مثنوی مولانا روم: عقیدہ جبر و قدر، افعالِ الٰہی اور بندگی کا حقیقی تصور

درس نمبر 28، دفتر اول، حکایت نمبر 29 تا 30

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
برمنگھم - برطانیہ
  • مثنوی شریف کے دفترِ اول کی حکایت 29 اور 30 کا بیان (یہودی بادشاہ اور چالاک وزیر کا واقعہ)۔
    • عقیدہ جبر (مجبورِ محض ہونے کا عقیدہ) اور عقیدہ توحید میں فرق۔
      • انسان کے افعال کا حقیقی خالق کون ہے؟ (قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں)۔
        • بانسری، شطرنج، اور تیر انداز کی مثالوں سے جبر و قدر اور افعالِ الٰہی کی وضاحت۔
          • قربِ فرائض اور قربِ نوافل کے مقامات۔
            • حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے رویے کا فرق (گناہ پر ندامت بمقابلہ اللہ پر الزام تراشی)۔
              • علم (تعلیم سے حاصل شدہ) اور فہم/ذوق (عطائے الٰہی) کا فرق اور علمِ لدنی کی اہمیت۔
                • کرامتِ اولیاء کا حقیقی مفہوم (کرامت ولی کا نہیں بلکہ اللہ کا فعل ہے)۔

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

                  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

                  معزز خواتین و حضرات! آج ما شاء اللہ Birmingham سے مثنوی شریف کا یہ درس نشر ہو رہا ہے۔ اور چونکہ دفترِ اول کی حکایت نمبر 28 تک کا جو ترجمہ ہے، اردو کا، وہ ہو چکا ہے۔ تو آج ان شاء اللہ جو دفترِ اول حکایت نمبر 29 ہے، شروع کیا جائے گا۔ اور اس کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ وہ ایک بادشاہ تھے جو کہ عیسائیوں کو بہت قتل کرتے تھے۔ تو ان کا جو وزیر تھا اس نے کہا، بادشاہ سلامت! آپ اتنا زیادہ قتل کر کے بدنام ہوتے ہیں۔ تو میں کوئی ایسی ترتیب کرتا ہوں کہ آپ بدنام بھی نہ ہوں اور آپ کا کام بھی ہو جائے۔ تو یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

                  اس پر وہ اس نے کہا تم کیا کرو گے؟ کہتا ہے بس آپ دیکھتے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر کیا کروں؟ تو انہوں نے کہا کہ میری کان، ناک کاٹ لیں جیسا کہ میں آپ کا معتوب ہوں اور پھر مجھے پھانسی گھاٹ پہ لے جائیں، پھر کوئی اس کی سفارش پر مجھے ملک بدر کر لے۔ تو اس طرح میں آپ کا معتوب بنا دیا جاؤں گا اور پھر بعد میں چونکہ جو عیسائی ہیں وہ مطلب ظاہر ہے ان میں مشہور کریں گے کہ چونکہ یہ عیسائیوں کا ساتھ دیتا تھا اس وجہ سے ان کے ساتھ ایسا ہوا۔ تو میں ان کا محبوب بن جاؤں گا۔ تو پھر جو میں کروں گا وہ بعد میں دیکھا جائے۔

                  تو اس نے پھر ایسا ہی کیا، اس نے پھر یوں کیا کہ جب وہ باہر نکال دیا گیا تو چھ سال ان میں، ان کے امام کے طور پر رہا۔ مطلب ان کا بہت محبوب شخص، ان لوگوں سے مطلب ظاہر ہے وہ یعنی وہ نصیحتیں مانگتے رہے اور اس طرح اور بہت سی باتیں۔ پھر اس نے بارہ امیروں کو، ان کے جو بارہ امیر تھے بارہ گروہوں کے، جو بارہ امیر تھے، ان کو علیحدہ علیحدہ انجیلیں پڑھائیں، اور علیحدہ علیحدہ ان کو بتایا کہ تم میرے نائب ہو، میرے بعد تم ہی ہو گے۔ تو اس طریقے سے وہ اس نے سب کو علیحدہ علیحدہ پڑھوایا۔

                  تو یہاں پر بات یہ ہے کہ پھر اخیر میں وہ خلوت نشین ہو گیا۔ اب اس کی آگے کہانی چلتی ہے۔ تو جب یہ خلوت نشین ہو گیا تو لوگ آئے ان کی منت سماجت کرنے لگے کہ آپ مہربانی کر کے آپ باہر تشریف لائیں، آپ ہمارے... آپ کے فراق میں تڑپ رہے ہیں ایسا اور ایسا اور ایسا، ایسا کر رہے ہیں۔ تو وزیر اب جواب دے رہا ہے، یہ دفترِ اول حکایت نمبر 29 میں جواب دیا جا رہا ہے، میں آپ کو تھوڑا سا بتا دوں تاکہ کچھ تو سمجھ آ جائے۔

                  تو وزیر کا جواب دینا کہ میں خلوت سے نہیں نکلوں گا:

                  1 بولے اپنی حجتوں کو کم کریں جو نصیحت کی ہے دل میں ضم کریں

                  یعنی آپ لوگ جو حجتیں کر رہے ہیں کہ باہر آ جاؤ، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا، یہ تھوڑی کم کرو، اور جو میں نصیحت کر رہا ہوں اس کو مان لو۔

                  2 گر امین ہو تو متہم نہ کریں اگر میں تم لوگوں کا امین ہوں تو پھر مجھ پر تہمت کیوں لگاتے ہو ایسے ویسے،

                  گر امین ہو تو متہم نہ کریں چاہے آسمان کو زمین کہہ دوں تمہیں

                  چاہے میں زمین کو آسمان کہہ دوں پھر بھی مجھ پر کوئی تہمت نہ لگاؤ۔

                  3 گر کمال والا ہوں تو انکار کیوں گر نہ ہوں تو زحمت و آزار کیوں

                  اگر میں کمال والا ہوں تو پھر میرا انکار کیوں کرتے ہو؟ اور اگر میں نہیں ہوں تو پھر یہ خواہ مخواہ شور کیوں کر رہے ہو؟ یعنی دو باتوں میں سے ایک بات تو ہو گی۔ اگر میں کمال والا ہوں تو انکار نہیں کرنا چاہیے پھر میری بات کا، اور اگر میں مطلب یہ ہے کہ کمال والا نہیں ہوں تو پھر میرے بارے میں چیختے کیوں ہو؟ خواہ مخواہ بس اپنے آپ کو پریشان کر رہے ہو۔

                  4 میں نہ نکلوں گا اس خلوت سے ابھی باطنی حالات میں مشغول ہوں جبھی

                  میں اس خلوت سے اب نکلنے کا ارادہ نہیں کر رہا کیونکہ میں اپنے باطنی حالات میں مشغول ہوں۔ یہ بات۔ اس پر یہ حکایت تو پوری ہو جاتی ہے۔

                  اب حکایت نمبر 30 پہ ہم جا رہے ہیں۔

                  اللہ اکبر!

                  دفترِ اول حکایت نمبر: 30

                  مریدوں کا وزیر کی گوشہ نشینی کے متعلق پھر خوشامد کرنا۔

                  اب حضرت کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ ایسے بے سروپا واقعات سے بھی بہت مطلب کی باتیں نکال لیتے ہیں۔ یعنی یہ تو پھر بھی ایک تاریخی چیز تھی۔ تو اس سے کیسے مضامین برآمد کرتے ہیں وہ تو ان کی بات ہے۔ وہ بے سروپا جیسے طوطے کی کہانی اور کتے کی کہانی اور گھوڑے کی کہانی، اس سے بھی بڑی بڑی چیزیں نکال لیتے ہیں۔ تو اس میں یہ ہے کہ مریدوں کا وزیر کی گوشہ نشینی کے متعلق پھر خوشامد کرنا، یہ پھر بات ہے۔

                  1 سارے بولے اے وزیر انکار نہیں بات ہماری گفتۂ اغیار نہیں

                  مطلب وہ بولے کہ اے وزیر! ہم انکار نہیں کر رہے ہیں آپ کی باتوں سے، اور یہ کوئی اغیار تو ہم نہیں ہیں کہ ہم خواہ مخواہ آپ کی باتیں نہیں مانتے، ہم تو محبت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔

                  2 بس فراق میں تیرے آنسو بہتے ہیں ہائے ہائے کی حالت میں اب رہتے ہیں

                  کہ تیرے فراق میں ہماری آنکھوں سے مسلسل آنسو آ رہے ہیں، اور یہ جان سے آہ آہ بھی نکلتی ہے۔

                  3 بچہ کو دایہ سے کچھ پرخاش نہیں وہ جو روتا ہے اسے دکھ ہے کہیں

                  مطلب بچے کو دایہ سے کچھ بھی پرخاش نہیں ہوتا کہ وہ خواہ مخواہ اس کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں، وہ جو روتا ہے تو وہ ایک مجبوری میں ہم اس سوء ادب کا بھی خیال نہیں تھا جو اس تکرار غرض سے لازم آتی ہے۔

                  جس طرح ایک شیر خوار بچہ کسی تکلیف سے تنگ آ کر روتا ہے تو دایہ سے خصومت کرنا اس کا مقصود نہیں، نہ دایہ کی گھبراہٹ کا اس کو خیال ہوتا ہے۔

                  یعنی دیکھیں واقعی، یعنی یہ مخلص لوگ ہیں۔ لیکن گمراہ لوگ ہیں۔ گمراہ جو لوگ ہوتے ہیں، مخلصین ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اخلاص کی وجہ سے کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے وہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھے ہوتے ہیں جو ان کو misuse کر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ عیسائیوں کو "ضآلین" کیوں کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ واقعی گمراہ لوگ ہیں۔ ان کو mislead کیا گیا ہے، ان کو وہ دھوکہ دیا گیا ہے۔


                  4 ہم ہیں سارنگی بجاتا ہے تو ہی

                  اب اپنی طرف بات لاتے ہیں حضرت۔ اب یہاں سے بات شروع ہوتی ہے حضرت کی۔

                  ہم ہیں سارنگی بجاتا ہے تو ہی رونا جو اپنا ہے اپنا ہے نہیں

                  الٰہی ہم گویا سارنگی ہیں اور تو اس کو بجاتا ہے، رونا ہمارا نہیں ہے بلکہ گویا کہ تیری طرف سے آ رہا ہے۔

                  اس شعر سے مناجات کی طرف انتقال ہے اور یہ مناجات مریدانِ وزیر کی زبان سے نہیں بلکہ اس کے قائل خود شاعر ہیں۔

                  یعنی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ

                  اوپر بیان ہو رہا تھا کہ مریدانِ وزیر کا اصرار و تکرار مضطرًا و مجبورًا تھا۔ جس طرح ایک شیر خوار بچہ دایہ کی گود میں اضطرارًا روتا ہے۔ اس اضطرار و مجبوری کے مضمون سے شاعر توحید کے بیان کی طرف منتقل ہو گئے۔ جس کو بکلماتِ مناجات بیان فرماتے ہیں۔ یعنی الٰہی! چونکہ ہمارے افعال کا خالق تو ہے، اس لیے تیری طرف ان افعال کی نسبت حقیقتًا ہے اور ہماری طرف مجازًا۔

                  یعنی کسبی طور پر ہماری طرف ہے، حقیقت میں آپ کی طرف ہے۔

                  پس اگر ہم زاری بھی کریں، تو وہ بھی تیرے خالق اور مؤثر ہونے کے اعتبار سے تیری ہی طرف سے منسوب ہو گی۔ واضح ہو کہ بندوں کے افعال کا خالق کے ساتھ منسوب ہونا باعتبار ان کے خلق کے ہے نہ کہ باعتبارِ صدور کے، بلکہ صدور کے اعتبار سے وہ افعال بندوں کے ساتھ ہی منسوب ہیں۔ پس زاری میں کونی سے یہ مقصود نہیں کہ معاذ اللہ زاری کا صدور فی الواقع اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ ہماری زاری کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے گویا زاری اسی کا فعل ہے۔ اور یہ مجاز کی ایک قسم ہے جس میں ایک فعل کو فاعل کے بجائے سبب کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، جس کے نظائر قرآن و حدیث میں متعدد آئے ہیں۔ چنانچہ وارد ہے: فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں" اے پیغمبر جب ہم قرآن کو پڑھیں تو تم ساتھ ساتھ پڑھو"۔ کیا بات ہے! کہاں سے بات نکالی! جس میں جبرائیل علیہ السلام کی قراءت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا، ان کی طرف منسوب کیا گیا۔

                  مولانا بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ مناجات فرق بعد الجمع کے مرتبے میں ہے۔ جب سالک کی سیر عروج کی طرف ختم اور اس کا وجود فانی ہو جاتا ہے تو پھر وہ بشریت کی طرف نزول کرتا ہے اور اپنی ذات کا جلوہ آئینۂ حق میں دیکھتا ہے اور یہ عرفان کا سب سے بلند مقام ہے۔ اب وہ اپنی ذات کو معدوم اور ذاتِ حق کے ساتھ موجود دیکھتا ہے اور اس کے تمام افعال و صفات کو حق کے ساتھ منسوب پاتا ہے۔ اس شعر اور آیندہ اشعار میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔

                  اب دیکھیں نا کہاں سے کہاں پہنچی بات! ہاں اب یہ آ گیا ہے:

                  5 ہم ہیں نَے، اپنی آواز تجھ سے ہے ہم پہاڑ اور گونج کا راز تجھ سے ہے

                  مطلب یہ ہے کہ یعنی ہم پہاڑ ہیں جیسے کہ ہم سے آواز تیری آواز واپس آ رہی ہے ہماری طرف، ہماری طرف آ رہی ہے۔

                  6 جنگ میں مصروف مہرے جو شطرنج کے ہیں ہم ہیں گویا اور یہ سب کچھ تجھ سے ہیں

                  ہم شطرنج کے مہروں کی طرح فتح و شکست میں مصروف ہیں۔ اے عالی صفات! ہماری فتح و شکست تیری طرف سے ہے، جس طرح شطرنج کے مہروں کی بادشاہت ان کا فعل ہوتا ہے۔

                  یعنی مطلب یہ ہے کہ جو شطرنج کا جو ماہر ہوتا ہے وہ مہروں کو ہلاتا ہے۔ تو وہ اگر گھوڑا فتح پاتا ہے تو مطلب ظاہر ہے وہ تو گھوڑے کی طرف تو نہیں سمجھا جاتا، وہ تو جو اس کو ہلاتا ہے اسی کی طرف سمجھا جاتا ہے۔

                  7 اے کہ تو ہے جانِ جاں اور ہم ہیں کیا؟ کہ ترے وجود کے ساتھ ہو بقا

                  اے (وہ ذات حق) جو ہماری جانِ جان ہے! ہماری کیا ہستی ہے کہ تیرے وجود کے ساتھ ہمارا وجود باقی رہے۔

                  8 ہم عدم ہیں تیری ہی ہستی وجود نظر جاہل میں نہیں تو گو موجود

                  یعنی تو لوگوں کو موجود نظر نہیں آتا، لیکن اصل میں تو موجود تو ہی ہے۔ سبحان اللہ! یعنی لوگوں کو تو موجود نظر نہیں آتا لیکن اصل میں موجود تو ہے، ہم تو عدم ہیں ہماری تو کوئی حیثیت نہیں ہے۔

                  ہم اور ہماری ہستیاں (جن کو عوام موجود سمجھتے ہیں درحقیقت سب) معدوم ہیں، تو وجودِ مطلق ہے (مگر کوتہ نظر جاہلوں کی نظر میں) نابود دکھائی دیتا ہے۔

                  9 ہم عَلَم کے شیر حملہ دم بدم گو کریں یہ ہے ہوا سے چیست منم

                  علم یعنی جھنڈے، جھنڈے کے اوپر شیر کی تصویر اگر بنی ہوئی ہے اور جھنڈا ہل رہا ہو تو اس کے اوپر شیر جیسے گو حملہ کر رہا ہوتا ہے۔ ہم عَلَم کے شیر حملہ دم بدم گو کریں یہ ہے ہوا سے چیست منم

                  مطلب یہ ہے کہ ہم تو علم کے شیر ہیں اور حملہ دم بدم کر رہے ہیں، لیکن ہم کیا ہیں؟ یہ تو ہوا سے ہو رہا ہے۔ تو کہاں پر ہم ہیں؟ یعنی ہماری حیثیت کہاں پر ہے؟

                  (فرض کیا کہ) ہم سب شیر ہیں، مگر جھنڈے (کی تصویر) کے شیر (ہیں اور) ہمارا حملہ (جو) دمبدم (ہوتا ہے تو) ہوا (کی جنبش) سے ہوتا ہے۔

                  اپنی ہستی ”معدوم باقی نما“ اور خدا کی ہستی ”مطلقِ فانی نما“

                  سبحان اللہ یعنی اپنی ہستی معدوم، باقی نما ہے۔ یعنی گویا کہ ہے تو معدوم لیکن نظر باقی آتی ہے۔ اور خدا کی ہستی مطلق ہے، یعنی اصل ہے لیکن وہ فانی نما نظر آتی ہے۔

                  کی تمثیل شیرِ عَلَم کے حملے اور ہوا سے دی ہے۔ یعنی اس شیر کا حملہ دم بدم محسوس ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں اور اس کی محرک ہوا موجود ہے، مگر وہ محسوس و مدرک نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ ذاتِ مطلق حجابِ خفا میں ہے۔ ما شاء اللہ!

                  مولانا اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ حجابِ شاہدِ مطلق نہ اُٹھا ہے نہ اُٹھے گا

                  جسے ہم لا مکاں سمجھتے تھے وہ بھی اک مکاں نکلا۔

                  مطلب یہ ہے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی جو ذات وراء الوراء ہے۔ اس سے کوئی پا نہیں سکتا، جس کو ہم سمجھیں وہ بھی کوئی اور چیز ہوتی ہے۔ اللہ نہیں ہوتا۔

                  10 پر جو ہے حملہ اپنا آئے نظر اور اثر ہوا کی نہ آئے نظر

                  ہمارا حملہ نظر آتا ہے اور ہوا نظر آنے والی نہیں ہے (دعا ہے کہ) وہ (ذات پاک) جو نظروں میں محسوس ہونے سے منزہ ہے (ہمارے قلوب سے اس کی تجلیات) کبھی ناپید نہ ہوں۔

                  11 بول، وجود اپنا ترا ہی داد ہے

                  ہمارا کہنا اور ہمارا وجود تیری ہی دینے سے ہے۔ ہستی اپنی تیری ہی ایجاد ہے

                  ہماری جو ہستی ہے وہ تیری ہی ایجاد ہے۔ تو نے تو اس کو ایجاد کیا ہوا ہے۔

                  ہمارا بولنا اور ہمارا وجود تیری عطا ہے۔ ہم سب کی ہستی تیری ایجاد ہے۔ پہلا مصرعہ ان دو آیتوں کے مضمون پر مشتمل ہے۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ، عَلَّمَہُ الْبَیَانَ۔ "اسی نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو بولنا سکھایا"۔ مصرعۂ دوم میں اس آیت کے مفہوم کی طرف اشارہ ہے: قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَکُ شَیْئًا۔ "تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ بات مجھ پر آسان ہے۔ اس سے پہلے تم ہی کو میں نے پیدا کیا حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔"

                  12 تو نے ہی معدوم کو وجود بخشا اور بنایا گرویدہ اس کو اپنا

                  تو نے معدوم کو وجود کی لذت چکھائی۔ تو نے (ہی) معدوم کو اپنا گرویدہ بنایا تھا۔

                  دوسرے مصرعہ میں آیتِ میثاق یعنی: ﴿وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ۔۔۔﴾(الاعراف: 172) کے مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ جس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تمام آنے والی اولاد کو بروزِ میثاق پیدا کر کے ان سے اقرار لیا کہ ﴿اَ لَسْتُ بَرَبِّکُمْ﴾ (الاعراف: 172) ”کیا میں تمہارا پروردگار نہیں؟“۔ ﴿قَالُوْا بَلٰی﴾ (الاعراف: 172) ”انہوں نے عرض کیا بے شک، تو ہمارا پروردگار ہے“۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جو مخلوق ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی یومِ میثاق میں اس کو بھی اپنا گرویدہ اور اپنی الوہیت کا قائل و مُقر بنا لیا۔

                  13 عشق کا انعام واپس تو نہ لیجئے

                  سبحان اللہ! سبحان اللہ! یعنی جو اس وقت ہمیں عشق تھا، روحانی عشق، یعنی ہماری روحوں کو عشق تھا، وہ واپس نہ لیجئے۔ عشق کا انعام واپس تو نہ لیجئے

                  یہ شراب و جام پاس چھوڑ دیجئے

                  یہ جو عشق کی باتیں ہیں، یہ ہمارے پاس رہنے دیں، یہ ہم سے نہ لیں۔

                  14 لے اگر تو یہ تو کون پھر لے سکے نقش نقاش پر زور کیسے دے سکے

                  اگر تو لے لے یہ چیزیں ہم سے، تو پھر ہمیں کیسے ملیں گی؟ کیونکہ نقاش پر نقش تو کوئی زور نہیں دے سکتا۔ مطلب ظاہر ہے وہ نقش، نقش تو بے جان ہے۔ نقاش اس کو جیسے بھی بنا لے۔

                  اور اگر تو لے ہی لے تو کون ہے جو (معاذ اللہ پھر تجھ سے لینے کے لیے) ساعی ہو (بھلا) نقش کیونکر نقاش کے ساتھ زور (آزمائی) کر سکتا ہے۔

                  ”کَمَا یُقَالُ فِی الدُّّعَاءِ الْمَاْثُوْْرِ "لَا مَانِعَ لِمَآ اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ“ یعنی ”جو کچھ تو بخشے اُسے کون بند کرے اور جو چیز تو بند کر دے اسے کون دے سکے“۔

                  15 دینے میں اپنے فضل و کرم کو دیکھ لیں عدم استحقاق اپنے کو نہیں

                  یعنی مطلب ہے، جو ہمارا، جو ہمیں دے رہا ہے، تو اپنے فضل و کرم کو دیکھنا، ہمارے استحقاق کو نہ دیکھنا۔ کیونکہ ہمارا استحقاق تو کوئی بھی نہیں ہے۔ تو پھر اس کی وجہ سے محروم نہ ہو جائیں۔

                  ہمارے (عدمِ استحقاق) کی طرف نظر نہ کر۔ نہ ہم کو (ہماری عدمِ صلاحیت کے لحاظ سے) دیکھ۔ بلکہ اپنے فضل و کرم کو دیکھ (کہ بہرحال عطائے انعام کا مقتضی ہے)۔


                  16

                  ہم نہ تھے سنتا تھا اپنی نا کہی

                  مہربانی تیری تھی ہر دم یہی

                  (جب) ہم (موجود) نہ تھے اور ہمارا تقاضا (بھی) نہ تھا۔ تو تیری مہربانی ہماری بے کہی (درخواست) کو سنتی تھی۔

                  یعنی جیسے اللہ پاک نے بنایا تو کیا ہم سے پوچھ کے بنایا تھا؟ کیا ہم نے کچھ کہا تھا؟ صرف اسی پر اگر انسان اللہ کا شکر کرے تو بھی بہت اہم بات ہے کہ یعنی اللہ پاک نے ہمیں انسان بنایا۔ تو ہمیں کتا نہیں بنایا، ہمیں سور نہیں بنایا، ہمیں گدھا نہیں بنایا، ہمیں چوہا نہیں بنایا۔ اللہ پاک نے ہمیں انسان بنایا، پھر اچھی صورت دی، اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمان بنایا۔ پھر اللہ پاک نے اہلِ حق کے ساتھ ملا دیا۔ یہ ساری باتیں جو ہیں نا شکر کی ہیں۔ اللہ اکبر!

                  17 نقش نقاش کے قلم کے سامنے پیٹ کے بچے کی طرح مجبور ہے

                  نقش تو نقاش اور (اس کے) قلم کے آگے پیٹ کے بچے کی طرح (عاجز اور مجبور) ہوتا ہے۔

                  اوپر کہا تھا

                  ؎ ”نقش نقاش پر زور کیسے دے سکے“

                  یہاں اس کی مزید توضیح فرماتے ہیں کہ اگر خداوند تعالیٰ اپنے انعامات ہم سے چھین لے تو ہم کیا کر سکتے ہیں، ہم بمنزلہ نقش اور وہ نقاش۔ نقش نقاش کے آگے کیا سرکشی کر سکتا ہے۔


                  18 سامنے اس کی قدرت کے عاجز ہیں سب سامنے سوئی کے آئے پارچہ جب

                  اس کی قدرت کے سامنے سارے عاجز ہیں۔ مطلب جیسے سوئی کے نیچے آگے کوئی کپڑا جو آ جاتا ہے نا، تو اس کو کیا کر سکتی ہے؟

                  اصل میں اگر دیکھا جائے نا تو یہ باتیں ساری لگتی ہیں جیسے ہم اوپری باتیں کر رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ لیکن شیطان کو دیکھیں۔ شیطان کو ان باتوں کا خیال نہیں آیا تو کیا... کیا ہوا؟ شیطان کس طرح گمراہ ہوا؟ ان باتوں کا خیال نہیں آیا یہ جو باتیں ابھی مولانا کر رہے ہیں۔ کہ اس کو یہ خیال نہیں آیا کہ پھر میں تو اللہ کا پیدا کیا ہوا ہوں، میری کیا حیثیت ہے کہ میں اللہ سے بات کروں؟ مجھے جو کچھ حیثیت دی تھی تو اللہ پاک نے دی ہے۔ اس نے جو حکم دیا میں نے اس کو نہ مان کر کیا اس کا بگاڑا؟ سارا کچھ اپنا ہی بگاڑا۔ یہی شیطان کو اگر خیال آتا تو مطلب ظاہر ہے ایسا نہ کرتا۔ لیکن اس کو خیال نہیں آیا تو پھر وہی ہوا جو مولانا فرما رہے ہیں۔ تو یہ کسی کے ساتھ بھی ایسا ایسا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تو سارے ہی مجبور ہیں۔ اس معنی میں، مجبور اس معنی میں نہیں کہ اللہ پاک یعنی غلط کام پہ مجبور کر رہے ہیں۔ مجبور اس معنی میں ہے کہ اللہ پاک کی قدرت کے سامنے کوئی پر نہیں مار سکتا۔ اللہ پاک جب چاہے تو اس کے سامنے کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس چیز کو جان کر، اللہ پاک کا بندۂ خالص بننا، یہی سب سے بڑی بات ہے۔ اور جس کو کہتے ہیں بندگی، بندگی یہی چیز ہوتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو عاجز کہے اور اللہ پاک کو قادر کہے۔ کہ ہم لوگ تو کچھ بھی نہیں کر سکتے، ہماری کیا حیثیت ہے؟ عمل کے لحاظ سے جو حکم ہے اس میں کوشش کریں گے، یہ نہیں کہ میں جی، ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہم نماز پڑھیں۔ نہیں! یہ والی بات کوئی نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ اللہ پاک نے قانون بتا دیا ہے۔ اور قانون یہ ہے کہ کوئی کسی شخص کو بھی کوئی ایسی تکلیف نہیں دی جاتی، ذمہ دار اس کو نہیں بنایا جاتا جس کو وہ اٹھا نہ سکے۔ اس کو ہم کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اس میں انسان کچھ نہیں کہہ سکتا کہ میں وہ یعنی یہ نہیں کر سکتا، اس حکم پر عمل نہیں کر سکتا۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو بالکل عاجز سمجھے۔ یعنی مثال، اور چیزیں میں ابھی بول رہا ہوں، اللہ پاک مجھ سے بولنے کی صفت چھین لے، تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ ایک سیکنڈ بھی کم ہے۔ ایک سیکنڈ بھی بڑی بات ہے۔ ایک سیکنڈ بھی اس کو ہم نہیں کہہ سکتے، microsecond بھی نہیں کہہ سکتے، اللہ پاک کے لیے ساری چیزیں اتنی آسان ہیں۔ تو جب یہ والی بات ہے تو پھر ہم کیوں مطلب بغاوت، اس میں کب آ سکتے ہیں؟

                  یعنی خدا کی قدرت کے تئیں تمام بارگاہِ عالم کی مخلوق اس طرح عاجز ہے جیسے سوئی کے آگے کشیدہ کاری کا پارچہ۔

                  19 گاہ شیطان گاہ آدم نقش کرے گاہ خوشی اور گاہ غم نقش کرے

                  (خدا کی قدرت) کبھی شیطان کا نقش بناتی ہے اور کبھی آدمی کا، کبھی خوشی کا نقشہ کھینچتی ہے اور کبھی غم کا۔

                  20 کوئی طاقت اس کو روک سکتا نہیں سامنے اس کے کوئی بھی بولتا نہیں

                  کوئی طاقت نہیں جو (اُس کو) روکنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے، کوئی قوتِ گفتار نہیں جو (اُس کے پہنچائے ہوئے) نفع و نقصان پر دم مارے۔

                  کَمَا قَالَ اللہُ تَعَالٰی: ﴿وَاللهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ وَ ھُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴾ (الرعد: 41) ”اور اللہ تعالیٰ (جو چاہتا ہے) حکم دیتا ہے۔ کوئی شخص اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا اور وہ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے“۔ ﴿لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْئَلُوْنَ﴾ (الانبیاء: 23) یعنی ”جو کچھ وہ کرتا ہے اس کی باز پُرس اس سے نہیں کی جا سکتی اور ہاں لوگوں سے (ان کے اعمال کی) باز پُرس ہونی ہے“۔


                  21 تو اگر چاہے تو قرآن میں پڑھو

                  یعنی اگر اس بات کو سمجھتے نہیں ہو تو پھر قرآن میں پڑھو۔ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْت بھی پڑھو

                  کیونکہ اللہ پاک نے خود فرمایا ہے نا کہ تم نے کنکریاں ماریں نہیں بلکہ ہم نے ماریں۔

                  (اگر تم کو تشفی نہیں ہوئی تو) ان ابیات کی تفسیر قرآن مجید سے پڑھ لو (جہاں) خدا فرماتا ہے۔ وَمَا رَمَیْتَ۔۔۔الخ۔

                  غزوۂ بدر میں جب کفار کی فوج لشکرِ اسلام پر غالب ہونے لگی تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جنابِ باری میں فتح کے لیے دعا کی اور سجدہ سے سر اٹھا کر کنکریوں کی ایک مٹھی کفار کی طرف پھینکی۔ خدا کی قدرت اس مٹھی کا پھینکنا تھا کہ کفار بد حواس ہو کر بھاگ نکلے۔ یہ آپ کا معجزہ تھا۔ اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللہَ رَمٰی﴾ (الانفال: 17) یعنی ”اے پیغمبر ﷺ تم نے جو کنکریاں پھینکی تھیں۔ وہ تم ہی نے نہیں پھینکی۔ بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں“۔

                  ابیاتِ بالا میں جو توحید کا ذکر آیا ہے۔ اس کی مزید توضیح اس آیت سے ہوتی ہے جس سے ظاہر ہے کہ عبد کا فعل درحقیقت معبود کا فعل تھا۔ یعنی اس فعل کا خالق معبود تھا۔


                  22 تیر پھینکیں ہم تو پھینکتے ہم ہیں کب ہم کمان ہیں تیر پھینکے وہ ہی سب

                  ہاں مطلب یہ ہے کہ جب ہم تیر پھینکتے ہیں تو وہ ہم کب پھینکتے ہیں؟ اصل میں تو ہم کمان ہیں، ہم سے تو پھینکوایا جا رہا ہے۔ جیسے ہوتا ہے نا شکاری، وہ کمان کے اندر تیر کو fix کر لیتا ہے۔ اور جب اس کو واپس کھینچ کے چھوڑتا ہے تو مطلب ظاہر ہے۔ تو ہم تو کمان ہیں، ہم سے تو کروایا جا رہا ہے۔

                  یعنی جس طرح کمان محض آلۂ تیراندازی ہے اور وہ خود تیر انداز نہیں ہے۔ بلکہ تیر انداز کماندار ہے۔ اسی طرح ہم خود مؤثر نہیں بلکہ مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ ہم سے محض فعل صادر ہوتا ہے۔ ان اشعار میں شاعر نے اللہ تعالیٰ کو فاعل اور بندے کو آلہ قرار دیا ہے، اس کو اصطلاحِ تصوف میں قُربِ فرائض کہتے ہیں اور اگر برعکس اس کے بندے کو فاعل اور اللہ تعالیٰ کو آلہ کہا جاوے تو یہ قرب نوافل ہے۔ اور ان دونوں اصطلاحوں کی ماخذ یہ حدیث ہے۔ ”عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اِنَّ اللہَ تَعَالیٰ قَالَ: مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ، وَ مَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْئٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَ مَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ فَکُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَ بَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہٖ وَ یَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَ رِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا، وَ اِنْ سَاَلَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہٗ، وَ لَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہٗ، وَ مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْءٍ اَنَا فَاعِلُہٗ تَرُدُّدِیْ عَنْ نَفْسِ الْمُؤمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَ اَنَا اَکْرَہُ مَسَاءَتَہٗ وَ لَا بُدَّ لَہٗ مِنْہُ“ (مشکوٰۃ، باب ذکر اللہ عزوجل)

                  یعنی ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میرے کسی ولی کو ستائے میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں، اور میرا بندہ جن اعمال کے ذریعے میری طرف تقرّب حاصل کرتا ہے ان میں سے فرائض سے بڑھ کر مجھے کوئی عمل محبوب نہیں، اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ساتھ میری طرف تقرّب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو دوست رکھتا ہوں، پس جب میں اس کو دوست رکھتا ہوں تو میں اس کی شنوائی بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے، اس کی بینائی (بن جاتا ہوں) جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ (بن جاتا ہوں) جس کے ساتھ وہ گرفت کرتا ہے، اور اس کا پاؤں (بن جاتا ہوں) جس کے ساتھ وہ چلتا ہے۔ اور اگر وہ مجھ سے (کچھ) مانگتا ہے تو میں اس کو ضرور دیتا ہوں، اور اگر میری پناہ چاہتا ہے تو میں اس کو پناہ دیتا ہوں۔ اور مجھ کو کسی چیز میں، جو مجھے کرنی ہو اس قدر تردّد نہیں ہوتا جس قدر ایک مومن کی جان (قبض کرنے) میں تردّد ہوتا ہے، جو موت کو نا پسند کرتا ہے۔ اور مجھے اس کی نا پسندیدگی نا پسند ہوتی ہے اور مرنے سے اس کو چارہ نہیں“۔

                  ”مَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ۔۔۔ الخ“ کا مطلب یہ ہے کہ میں اس بندے پر جو ہمیشہ متقرّب بالنوافل رہے اپنی محبت اس قدر غالب کر دیتا ہوں کہ وہ آنکھوں سے وہی چیز دیکھتا ہے جو مجھے محبوب ہو، کانوں سے وہی بات سنتا ہے جو مجھے پسند ہو، ہاتھوں سے وہ ہی چیز چھوتا ہے جو مجھے اچھی لگتی ہو، پاؤں سے اسی راہ پر چلتا ہے جو مجھے منظور ہو۔ (کَذَا فِی مُظَاہِرِ الْحَقِّ) پس جب بندہ کے تمام افعالِ جوارح رضائے الٰہی سے متحد ہو جاتے ہیں تو اس کے متعلق مجازًا یہ فرمایا کہ میں ہی اس کے اعضاء بن جاتا ہوں۔ گویا بندہ فاعل ہے اور آلۂ فعل خداوند تعالیٰ ہے۔ چونکہ یہ مرتبہ کثرتِ نوافل سے حاصل ہوتا ہے اس لیے اس کا نام قُربِ نوافل ہے۔ اس سے پہلے ارشاد ہے کہ ”مَا تَقَرَّبَ اِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَيْءٍ اَحَبَّ اِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ“ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو بندے کے تمام تقرب دلانے والے اعمال سے فرائض زیادہ پسند ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقرب، تقرب بالنوافل سے بھی افضل ہے۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ بندے کی ہستی ایسی مضمحل ہو جائے کہ وہ اپنے ارادہ و قدرت کو خداوند تعالیٰ کے ارادہ و قدرت کے سامنے کالعدم سمجھے۔ یعنی حقیقی فاعل خدا کو قرار دے اور اپنے آپ کو صرف آلۂ فعل سمجھے۔

                  اب ذرا اس پر عرض کرنا چاہوں گا۔

                  وہ یہ ہے کہ نوافل کی جو بنیاد ہے وہ فرائض ہے۔ کیونکہ نوافل فرائض کے بغیر وجود ہی نہیں پا سکتے۔ جو شخص فرائض چھوڑتا ہے تو وہ گناہگار ہے۔ اس سے مطالبہ ہے۔ اور نوافل اگر کوئی چھوڑ دے تو اس سے کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ تو اگر کوئی نوافل اختیار کرتا ہے اور فرائض چھوڑ دیتا ہے تو گناہگار ہی رہتا ہے۔ مطلب ہے کہ اس کا net result جو ہے وہ کیا ہے؟ گناہگار ہی ہے۔ تو لہٰذا اصل فائدہ تو فرائض میں ہے۔ لیکن فرائض میں تو سب برابر ہیں نا کیونکہ سب پر لازم ہیں۔ تو فیصلہ آگے بڑھنے کا کس چیز پر ہو گا؟ جو نوافل ہیں۔ کیونکہ فرائض تو سب کو کرنے ہیں، تو اس میں سب برابر ہیں۔ بالکل! تو اب آپس میں مقابلہ کس چیز پر ہو گا؟ مسابقت؟ نوافل میں ہو گا۔ تو اس وقت جس وقت نوافل جو فرائض کے ساتھ ادا کرتا ہے، فرائض کے ساتھ جو نوافل ادا کرتا ہے، ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں ان کو اپنا دوست رکھتا ہوں۔

                  یعنی یہ جو ولایت ہے، وہ اس کے ذریعے سے ہے۔ کہ وہ جو بنیاد ہے وہ تو مہیا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید جو وہ کرتا ہے، اضافہ ہے، وہ اس کی طلب ہے۔ اس طلب کے مطابق، کیونکہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ والی بات بھی ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے ہاتھ ہمیشہ اوپر رکھتے ہیں۔ تو جب انسان طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اس کا طالب ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک اس کو اپنا دوست بناتا ہے۔ اور جب دوست بناتا ہے تو پھر یہاں بھی دو تاویلیں ہیں۔ ایک تاویل یہ ہے کہ بندہ جو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے، اور یہ بھی سچ ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ بندہ ایسا ہی بندہ بن جاتا ہے، وہ کرتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ تو یہ بھی سچ ہے۔ تو یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی تشریح ہیں۔ لہٰذا ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہی مطلب ہے ” ہم کمان ہیں تیر پھینکے وہ ہی سب “ کا، اور یہی تفسیر ہے ﴿وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ﴾ (الانفال: 17) کی۔

                  23

                  جبر نہ بلکہ یہ جباری تو ہے ذکر اسکا بَری از زاری تو ہے

                  اصل میں یہاں پر اب حضرت ایک دوسری طرف نکل گئے۔ اس میں توحیدِ خالص کو بیان کیا نا، تو توحیدِ خالص سے بعض لوگ جو جبر کے قائل ہیں، وہ جبر سمجھ لیتے ہیں، کہ ہم تو مجبور ہیں۔ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم سے کیوں مطالبہ ہے؟ اس طرف چلے جاتے ہیں۔ تو اب حضرت اس کا جواب دے رہے ہیں۔ اب دیکھیں حضرت حال کے ساتھ کتنا قال کا غلبہ ہے۔ دیکھیں نا، حال تو یہی ہے کہ کہتے ہیں سب کچھ اللہ پاک کرتے ہیں اور سب کچھ کوئی دم بھی نہیں مار سکتا، اور بات تو بالکل صحیح ہے۔ لیکن اس سے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہو رہا ہو تو عقیدہ درست کرنے کے لیے اب آگے اشعار آ رہے ہیں۔


                  23

                  جبر نہ بلکہ یہ جباری تو ہے ذکر اسکا بَری از زاری تو ہے

                  (لیکن) یہ جبر (فرقہ جبریہ کے عقیدہ کے موافق) نہیں (بلکہ) یہ خدا کی جباری (کا) ہے (اور خدا کی) جباری کا ذکر (بندے کی مطلق) مجبوری (کے غلط عقیدے) سے بَری ہے۔

                  پچھلے مضمون سے بعض کم فہم لوگوں کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ اس سے بندے کی مطلق مجبوری ثابت ہوتی ہے۔ جو اہلِ حق کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اب شاعر بطورِ دفعِ دخل مقدر فرماتے ہیں کہ یہاں تو خداوند تعالیٰ کے غلبہ و قدرت کا ذکر مقصود ہے اور اس کے غلبہ و قدرت سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس نے ہم کو بالکل عدیم الاختیار اور مجبور بجرِ مذموم بنا رکھا ہے کہ جو چاہے ہم سے کرائے۔

                  24 اپنی زاری ہی ہے دلیلِ اضطرار

                  دیکھیں کیا زبردست جواب دیتے ہیں۔

                  اپنی زاری ہی ہے دلیلِ اضطرار اپنی خجلت ہے دلیلِ اختیار

                  یعنی جس وقت ہم زاری کرتے ہیں، اضطرار کی دلیل ہے۔ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، اللہ پاک سے مانگتے ہیں۔ اور جب غلطی ہوتی ہے اس پر پشیمان ہوتے ہیں تو یہ اختیار کی دلیل ہے۔ ورنہ اگر اللہ پاک کی طرف سے ہو تو پھر کیوں اس پہ پشیمانی ہے؟

                  یعنی ایک ہی شعر میں پورا میدان ان کا گرا دیا۔

                  اپنی زاری ہی ہے دلیلِ اضطرار اپنی خجلت ہے دلیلِ اختیار

                  ہمارا ضعف و عجز مجبوری کی دلیل ہے اور ہمارے (گناہوں پر) شرمندگی اختیار کی دلیل ہے۔

                  بندہ کے مجبورِ محض ہونے کا عقیدہ بھی غلط ہے اور مختارِ مطلق ہونے کا خیال بھی باطل بلکہ ان دونوں شقوں کا توسط حق ہے۔

                  یعنی حق یہ ہے کہ بندہ کسی حد تک مجبور بھی ہے اور کسی حد تک مختار بھی، چنانچہ حیات و موت و رزق و اولاد وغیرہ امورِ اضطراریہ اور بعض امورِ اختیاریہ میں قدرتِ حق کے سامنے ہمارا عاجز اور بے بس ہونا تو مجبور ہونے کی علامت ہے۔ اور اپنے کیے پر پشیمان و نادم ہونا اختیار کی نشانی ہے۔ اگر وہ کام بلا اختیار سرزد ہوتا تو ندامت کیوں ہوتی؟

                  مطلب اس کا یہ بات ہے کہ ہم سمجھتے ہیں نا کہ اللہ کرتا ہے، ہم تو کچھ نہیں کر سکتے تو وہ زاری کر لیتے ہیں۔ اللہ کے سامنے، یعنی دعا کرتے ہیں۔ اور جو ہم پشیمان ہوتے ہیں کسی چیز پر، تو اس کا مطلب ہے کہ اختیار میں ہے۔ سبحان اللہ!

                  25

                  گر نہ اختیار ہو تو پھر شرمندہ کیوں؟

                  بعد عداوت یہ صلح جویندہ کیوں؟



                  اگر (ہم کو اپنے افعال پر) اختیار نہ ہوتا۔ تو (اقدامِ معاصی کے بعد) یہ شرم کیا چیز ہے؟ اور (ارتکابِ معاصی کے بعد) افسوس اور ندامت اور (وقوعِ عداوت کے بعد) صلح جوئی کیسی ہے؟

                  26

                  زجر استادوں کا شاگردوں پہ کیوں

                  جبر میں دل کا تدبیروں پہ کیوں

                  مطلب یہ ہے کہ جو زجر استاد کرتے ہیں شاگرد پر تو آخر ان کو کسی چیز کا فاعل سمجھتے ہیں نا، اور جو جبر میں جو دل ہے وہ تدبیروں پر کیوں آتا ہے کہ ہم تدبیریں کریں؟ تو یہ تدبیریں کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہم کچھ کر سکتے ہیں تبھی تدبیریں کر رہے ہیں۔

                  (اگر) شاگردوں (کو قواعدِ درسگاہ اور آدابِ تعلیم کی پابندی پر اختیار نہیں تو ان) پر اُستادوں کی خفگی کیوں ہوتی ہے؟ (اگر سب کام مجبوری سے ہوتے ہیں۔ تو مدبروں کے) دل تدبیروں سے چکر میں کیوں ہیں؟

                  27

                  بندہ گر فائل ہے اسکے جبر سے

                  ماہِ حق پنہاں جہل کے ابر سے

                  اور اگر تو یہ اعتراض کرے کہ (بندہ جو اپنے کیے سے پشیمان ہوتا ہے) اس کو اپنی مجبوری کا احساس نہیں ہے (پس جبر کے عقیدۂ) حق کا چاند اس کے ابر (جہل) کے نیچے چھپ رہا ہے۔

                  اثباتِ جبر کے لیے جو اوپر ارتکابِ افعال پر دریغ و خجلت کا عارض ہونا بطور دلیل پیش کیا تھا۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا تھا کہ ممکن ہے بندہ مجبورِ محض، مسلوب الاختیار مطلقًا ہو۔ مگر اس کو اپنی مجبوری کا احساس نہ ہو اور اپنے جہل و لا عملی کے تقاضے سے اس فعل کو جو درحقیقت خداوند تعالیٰ کے اختیار سے سرزد ہوتا ہے اپنا فعل سمجھ کر افسوس کرتا ہو۔ اس کا جواب بیان فرماتے ہیں:

                  کیا؟

                  28۔

                  سنتا ہو گر اس کا بھی ہے اک جواب

                  فرقۂ جبری کا بے باک ہو حساب

                  کیا ہے؟

                  29

                  حیرت و زاری جو بیماری میں ہے

                  اس سے تنبیہ ہے جو بیداری میں ہے

                  (یعنی) حالتِ مرض میں جو (بندے کو اپنے سابقہ اعمال پر) پریشانی و زاری لاحق ہوتی ہے۔ وہ بیماری کے وقت ایک کامل تنبیہ ہوتی ہے (کیونکہ بوجۂ خوفِ موت غفلت کا حجاب اُٹھ جاتا ہے۔)

                  اس وقت اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ اوہو یہ میں نے کیا کیا! بلکہ موت کے وقت سب پشیمان ہوتے ہیں۔ سب پشیمان ہوتے ہیں۔ اور بیماری میں، ظاہر ہے جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، وہ پشیمان ہوتے ہیں۔

                  32

                  جس زماں کہ ہوتا ہے بیمار تو

                  جرموں سے کرتا ہے استغفار تو

                  اس وقت تمہیں یاد آ جاتا ہے۔

                  33

                  اس وقت اپنی برائیاں ہو عیاں

                  نظر آئے پھر ہدایت کا نشاں

                  اس وقت تجھ پر گناہ کی برائیاں عیاں ہو جاتی ہیں تو (دل سے) نیت کر لیتا ہے کہ میں آئندہ راہِ (ہدایت) پر چلوں گا۔

                  32

                  عہد و پیماں تو کرے کہ بعد ازاں

                  میں کروں گا اطاعت اسکی ہر زماں

                  33

                  پس سمجھ آئی کہ بیماری تری

                  جو ہے اس سے ہے یہ بیداری تری

                  پس اس امر کا یقین ہوا کہ تیری بیماری تجھ کو (غفلت سے نکال کر) ہوش اور بیداری بخشتی ہے۔

                  اگر معترض کے خیال کے مطابق افعالِ قبیحہ سے نادم ہونا بوجۂ جہل و غفلت کے ہے تو بیماری میں تو انسان غافل و جاہل نہیں ہوتا۔ اس وقت قربِ موت کے تصور سے پوری ہوشیاری و بیداری ہوتی ہے۔ پھر کیوں نادم ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو فی الواقع اپنے اعمال کا اختیار حاصل ہے۔ جبھی تو اس کو ارتکابِ معاصی پر ندامت لاحق ہوتی ہے۔

                  یہ بہت عجیب بات کی، منطقی...

                  کہ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی جہل کی وجہ سے ہے، تو یہاں پر جو ہے بیماری میں وہ جاہل تو نہیں ہے۔ تو اس وقت پھر اس کو کیوں ایسا پیش آ رہا ہے؟ اس لیے پیش آ رہا ہے کہ اس وقت وہ اپنے اعمال کا پس منظر دیکھ رہا ہے کہ یہ تو میری غفلت تھی اور میں نے نقصان کیا۔ لہٰذا اس پر پشیمان ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اختیار سمجھتا ہے نا اپنا، کہ میں اگر ایسا نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا۔ اس پر یہ اس کی طرف آتا ہے۔

                  34

                  پس سمجھ کہ جس کے دل میں درد ہو

                  پا لیا اس نے سراغ مجھ سے سنو

                  پس اے حقیقت کے طالب اس قاعدہ کلیہ کو سمجھ لے (کہ) جس آدمی میں درد ہے۔ اسی نے (محبوب) کا سراغ پایا ہے۔

                  ان دو شعروں میں انتقال ہے اس بات کی طرف کہ آدمی میں دردِ عشق ہونا چاہیے اور دردِ عشق ہی فوز و سعادت کا ذریعہ ہے۔

                  35

                  ہر کہ بیدار ہو تو ہو پُر درد تر

                  جو ہو آگاہ اسکا رُخ ہو زرد تر

                  جو زیادہ ہوشمند ہے۔ وہی زیادہ پُر درد ہے۔

                  اس کو احساس زیادہ ہے نا۔

                  جو زیادہ با خبر ہے (سوزِ عشق سے اسی کا) چہرہ زیادہ زرد ہے۔

                  جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم وہ دیکھو جو میں دیکھتا ہوں، تو زیادہ نہ ہنسو بلکہ روؤ۔ تو یہی بات ہے کہ انسان کو اس سے پتہ چلنا چاہیے۔

                  36

                  جبری ہو تو تیری عاجزی کہاں

                  اور جھنکار زنجیرِ جباری کہاں

                  اگر تو جبری ہے تو پھر تیری عاجزی کہاں چلی گئی؟ جو لازمِ جبر ہے۔ اور تیری زنجیرِ جباری کی جھنکار کہاں ہے؟ جس میں تو بظاہر خود جکڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تو جبری ہے تو پھر عاجزی کیسے آئی؟

                  یہاں سے پھر جبر و قدر کی بحث کی جانب عود کیا ہے اور قائلِ جبر کو الزامی جواب دیتے ہیں کہ اگر تم اپنے آپ کو مجبورِ محض سمجھتے ہو تو تم میں مجبوری کے آثار یعنی کمال عاجزی و بے اختیاری اور انکسار و تذلل ہونے چاہییں وہ کہاں ہیں؟ اور اگر تم اپنے آپ کو جباری کی خدائی زنجیر میں جکڑے ہوئے سمجھتے ہو تو اس زنجیر کی جھنکار یعنی تمہاری اس مجبوری کی علامات بھی ہونی چاہییں۔ مطلب یہ کہ تم ایک بے حس و حرکت تصویر ہوتے۔ پھر یہ مزا اور خود مختارانہ شوخیاں کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟

                  آگے اور بھی سخت بات کرتے ہیں۔

                  37

                  دعویٰ کرے کیا جو ہو زنجیر میں ٹوٹی لکڑی ہو کبھی شہتیر میں

                  وہ شخص جو زنجیر میں ہے وہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں ایسا ہوں ایسا ہوں۔

                  دعویٰ کرے کیا جو ہو زنجیر میں ٹوٹی لکڑی ہو کبھی شہتیر میں

                  مطلب یہ ہے کہ ٹوٹی لکڑی کوئی رکھتا ہے اس طرح؟ یعنی

                  (بھلا) زنجیر کا (دست) بستہ داد و دہش کیونکر کر سکتا ہے۔ ٹوٹی لکڑی ستون کیونکر بن سکتی ہے۔

                  38

                  جو اسیر ہو کیسے آزادی کرے

                  کب گرفتارِ بلا شادی کرے

                  یعنی جو اپنے آپ کو اسیر سمجھتا ہے، قیدی سمجھتا ہے یعنی مجبوری، تو وہ کیسے آزادی کر سکتا ہے؟ وہ ظاہر مطلب ہے کہ واقعی جس کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا تو اس کے سامنے پھر کیسے ہوتا ہے؟ تھر تھر کانپ رہا ہوتا ہے۔ اور کیا کر سکتا ہے؟ زندان کا قیدی آزاد کب رہ سکتا ہے؟ بلا کا گرفتار کب خوشی منا سکتا ہے؟

                  جیل خانہ کا قیدی آزاد کب رہ سکتا ہے۔ بلا کا گرفتار کب خوشی منا سکتا ہے۔

                  39

                  گر قضا و قدر نے باندھا تجھے

                  شاہ کا چوبدار ہر دم ہے دیکھتا تجھے

                  یعنی قضا و قدر نے تجھے باندھا ہے، تو پھر تو جو اللہ پاک کی طرف سے مقرر ہیں، وہ تو تمہیں ہر وقت دیکھ رہے ہیں، قضا و قدر کے جو چوبدار ہیں وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔

                  40

                  عاجزوں پر جبر و تعدی نہ کر

                  کیسے مجبور یہ کرے، تو بھی نہ کر

                  تو پھر ایسے عاجزوں پر تو کیوں جبر اور تعدی کرتا ہے۔

                  عاجزوں پر جبر و تعدی نہ کر

                  کیسے مجبور یہ کرے، تو بھی نہ کر

                  تو تو عاجزوں پر سپاہیانہ جبر و تعدی نہ کر۔ کیونکر یہ بات ایک عاجز (و مجبور) کی خصلت و عادت نہیں ہو سکتی۔

                  41

                  جبر گر دیکھتا نہیں دعویٰ نہ کر

                  بے دلیل اس بات میں بولا نہ کر

                  جب تو (اپنے افعال میں) اس کا (یعنی خدا کا) جبر نہیں دیکھتا تو اس کا دعوٰی نہ کر۔ اگر دیکھتا ہے تو دیکھنے کی دلیل کیا ہے؟

                  42

                  کام جو کرتا ہے تُو، اس میں دیکھ ذرا

                  قدرت و اختیار کا مشاہدہ

                  جس کام سے تجھے لگاؤ ہے اس میں صاف طور پر تو اپنی قدرت و اختیار کا مشاہدہ کرتا ہے۔

                  یعنی دنیا کے کام، اس میں کہتے ہو کہ اوہو، یہ تو میں یہ کرتا ہوں، میں یہ کرتا ہوں، اس وقت تو اس میں اختیار کا مشاہدہ کرتا ہے۔ یہی اصل میں جواب ہے، بلکہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور جگہ پر عجیب جواب دیا ہے۔ یہ تو اس میں تو نہیں آتا لیکن کسی اور جگہ فرمایا ہے کہ تجھ سے تو کتا بھی اچھا ہے۔ اگر تو یہ سوچتا ہے، تجھ سے کتا بھی اچھا ہے۔ اگر اس کو پتھر مارا جاتا ہے، تو وہ پتھر کے پیچھے نہیں لپکتا۔ وہ جو پتھر مار رہا ہے اس کے پیچھے لپکتا ہے۔ وہ پتھر کے پیچھے نہیں لپکتا کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اصل کون ہے؟ تو اس طرح مطلب ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے سمجھا رہے ہیں۔

                  43

                  کام جس کے ساتھ نہیں تجھ کو لگاؤ

                  کہتا ہے مجبور ہوں باقی چل چلاؤ

                  یعنی جس کے ساتھ تمہیں لگاؤ نہیں یعنی دین کے کام، تو اس میں کہتے ہو میں مجبور ہوں، میں کیا کروں؟ ہم تو مجبور ہیں۔ یعنی جتنے بھی اپنے آپ کو مجبور کہنے والے ہیں، دنیا میں اپنے آپ کو مجبور نہیں سمجھتے۔ تو پھر کیسے ہیں، سارے اپنے آپ کو دیکھ...

                  جس کام سے تجھے لگاؤ اور خواہش نہیں ہے۔ اس میں تو مجبور بن بیٹھتا ہے اور (کہنے لگتا ہے) کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

                  ان دو شعروں میں قائلِ جبر کے ایک فریبِ نفس کو ظاہر کیا ہے یعنی اگر تم مجبورِ محض ہو تو تمام خوش گوار و ناگوار حالات میں مجبور و بے اختیار بنے رہو۔ یہ کیا معنٰی کہ حصولِ رغائب اور جر منافع کے لیے تو خود اپنی مرضی و اختیار سے ایسے بھاگے بھاگے پھرتے ہو گویا تمہارے نزدیک جبر و مجبوری کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ لیکن جب غیر ملائم حالات پیش آتے ہیں، گو ان کا اصلی باعث خود اپنی سوءِ تدبیر ہی کیوں نہ ہو، تو جبری بن جاتے ہو اور کہنے لگتے ہو ہمارے کیا بس ہے جو کچھ ہوا ہمارے اختیار سے باہر تھا۔

                  بلکہ میں تو کہتا ہوں، اس وقت معاملہ الٹا چل رہا ہے۔ اگر صحیح کام ہوگیا تو میں نے کیا اور اگر نہیں ہوا تو پھر اللہ نے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ صحت عطا ہوگئی تو ڈاکٹر نے عطا کی اور اگر مر گیا تو کس نے مارا؟ بھئی یقیناً سب کو اللہ ہی مارتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن زندہ بھی اللہ ہی رکھتے ہیں نا۔ زندہ بھی تو اللہ ہی رکھتے ہیں نا۔ تو وہاں پر صورتحال بدل جاتی ہے، اور جس وقت زندگی کی بات ہوتی ہے، صحت کی بات ہوتی ہے وہ تو پھر ڈاکٹر صاحب ہیں یا میں خود ہوں اور اگر موت ہے بیماری ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ بالکل الٹی منطق ہے۔

                  اب یہ آتا ہے۔

                  44

                  انبیا دنیا کے کام میں جبری ہیں

                  کافر سب عقبیٰ کے کام میں جبری ہیں

                  جو انبیاء ہیں وہ دنیا کے کام میں جبری ہیں، وہ کہتے ہیں جو بھی ملا بس، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا ملتا تو کھا لیتے، نہیں ملتا تو فرماتے میرا روزہ ہے۔ اور عقبیٰ کے کام میں ایسے تھے کہ سبحان اللہ، سبحان اللہ! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما رہی ہیں کہ آپ کے پاؤں میں ورم آ گیا، تو آپ کو اللہ پاک نے تو بخشا بخشایا بنایا ہوا ہے، پہلے سے بخشا ہوا ہے۔ پھر آپ اتنی کیوں تکلیف کرتے ہیں؟ فرمایا، کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

                  تو آخرت کے کاموں میں ایسی حالت ہے اور دنیا کے کاموں میں ایسی حالت ہے۔

                  انبیا دنیا کے کام میں جبری ہیں

                  کافر سب عقبیٰ کے کام میں جبری ہیں

                  (پس) انبیاء علیہم السلام تو دنیا کے معاملات میں جبری (و تارکِ اسباب) ہیں۔ اور کفار آخرت کے کاموں میں جبری اور تارک اسباب ہیں۔

                  خلاصۂ بحث یہ ہے کہ نہ مطلق اختیار صحیح ہے نہ مطلق جبر۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک حالت مقید بقیدِ دیگر پائی جاتی ہے، یعنی یہ دونوں حالتیں خاص خاص حیثیات کے ساتھ اکٹھی پائی جاتی ہیں۔ ہاں بعض طبقات میں ایک حالت کو غلبہ ہے، بعض میں دوسری کو۔ مثلًا انبیاء علیہم السلام دنیا کے کام میں جبری یعنی تارک اسباب ہیں۔ اس لیے اسبابِ معیشت میں سادگی بلکہ فقر و بے سامانی اختیار کر لیتے ہیں۔ اور امورِ عقبٰی میں نہایت ہوشیار و زیرک اور اسباب و ذرائع کو اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ اہلِ دنیا کا حال اس کے برعکس ہے۔

                  45

                  انبیاء عقبٰی میں پائے اختیار

                  کافر سب دنیا میں پائے اختیار

                  انبیا کے لیے کارِ آخرت (زیر) اختیار ہے کافروں کے لیے کارِ دنیا (زیر) اختیار ہے۔

                  انبیاء آخرت کے کاموں میں اسباب کے لیے سعی کرتے ہیں اور کافر دنیا کے کاموں میں۔

                  46

                  ہر پرند پیچھے جنس کے اپنے اڑے

                  جان اس کی آگے اور خود پیچھے رہے

                  کیونکہ ہر پرندہ اپنی جنس کی طرف اڑتا ہے۔ (اور ایسی رغبت سے کہ) وہ پیچھے پیچھے (ہوتا ہے) اور (اس کی) جان آگے آگے۔

                  47

                  دوزخی کافر کا جنس سجین ہے

                  سجنِ دُنیا کے لئے خوش بین ہے

                  جو دوزخی کافر ہوتا ہے وہ دوزخ کی جنس سے ہیں اس لیے زندانِ دنیا کے خوب آئین شناس ہیں۔

                  48

                  انبیا کا جنس جب علیین تھا

                  اس لئے ہر اک نبی ادھر گیا

                  انبیا چونکہ علیین کی جنس سے تھے (اس لیے) دل و جان سے علیین کی طرف گئے۔

                  49

                  اب خدا مجھ کو مقامِ ذوق دکھا

                  چپ رہوں بس دل پر ہوں اسرار القا

                  اے خدا جان کو (ذوق و وجدان کا) وہ مقام دکھا دے جس میں حرکتِ لسان کے بغیر بات چیت ہو جاتی ہے (تاکہ اس قسم کی تکلیفِ مکالمت کے بغیر ہی اسرار القاء ہو جایا کریں۔ جو یہاں بحثِ جبر میں کرنی پڑی)۔

                  یہ اب بہت عجیب بات فرمائی حضرت نے۔ حضرت نے یہ بات فرمائی کہ ایک ہوتا ہے علم جو تعلیم سے آتا ہے۔ اور ایک ہوتا ہے فہم جو ذوق سے آتا ہے۔ تو جن کو اللہ پاک مقامِ ذوق دے دیتے ہیں، تو ان کو یہ جو مفاہیم ہیں یکبارگی آتی ہیں۔ جیسے وہ ہوتے ہیں image memory... یعنی ایک چیز کی طرف، ساری، ساری چیزیں دیکھ لیتے ہیں وہ، وہ تفصیل سے نہیں کہ یہ اور یہ، یہ، بلکہ وہ بس ایک دم اس کی ساری چیزیں نظر آ جاتی ہیں۔ اور وہ یاد ہوتی ہیں ان کو۔ تو اس طرح جو صاحبِ ذوق ہوتے ہیں، وہ ان کو تمام چیزیں بیک وقت وہ چیزیں محسوس ہو جاتی ہیں۔ پھر اس قسم کی بحثوں میں نہیں وہ پڑ جاتے، بلکہ ان کا شرحِ صدر ہو جاتا ہے۔ شرحِ صدر والی بات ہے۔

                  رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِيْ أَمْرِيْ شرحِ صدر ہو جاتا ہے تو جو شرحِ صدر ہے وہ بہت اعلیٰ مقام ہے۔ اس میں مطلب یہ ہے کہ وہ تعلیم والی بات نہیں ہوتی، بلکہ... یا اس کو علمِ لدنی کی طرف بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ کہ علمِ لدنی جو ہوتا ہے وہ بھی یکبارگی حاصل ہوتا ہے۔ اس میں steps نہیں ہوتے۔ بس جو اللہ پاک نے دینا ہوتا ہے تو وہ دے دیتے ہیں۔ تو حضرت بھی اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔

                  اے خدا مجھ کو مقامِ ذوق دکھا

                  چپ رہوں بس دل پر ہوں اسرار القا

                  کہ میں بولوں نہیں لیکن دل پر سارے اسرار لقا ہو جائیں۔

                  50

                  بس کر کہ اس بحث کا انتہا کہاں

                  چھیڑتا قصہ ہوں، تھا باقی جو رہا

                  ٰٰ اس بحث کی تو کوئی انتہا نہیں ہے لیکن ہم پھر اس باقی قصے کو چھیڑتے ہیں۔

                  یعنی دوبارہ اسی قصے کو چھیڑتے ہیں۔

                  اصل بات یہ ہے کہ یہ بحث جو ہے یہ بہت پیچیدہ ہے۔ تو حضرت سمجھا بھی رہے ہیں اور ڈر بھی رہے ہیں۔ سمجھا بھی رہے ہیں اور ڈر بھی رہے ہیں کہ کہیں زبان سے غلط بات نہ نکلے، اور واقعی بات تو صحیح ہے مطلب اس طرح سے... تو ایسی چیزوں میں ادب کا پہلو یہی ہے کہ دعا کی طرف بات چلی جائے۔ جیسے پیغمبر سب دعا جب کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ اس طریقے سے یعنی ہر چیز میں جس وقت اس قسم کے نازک مقامات آتے ہیں تو لامحالہ اللہ کی طرف، دعا کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، کہ یا اللہ! مجھے اس میں جو کچھ ہے اس سے بچا دے، جو کسی قسم کی غلطی وغیرہ ہو اس میں اے اللہ تعالیٰ مجھے نہ ڈال۔ تو یہ بات ہے تو حضرت نے اکثر اس بات کو دعا پر ختم کیا کہ مجبوراً میں یہ باتیں کر رہا ہوں سمجھانے کے لیے لیکن یا اللہ مجھے اس میں جو نقصان ہے اس سے بچا اور جو صحیح اور مناسب راستہ ہے اس پر مجھے ڈال دے۔

                  تو جیسے میں عرض کر رہا تھا کہ جو حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ ہیں یہ خود مفتی تھے۔ اخیر تک مفتی رہے۔ یعنی بالکل یعنی یقین جانیے کہ موت سے کچھ دیر پہلے فتویٰ دیا تھا۔ تو یہ اخیر وقت تک مفتی رہے، لیکن صاحبِ حال بھی تھے۔ تو قال ساتھ چلتا رہا، لیکن حال اس کا، حال میں شامل رہا۔ نتیجتاً وہ باتیں جو قال نہیں سمجھا سکتا۔ وہ حال کی زبان سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

                  یہی بات ہے۔ یہی چیز ہے اس وجہ سے الہامی کلام ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں قال کے ذریعے سے سمجھائی نہیں جا سکتیں۔ مطلب یہ کہ قال میں وہ چیزیں وہ ساری نہیں ہوتیں، جس پہ ایک چیز گزری نہیں ہے وہ کیسے سمجھائے، مجھے بتائیں آپ؟ مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایک صاحب بتاتا ہے کہ جاؤ فلاں گھر میں ایسا ہو گا پھر ایسا ہو گا، پھر ایسا ہو گا، پھر ایسا ہو گا، یہ سارا قال ہے۔ تو وہ کسی اور کو سمجھائے گا تو کیسے سمجھائے گا؟ وہ اسی طرح سمجھائے گا جس طرح اس نے سمجھا ہے، اس میں بھی کچھ کم ہو جائے گا۔ کیونکہ ظاہر ہے اس نے تو سنا ہے نا۔ تو جتنا سنا ہے اس میں کچھ efficiency ہو گی اس کی، ستر فیصد، ساٹھ فیصد، کچھ یاد رکھا ہو گا، کچھ بھول چکا ہو گا۔ تو لہٰذا آگے contribute کتنا کرے گا؟ لیکن جس نے خود دیکھا ہو وہ جگہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہوا تھا نا؟ جب معراج شریف تشریف لے گئے تھے۔ تو واپس جب آئے تو لوگوں نے باقاعدہ جو بیت المقدس جنہوں نے دیکھا تھا تو انہوں نے وہ جگہ جو دیکھی تھی تو انہوں نے پوچھا کہ وہاں کیا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھر دوبارہ دکھا دیا گیا۔ اور دیکھ دیکھ کر بتاتے رہے کہ یہ ہے، اور یہ تھا، اور یہ تھا، اور یہ تھا۔

                  اب اس میں یہ والی باتیں نہیں تھیں کہ مطلب... ورنہ ایک آدمی مثال کے طور پر میں حرم شریف کئی دفعہ گیا ہوں الحمد للہ۔ مجھ سے اگر حرم شریف کی باتیں پوچھی جائیں تو کیا میں ساری بتا سکتا ہوں؟ نہیں بتا سکتا۔ لیکن یہ بات ہے، ہاں ان سے زیادہ بتا سکتا ہوں جنہوں نے پڑھا ہے۔ ان سے میں زیادہ بتا سکتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن پھر بھی حافظے میں کتنی رہتی ہے؟ وہ ایک الگ بات ہے۔

                  لیکن جس وقت سامنے پھر دوبارہ کیا جائے۔ تو یہ جو صاحبِ حال لوگ ہوتے ہیں، ان کے سامنے اس طرح ہوتا ہے۔ کہ کوئی چیز وہ جو سمجھا رہے ہوں تو وہ ان کے سامنے اس طرح کر لی جاتی ہے تو وہ اس کو اس طرح سمجھاتے ہیں۔ یا بالکل عیناً معاً، جس وقت کوئی سوال ہوتا ہے، اسی وقت اس کا جواب اترتا ہے۔ یعنی اس وقت اس سے پہلے نہ اس کو سوال کا پتہ ہوتا ہے نہ جواب کا پتہ ہوتا ہے۔ لیکن جس کو اللہ نے استعمال کرنا ہوتا ہے، تو اس کو یہ ہے کہ اس کو اسی وقت اس کے سوال کا بھی آتا ہے اور پھر اس کے جواب کا بھی آتا ہے۔

                  مثلاً ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا یہ حال تھا کہ میں ایک ایسے صاحب کو لے گیا جو کسی چیز کو نہیں مانتا تھا۔ کہ کرامت کا منکر تھا، تو لہٰذا اولیاء اللہ کا بڑا گستاخ تھا اور مطلب اس قسم کی باتیں تھیں۔ تو خیر، کرامت کوئی لازمی ماننے والی چیز نہیں ہے لیکن ہمارا عقیدہ تو ہے کہ کرامتِ اولیاء حق، یہ تو ہے نا۔ تو اس کی وجہ سے اگر اولیاء کا مخالف ہو جائے تو پھر وہ بات تو خطرناک ہے نا۔ تو ان کو میں لے گیا شیخ کے پاس۔ ابھی حدیث شریف گزری ہے نا: مَنْ عَادَىٰ لِيْ وَلِيًّا... تو وہ معاملہ تو سخت ہو جاتا ہے۔

                  تو اس پر میں اس کو اپنے شیخ کے پاس لے گیا۔ تو حضرت نے بیان جو فرمایا، اس وقت بیان بھی نہیں تھا، سوال کا جواب تھا۔ حضرت کسی کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ لیکن وہ بڑا لمبا ہو گیا۔ تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر حضرت پہلے پہنچتے تو میں ان کا تعارف کر لیتا، ان کے سوالوں کو وہ کر لیتا، حضرت جواب دیتے۔ لیکن وہ جواب اتنا لمبا ہو گیا کہ مغرب ہو گئی۔ اور مغرب کے بعد اس نے کہا کہ واپس جانا ہے۔ تو میں نے بڑا افسوس کیا کہ میں نے کہا یہ اس کی قسمت میں شاید نہیں ہے۔

                  خیر! جس وقت نماز کا وقت ہو گیا، مغرب کی نماز پڑھی، کہتا ہے جانا ہے؟ میں نے کہا جانا ہے، وعدہ کیا تھا۔ باہر آئے تو مجھے کہتا ہے آپ نے مولانا کا تعارف ہی نہیں کیا تھا، مولانا تو بہت بڑے آدمی ہیں۔ میں نے کہا شاید چھیڑ رہا ہے۔ میں نے کہا چھیڑنے والی چیز کی اجازت نہیں ہے۔ کہتا ہے نہیں، چھیڑ نہیں رہا۔ میں نے کہا پھر آپ نے کیا دیکھا؟ ہمارے لیے تو معمول کی مجلس تھی۔ میں نے کہا پھر کیا دیکھا؟ کہتے حضرت بیان فرما رہے تھے تو اس میں ایک بات پر مجھے اشکال ہو گیا۔ اشکال تو ہوتے ہیں۔ حضرت نے اس کا جواب دے دیا، فرمایا یہ ہو سکتا ہے بائی چانس۔ فرمایا اس جواب پر مجھے اشکال ہو گیا۔ اس کا بھی حضرت نے جواب دے دیا، میں نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے، کیسے مطلب اس کا کیا پتہ کس پہ کتنے اشکال ہو سکتے ہیں۔ کہتے پھر اس پہ بھی مجھے اشکال ہو گیا تو اس کا بھی حضرت نے جواب دیا۔ تو میں نے کہہ یہ کیا بات ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔

                  تو میں نے کہا کمال ہے میں تو آپ کو بڑا ذہین سمجھتا تھا آپ تو بڑے بودے نکلے۔ کہتے کیا مطلب؟ میں نے کہا مطلب یہ ہے کہ کیا آپ کا اس پر ایمان ہے کہ جو چیز آپ کے دماغ میں ہے کسی اور کے دماغ میں ہے، اللہ کو پتہ ہے؟ کہتے بالکل! میں نے کہا آپ کا اس پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کی زبان پر جو چیز لانا چاہے تو لا سکتا ہے؟ چاہے اس کو پتہ ہو یا نہ ہو؟ کہتے ہاں بالکل! میں نے کہا آپ کے دماغ میں جو تھا وہ اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا، اللہ پاک نے مولانا صاحب کی زبان پر اس کا جواب بھیجا، شاید مولانا صاحب کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ میں کسی کا جواب دے رہا ہوں۔

                  کہتے یہ تو ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا یہی تو کرامت ہوتی ہے۔ کرامت ولی کا فعل نہیں ہوتا، کرامت خدا کا فعل ہوتا ہے۔ صرف ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ تو جب ایسی بات ہے تو ظاہر ہے ہم کوئی بھی کرامت اس کو نہیں سمجھتے کہ بھئی وہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ساری چیزوں پہ قادر ہے۔ إِنَّ اللّٰهَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اگر مردوں کو زندہ کروانا چاہے تو کروا سکتا ہے، اس کے لیے کیا مشکل ہے؟

                  کہتے ہیں پھر تو ٹھیک ہے۔ بس پھر اس کا عقیدہ ٹھیک ہو گیا۔ اب یہ جو چیز ہے یہ بس اللہ پاک کی طرف سے تھا۔ مطلب ظاہر ہے اس میں کوئی اور بات تو نہیں تھی نا۔ تو یہی بات ہوتی ہے کہ حضرت بھی اخیر میں کہتے ہیں کہ یا اللہ! بس مجھے مقامِ ذوق دے دے۔ جو کہ علم سے اونچا مقام ہے۔ اس سے وہ اللہ تعالیٰ تمام مشکلات آسانیوں میں بدل لیتے ہیں۔ اور جن چیزوں میں لوگ برسوں پڑے ہوتے ہیں، وہ یکبارگی میں وہ ساری چیزیں حل ہو جاتی ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ان ساری چیزوں کو سمجھنے کی اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

                  وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔ آمین۔


                  مثنوی مولانا روم: عقیدہ جبر و قدر، افعالِ الٰہی اور بندگی کا حقیقی تصور - درسِ اردو مثنوی شریف - پہلا دور