ظاہر و باطنِ قرآن اور اصلاحِ نفس: حکایاتِ مثنوی کی روشنی میں

درس نمبر 23، دفتر اول، حکایت نمبر 18 تا 21

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
برمنگھم - برطانیہ

• پیر و مرید کا تعلق (مرشد بطور سایہ خدا)

• حضرت ابراہیم علیہ السلام کی الزامی دلیل (لا احب الآفلین)

• حسد کی تباہ کاریاں اور اس کا علاج

• قرآن فہمی: ظاہر، باطن اور لطائف کا فرق

• تزکیہ نفس اور قلب کی صفائی (طہرا بیتی)

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على خاتم النبيين اما بعد!

فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم۔

معزز خواتین و حضرات!

آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوا کرتا ہے۔ اور اس وقت ہم برمنگھم (Birmingham)، انگلینڈ میں ہیں اور وہاں سے یہ درس جاری ہے۔

پچھلی دفعہ حکایت نمبر 18 کے... 18 اشعار ہوئے تھے۔ تو آج اس کا آخری شعر، انیسواں جو باقی تھا، اس سے اس کی ابتدا ہو رہی ہے۔ پھر ان شاءاللہ حکایت نمبر 19 کی طرف جائیں گے۔

تو فرماتے ہیں:

کاش کسی ولی کے ہاتھ میں ہاتھ اس کا ہوتا اس خیالی چیز سے بچا لیتا

یعنی جو انسان خیال کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے، جیسے سائے کے پیچھے کوئی بھاگ رہا ہوتا ہے۔ تو نہ سایہ ہاتھ میں آ سکتا ہے، نہ کوئی خیال۔ اس وجہ سے اگر کسی ولی کے ہاتھ میں کسی کا ہاتھ ہو تو وہ، جو اصل چیز ہے اس کی طرف اس کو لگا لیتا ہے اور جو فضول چیزیں ہیں اس سے بچا لیتا ہے۔

تو یہ اصل میں اس طرف ہے۔

دایہ کا کیا کام ہے؟ وہ بچے کے جسمانی نشو و نما کی نگرانی اور اس کی غذا کی منتظم ہوتی ہے اور اس کی مضر اشیاء سے حفاظت کرتی ہے۔ اسی طرح پیرِ طریقت مرید کی روحانی تربیت کا کفیل، اس کی روحانی ترقی کا ضامن اور مہلکاتِ نفس سے اس کا محافظ ہوتا ہے۔


اب ان شاءاللہ حکایت نمبر 19 شروع کر رہے ہیں۔ جس میں وہ شعر، جو انیسواں شعر تھا، اس کے... مطلب بات کو مزید کھولا جا رہا ہے۔ اور وہ ہے


حکایت نمبر 19

ولیِ رہنما کی اتباع کی ترغیب۔


مرشد خدا کا سایہ اور وہ بندہ ہے جو یہاں مردہ اس کے پاس زندہ ہے

خدا کا (خاص) بندہ (یعنی مرشدِ کامل) خدا کا سایہ ہوتا ہے جو اس جہان (کے تعلقات) سے مردہ اور خدا (کے تعلقات) سے زندہ ہوتا ہے۔ یعنی دنیوی زندگی فانی اور ناقابلِ التفات ہے اس لیے اہلِ فقر اس زندگی میں "مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا" کے مصداق ہوتے ہیں۔ اور ان کی زندگی روحانی ہوتی ہے اس لیے ابدی و غیر فانی ہوتی ہے۔


2

دامن اس کا جلد پکڑ تو بیگماں پکڑے تجھے نہ آفتِ آخر زماں

جلدی اور بلا تامّل اس (مرشد) کا دامن پکڑ لے۔ تا کہ آخری زمانے کی آفت سے نجات پائے۔ آخری زمان سے اگر عمر کی آخری ساعت مراد ہے تو اس کی آفت سکراتِ موت اور فتنۂ ابلیس ہے۔ اگر قربِ قیامت مراد ہے تو اس کی آفت دجال و یاجوج و ماجوج ہیں، اور اگر محشر مراد ہے تو اس کی آفت میزان اور حساب کتاب ہے۔ تینوں جگہ مرشدِ کامل کا فیض مومن و مخلص مرید کی دستگیری کرے گا۔ موت کے وقت کلمۂ توحید زبان پر جاری ہو جائے گا، قربِ قیامت میں دجال وغیرہ کے سامنے وہ توحید پر قائم رہے گا۔ محشر میں مرشد کی شفاعت سے نجات ہو جائے گی۔

"بیگماں" کے لفظ میں آدابِ مرید میں سے اس بات کی طرف یہ لطیف اشارہ ہے کہ اپنے پیر کے ساتھ اعتقادِ تام اور اتباعِ کامل ہونا چاہیے۔ ورنہ احتمال ہے کہ وساوسِ شیطانی میں مبتلا ہو کر تباہ ہو جائے گا۔

اللہ اکبر!

3

کیف مَدَّ الظِّلْ ہے نقش ِ اولیاء ہے دلیل ِ نورِ خورشیدِ خدا

"کَیْفَ مَدَّ الظِّلْ" (میں جو سایہ کا اشارہ ہے اس سے مراد) اولیائے کرام کا وجودِ مبارک ہے جو خورشیدِ حق کے نور کی طرف رہنما ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًاۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًا (الفرقان: 45) ”یعنی اے پیغمبر (ﷺ) کیا تم اپنے رب کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس نے کس طرح سایہ کو دراز کیا اور اگر چاہے تو اس کو ساکن کر دے پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا“۔ مولانا فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جو سایۂ ظاہری کا حکم آیا ہے۔ یہی مثال اولیاء اللہ کی ہے کہ جس طرح سایۂ ظاہری سے سورج اور اس کی رفتار کا پتا لگتا ہے۔ اسی طرح اولیاء اللہ کی ذات با برکات سے، جو ظلّ اللہ ہیں، آفتابِ حق یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

یعنی سایہ یہ آفتاب کی موجودگی کی معرفت کی دلیل ہے۔ اور اولیاء اللہ جو ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی دلیل ہوتے ہیں۔

اس مقام پر مولانا بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک لطیف نکتہ شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دراصل تمام ممکنات عدم کے اندھیرے میں ہیں، نفسِ وجود خدا کی ذات ہے اور وجود نور ہے، جب وہ ذاتِ پاک اعیان و متعینات میں ظاہر ہوئی تو ممکنات اس نور و ظلمت کے درمیان ظاہر ہو گئیں۔ پس یہ موجودات خدا کا سایہ ہیں اور سایہ اسی نور کو کہتے ہیں جو ظلمت کی آمیزش رکھتا ہو۔ یہی حال ان موجوداتِ ممکنہ کا ہے جن میں وجود کے ساتھ عدم کی آمیزش ہے۔

یعنی یہ ہیں بھی اور نہیں بھی ہیں۔ ہیں تو اس لیے ہیں کہ اللہ پاک نے اس کو تجلی وجود کے ذریعے سے ان کو موجود فرمایا ہے۔ اور نہیں اس لیے کہ اپنی ذات میں خود کچھ بھی نہیں، عدم ہے۔ اللہ پاک نے اس کو موجود رکھا ہے، اللہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں، ختم۔

وہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ جو کمیٹی والے لوگ ہوتے ہیں نا یہ بیچارے جو بیچنے والے ہوتے ہیں ان کو پکڑتے ہیں۔ تو کوئی آدمی چوڑیاں بیچ رہا تھا، چوڑیاں یہ شیشے کی۔ تو اس... جو کمیٹی کا آدمی تھا اس نے ایک ٹھوکر اس کو ماری، لات ماری، کہتا ہے یہ کیا ہے؟ اس نے کہا ایک اور مارو پھر کچھ بھی نہیں!

تو مطلب یہ ہے کہ ہماری حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اصل ہے اور باقی تو صرف بس اللہ کے حکم پر ہی ہے۔ جب تک ہیں تو ہیں، جب تک نہیں ہے تو نہیں ہے۔

تو مطلب یہ ہے کہ

پس آیت کے یہ معنٰی ہوئے کہ تیرے رب نے وجود کو کیسا دراز کیا ہے، یہاں تک کہ اس سے ممکنات کے سائے ظاہر ہو گئے۔

اصل میں اگر دیکھا جائے تو یہاں پر بہت آسان ہے یہ بات سمجھنا۔ یعنی ایک ہوتا ہے اصل اور ایک ہوتا ہے ظل۔ یعنی اصل کا سایہ۔ تو جو عدم سے وجود میں آیا ہے وہ ظل ہے، وہ اصل نہیں ہے۔ لیکن اصل کی طرف راجع ہے۔ لہذا اصل کے ذریعے سے اس کی پہچان ہے۔ اس کا وجود ہے۔ اصل کے علاوہ اس کا کوئی چیز... مطلب اس میں کچھ بھی نہیں۔

تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ

اگر وہ چاہتا تو اس کو دراز نہ کرتا۔ اس کے بعد سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ یعنی اس نکتہ کے سمجھنے کے لیے اس کو ایک مثال بنا دیا۔ چنانچہ جب سورج کے آگے کسی جسمِ کثیف کی آڑ آ جاتی ہے تو اس کے نور کے ساتھ اندھیرے کے مل جانے سے سایہ پیدا ہوتا ہے۔


4

نہ چلو سلوک میں بدوں اس دلیل لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ گفتِ خلیل

اس وادیِ (سلوک) میں اس رہنما کے بغیر نہ چل۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ﴿لَا اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ کا قائل ہو (اور غیر خدا کا گرویدہ نہ بن)۔ مذکورہ اقتباس قرآن مجید کی اس آیت شریفہ میں ہے: ﴿فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًاۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ (سورہ انعام: 76) یعنی ”پس جب ابراہیم (علیہ السلام) پر رات چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا۔ کہا یہ میرا پروردگار ہے پھر جب وہ چھپ گیا تو کہا میں چھپ جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا“۔

پھر فرماتے ہیں،

مولانا کہتے ہیں سلوک میں رہنما کے بغیر نہ چل۔

پھر فرماتے ہیں کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے جب ایک ستارہ دیکھا جو انوارِ رب کا مظہر تھا تو کہا "ہٰذَا رَبِّیْ" اور مراد ہٰذا کے اشارے سے ظاہر تھا، مگر جب وہ ستارہ چھپ گیا تو انہوں نے کہا میں ربِّ ظاہر کے مشاہدۂ جمال کے ایسے فانی مظاہر کا پابند ہونا پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح تو بھی وادیِ سلوک میں فانی مظاہر دل کی بستگی سے گزر کر ذاتِ مطلق میں فنا ہو جا۔

یہاں پر تھوڑا سا ہم لوگ اس میں بات کریں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے یہ اصل میں اس کو کہتے ہیں الزامی دلیل۔ الزامی دلیل کے طور پر یہ فرمایا تھا کہ یہ میرا رب ہے، یہ نہیں کہ مطلب اس کو رب سمجھا تھا۔ کیونکہ پیغمبر توحید سے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں نکل سکتا۔ کیونکہ وہ تو توحید کو پہلے سے لایا ہوا ہے۔ اس نے یہ کوئی چیز Accidentally نہیں سیکھی ہے۔ بلکہ اس کو بھیجا گیا ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کو جب نبوت نہیں بھی ملی تھی، تو کیا... جس وقت پہنچ گئے تھے مدین! تو کیا دعا کی تھی؟

رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔

تو مطلب پہلے سے اس چیز کا پتا تھا نا۔ اور جب اس قبطی کو مارا تو... کیا کہا تھا؟ اس وقت بھی کہا تھا تو مطلب یہ ہے کہ پیغمبر پہلے سے اللہ کی طرف سے اس چیز پر مامور ہوتے ہیں اور وہ اس کو یہ چیزیں Accidentally نہیں ملی ہوتیں۔

ہاں یہ دوسروں کو سمجھانے کے لیے، الزامی دلیل کے طور پر فرمایا تھا کہ هَذَا رَبِّي۔ پھر اس کے بعد هَذَا رَبِّي کہہ کر جس وقت وہ ڈوب گیا، فرمایا میں تو جو ڈوبتا ہے اس کو پسند نہیں کرتا۔ یہ ہمارے Mathematics میں بھی ہوتا ہے۔ کہ ہم پہلے سے ایک چیز Assume کرتے ہیں کہ یہ جو ہے نا مطلب یہ اس طرح ہے۔ تو جس بنیاد پر Assumption کی ہوتی ہے وہ جب غلط ثابت ہو جاتی ہے تو اس کا رزلٹ تو ہم کہتے ہیں اگر یہ غلط ہے تو اس کا Assumption بھی غلط ہے، لہذا اس کا Opposite چیز ثابت ہو جاتی ہے۔ تو یہ ایک طریقہ کار ہے، الزامی دلیل۔

تو الزامی دلیل یہ مناظرے کا بہترین طریقہ ہے، اس کو لوگ استعمال کرتے ہیں اور بڑے Intelligent طریقے سے استعمال ہوتا ہے۔

ایک صاحب تھے، ہمارے دوست ہیں، PhD ڈاکٹر ہیں لیکن ہیں مجذوب۔ تو ان کا مولانا سعید خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ساتھ بڑا تعلق تھا، خط وغیرہ ان کو لکھا کرتے تھے۔ فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ مجھے بتایا گیا کہ تم ابراہیم علیہ السلام کے طرز پر دعوت دو۔ تو کہتے ہیں میں نے مولانا سعید خان صاحب سے پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام کی طرز پر کیسے دعوت دوں؟ تو انہوں نے کہا وہ تو مجھے بھی نہیں معلوم۔

تو میں نے اس سے کہا، میں نے کہا اس کا مطلب یہی ہے، قرآن میں جو ہے لا أُحِبُّ الآفِلِينَ۔ اس طریقے سے الزامی دلیل کے طور پر دعوت دے دیا کرو۔ مطلب اس سے مخاطب جو ہوتا ہے، سمجھ جاتا ہے۔

پھر فرماتے ہیں کہ

جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے جب ایک ستارہ دیکھا جو انوارِ رب کا مظہر تھا تو کہا "ہٰذَا رَبِّیْ" اور مراد ہٰذا کے اشارے سے ظاہر تھا، مگر جب وہ ستارہ چھپ گیا تو انہوں نے کہا میں ربِّ ظاہر

مطلب یہ منطقی بات ہے، اس کو میرے خیال میں شاید یہاں قبول نہ کیا جا سکے۔

5

واسطے مرشد آفتابِ حق کو ملو شمس تبریزی کا دامن یوں پکڑو

خود چونکہ شمس تبریز کے مرید تھے، تو ان کا پیر کے لفظ میں شمس تبریز ہی نظر آتے تھے۔ فنا فی الشیخ تھے نا۔ تو فنا فی الشیخ ایسا ہوتا ہے، اس کو جب بھی کوئی چیز... تو ان کو، اس کا رخ اس طرف چلا جاتا ہے۔

جاؤ! ظل اللہ (یعنی مرشدِ کامل) کے توسّل سے آفتابِ (حق) کو جا ملو۔ شاہِ شمس تبریزی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن پکڑو۔یعنی اتباعِ مرشد کا بیان ہو رہا تھا اب مولانا کا ذہن اپنے مرشد حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ان کا دامن پکڑ لو۔

6

راہ نہ جانے گر ایسی مجلس کا تو پوچھ حُسام الدین سے اس کا رنگ و بو

واہ ماشاءاللہ! اگر تجھے نہیں پتہ تو حضرت خلیفہ حسام الدین، جن کا وہ قدر اپنے شیخ کی طرح کرتے تھے۔ اس کے بارے میں بھی جو عارفین ہیں وہ کہتے ہیں کہ اصل میں وہ اپنے شیخ میں مٹ چکے تھے، فنا ہو چکے تھے، فنا فی الشیخ تھے۔ تو خود اپنے اندر کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ تو اپنے خلیفہ میں وہ شیخ کی پرتو کو دیکھ رہے تھے۔ جو اس سے گزر کے مطلب... تو اس کے عاشق ہو گئے۔ اپنے خلیفہ کے عاشق ہو گئے کہ مطلب ان میں وہ چیزیں نظر آتا تھا جو کہ اپنے شیخ میں ہوتی تھی۔ حالانکہ انہی سے گزری تھی لیکن خود تو فنا تھے، اپنے آپ کو تو کچھ سمجھ نہیں رہے تھے، لہذا حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ کو ایسے سمجھتے تھے جیسے ان کا شیخ ہو۔

(اگر تم صحبتِ شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کی) اس مجلسِ نشاط کی طرف (جانے کا) راستہ نہیں جانتے تو ضیاء الحق حسام الدین سے پوچھ لو (جو ممدوح کے خاص صاحبِ اسرار ہیں)۔ ہر چند کہ شمس تبریزی کے دربار کے لیے خود مولانا کی ذات سب سے افضل تھی مگر انہوں نے کسرِ نفسی کی وجہ سے اپنا ذکر نہیں کیا اور اپنے خلیفہ ضیاء الحق کا تقرّب جتلا دیا۔

ماشاءاللہ!

7

گر حسد راہ میں پکڑے تیرا گلا سمجھو ہے شیطان کا کام اور شیوہ

حسد کی وجہ سے اگر تم رک رہے ہو تو اس کا مطلب ہے شیطان نے تمہیں پھانس لیا ہے۔

چونکہ دربارِ شمس تبریزی رحمۃ اللہ علیہ کی باریابی کے لیے کوشش کرنے کی ترغیب عام تھی، جس میں مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے معتقدین و مریدین بھی شامل ہیں، اور پھر فرمایا تھا کہ اس دربار میں جانے کا وسیلۂ عظمٰی ضیاء الحق حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ ہیں، تو احتمال ہوتا تھا کہ شاید معتقدین میں سے کسی کو یہ بات نا گوارا ہو کہ جیسے ہم مولانا کے مرید ہیں ویسے ضیاء الحق، پھر ان کو ایسی کیا فوقیت حاصل ہے کہ ہم ان کا توسّل چاہیں۔ یہاں مولانا اس خیال کو حسد سے تعبیر کر کے نصیحت فرماتے ہیں کہ حسد نہ کرو حسد شیطانی کام ہے نہ کہ عارفانِ با صفا کا

بس یہ ایک بات ہے کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسد نہ کرو۔ یہ میں آپ کو بتاؤں یہ ایک عام مسئلہ ہے۔ شیطان ہر جگہ مسئلہ کرتا ہے اور نفس بھی ہر جگہ مسئلہ کرتا ہے، لہذا مسائل تو ہوتے ہیں۔

یعنی آپ حضرات شاید جانتے ہوں گے کہ اپنی خانقاہ میں، میں بڑے بڑے علماء آتے ہیں لیکن میں نماز خود پڑھاتا ہوں اور یا اپنے بیٹوں سے پڑھواتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں سب سے اھل ہوں یا وہ علماء نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ ایک عالم کو میں آگے کروں اور دوسرے کو نہ آگے کروں تو اس کو مسئلہ ہوگا کہ بھئی یہ کیا ہو گیا مطلب، کس وجہ سے۔ تو خواہ مخواہ اس کو نقصان ہوگا، بلا وجہ۔ تو اس نقصان سے بچانے کے لیے، مطلب یہ ہے کہ میں... یعنی کہ آپس میں rift نہ شروع ہو جائے، تو مطلب یہ ہے کہ وہ میں خود نماز پڑھاتا ہوں۔

ہاں البتہ اگر کوئی باہر سے آیا ہوا ہو، جیسے آپ کبھی آئے تھے یا مولانا حبیب الرحمٰن صاحب، اس کا ان کے ساتھ کسی کا مقابلہ اس لیے نہیں کہ وہ ہوتے ہیں اجنبی ہوتے ہیں، باہر سے آئے ہوئے ہوتے ہیں، تو ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن آپس میں جو راولپنڈی کے علماء ہیں ان میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد... مطلب ہو سکتا ہے، تو اس وجہ سے میں اس کی احتیاط کرتا ہوں۔ تو یہاں پر بھی حضرت نے بالکل وہی بات فرمائی کہ اگر اس کی وجہ سے ہے تو پھر یہ ٹھیک نہیں ہے، مناسب نہیں ہے۔

8

قدرِ آدم سے ہوا اس کو حسد واسطے اس کے نیکی کو کرتا ہے رد

واہ جی واہ بات کہاں چلی جاتی ہے۔ شیطان نے آدم علیہ السلام کی قدر و منزلت دیکھ کر ان پر حسد کیا اور ﴿خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ﴾ (الاعراف: 12) کہہ کر اظہارِ حسد بھی کر دیا اور اب بھی وہ اسی دیرینہ حسد کی وجہ سے ہر وقت بنی آدم سے عداوت رکھتا ہے، پس یہ شیطان کا شیوہ ہے۔ مریدانِ با صفا کو نہیں چاہیے کہ ایک برادرِ طریقت کی قدر دیکھ کر حسد کریں۔

اس سے سخت گھاٹی سلوک میں ہے نہیں

9 اس سے سخت گھاٹی سلوک میں ہے نہیں

سبحان اللہ! کیا فرمایا!


اس سے سخت گھاٹی سلوک میں ہے نہیں خوش نصیب ہے وہ کہ جو اس پہ نہیں

مطلب یہ بہت سخت گھاٹی ہے، نفسانی رذیلہ ہے، تو اس سے زیادہ بڑی گھاٹی کوئی ہے نہیں۔ لہذا اس مسئلے میں اپنے آپ کو نہ پھنساؤ۔ وہ خوش نصیب ہے جس کو کسی کے ساتھ حسد نہیں ہے۔

10

یہ جسد جائے حسد ہے سن ذرا

یہ جسد جائے حسد ہے سن ذرا اس میں اکثر خانداں ہے مبتلا

مولانا فرماتے ہیں کہ حسد خود انسان کے باطن کا مرض ہے اور اس کے اسباب و بواعث بھی انسان کے اندر موجود ہیں ۔ پھر فرمایا جب حسد کا مرض دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو حواس، فکر، عقل وغیرہ تمام دماغی و قلبی خاندان اس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ طاقتیں بھی بجائے کوئی اچھا عمل کرنے کے حسد کے ماتحت کام کرنے لگتی ہے۔

دیکھو نا ذرا تھوڑا سا اس کو سمجھنے کی کوشش کر لیں۔ ایسا نہ ہو کہ شعر کا مطلب نہ سمجھیں۔ یہ جسد جائے حسد ہے۔ یہ جائے کا لفظ وہ نہیں ہے کہ چلے جائیں۔ جائے کا مطلب جگہ۔ یہ جسد جائے حسد ہے، یعنی اس جسم میں حسد ہوا کرتا ہے۔ یہ اس کی جگہ ہے۔ اس کو سن لو، اس میں اکثر خانداں ہے مبتلا۔ یہ آنکھیں اور کان اور یہ تمام چیزیں جو جسد کے وہ سب کے سب اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سننے میں بھی وہ حسد، دیکھنے میں بھی حسد، اس طرح بولنے میں بھی حسد، سننے میں بھی... مطلب ہر چیز میں حسد حسد کا اثر ہوتا ہے۔

11

اس سے گھر کے گھر اجڑ جاتے ہیں جب کوا بن جاتا ہے بازِ شاہی تب

مطلب یہ ہے کہ اس حسد کی وجہ سے گھر کے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ اور جو بازِ شاہی ہے وہ کوا بن جاتا ہے، اس کی کوئی ویلیو نہیں رہتی۔ استغفراللہ!

انسان کے باطن میں حسد گھر کر لیتا ہے تو اس سے باطن کا گھر بار اجڑ جاتا ہے یعنی سب مال و اسباب غارت ہو جاتا ہے باطن کا مال و اسباب کیا ہے؟ اخلاقِ حسنہ اور ملکاتِ فاضلہ۔ یہ چیزیں حسد سے برباد ہو جاتی ہیں اسی لیے جناب سرورِ کائنات علیہ التحیات نے فرمایا ہے:

"اِیَّاکُمُ وَ الْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ" (ابوداؤد)

یعنی ”حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح تباہ کر دیتا ہے جس طرح آگ ایندھن کو تباہ کر دیتی ہے“۔

پھر فرماتے ہیں نفسِ انسانی کی قلبی و دماغی طاقتیں جو حقائق اور علومِ عالیہ کو اخذ کرنے کے لیے بمنزلہ شاہی باز کے تھیں حسد کی آلائش سے اغراضِ خسیسہ اور مقاصدِ رذیلہ کی طلب میں ایک نجاست خوار زاغ کے مشابہ ہو جاتی ہیں۔

اب دیکھو نا شیطان کی تمام صلاحیتیں کس طرح چل رہی ہیں؟ حالانکہ یہ معلم الملکوت تھے۔ تو اس کا جو علم ہے، اس کا جو فن ہے، اس کا جو... سب کچھ محنت ہے وہ سب کس چیز میں چل رہا ہے؟ اب حسد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

تو یہ بات ہے، یہ یہود کا کس سلسلے میں چل رہا ہے؟ Genetically they are very strong people. مطلب یہ ہے کہ ان کی بڑی صلاحیتیں ہیں، لیکن وہ کہاں استعمال ہو رہی ہے؟ استعمال ہو رہی ہے حسد کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف۔

12

جسم خانۂِ حسد گو ہوسکے مرشد پاک اس سے یہ گند دھوسکے

سبحان اللہ!

اگرچہ جسم حسد کا گھر ہو سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس جسم کو (بتوسلِ مرشد) بالکل پاک کر دیا ہے۔

13

پاک کرے اس کو جناب کبریا پُر تھا یہ از کبر و حقد و ہم ریا

جنابِ کبریا (کے فضل) سے جسم نے پاکی حاصل کی جو (پہلے) تکبر اور دشمنی اور ریا سے پُر تھا۔

خاصانِ خدا کے وجود بفضلہٖ تمام اخلاقی امراض سے محفوظ رہتے ہیں اور اگر پہلے سے کوئی مرض عارض ہو تو وہ ربانی ارشاد کے موافق ریاضات و مجاہدات کے روحانی علاج سے اس کا ازالہ کر لیتے ہیں ۔

14

طَھِّرَا بَیْتِیَ بیان پاکی کا ہے نور ہے گو طلسم یہ اس خاکی کا ہے

﴿طَھِّرَا بَیْتِیَ﴾ (میں اسی) پاکی کا بیان ہے اور (یہ گھر جس کی پاکی کا حکم ہے) نور کا خزانہ ہے اگرچہ اس کا طلسم خاک سے (بنایا گیا) ہے۔

اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے باب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم دیا: ﴿طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ﴾ (البقرۃ: 125) یعنی ”تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے خوب پاک و صاف کر دو“ مقصودِ آیت ظاہر ہے، مگر مولانا رحمۃ اللہ علیہ اس سے ایک اور تمثیلی مطلب لیتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر سے مراد مومن کا دل ہے اور اس کو پاک کرنا بمعنی تصفیۂ دل، جس کا اس آیت میں حکم ہے۔ کیونکہ مومن کا دل بھی ایک لحاظ سے بیت اللہ اور کعبہ ہے۔

صوفیہ کرام جب آیاتِ قرآن سے اس قسم کے مفہومات بیان فرماتے ہیں تو بعض لوگ ان مفہوماتِ اعتباریہ کو معانیِ قرآن اور آیات کی وجوہِ محتملہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور یہ حدیث پیش کیا کرتے ہیں کہ "اِنَّ لِلْقُرْاٰنِ ظَھْرًا وَ بَطْنًا" یعنی قرآن کے ایک ایک ظاہری معنٰی ہیں اور ایک باطنی معنٰی“۔ ان اصحاب کی دانست میں مفسرین کے بیان کردہ معافی ظہرِ قرآن ہیں اور صوفیہ کے بیان کئے ہوئے اعتباری مفہومات بطنِ قرآن۔ بلکہ بعض بے باک تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ قرآن کے معنٰی مفسّرین نے سمجھے ہی نہیں، یہ حصّہ صوفیائے کرام ہی کا حصہ ہے۔ سو واضح ہو کہ یہ حدیث حق ہے اور قرآن مجید کا ظہر و بطن ہونا بھی صحیح، مگر یہ خیال بالکل غلط ہے کہ صوفیہ کے بیان کئے ہوئے معنٰی بطنِ قرآن ہیں۔ در حقیقت قرآن مجید کے معانیِ مقصود صرف وہی ہیں جو محدثین و فقہاء کی تفاسیر میں لکھے ہیں۔ مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آیتِ قرآن کے اصلی معنٰیِ مقصود کے ساتھ ملتا جلتا کوئی اور مضمون ہوتا ہے جس کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے، اس کو اگر تمثیلًا اصلی معنٰی کے مقابل رکھ کر وہی حکم اس کے لیے بھی ثابت کرنے لگیں تو کر سکتے ہیں، ایسے مضامین مفید، پُر حکمت اور عبرت بخش ہوتے ہیں، مگر کیا اس قسم کا کوئی تشبیہی و تمثیلی مضمون قرآن کا معنٰیِ مقصود ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اور ایک قرآن مجید پر کیا منحصر ہے گلستان و بوستان وغیرہ کسی کتاب کی حکایات و واقعات کو لے کر ان سے تمثیلی مفہوم بنائیں تو بنا سکتے ہیں۔ مثلًا گلستان کی ایک تاریخی حکایت ہے یعنی "عرب کے ڈاکوؤں کی ایک جماعت ایک پہاڑ کی چوٹی پر پناہ گیر تھی اور اس نے قافلوں کا راستہ بند کر رکھا تھا اہلِ شہر ان ڈاکوؤں کے فتنوں سے ڈرتے تھے اور شاہی فوج بھی بے بس تھی"۔انتہٰی۔ مطلب ظاہر ہے۔ اور الفاظ اپنی حقیقت پر محمول ہیں مگر اس سے ہم یہ اعتباری مفہوم بھی نکال سکتے ہیں کہ کاروانِ کوہ سے مراد قلبِ انسان ہے۔ طائفۂ دزدانِ عرب سے اخلاقِ رذیلہ جو قلبِ انسان پر مسلّط ہو جاتے ہیں، کارواں سے وہ واردات و فیوضِ غیب مراد ہیں جن کا قلبِ انسانی پر گزر ممکن ہے۔ مگر اب اخلاقِ رذیلہ نے ان کو قلب پر وارد ہونے سے بند کر رکھا ہے اور رعیت وہ اخلاقِ حسنہ ہیں جو محاسنِ وجود میں جہاں تہاں دبے دبائے پڑے ہیں اور اخلاق رذیلہ کے غلبہ سے سر نہیں اٹھا سکتے۔ ہر چند کہ یہ تاویل دلچسپ بھی ہے اور مفید و نکتہ خیز بھی مگر کیا گلستان کی عبارت کا یہی ٹھیک مطلب ہو گا یا مطلبِ سعدی دیگرست؟

یہ واقعی اس کو جو ہم کہتے ہیں لطائف، لطائفِ قرانیہ۔ لطائفِ قرانیہ بے شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معرفت پر منحصر ہوتی ہے۔ یعنی جس کو جو چیز جس طرح نظر آئے اس طرح وہ بیان کرتے ہیں۔ تو کسی کو کس طرح نظر آتا ہے تو اس سے وہ ایک چیز نکال لیتے ہیں، دوسرے کو دوسری طرح نظر آتا ہے تو اس سے وہ چیز نکال لیتے ہیں۔ تو یہ لطائف اور عرائف ہیں۔ لیکن اس سے اصل مقصودی معنی جو ہیں اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

اس سے اصل مقصودی معنی، یعنی ہم یہ نہیں کہتے کہ اصل یہ ہے۔ ہم کہیں گے یہ اس کا مزید مطلب ایک فائدہ ہے۔ یعنی جس سے اندازہ لگا سکتے ہیں، کسی چیز کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان کو اعتبارات کہتے ہیں۔ اعتبارات کہتے ہیں۔ تو اعتبارات کے لحاظ سے جو لطائف ہیں، مطلب وہ قابلِ سماعت ہیں، اس سے فائدہ ہوتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ ہم... ہمارے حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ یہ سورۃ الشمس کی تلاوت فرما کر اس میں اسی قسم کے لطائف بیان کرنے لگے، فرمایا یہ تفسیر نہیں ہے۔ فورا فرمایا یہ تفسیر نہیں ہے، یہ لطائف ہیں۔

اس طرح لطائف بہت ماشاءاللہ مشائخ نے بیان فرمائے ہیں، قرآن کے، احادیث شریفہ کے، وہ بیان فرمائے ہیں اور اس طرح ہوتا رہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اوپر وہ چیزیں کھولتے رہتے ہیں۔ تو اس وجہ سے وہ بیان فرماتے رہتے ہیں۔ لیکن اس سے اصل معنوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

اصل بات یہ ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس نے کوئی ایسی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ کی جو کہ ہو نہیں، تو اس نے اپنے لیے جہنم کا گڑھا بنا دیا۔ تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف کے ساتھ یہ ہے تو قرآن کے ساتھ کیا ہوگا؟ اگر کوئی قرآن کا معنی تبدیل کر لے۔

اب میں آپ کو اس کی بات بتاتا ہوں۔ یہ بالکل ایسی ہے جیسے میں نے ایک شخص کو تبلیغی جماعت کے ساتھی تھے، اللہ تعالیٰ اس کو اجر دے کہ اس نے فورا بات سمجھ لی تھی۔ جس سے میں نے کہا تھا کہ آپ تبلیغی جماعت میں جائیں اور ماشاءاللہ ان کے ساتھ وقت لگائیں لیکن تحریف سے بچیں۔

تو اس نے کہا میں کیسے تحریف کروں گا؟ چونکہ طالب علم تھے۔ میں نے کہا دیکھیں نا ہم لوگ جس وقت گشت پہ نکلتے ہیں، تو بیان کرتے ہیں گشت کے آداب کہ گشت اتنا اونچا عمل ہے کہ اس میں نکلنے والے جو ہوتے ہیں وہ پہلے بہت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں اور فرشتے ان کے آگے اپنے پر بچھاتے ہیں۔

تو میں نے کہا یہ اصل میں کن کے لیے ہے؟ فرمایا طلباء کے لیے ہے۔ تو میں نے کہا اب یہ تو کہہ سکتا ہے کہ تبلیغ والے کہہ دیں ہم بھی طالب علم ہیں، سیکھنے کے لیے نکلے ہیں۔ لہذا ہمیں بھی یہ فضیلت حاصل ہے۔ تو ہم کہیں گے بالکل ٹھیک ہے۔ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن وہ کہیں ہمیں تو حاصل ہے لیکن طالب علموں کو حاصل نہیں ہے تو کیا ہوگا؟ یہ تحریف ہو جائے گا۔

وہ فورا سمجھ گئے ہاں بالکل ٹھیک ہے آپ صحیح کہتے ہیں۔ پھر میں نے کہا تھا کہ دیکھو نا یہ جو فرماتے ہیں کہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں، تو کہتے ہیں اللہ کے راستے میں جو ایک دن اور ایک رات میں لگا دے تو وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ میں نے کہا یہ کس کے لیے بنیادی طور پر؟ انہوں نے کہا مجاہدین کے لیے۔ میں نے کہا اگر کوئی کہہ دے کہ ہم بھی مجاہدین ہیں، ہم بھی جو ہے نا ایک روحانی سرحد کی بقا کے لیے لڑتے ہیں، یعنی مطلب ہے کام کرتے ہیں، تو ہم کہیں گے بالکل غلط نہیں کہتے ہو، صحیح کہتے ہو۔ تو ہمیں بھی اس فضیلت سے ہم کہہ دیں بالکل ٹھیک ہے، لیکن وہ اگر کہہ دے کہ ہمیں تو حاصل ہے لیکن مجاہدین کو حاصل نہیں ہے تو پھر کیا ہوگا؟

فرمایا کہ تحریف ہوگا۔ اس طرح دو تین میں نے اور بتا دیے، فرمایا الحمدللہ آپ نے صحیح بات کی، میں ان شاءاللہ اس کے بارے میں خیال رکھوں گا کہ میں اس طرح نہ کروں۔

تو بس یہی یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ جو لطائف ہوتے ہیں وہ ایک محمود چیز ہوتی ہے، اس سے فائدہ ہوتا ہے لوگوں کا، معرفت حاصل ہوتی ہے، لیکن اس کو آپ قرآن کا اصلی معنی نہیں قرار دے سکتے۔ اس کو آپ قرآن کی تفسیر نہیں کہہ سکتے۔ یہ بات ہے۔

غرض قرآن مجید کی ہی نہیں بلکہ ہر کتاب کی عبارت سے اسی طرح تجوّزی مدلول اخذ کر سکتے ہیں، اسی طرح مولانا نے بطورِ بیانِ معنٰیِ مقصود نہیں بلکہ بطورِ تمثیل یا بطورِ اعتبارِ تجوّزی اس آیت سے دل کو خانۂ کعبہ قرار دے لیا بایں مناسبت کہ جس طرح کعبہ پر انوارِ الٰہی نازل ہوتے ہیں اسی طرح قلب بھی مہبطِ فیوض ہے اور جس طرح کعبہ کی صفائی کا حکم ہوا تھا اسی طرح اس سے مولانا نے تصفیۂ قلب پر استدلال کر لیا اور اس قسم کے اعتبارات اخذ کرنے کو علمِ اعتبار کہتے ہیں جو ﴿بحکم: فَاعْتَبِرُوْا یَا اُوْلِی الْاَبْصَارِ﴾ (الحشر: 2) جائز ہے۔

باقی رہی یہ بات کہ قرآن مجید کا ظہر و بطن کیا ہے۔ سو واضح ہو کہ قرآنِ مجید و نیز حدیث شریف جو مآخذِ احکام ہیں ان سے احکام اخذ کرنے کا کام نازک تر، پر خطر اور مُزّلِ اقدام سمجھا گیا ہے۔ اس لیے یہ کام ان خاص اصولِ موضوعہ کے ماتحت کیا جاتا ہے جو آئمہ مجتہدین نے قائم کئے ہیں۔ بعض آیات ایسی ہیں جو سرسری نظر میں ایک خاص مفہوم رکھتی ہیں ان کو ظہرِ قرآن کہتے ہیں۔ جب اس قسم کی آیت کو مذکورہ اصل کے ما تحت لا کر نظر کرتے ہیں تو اصلی مطلب کچھ اور نکل آتا ہے۔ وہ بطنِ قرآن ہے۔ غرض قرآن و حدیث میں سے تمام احکامِ دین کا گراں بار دفتر اسی اصول کے تحت ظہر القرآن و بطن القرآن میں تمیز کر کے تیار کیا گیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدّس سرہٗ حدیث "لِکُلِّ آیَۃٍ مِّنْھَا ظَہْرٌ وَ بَطْنٌ" کی شرح میں فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی صفات اور نشانیوں کا ذکر اور احکام کا بیان اور قصص کا ایراد اور کفار پر اتمامِ حجت اور بہشت و دوزخ کے احوال سے وعظ و نصیحت درج ہے، پس ظہر القرآن سے وہ اصل مدّعا مراد ہے جس کا سیاق متقاضی ہے اور بطنِ قرآن آیاتِ صفات میں تفکر، تفکّر فی آلاء اللہ اور مراقبہ ہے اور احکام کی آیات کا بطن یہ ہے کہ اشارہ و ایما سے کسی حکم کا استنباط کیا جا سکے، جیسے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا (سورہ احقاف: 15) سے یہ مسئلہ استنباط کیا کہ مدّتِ حمل چھ ماہ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ رضاع کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حولینِ کاملین فرمایا ہے اور قصص کا بطن یہ ہے کہ ثواب و عذاب اور مدح و ذم کا مدار دل نشین ہو جائے اور وعظ و نصیحت کا بطن یہ ہے کہ رقّتِ قلب اور خوف و رجا پیدا ہو جائے۔ و امثال ذلک (حجۃ اللہ البالغہ جلد اول صفحہ 145)

سبحان اللہ! بڑا اچھا بیان ہے۔

مطلب اس میں یہ بات ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ قرآن کا جو ظاہر اور باطن ہے، اس میں یہ ہے کہ جو ظاہر ہے وہ تو وہی جو سامنے ہے۔ اس کو آپ لیں گے۔ باطن میں وہ یہ ہے کہ اس سے جو یا خصوصی احکام مستنبط ہوتے ہیں فقہی طور پر، یا اس سے خصوصی کیفیت حاصل ہوتی ہے، مطلب وہ جو ہے نا مطلب اس طرف۔

تو یہاں پر مطلب جو ہے نا وہ جو چیزیں ہیں، مطلب جیسے قرآن پاک میں تدبر فی القرآن، تو اس میں دونوں چیزیں ہو سکتی ہیں کہ ایک تو تدبر وہ ہے جس سے احکام فقہی طور پر مستنبط ہوتے ہیں۔ اور ایک تدبر یہ ہے کہ اس میں جو غور و فکر سے انسان کی حالت جو دل کی بدلتی ہے اس میں غور کرنے سے مطلب وہ فائدہ ہو جاتا ہے۔ تو یہ فرمایا تفکر، تَفَکُّر فِی آلَاءِ اللّٰہِ اور مراقبہ۔ یہ بھی کیا جاتا ہے۔"

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

معزز خواتین و حضرات! آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوا کرتا ہے۔ اور اس وقت، اس وقت ہم برمنگھم انگلینڈ میں ہیں اور وہاں سے یہ درس جاری ہے۔


15

بے حسد سے تو حسد کرے گا گر وہ ہے محفوظ تو مگر بگڑے گا پھر

جب تو (کسی) بے حسد (بزرگ) کے ساتھ مکر و حسد کرے گا (تو اس کا کچھ نہیں بگڑے گا) اس حسد سے تیرے ہی دل پر تاریکیاں چھا جائیں گی۔

آدم علیہ السلام کا کیا بگڑا؟ آدم علیہ السلام کا تو اللہ پاک نے بہت مرتبے دیے۔ اور شیطان کا سارا کچھ ختم ہو گیا۔

16

خاک بن مردان حق کا زیرِ پا ڈال حسد پہ خاک ہماری طرح

مردانِ خدا کے قدموں کی خاک ہو جاؤ (اور) ہماری طرح حسد پر مٹی ڈالو۔

کچھ بھی پرواہ نہ کرو مطلب یہ بات ہے۔ تو یہ ماشاءاللہ ہمیں حضرت نے بہت اچھی نصیحت فرمائی ہے کہ ہمیں کسی ولی اللہ کے ساتھ حسد نہیں کرنا چاہیے، کسی عالم کے ساتھ حسد نہیں کرنا چاہیے، کسی نیک شخص کے ساتھ حسد نہیں کرنا چاہیے، اس کا کچھ نہیں بگڑے گا، ہمارا سارا کچھ بگڑ جائے گا۔


دفتر اول حکایت نمبر 20

یہودی وزیر کے حسد کا بیان


اب دیکھو حسد سے شروع ہوا تو حسد قدر کی طرف چلی گئی بات۔

1

تھا حسد سے وہ وزیر بالکل بنا کان و ناک سے خود کو محروم کرلیا

(اس حد تک حسد میں آیا کہ اس نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا، خود اپنے کان اور ناک وغیرہ سے اپنے آپ کو محروم کر دیا)۔

اللہ اکبر۔

2

اس امید پہ وہ کہ از روئے حسد ڈنگ زہر کا مارے مسکینوں کو بد

اس امید پر (کان ناک کٹوا لیے) کہ حسد کے ڈنگ سے اس کا زہر بے چارے (عیسائی) لوگوں کی جان میں سرایت کر جائے۔

یعنی ان کو گمراہ کر دے، بلاوجہ

3

ہر کوئی جس پر حسد سوار ہو واسطے حق کان ناک اس کا بیکار ہو

سبحان اللہ، اب دیکھو کس طرف جا رہے ہیں۔ جس پر حسد سوار ہو جائے، اس کا کان ناک جو ہے نا وہ بیکار ہو جاتا ہے۔ وہ صحیح سونگھ نہیں سکتا، صحیح سن نہیں سکتا۔ اس کو صحیح بات کا پتہ نہیں چلے گا۔

جو شخص حسد میں آ کر (حق و انصاف سے) انکار کرے۔ وہ اپنے آپ کو (حق سننے والے) کان اور (حق کو محسوس کرنے والی) ناک سے محروم کر لیتا ہے۔ وزیر بینی بریدہ کے ذکر کے اثنا میں عام حاسدوں کا ذکر فرماتے ہیں کہ ہر چند ان کے کان ناک سلامت ہیں اور ان کے پاس آلاتِ حواس موجود ہیں مگر جب وہ ان سے احساسِ حق نہیں کرتے تو ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا﴾ (الأعراف: 179) "اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں" یعنی حق بات نہیں سنتے یا سنتے ہیں مگر اس کان سے سنا اور اس کان سےاڑا دیا، دل تک بات نہیں جاتی۔

تو یہ ہے دیکھیں نا۔

4

ناک وہ جو بوئے حق حاصل کرے اس کا بو حق سے اسے واصل کرے

اوپر کہا تھا کہ حق کا احسان نہ کرنے والے لوگوں کے بھی کیا ناک کان ہیں، ہوئے نہ ہوئے برابر ہیں۔ اب اس نفی کی توجیہ فرماتے ہیں کہ ہم تو اس ناک کو قائم سمجھتے ہیں جو بوئے حق کو محسوس کرے اور یہ احساس اس کے لیے وصول الی اللہ کا موجب ہو۔ ایک اور طرح بھی مطلب بن سکتا ہے کہ خویش را بے گوش و بینی کند سے خویش را ذلیل کند مراد ہو یعنی جو شخص حق سے انکار کرتا ہے وہ عند اللہ اور عند الناس نکٹا یعنی ذلیل ہو جاتا ہے اب کہتے ہیں ناک یعنی فخر و عزت تو اس شخص کی ہے جو حق کا پیرو ہو۔ ﴿وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوْلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾(منافقون: 8) ”عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے“۔ جب اس شخص میں یہ بات نہیں تو نکٹا نہ ہوا تو اور کیا ہوا۔

5

ہر کہ جو بو حق کی سونگھ سکتا نہیں ناک نہیں دین سے وہ میل رکھتا نہیں

جس میں بو (سونگھنے کی قوت) نہیں وہ بے ناک ہوتا ہے (اس) بو (سے) وہ بو (مراد) ہے جو کہ دینی ہو۔ اس شعر میں مسلماتِ مخاطب کے ذریعہ سے اثباتِ دعوٰی ہے یعنی اتنا تو تم بھی مانتے ہو کہ جو شخص بو سونگھنے کا آلہ نہیں رکھتا وہ بے بینی ہے۔ پس ہم بو سے مراد بوئے دینی لیتے ہیں اور اس کے سونگھنے کا اس کے پاس سامان نہیں تو لا محالہ وہ بے بینی ہوا۔

6

بوئے حق پاکر شکر گر نہ کرے قوت شناخت اس سے تب سلب رہے

جب کسی مردِ خدا کا با کمال ہونا معلوم ہو جائے تو اس کی قدر کرنی واجب ہے جب اللہ تعالیٰ ایک دولتِ لا زوال پر دسترس بخشے تو اس سے دستکش ہونے والا کافرِ نعمت ہے۔

7

شکر کر بن عارفوں کا تو غلام ان کی خدمت سے ملے عمرِ دوام

ترجمہ: شکر کرو اور شکر گزاروں (یعنی عارفوں کے) غلام بن جاؤ اور ان کی خدمت میں انانیت کو مٹا کر عمرِ دوام حاصل کرو۔ یعنی اہل اللہ کے آگے اپنی خودی کو مٹا دینا بقائے دوام بخشتا ہے۔لیکن اگر کسی با کمال کے آگے کمرِ اطاعت خم کرنا، اپنی خودی کو مٹانا اور فنا و محو ہونا منظور نہیں تو اس منزل پر فائز ہونا نا ممکن ہے۔

8

اس وزیر سا رہزنی نہ کر کبھی طلب حق سے روکنا مخلوق کو نہیں

یعنی جو وزیر تھا جو کہ حاسد تھا، جس نے مطلب یہ ہے کہ وہ عیسائی عوام تھے، ان کو گمراہ کرنا چاہا، تو انہوں نے گویا رہزنی کی اور ان کو جو ہے نا صحیح راستے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ تو اس طرح تو نہ بن۔


عارفانِ حق کو شناخت کرنے اور ان کی خدمت بجا لانے کے بجائے خود جھوٹے شیخ نہ بن بیٹھنا اور وزیر یہودی کی طرح لوگوں کو راہِ حق سے روکنے کے لیے ڈاکو نہ بن جانا۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا ہے، کہ اگر کوئی منتہی مرجوع نہیں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مجذوب متمکن ہے تو وہ راہ میں بیٹھ کر ڈاکو نہ بنے بلکہ لوگوں کو منتہی مرجوع کی طرف رہنمائی فرما دے)۔

اللہ اکبر۔

دفتر اول حکایت نمبر 21

بعض ہوشیار نصاریٰ کا وزیر کے مکر کو سمجھنا


1

مذہبی کافر وزیر واعظ بنا

یعنی کافر تھا مذھب وہ واعظ بن گیا

حق کو خوب باطل کے ساتھ خلط ملط کیا

(یعنی وہ بے دین وزیر مذہبی واعظ بن گیا، اس نے مکر سے حق و باطل کو خلط ملط کر دیا)۔


2

گفتگو سے اس کی جو تھے رمز شناس پاتے لذت دل مگر ہوتا بھی پاش

جو شخص مزہ شناس تھا وہ اس کی باتوں سے بوجہ خوش بیانی ایک لذت محسوس کرتا تھا اور اس کے ساتھ ہی (اس کی شرارت و ضلالت بھری باتوں کی) ایک تلخی (بھی پاتا)۔ مکر و ریا آخر کب تک چھپ سکتا ہے صاحبِ ذوق پہچان گئے۔

3

گفتگو میں تھا بظاہر اس کا قند تھا بباطن زہر اور نفسانی گند

وہ (ادھر ادھر کی باتیں) ملا ملا کر اور شربت و قند میں زہر گھول گھول کر نکتے بیان کرتا تھا۔

4

ہاں اگر تجھ کو ملے ایسا مکار دھوکہ نہ کھا اس سے ہے گند خبردار

خبردار (اگر تجھ کو بھی کسی ایسے مکار سے پالا پڑے تو اس کی) اس پسندیدہ گفتگو سے دھوکا نہ کھانا کیونکہ وہ (گفتگو) اپنی تہہ میں سینکڑوں خرابیاں رکھتی ہے۔

مولانا بطریقِ نصیحت فرماتے ہیں کہ مکاروں سے ہوشیار رہو۔

5

بد عمل کے قول میں بھی ہو بد اثر مردہ دل کے قول سے کون ہو جانبر

مردہ دل کے قول سے کون ہو جاں بر؟ خود جو مردہ ہے وہ کسی اور کو زندہ کیا کرے گا؟ جب وہ خود بد (اعمال) ہے تو اس کے اقوال کو بھی بد (اثر) سمجھ (کیونکہ) جو کچھ مردہ (دل) کہے گا اس میں (نیک تاثیر کی) جان نہ ہو گی۔

6

قول سے انسان کے بنے انسان ٹکڑا ہو جب نان کا تو ہے وہ نان

(مطلب انسان، ظاہر ہے انسان کے قول سے انسان بن سکتا ہے۔ اور اگر نان ہے، اس کا ٹکڑا ہے تو وہ روٹی کا ٹکڑا ہو تو پھر روٹی ہوگی نا؟

7

گفت علی کا ہے کہ قول ہے جاہل کا گندگی کے ڈھیر پہ سبزے کی طرح

اے مخاطب اسی لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ جاہلوں کی نعمتِ گفتار ایسی ہے جیسے کوڑے کرکٹ ڈالنے کی جگہ پر سبزہ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ "نِعَمُ الْجَاھِلِ کَرَوْضَۃٍ فِی مَزْبَلَۃٍ" یعنی ”جاہل کی نعمتیں ایسی ہیں جیسے کسی گندی جگہ پر سبزہ زار“۔ یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو نِعَمُ الجاہل فرمایا ہے۔ مولانا اس کو قول الجاہل کے معنی میں کیوں نقل کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقولہ میں جاہل کی عام نعمتوں پر حکم ہے۔ جن میں خوش خوری، خوش پوشی، خوش باشی، خوش کلامی وغیرہ، سب چیزیں شامل ہیں۔ مولانا نے بحکمِ ضرورتِ خاص ایک نعمت یعنی خوش کلامی کے لیے وہ مقولہ نقل کر لیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقولہ میں ضمنًا اس پر حکم ہو چکا ہے۔ "﴿ہٰذا وَ لَو لَم یَخِل عَنِ التَّکَلُّفِ﴾"۔ غرض مدعا یہ ہے کہ جاہل کا ظاہری حال و مقال بھی کوڑی کے کام کا نہیں جب کہ اس کا باطن نورِ معرفت سے خالی ہے۔

8

جو کہ اس سبزے پہ بیٹھ گیا کبھی شک ہے اس میں کب کہ پائے گندگی

مطلب جو اس پر بیٹھے گا، تو گندہ ہی ہو جائے گا، کیونکہ گندگی پر وہ پڑا ہوا ہے۔ اس طرح ہوتا ہے نا، یہ جو جگہ گندگی کے ڈھیر ہوتے ہیں، تو جب بارش ہوتی ہے، تو اس پر بالکل سبزہ چھا جاتا ہے۔ تو پتہ نہیں چلتا کہ اندر کیا ہے، اس کے پیر پڑ گیا تو پھنس گیا اندر۔ کیونکہ نیچے تو گندگی ہوتا ہے۔

9

چاہئیے کہ پاک نجاست سے کرے خود کو کہ پھر فرض نماز وہ پڑھ سکے

اس کو اپنا وجود نجاست سے پاک کرنا چاہیے تاکہ (اگر اس کے بعد وہ کہیں نماز پڑھنے لگے تو) اس کی فرض نماز باطل نہ ہو۔

مسائل: (1) مذکورہ تمثیل میں سبزہ پر بیٹھنے سے بدن یا کپڑے کا نجس ہونا اس صورت میں مراد ہے کہ وہ سبزہ نجاست سے آلودہ ہو اور بیٹھتے وقت بدن یا کپڑے پر اس سبزے سے یا زمین سے نجاست لگ بھی جائے ورنہ خود وہ سبزہ نجس نہیں ہوتا۔ نہ اس پر بیٹھنے سے جامہ و جسم نجس ہوتا ہے اگرچہ نجس زمین سے اُگا ہو

یہ حکم فقہی بتا دیا

اور نجس غذا سے اس نشو و نما ہوئی ہو۔

کیوں؟ بھئی، ہم جو کھاد ڈالتے ہیں، کھاد کیا، پاک ہوتا ہے؟ نجس ہوتا ہے نا۔ لیکن اس سے جو گوبھی پیدا ہوتا ہے، اس سے جو ٹماٹر پیدا ہوتے ہیں، اس سے جو دوسری چیز، اس کو ہم کھاتے ہیں یا نہیں کھاتے؟ کیونکہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ تو اب وہ چیز نہیں رہی، اس کو قلبِ ماہیت کہتے ہیں نا۔ تو قلبِ ماہیت ہو گئی، اب وہ چیز تو نہیں رہی۔ لہٰذا وہ تو کھانا جائز بھی ہے۔ اور مفید بھی ہے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہی تو بات ہے دیکھو نا، ہم پاک چیز کھاتے ہیں وہ گندی ہو جاتی ہے۔ نجاست بن جاتی ہے۔ اور نجاست سے چیزیں اگتی ہیں، وہ پاک ہوتی ہیں۔ تو خیر، مطلب یہ ہے کہ، یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے۔

(2) حدث سے نجاست کا لگ جانا مراد ہے۔ وضو ٹوٹنا مراد نہیں جیسے کہ لفظ سے متبادر ہو سکتا ہے کیونکہ اگر با وضو آدمی کے بدن یا کپڑے پر خارج نجاست لگ جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ بلکہ صرف نجاست کا دھونا لازم آتا ہے۔

(3) یہاں نماز کے ساتھ فرض کی قید اتفاقی ہے کیونکہ یہ حکم فرض نماز سے مخصوص نہیں۔ بلکہ ہر فرض و سنت و نفل نماز جامہ کے نجس ہونے کی صورت میں باطل ہو جاتی ہے۔

10

ظاہر اس کی ہو کہ اس راہ میں ہو چست ہو بباطن یہ کہ نہ بڑھ اور ہو سست

اس (وزیر کی بات) کا ظاہر (مضمون) تو کہتا تھا کہ راہ (معرفت) میں چست ہو۔ اور اثر (کے لحاظ) سے جان کو کہتا تھا سست ہو جا۔ یعنی اس کے وعظ کا ظاہری مفہوم اچھا۔ لیکن وہ بلحاظ اثر و نتیجہ کے مضر تھا۔

اب اس کی چند نظائر بیان کرتے ہیں:


11

ظاہر میں چاندی سفیدی ہے لئے ہاتھ کپڑے اس سے سیاہ پر ہوگئے

چاندی کے ساتھ ہاتھ کپڑے جب لگتے ہیں تو کیسے ہو جاتے ہیں؟ وہ سیاہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ چاندی تو سفید ہے۔

12

آگ چنگاریوں سے اپنا سرخ رو خاکستر اس سے ہوں سامنے جو بھی ہوں

آگ اگرچہ (اپنی) چنگاریوں سے سرخرو ہے (مگر) تو اس کے فعل کا تاریک نتیجہ دیکھ لے ( کہ تمام اشیا کو خاکستر بنا دیتی ہے۔)

13

برق جو ہے نور آئے یہ نظر لیک بینائی ہو اس سے بے بصر

(اور جو بجلی کڑکتی ہے، وہ نور نظر آتا ہے لیکن بینائی کو لے جاتی ہے، اس کو اندھا کر دیتی ہے، اس سے اندھا کر دیتی ہے۔ تو یہ بھی ظاہر ہے۔ وہ وزیر ایسے ہی تھا، بظاہر نور تھا، یعنی اچھی باتیں کرتا تھا لیکن ایمان کو لے جاتا تھا، اس کو برباد کر دیتا تھا۔ یہ مطلب اس کا بنتا ہے۔)

جو کہ اس سبزے پہ بیٹھ گیا کبھی شک ہے اس میں کب کے پائے گندگی (مطلب جو اس پر بیٹھے گا، تو گندہ ہی ہو جائے گا، کیونکہ گندگی پر وہ پڑا ہوا ہے۔ ہاں جی۔ اس طرح ہوتا ہے نا، یہ جو جگہ گندگی کے ڈھیر ہوتے ہیں، تو جب بارش ہوتی ہے، تو اس پر بالکل سبزہ چھا جاتا ہے۔ تو پتہ نہیں چلتا کہ اندر کیا ہے، اس کے پیر پڑ گیا تو پھنس گیا اندر۔ کیونکہ نیچے تو گندگی ہوتا ہے۔ ہاں جی۔)

14

صاحبِ ذوق اور ذو آگاہ اِس میں تھے کیسے واصف لوگ فدا اُس پہ تھے

با خبر اور صاحبِ ذوق (لوگوں کے) سوا جو بھی تھا اس (وزیر) کی بات اس کے گلے کا ہار تھی۔

وزیر کے ظاہر و باطن کے نظائر بیان کر کے اب پھر قصہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس سے پہلے خواص نصارٰی کے متعلق بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس کے مکر کو محسوس کر لیا۔ اب عوام الناس کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو گئے۔ وزیر کی بات کا عوام کا طوقِ گلو بن جانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس فرطِ شوق سے اس کے مقید و مقلد ہو گئے۔ لہٰذا اس سے اختیاری تقید مراد ہے نہ کہ جبری۔

15

رہ کے چھ سات سال میں وہ ایسے بنے دیں پناہ اور راہبر ان کے بنے

ان میں چھ سال گزار دیے تو بس ان کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور ان کے رہنما بن گئے۔

16

دین و دل کو اس نے کیا اس کے سپرد جان و ایماں بھی کیا اس کے سپرد

مطلب یہ جو دین و دنیا جو مطلب یہ ہے کہ، لوگوں کے جو تھے، وہ اس کے سپرد کر دیا۔ مطلب اپنا دین بھی اس کے حوالے کر دیا، جو دین کی بات وہ کرتے تھے کہ یہ دین ہے، وہ اس کو دین سمجھتے تھے اور جس کو سمجھتے کہ دین نہیں ہے تو اس کو دین نہیں سمجھتے تھے۔ اور ساتھ ہی جان و ایمان بھی اس کے حوالے کر دیا۔ ایسے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پاک بچائے۔ اللہ تعالیٰ بچائے، یہ بہت خطرناک صورت ہوتی ہے کہ اگر کسی مفسد، اگر کسی غالی، اگر کسی غلط شخص کے ساتھ تعلق ہو جائے۔ جیسے آج کل پاکستان اور انڈیا میں بعض لوگ ہیں، تو مطلب ظاہر ہے کہ غلط باتیں پھیلاتے ہیں۔ تو جو ان کا معتقد ہو جاتا ہے، اس کا ایمان اور سارا کچھ غارت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جو بات اسے کہتا ہے، وہ اس کو صحیح سمجھتے ہیں۔ تو ان کی باتوں میں تو، زیغ تو ہوتا ہے۔ اس طرح تو نہیں ہوتا کہ مطلب وہ تو، وہ تو اس طریقے سے بات کرتے ہیں کہ لوگوں کا اس کے اوپر اعتقاد آتا ہے، لیکن بات غلط ہوتی ہے۔ میں اس کی سو مثالیں دے سکتا ہوں۔ لیکن کیا مطلب؟ میرے خیال میں جو لوگ سمجھنے والے ہیں وہ سمجھ جائیں گے۔ جو نہیں سمجھتے وہ مثالوں سے بھی نہیں سمجھیں گے۔ جو ان کے معتقد بن چکے ہوں گے نا، تو وہ مثالوں سے بھی نہیں سمجھیں گے۔

لیکن بہرحال اللہ پاک سے مانگ تو سکتے ہیں نا! رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ کس لیے دعا ہے؟ اسی کے لیے دعا ہے نا! کہ اے رب ہمارے، ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈال! بعد اس کے کہ ہم ہدایت، ہمیں ہدایت مل چکی ہو۔ یعنی مومن ہو، ہدایت مل چکی ہو۔ اس کے بعد کوئی ہمیں گمراہ نہ کرے۔ وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً، اور اپنی طرف سے رحمت ہمیں عنایت فرما دے، إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔ تو یہ بات ہے کہ یہ چیز ہے کہ انسان کو خیال میں رکھنا چاہیے۔

جس شخص کے پیچھے جانا چاہے، اور اس کو اپنا رہبر بنانا چاہے، اس کے بارے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہر شخص کے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ، آپ کا سارا کچھ لے اڑے۔ بعض لوگ مال بھی اڑاتے ہیں، دین بھی اڑا دیتے ہیں۔ تو اس کے لیے بہت خطرناک بات ہوتی ہے۔ بہت ساری مثالیں ہیں، لیکن کیا ضرورت ہے؟ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اصل میں یہ دین جو ہے نا، یہ دین ہم نے نہیں بنایا کہ اس کو ہم change کر سکیں۔ یہ اللہ پاک نے بھیجا ہے۔ ایک ہوتا ہے مطلب، یعنی revealed، یعنی اللہ پاک کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔ اور ایک ہوتا ہے چیز ہم develop کرتے ہیں، کسی چیز کو۔ تو science جو ہے، کیا ہے؟ یہ development ہے۔ R&D ہے مطلب Research and Development۔ ہاں جی، وہ مطلب development ہے۔ تو اس میں ہم کر سکتے ہیں بات۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ، اسی سے ہی سوال و جوابوں سے مسئلہ آگے بڑھتا ہے۔ وہ تو ہم کر سکتے ہیں۔ لیکن جو دین ہے وہ revealed ہے۔ وہ ہم اب change نہیں کر سکتے۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ تم پر اپنی نعمت کو تمام کر لیا۔ اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔ یہ جو ہے نا اللہ پاک نے فرما دیا۔ اور اس کے بعد آپ ﷺ تو بس چند دن ہی رہے، اس کے بعد تو دنیا سے تشریف لے گئے۔ تو یہ بات اب final ہے۔ اب اس کے اندر ذرہ بھر بھی تبدیلی کوئی نہیں کر سکتا، دین میں! دنیاوی چیز میں جیسے میں نے کہا development والی، وہ چیزیں ہو سکتی ہیں، Engineering میں development کرو نا، ڈاکٹری میں کرو نا، Agriculture میں کرو نا۔ ہاں، مطلب کسی اور line جو دنیاوی line ہے اس میں کرو development جتنی کر سکتے ہو کر لو۔ کوئی مشکل نہیں۔

لیکن دین میں بالکل، آپ کا سارا زور اسی پر ہو کہ مجھے صحیح دین کا پتہ مل جائے، کہ وہ ہے کیا؟ تو اس کے sources دو ہی ہیں۔ ایک قرآن ہے، اور دوسری سنت ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی source نہیں ہے۔ قرآن و سنت۔ تو قرآن و سنت کو سمجھنے کے لیے پھر source ہے۔ وہ صحابہ ہیں۔ وہ ہمیں مطلب ظاہر ہے وہاں سے پتہ چلے گا۔ کیونکہ صحابہ نے جو سمجھا وہ ہمارے رینج تو نہیں ہے نا۔ کیونکہ انہوں نے تو دیکھا ہے نا، وہ جو چیزیں ان کے سامنے ہوئی ہیں۔ وہ سارا کچھ دیکھا بھالا ہے۔ لہٰذا ان کا سمجھنا اور ہے، ہمارا سمجھنا اور ہے۔ تو ہم لوگ ان کی سمجھ سے اپنے سمجھ کو، مطلب فائدہ پہنچاتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا یہ تو یہ بات ہے۔ پھر فقہاء ہیں۔ فقہاء جو ہوتے ہیں وہ بھی صحابہ کی سمجھ سے لیتے ہیں نا۔ تو گویا کہ step by step ہمارے پاس ہے کہ قرآن بنیاد ہے، حدیث اس کی تشریح ہے۔ صحابہ اس کی تعبیر بتاتے ہیں مطلب جو واقعات ہیں ان کے حالات میں، جو جو کچھ ہوا اس کے حساب سے مطلب اس کا نتیجہ سمجھاتے ہیں۔ اور فقہاء کرام اس سے مسائل اخذ کر کے ہمیں سمجھاتے ہیں کہ اس طریقے سے کرنا ہے اور اس طریقے سے نہیں کرنا۔ تو چیزیں ساری مطلب ان دو میں منحصر ہو جاتی ہیں یعنی قرآن و سنت میں۔

باقی جو باتیں ہیں، وہ ہم لوگ جو ہے نا مطلب اگر دین کی بات ہے تو اس پہ لائیں گے۔ دنیا کی بات ہے اس میں آزاد ہے۔ وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَاكُمْ، تم اپنے دنیا کے امور میں اچھی طرح جانتے ہو۔ دنیا کے امور میں ہم بات کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ کوئی Engineering کا مسئلہ ہو، میں اس کے، اندر ڈٹ کے بات کروں گا اور دوسرے Engineer کو یہ اختیار ہوگا کہ ڈٹ کر میری مخالفت کرے۔ کیونکہ Engineering point of view سے بات ہے نا، تو Engineering، Engineer کی بات کو کاٹ سکتا ہے۔ وہ بات صحیح ہے۔ Doctor، Doctor کی بات کو کاٹ سکتا ہے۔ وکیل، وکیل کی بات کو کاٹ سکتا ہے۔ وہ ٹھیک ہے، وہ چلتا رہے گا، وہ اس میں، ہم بات نہیں کرتے۔ لیکن جو دین کی بات ہے اس میں وکیل کی بھی نہیں مانیں گے، اس میں Engineer کی بات بھی نہیں مانیں گے، اس میں Doctor کی بات بھی، اس میں ہم عالم کی بات مانیں گے۔

میں خود آپ کو واقعہ سناتا ہوں۔ میرے تین Ph.D doctor ان میں سے میرے دو استاد تھے۔ اور میرے سامنے اس طرح بیٹھے، چائے ہم پی رہے تھے۔ چائے پی رہے تھے تو مجھے کہتے ہیں شبیر! آئن سٹائن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا آئن سٹائن بہت بڑا scientist تھا۔ اس نے بڑا نام کما لیا۔ لوگوں نے اس کو بڑی respect دی۔ بہت کچھ کیا۔ اس سے زیادہ میں کیا کہہ سکتا تھا؟ کہتے ہیں، نہیں وہ جنت جائے گا یا نہیں؟ میں نے کہا this is not my domain! یہ تو اللہ پاک کا فیصلہ ہوگا۔ اگر وہ مسلمان تھا تو سبحان اللہ آپ مجھے بتا دیں، میں بھی خوش ہو جاؤں گا۔ کہتے ہیں، نہیں، کیا اس کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے؟

یہ ہیں تین Ph.D doctor ڈاکٹروں کی بات۔ اگر Ph.D ایسی ہے، اس Ph.D پر ہم لعنت بھیجتے ہیں۔ جو اس طرح بنائے کسی کو۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ مطلب Ph.D کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم قرآن میں بھی دخل دے دو، حدیث میں بھی دخل دے دو۔ تمہیں کون؟ مطلب یہ کیا؟ تو خیر بہرحال، جب اس قسم کی بات ہو گئی، تو میں نے کہا کہ، sir! اللہ پاک نے تو فرمایا کہ بغیر ایمان کے کوئی نہیں جا سکتا۔ تو کہتے ہیں نہیں نہیں، مطلب یہ ہے کہ... ایک نے کہا کہ میں ایسی حدیث کو نہیں مانتا جو قرآن کے خلاف ہو۔ میں نے کہا، کون کہے گا جو قرآن کے خلاف ہے؟ آپ کہیں گے یا امام بخاری کہے گا؟ یہ field امام بخاری کا ہے، امام مسلم کا ہے، امام ابو داؤد کا ہے، وہ حضرات کہیں تو پھر ہم مانیں گے۔ آپ نے نیوٹران، پروٹان میں ساری عمر گزاری ہے۔ نیوٹران، پروٹان میں آپ کسی عالم کو بات کرنے دیں گے؟ اس وقت ہم اس عالم کو کہیں گے کہ تمہارا کام نہیں ہے۔ یہ نیوٹران، پروٹان ان کا کام ہے۔ اس میں تو بات صحیح ہے۔ لیکن اگر قرآن میں، اور حدیث میں تم بات کرتے ہو، تو ہم کہیں گے نہیں ہم ان کی بات سنیں گے، تمہاری بات نہیں سنیں گے۔ تمہارا field ہی نہیں ہے۔ تو مجھے کہتے ہیں شبیر صاحب اپنے دماغ کو ذرا تھوڑا سا broad کر لیں۔ میں نے کہا اتنا تنگ نظر مجھے رہنے دیں کہ میں کافر اور مسلمان میں فرق کر سکوں۔

This is required! اتنا تنگ نظری مجھے چاہیے۔ تو بس یہ ہے، آج کل کا دور۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس قسم کے لوگوں سے بچنا ہے۔

اس قسم کے لوگوں سے بچنا ہے۔ مطلب ہم لوگ، کسی کے ساتھ الجھتے نہیں ہیں۔ لیکن جو ہمارے ساتھ الجھتے ہیں تو اپنے آپ کو بچانا تو فرض ہے نا۔ اپنے آپ کو تو بچانا فرض ہے۔ تو لہٰذا ہم ایسے لوگوں سے الجھتے بھی نہیں ہیں لیکن جو لوگ الجھتے ہیں ہم ان کو پھر بتاتے ہیں کہ بھئی یہ تمہارا field نہیں ہے۔ اس میں تمہاری بات نہیں چلے گی۔ فیصلہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ کرے گا، ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ ہم تمہاری بات مانیں گے نہیں، کیونکہ تمہارا field ہی نہیں ہے۔ تو بہرحال اس طرح اگر ہم دیکھیں تو ماشاءاللہ بات آسان ہو جاتی ہے۔ اس وقت یہ تو خیر بیچارے شاید جاہل تھے، پڑھے لکھے... بعض لوگ قصداً اس طرح باتیں کرتے ہیں۔ باقاعدہ design کرتے ہیں اس قسم کی باتیں۔

جیسے اس وزیر کے بارے میں بات ہوئی نا، جو یہودی وزیر تھا جو مکار تھا، اور عیسائیوں کو گمراہ کرتا تھا، تو اس نے ان کو بلایا 12 سرداروں کو، اور ہر سردار کو الگ بتا دیا کہ یہ چیز ایسا ہے، یہ چیز ایسا ہے، اپنے ایک مخطوطہ بتایا، کہتا ہے یہ تمہارے، تمہارے لیے ہے۔ اور دوسرے کو دوسرا بتا دیا، تیسرے کو تیسرا بتا دیا۔ ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بتا دیا۔ اخیر میں جب اس نے خود کشی کر لی، کہتا ہے میں اللہ کے پاس پہنچنا چاہتا ہوں، یہ آگے آئے گا۔ اللہ کے پاس پہنچنا چاہتا ہوں، تم آگے کام سنبھال لینا، ہر ایک کو یہ کہا۔ تو چھ سال کے بعد اس نے خود کشی کر لی، اور یہ بارہ کے بارہ اپس میں لڑ پڑے۔ ہر ایک اپنے آپ کو حق پہ سمجھتا تھا۔ اس طرح عیسائیوں کو تہہ و نس کر دیا۔ تہہ و نس کر دیا۔ ٹھیک ہے نا، یہ اس کی planning تھی۔ یہ ساری چیزیں ابھی آ جائیں گی۔ تو مطلب میرا یہ ہے کہ، اس قسم کے مکار لوگ...

ایسے مکاروں سے بہت بچنا چاہیے۔ چاہے کسی بھی جامے میں آ جائے۔ چاہے کسی بھی shape میں آ جائے، ہمیں ان سے بچنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔









ظاہر و باطنِ قرآن اور اصلاحِ نفس: حکایاتِ مثنوی کی روشنی میں - درسِ اردو مثنوی شریف - پہلا دور