اللہ پاک کی عظمت اور شان کے سامنے سب ہیچ ہے

درس نمبر 25، دفتر اول، حکایت نمبر 23 کے شعر نمبر 37 سے حکایت نمبر 25 شعر نمبر 21 تک ہوا ہے

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
برمنگھم - برطانیہ

تمام انبیاء نے ایک ہی مقصد کی طرف دعوت دی۔ یہودی بادشاہ اور وزیر کو غلط فہمی تھی اسلئے وہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حق پر سمجھتے تھے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخالف تھے۔ یہی غلط فہمی اور حسد یہود کو حق بات سے بہت دور لے گئی

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔


معزز خواتین و حضرات! آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں، یعنی خانقاہ میں، مثنوی مولانا روم کا درس ہوا کرتا ہے اور اس وقت، اس وقت ہم انگلینڈ کے شہر Birmingham میں ہیں، تو وہاں سے یہ درس ان شاء اللہ نشر کیا جا رہا ہے۔


37

قول ہیں آپس میں ایک دوسرے کے ضد اگر کیسے پھر ہو ایک دیکھ زہر و شکر

یعنی اس وزیر نے ہر ایک کو مختلف راہ بتائی۔ ہر ایک کو ایک مختلف قول بتایا کہ ایسا ہے۔ ایک دوسرے کے ضد تھے۔ تو ظاہر ہے پھر تو آپس میں اکٹھے نہیں ہو سکتے، جیسے زہر اور شکر آپس میں مل نہیں سکتے، اس طرح ان کے اقوال آپس میں مل نہیں سکتے۔ اصل میں اس کی ترتیب بھی یہی تھی کہ آپس میں لڑ پڑیں۔ تو اس وجہ سے انہوں نے بارہ کے بارہ امیروں کو ایسے اقوال بتائے جو ایک دوسرے کو ضد تھے۔

یعنی ہر قول ان دفتروں میں ایک دوسرے کے خلاف تھا، حتیٰ کہ یہ قول اول سے آخر تک ضد تھا۔ تو پھر زہر اور شکر جو بلحاظِ صورت اور اثر کے مختلف ہوتے ہیں، ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟



40

مختلف سب کے معنی اور صُوَر روز و شب یا خار و گل، سنگ و گہر


یعنی ان سب کے معانی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے، صورتیں بھی مختلف تھیں۔ جیسے کہ روز اور شب کو لے لو، دن اور رات کو لے لو، اور خار و گل کو لے لو، یعنی کانٹے اور پھول کو لے لو، سنگ و گہر کو لے لو، پتھر اور موتی کو لے لو۔ جیسے یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس طرح یہ سب آپس میں مختلف تھے۔


41

اختلافات سے گزر وحدت کو پا یہ نہ ہو خوشبؤِ وحدت پھر کہاں


یعنی مخاطب، ان اختلافات سے گزر کر وحدت کو پا لو۔ یعنی کثرت سے وحدت کی طرف چلو، یہ مختلف چیزیں جو ہیں اس کو چھوڑ کر، ایک چیز کے پیچھے چلو اور وہ کیا ہے؟ وحدت ہے۔ یعنی اللہ پاک کے سب کچھ ہونے کا یقین۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وحدت کی خوشبو کہاں ملے گی؟

یعنی اوپر وزیر کے متضاد و متخالف مضامین کے ذکر میں ضمنًا امتیاز و اتحاد کا ذکر آ گیا تھا۔ اس لیے بوجہ مناسبت مولانا کا ذہن فورًا اپنے پسندیدہ موضوع توحید کی طرف منتقل ہو گیا جیسے کہ آپ بوجہ غلبۂ مذاق اکثر اثنائے بیان میں ذکر چھیڑتے رہتے ہیں۔


42

وحدت اندر وحدت ہے یہ مثنوی بحر کے آسمان تلک سیر معنوی


مطلب یہ جو وحدت ہے، وہ اصل میں اس کے اندر جو وحدت ہے، اصل میں یہ چیز مثنوی بتا رہا ہے۔ کہ وہ وحدت جو کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاتا ہے۔ یعنی جو آسمان ہے، یعنی

یہ مثنوی اسرارِ وحدت سے بھرپور ہے۔ اے طالبِ معنٰی (اس کے ذریعہ سے) زیرِ زمین سے بالائے فلک تک کی سیر کر لے۔

یعنی زیرِ زمین جو ہے نا جو کچھ ہے، اس سے آپ کو ایک ہی بات آپ کو ملے گی کہ یہ چیزیں بھی سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور وہ چیزیں جو اوپر ہیں وہ بھی سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ یعنی اس سے آپ کو ایک ہی رستہ ملے گا، یہ مراد ہے اس سے۔


وحدت اندر وحدت ہے یہ مثنوی بحر کے آسمان تلک سیر معنوی

دفتر اول - حکایت 24

اس امر کا بیان کہ چلنے کی صورت میں اختلاف ہے، نہ کہ راہ کی حقیقت میں

(مطلب اس عنوان کا یہ ہے کہ اہلِ حق کے طرزِ عمل اور طریقِ روش میں اختلاف ہوتا ہے۔ مقصد سب کا ایک ہے اس میں اختلاف نہیں۔)

جیسے کہ سلاسل ہیں۔ ان سلاسل میں مقصد میں اختلاف نہیں ہے لیکن طریقے میں اختلاف ہوتا ہے۔ تو یہاں پر یہ بات ہے کہ چونکہ اس نے ہر ایک چیز کا مقصد ہی مختلف بتایا تھا، اس وجہ سے فرق تھا۔ تو یہ جو ہمارا طریقہ ہے اس میں نہیں ہے، تو اختلاف طریقے میں ہو سکتا ہے لیکن مقصد میں اختلاف نہیں ہوتا۔



1

دینی پستی کے دشمن نے اس طرز کے بارہ دفتر الگ الگ تیار کئے


یعنی جو دینِ عیسیٰ کا دشمن تھا، اس نے اس طرز کے بارہ دفتر الگ الگ تیار کیے۔ ہاں جی، ہر ایک کو الگ الگ رُخ بتایا۔



2

وہ یک رنگی عیسیٰ کی جانتا نہ تھا وہ مزاجِ خمِ عیسیٰ پایا نہ تھا

وزیر محض حضرت موسیٰ علیہ السلام کا متبع ہونے کے باعث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مخالف ہو رہا تھا اور یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخالف نہیں بلکہ ان کے ہم رنگ ہیں، اور نہ صرف خود ہمرنگ ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اسی رنگ کی طرف دعوت دیتے ہیں مگر وہ اس اتحادِ رنگ سے خُو گر نہ تھا۔

مطلب یہ ہے کہ اس کو پتہ نہیں تھا کہ یہ دونوں ایک ہیں۔ کوئی بھی پیغمبر دوسرے پیغمبر سے مختلف نہیں ہے۔ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ۔ ہم ان میں سے کوئی فرق نہیں کرتے۔

3

جامۂ صد رنگ ازاں خمِّ صفا سادہ و یک رنگ ہوا جیسے ضِیا

سینکڑوں مختلف رنگوں کے کپڑے (یعنی مختلف العقائد لوگ) اس صاف مٹکے (یعنی تعلیماتِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے خالص اور یک رنگ (یعنی متحد المذاہب) ہو جاتے تھے جس طرح روشنی (خالص اور یک رنگ ہوتی ہے)۔

یعنی ساتوں رنگ مل کے اس سے ایک رنگ بن جاتا ہے۔

نکتۂ لطیف: یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ روشنی جو ہم کو بظاہر خالص سفید رنگ کی اور یک رنگ معلوم ہوتی ہے وہ ان سات رنگوں سے مرکب ہے سُرخ، نارنجی، زرد، سبز، آسمانی، نیلا اور بنفشی۔ چنانچہ جب شعاع کسی ایسے شیشے میں گزرتی ہے جو منشور مثلثی ہو تو یہ ساتوں رنگ الگ الگ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایک ایسے دین کے لیے ضیاء کی مثال پیش کرنا جو مختلف العقائد لوگوں کے اجتماع و اتحاد سے بنا ہو کس قدر نورانی تمثیل ہے، اور اگر مذکورہ تحقیق عہدِ جدید کی ہے تو اس تمثیل کو مولانا کی کرامات میں سے سمجھنا چاہیے۔

سوال: مدّعا تو یہ تھا کہ مختلف عقائد کے لوگ دین عیسیٰ علیہ السلام میں آ کر یک رنگ ہو گئے۔ بخلاف اس کے دین کی تمثیل اس مٹکے سے دی گئی جس میں ایک رنگ کے کپڑے داخل ہو کر مختلف الالوان ہو جاتے تھے۔ "فَاَیْنَ الْمُمَثَّلُ مِنَ الْمُمَثَّلِ لَہٗ"۔

جواب: بعض شراح نے تسلیم کیا ہے کہ اس مضمون میں تعقید ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے وہ رنگ کا مٹکا مراد نہیں۔ بلکہ خمِ معنوی مراد ہے جس کا اثر اس معجزے کے مٹکے سے خلاف ہے۔ مجازًا اور تشبیہًا اس کو خم کہہ دیا۔ بطور "تَسْمِیَۃُ الشَّیْءِ بِاسْمِ ضِدِّہٖ"۔

مطلب میرا یہ ہے کہ یہاں پر عیسیٰ علیہ السلام چونکہ ایک اللہ کی طرف بلاتا تھا اور ایک اللہ کی بات کی طرف بلاتا تھا۔ تو اس وجہ سے جتنے بھی لوگ تھے اگر اس کی طرف آ جائیں تو ایک ہو جائیں گے۔ اس میں کوئی مختلف والی بات نہیں تھی۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ سارے کے سارے اس میں آ کر ایک رنگ کے ہو جاتے تھے۔


4

وہ یک رنگی یوں نہ ہے کہ ہو ملال بلکہ مچھلی واسطے ہو آبِ زلال

وہ یک رنگی (ایسی) نہیں جس سے جی بھر جائے بلکہ (اس کی) مثال مچھلی اور آبِ زلال کی سی ہے۔

یعنی مچھلی جیسے پانی میں خوش ہوتا ہے اور پانی سے باہر تکلیف میں ہوتا ہے، اس طرح یہ جو یک رنگی ہے اس سے جی نہیں بھرتا، بلکہ اس میں تو خوشی ہوتی ہے۔

انسان عمومًا بمضمونِ "کُلُّ جَدِیْدٍ لَذِیْذٌ" تنوعِ احوال اور تجددِ اطوار کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے ایک حالت سے اس کا دل سیر ہو جاتا ہے۔ جیسے بنی اسرائیل من و سلوٰی کھاتے کھاتے تنگ آ گئے تھے اور ایک مفت ہاتھ آنے والی آسمانی نعمت پر پیاز اور ککڑی وغیرہ ادنیٰ چیزوں کو ترجیح دینے لگے۔ مولانا فرماتے ہیں یہ یک رنگی ایسی چیز نہ تھی جس سے دل بھر جائیں۔ بلکہ اس کی مثال پانی کی سی ہے جس سے مچھلی کبھی سیر نہیں ہوتی۔

واقعتاً، یہ مثال بڑی عجیب ہے کہ مچھلی جو ہے واقعی مسلسل پانی میں رہتی ہے۔

اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ایک شخص تھے، وہ ایک ایسے صاحب سے ملے جو ساری عمر پانی میں رہے تھے، یعنی کام اس طرح کرتے تھے، پانی میں رہے تھے، ملاح تھے۔ تو اس خشکی پہ رہنے والے نے اس سے کہا کہ آپ کا والد کس چیز سے مرا تھا؟ انہوں نے کہا پانی میں۔ اس نے کہا آپ کا دادا؟ کہتا پانی میں۔ آپ کا پردادا؟ اس نے کہا پانی میں۔ سکڑ دادا؟ کہتے ہیں پانی میں۔ تو کہتا ہے پھر بھی آپ پانی میں کام کرتے ہو؟ تو اس نے کہا آپ کا باپ کہاں مرا تھا؟ اس نے کہا خشکی پہ۔ انہوں نے کہا آپ کا دادا کہاں؟ کہتے ہیں خشکی پہ۔ آپ کا پردادا؟ خشکی پہ۔ آپ کا سکڑ دادا؟ خشکی پہ۔ تو پھر آپ خشکی پہ سے کیوں نہیں بھاگتے ہو؟

مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہوتی ہے کہ جس چیز کے ساتھ ہماری تمام چیزیں وابستہ ہو جائیں، تو پھر وہ ایک بھی ہو اس سے جی سیر نہیں ہوتا۔ آپ مجھے بتائیں روٹی سے کسی کا جی بھرتا ہے؟ بلکہ میں کہتا ہوں کہ باقی چیزیں ساری کھا لیں، روٹی نہ کھائے تو کہتے ہیں جی کھانا نہیں کھایا۔ حالانکہ روٹی روز کھاتے ہیں، پانی بھی روز پیتے ہیں۔ تو اس سے کسی کا جی تو نہیں بھرتا۔


5

گرچہ خشکی میں ہزاروں رنگ ہیں مچھلیاں ساتھ ان کے رو بہ جنگ ہیں


کہتے ہیں خشکی میں ہزاروں رنگ ہیں، لیکن مچھلیاں اس کی طرف نہیں آ سکتیں۔ مچھلی کے لیے کُلُّ جَدِيدٍ لَذِيذٌ والی مثال اس پہ نہیں ہو سکتی۔

اگرچہ خشکی میں (کہیں مٹی کہیں ریت کہیں میدان کہیں پہاڑ اور ان کے) ہزاروں دل کش رنگ ہیں (بخلاف اس کے پانی یک رنگ و یک ذات چیز ہے مگر) مچھلیوں کو خشکی کے ساتھ بڑی مخالفت ہے (اور ان کو پانی مرغوب ہے)۔

مچھلی پانی کی عاشق ہے اور عاشق اپنے عشق سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ یہ مثال عاشقانِ الٰہی پر چسپاں ہوتی ہے جن کو دیباچۂ مثنوی میں بھی ماہی سے تشبیہ دی گئی تھی۔

اور ذاتِ حق سمندر ہے جو سب پر محیط ہے۔ جس طرح مچھلی پانی سے سیر نہیں ہوتی اسی طرح عاشقانِ الٰہی عشق سے بس نہیں کرتے۔


6

مچھلی دریا کیا؟ اور کیا ان کی مثال

مچھلی اور دریا کی کیا بات کر رہے ہو، خود اپنے آپ سے کہہ رہا ہے۔ ان کی کیا مثالیں لیے ہوئے ہو؟

کہ مثل ہو یہ خدائے ذوالجلال

مطلب کہ اس کی طرح مثال بن جائے، یعنی

کون ہوتی ہے مچھلی اور کیا چیز ہے دریا؟ جس کے ساتھ (وحدت کی) مثال میں خدائے عزّوجل کو مشابہت ہو۔

جوابِ اعتراض: اہلِ تصوّف خداوندِ جلّ و علا کی ذات کو کبھی آفتاب سے اور کبھی سمندر سے تشبیہ دیتے ہیں، اور بعض لوگ جو اس کوچہ سے نا آشنا ہیں اس قسم کی تشبیہات کو خلافِ عقائدِ اسلامیہ سمجھتے ہیں، اس کی تحقیق یہ ہے کہ یہ تشبیہ من کل الوجوہ نہیں ہوتی بلکہ خاص امور میں ہوتی ہے۔ چنانچہ اس مقام میں ذاتِ حق کو دریا کے ساتھ بلحاظِ وحدت کے تشبیہ دی اور گو ذاتِ خداوندی کی وحدت حقیقی ہے اور دریا کی وحدت اضافی۔ تاہم تمثیل کے لیے صرف مناسبت کافی ہے اور تمثیل کا جواز قرآن مجید سے ثابت ہے۔ ﴿وَ لِلہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی﴾

میرے خیال میں یہ تشریح کرنے والے بھی ذرا تھوڑا سا آگے پیچھے ہو گئے۔ اس کی اصل بات جو مجھے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خود کہتے ہیں کہ میں کیا فضول مثالیں دے رہا ہوں؟ کہاں مچھلی، کہاں دریا، کہاں اللہ۔ یہ تو صرف سمجھانے کے لیے میں کہہ رہا ہوں، ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، حضرت خود یہ چیز سمجھانا چاہتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ہمیں میرے خیال میں اس تفصیل کی ضرورت نہیں ہے، وہ جو مطلب شارح نے دی ہے وہ علمی طور پر کسی اور چیز کی طرف چلا گیا، مطلب وہ شاید اس کو اس کو اعتراض سمجھا۔ اس کی وجہ میں یہ بتاؤں کہ میں نے حضرت کے اور اشعار بھی اس معنی میں دیکھے تھے، اور اس سے مراد یہی لیا گیا تھا۔ کہ حضرت فرماتے ہیں: "خاک بر فرق من و تمثیل من" میرا مطلب کچھ ہے، وہ کہتے ہیں میری مثالوں کے اوپر خاک ہو میں کیا باتیں کر رہا ہوں۔ تو حضرت خود اپنی مثالوں پہ خاک ڈال رہے ہیں، کہتے ہیں میں کیا مثالیں دے رہا ہوں، وہ تو تمام مثالوں سے پاک ہے۔ یہ مسئلہ ہے۔


7

لاکھوں بحر و مچھلیاں ہوں سر بسجود

دیکھو نا پھر آخر اسی طرف آ گیا۔


7

لاکھوں بحر و مچھلیاں ہوں سر بسجود سامنے ان کے آئے جب دریائے جُود

یعنی اللہ کے سامنے ان چیزوں کی کیا حیثیت ہے؟ یعنی

موجودات میں سے لاکھوں دریا اور مچھلیاں اس دریائے کرم (یعنی خداوند تعالیٰ) کے آگے سر بسجود ہیں۔

خداوند جل و علا کے لیے دریا کی تمثیل کیا حقیقت رکھتی ہے۔ وہ خالق اور یہ مخلوق، اور مخلوق خالق کی محتاج ہے۔ ذیل میں چند نظائر بیان فرماتے ہیں جن سے ثابت ہو گا کہ تمام مخلوق خالق کی محتاج ہے اور مخلوق کی ہر ایک خوبی خالق کی خوبیوں کا پر تو ہے۔

8

صفت دریا کی، جو عطا کی ہے

یعنی جو عطا کرتا ہے صفت دریا کی، مطلب دریا سے مچھلیاں اور تمام چیزیں برآمد ہوتی ہیں نا تو جو عطا کی ہے۔

در حقیقت یہ صفت اللہ کی ہے

اللہ تعالیٰ دینے والے ہیں۔ یعنی دریا نہیں دے سکتا۔ یعنی

اس کی بخشش کے کئی مینہ (دریا پر) برسے یہاں تک کہ ان (بارشوں) سے وہ دریا موتی بکھیرنے لگا۔

دریا کو در افشانی کی صفت جب حاصل ہوئی کہ اس پر عطائے الٰہی کی بارش ہوئی۔ پس دریا کی صفتِ عطا اللہ تعالیٰ کی صفتِ عطا کا فیض ہے۔

یعنی اصل بات یہ ہے کہ دریا اپنی طرف سے کچھ نہیں دے سکتا۔ اگر دریا پر یہ پانی نہ برستا اللہ تعالیٰ کے فضل سے، تو دریا کیا کرتا؟ دریا تو خشک کا خشک رہتا۔ یہ بات ہے۔



9

چند خورشیدِ کرم جب طلوع ہوئے

دیکھو نا ساری مثالیں آ گئیں۔

9

چند خورشیدِ کرم جب طلوع ہوئے تو بادل اور دریا پھر فیض رو ہوئے

یعنی جس وقت اس کی بخشش کے کئی سورج جب طلوع ہوئے اس کے اوپر تو سورج کی تپش کی وجہ سے پانی بخارات بن گیا سمندر کا۔ سمندر کا پانی بخارات ہو گیا، تو بادل بن گئے۔ بادل بن گئے تو بادل چلا مختلف سمتوں میں۔ تو جہاں برسنے کا حکم ہوا، وہاں برسا، تو دریا میں بھی آ گیا وہ سارا پانی، ادھر ادھر کے جتنا بھی تھا، وہ دریا میں اکٹھا ہو گیا۔ تو گویا کہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں، سورج کو جس کام پہ لگایا تھا، اس نے جب وہ کام کیا، ہوا کو جس کام پہ لگایا تھا، اس نے جب وہ کام کیا، اور پھر ماشاءاللہ چشموں کے ذمے جو کام تھا، وہ جب اس پہ لگا دیا، اس طرح ہوتے ہوتے وہ دریا بن گیا۔ تو اصل میں تو دریا کی جو عطا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہی ہے۔

آفتاب کی حرارت سے پانی بخار بن کر صعود کرتا ہے اور وہ بخارات اوپر جا کر بادل بن جاتے ہیں اور پھر بادل برستے ہیں اور بارشوں سے دریا بنتے ہیں۔ بادلوں اور دریاؤں سے زمین کو جو فیض پہنچتا ہے عیاں ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا سلسلہ فیضِ آفتاب کی تابش سے بندھا ہوا ہے۔ نہیں نہیں در حقیقت خداوند تعالیٰ کے آفتابِ کرم کی تابش کا فیض ہے۔ اسی کی بدولت آسمانی آفتاب نے اپنا عمل کیا اور اسی سے ابر نے جود اور دریا نے فیض سیکھا۔


10

اُس خورشیدِ کرم کی فیض رسانی ہے اِس خورشید کی فلک پر جولانی ہے

یعنی جو خورشیدِ کرم ہے، اس کی بخشش سے کئی سورج درخشاں ہوتے ہیں، تو اس پر جو جولانی ہے آسمان کے اوپر، وہ اصل میں اسی کی طرف سے ہی ہے۔


11

ما و طین پر پرتوِ ذاتش پڑی تب زمین دانہ کو قبول کر سکی

ما (پانی) اور طین (مٹی) پر پرتوِ ذاتش، یعنی اس کی ذات کی پرتو پڑ گئی۔ تب زمین میں استعداد پیدا ہو گئی کہ وہ دانہ قبول کر لے۔

خلقِ اشیاء تو ذاتِ خداوند کا فعل ہے۔ پھر زمین جو دانہ کو قبول کر کے پودے اور درخت اُگاتی ہے چنانچہ لوگ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ پیداوار زمین نے اُگائی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ذاتِ خدا کا اس پر پرتَو پڑ گیا ہے۔ اس لیے اُگانے کی صفت اس پر صادق آنے لگی۔ "وَ لَوْ مَجَازًا"۔

یعنی مجازاً ہے لیکن بہرحال آیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔


12

تب زمین پھر بن گئی امانت دار پائے اس سے جو کہ بوئے کاشتکار

مطلب یہ ہے کہ زمین پھر امانت دار بن گئی، اس نے تخم کو اپنے ساتھ رکھ لیا، اور پانی اس کے ساتھ مل کر ماشاءاللہ اس سے فصل پھوٹ پڑی، اور اس کو پھر بعد میں کاشتکار اس کو استعمال کرنے لگا۔ یعنی

زمین اس قدر امانت دار ہے کہ اس میں جو کچھ بویا جائے۔ اس میں ہرگز تفاوت نہیں آتا۔ یہ امانت داری اس نے کہاں سے سیکھی؟ اس کا جواب اگلا شعر ہے:

13

یہ امانت بھی عنایت اس کی ہے وہ بھی جو کہ دھوپ حرارت کی ہے

مطلب یہ ہے کہ یہ امانت جو ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ نے اسے عنایت کیا ہے۔ اور جو دھوپ میں حرارت ہے، وہ بھی ظاہر ہے اسی کی وجہ سے آیا ہے۔ یعنی

اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت عدل بھی ہے جس کے لیے امانت لازم ہے کیونکہ عادل کے لیے ضروری ہے کہ وہ حق دار کو اس کا حق پہنچائے اور یہی امانت کا معنٰی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے آفتابِ عدل نے زمین پر اپنا پرتو ڈالا تو وہ امانت کی صفت سے موصوف ہو گئی۔


14

حکم پائے نہ تو پھر بہار بھی

ہاں، اگر اللہ کی طرف سے حکم نہ ہو، تو پھر بہار بھی

مخفی اشیاء کو نکال سکتے نہیں

فصل یا موسم گویا اپنے عہد کا حاکم ہوتا ہے جو خاص خاص قسم کے درختوں اور پودوں، اناجوں، پھلوں اور پھولوں پر تصرف کرتا ہے اور اس کے تصرف کے ماتحت درخت اور پودے زمین سے سر نکالتے ہیں، پھل پھول ٹہنیوں سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر اس کا حکم جب نافذ ہوتا ہے کہ موسم خود احکم الحاکمین کی درگاہ سے حکم پاتا ہے۔ پھر اس کے حکم کے مطابق عمل کرتی ہے۔ لہٰذا سبزہ زار و چمنستان کی تمام سرسبزی و رونق خداوند تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے۔



15

پھول و پھل تب خوب اگائے یہ جماد بھیج دے اپنا پیغامات اس کو جب جواد

مطلب یہ جو پھول و پھل ہے، یہ جو زمین ہے جو جماد ہے، اس سے وہ خوب اگیں جس وقت جواد یعنی دینے والا جو ہے سخی، وہ اس کو پیغام بھیج دے۔

(اور حق تعالیٰ) وہ بڑا کریم (ہے) جس نے ٹھوس زمین کو یہ (پھول پھل اگانے کے) پیغامات (بھیجے)

پیغامات کیا ہے وہ بتاتا ہوں میرے خیال میں یہاں اس کا ذکر نہیں ہوا۔ اصل میں ہمارا عقیدہ ہے، یہ ہمارے عقائد کی بحث ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کا ہر چیز کو ہر وقت حکم آتا رہتا ہے۔ Instantly... یہ کرو، یہ کرو، یہ کرو، یہ کرو۔ تو اس وجہ سے جو چیزیں چل رہی ہیں وہ مسلسل ایک جیسے روشنی مسلسل آ رہی ہے سورج سے، فوٹانز (Photons) آ رہے ہیں۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات آ رہے ہیں۔ ان احکامات کے مطابق کام ہو رہا ہے۔ لہٰذا اگر وہ پیغامات آنا بند ہو جائے تو کام نہ ہو... مثال کے طور پر آگ کا کام ہے جلانا، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ۔ ایک جگہ کہتے ہیں نہ جلاؤ۔ اس وقت نہیں جلا سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیز جو ہے نا احکامات مسلسل Continuously آ رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح نہیں جیسے الفاظ، الفاظ کی صورت میں نہیں۔ وہ ایک Communication کا اپنا سسٹم ہے، اللہ تعالیٰ کے احکاماتِ تکوینی، وہ جو ہے نا وہ چل رہا ہوتا ہے مسلسل۔ تو اگر کوئی اس کا حکم کا تبدیلی آ جائے تو پھر وہ چیز وہ نہیں ہوتی۔

اور یہ بات کتاب و سنت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا﴾ (بنی اسرائیل: 44) "اور جتنی چیزیں ہیں سب اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہی ہیں، مگر تم لوگ ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے"۔


16

لطف سے اس کے جماد میں آئے جان زمہریر اس کے قہر کا ہو پنہاں

وہی ٹھوس (زمین اس کے) لطف سے مثل جان (دار) بن جاتی ہے (اور) کڑکڑاتا جاڑا جو اس کے قہر سے ہے ناپید ہو جاتا ہے۔

فصلِ بہار اللہ تعالیٰ کی صفتِ لطف کی مظہر ہے جب کہ زمین میں قوتِ نامیہ کی ایک جان سی پڑ جاتی ہے اور اس کے اندر سے بے انتہا نباتی مخلوق پیدا ہو کر سطحِ ارض کو تختۂ گلزار بنا دیتی ہے۔ اور موسمِ سرما جس کا دوسرا نام خزاں ہے اس کی صفتِ قہر کا مظہر ہے، جس کے اثر سے سارے شاداب چمن اور ہرے بھرے گلزار چند روز میں خاک میں مل جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اس خداوندِ لطیف کا یہ فیضِ لطف ہے کہ زمین فرماں پذیری و امانت داری میں ایک ذی روح کی طرح عمل کرنے لگی اور موسمِ خزاں جو اس قہار کی صفتِ قہر کا مظہر تھی روپوش ہو گئی۔

مطلب یہ ہے کہ خزاں کا معاملہ اور تھا۔ اس میں اللہ کا حکم اور تھا۔ اور جیسے ہی بہار آ گیا، تو اللہ تعالیٰ کا حکم بدل گیا، اور وہ جو خزاں والا حکم تھا وہ روپوش ہو گیا۔


17

وہ جماد اس کے فضل سے ہو لطیف کُلُّ شَیْ ءٍ مِّنْ ظَرِیْفٍ ھُوَ ظَرِیْف

وہ ٹھوس زمین اس کے فضل سے لطیف ہو گئی۔ جو چیز اچھی شے سے ہو وہ اچھی ہوتی ہے۔

18

فضل اس کا کردے ہر جماد خبیر عاقلوں کو کردے قہر اس کا ضریر

اس کا (دریائے) فضل (جب جوش میں آتا ہے تو) ہر بے حس اور ٹھوس چیز کو باخبر بنا دیتا ہے اس کی برقِ قہر (جب گرتی ہے) تو اچھے اچھے عقلمندوں کی چشمِ خرد کو اندھا کر دیتی ہے۔

یعنی صفات اللہ پاک نے عطا کی ہیں۔ جس کو بھی جو صفات عطا کیے ہیں۔ لہٰذا اللہ پاک جب صفت اس کو عطا کر دیتے ہیں حس والا، تو تمام حسیں کام کرنے لگتی ہیں۔ اور جس وقت حس کو اٹھانے کا حکم دیتا ہے، تو سارے حسیں بیکار ہو جاتی ہیں۔


19

جان و دل میں طاقتِ ایں جوش نہیں سن سکے اس کو تو ایسا گوش نہیں

جان و دل کو اس جوش (کے برداشت کرنے) کی طاقت نہیں (جو اس کی قدرت کو دیکھ کر اٹھتا ہے) کس سے بیان کروں۔ دنیا بھر میں کوئی نہیں (جو اس کو سُنے)۔

یعنی حضرت فرماتے ہیں کہ جو جوش میرے اندر آ رہا ہے، وہ میں کیسے بیان کروں؟ کیونکہ کوئی سننے والا اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو میں کس طرح بیان کروں؟

قدرت کے آثار بیان کرتے ہوئے دل میں جوش پیدا ہوا۔ جس سے تابِ ضبط نہ رہی۔

اس لیے چاہا کہ مزید اسرارِ الٰہیہ بیان کرتے چلے جائیں۔ مگر پھر یہ دیکھ کر کہ کوئی گوش شنوا اور کوئی قلب قابل نہیں ہے۔ خاموشی مناسب سمجھی۔

کیونکہ کوئی اس کا وہ نہیں ہے۔


20

سننے کا قابل بنا چشم پھر سخت پتھر جو تھا وہ بنا یشم پھر

اگر کہیں (سننے کے قابل) کان تھا۔ تو وہ اس کی بدولت (فرطِ قابلیت) سے آنکھ بن گیا۔ جہاں کہیں پتھر (کا سا سخت دل) تھا۔ وہ اس (کے فیضان سے سنگِ) یشم (کی طرح قیمتی اور نورانی) بن گیا۔

جب طلب کا جوش اور قبول کی صلاحیت ہو تو سماع سے مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے۔

سبحان اللہ۔ کیا عجیب بات کی ہے۔ اس پر ذرا آپ تھوڑا سا غور کریں۔

تو سماع سے، مطلب یہ ہے کہ کل معائنہ ہو جاتا ہے۔ ویسے تو فرماتے ہیں کہ ویسے سُنا ہوا کل معائنہ نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت یہاں فرماتے ہیں کہ جب طلب کا جوش اور قبولیت کی صلاحیت پیدا ہو جائے، تو جو سماع ہے وہ بھی کل معائنہ ہو جاتا ہے۔ مطلب اس طرح مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے۔ غرض حصولِ کمال کے لیے جوہرِ قابلیت کا ہونا ضروری ہے۔ اب بات اس کی طرف چلی گئی ہے۔

21

کیمیا کر دے کیا ہے کیمیا معجزہ بخشے وہ کیا ہے سیمیا

(وہ ذاتِ حق) موجدِ کیمیا ہے، یعنی تبدیلیٔ صفات والا ہے، کیمیا سے مراد یہی ہے۔ کیمیا کی تو کیا حقیقت ہے۔ (وہ) معجزہ بخشنے والا ہے۔ شعبدہ و جادو کیا چیز ہے اس کے مقابلے میں؟

مطلب: اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کان کا آنکھ بن جانا یعنی علم الیقین سے حق الیقین حاصل ہو جانا اور پتھر کا یشم کی صورت اختیار کر لینا کیمیا کی ایک نظیر ہے جس سے قلعی کی چاندی اور تانبے کا سونا بن جاتا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کیمیا کی کیا ہستی ہے کہ خود مؤثر ہو۔ خداوند جل شانہٗ ہی نے کیمیا کو ایجاد فرمایا ہے۔ جادو کیا حقیقت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ معجزہ عطا فرماتا ہے جو جادو سے کہیں ارفع و اعلیٰ ہے۔

22

حمد میرا کرنا ہے تو ترکِ ثنا اپنی ہستی کی نشاں ہستی خطا

میرا یہ (خدا کی) حمد کرنا ترکِ حمد (کا مترادف ہے)

یعنی میں نہیں کر پا رہا۔ جیسے وہ کہتے ہیں میرا شکر ناشکری ہے۔ میری جو حمد کرنا ہے، ترکِ حمد ہے۔ کیونکہ یہ (اپنی) ہستی (کے احساس) کی نشانی (ہے) کہ میں خود اب سوچ رہا ہوں کہ یہ حمد ہے۔ کہ یہ اپنی ہستی کے احساس کی نشانی ہے، اور ہستی (کا احساس) خطا ہے۔ کہ میں بھی کوئی چیز ہوں۔

چونکہ مادح مدح کرتے وقت اپنے آپ کو ممدوح سے الگ تصور کر کے اس کی صفات کا ذکر کرتا ہے۔ اس لیے اس سے مادح اور ممدوح کی مغایرت لازم آتی ہے۔ لہٰذا فرماتے ہیں کہ میرا مدح کرنا مُوہمِ مغایرت ہے اور ذاتِ حق سے مغایرت گناہ ہے۔

مطلب ہے کہ میں کیسے اس سے الگ ہو سکتا ہوں۔


23

سامنے اس کے یہ نیست و نابود ہے کور ہے حق سے اور بے بہبود ہے

اس کی ہستی کے آگے نیست و نابود ہو جانا چاہیے۔ اس کے آگے (اپنی) ہستی کیا ہے؟ (مشاہدۂ حق سے) اندھی اور (غمِ دنیا سے) سیہ پوش ہے۔

اپنی ہستی کا احساس ہی حجابِ مشاہدہ ہے جس نے آنکھوں کو بے بصر بنا رکھا ہے اس حجاب کو اٹھا دینا چاہیے جو عین بصیرت ہے۔

یعنی جو رکاوٹ ہے اس کو دور کرو۔


24

دیکھنی گر خورشیدِ حق ہوتی کہاں آفتابِ حق کر دے مشاہد فنا

مطلب جو آفتابِ حق ہے، وہ جو مشاہد ہے، جو مشاہدہ کر رہا ہے، اس کا فنا ہو جائے گا۔ مطلب سورج کو دیکھنے والا کیا مطلب؟

اگر (یہ ہستی) کور نہ ہوتی تو خورشید (حق) کی تابش (جمال) کو (آنکھ سے) محسوس کر کے پگھل جاتی (جب) پگھلی نہیں تو سمجھنا چاہیے کہ اس کی آنکھیں نہیں ہیں۔

یعنی اس میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ صحیح دیکھ سکے۔ یہ ذرا تھوڑا مشکل مضمون ہے۔

مضمون یہ ہے کہ دیکھو، جیسے اللہ پاک کی شان ہے، اس کی شان کے مطابق اگر ہمیں اللہ پاک کی شان نظر آ جائے تو ہم نہ رہیں۔ جو ہم ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مشاہدہ نہیں ہے۔ مطلب، ہم جب موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چیز نہیں ہوئی۔

25

گر نہ اوڑھتی ماتم دنیا کا پوش مالِ دنیا سے اڑے کیوں اس کا ہوش

اگر وہ (ہستی غمِ دنیا کے) ماتم کی وجہ سے سیہ پوش نہ ہوتی تو اس جانب (دنیا میں) برف کی طرح کیوں جم جاتی۔

مطلب یہ ہماری جو ہستی ہے۔ یعنی گویا کہ دنیا یعنی یہ جو بیٹھا ہے کائنات کے ذرے ذرے میں اس کا دل الجھ رہا ہے۔ اور مالِ دنیا کے فقدان کا اندیشہ اس کے دل کو کھا رہا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ ہماری جو، اپنے آپ کو، یعنی درمیان میں جو ہم ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اور چیزوں میں مصروف ہیں۔ وہ مشاہدے سے حجاب بن جاتے ہیں۔ ہماری نظر دنیا کی چیزوں میں ہے۔ ان کے ساتھ وابستہ ہے۔ لہٰذا ہم لوگ وہ مشاہدہ نہیں کر سکتے۔

تو یہ حکایت نمبر 24 ختم ہو گیا۔


دفتر اول حکایت نمبر 25

اس مکر و فریب میں وزیر کے خسارہ اٹھانے کا بیان

1

تھا وزیر بھی غافل بادشاہ کی طرح جو خدا سے کرتا تھا مقابلہ


یعنی یہ جو وزیر جو تھا، وہ بادشاہ کی طرح نادان تھا، کیونکہ خدا تعالیٰ سے پنجہ لڑا رہا تھا، جس کا بجائے خود کوئی چارہ نہیں۔ یعنی پاگل جو تھا۔

2

ناگزیر ہے جملہ کا حَیِّ قدیر لَا یَزَال و لَمْ یَزَل فرد و بصیر

جو سب کا محتاج الیہ ہے۔ یعنی سب کی احتیاجات اس سے وابستہ ہیں۔ زندہ ہے بڑی قدرت والا ہے، ہمیشہ رہے گا۔ ہمیشہ سے ہے۔ ایک اکیلا ہے اور بڑا بینا ہے، جس سے پنجہ لڑانا، ایک عجیب عجیب بات ہے کہ کیسے وہ کوئی لڑا سکتا ہے۔

3

اس خدا قادر سے جو صدہا عالم کر دے موجود دم بھر میں وہ از عدم

یعنی وہ خدائے قادر جو ہے، سینکڑوں عالموں کو آن کی آن میں عدم سے وجود میں لے آئے۔ اس کے لیے اس چیز کی کیا حیثیت ہے؟

4

معرفت کردے تجھے عطا اگر سینکڑوں عالم دیکھے پھر تیری نظر

یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے معرفت کی آنکھ دے دے، تو تو سینکڑوں عالم کو دیکھے گا کہ دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکیں گے۔ تو فرماتے ہیں کہ

اہلِ معرفت کے دل پر جب عالمِ غیب سے، جس کو عالمِ امر کہتے ہیں، علوم و اسرار وارد ہوتے ہیں تو ان کے مکشوفاتِ باطنیہ کا سلسلہ اس قدر وسیع ہوتا جاتا ہے کہ اس کے اندر سینکڑوں عالم سما جائیں اور اس کے سامنے یہ عالم ظاہر ہے جس کا دوسرا نام عالمِ خلق ہے، نہایت تنگ و محدود نظر آتا ہے۔ سب مخلوقات دو قسم کی ہے ایک وہ جو مادہ اور مقدار کے ساتھ ہے اور تمام اجسام اور اجرامِ فلک اس میں داخل ہیں اس کو عالمِ خلق کہتے ہیں دوسرے وہ جو مادہ اور مقدار سے پاک ہے اور وہ ارواح مجردہ پر مشتمل ہے۔ اس کا نام عالمِ امر ہے اور روح کے علاوہ دیگر لطائف یعنی قلب و سر و خفی و اخفی بھی اس میں داخل ہیں۔ اس لیے صوفیہ کہتے ہیں کہ لطائفِ فوق العرش اور عالمِ مثال کا درجہ ان دونوں عالموں یعنی عالمِ خلق اور عالمِ امر کے درمیان ہے کیونکہ وہ عالم مقداری و غیر مادی ہے۔ غیر مادی ہونے میں عالمِ امر سے ملتا جلتا ہے عالمِ امر چونکہ غیر مادی و غیر مقداری ہے اور محدود ہونا مادہ و مقدار کے خواص سے ہے۔ اس لیے عالمِ امر غیر محدود ہے اور اس کے سامنے عالمِ خلق محدود ہے۔

5

یہ جہاں تیری نظر میں ہے بڑا پیشِ قدرت یہ نہیں ہے ایک ذرہ

یہ جس کو تو بہت بڑا عالم سمجھتا ہے، اصل میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک ذرہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ کیونکہ اس کے اندر بہت سینکڑوں عالم اور ہیں جو تو نہیں جانتا۔ حالانکہ جو ظاہر بین ہوتا ہے، وہ اس دنیا کو بڑی چیز سمجھتا ہے۔



6

قید خانہ جانوں کا ہے یہ جہاں دوڑ اس جانب ہے کہ صحرائے شما

یعنی یہ جو جہان ہے، یہ جانوں کے لیے قید ہے۔ مطلب جو جاندار ہے، اس کے لیے قید ہے اصل میں۔ تو لہٰذا اس کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ جو اصل گھر تیرا ہے، اس کی طرف دوڑو۔ یہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے کتاب لکھی ہے اس پر، "شوقِ وطن"۔ تو شوقِ وطن میں، مطلب ہے کہ جو اصل وطن ہے ہمارا، اللہ تعالیٰ کے... اور مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جب فوت ہو رہے تھے، تو صبح کے وقت، انہوں نے اپنا بستر خود طے کیا، تو پوچھا حضرت کیا؟ فرمایا وطن جانا ہے۔ وطن جانا ہے۔ تو لوگ سمجھے کہ شاید پتہ نہیں سفر کا ارادہ ہے کہ کیا ہے۔ تو بس فوت ہوگئے۔ وطن جانا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارہ وطن، وطن، وطن تو اصل ہے۔

بلکہ اس کی مثال دیتا ہوں، حدیث شریف میں تو اس کی بڑی مثالیں ہیں جیسے ایک مثال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا اور اس دنیا کے ساتھ کیا لینا دینا، میری مثال اس سوار کی ہے جو کہ درخت کے سائے کے نیچے تھوڑا سا ٹھہرے اور پھر اس کے بعد چل دے۔

اس طرح مثال کے طور پر ہم VIP Lounge میں بیٹھے ہیں مثلاً ایئرپورٹ کے، لیکن کیا ایئرپورٹ کی چیزوں کے ساتھ ہمیں کوئی وابستگی ہوتی ہے؟ کہ اس میں یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے؟ کیونکہ ہم نے صرف کچھ دیر کے لیے اس میں ٹھہرنا ہے، بعد میں تو اس سے جانا ہے۔ اگر اپنا فیصلہ ہم کرتے ہیں کسی چیز کے لیے کہ بڑھائیں یا اچھا کریں، تو اپنے گھر کے لیے ہوتا ہے، گھر کے لیے سوچتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے ہمارا جو گھر ہے اصل میں وہ ہے۔ یہاں کی جو چیزیں ہیں، وہ وہاں کے لیے ذریعہ بن سکتی ہیں، جیسے میں کسی ملک چلا جاؤں تو اپنا گھر تو ادھر نہیں ہوگا، تو میں اگر کوئی چیز خریدوں گا تو اپنے گھر کے لیے خریدوں گا۔ تو یہاں بھی مطلب یہ ہے کہ میں نے اگر کچھ کرنا ہے تو اس گھر کے لیے کرنا ہے۔ یہ بنیادی بات ہے۔

اس شعر میں اس حدیث کی طرف تلمیح ہے جو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ "قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنُ وَ سَنَتُہٗ وَ اِذَا فَارَقَ الدُّنْیَا فَارَقَ السِّجْنَ وَ السَّنَۃَ" یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط ہے اور جب وہ دنیا سے رخصت ہو گیا تو گویا قید اور قحط سے نجات پا گیا۔“ (مشکوٰۃ)

اس جہان کی تنگی کے مقابلہ میں دوسرے جہان کو بلحاظ فراخی کے صحرا کہا ہے یا اس لحاظ سے کہ جس طرح ایک صحرائی جانور کے لیے پنجرا قید خانہ ہے اور صحرا اس کی راحت و آزادی کی جگہ ہے، اسی طرح روح کے لیے یہ جہان گویا پنجرا ہے اور وہ جہان صحرا۔ جس میں وہ بالفعل قیودِ جسمانی کی وجہ سے جا نہیں سکتی۔

آزادی، سبحان اللہ وہ تو نہیں ہے یہاں پر، یہ تو قید خانہ ہے نا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک کتے اور ایک بھیڑیے کی آپس میں دوستی ہوئی۔ تو بھیڑیا بیچارہ بھوک کی وجہ سے بہت کمزور ہو گیا تھا، کچھ خوراک اس کو نہیں مل رہی تھی۔ کتا تازہ موٹا تھا، تو اس نے کہا آپ کیسے تازہ موٹے ہیں؟ مطلب یہ کہ آپ ہمیں بھی کوئی طریقہ بتائیں تاکہ ہم بھی اس طرح ہو جائیں۔ اس نے کہا، ہاں، میرا مالک بہت اچھا ہے اور مجھے کھلاتا پلاتا ہے تو میں اس طرح ہوں۔ کہتے ہیں پھر آپ کو بھی ادھر لے جاؤں؟ تو اس نے کہا ٹھیک ہے پھر مجھے لے جاؤ اگر ایسا اچھا ہے تو پھر مجھے لے جاؤ ادھر اس کے پاس۔ کہتے ہیں جب جا رہے تھے تو راستے میں اس نے دیکھا اس کے گلے میں ایک پٹّہ ہے۔ اس نے کہا یہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں مالک میرا کبھی کبھی مجھے اس سے باندھ لیتا ہے نا۔ کہتے ہیں اچھا، تو آپ کو یہ مبارک ہو میں تو چلا، واپس۔ تو مطلب ہے کہ اپنی آزادی کو اس کے اوپر قربان نہیں کر سکتا تھا کہ یہ تو... تو یہاں دنیا میں ہمیں جو بھی مل جائے پٹہ تو موجود ہے۔

7

یہ جہاں محدود ، غیر محدود وہ جہاں نقش نگار اس کے کرے اس کو نہاں

اس کے جو نقش و نگار ہیں نا اس کو چھپا دیتا ہے، ورنہ اصل میں تو یہ جہاں کچھ بھی نہیں اس کے مقابلے میں۔ اور وہ کیا چیز ہے؟ وہ ہے "كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ" وہ اصل میں وہی چیز ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو لیتے ہو اور بعد میں آنے والی چیز کو چھوڑتے ہو۔ بس ہماری یہی چیز خراب کرتی ہے ہمیں!



8

لاکھوں نیزے جو کہ تھے فرعون کے ایک عصا کے سامنے ڈھیر ہو گئے

یعنی جو فرعون کے نیزے تھے اور جادو کے، وہ سب کے سب موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے سامنے ڈھیر ہوگئے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان سب سے اوپر تھا۔


9

لاکھوں طب یونانیوں کے جو بھی تھے اک دمِ عیسیٰ کے سامنے ڈھیر ہوگئے

یعنی جتنے بھی طبیب تھے، ان کی جو طبابتیں تھیں، وہ عیسیٰ علیہ السلام کے دم کے مقابل، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا دم تو یہ تھا کہ اس میں زندہ ہو جاتا تھا مردہ۔ تو بیمار کا صحت مند ہونا اور بات ہے، اور مردے کا زندہ ہونا اور بات ہے۔ تو لہٰذا ان کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔

اللہ اکبر

10

لاکھوں دفتر جو کہ تھے اشعار کے ایک کلام اللہ کے سامنے عار تھے


یعنی عربوں کی جو شاعری کے میدان میں بہت کمال تھے ان کے، لیکن جس وقت قرآن آ گیا تو قرآن کے سامنے وہ کچھ بھی نہیں رہا۔ یعنی

سنت اللہ یہ ہے کہ جب کوئی پیغمبر لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا تو اس کے سامنے لوگوں کا سر خم کرانے کے لیے قدرتِ الٰہیہ نے اس کو معجزے کا نشان عطا کیا ہے۔ معجزہ سے مراد کوئی ایسا کام ہے جس کے مقابلے سے یا جس کی نظیر پیش کرنے سے بشری طاقت عاجز آ جائے اور انسانی هنرمندی اس کے آگے ناچیز ثابت ہو، اور ہر پیغمبر کو اس قسم کی انسانی هنرمندی کو شکست دینے کے لیے وہ معجزہ عطا کیا گیا ہے جس کا اس پیغمبر کے عہد میں عام چرچا تھا اور لوگوں کو اس سے دلچسپی تھی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس وقت پیغمبر بن کر آئے جب مصر میں سحر کے کرشمے عالم کو حیرت زدہ بنا رہے تھے اور اس زمانے کے فنونِ سحر کی یادگاریں آج تک مصر کے آثارِ قدیمہ میں ملتی ہیں۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور یدِ بیضا کے ایسے معجزے عطا ہوئے جن کے مقابلہ سے جادوگر عاجز آ گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت مبعوث ہوئے جب یونانی طب اوجِ ترقی پر تھی۔ اس لیے ان کو دم کے ذریعے سے مرتے مرتے بیماروں میں جان ڈال دینے اور جسم پر ہاتھ پھیر کر اندھوں اور جذاموں کو تندرست کر دینے کا معجزہ بخشا گیا۔ جس کے آگے طبیب سرنگوں ہو گئے۔ پیغمبرِ آخر الزمان علیہ الصلوٰۃ و السلام کے زمانے میں عرب کی فصاحت و بلاغت کے چرچے انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ اس لیے آپ کو قرآن مجید کا معجزہ ملا جس نے لبید اور کعب جیسے نامی زباں آورانِ عرب کو گرویدہ بنا لیا۔

مولانا اوپر کے تینوں شعروں میں تین پیغمبروں کے معجزات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے معجزات کے ذریعے بڑے بڑے مدعیانِ کمال کا سر کچلا ہے۔ وہ وزیر کیا چیز تھا جو خدا سے مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔

11

کوئی بھی شخص ہو اور کمینہ نہ ہو اس کے سامنے کیسے وہ فنا نہ ہو

اگر کوئی کوتاہ نظر نہ ہو، کمینہ نہ ہو، تو قادر، اللہ کے سامنے، اس کو اپنے آپ، اپنے آپ کو فنا کرنا ہوگا۔

12

کتنے مضبوط دل اکھیڑ ڈالے اس نے اور پرندے الٹے لٹکائے اس نے

اس نے بہتیرے پہاڑ کے سے (مضبوط و قوی) دلوں کو اکھیڑ دیا ہے۔ چالاک پرندے کو دو پاؤں سے (الٹا) لٹکا دیا ہے۔

مطلب: قدرتِ خداوندی سے ڈرنا چاہیے۔ بڑے بڑے راسخ الاعتقاد لوگ جن کو اپنے دل کی مضبوطی اور یقین کی پختگی کا دعوٰی ہو بدقسمتی سے اپنے اعتقاد کے مرکز سے ہٹ جاتے ہیں۔ جیسے بلعم بن باعور اور برصیصا کا حال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ "قُلُوْبُ بَنِیْۤ اٰدَمَ کُلَّھَا بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ کَقَلْبٍ وَّاحِدٍ یُّصَرِّفُہٗ کَیْفَ یَشَآءُ" (مشکوٰۃ) ”یعنی بنی آدم کے تمام دل اس طرح اللہ تعالیٰ کے قبضۂ اقتدار میں ہیں جس طرح ایک دل ہو وہ جدھر چاہتا ہے اس کو پھیر دیتا ہے۔“

جن لوگوں کو اپنے حسن اعمال اور قوت عملیہ پر بھروسہ ہے قدرتِ خداوندی کے آگے ان کا جو حشر ہوتا ہے پہلے مصرعہ میں اس کا بیان ہے۔ دوسرے مصرعہ میں ان فلسفیوں کی ناکامی کی طرف اشارہ ہے جو اپنی قوت کے بل پر اسرارِ الٰہیہ میں بحث کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ جس طرح طوطا نلکی کو پکڑ کر الٹا لٹک جاتا ہے یہ بے باک و بے ادب لوگ بھی اپنے قیاسِ باطل سے تمسک کر کے ضلالت میں لٹکتے رہ جاتے ہیں۔

13

فہم و خاطر تیز ہونا کچھ نہیں کچھ نہیں کوئی بدونِ عاجزی

مطلب یہ ہے کہ فہم و خاطر، یہ جو ہے نا، ٹھیک ہے، ایک کمال ہے، لیکن یہ اللہ کی قدرت کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ کیوں اللہ کے سامنے تو عاجزی ہی چلتی ہے۔

اس شعر میں اس حدیثِ قدسی کی طرف تلمیح ہے: "اَنَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ" (حلية الأولياء (4: 31) بسند موقوف) یعنی ”میں شکستہ دل لوگوں کا رفیق ہوں“۔

مقصودِ حدیث یہ ہے کہ علم و عمل ہر چند کہ فرض ہے مگر اس پر اعتماد و غرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ محض فضلِ الٰہی پر نظر رکھے اور اپنے عجز و قصور کا اعتراف لازم سمجھے۔

14

مال بنانے واسطے بہتیرے جو ہیں فلسفیوں کے پیچھے وہ الو بنے

مطلب وہ جو ہے نا وہ بیچارے، اس میں

اوپر فلسفیوں کی مذمت کی ہے اب ان کے معتقدوں کی برائی بیان کرتے ہیں کہ فلسفی لوگ چونکہ دنیوی حرص کی ترغیب دیتے ہیں اور صلحاء و انبیاء آخرت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ اس لیے دنیا کے طالب فلسفیوں کی اتباع اختیار کرتے ہیں۔ اور ریش گاؤ یعنی احمق بن کر ان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔

اس بیان میں تعریض ہے وزیرِ مکار اور نصاریٰ کے مالدار لوگوں کی طرف جو اس کے دام میں آ گئے تھے۔ نیچے کے شعروں میں مالِ دنیا کی مذمت ہے:

15

بیل ہے کوئی چیز؟ جس کی داڑھی تُو ہو مٹی ہے کچھ چیز؟ اس کی جھاڑی تُو ہو

بھلا بیل بھی کوئی چیز ہے؟ کہ تو اس کی داڑھی بنے۔ مٹی بھی کچھ حقیقت رکھتی ہے؟ کہ تو اس کی گھاس بنے۔

16

سونا چاندی کیوں ترا معشوق بنے کیا ہے دنیا؟ تُو اس کے پیچھے چلے

سونا چاندی کیا مال ہے؟ کہ تو اس کا دلدادہ ہو (اور عالمِ) صورت (یعنی دنیا) کی کیا حقیقت ہے؟ کہ تو اس پر اس قدر فریفتہ ہو۔

17

محل و باغ تیرا، تیرا زندان ہے ملک و مال ہے کیا؟ بلائے جان ہے

یہ تیرے محل اور باغ تیرا قید خانہ ہیں۔ تیرا ملک و مال تیرے لیے بلائے جان ہیں۔

مطلب: دوسرے مصرعہ میں اس آیت کا مضمون شامل ہے۔ ﴿اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ وَ اللهُ عِنْدَهٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴾ (التغابن: 15) یعنی ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد نرا جنجال ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا اجر ہے“۔

18

وہ جماعت جس کو مسخ کر دیا اس کی صورت کو ہی فسخ کر دیا

اس جماعت کو (یاد کرو) جسے خدا نے (اس کی بد اعمالی کی وجہ سے) مسخ کر دیا تھا اور ان کی (اصلی) صورت کی آیت مٹا دی۔

الخلاف: ایک شرح میں دوسرے مصرعہ کا ترجمہ یوں لکھا ہے کہ ”ان کے مسخ ہونے کی صورتِ حال قرآن مجید میں لکھ دی ہے“۔ گویا اس ترجمہ میں نسخ کو بمعنی کتابت لیا ہے جو درست معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ لفظِ آیت کا قرینہ نسخ بمعنی ازالہ پر دال ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں آیا ہے: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ﴾ (البقرۃ: 106) منتہی الارب میں لکھا ہے: "نَسَخَ الْکِتَابَ اِذَا کَتَبَہٗ وَ نَسْخُ الْاٰیَۃَ بِالْاٰیَۃِ اِزَالَۃُ حُکْمِھَا، فَالثَّانِیَةُ نَاسِخَۃٌ وَ الْاُوْلٰی مَنْسُوْخَۃٌ"۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گو نسخ کے معنٰی کتابت کے اور ازالۂ حکم کے دونوں صحیح ہیں۔ مگر شعر میں لفظِ آیت معنٰیِ ثانی کا مرجّح موجود ہے۔ علاوہ ازیں یہ ترجمہ ایک اور لحاظ سے بھی غلط ہے، یعنی جب یہ مان لیا جائے کہ مولانا یہ فرماتے ہیں کہ مسخ کے قصے قرآن مجید میں درج ہیں اور اگلے شعر میں ان قصص میں سے ایک مثال زہرہ کے قصے کی پیش کی ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زہرہ کا قصہ بھی قرآن مجید میں درج ہو، حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ صریحاً بیان ہونا تو درکنار قرآن شریف میں اس کا اشارہ تک نہیں۔ زہرہ کے قصہ مشہورہ کے متعلق تفسیرِ مظہری میں لکھا ہے۔ "لَا دَلَالَۃَ عَلَیْھَا فِی الْقُرْاٰنِ بِشَیْءٍ" ” قرآن مجید میں اس کے متعلق کچھ بھی وارد نہیں ہوا“۔

19

عورت اک بدکار روئے زرد ہوئی مسخ ہوئی یوں کہ وہ زہرہ ہوئی

جیسے ایک عورت بدکاری کی وجہ سے زرد ہو گئی تو خدا نے اس کو مسخ کر دیا اور زہرہ (ستارہ) بنا دیا۔

سوال: ہر چند کہ ہاروت و ماروت اور زہرہ کا یہ قصہ بعض احادیث میں مروی ہے مگر باتفاقِ محدثین وہ احادیث شاذ و ضعیف ہیں۔ تفسیر مظہری میں لکھا ہے: "ھٰذِہِ الْاَخْبَارُ لَمْ یُرْوَ مِنْھَا شَيءٌ صَحِیْحٌ وَ لَا سَقِیْمٌ عَنِ النَّبِیِّ "۔ یعنی زہرہ کے قصہ میں کوئی بات درست و نا درست آنحضرت ﷺ سے مروی نہیں ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے۔ "وَ ھٰذِهِ الْاَخْبَارُ مِنْ کُتُبِ الْیَھُوْدِ وَ افْتِرَائِھِمْ" یعنی یہ قصے یہود کی کتابوں میں سے ہیں اور ان کے بہتانات ہیں۔ پھر کیا وجہ کہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی فرضی و جعلی روایت کو داخلِ کتاب فرمایا ہے؟

جواب: شرح بحر العلوم میں لکھا ہے کہ بے شک محققین کے نزدیک یہ قصہ باطل ہے اور اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ زہرہ ستارہ قصۂ ہاروت و ماروت کے وقوع سے پہلے موجود تھا اور امرِ واقع صرف اس قدر ہے کہ ہاروت و ماروت تعلیمِ سحر کے لیے دنیا میں آئے تھے جس سے مقصود یہ تھا کہ نیک و بد لوگوں کی آزمائش ہو جائے، اور اس قدر ذکر قرآن مجید میں ہے۔ باقی قصہ جو کتبِ تواریخ میں مذکور ہے وہ سراسر باطل و افتراء ہے۔ لیکن چونکہ وہ عوام شعراء میں مشہور اور عام لٹریچر میں داخل تھا اس کے لیے مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے ایک غرضِ صحیح کے لیے اس قصے کو بطورِ تمثیل نہ کہ بغرضِ دلیل ذکر کیا ہے۔ جیسے کہ خطابیات میں مشہور، عام باتوں سے کام لیا جاتا ہے۔ اور اس کتاب کی عام روش ہے کہ اثباتِ مدّعا کے لیے اس میں حیوانات تک کے قصے بیان کئے گئے ہیں جو صریحًا باطل ہیں مگر ان کی غرض و غایت صحیح ہے یعنی بیانِ حقائق۔

جیسے کتے کی کہانی، گھوڑے کی کہانی، اس قسم کی کہانیاں بھی ہیں۔ تو اس سے مراد وہ قصہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے جو مضامین برآمد ہوتے ہیں وہ ہوتا ہے۔

20

مسخ ہے گر عورت کا گر زہرہ بننا شرم کر پھر تیرا یوں گارا بنن

دیکھو نا، اس سے مطلب کیسا صحیح لیتے ہیں۔

اے سرکش (جب) ایک عورت کو زہرہ (کی شکل میں کوکبِ درخشاں) بنا دینا مسخ ٹھہرا تو (تیری طرح) مٹی گارا بن جانا (اس سے بھی بد تر نہ ہوگا تو اور) کیا ہوگا؟

مطلب: انسان کو شرم دلاتے ہیں کہ زہرہ کو بطور سزا ستارہ بنایا گیا تم اپنے ہاتھوں خود مٹی بنے جاتے ہو۔ گویا تم ایک سزا یاب مجرم کی حالت سے بدتر حالت اختیار کر رہے ہو۔ بے شک ستارہ کی حقیقت انسان کی آفرینش سے افضل نہیں ہے۔ مگر انسان کی جسمانی کدورت کے مقابلہ میں اس کی نورانیت کو وجہِ فوقیت قرار دیا گیا۔

21

تیری روح پرواز سوئے عرش چاہے سوئے آب و گل تو رو بہ فرش چاہے

تیری روح تو چاہے کہ عرش تک چلی جائے، کیونکہ اس کی جگہ یہی ہے۔ لیکن تو، تو زمین کی طرف لوٹ رہا ہے، اور خواہ مخواہ گارے کی طرف جا رہا ہے۔

روح اگرچہ قیدِ جسم میں مقیّد اور علائقِ جسمانیہ میں محصور نظر آتی ہے۔ مگر اس کا اصلی مقام اعلیٰ و ارفع ہے۔

اس لیے وہ ان علائق سے آزاد ہونے اور اپنی اصل کی طرف واصل ہونے کی متقاضی ہے، مگر انسان اس کو بارِ علائق کے نیچے دبائے رکھتا ہے۔ جو اس کے لیے مانعِ ترقی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہٗ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کی جلد اول کے صفحہ 16 پر فرماتے ہیں ”کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے انسان میں دو قوتیں ودیعت کی ہیں۔ ایک قوتِ ملکیہ یعنی فرشتوں کے ساتھ مناسبت رکھنے والی طاقت اور اس کے پیدا ہونے کی صورت یہ ہے کہ روحِ حیوانی جو بدنِ انسان میں سرایت کئے ہوئے ہے، روحِ انسانی سے فیض یاب ہو، اور وہ اس کے فیض کو قبول کر لے اور اس سے مغلوب ہو جائے۔ دوسری قوتِ بہیمیہ یعنی چوپایوں سے مناسبت رکھنے والی قوت اور یہ اس نفسِ حیوانی سے پیدا ہوتی ہے جو تمام حیوانات میں مشترک ہے اور یہ قوت روحِ طبعی کے قویٰ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ ان دونوں قوتوں میں کھینچا تانی اور مزاحمت ہوتی رہتی ہے۔ قوتِ ملکی عروج چاہتی ہے اور بلندی کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر قوت بہیمی تنزل کی متقاضی ہوتی ہے اور پستی کی طرف کھینچتی ہے۔ اگر قوتِ بہیمی غالب آ جائے تو قوتِ ملکی دب جاتی ہے اور اگر قوتِ ملکی کا غلبہ ہو جائے تو بہیمی دب کے رہ جاتی ہے۔

یہ بات حضرت نے بھی کہی ہے، حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے۔ اللہ جل شانہٌ ہم سب کو صحیح سمت میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، یعنی آخرت کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا: عقلمند وہ ہے، جس نے اپنے نفس کو قابو کر لیا، اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کرنے دیا جو کرنا چاہتا ہے، اور پھر محض اللہ پر تمنائیں کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس انجام سے محفوظ فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔



اللہ پاک کی عظمت اور شان کے سامنے سب ہیچ ہے - درسِ اردو مثنوی شریف - پہلا دور