یعنی خاکی موج ہمارا فہم و وہم اور فکر ہے جو دنیوی امور کے حالات کا احساس ہے۔ آبی موج، محو اور معرفت کا نشہ اور فنا ہے۔

                    مستحلق فکرِ حسی میں تم ہو گم معرفت کا جام نہ پی سکتے ہو تم

                    مطلب یہ ہے کہ تم فکرِ حسی میں جب تک گم ہو گے، تو معرفت کا جام تم کیسے پی سکتے ہو؟ وہ تمہیں کیسے ملے گا؟ مطلب تم اپنے احساسات کی قید میں ہو۔ ہاں جی؟ تم اپنے احساسات کے قید میں ہو۔ لہٰذا تم اس سے باہر نہیں ا سکتے۔ جب تک تم اپنے احساسات کے قید میں ہو، اس وقت تک معرفت نہیں تمہیں حاصل ہو سکتی۔

                    اپنے احساسات میں قید سے باہر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کھائے نہیں، پیے نہیں، سوئے نہیں۔ نہیں، یہ والی بات نہیں! ان کا غلام نہ بنے۔ مثال کے طور پر نیند اچھی طرح ا رہی ہے لیکن نماز کا وقت ہے۔ اس وقت وہ نیند اس کو نماز سے محروم نہ کر سکے۔ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ۔ وہ اس کے دل کو مطلب ظاہر ہے وہ سمجھے۔ اور اس وقت اٹھے، چاہے کتنی تکلیف ہو، کیونکہ اس وقت اللہ کا حکم ہے۔ اس وقت اپ نے اپنے جسم کا نہیں ماننا، اس وقت اپ نے اللہ تعالیٰ کی ماننا ہے۔ ہاں جی؟

                    اس طرح مطلب اپ کو کھانے کو بہت جی چاہتا ہے لیکن روزہ ہے۔ اپ نے اللہ کا ماننا ہے۔ اپنے اپنے جسم کا تو نہیں ماننا۔ اب دیکھ لیں! —--------- یعنی ہمارے پاکستان میں، ہندوستان میں یہ جو پتھر کوٹنے والے جو مزدور ہوتے ہیں نا، مطلب جون جولائی میں سڑک جو کرتے ہیں، ان کا روزہ ہوتا ہے۔ اور air condition کمروں میں بیٹھنے والوں کا روزہ نہیں ہوتا۔ یہ کیا چیز ہے؟ ہاں جی؟ تو اس کا وجہ یہ ہے کہ ان کو احساس ہے اپنے، تو وہ اس حالت میں بھی روزہ رکھتے ہیں۔ اور یہ جو air condition کمروں میں بیٹھنے والے ہیں، یہ اپنے احساسات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مطلب ان کو ہر وقت اپنی پڑی ہے کہ "میرا فلاں چیز نہیں، میری فلاں چیز نہیں،" لہٰذا مطلب جو ہے نا وہ ان چیزوں سے مستثنیٰ ہیں۔

                    اس طرح حج کے موقع پر دیکھیں جائے۔ تو اس میں ان احساسات کو توڑا جاتا ہے۔ حج کے جتنے بھی اعمال ہیں اس میں احساسات کو توڑا جاتا ہے، کہ تم جو سمجھتے ہو، وہ ایسا نہیں ہے۔ جو میں کرواتا ہوں، اس طرح کرنا پڑے گا۔ ہاں جی؟ اس وجہ سے مطلب وہ کرنا پڑتا ہے۔

                    تو بہرحال یہ ہے کہ: مستحلق فکرِ حسی میں تم ہو گم معرفت کا جام نہ پی سکتے ہو تم

                    ظاہری گفتار قلب کا ہے حجاب ہو خموش کچھ ہوش سے ہو باریاب

                    (ہوش سے تھوڑا سا باہر آ جاؤ، پھر تم باریاب بن جاؤ گے۔) یعنی ظاہری گفتگو، غبار کی طرح حجابِ قلب ہوتی ہے۔ خبردار! کچھ مدت خاموش رہو، اور ہوش رکھو۔

                    تو اس حدیث شریف پر یہ مضمون مشتمل ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللَّهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي. (ترمذی شریف)

                    فرمایا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ گفتگو نہ کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ بولنا دل کی سختی کا موجب ہے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ سے زیادہ دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہے۔

                    اب دیکھ لیں مطلب جو ہے نا وہ... تو مطلب اب یہ ہماری باتیں کس لیے ہوں؟ وہ صرف اس لیے ہوں کہ اس میں اللہ پاک کا ذکر ہو۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے ساتھ ہم بولیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر ہماری زبان پہ مطلب جاری ہو۔ جس طرح اپ ﷺ نے بھی فرمایا، پوچھا گیا کہ ہر وقت میں کیا کام کروں؟ صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ اپ ﷺ نے فرمایا: "تم اپنی زبان کو ذکر سے تر رکھو۔" رَطْبُ اللِّسَانِ رہو۔ ذکر سے رَطْبُ اللِّسَانِ رہو۔

                    تو مطلب یہ چیزیں ہیں۔ یہ (حکایت 27) ایک بات ہو گئی۔


                    (حکایت نمبر 28)

                    یہ حکایت نمبر 28 ہے۔ اس میں فرماتے ہیں کہ: "مریدوں کا پھر عرض کرنا کہ خلوت سے مہربانی کر کے نکلیے، کیونکہ ہم اپ کے، مطلب، ملاقات کے مشتاق ہیں۔"

                    سارے بولے اے حکیمِ رخ نجو! یہ جفا کی باتیں ہم سے نہ کریو

                    (یہ اس طرح باتیں تو ہمارے ساتھ نہ کریں نا، مطلب ظاہر ہے کہا کہ مہربانی کر کے ہم پر رحم فرمائیں۔) یعنی "اے دانا، بوجہ استغناء ہماری حالت خلوت گوارا کرنے والے، متالم نہ کرنے والے، یہ ٹال مٹول اور جفا کی باتیں ہم سے نہ کہیے۔"

                    ہم اسیرِ شوق ہیں ٹل جائیں گے کب؟ بے دل و جاں دھوکہ ہم کھائیں گے کب؟

                    مطلب "ہم تو اسیرِ شوق ہیں، کب تک ہم کو ٹالنے کے لیے دھوکہ دو گے؟ ہم بے دل و بے جان ہیں، کب تک عتاب کرو گے؟" مطلب یہ ہے کہ یہ جو ہے نا مطلب... بلکہ ایک شکوہِ عتاب آمیز ہے جو غلبہِ عشق کے خاص لوازم میں سے ہے۔

                    جب کیا قبول ہمیں از ابتدا مرحمت کا نظر اب تا انتہا

                    "جب تم نے ہمیں عادی کر لیا اس قسم کا، ملائمت کا اور احسان کا اور تعلق کا، تو مرحمت کی نظر اب تا انتہا۔ اب اس کو اگے تک بڑھائیے، مطلب اس کو ختم نہ فرمائیے۔"

                    ضعف و عجز و فقرِ ما جانتے ہیں آپ درد ہمارے کی دوا جانتے ہیں آپ

                    "ہمارے ضعف کو، عجز کو، فقر کو آپ جانتے ہیں۔ جو ہمارے درد ہیں، اس کی دوا بھی آپ جانتے ہیں۔ لہٰذا اپ ہم پر مہربانی فرمائیں، باہر تشریف لائیں۔"

                    حسبِ طاقت بوجھ چوپائے پہ ڈال حسبِ قوت کام ضعیفوں سے نکال

                    مطلب یہ ہے کہ مرید یہ عرض کرتے ہیں کہ اپ گوشہ نشین رہیں تو ترویجِ دین اور تنسیخِ مہماتِ مذہب کا بار ہم پر پڑ جائے گا، جس کے برداشت کرنے کی اہلیت ہم نہیں رکھتے۔ اس کے ضمن میں سلوک و طریقت کی یہ تعلیم بھی اگئی کہ طالبوں پر ان کی استعداد سے زیادہ بار نہیں ڈالنا چاہیے۔ یعنی تکمیل سے پہلے منصبِ ارشاد بخش دینا، اور صلاحیت کے بغیر منصبِ خلافت عطا کرنا مناسب نہیں ہے۔

                    یہ بہت اہم بات ہے جو کہ مطلب دیکھیں میں آپ کو بتاؤ یہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں نہیں آ سکتیں۔ یعنی ایک انسان ہے اگر اس کی وہاں پر selection نہیں ہوئی، یعنی ملائے اعلیٰ میں selection نہیں ہوئی، اور اپ نے اس کو وہ کام دے دیا، تو ادھر سے مدد نہیں ہے۔ تو کیسے کرے گا وہ کام؟ نتیجتاً لوگ بھی پریشان ہو جائیں گے، وہ بھی پریشان ہو جائے گا۔ بظاہر تو خوش ہو جائے گا کہ اس کو اپ نے ایک... دے دیا۔ لیکن یہ دنیا کی چیز تو ہے نہیں، یہ تو آخرت کی چیز ہے۔ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے۔ لہٰذا یہ جس وقت مطلب کام کرے گا تو وہ کام میں اس کے ساتھ وہ مدد نہیں ہوگی، جس طرح مدد مقبول لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

                    جیسے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ: "مطلب اپ لوگ روزہ اس طرح تواتر سے نہ رکھیں۔" تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اپ بھی تو اس طرح کرتے ہیں۔ فرمایا: "میری طرح تم میں کون ہے؟ مجھے تو اللہ میاں کھلاتے ہیں، پلاتے ہیں۔"

                    یہ مطلب گویا کہ اشارہ ہے کہ جن کی قبولیت ہو جاتی ہے، ان کے ساتھ پھر اللہ پاک کی مدد ہوتی ہے۔ وہ چیزیں عام چیزوں سے بالاتر ہوتی ہیں۔ عام لوگ اس کو نہیں سمجھ پاتے کہ یہ کس طرح یہ کام ہو رہا ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسباب کے اندر، جو قدرت کو جو چھپا دیا جاتا ہے، اس طریقے سے کام ہوتے ہیں۔ تو پہلے سے اگر اپ نے ان کو دے دیا کام، تو وہ چیز اس کے ساتھ ہوگی نہیں، نتیجتاً وہ بس کچومر نکلوا دیں گے، پریشان ہو جائے گا۔

                    ہر پرندے کے مناسب دانہ ہو کسی کا انجیر کسی کا دانہ ہو

                    مطلب یہ کہ ہر پرندے کا کھانا اس کے اندازے کے موافق ہونا چاہیے۔ ہر پرندے کی خوراک انجیر کب ہوتا ہے؟ وہ تو ہر ایک کا الگ ہے۔

                    روٹی بچے کو اگر کھلاؤ گے تو اس بیچارے کو مردہ پاؤ گے

                    مطلب یہ ہے کہ اگر اپ نے بچے کو... یہ ایک بچی ہے نا، وہ ہماری پرنانی تھی، پرنانی تھی۔ تو وہ جو ہے نا... ان کو بھئی مطلب ظاہر ہے، یہ نہیں ہوتا یعنی ہم اس کو مینا کہتے ہیں، مینا، وہ جو بولنے والا پرندہ ہوتا ہے۔ ہاں جی؟ تو وہ اس کو جو ہے نا مطلب کھلا رہی تھی، کھلا رہی تھی، کھلا رہی تھی... ظاہر ہے اس میں اتنا وہ نہیں تھا، وہ تو رحم کر کے کھلا رہی تھی کہ بھوکی ہے۔ اور ظاہر ہے اس کا وہ جو ہے نا بھر گیا تو بس وہ مر گئی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس طرح بچے کو اگر روٹی کھلاؤ گے تو وہ تو مر جائے گا۔

                    دانت وہ بچہ اگر نکالے گا روٹی اس کے بعد وہ بھی کھا لے گا

                    مطلب اگر دانت اس کے ا جائیں گے پھر اس کے بعد اس کو روٹی دو گے تو پھر روٹی کھا لے گا۔

                    پر نہ ہوں جس کے، اگر اڑنے لگے بلی کا لقمہ وہ پھر بننے لگے

                    جس کے پر نہیں ہوں، اور اپ نے اس کو مطلب جو ہے نا اڑنے دے دیا... یہ پرندے اس بارے میں بڑے ہوشیار ہوتے ہیں۔ وہ نہیں نکلنے دیتے اپنے بچوں کو جب تک کہ وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنے اپ کو بچا سکیں۔ اس طرح یہ بلی وغیرہ جو ہے نا اپنے بچوں کو بھی باہر نہیں نکلنے دیتے۔ اس کو پہلے training دیتے ہیں، ہم نے دیکھا ہے ان کو training دیتے ہوئے۔ باقاعدہ دیوار پہ چڑھنے کی training دیتے ہیں۔ مطلب وہ اس قسم کا وہ کرتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ چیز جو ہے نا وہ ہوتا ہے۔ تو جب تک ایسا نہ ہو تو اس وقت تک ان کو گویا کہ خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔

                    اب اگر اپ نے مطلب یہ کہ ان کو بنا دیا پیر صاحب بنا دیا، ہاں جی؟ تو شیطان تو طاق میں ہے۔ وہ اپنا لقمہ بنا لے گا۔ وہ اپنا مرید بنا لے گا اس کو۔ تم اس کو پیر بنا لو گے اور وہ اس کو اپنا مرید بنا لے گا، پھر کیا کرو گے؟ ہاں جی! تو یہ خطرناک بات ہے۔

                    لیک پر اس کے جب نکلنے لگے بے تکلف خود بخود اڑنے لگے

                    جس وقت اس کے پر نکل جائیں، پھر اس کے بعد وہ خود بخود اڑنے لگے گا۔

                    یعنی اشعار کا خلاصہ اور مطلب یہ ہے کہ طریقت کے مبتدی کی مثال اس بچے یا مرغی کی سی ہے جس کے ابھی پر نہ نکلے ہوں۔ تو جس طرح بے پر بچہ اڑنے لگے تو بلی کا نوالہ بنتا ہے، اس طرح مبتدی اگر پیر کی صحبت ترک کر کے، خود پیری کا دعویٰ کرنے لگے تو اغوائے شیطانی سے روحانی ہلاکت کا شکار ہوتا ہے۔

                    اپ تو چھوڑیں، پیر مرید تو دور کی بات ہے، علم کی بات کرتا ہوں۔ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ ایک وقت میں ان کو خیال ہو گیا کہ اب میں دوسروں کے جوابات دے سکتا ہوں۔ تو اپنا ایک الگ مسند بنا لیا۔ الگ مسند بنا لیا تو حضرت امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع ہو گئی۔ تو حضرت نے ایک ادمی کو سوال دے دیا کہ یہ سوال جا کر ان سے پوچھو۔ ہاں جی؟ اب جا کر اس نے سوال پوچھا، تو اس نے جواب دے دیا۔ وہ حضرت کے پاس ائے، حضرت نے اس پہ مزید اشکال کہا کہ پھر یہ کیا مطلب ہے اس کا؟ ہاں جی؟ تو جس وقت اس کے پاس اشکال گیا تو اس نے کہا یہ سوال تو اس کا نہیں، یہ تو پھر کہیں اور سے ا رہا ہے۔ ہاں جی! یہ کہیں اور سے ا رہا ہے، لہٰذا انہوں نے اپنا سارا کچھ ختم کر کے پھر دوبارہ حضرت کے پاس ا گئے۔

                    ہاں جی! مطلب وہ حضرات اس چیز کو بھی دیکھتے تھے۔ اب اج کل مفتی بہت اسانی سے بنتے ہیں نا۔ ایک سال میں بس مفتی بن جاتے ہیں۔ تو پھر کیا کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ فتویٰ کا وہ تمام چیز تو نہیں ہوتا نا، مطلب جو اس قسم کی جو ہونا چاہیے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، پہلے وقتوں میں بڑی مشکل سے ہوتی تھیں۔ پتہ نہیں اب بھی دارالعلوم کراچی میں تین سال کی training دیتے ہیں ان کو، افتاء کورس... افتاء کورس تین سال کا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ان کو اپنے نام کے ساتھ مفتی نہیں لکھنے دیتے۔

                    یعنی ابھی تک ان کے دارالافتاء میں صرف تین چار مفتی ہیں۔ باقی سب نائب مفتی ہیں، یا، یا وہ ہیں... دارالافتاء کے وہ مطلب ارکان ہیں۔ مفتی نہیں ہیں۔ ہاں جی؟ کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ مفتی نام سے اگیا...

                    لکھا ہوا ہے کہ: "مجھے خود مولانا محمود اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب دی، تذکرۃ الرشید... تو بڑے لجاجت سے کہا: حضرت، یہ میرے نام کے ساتھ مفتی میں نے نہیں لکھا، یہ لوگوں نے لکھا ہے۔ میں، میں، میں نے نہیں لکھا!"

                    یعنی وہ اتنے بڑے ادمی، جو خود مطلب استادوں کے استاد، اور وہ فرما رہے ہیں کہ "یہ میں نے نہیں لکھا۔ یہ لوگوں نے مجھ پر لگا دیا ہے۔" ہاں جی! یہ اس طریقے سے مطلب۔

                    تو یہ بات ہے، اس طرح کوئی شاگرد گئے مطلب ان کے شاگرد تھے ظاہر ہے دارالعلوم سے، انہوں نے دارالافتاء حاصل کیا تھا، دارالافتاء کیا تھا تین سال کا کورس۔ انہوں نے اپنی کوئی کتاب لکھی، اس پر مفتی لکھا تھا۔ انہوں نے حضرت کو پیش کر لیا مفتی رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو۔ حضرت نے اتنا ڈانٹا، ڈانٹا کہ: "تمہیں کس نے مفتی بنایا ہے؟ کون تجھے مفتی کہتا ہے؟" ہاں جی؟ بجائے اس کو مبارکباد دینے کے ان کو خوب ڈانٹا۔

                    ہاں جی؟ مطلب یہ چیزیں ضروری ہیں، تربیت میں یہ چیزیں سمجھ میں اتی ہیں۔ لیکن جب استفاضہ تام کے بعد مقامِ تمکین حاصل ہو جائے، تو اس کی مثال اس پرندے کی سی ہے جو پردار ہو گیا اور اڑنے پر قادر ہے۔ ایسی حالت میں اس کو ترکِ صحبت مضر نہیں ہے۔ ہاں جی!

                    اپ کے ملفوظات نفس خاموش کرے اور کلام اپ کا کان کو باہوش کرے

                    یعنی مرید کہتے ہیں حضرت اپ کے ملفوظات (یعنی وہ ان کو کہتے ہیں)، "نفسِ شیطان کو خاموش کرتے ہیں اور اپ کا کلام ہمارے کان کو سراپا ہوش بناتے ہیں۔"

                    تو اس میں یہ ہے کہ مطلوب... مطلب یہ ہے کہ وزیر گوشہ نشین سے باہر... گوشہ نشین نے باہر نکلنے اور مریدوں سے ہمکلام ہونے کے عذر میں جو باتیں پیش کی تھیں ان میں چار باتیں تھیں: خاموش رہنا اچھا ہے۔ نمبر دو، باطنی کان کا آمادہ... کو آمادہ سماعت رکھنا چاہیے۔ نمبر تین، جس کی خشکی، بری اور دریائے... اچھا، حس کی خشکی بری اور دریائے معرفت اچھا ہے۔ نمبر چار، باطنی سر کا قبلہ توجہ بالائے فلک ہے۔

                    اب مرید ان چاروں عذروں کو صحیح مانتے ہوئے، دوسرے پیرائے میں خواہش دیدار پر اصرار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس شعر میں پہلے دو... کے متعلق گزارش کرتے ہیں کہ بے شک نفس کو خاموش کرنا اور سامعۂ باطن سے کام لینا ضروری ہے۔

                    مگر یہ مقصد بھی اپ کے کلام ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ تو اپ باہر ائیں گے تو ہمیں یہ چیز حاصل ہوگی نا۔

                    یعنی اپ کا کلام ہی نفس و شیطان کو خاموش اور ہمارے سمع و باطن کو تیز کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔)

                    کان اپ کے گفت سے باہوش پائیں ہم اپنی خشکی ہو اپ کے دریا سے نم

                    (جب اپ بولتے ہیں تو ہمارے کان ہمہ تن ہوش ہوتے ہیں۔ جب اپ دریائے افاضہ بن کر بہتے ہیں تو ہماری صفاتِ جسمانیہ کی خشکی دور ہو کر صفاتِ روحانیہ بن جاتی ہے۔)

                    یعنی پہلے مصرعے میں دوسرے عذر کے متعلق عرضِ مقرر ہے، اور دوسرے مصرعے میں تیسرے عذر کے متعلق گزارش ہے کہ بے شک ہم بھی دریائے باطن کے اگے حیاتِ خشکی کو ہیچ سمجھتے ہیں، لیکن یہ دولت بھی اپ کی صحبت سے میسر ہو سکتی ہے۔ ہاں جی!

                    ہو طفیل اپ کے منور کل جہاں اور لگے زمین بہتر از آسماں

                    یعنی اے وہ کہ اپ کی برکات سے، بالائے فلک سے لے کر زیرِ زمین تک سارا عالم منور ہے۔ اپ کی بدولت ہم کو زمین بھی اسمان سے اچھی لگتی ہے۔ (یعنی وزیر کے چوتھے عذر کے متعلق گزارش ہے کہ بے شک سیر باطن کا قبلہ توجہ بالائے فلک ہے، مگر ہمارے لیے تو اپ کا استانہ فلک سے بڑھ کر ہے۔ یعنی ہمیں تو فلک سے بھی کچھ ملے گا تو اپ کے ذریعے سے ملے گا۔ لہٰذا اپ باہر تشریف لائیں تاکہ ہم بھی کچھ حصہ پائیں۔)

                    ہو فلک تاریک بنا آپ کے عجب! آپ کے ہوتے زمیں تاریک ہے کب؟

                    (یعنی ہم اگر اسمان پر بھی جا پہنچیں تو اپ کے بغیر اندھیرا محسوس ہوگا۔ تو اے افقِ ہدایت کے چاند! اپ کی موجودگی میں زمین کب تک... کب تاریک ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اپ کی معیت اگر حاصل ہو تو زمین بھی ہمارے لیے رشکِ فلک ہے۔ اور اگر معیت نہیں، تو فلک اور عجائباتِ فلک سے بھی کوئی لطف و لذت نہیں ہے۔)

                    یہ مجھ پہ... مجھے ایک اور چیز یاد اگئی۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے عزیز خلیفہ تھے، اور شاعر تھے، بہت بڑے۔ ایک دفعہ ایک مشاعرے میں چلے گئے۔ مشاعرے میں ظاہر ہے ان کا... مشاعرے میں ازاد لوگ ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں ان مشاعروں کا بڑا رواج تھا۔ تو اچکن پہنے ہوئے ہیں، متشرع ہیں، کراکلی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ اواز بھی بڑی اچھی ہے۔ لیکن لوگ hooting کر رہے ہیں۔ hooting کر رہے ہیں کہ: "یہ کیا ہے، مولوی کہاں سے ا گیا؟ یہ مطلب یہ ہے کہ یہاں پر... مطلب مشاعرے میں مولوی کہاں سے ا گیا؟"

                    تو یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ حضرت کو بالکل اثر نہیں ہو رہا۔ hooting کر رہے ہیں، کر رہے ہیں، کر رہے ہیں۔ ایک ظالم نے اذان بھی دینی شروع کی کہ بھئی یہ تو مسجد تو نہیں ہے کہ مطلب جو ہے نا یہاں پر... مطلب مولوی ا گیا ہے۔ حضرت پھر بھی خاموش ہیں۔ جب لوگ اس نیچے... جب دب گئے، تو حضرت نے پہلا مصرعہ کہا:

                    گھٹا اٹھی ہے، تو بھی کھول زلفِ عنبریں ساقی! (گھٹا اٹھی ہے، تو بھی کھول زلفِ عنبریں ساقی!)

                    وہ بہت جو فقرہ سننا تھا کہ لوگ تو سانپ سونگھ گیا! بھئی یہ کیا ہے، یہ تو بہت بڑا زبردست شاعر ہے! ہاں جی؟ تو وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ لوگ سانپ سونگھ گئے۔ اس کے بعد جو دوسرا مصرعہ پڑھا:

                    تیرے ہوتے فلک سے کیوں ہو شرمندہ زمیں ساقی! (جب تو موجود ہے، تو مطلب ہے زمین فلک سے کیوں شرمندہ ہو؟)

                    تو لوگ سمجھے کوئی مجازی شاعری ہے۔ لیکن دوسرے تیسرے شعر میں جب یہ بات اپ ﷺ کے لیے کہی گئی، بس سب کو پتہ چل گیا کہ تو نعت شریف ہے۔ ہاں جی! لیکن پھر بعد میں کسی کو کہنے کی کچھ جرات نہیں ہوئی۔ سب کو جو ہے نا مطلب ہے کہ اس لائن کے اوپر لے ائے۔ تو یہاں پر بھی یہ بات کی گئی ہے کہ:

                    تیرے ہوتے زمین بھی ہمارے لیے رشکِ فلک ہے۔

                    آپ کے چاند چہرے سے شب تاریک ہے کب بے بنا نور آپ کے دن تاریک ہے جب

                    یہ تو میرے خیال میں سمجھ میں آ رہا ہے۔

                    خاک پہ سبقت لے گئے آسماں سے ہم

                    ہوتے اگر آسماں پہ بن آپ کے ہو کم

                    یعنی ہم زمین پر ہیں، لیکن ہم آسمان سے سبقت لے گئے ہیں۔ اس وجہ سے... ہوتے اگر آسماں پہ بن آپ کے ہو کم... یعنی اگر آپ کے... بغیر ہم آسمان پہ بھی چلے جائیں تو پھر کم ہوں گے یعنی اس... یعنی اس وقت ہم بہتر حالت میں ہیں۔ یعنی آپ کے طفیل ہم زمین پر مقیم ہونے کے باوجود آسمان سے سبقت لے گئے ہیں، اور آپ کے بغیر ہم اگر آسمان پر بھی جا پہنچیں تو خاک کی طرح پست ہوں گے۔ یعنی گو ہم زمین پر مقیم ہیں مگر آپ کی تعلیم و تلقین کی برکات سے ہمارا رتبہ آسمان سے بڑھ کر ہے، لیکن ان برکات سے محروم ہو کر آسمان پر بھی جا رہیں تو یہ مکانی بلندی اس روحانی رفعت کے مقابلے میں ہمارے لیے کچھ بھی فضیلت... موجب فضیلت نہ ہوتی، بلکہ ہم خاک کی طرح ناچیز ہوتے۔

                    صورتِ رفعت ملی آسمان کو اور حقیقت اس کی ملی جان کو

                    (یعنی ظاہری بلندی اسمان کو حاصل ہے اور اصلی بلندی پاک روح کو حاصل ہے۔ یعنی اوپر جو کہا تھا کہ اپ کی صحبت کے بغیر ہم زمین پر بھی سر بلند ہیں۔ اور اگر صحبت سے محروم ہو تو اسمان پر جا کر بھی پست رہیں گے۔ اب اس فرق کی وجہ بتائی کہ اسمان جسم ہے، اور جسم کی بلندی ظاہری و صوری ہوتی ہے۔ اور روح ایک امرِ معنوی ہے۔ اس کی رفعت بھی معنوی و باطنی ہے۔ اور چونکہ روح مقصود ہے اور جسم غیر مقصود، اس لیے روح کی بلندی بھی، بمقابلہ جسم کی بلندی کے مقصود ہے۔)

                    صورتِ رفعت برائے جسم ہا پیشِ معنی جو ہیں اسماء کی طرح

                    (یعنی ظاہری بلندی اجسام کے لیے ہے۔ اور اجسام معنی کے اگے بمنزلہ اسماء کے ہیں۔ یعنی معنی کے سامنے الفاظ کیا ہیں؟ یعنی مطلب جو ہے نا، اصل چیز تو معنی ہے۔ اجسام تو ایک اس کی ایک ظاہری صورت ہے۔ تو جس طرح مطلب ہے کہ کسی چیز کا نام ہو، تو نام تو مطلوب نہیں ہوتا، وہ چیز مطلوب ہوتا ہے۔ نام سے تعارف ہوتا ہے لیکن مقصود تو چیز ہوتا ہے مثلاً اپ کہتے ہیں مجھے امرود دے دو۔ تو کیا امرود کا نام اپ کو چاہیے یا امرود چاہیے؟ تو امرود تو اس کا تعارف ہے۔ لیکن اصل تو امرود کا مطلب حقیقت ہے کہ اپ کو مل جائے۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ معنی کے سامنے اسماء کی طرح ہے۔)

                    اللہ، اللہ، یک نظر بر ما فگن! لا تُقَنِّطْنا، فَقَدْ طَالَ الحَزَن!

                    (برائے خدا، برائے خدا، ایک نظر ہم پر ڈالو۔ اور ہم کو ناامید نہ کرو کیونکہ غم حد سے بڑھ گیا ہے۔)

                    تو یہ گویا کہ اس کو کہنے کے بدولت حضرت نے تصوف کی بہت ساری چیزیں بیان کر دیں۔ ہاں جی؟ یہی طریقہ مطلب جو ہے نا مطلب اس کا ہے۔ مطلب مثنوی شریف کا ہے۔

                    اللہ جل شانہ ہمیں حضرت کے فیوض... کے ذریعے سے، ایسے راستے کی بہت ساری فیوض و برکات نصیب فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کی غلطی سے بچا لے۔

                    وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین۔ برحمتک یا ارحم الراحمین۔

                    درسِ مثنوی: ظاہری حواس سے باطنی کمال تک کا سفر - درسِ اردو مثنوی شریف - پہلا دور