اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔معزز خواتین و حضرات، -ماشاءاللہ- آج منگل کا دن ہے۔ جو مثنوی شریف کا درس ہے، براہ راست کافی مدت کے بعد یہاں سے ہو رہا ہے۔ اور اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں جو ترجمے کا کام ہے، وہ سفر میں زیادہ تر ہوا ہے۔ تو اس وجہ سے ایک -ماشاءاللہ- کافی مجاہدے سے ہوا ہے۔
اس میں حکایات کے ذریعے سے تشریح ہوتی ہے بہت ساری اہم چیزوں کی۔ تو اس وجہ سے حکایات پہ نہیں توجہ دینی چاہیے، اس میں اصل میں جو مفاهیم اور مضامین ہوتے ہیں نا، وہ اصل چیز ہوتی ہے۔ تو ہم لوگوں کو خیال اسی کا رکھنا چاہیے۔
تو یہ قصہ جو چل رہا ہے، نئے لوگوں کے لیے میں عرض کر رہا ہوں، کہ یہ قصہ اصل میں ایسا ہوا تھا کہ یہود کا جو بادشاہ تھا، وہ عیسائیوں کا دشمن تھا۔ تو وہ عیسائیوں کو بے دریغ قتل کر رہا تھا۔ تو ظاہر ہے جب اس طرح بے دریغ قتل ہو رہا ہو تو لوگوں کا مزاج ان کے خلاف بنتا ہے۔ تو وزیر جو تھا وہ بڑا کائیاں تھا۔ اس نے کہا، بادشاہ سلامت ایک بات عرض کرتا ہوں، آپ جو اس طرح بے دریغ ان کو قتل کرتے ہیں اس سے آپ کی Reputation اچھی نہیں بن رہی۔ میں کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈتا ہوں کہ یہ خود ختم ہو جائیں اور آپ کے اوپر کوئی بات نہ آئے۔ اس نے کہا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہا بس آپ میری بات پہ عمل کر لیں، ہو جائے گا۔ کہا کیا بات؟ کہا آپ یوں کریں کہ میرے ناک، کان کاٹ لیں، جیسے میں آپ کا معتوب ہوں، یا کسی میں، میں کسی کا Agent ہوں جیسے، اور پھانسی گھاٹ پہ مجھے لے جائیں۔ پھر کسی سے کہہ دیں کہ میری سفارش کر لے، کہ چلو جی اس کو ماریں نہیں بس اس کو ملک بدر کر لیں۔ پھر آپ اس کی سفارش مان لیں اور مجھے ملک بدر کریں۔ میں ان لوگوں میں چلا جاؤں گا، تو یہ مشہور کر دوں گا کہ میں چونکہ عیسائی تھا اندر سے، اور مجھے پتہ چل گیا تھا کہ حق یہ ہے۔ تو بادشاہ اس پر مجھ پر غصہ ہو گیا، اور چونکہ میری بہت زیادہ خدمات تھیں، اس وجہ سے مجھے مارا نہیں لیکن یہ کہ مجھے ملک بدر کر دیا اور یہ سزا مجھے دی۔ اس سے ان کا ہیرو بن جاؤں گا۔ پھر میں ظاہر ہے ان کو اپنے طریقے سے رکھ لوں گا۔
تو ایسے ہی بادشاہ نے کیا تو پھر جب یہ ملک بدر ہو گیا، عیسائیوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ بہت سارے لوگوں نے اس کو اپنا امام اور پیشوا بنایا۔ چھ سال تک اس طرح کرتا رہا۔ جو لوگ، اس میں بارہ امیر تھے۔ بارہ امیروں کو، ہر ایک کو الگ الگ انجیل پڑھائی۔ اور ہر ایک کو یہ کہا کہ اصل تم میرے خلیفہ ہو۔ اور جس وقت میں مر جاؤں، تو تم نے سب کو جمع کرنا ہے، جو تیرے سے انکار کر لے، تیری خلافت نہ مانے، اس کو قتل کر دے یا قید کر دے۔ ہر ایک سے یہ کہا۔
تو بس پھر اس کے بعد یہ ہوا کہ آخر چھ سال کے بعد یہ خلوت نشین ہو گیا۔ تو مرید بیچارے وہ کہہ رہے تھے کہ آپ باہر آئیں، تشریف لائیں، اور آپ ہماری یہ کریں۔ یہ بہت چالاکی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔ اس کے بعد ابھی
دفتر اول: حکایت: 31
وزیر کا مریدوں کو خلوت شکنی سے مایوس کر دینا
1
اندر سے وزیر نے آواز دی انہیںاے مریدو تم پہ یہ واضح رہے
2
کہ دیا پیغام عیسیٰؑ نے ہے یوںمیں تمام یاروں سے اب الگ رہوں
اب میرا کام بس تمہارے ساتھ درمیان میں ختم ہو گیا، اب میں الگ رہنا چاہتا ہوں۔ یا کریم!
3
منہ دیوار میں دے کے الگ رہوںہستی سے اپنی بھی میں جدا رہوں
(اور حکم ہے کہ) دیوار میں منہ دے کر اکیلا بیٹھ جا اور اپنی ہستی سے بھی علیحدگی اختیار کر۔
وہی وہ تصوف کی جو باتیں ہیں نا، وہ کر رہا تھا۔
4
اس کے بعد بولنے کی اجازت نہیںحق یہ ہے اسکی اب ضرورت نہیں
بس اب بولنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں بس ٹھیک ہے جی جو پیغام تھا پہنچا دیا آپ لوگوں کو۔
5
الوداع اے دوستو میں مر گیاآسمان پہ چلنے کے اسباب کر گیا
یعنی اب مجھے مرا ہوا سمجھو۔
اے دوستو الوداع! (اب سمجھ لو کہ) میں مر گیا (اور چوتھے آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کے پاس) اپنا اسبابِ قیام اٹھا لے گیا۔ (یعنی اب عنقریب ایسا ہونے والا ہے۔)
6
تاکہ بھٹی میں میں لکڑی سا نہ جلوںخواہشات کے جال میں اب نہ پھنسوں
مطلب یہ ہے کہ ابھی میں یہ قربانی دے کے، جو جہنم میں لکڑی کی طرح میں نہ جلوں۔ اور خواہشات کے جال میں اب نہ پھنسوں، اب میں اپنی ہر طرح سے مشقت کو برداشت کرتا ہوں اور میرے جو زمین پر ما سوائے اللہ کے تعلقات ہیں، اس سے میں اپنے آپ کو نکال رہا ہوں۔ اب اس کے بعد میں چوتھے آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کے پہلو میں بیٹھوں گا۔
اب جو شارح ہیں اس کے وہ یہ کہہ رہے ہیں
سوال: احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ و علیٰ نبینا الصلوٰۃ والسّلام ملے تھے۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان کا مقام فلکِ دوم پر ہے، مگر یہاں ان دونوں شعروں میں آسمان چہارم پر ان کا موجود ہونا مذکور ہے۔
جواب: چونکہ شعراء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فلک چہارم پر ہونا مشہور ہے اس لیے مولانا نے بناءً علی المشہور ایسا لکھ دیا، یا اس لیے کہ یہ مقولہ ہے وزیر کا جو نصارٰی سے مخاطب ہے اور شاید ان نصارٰی کا یہی عقیدہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چوتھے آسمان پر ہیں۔ اس لیے وزیر اپنے قول و فعل کو ان کے عقائد کے موافق رکھ کر فریب دے رہا ہو۔
8
اور بلا کر بارہ امیروں کے ساتھمخفی خلوت میں جداگانہ کی بات
اور اس وقت اس نے ان تمام (بارہ کے بارہ) امیروں کو بلا کر ہر ایک کے ساتھ خلوت میں (جداگانہ) بات چیت کی۔
راز کے ساتھ۔
دفتر اول: حکایت: 32
وزیر کا امیروں میں سے ہر ایک کو ایک خاص طرز اور طریق سے دھوکا دینا
1
بولے ہر ایک کو بدینِ عیسویبعد مرے نائب بنو گے کہ تو ہی
(وزیر نے) ہر ایک امیر کو کہا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین میں تو ہی خدا کا نائب اور میرا خلیفہ ہے۔
2
کوئی دوسرا بھی جو ہے امیر ترامتبع عیسٰیؑ نے وہ بنا دیا
اور وہ دوسرے امیر (سب) تیرے تابع ہیں (خود) عیسیٰ علیہ السلام نے سب کو تیرے پیرو بنا دیا ہے۔
3
ہر کہ جو امیر گردن کشی کرےقتل کرو اسے یا قید اسکو کر دے
(باقی اُمراء میں سے) جو امیر گردن کشی کرے اس کو گرفتار کر کے یا تو قتل کر دے یا اسے قید میں رکھ۔
4
لیک جب تک زندہ ہوں تو چپ رہنا مگرسرداری کی سعی تو بالکل نہ کر
اس وقت تک بالکل حرکت نہ کر، ایسی کوئی بات زبان پہ نہیں آنی چاہیے، جس سے لوگوں کو شک ہو جائے۔ یعنی
اس راز کو (کسی سے) بیان نہ کرنا۔ جب تک کہ میں مر نہ جاؤں اس سرداری کے لیے سعی نہ کرنا۔
5
جب تک نہ مروں راز فاش کرنا نہیںاپنے غلبے کا کرنا دعویٰ نہیں
جب تک کہ میں مر نہ جاؤں اس راز کو فاش نہ کرنا اپنے لیے بادشاہی اور غلبہ کا دعویٰ نہ کرنا۔
6
یہ لو دفتر یہ احکام مسیحؑ کے ہیںسامنے اسکی امت کے یہ تو پڑھے
مطلب ان کو ایک دفتر دے دیا کہ یہ احکام مسیح علیہ السلام کے ہیں، اب تم اس کے نائب ہو اور یہ اپنی امت کو پیش کرو گے۔ اللہ اکبر!
7
ہر امیر کو بولے احکامات جداتو نائب میرا نہیں اب تیرے سوا
مطلب تو ہی میرا نائب ہے۔
ہر سردار کو جدا جدا (بلا کر) اس نے یہی کہا کہ تیرے سوا دین الٰہی میں کوئی نائب نہیں۔
8
ہر ایک کو خلیفہ در پردہ رکھاجو کہا اک کو دوسروں کو بھی کہا
ہر ایک کو در پردہ (خلافت کے ساتھ) معزز و ممتاز کیا۔ جو کچھ (اس) ایک کو کہا وہی اس (دوسرے) سے کہا۔
9
ہر اک کو دفتر اس نے الگ دیامطلب ان سب کو جدا جدا رکھا
ہر ایک (سردار) کو اس نے ایک دفتر دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ایک (دفتر) دوسرے (دفتر) کے خلاف تھا۔
10
سارے دفتر ایک دوسرے سے مختلفتھے جیسے جو شکلِ با تا اور الف
تمام دفاتر (ایک دوسرے سے) مختلف تھے۔ جس طرح الف با تا (وغیرہ) حروفِ (تہجی) کی شکلیں (مختلف ہوتی ہیں)۔
11
اک دفتر کا حکم دوسرے سے جداجیسے کیا ہم نے ہے اس کو بیاں
(اس طرح کہ) اس دفتر کا حکم اس (دفتر) کے بر خلاف تھا۔ قبل ازیں اس تخالف کو ہم بیان کر چکے ہیں۔پہلے واقعات میں بیان ہو چکے ہیں۔
12
مختلف تھے اول سے آخر تک سبجیسا کہ اوپر بتایا ہے یہ سب
(سب مسائل) اوّل سے آخر تک ایک دوسرے کے خلاف (تھے) بیٹا! ہم اس کی تفصیل (پہلے) بیان کر چکے ہیں۔
دفتر اول: حکایت: 33
مریدوں سے تنہا ہو کر وزیر کا خودکشی کرنااس پر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ لوگ کتنی قربانی کرتے ہیں ظاہر ہے وہ عجیب صورتِ حال ہے۔ یعنی باطل عقیدے پر ہو کر بھی۔
1
بند رکھا دروازہ چالیس روز پھرخود کشی کر لی پھر اس نے اے پسر
وزیر نے اس کے بعد چالیس روز دروازہ بند رکھ کر خود کشی کر لی اور اپنے وجود سے نجات پا گیا۔
2
لوگ اس کے مرنے سے جب آگاہ ہوئےتھی قیامت رو بہ واویلا ہوئے
جب لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ مر گیا ہے، تو بس ایک قیامت برپا ہو گئی، اور اس کی قبر پر کہرام مچ گیا۔
3
لوگ اس کی قبر پہ جمع ہوئےکپڑے پھاڑے چیخے بر نوحہ ہوئے
اس کی قبر پر لوگ نوحہ میں بال نوچتے اور کپڑے پھاڑتے ہوئے جمع ہو گئے۔
4
اس قدر تھے لوگ جمع پھر وہاںگننے کی صورت تھی اس کی پھر کہاں
اس کی قبر پر لوگ اس قدر(اتنی تعداد میں) جمع ہوئے کہ ان کی جمعیت کو جو عربوں ترکوں، رومیوں اور کردوں پر مشتمل تھی خدا ہی گن سکتا تھا۔
5
خاک قبر کی سر پہ وہ ڈالتے رہےدرد اسکا دوا وہ سمجھتے رہے
اس کی تربت کی مٹی اپنے سروں پر ڈالتے تھے۔ اور اس کے درد کو (اپنا) اچھا علاج سمجھتے تھے۔
6
قبر پہ اس کی بہایا خونِ چشمغم تھا اس کے مرنے کا جو اس قسم
ان لوگوں نے (برابر) ایک مہینہ بھر اس کی گور پر اپنی دونوں آنکھوں سے خون بہایا۔
کیونکہ ان کو بڑا غم تھا اس بات کا۔
7
سب فراق میں اس کے بس روتے رہےچہرے اپنے آنسو سے دھوتے رہے
سب کے سب اس کے دردِ فراق سے روتے تھے۔ کیا بادشاہ اور کیا (باقی) چھوٹے بڑے (لوگ)۔
دفتر اول: حکایت: 34
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت کا یہ دریافت کرنا کہ تم میں سے ولی عہد کون ہے
1
ایک ماہ کے بعد لوگوں نے کہا کون ہوگا جو ہو اپنا پیشوا
یعنی ایک ماہ ماتم کرنے کے بعد، ان کو خیال ہو گیا کہ اب ہمارا پیشوا کون ہونا چاہیے۔
ایک مہینے بعد کے لوگوں نے کہا اے حضرات! سرداروں میں کون صاحب اس (پیشوائے مرحوم) کی جگہ پر قائم ہوں گے؟
2
تاکہ ہم سمجھیں انہیں اپنا امام ہو بدولت اس کے مہم اپنے تام
تاکہ ہم اُس (مرحوم) کی جگہ اِس کو امام سمجھیں۔ تاکہ ہماری مہم اس کی بدولت سر انجام پائے۔
3
تاکہ ہم بس ان کی اطاعت کریں ان کی دستِ شفقت پر بیعت کریں
(تاکہ) ہم اس کی (ہر) تجویز کی اطاعت کریں، اس کا آسرا پکڑیں اور اس سے بیعت کریں۔
4
چونکہ دے گیا ہم کو مفارقت کا داغ بعد غروبِ آفتاب کے بن جائے چراغ
جب سورج غروب ہو گیا اور ہم کو داغِ (جدائی) دے گیا تو (تاریکیِ ہجر میں) اس کی جگہ چراغ ضروری ہے (جیسے کہ سورج ڈوبنے کے بعد چراغ چلایا جاتا ہے)۔
5
چونکہ اب باقی نہیں ہے روئے یارکوئی نائب ہو بطورِ یادگار
جب آنکھوں کے سامنے سے محبوب (مرشد) کی صورت جاتی رہی تو ہمارے لیے اس کی طرف سے کوئی نائب بطور یادگار چاہیے۔
6
فصلِ گل گزری، ہوا گلشن خراب کردیں خوشبو حاصل ہم اب از گلاب
جب (فصلِ) گل گزر گئی اور باغ ویران ہو چکا تو پھول کی خوشبو کس (چیز) سے تلاش کریں؟ گلاب سے؟
مطلب: جب مرشد وفات پاجائے تو اس کے خلیفہ سے فیض حاصل کرنا چاہیے۔
7
جب خدا کو دیکھ نہیں سکتے ہیں ہم نائب پیغمبر ہے اس کی کر رقم
یعنی خدا کو تو ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں، لیکن اس کا جو نائب ہے پیغمبر، اس سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں۔
چونکہ خدا (بظاہر) دیکھنے میں نہیں آتا۔ (اس لیے) یہ پیغمبر خدا کے نائب ہیں۔
مطلب: اوپر ذکر تھا کہ مرشد کی عدم موجودگی میں اس کے نائب یا خلیفہ کی ضرورت ہے۔ اب اس نیابت و خلافت کے ذکر کی مناسبت سے ایک اور مضمون کی طرف انتقال فرماتے ہیں۔
اصل میں مضامین اب آ رہے ہیں۔ حضرت کو تو موقع چاہیے نا، موقع مل جائے پھر اس کے بعد پھر وہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
وہ یہ کہ چونکہ اسی طرح اللہ تعالیٰ، جو تمام اوامر و احکام کا صادر کرنے والا ہے، لوگوں کو نظر نہیں آ سکتا اور اجرائے احکام و اشاعت اوامر کے لیے حاکم کا لوگوں میں مُعایَن و ملاحظہ ہونا لازمی ہے، اسی لیے حضراتِ مرسلین صلوٰت اللہ علیہم اجمعین اللہ تعالیٰ کے نائب قرار پائے تا کہ وہ مُعاشر بالخلق ہونے کی وجہ سے احکامِ الٰہیہ کی بآسانی تبلیغ کر سکیں۔ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر مظہری میں آیہ ﴿وَ لَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا﴾ (الانعام: 9) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ رسول خالق اور مخلوق کے مابین برزخ ہوتا ہے اور برزخ میں دو مناسبتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک مناسبت خالق کے ساتھ اور دوسری مخلوق کے ساتھ، تاکہ خالق سے فیوض حاصل کر کے مخلوق پر ان کا افاضہ کرے، کیونکہ استفاضہ اور افاضہ مناسبت کے بغیر ممکن نہیں۔
اس کو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت تشریح کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ کئی مکتوبات میں۔
اس کا اگر نچوڑ نکالا جائے، تو یہ ہے کہ حضرت فرماتے ہیں کہ سیر الی اللہ جس وقت انسان کی مکمل ہو جائے، تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، یعنی فنا و بقاء کے بعد، جس کو شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، لطیفہ روح کا فرمایا ہے کہ لطیفہ روح کھل جاتا ہے اور لطیفہ سِر۔
لطیفہ روح جو ہے، اس کے ذریعے سے ملائے اعلی کے ساتھ انسان کے دل کا تعلق ہو جاتا ہے۔ اور لطیفہ سِر کے ذریعے سے انسان کی عقل کا تعلق وہ ملائے اعلی کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ اب یہ شخص جو ہوتا ہے درمیان میں لوگوں کا ہوتا ہے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ نے فرمایا، کہ مقامِ قلب میں جو جدال ہوتا ہے، نفس اور روح کا۔ یعنی نفس روح کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور روح نکلنا چاہتی ہے اس کے چنگل سے نکلنا چاہتی ہے۔ پھڑپھڑاتی ہے، اسی کو جذب کہتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں، اس کی مدد کرنی پڑتی ہے۔ اس کی مدد کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ مدد کیسے ہوتی ہے؟ سلوک طے کیا جائے۔ سلوک کیا ہے؟ انسان کے اندر جو رذائل ہیں، وہ نفس کے پنجے ہیں۔ سبحان اللہ! انسان کے اندر جو رذائل ہیں، وہ کیا ہیں؟ وہ نفس کے پنجے ہیں۔ ان پنجوں میں روح پھنسی ہوئی ہے۔ اس سے نکالنا ہے۔
تو ان تمام رذائل کو دبانا ہوتا ہے۔ تاکہ روح آزاد ہو جائے۔ مثال کے طور پر، سستی، بہت بڑا پنجہ ہے نفس کا۔ اس سستی کو دور کرنا پڑے گا، یہ وظیفوں سے دور نہیں ہوتی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں جی کوئی وظیفہ دے دیں کہ ہم یہ نماز پڑھنا شروع کر لیں۔ ان کو کہتے ہیں اچھا وظیفہ مانگو نا کہ کھانا کھانا شروع کر لیں۔ اس کے لیے تو کوئی وظیفہ نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو محنت ہے، تو کرنا پڑے گا۔ حکم ہے، ﴿لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾، اللہ پاک نے جو حکم دیا شریعت کا، اس کے ہم مکلف ہیں۔ اور وہ کر سکتے ہیں تبھی تو اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔ لہٰذا مطلب یہ تو کرنا پڑے گا۔
تو اب جو درمیان میں رکاوٹ ہے، وہ کیا ہے؟ وہ انسان کے اندر سستی ہے۔ آپ حضرات دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر Sluggishness جب آ جاتی ہے، تو اس کو Exercise کرنا پڑتا ہے۔ یہ Physiotherapy کیا چیز ہوتی ہے؟ وہ یہی ہوتی ہے نا۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ کرنی پڑتی ہے۔ تو یہ سستی کو دور کرنے کا ایک نظام ہے۔ تو سستی کو دور کیا جاتا ہے مقامِ ریاضت کے ساتھ۔ جب مقامِ ریاضت کسی کا طے ہو جائے تو سستی دور ہو جاتی ہے۔
اور دوسرا بڑا جو مسئلہ ہے، وہ حرص کا ہے۔ حرص بہت ساری چیزوں کا ہے۔ اور کہتے ہیں حرص اُم الامراض ہے۔ کیونکہ حرص جو ہے، یہ حبِ جاہ بھی حرص ہے۔ یعنی جاہ کا حرص ہے۔ حبِ باہ، یہ لذتوں کا حرص ہے۔ حبِ مال، یہ مال کا حرص ہے۔ تو گویا کہ تینوں قسم کی برائیاں جو ہیں دنیا کی، یہ حرص میں آ گئی ہیں۔ تو مقامِ قناعت جب حاصل ہو جائے، تو یہ حرص دور ہو جائے گا۔
تو مقامِ قناعت کیسے حاصل ہو گا؟ ظاہر ہے کہ آپ کو کچھ عرصے تک اپنے Normal Level سے بھی کم پہ جانا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد آپ کو مقامِ قناعت حاصل ہو سکتا ہے۔ Normal Level سے بھی کم پہ جانا پڑے گا۔ تاکہ آپ اس کے ساتھ عادی ہو جائیں۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں، "څه مرګ راشي نو تبې ته غاړه ږدي"۔ "جب موت آ جائے نا تو پھر بخار کے لیے آدمی مان جاتا ہے" چلو یار بخار کوئی بات نہیں۔
تو آپ اتنا مجاہدہ اس سے کرواؤ کہ وہ نارمل جو سنت طریقہ ہے اس کے لیے تیار ہو جائے۔ وہ نہیں کرو گے تو کیسے تیار ہوگا؟
میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ دیکھو نا اگر ایک کاغذ ہے نا، اس کو آپ موڑ لو، نلکی بنا لو۔ نلکی بنا لو۔ تو نلکی تو بن جائے گی۔ پھر آپ اس کو سیدھا کرنا چاہیں تو just اس کو چھوڑ دیں تو سیدھا ہو جائے گا؟ نہیں, بلکہ اس طرح قوس سا بن جائے گا۔ ٹھیک ہے نا؟
پھر آپ اس کو opposite direction میں جب تک نلکی نہ بناؤ، اس وقت تک وہ سیدھا نہیں ہوگا۔
اگر آپ اس کو صرف ایسے straight کر لیں نا، تو چھوڑ دیں تو پھر دوبارہ اس طرح ہو جائے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ Opposite Direction میں اپ کو کرنا پڑے گا۔ اب سنت کا طریقہ یقیناً بہت بڑی بات ہے، اگر کوئی اس پر Direct جا سکتا ہے۔ سنت کی عزیمت اختیار کر سکتا ہے تو بالکل صحیح ہے، کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن آج کل کے دور میں، کیا خیال ہے، سنت پر براہ راست کوئی جاتا ہے؟ کوئی ایک مثال تو دے دو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل طبیعتیں بہت زیادہ، جس کو کہتے ہیں نا، تعیش کے ساتھ مانوس ہو گئی ہیں۔ مانوس ہو گئی ہیں۔ اب ان کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ تو آپ کو پہلے ذرا، اس کی بہترین مثال تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت میں جو جاتے ہیں، تو ظاہر ہے اس میں بڑے بڑے لوگ چلتے ہیں، تو وہ ان چیزوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یعنی جو گھروں میں ان کے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً پھر کیا ہوتا ہے؟ ان کے لیے وہ آسان ہو جاتا ہے۔ مطلب وہ جو عام طریقے، صحیح سنت طریقے سے رہنا، ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز تو موجود ہے۔ تو اس لیے ظاہر ہے، اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے، حرص جو ختم کرنا۔ حبِ جاہ یعنی جاہ کا حرص ختم کرنا۔ اس کا کیا ہے؟ آپ ایسے کام کرو جس میں جاہ ٹوٹتی ہو۔ مثلاً لوگوں کے جوتے سیدھے کرنا۔ سلام میں پہل کرنا۔ اور لوگوں کے لیے سودا سلف لانا۔ یہ سب چیزیں جاہ کو توڑنے والی ہیں۔ تو انسان جب اس طرح کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے اس کی جاہ ٹوٹتی ہے۔ ویسے مثالیں میں دے رہا ہوں، ہر ایک کے اپنے طریقے ہوتے ہیں، لیکن مثالیں میں دے رہا ہوں۔
اچھا اس طرح مطلب ہے کہ، حبِ باہ، یہ جو لذتوں کا شوق ہے۔ یہ بھی توڑنے کے لیے لذات کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اس کی بہترین مثال میں دیتا ہوں، یہ شوگر کے جو مریض ہوتے ہیں۔ ان کو جب بتایا جاتا ہے کہ بھئی آپ نے چینی نہیں پینی چائے میں، تو ابتداء میں تو بڑا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس مشکل کو برداشت کر لے، تو دو ہفتے میں عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے چینی ڈالو گے تو ان کو برا لگے گا۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ بس اس کے ساتھ عادی ہو گیا۔ Taste buds ہیں نا، اس کے ساتھ Adjust ہو جاتے ہیں۔ تو بس ٹھیک ہے، صحیح کام بن جائے گا۔ تو یہ بات ہے کہ یعنی حبِ باہ۔
اور حبِ مال، یہ تو بہت خطرناک چیز ہے۔ تو اس کے لیے کہتے ہیں، اپنے ہاتھ سے خرچ کرو، اپنے ہاتھ سے خرچ کرو۔ پھر حبِ مال ختم ہو گا۔ زکوٰۃ تو Minimum ہے نا، وہ تو فرض ہے۔ صدقات، خیرات، نیک لوگوں کی دعوت، یہ سب اس میں آتا ہے، اس سے حبِ مال ختم ہوتا ہے۔
ایک بہت بڑے عالم ہیں، ان کا نام نہیں لیتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں آپ لوگوں میں سے بہت سارے لوگ اس کو جانتے ہوں گے۔ فوت ہو چکے ہیں۔ لیکن تھے بڑے عالم۔ تو ہمارے حضرت مولانا عبدالحق نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ یعنی وہ حضرت اس وقت دارالعلوم بنوری ٹاؤن انہوں نے شروع کروایا تھا۔ تو اس میں استاد تھے۔ تو یہ حج پہ جا رہے تھے اور حج بھی کرہے تھے آفس کی طرف سے۔ یعنی آفس کی طرف سے کر رہے تھے۔ میرے خیال سے لائبریرین تھے۔ تو آفس کی طرف سے جا رہے تھے حج پہ۔ تو پیسے آفس کے ان کو دیے تھے۔ وہ بڑے بخیل تھے، بقول ان کے استاد کے۔ یعنی پیسے خرچ کرنا ان کے لیے بڑا مشکل ہوتا تھا۔ تو استاد جانتے ہوتے ہیں شاگردوں کو۔
تو خیر ایسا ہوا کہ جب پہنچ گئے ادھر، تو حضرت استاد سے ملنے کے لیے گئے۔ تو استاد نے ان سے کہا، ماشاءاللہ ماشاءاللہ بڑی اچھی بات ہے۔ اگرچہ پیسے حکومت کے ہیں لیکن خرچ تو اپنے ہاتھ سے کرو گے نا، ان شاءاللہ تیرا بخل دور ہو جائے گا۔ خرچ تو اپنے ہاتھ سے کرو گے نا، یہ بخل بھی بڑی عجیب بلا ہے۔
وہ ایک دفعہ کہتے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، کہ ایک اس طرح شخص جا رہے تھے، تو راستے میں ایک آدمی رو رہا تھا۔ اس نے کہا بھائی کیوں رو رہے ہو؟ اس نے کہا میرا ٹکہ گم ہو گیا۔ کہا اچھا چلو یہ ٹکہ لے لو، یار بس تم نہ رو، ختم، ختم کرو۔ اچھا چپ ہو گیا۔ آگے اپنے کام کے لیے، واپس آ رہا، پھر رو رہا تھا۔ انہوں نے کہا بھئی اب کیوں رو رہے ہو؟ کہتا ہے اگر وہ نہ گرتا تو یہ اب دو ہوتے۔
یہ عربی میں اس پہ بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ "تَارِیْخُ الْبُخَلَاء"، نہیں نہیں، کیا ہوتا ہے وہ، "قَصَصُ الْبُخَلَاء"۔ یعنی مطلب بخلاء کے قصے، وہ بہت ان میں مشہور ہیں۔ تو وہ واقعات شاید ان میں سے ایک ہو گا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ، یہ بخل بڑی عجیب چیز ہے۔ اس کو توڑنے کے لیے کافی کچھ کرنا پڑتا ہے۔
تو بہرحال یہ کہ مال کی جو محبت ہے، میں آپ کو بتاؤں صحیح بات عرض کرتا ہوں نا، ذرا تھوڑا سا انسان Impartial ہو کر سوچے۔ تھوڑی سی دیر کے لیے۔ تو اس حقیقت حال معلوم ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص ارب پتی ہے۔ تو کیا اس کا Actual جائز خرچ کتنا ہونا چاہیے؟ Actual۔ اپنے پورے گھر، جائز، ناجائز کی مراد ہے، شراب پینا، رنڈیاں نچانا، یہ تو اس کے لیے تو کوئی بادشاہت بھی کافی نہیں ہوتا۔ لیکن جائز خرچ، مثلاً کھانے پینے کا خرچ، مکان کا خرچ، نوکروں کا خرچ، ان تمام چیزوں کو ملا تو کتنا خرچ ہو گا؟ ایک کروڑ، دو کروڑ ہی سہی۔ یہ باقی پیسوں کا وہ کیا کرے گا؟ وہ ایسے ہی بینک میں پڑے ہوتے ہیں، اور پیچھے رہ جاتے ہیں، چلا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟
تو اصل بات یہی ہے کہ جو مال کی جو محبت ہے نا، یہ بالکل ایک فضول چیز ہے۔ حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ علیہ، بہت سخی تھے۔ تو وہ بہت خرچ کرتے تھے۔ تو ان کے رشتہ داروں نے شکایت کی، حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ سے۔ کہ حضرت ان کو سمجھا دیں، یہ تو سب کچھ خرچ کر لے گا اور فقیر ہو جائے گا۔ تو حضرت نے ان سے پوچھا کہ بھئی کیا بات ہے، آخر اتنا زیادہ کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا، حضرت میں مدینہ منورہ سے اگر بصرہ چلا جاؤں، میرا گھر ادھر بن جائے۔ تو میں مدینہ منورہ میں کچھ چھوڑوں گا؟ کہتے ہیں نہیں، تو انہوں نے کہا، یہی تو میں کر رہا ہوں، کہ میں نے آخرت میں جانا ہے۔ تو میں یہاں اب کیوں چھوڑوں یہ چیزیں، میں ادھر بھیج رہا ہوں نا۔
اب اس Logic کا کون جواب دے سکتا ہے؟ بات تو یہی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ، یعنی جو یہ والی بات ہے، یہ Facts ہیں۔ یہ Facts ہیں، لیکن ان Facts پر لانے کے لیے محنت ہے۔ اسی کو طریقت کہتے ہیں۔ Facts سے آپ کو علم حاصل ہو جائے گا، ان Facts کے جاننے سے آپ کو علم حاصل ہو جائے گا۔ لیکن اس علم پر عمل کرنے کے لیے آپ کو طریقت سے گزرنا ہو گا۔ بغیر اس کے کوئی اور راستہ بظاہر نہیں ہے۔
تو حضرت (مجدد صاحب) نے فرمایا کہ جو شیخ ہوتا ہے، وہ برزخ ہوتا ہے۔ وہ اپنی روح کے ذریعے سے، اپنی روح کے ذریعے سے، حضرت نے اس کو لطیفہ روح کہا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے، حضرت نے اس کو روح کہا ہے۔ اپنی روح کے ذریعے سے اللہ سے لیتا ہے، اور اپنے نفس کے ذریعے سے لوگوں کو دیتا ہے۔
اب یہ نفس کے ذریعے سے کیسے دیتا ہے، اس پر میں سوچ رہا تھا، میں نے کہا یہ کیا مطلب ہے؟ یہ نفس کے ذریعے سے کیسے دیتا ہے؟ نفس کے ذریعے سے ایسے دیتے ہیں کہ دیکھو، جس کا نفس نہیں ہو گا کیا اس کو درد ہو گا؟ جب درد نہیں ہو گا تو کسی اور کے درد کا پتہ چلے گا؟ تو کیسے دوسروں کی مداوا کرے گا؟
تو یہ چیزیں ان پر جو خود گزری ہوتی ہیں، تو ان سے ان کو دوسروں کا پتہ ہوتا ہے، کہ دوسروں کے کیا مسائل ہیں۔ لہٰذا ان کی اس طریقے سے مدد کرتے ہیں، شریعت کے مطابق چلنے میں۔
یعنی دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، ایک آدمی بڑے الجھے ہوئے مسائل میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ ایک مفتی کے پاس جاتا ہے، جی میں کیا کروں؟ مفتی اس کو صاف کتابی کتابی مسئلہ بتا دے گا۔ ﴿وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ﴾، بس بات ختم ہو گئی۔ شیخ کے پاس جائے گا، تو شیخ اس کے حالات دیکھے گا کہ اس کے حالات کیا ہیں۔ ان حالات میں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ باقاعدہ گویا کہ اس کے ساتھ کوئی چل رہا ہو۔ اور تدریج کے ساتھ اس کو لے جائے گا۔ اس کو فوراً وہ تمام چیزوں پہ نہیں لے آئے گا۔ بلکہ اس کے ساتھ تدریج والا معاملہ کرے گا۔ یہ مشائخ کا کام ہے۔ مفتی کا کام یہ نہیں ہے، مفتی نے تو مسئلہ بتانا ہے۔ وہ مفتی مسئلہ بتا کے فارغ ہو گیا۔ لیکن شیخ جو ہے نا فارغ نہیں ہوتا۔ وہ باقاعدہ آپ کے ساتھ چلے گا، اور اپ کے لیے سوچے گا، آپ کے لیے فکر کرے گا۔ یعنی کہ آخر کس طریقے سے یہ عمل پہ آ جائے۔ یہ، یہ بات ہے۔
تو بہرحال وہ جو نفس کے ذریعے سے دینا، وہ اس طرح دینا ہے۔ کہ وہ آپ کے حالات کو جان کر، اچھی طرح سمجھ کر، پھر میں آپ کو بتاؤں، حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کتاب لکھی ہے، چھوٹی سی کتاب ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ نفس کے ساتھ دینا کیا ہوتا ہے۔ حضرت نے فرمایا "ریڑھے والے کی نماز"۔ "ریڑھے والے کی نماز"۔ فرمایا ایک ریڑھا بان ہے، اس کے پاس چیزیں ہیں بیچنے کی۔ ہے نمازی۔ نماز کا وقت ہو گیا، اس نے اپنا ریڑھا مسجد کے قریب لگا دیا۔ چیزیں اس کے اوپر پڑی ہوئی ہیں۔ وضو اس نے کر لیا، نماز وہ پڑھ رہا ہے۔ اس کے بے انتہا خیالات، کہیں کوئی بچہ اس کو الٹا نہ دے، کہیں اس سے کوئی چیز نہ لے جائے، یہ سارے خیالات اس کو آئیں گے۔ کیونکہ انسان ہے۔ وہ آئیں گے۔ اس کی یہ نماز جو ہے، اس ریٹائرڈ آدمی سے جس کو کوئی فکر نہیں ہے، بڑی خضوع خشوع والی نماز سے افضل ہے۔
اب بتاؤ! یہ ہے نفس کے ذریعے سے دینا۔ کہ مطلب یہ ہے کہ ان کے حالات کو جاننا، بھئی کوئی اس طرح نہیں اگر آپ ان حالات پر ہوتے پھر کیا کرتے؟ وہ تو مطلب ظاہر ہے وہ تو، اس کی بڑی قربانی ہے اس کا مجاہدہ ہے۔ وہ اس حد تک Risk لے رہا ہے اور اس کی ساری بساط ہی کیا ہے؟ لیکن وہ نماز کے لیے قربانی کر رہا ہے۔ تو اس کی قربانی اللہ پاک کو نظر تو آ رہی ہے نا۔
ایک دفعہ ایک صاحب تھے، وہ جہاد میں تھے۔ پریکٹیکل بات بتا رہا ہوں کیا ہے۔ جہاد میں تھے۔ اور اس میں آئے تھے محاصرے میں آئے تھے۔ Ammunition بڑے، جس کو کہتے ہیں نا احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا تھا۔ اور Fire کرتے تھے۔ فرمایا تقریباً ایک میٹر کے فاصلے پر ان کے ساتھ پانی کی نہر بہہ رہی تھی۔ لیکن اس کے لیے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ جاتے تھے تو Fire مطلب ظاہر ہے، Fire ہو جاتا تھا، اس کے اوپر محاصرے میں تھے۔ تو اس نے وہاں تیمم کے ساتھ نماز پڑھی۔ تو اس نے اپنے ایک شیخ کے ساتھ، وہ، پوچھا کہ حضرت کیا میں نماز دہراؤں؟ انہوں نے کہا نہیں، یہ نماز مجھے دے دے، میری ساری نمازیں اپ لے لیں۔ یہ نماز مجھے دے دے، یہ ساری نمازیں میری آپ لے لیں۔
اتنی قیمتی نماز! ظاہر ہے یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے نا، مطلب یہ جان پر کھیلنے والی بات ہے۔ تو اس وقت تو باتیں ایسی ہوتی ہیں۔ تو بہرحال یہ، یہی بات ہوتی ہے کہ نفس کے ذریعے سے دینے کا مطلب یہ ہے، کہ آپ لوگوں کے حالات صحیح طور سے جانچ لیں۔ اور اس کے مطابق ان کو مشورہ دیں۔ وہ شیخ بڑا اناڑی ہوتا ہے جو اپنے حال کے مطابق مرید کو بتاتا ہے۔ جو مرید کے حال کے مطابق مرید کو بتاتا ہے، وہ کامل ہے۔ وہ کامل ہے۔ اس کی بات ہے۔
8
نہ، غلط بولا میں نائب یا منوب گر دو سمجھو گے قبیح ہے نا کہ خوب
نہیں (نہیں، اس تفریق کے ذکر میں) میں نے غلطی کی، کیونکہ اگر تم نائب اور منوب عنہ کو دو سمجھو گے تو یہ بری بات ہے۔ اچھی نہیں۔
مطلب: نیابت کے ذکر سے احتمال ہوتا تھا کہ جب پیغمبر نائب اور اللہ تعالیٰ منوب عنہ ہوا تو دونوں الگ ہوں گے۔ اس احتمال کو رفع کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا نائب کا لفظ کہہ دینا غلطی تھی جو موہمِ مغایرت ہے۔
9
دو ہیں واسطے ان کے ہیں ظاہر بین ہیں جوایک ہیں ان کے واسطے اس سے نکلیں جو
نہیں یہ (نائب و منوب عنہ) جداگانہ بھی ہیں۔ جب کہ تو ظاہر پرست ہے۔ جو شخص ظاہریت سے نکلا اس کے نزدیک یہ دونوں ایک ہو گئے۔
اب دیکھیں ذرا، یہ چیز کیا ہے، ذرا تھوڑا سا۔ ایسی چیزوں کی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اشعار بہت اونچے اشعار ہیں۔ لیکن اگر غلط سمجھے، تو پتہ نہیں کس طرف چلے جائیں گے۔
ایک ہے کا مطلب کیا ہے، اور دو ہے کا مطلب کیا ہے؟ہمارے نقشبندی سلسلے میں ایک مشرب ہے تجلیاتِ افعالیہ کا۔ جس میں ہم یہ مراقبہ کرتے ہیں، کہ سب کچھ اللہ ہی کرتے ہیں۔ کسی سے بھی جو ہوتا ہوا نظر آتا ہے، وہ اصل میں اللہ ہی کرتے ہیں۔ کسبی طور پر اس کی طرف منسوب ہے۔ لیکن تو کسبی طور پر دو ہیں، لیکن اصلی طور پر کیا ہے؟ ایک ہے۔ یہ وہ چیز ہے۔
مطلب یہ کہ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔ تو جس وقت آپ یہ، جس کو کہتے ہیں نا، جو بھی آپ کام کریں، آپ خود جو کام کر رہے ہیں، اس میں بھی آپ کو پتہ ہے کہ اگر اللہ نہیں چاہے گا تو نہیں ہو گا۔ یہ ہم "ان شاءاللہ" کیوں کہتے ہیں؟ ظاہر ہے اسی لیے کہتے ہیں، ٹھیک ہے میں یہ کام کر رہا ہوں، لیکن ان شاءاللہ۔ اگر اللہ نے چاہا تو پھر ہو گا، ویسے نہیں ہو گا۔
مطلب: نائب و منوب عنہ کا جدا ہونا اوپر غلط قرار دیا تھا۔ اب اس سے استدراک کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ بات غلط تو ہے مگر کلیۃً غلط نہیں، بلکہ ظاہر پرستوں کے نزدیک وہ دونوں الگ ہیں لیکن جن لوگوں کی نظر صورت آشنا نہیں اور ان کے شہود سے تعین اٹھ گیا ہے وہ ان کو ایک جانتے ہیں۔
10
دو بظاہر آنکھیں تُو رکھتا تو ہے
اب دیکھو عام مثالیں دے رہا ہے
10
دو بظاہر آنکھیں تُو رکھتا تو ہےاندر سے تُو ایک سا دیکھتا تو ہے
یعنی تمہاری جو دونوں آنکھیں ہیں، اس کی Picture کتنی بنتی ہے؟ دو بنتے ہیں؟ Picture تو ایک بنتی ہے، پیچھے، ادھر مرکز میں۔ اور اگر دو بنے تو پھر کیا ہو گا؟ اس کو "بھینگا" کہتے ہیں۔ وہ بیماری ہے، اگر دو بنے۔ اس وجہ سے جن کو دو نظر آتے ہیں نا، ایسی صورت میں ان کو بھی روحانی طور پر بھینگا کہتے ہیں۔ کئی دفعہ حضرت نے اس کے بارے میں فرمایا ہے۔
(مثلًا) تمہاری آنکھیں اگر بظاہر دیکھو تو دو ہیں (لیکن) ان کے نورِ بصارت کو دیکھو تو وہ اندر سے ایک ہے۔
مطلب: یہ دو چیزوں کے بظاہر دو اور بحقیقت ایک ہونے کی مثال ہے، یعنی آنکھیں جو آلۂ بصارت ہیں دو ہیں، لیکن اصل بصارت ایک ہے۔ واضح ہو کہ آلۂ بصارت دو عصب ہیں جو الگ الگ دونوں آنکھوں سے نکل کر آپس میں متقاطع ہوتے ہوئے مقدّمِ دماغ تک پہنچتے ہیں۔ ان کا یہ مقامِ تقاطع منبعِ بصارت ہے۔
اوہو، صرف دو آنکھیں نہیں ہیں، بہت زیادہ ہیں۔ لیکن یہ ڈاکٹروں سے پوچھو۔ ڈاکٹروں سے پوچھو کتنے ہیں؟
ڈاکٹر لوگ بتاتے ہیں کہ تقریباً لاکھوں Cones ہیں۔ ہر Cone سے آدمی دیکھ رہا ہوتا ہے، ان سب کی وہ Picture جمع ہو جاتی ہے ادھر۔ اور لاکھوں Rods ہیں۔ Right side, upper, نیچے، بائیں طرف، یہ Rods ہیں۔ جو بھی لاکھوں ہیں، اور لاکھوں Cones ہیں۔ ان سب کی Picture اکٹھی ہوتی ہے۔ اور ایک نظر، کیا بات ہے!
مجھے، ڈاکٹر سہیل صاحب جو Eye Specialist ہیں، ہمارے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، جب میں Operation کرتا ہوں اور آنکھ کو کھولتا ہوں، تو میں حیران ہو جاتا ہوں اللہ تعالیٰ کی خلق پر۔ کہ کیسے اللہ پاک نے اس آنکھ کو بنایا ہے! یقین جانیے مطلب، حیرت کی بات ہے۔ کہ کس طرح مطلب ان تمام سے Data لے کے وہ ملاتا ہے۔ مطلب بہت، کیا عجیب بات ہے!
11
ایک کو دیکھے گا اک آئے گا نظر بے شک آنکھیں دو ہی دیکھے ہیں ادھر
مطلب یہ ہے، مطلب آپ کو، یعنی ایک پہ اگر آپ کی Focus ہے، تو وہ آپ کو ایک ہی نظر آئے گا وہ۔ بے شک آپ کی آنکھیں دو ہیں۔
(اسی لیے) ضرور (ہے کہ) جب تیری نگاہ ایک (چیز) پر پڑے گی تو ایک (چیز محسوس) ہو گی (دو آنکھوں کو) دو چیزیں نظر نہیں آئیں گی۔
مطلب: اطباء نے لکھا ہے کہ قوتِ باصرہ آنکھوں کے ان دو مجوّف عصبوں کے اندر ودیعت کی گئی ہے جو مقدّمِ دماغ سے نکلے ہیں۔ ہر چند کہ یہ دو عصبے الگ الگ دونوں آنکھوں سے متعلق ہیں۔ مگر آنکھوں کو ہر چیز کی ایک صورت ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں اپنے تقاطع صلبی کے مقام پر متحد ہو گئے ہیں۔ اگر یہ اتحاد نہ ہوتا تو دونوں آنکھیں ہر چیز کو الگ الگ دو صورتوں سے محسوس کرتیں۔ مولانا کا مدّعا یہ ہے کہ دونوں آنکھیں بظاہر دو ہیں مگر بباطن ان کی قوت متحد ہے۔ اس لیے ان کا احساس متحد ہے۔
12
فرق نہیں دو آنکھوں کے نور میں آدمی ان کے نور پہ جب نظر کریں
دونوں آنکھوں کے نور میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔ جب آدمی ان کے نور پر نظر کرے۔
دفتر اول: حکایت: 35
اس بات کا بیان کہ تمام پیغمبر برحق ہیں بفحوائے آیۃ "لَا نُفَرِّقُ"
یعنی "ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے"
1
گر مکان میں حاضر ہوں چراغ دسہر اک مختلف نظر آئے گا بس
اگر تو ایک مکان میں دس چراغ لا حاضر کرے تو ہر ایک شکل میں دوسرے سے جدا ہوگا۔
2
نور میں فرق ان کا نظر آئے نہیں
سب کا نور ایک جیسا ہے
نظر اس سے گر تو اٹھائے نہیں
(مگر) اس میں شک نہیں کہ ہر ایک کے نور میں فرق نہیں کیا جا سکے گا۔ جب تو اس کے نور پر متوجہ ہوگا۔
3
اُطْلُبِ الْمَعْنٰی مِنَ الْفُرْقَانِ وَ قُلْلَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اٰحَادِ الرُّسُل
اس مطلب کو قرآن مجید میں تلاش کر اور کہہ دے ہم پیغمبروں کی جماعت میں فرق نہیں کرتے۔
یعنی سارے پیغمبر ایک ہیں۔ سارے پیغمبر کیوں؟ کیونکہ ان سب کی دعوت ایک ہے۔ سب ایک ہی بات کر رہے ہیں۔
4
سیب بہی سو سو اگر کردو شمارسو سو ہوں نچوڑ دیں اک ہو شمار
مطلب یہ ہے کہ جو سیب اور بہی کو سو سو لے لو، ان کو آپس میں Mix کر دو۔ آپ علیحدہ کرو گے تو دو سو سو ہو جائیں گے سو سو یہ، اور سو یہ اور جب اس کو نچوڑ دیں اکٹھا، تو پھر کیا ہو گا؟ پھر ایک ہی ہو گا نا، ایک ہی جوس ہو گا۔اگر تم سو سیب اور سو بہی کو شمار کرو تو سو نظر آئیں گی (لیکن) جب (ان کو) نچوڑ دو تو (شیرے میں سب) ایک ہو جائیں گی۔
5
معنوں میں تقسیم نہیں اعداد نہیںاور ان میں تجزیہ و افراد نہیں
معنوں میں بانٹ اور گنتی نہیں ہے۔ معنوں میں تقسیم اور اکائیاں نہیں۔ (یہ سب الفاظ کی صفات ہیں)۔
مطلب: مذکورہ تمثیلات سے مقصود یہ ہے کہ تمام پیغمبر نفسِ رسالت میں مشترک و متحد ہیں۔ اگر بظاہر وہ ایک دوسرے سے وجود اور زمانًا و تشخّصًا الگ الگ ہیں تو اس تغایرِ ظاہری سے معنوی اتحاد میں کوئی نقص نہیں آتا۔
اس پر حضرت شاہ ولی اللہ، شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے، اس میں، بہت بحث کی ہے۔ عبقات میں۔ کہ ایسے مطلب ایک انسان اندر سوچتا کیا ہے اور الفاظ اس کے کیا ہیں۔ تو چاہے وہ عربی بولے، چاہے انگریزی بولے، چاہے فارسی بولے، جو چیز بول رہا ہے وہ تو اندر سے ایک ہے نا!
زبان کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہوں، "Give me this book"۔ تو انگریزی ہے۔ "یہ کتاب مجھے دے دو"، تو میرے اندر تو چیز ایک ہی ہے نا، مطلب وہ تو فرق نہیں ہے۔ لیکن یہ ہے کہ، جب انگریزی بولوں گا تو اس کے الفاظ الگ ہوں گے۔ اردو بولوں گا تو اس کے الفاظ الگ ہوں گے۔ پشتو بولوں گا تو اس کے الفاظ الگ ہوں گے۔ لیکن چیز ایک ہی ہو گی۔ تو فرق الفاظ میں ہے، فرق معنوں میں نہیں ہے۔ اور معنی کیا ہے جی؟ معنوں کی ذرا صورت بتائیں کہ کیسی ہو سکتی ہے۔ کون سے معنی کسی زبان میں ہوں گے؟ معنوں کی زبان کیا ہوگی ۔یہاں انسان کا دماغ گھوم جاتا ہے۔
6
پس اصل معنی کا اتباع کروصورت کو سرکش جو ہے جدا کرو
(ثابت ہوا کہ اصل معنٰی (یعنی حقیقتِ حق) کا اتباع کرو۔ کیونکہ صورت (تعینات و تشخّصات) سرکش ہے (یعنی مانعِ اتحاد ہے)
7
صورتِ سرکش ریاضت سے گلا
صورتِ سرکش، یعنی جسمانیت۔
وحدت اس میں دیکھ نظر اس پر جما
صورتِ سرکش کو ریاضت کے ساتھ گلا دو تاکہ اس کے اندر وحدت (یعنی حقیقتِ حق) خزانہ کی طرح تم کو نظر آئے۔
مطلب: ریاضت سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس قدر مشغولی پیدا کرو کہ موجوداتِ ظاہری کی طرف توجہ و التفات نہ رہے۔ ۔
8
تو ہٹا سکے نہ اس سے گر نظرتو عنایت اس کی کرے گی اثر
اگر تو اس سے نظر نہیں ہٹائے گا تو اس کی عنایت ضرور اثر کرے گی۔ یعنی تو اس کے ساتھ اپنا دل لگا کے تو دیکھ۔
فرماتے ہیں کہ اور (اگر باوجود ریاضت کے) تم (موجوداتِ ظاہر سے) اپنی نظر نہ ہٹا سکو (تو تم غم نہ کرو) خود اس (خدائے کریم) کی عنایات (تم کو اپنی طرف اس طرح متوجہ کر لیں گی کہ موجوداتِ ظاہری کی طرف سے تم کو غیر ملتفت بنا دیں گی، اے مخاطب!) میرا دل تو اس کا حلقہ بگوش ہے۔
اے مخاطب میرا دل تو اس کا حلقہ بگوش ہے۔ یہ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے، قران پاک کی ایک آیت سے ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾۔ جو مجھ تک پہنچنے کے لیے کوشش اور محنت شروع کرتے ہیں تو ہم ضرور بالضرور ان کو ہدایت کے راستے سجھائیں گے۔
9
آنکھوں سے آتا نہیں وہ نظر جلوہ دکھلاتا ہے روح دل کو بے بصر
وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا بلکہ قلوب میں اپنا جلوۂ دکھاتا ہے۔ وہ (اپنے جلوۂ ذات سے) عاشقوں کے پارہ پارہ دل کو تسکین بخشتا ہے۔
10
روح تھے جب ترکیب تعدد تھا کہاں تھے منزہ جسم سے سب یہ اعضاء
ہم (مرتبہ روح میں) بسیط اور جواہر واحد تھے۔ (ترکیب اور تعدد نہ تھا) اس عالم میں سب کے سب اعضاء و جوارح (وغیرہ جسمانیت) سے منزّہ تھے۔
مطلب: اوپر طلبِ حق کا ذکر تھا اور چونکہ طلب و مطلوب میں مناسبت ضروری ہے اس لیے اب اس مناسبت کا ذکر فرماتے ہیں۔
11
سورج سا ایک ذات تھے بے قید بھیتھے شفاف تھا خارجی ترکیب نہیں
ہم سورج کی طرح ایک ذات تھے (جس میں کثرت اور خارجی ترکیب نہیں ہے) بے قید (مادہ) اور پانی کی طرح صاف و شفاف تھے۔
12
پائی جب صورت اس خالص نور نےکنگرے کی طرح اس کے سائے بنے
جب اس خالص نور نے صورت (یعنی جسمانیت) اختیار کی (یعنی بدن سے متعلق ہوا) تو کنگرے کے سایوں کی طرح متعدد بن گیا۔
مطلب: روح جو ایک جوہرِ بسیط ہے اس کے اجسام سے متعلق ہو کر متعدد و کثیر ہونے کی مثال ہے، یعنی آفتاب کا نور ایک ہوتا ہے مگر جب وہ چند کنگروں پر پڑتا ہے تو جتنے کنگرے ہوں اتنے ہی نور کے حصے ہو جاتے ہیں۔
13
کنگرہ ویران کر ریاضت سے کہ یہاس جماعت سے فرق اٹھ جائے ہے
(اے طالبانِ حق اس جسمانیت کے) کنگروں کو (ریاضت کے) منجنیق سے ویران کر ڈالو، تا کہ اس جماعت (ارواح) سے فرق اٹھ جائے۔
مطلب: اشعارِ بالا میں حق اور طالبانِ حق میں یہ مناسبت ثابت ہوئی کہ مقدّم الذکر بسیط ہے تو مؤخّر الذکر کی ارواح بھی بسیط ہیں۔ وہ واحد ہے تو یہ بھی واحد۔ وہ قیدِ مادہ سے پاک ہے تو یہ بھی پاک۔ اس کا نور مظاہرِ کثیرہ میں جلوہ گر ہے تو ارواح بھی مختلف اجسام سے متعلق ہیں۔ انہی مناسبات کی بنا پر روح کو امرِ ربّانی کہا جاتا ہے،
﴿قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّيْ﴾۔
جب مناسبت ثابت ہو گئی تو طالبانِ حق کے لیے وصول الٰی الحق کے ممکن ہونے میں شبہ نہ رہا۔
تو یہ بہرحال مطلب آج تک مطلب یہ بات تھی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اصل چیز تک پہنچا دے۔ اس کے اندر جو اصل چیز ہے وہ ہمیں نصیب فرمائے۔ یہ جو باقی چیزیں ہیں جیسے میں نے عرض کیا نا ابتداء میں، جو حکایات وغیرہ ہیں، تو حکایات تو اس کے ایک جسم کی طرح ہیں۔ لیکن اس کے اندر جو علوم ہیں، وہ اس کے معانی، یعنی مطلب، روح کی طرح ہیں۔ اصل چیز اس کو لینا چاہیے۔ حضرت مولانا نے بھی یہ فرمایا کہ جس نے حکایات کو اصل سمجھا، اس نے میری مثنوی کی قدر نہیں کی۔ جس نے حکایات کو اصل سمجھا، نہیں نہیں یہ پڑھ گئے کہ حکایات کیا ہیں۔ مثلاً حضرت کبھی کبھی طوطے کی کہانی، مینا کی کہانی، اس، اس سے بھی بڑے بڑے مضامین اخذ کر لیتے ہیں۔ تو اب یہ کہتے ہیں بھئی یہ کیا چیز ہے؟ یہ کیا، یہ کوئی مطلب، اللہ والے ہیں کہ کبھی مینا کی کہانی بتاتے ہیں، کبھی طوطے کی کہانی، کبھی گدھے کی کہانی۔
کیونکہ اس سے اس کی غرض ہی نہیں ہے۔ وہ تو صرف لوگوں کی مناسبت کے لحاظ سے، چونکہ لوگوں کے مزاج مختلف ہیں، ان کو سمجھانے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، تو جس کو جس طریقے سے سمجھ آ جائے اس طریقے سے سمجھا دو۔ ظاہر ہے مطلب اس میں کیا ضرورت ہے کہ خوامخواہ اپنی... جیسے میں نے عرض کیا نا وہ شیخ کامل نہیں ہوتا جو اپنے حال کے مطابق مرید کی تربیت کرے۔ بلکہ وہ شیخ کامل ہوتا ہے جو مرید کے حال کے مطابق تربیت کرے۔
تو اسی طریقے سے حضرت بھی چونکہ بہت بڑے ماشاءاللہ، اللہ پاک نے ان کو ایک ظرف دیا تھا۔ جس میں حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے، اللہ پاک نے بڑی روحانیت ڈالی تھی۔ اب اس روحانیت کو الفاظ کے پیرائے میں لانا، یہ ایک کام ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ یعنی وہ چیز تو معنی آ گئی، لیکن اب اس کو بیان کیسے کیا جائے؟ تو اس کا بیان تو واقعی مشکل کام ہے۔ تو حضرت نے جو یہ اشعار مطلب کہے ہیں، اصل میں انہی چیزوں کا بیان ہے۔ جو کہ اس کے اندر ہے جیسے میں نے عرض کیا نا معانی اور الفاظ، اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
تجزیہ اور خلاصہ:بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)سب سے جامع عنوان: مثنوی مولانا روم: یہودی وزیر کی سازش اور تصوف میں تزکیہ نفس کے اصولمتبادل عنوان: نفسانی امراض (حبِ جاہ، حبِ مال) کا علاج اور شیخِ کامل کی ضرورتاہم موضوعات:مثنوی مولانا روم سے یہودی بادشاہ اور اس کے مکار وزیر کے واقعے کا بیان۔یہودی وزیر کی منافقت اور عیسائیوں میں تفرقہ ڈالنے اور خونریزی کروانے کی سازش۔مرشد کے بعد خلیفہ یا نائب کی ضرورت اور اہمیت۔تصوف کی اصطلاحات (لطیفہ روح، لطیفہ سر) اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تشریحات۔نفسانی امراض اور رذائل (سستی، حبِ جاہ، حبِ باہ، حبِ مال) اور ان کا علاج۔روحانی ریاضت، قناعت اور مجاہدے کے ذریعے نفسانی خواہشات کو دبانا۔ایک شیخِ کامل کی پہچان اور مریدین کی تربیت کا بتدریج (Gradual) نبوی طریقہ۔کثرت میں وحدت: تمام انبیاء علیہم السلام کے نور اور پیغام کی وحدت۔خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مثنوی مولانا روم کے دفترِ اول سے ایک یہودی بادشاہ اور اس کے چالاک وزیر کا مشہور واقعہ بیان کیا ہے جس نے عیسائیوں کے دین میں تفرقہ ڈالنے کے لیے خود کو ان کا پیشوا ظاہر کیا اور پھر انہیں متضاد احکامات دے کر آپس میں لڑوا دیا۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اس واقعے کی روشنی میں تصوف کے انتہائی اہم اور گہرے مضامین بیان کیے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح انبیاء اللہ کے نائب ہیں، اسی طرح شیخِ کامل بھی روحانیت کے سفر میں برزخ کا کام کرتا ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے تزکیہ نفس کے حوالے سے سستی، حبِ مال، اور حبِ جاہ جیسی بیماریوں کے علاج پر زور دیا اور واضح کیا کہ ایک سچا شیخ وہ ہوتا ہے جو اپنے مرید کے ذاتی حالات اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر تدریجی طور پر اس کی تربیت کرتا ہے۔ آخر میں آپ نے بتایا کہ مثنوی کی اصل روح اس کی حکایات نہیں بلکہ ان میں چھپے ہوئے روحانی و ربانی حقائق ہیں، جنہیں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔