الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
معزز خواتین و حضرات! آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوا کرتا ہے اور اس درس میں عجیب عجیب مضامین سامنے آتے ہیں۔ تو یہ ایک شعر ساتھی بتا رہے ہیں کہ آپ سے رہ گیا تھا، حکایت نمبر 16 میں۔ تو آج وہ شعر میں دوبارہ پڑھ لیتا ہوں اگرچہ میرے خیال میں شاید مطلب جو ہے نا وہ... وہ نہیں رہا تھا۔ وہ شعر ہے:
پنجہ کے لکھنے سے جو ہیں بے خبرلکھنے میں قلم کو سمجھے معتبر
یعنی جو ظاہر بین بوقتِ تحریر ہاتھ کو نہیں دیکھتا، وہ اس فعل کو قلم کی حرکت سے ظہور میں آتا سمجھتا ہے۔ فارسی میں جو شعر تھا اس میں تقلیبِ رب کا... آیا تھا لفظ۔ یعنی جیسے قلب کا لفظ ہے، الٹ پلٹ ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ قلب جو ہے یہ بھی اس طرح جب حرکت کرتا ہے تو یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے۔ تو تقلیبِ رب سے مراد یہ ہے کہ اللہ پاک کے ہاتھ میں سب لوگ الٹ پلٹ ہو رہے تھے، جیسے کہ حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ انسان کا جو قلب ہے اللہ پاک کے دو انگلیوں کے درمیان میں ہے اور اس کو... مطلب الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔ یعنی اس کے اندر مختلف باتیں، مختلف اوقات میں آتی رہتی ہیں۔
تو تقلیبِ رب سے مراد یہ ہے، تقلیبِ رب کے پنجے میں تو ہر شخص ہے۔ مگر ہر شخص کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ صرف عارف لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ تمام افعالِ اختیاریہ اور غیر اختیاریہ کا سبب... سببِ حقیقی خداوندِ تعالیٰ کی ذات ہے جو تمام اسباب و علل کا منتہاء ہے۔ افعالِ غیر اختیاریہ کے لیے اس کا سبب ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ افعالِ اختیاریہ کا سبب وہ اس طرح ہے کہ اختیار جو خود ایک غیر اختیاری امر ہے، اس نے عطا کیا ہے۔ اگر وہ اختیار نہ دیتا تو کس کی مجال تھی کہ کوئی فعل کر سکتا؟ لیکن جو شخص صرف علتِ ادنٰی اور سببِ ظاہر کو دیکھتا ہے، وہ اس تحقیق سے نابلد ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک تحریر کا فاعل قلم ہے کیونکہ اس کو ہاتھ نظر نہیں آتا جو محرکِ قلم ہے۔ پس امورِ اختیاریہ میں اس کی نظر سببِ حقیقی پر نہیں ہے بلکہ اسبابِ سفلیہ پر ہے۔ چونکہ اس کے ساتھ میں نے اپنی غزل کو پیش کیا تھا، تو چونکہ یہ شعر دوبارہ پڑھا گیا تو میں یہ شعر پھر دبا... مطلب جو ہے نا وہ غزل بھی دوبارہ مطلب سنا دیتا ہوں تاکہ مطلب اس کا مطلب جو ہے نا وہ صحیح طور پہ سمجھ آ جائے۔ تو یہ ہے...
(عارفانہ کلام سیدی و مولائی سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم العالی۔ عنوان ہے: ڈھیلا قلم اور وارداتِ قلب۔ حضرت والا نے مدینہ منورہ جاتے ہوئے بس میں اس کلام کو تحریر فرمایا ہے۔ حضرت والا فرماتے ہیں:)
قلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہیبات زبان سے میں نکالوں مگر بتائے وہی
یہاں پر بھی وہی بات جو ابھی تھوڑی دیر پہلے میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے شعر کا کر چکا تھا... وہ... مطلب جو ہے نا وہ مطلب... میرے خیال میں دوبارہ میں کر لیتا ہوں تاکہ آپ کو یاد آ جائے۔ حضرت نے جو فرمایا تھا: "پنجہ کے لکھنے سے جو ہیں بے خبر، لکھنے میں قلم کو سمجھے معتبر۔" پنجہ میں... پنجہ کے لکھنے سے جو ہے بے خبر، لکھنے میں قلم کو سمجھے معتبر۔ تو بالکل وہی ہے کہ کلام... کلام... مطلب جو ہے نا قلم ہاتھ میں ہے لیکن اصل میں لکھوا کون رہا ہے؟ لکھوا تو اللہ پاک ہی رہیں۔ ہاں جی۔
(کلام جاری ہے)قلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہیبات زبان سے میں نکالوں مگر بتائے وہی
چونکہ ہر چیز پہ غالب ہے مشیت اس کیچونکہ ہر چیز پہ غالب ہے مشیت اس کی
آلے گو بے شمار ہیں سب سے کرائے وہیآلے گو بے شمار ہیں سب سے کرائے وہیقلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہی
ہاں تو اس میں جو بات آئی ہے وہ یہ ہے کہ آلے بے شمار ہیں۔ یعنی اصل میں ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف لوگ مختلف کام کر رہے ہیں، مختلف چیزوں سے مختلف کام ہو رہے ہیں۔ ایک ہے سائنسدان کا سوچ، ایک ہے عارف باللہ کا سوچ۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ دونوں غور کر رہے ہیں، فکر دونوں کر رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ مطلب سائنسدان کوئی فکر نہیں کر رہا۔ فکر وہ بھی کر رہا ہے لیکن اس کی فکر لمیٹڈ (limited) ہے۔ مطلب وہ یہ کہتا ہے کہ اس کا جو امیڈیٹ (immediate) فاعل ہے وہ اس کو دیکھتا ہے۔ مطلب جو مطلب ہم کہتے ہیں جی پانی گرم تھا، وہ کسی پہ پڑ گیا اس سے اس کا ہاتھ جل گیا۔ یہ اس کا پہلا فاعل ہے۔ ہاں جی، تو اس کی نظر، سائنسدان کی نظر تو یہاں تک ہے۔ اس سے آگے وہ نہیں دیکھتا۔ ہاں جی۔ لیکن... یا ڈاکٹر ہے، وہ بھی یہی دیکھتا ہے۔ وہ بھی سائنسدان ہے۔
لیکن جو عارف باللہ ہے وہ دور دیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ یہ آخری حالات جو اللہ نے بنائے ہیں کہ اس کا ہاتھ اس وقت ادھر آتا اور ادھر سے پانی گرتا اور یہ سب چیزیں بالکل اسی وقت میں ہونی تھی تو آخر اللہ پاک نے نظام بنا دیا۔ ہاں جی۔ اور اس میں کیا حکمت تھی؟ اس کو کیا کیا چیز سکھانا ہے؟ کیا کیا چیز بتانا ہے؟ کیا کیا سزا دینی ہے؟ کیا انعام دینا ہے؟ یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ تو جو عارف باللہ کا سوچ ہوتا ہے وہ اللہ کے حوالے سے ہے۔ اس لیے کہتے ہیں: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ بے شک کائنات کی تخلیق میں اور دنوں کے الٹ پھیر میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ لیکن وہ عقلمند لوگ کون ہیں؟ جو کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کو یاد کرنے والے ہیں اور کائنات کی تخلیق میں فکر کرنے والے ہیں۔
اب دیکھیں یہاں پر فکر تو سائنسدان بھی کرتا ہے۔ فکر تو عارف باللہ بھی کرتا ہے۔ لیکن عارف باللہ کے ساتھ ذکر بھی ہے، سائنسدان کے ساتھ ذکر نہیں ہے۔ اگر سائنسدان کے ذکر ہو جا... ساتھ ذکر ہو جائے وہ بھی عارف باللہ بن جائے گا۔ اگر وہ بھی ذاکر بن جائے تو وہ بھی عارف باللہ بن سکتا ہے۔ راستہ تو بند نہیں ہے کسی پر۔ لیکن ہر شخص کا اپنا عمل خود اس کے لیے وہ ہے۔ تو یہی بات ہے کہ جو... جو عارفین ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کیونکہ ہر چیز پر مشیت اللہ تعالیٰ کی غالب ہے۔ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ تقلیبِ رب والی بات جو... جو حضرت نے فرمائی ہے، وہ اس میں ہر چیز جو ہے نا... ہر شخص، ہر نظام وہ جکڑا ہوا ہے۔ وہ ہل نہیں سکتا اس سے۔ تو یہ جو ہے نا مطلب یہ کہ عارف باللہ اس چیز کو دیکھتا ہے تو ہر چیز پہ مشیت غالب ہے اس کی، تو اس وجہ سے آلے بے شمار ہیں... لیکن ہر آلے سے کام کون کروا رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کروا رہے ہیں۔
(کلام جاری ہے)بات زبان سے میں نکالوں مگر بتائے وہی
اس کو محبوب کی محبت کی ہی باتیں ہیں پسنداس کو محبوب کی محبت کی ہی باتیں ہیں پسند
خود سے کھول کھول کے یہی باتیں منہ پہ لائے وہیخود سے کھول کھول کے یہی باتیں منہ پہ لائے وہیقلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہی
ہاں... یہ اصل میں چونکہ سفر میں مدینہ منورہ کے... یہ غزل لکھی گئی ہے، تو یقیناً اس کا حصہ تو آنا تھا۔ تو وہ جو مسلسل نعت شریف لکھوائی جا رہی تھی، ایک نعت، دوسری نعت، تیسری نعت، چوتھی نعت... تو کیا وجہ تھی؟ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ لکھوانا چاہتے تھے نا کہ مطلب اللہ پاک کو اپنے محبوب کی باتیں پسند ہیں۔ تو وہ زبان پر وہ لا رہا ہے۔ ہاں جی، مطلب ظاہر ہے وہ حال وہی طاری کرتا ہے، مطلب جو ہے نا وہ جو چیزیں مطلب سامنے آتی ہیں۔ تو وہ اس طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اس کو اپنے محبوب کی باتیں پسند ہیں کہ کوئی بیان کرے، تو لہذا وہ جو ہے نا زبان پر وہ کھول کھول کے لا رہا ہے۔
(کلام جاری ہے)بات زبان سے میں نکالوں مگر بتائے وہی
ہم کیا رموز و حقیقت کی باتیں کیا جانیں...
یہاں پر پڑھنے والے کو ذرا تھوڑا سا وقف چاہیے تھا۔ ہاں جی۔ پہلے یہ: "ہم کیا؟" اصل پہلا فقرہ یہ ہے، یہاں پر جیسے سمجھ لیں کہ کویسچن مارک (Question mark) ہے، وقفہ ہے۔ ہم کیا؟ رموز و حقیقت کی باتیں کیا جانیں؟ ہاں جی... مطلب جو ہے نا یعنی ہم کیا ہیں کہ مطلب یہ رموز و حقیقت کی باتیں ہم کریں؟ ہاں جی۔ یعنی یہاں ملنے میں ویسے ذرا تھوڑا سا مطلب میں فرق بھی آ سکتا ہے۔ ہم کیا؟ رموز و حقیقت کی باتیں کیا جانیں؟ کیونکہ دو دفعہ کیا آ گیا نا۔ ہاں جی۔ تو آگے کیا ہے؟
(کلام جاری ہے)ہم کیا رموز و حقیقت کی باتیں کیا جانیںہم تو کچھ بھی نہیں ہیں گر نہیں سمجھائے وہی
اگر وہ نہ سمجھائے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ ظاہر ہے... ظاہر ہے سمجھانا تو اس کا کام ہے۔ وہی تو مطلب سارا کچھ کرا رہا ہے۔ تو ماشاءاللہ دیکھیں...
(کلام جاری ہے)ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں گر نہیں سمجھائے وہیقلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہیبات زبان سے میں نکالوں مگر بتائے وہی
لو قلم پر تو نظر رکھتے ہیں پر ہاتھ پہ نہیںلو قلم پر تو نظر رکھتے ہیں پر ہاتھ پہ نہیں
اور کہاں اس پہ ہو کہ ہاتھ کو ہلائے وہیاور کہاں اس پہ ہو کہ ہاتھ کو ہلائے وہی
یعنی اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سائنسدان وہ ایک سبب کو دیکھ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہاتھ... عام لوگ اس پہ نظر نہیں رکھتے۔ سائنسدان اس پہ نظر رکھتا ہے، وہ کاز اینڈ ایفیکٹ (cause and effect) کو جانتا ہے۔ لہذا وہ ہاتھ پر نظر رکھتا ہے کہ ہاتھ میں قلم ہے اس وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہاں تک تو سائنسدان کا سوچ ہے۔ لیکن اس سے آگے عارف باللہ کا سوچ ہے۔ وہ کہتا ہے ہاتھ کو کون ہلا رہا ہے؟ ہاتھ کو کون ہلا رہا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو جو ہے نا مطلب اس... وہ جو جس کو کہتے ہیں یعنی... مطلب سببِ اصلی، اس کی طرف نظر جو ہے نا وہ کسی کسی کی جاتی ہے اور جس کی جاتی ہے وہی عارف بن جاتا ہے۔
(کلام جاری ہے)قلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہیبات زبان سے میں نکالوں مگر بتائے وہی
(آخری شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں:)چھوڑ دو ڈھیلا قلم لکھنے دو جو لکھتا ہےچھوڑ دو ڈھیلا قلم لکھنے دو جو لکھتا ہے
تجھ کو کیا غم ہے شبیر پھر اگر سکھائے وہیتجھ کو کیا غم ہے شبیر پھر اگر سکھائے وہیقلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہی
یہ اشعار تقریباً بارہ سال پہلے لکھے گئے ہیں۔ تقریباً بارہ سال پہلے یہ لکھے گئے ہیں۔ اور اس کا مفہوم مجھے اس غزل کے یہاں پڑھنے کے بعد آیا، اب پتہ چلا۔ کہ اس کا مفہوم تو یہ ہے! اب اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو کوئی میرا کلام کہہ سکتا ہے؟ ہاں جی۔ اب دیکھیں اس کا جو اصلی مفہوم تھا یعنی عام مفہوم تھا جو کہ مجھے بھی اس وقت سمجھ آیا تھا، جو لوگوں کو بھی سمجھ آیا تھا۔ وہ تو یہ تھا کہ مطلب یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں بھئی اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ کرتے ہیں۔ اور میں کچھ نہیں کرتا، میرے ہاتھ میں قلم ہے لیکن وہ اللہ پاک... یہ مفہوم بھی صحیح ہے۔ ٹھیک ہے، جس نے بھی مفہوم لیا اور میں نے بھی لیا تھا صحیح تھا۔ لیکن اس سے بھی آگے ایک مفہوم ہے جو ابھی سمجھ آیا ہے۔
یہ ہے، یہ جو پہلے اشعار ہیں، آخری شعر سے پہلے جو ہیں، یہ اصل میں "سیر فِی اللّٰہ" (Journey in God) کے ہیں۔ جس وقت انسان کا سیر اِلَی اللّٰہ مکمل ہو جاتا ہے، اس وقت اس پہ مجاہدے کے بعد پھر مشاہدہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو پھر اس کو مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ ہاں جی مطلب ہر چیز کے اندر پھر وہ اس کو نظر آتا ہے کہ یہ تو فلاں ہو رہا ہے، یہ تو فلاں ہو رہا ہے، اس کا فلاں ہے، اس کا فلاں ہے۔ وہ جو ہے نا مطلب اس کے اوپر یہ چیزیں کھلتی جاتی ہیں۔ ہاں جی۔ یہ سیر فِی اللّٰہ والی بات ہے۔ جو آخری شعر ہے، سیر اِلَی اللّٰہ والی ہے۔
آخری شعر، کہ اس میں آپ اپنے آپ کو قلم کی طرح ڈھیلا چھوڑ دو۔ یعنی اپنے آپ کو شیخ کے ہاتھ میں قلم کی طرح ڈھیلا چھوڑ دو کہ تمہارے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتا ہے وہ کر لے۔ ہاں جی۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ جس مہربان کے ہاتھ میں تم ہو، وہ اس پہ پھر فکر کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تمہارے لیے کوئی خیر ہی کا راستہ ڈھونڈے گا۔ مطلب ظاہر ہے تو تم خود اپنی مرضی نہ کرو کہ اب مجھ پہ یہ... اب مجھے یہ ذکر دو، اب مجھے یہ کرو، اب میرا یہ کرو، نہیں نہیں تم نہیں کرو۔ کیونکہ اگر تو نے... بلکہ میں اس کے بارے میں ایک بات عرض کرتا ہوں۔
یہ بات میں نے پتہ نہیں کتنا عرصہ پہلے کی ہو گی وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ، یاد بھی نہیں۔ اور ایک سے زیادہ مرتبہ کی ہے۔ جو ہمارے پاس آتا ہے، جتنا پرسنٹ (percent) اختیار وہ اپنے آپ کا ہم... ہمیں دیتا ہے، اتنا پرسنٹ اس کو فائدہ ہوتا ہے۔ اللہ کے لیے، ظاہر ہے ہمارے لیے تو نہیں۔ اللہ کے لیے۔ اتنا فائدہ اس کو ہوتا ہے۔ یعنی جیسے مثال کے طور پر بعض حضرات آ جائیں، نہیں جی آپ کی ساری باتیں مانوں گا لیکن یہاں پر آپ نے... ہم کہتے ہیں بالکل ٹھیک ہے۔ صحیح ہے۔ مان لیا، کیونکہ ظاہر ہے مطلب ایک خیر... خیر کے لیے وہ اختیار دے رہا ہے تو ٹھیک ہے لیکن فائدہ اس کو اتنا ہی ہو گا جتنا اختیار اس نے دیا ہے۔ کیونکہ اس نے ابھی سارے بندھن کھولنے کا اجازت نہیں دی ہے۔ تو یہی بات مطلب جو ہے نا بنیادی بات ہے کہ جو لوگ اس طرح مطلب کرتے ہیں کہ مطلب یعنی یہ... یہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ نہیں، تو انکار ہم نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی خواہش یہی ہے، جتنا مطلب وہ چاہتا ہے۔ تو ٹھیک ہے اس کو فائدہ بھی اتنا ہی ملے گا، اس کے حساب سے ملے گا۔ ہاں جی۔ تو یہاں پر جو آخری شعر ہے یہ سیر اِلَی اللّٰہ والا ہے۔ یعنی دورانِ تربیت اپنے آپ کو... جیسے حدیث شریف میں آتا ہے نا کہ وہ جو نمازوں کی صف بن رہی ہوتی ہے، تو جو صف بنانے والے ہوتے ہیں ان کے لیے اپنے مونڈھے بالکل ڈھیلے چھوڑ دو۔ کہ آپ کو جس طرح سیٹ کرنا چاہتے ہیں تو اس طرح سیٹ کر لیں۔ ہاں جی۔ اس طریقے سے، یا غسال کے... غسال کے سامنے جو میت ہوتا ہے وہ اکثر فرماتے ہیں اس طرح اپنے آپ کو کر دو، پھر فائدہ ہوتا ہے۔ ہاں جی۔
یہ ہمارے ڈاکٹر شیر حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ ابھی فوت ہو گئے ہیں، کچھ ہی عرصہ ہوا ہے۔ ان کے... کوئی بحث ہو رہا تھا ہمارے درمیان میں۔ تو انہوں نے کہا بھئی ہم تو مولانا صاحب کے پیچھے ہیں: "من قبلہ راست کردم بر طرفِ کج کلاہے۔" جو وہ کہیں بس وہ ٹھیک ہے۔ مطلب بالکل مختصر... مطلب کوئی درمیان میں بات نہیں ہے۔ "من قبلہ راست کردم بر طرفِ کج کلاہے۔" اس کا آپ کو پتہ ہے یہ کیا واقعہ کیا ہوا ہے؟ "من قبلہ راست کردم بر طرفِ کج کلاہے"۔ یہ امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ... یہ مطلب یہ ہے کہ ان کا وہ ہے۔ میرے خیال میں شاید یہ آ جائے گا یہ شعر۔ آ گیا۔ سامنے آ گیا۔ یہ ایک مرتبہ کہا کہ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ لبِ دریا کوٹھے پر بیٹھے ہوئے تھے اور اہلِ ہنود کے اشنان اور طریقِ عبادت کو دیکھ رہے تھے۔ ہر قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا:
ہر قوم راست راہے، دینِ و قبلہ گاہے
یعنی جو اب ہر قوم ہے جو اپنا دین اور قبلہ بھی رکھتی ہے... وہی راہ پر ہے جو اپنے دین اور قبلہ... فرمایا اس وقت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کی... کی اولیاء... کی ٹوپی اتفاق سے ٹیڑھی تھی۔ امیر نے اس طرف اشارہ کر کے: "من قبلہ راست کردم بر طرفِ کج کلاہے"۔ میں نے ٹوپی... ٹیڑھی ٹوپی والے کی طرف اپنا قبلہ درست کر دیا کہ جو... جو... جس طرف وہ ہے اس طرف میں ہوں۔ ہاں جی۔ تو یہ ہے بالکل جو ہے نا وہ سا... بات یعنی مطلب انہوں نے یعنی کمپلیٹ سرینڈر (complete surrender) کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں مطلب انسان اپنی رائے کو ختم کر لیتا ہے۔ ختم کر لیتا ہے۔ تو اس کی طرف اشارہ ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو... یہ چیز بالکل وہی ہے کہ جس نے اپنے آپ کو کمپلیٹ اپنے شیخ کے حوالے کیا، یعنی اللہ کے لیے حوالے کیا۔ تو جتنا اس نے حوالے کیا اتنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں چینج (change) آئے گا۔ کیونکہ اس نے ارادہ اتنے کا کیا ہے۔ اس نے ارادہ اتنے کا کیا ہے تو اس کے حساب سے... مطلب اس میں وہ چینج آئے گا۔ تو اب یہاں پر یہ والی بات ہے کہ ڈھیلا قلم، وہ کیا مطلب یہ ہے کہ...
(کلام کا اعادہ)قلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہی... چھوڑ دو ڈھیلا قلم... تجھ کو کیا غم ہے شبیر پھر اگر سکھائے وہی۔
تو چلو ماشاءاللہ آج پھر دوبارہ اس کو مطلب پڑھا گیا اور میرا خیال ہے کہ اس کے... مثنوی شریف کے اس شعر کے نیچے اس کو ہم لکھ لیں گے کیونکہ یہ اسی کی تشریح ہے۔ یعنی اس شعر کی منظوم تشریح ہے۔ تو انشاءاللہ ہم اس کو آگے چلائیں گے۔
اب دفترِ اول، حکایت نمبر 17 شروع ہو رہا ہے۔مردِ عارف کی مثال اور اس آیت کی تفسیر: اللّٰهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا۔ اللہ تعالیٰ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے۔ ہاں جی، یہ بادشاہو! سبحان اللہ کیسی کیسی باتیں حضرت نکالتے ہیں اس سے۔
بے خودی کو نیند میں جب ظاہر کیاحالِ عارف اس سے ظاہر کر دیا
یعنی جو بے خودی انسان... جب انسان اپنے خود سے نکل جاتا ہے نیند میں، اپنے آپ میں نہیں رہتا۔ اس کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہاں جی۔ تو فرمایا کہ عارف کا حال بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو بس اس طرح چھوڑ دیتا ہے کہ جو ہو رہا ہے اللہ کی طرف سے وہ ٹھیک ہو رہا ہے۔ عارف کے حال کا کچھ نمونہ خدا نے حسیات کے ذریعے ظاہر کر دیا ہے، چنانچہ مخلوق کو بھی یہ نیند عارض ہوئی جو ظاہری ہے۔ یعنی سکر و بے خودی مراد نہیں ہے۔
عنوانِ بالا میں جس آیت کا اقتباس درج ہے: اللّٰهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔ (الزمر: 42) یعنی اللہ موت کے وقت روح کو قبض کر لیتا ہے اور جو مرتے نہیں ان کی روحوں کو خواب میں قبضے میں کر لیتا ہے، پھر جن میں موت کا حکم ہو چکتا ہے تو ان کو روک لیتا ہے اور دوسروں کو چھوڑ دیتا ہے، ایک مقررہ مدت تک۔ بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔
حدیث میں آیا کہ "اَلنَّوْمُ أَخُوْ الْمَوْتِ" یعنی نیند جو ہے نا یہ موت کی بہن ہے۔ یعنی موت اور نیند دونوں صورتوں میں ذی روح کے جسم سے اس کی جان نکل جاتی ہے، پھر جس پر موت کا حکم صادر ہو چکتا ہے اس کی روح تو واپس جسم میں آتی نہیں اور جس پر نیند طاری کی جاتی ہے اس کی جان واپس بدن میں ڈال دی جاتی ہے۔ تفسیر مدارک میں لکھا ہے کہ ہر شخص کے دو نفس ہیں۔ ایک نفسِ حیات جو موت کے وقت جسم سے نکل جاتا ہے، دوسرا نفسِ تمیز جو خواب کے وقت بدن سے نکل جاتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابنِ آدم میں ایک نفس ہوتا ہے اور ایک روح۔ ان دونوں کے درمیان شعاعِ شمس کی طرح شعاع ہوتی ہے۔ نفس میں عقل و تمیز ہوتی ہے اور روح میں تنفس اور تحرک ہوتا ہے۔ جب بندہ سوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نفس کو قبض کر لیتا ہے، روح کو قبض نہیں کرتا۔ یعنی وہ اپنے ارادہ... نہیں ہوتا نفس کا... خواہشات وہ نفس کے ارادے وہ تو نہیں ہوتے نا، مطلب وہ تو سب چلے جاتے ہیں۔ روح البتہ ہوتا ہے۔ ہاں جی۔
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خواب میں زندوں اور مردوں کی ارواح باہم ملتی ہے، پس جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے باہم ملاقات و تعاون کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس روح کو روک لیتا ہے... جس پر موت صادر ہو چکی ہو... دوسری اس کے جسم... دوسری کو اس کے جسم میں واپس بھیجتا ہے۔ کلیدِ مثنوی میں لکھا ہے کہ اہلِ کشف کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو جسم عطا فرمائے ہیں۔ ایک جسمِ عنصری کہ دنیا میں رہتا ہے اور آخرت میں محشور ہو گا اور اس پر ثواب و عذاب کا اثر ہو گا۔ دوسرا جسمِ مثالی کہ عالمِ مثال میں موجود ہے اور خواب میں نظر آتا ہے۔ اور روحِ حقیقی جو ایک امرِ ربی ہے، دونوں جسموں سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اس سے روحِ طبی مراد نہیں، اس کا تعلق صرف جسمِ عنصری سے ہے۔ پس روح کے بدن سے نکلنے اور عالمِ مثال میں جانے سے مراد یہ ہے کہ جسمِ عنصری سے اس کا تعلق ضعیف ہو کر جسمِ مثالی سے تعلق بڑھ جاتا ہے۔ اور عالمِ مثال سے بدن میں آنے سے مراد یہ ہے کہ جسمِ مثالی سے تعلق کم ہو کر جسمِ عنصری کے ساتھ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ بات ہے۔ خواب کا مطلب یہی ہے۔
اچھا جسمِ مثالی یہ عجیب چیز ہے۔ اس کی میں آپ کو ایک فضول مثال دیتا ہوں۔ فضول مثال میں اس لیے کہتا ہوں کہ سب لوگ اس کو جانتے ہیں لیکن ہے فضول۔ ہاں جی۔ مثلاً ٹیلیویژن پر کوئی شخص تقریر کرتا ہے۔ تو جتنے ٹیلیویژن سیٹس (sets) ہیں اس وقت جنہوں نے وہ آن (on) کیا ہوا، ہاں جی، تو وہاں ہر جگہ اس کی وہ تصویر ویسی ہی نظر آئے گی۔ تو کیا وہ اتنے لوگ ہیں؟ وہ لوگ اتنے نہیں ہیں... مطلب وہ تو ایک ہی ہے وہ جو وہاں اسٹیشن پہ بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن ہر ٹی وی میں جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ... وہ نظر آ رہا ہے۔ وہ چاہے جتنے بھی ہوں۔ تو یہ جسمِ مثالی کی مثال ہے کہ وہ کہیں بھی ہو سکتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ... کیونکہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ... تو اس وجہ سے مطلب یہ کئی لوگوں کے ساتھ مل سکتا ہے آدمی، خواب میں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جو ہے نا وہ مختلف لوگوں کے ساتھ وہ ہوتا ہے۔
تو جسمِ مثالی جو ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ کئی لوگ... مثال کے طور پر مجھے لوگ کہتے ہیں جی آپ کو ہم نے خواب میں دیکھا اور... اور آپ نے یہ بتا دیا... اور کوئی اور آدمی اسی وقت بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں آپ نے مجھے یہ بات بتائی، مجھے نہ اس کا پتہ نہ اس کا پتہ! تو وہ کیا چیز ہے؟ وہ جسمِ مثالی ہے۔ ہاں جی مطلب یہ ہے کہ وہ جو... جو بھی دیکھتا ہے، اس کے لیے اللہ پاک ذریعہ بنا رہے ہیں بس۔ ہاں جی اللہ پاک ذریعہ بنا رہے ہیں کہ اس کو بھی... وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا... مثال میں دیتا ہوں مزید، اب یہ صحیح مثال ہے، وہ تو فضول مثال تھی نا۔ اچھا... وہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہمارے ایک دوست تھے، حضرت اپنے مریدوں کو دوست کہا کرتے تھے۔ ہاں جی۔ ہمارے ایک دوست تھے، وہ مختلف... بہت زیادہ دور یعنی کسی جگہ پہ تھے۔ جس بازار میں اس کا دکان تھا وہاں آگ لگ گئی۔ اور آگ اس کے دکان کے قریب آ گئی۔ اب وہ بے... وہ فکرمند تھے کہ میں کیا کروں۔ یہ اس نے خط میں لکھا۔ کہتے ہیں کہ اچانک آپ تشریف لائے اور آپ نے کہا کہ اپنا سامان جو قیمتی سامان ہے اس کو ایک صندوق میں ڈالو۔ یا بیگ... جو بھی تھا... تو اس میں ڈالو۔ کہتے کچھ آپ نے ڈالا، کچھ میں نے ڈالا۔ جب صندوق بھر گیا تو ایک طرف سے آپ نے پکڑا، ایک طرف سے میں نے پکڑا اور اس کو ہم محفوظ مقام پہ لے جانے لگے۔ جس وقت محفوظ مقام پہ پہنچ گئے، ہم نے وہ رکھ لیا، تو سامنے دیکھا تو پھر آپ نہیں تھے۔ تو یہ کیا بات تھی؟ ہاں جی۔ تو اس پر حضرت نے فرمایا کہ مجھے تو پتہ نہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے میں نے... میں تو نہیں تھا اگر... ممکن ہے کوئی فرشتہ میری صورت میں آیا ہو اور میری صورت میں اس نے مطلب جو ہے نا اختیار کی ہو۔ اگر کوئی اور ہوتا تو آپ اس کو ڈاکو سمجھ لیتے۔ تو کام نہ ہوتا۔ تو چونکہ میں تھا... اور آپ سے یہ خیال چھین لیا کہ آپ اس کے بارے میں سوچ بھی سکتے کہ بھئی یہ کیسے آ سکتا ہے اتنی دور؟ یعنی اس طرف آپ کے ذہن ہی نہیں گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرنا چاہتا تھا، سلسلے کے ذریعے سے۔ ہاں جی۔ تو اس وجہ سے جو ہے نا مطلب آپ کو فائدہ ہوا اور بس آپ کا کام بن گیا۔
اس طرح کئی واقعات ہوئے ہیں۔ مجھے بھی کسی نے اس طرح کا... میں نے کہا بھئی مجھے... بھئی میں... مجھے تو یہ... وہ ایک... وہ تھے... عامل تھے۔ اس نے مجھے یہ بتایا۔ وہ عامل تھے، وہ کہتے میرے استاد جو عامل استاد تھے، وہ اس نے مجھے کہا جی فلاں جگہ جاؤ، وہ اپنا چلہ شروع کر لو۔ وہ چلہ... وہ دائرہ کھینچ دیتے ہیں نا، تو اپنا وہ عمل شروع کر لو، میں پہنچ جاؤں گا۔ کہتے میں پہنچ گیا اپنی جگہ پہ اور دائرہ لگا دیا، میں نے عمل شروع کر لیا۔ استاد جی رش میں پھنس گئے۔ ہاں جی راستے میں۔ ظاہر ہے ٹریفک رش میں پھنس گئے تو لیٹ پہنچے۔ اب ادھر جا کر یہ چلے والوں کو ساتھ تو کمالات ہوتے ہیں نا... وہ چیزوں نے شکلیں وکلیں بنانی شروع کر دیں، مختلف طریقے۔ کہتے میں ڈر گیا اور قریب تھا کہ میں دائرے سے نکل جاتا، اور وہ یہی تو چاہتے ہیں کہ دائرے سے نکل گیا تو بس پھر تو پکڑ لیتے۔ ہاں جی۔ تو میں قریب تھا کہ نکل جاتا کہ اتنے میں دیوار سامنے شق ہو گئی اور آپ اس میں باہر آ گئے۔ کہتے: "خبردار جو ادھر سے نکلے! بیٹھ جاؤ!" کہتے مجھے ہمت ہوئی کہ بھئی... بس ٹھیک ہے حضرت ہمارے ساتھ ہیں۔ تو میں بیٹھ گیا اور اتنی... تھوڑی دیر کے بعد استاد جی بھی آ گئے۔ تو کام بن گیا۔ میں نے کہا بھئی مجھے تو پتہ نہیں، نہ میں عملیات والا ہوں، نہ میں ان چیزوں کو جانتا ہوں۔ ہاں جی۔ عین ممکن ہے بھئی اللہ تعالیٰ نے آپ کو چونکہ بچانا تھا سلسلے کی برکت سے تو اس قسم کی صورتحال پیدا کر دی۔
تو یہ ساری چیزیں جو ہے، یہ مطلب عالمِ مثال کی طرح چیزیں ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہاں یہ اس سے اللہ پاک کام لیتے ہیں۔
غرض خواب کے اندر جسم سے روح نکلتی ہے اور نفس اس کے، سیری حرکت مجرداً ہو یا بتعلقِ جسمِ مثالی... بہر کیف یہ حالت موت کے ساتھ ملتی جلتی ہے اس لیے فرمایا: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔ یعنی کیفیتِ خواب میں غور کرنے سے عقلمندوں کے لیے بہت کچھ عبرت و استبصار کا سامان ہے، تاکہ اس پر عرض (؟) کر کے موت کو یاد رکھیں اور فکرِ آخرت، مولائے حقیقی (؟)۔ یعنی خواب کی کیفیت بیان فرماتے ہیں اور چونکہ یہ بیان آیت کے مضمون کے مطابق ہے، اس لیے بیان کو آیت کی تفسیر کہہ دیا اور یہ تمام بیان عارف کے حال کی تمثیل ہے۔ یعنی جو حالتِ خواب والی کی ہوتی ہے وہی عارف کی ہے کہ اپنے آپ میں نہیں ہوتا۔
روح ایک بے کیف صحرا کو چلیروح بدن آرام میں ہوتے وہیں
یعنی اس حسی خواب کی کیفیت بے نظیر اور بے کیف بیابان میں کہ روح جو ہے نا نکلتی ہے، ان کی روح ان کے بدن دونوں آرام میں ہوتے ہیں۔ حرص سے فارغ وہاں ہوتی ہے یہ، چھوٹ پرندہ جائے جیسے جال سے۔ مطلب یہ ہے کہ نفس جو ہے نا مطلب کوئی چونکہ وہ اس کو قبل (؟)... تو یہ اپنے جال سے نکل جاتا ہے۔ اس پر بات مجھے یاد آ گئی حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی۔ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روح جو ہے نا عاشق ہے اللہ کا۔ اور جب اس کو نفس... جب اس کو جسم میں بھیج دیا گیا تو نفس نے اس کو جکڑ لیا۔ اب اس سے نفس کام کرواتا ہے، نفس کے لیے وہ استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ نفس سے اگر... مطلب یہ چونکہ بالکل اس میں ختم ہو گیا، مطلب مدغم ہو گیا، تو اس کو بھول... وہ بھول گیا کہ میں بھی اللہ کا عاشق تھا۔ وہ نفس کے مان کے چلتا ہے۔
فرمایا کہ یہ جو جذب کی کیفیت ہے... ذکر، اذکار، مراقبات... اس سے روح کو پتہ چلتا ہے کہ میں تو اللہ کا عاشق تھا۔ تو اس کو جب اس کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں تو اللہ کا عاشق تھا تو پھر وہ آزادی چاہتا ہے اس سے، رو... نفس سے آزادی چاہتا ہے۔ لیکن نفس اس کو چھوڑتا نہیں ہے۔ اس سے چھڑانے کے لیے آپ کو اس کی ہیلپ (help) کرنی پڑے گی۔ اور وہ ہے "سیر اِلَی اللّٰہ"۔ یعنی ن... سلوک طے کرنا۔ سلوک طے کرنا یعنی مجاہدات ہوتے ہیں، یہی اس کی ہیلپ ہے نا کہ مجاہدہ نفس کی مخالفت میں ہے، تو مجاہدے سے نفس زیر ہوتا ہے۔ تو وہ مجاہدے کے ذریعے سے آپ گویا کہ نفس کے ہاتھ پیر باندھ لیتے ہیں۔
میں آپ کو مثال دیتا ہوں اس کی۔ نفس کیا ہے؟ نفس حس... حس ہے، مطلب جو ہے نا مختلف قسم حس ہیں۔ آنکھ میں بھی حس ہے، کان میں بھی حس ہے، زبان میں بھی حس ہے، دماغ میں بھی حس ہے، ہاں جی مطلب ہاتھ پاؤں میں بھی حس ہے۔ اب یہ جو حسیں ہیں مختلف جگہوں پہ، ان کی خواہشات بھی ہیں۔ آنکھ کی اپنی خواہش ہے، لذت جو اس کو چیز جس چیز میں ملتی ہے وہ چاہتی ہے۔ کان میں اپنی خواہشات ہیں، زبان میں اپنی خواہشات ہیں۔ اب یہ جو ہے نا مطلب یہ جو خواہشات ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ جو انسان کے نفس کے جو خواہشات ہیں مختلف، تو یہ جو ہے نا مطلب گویا کہ اگر آپ اس کو ایک ایک کر کے بند کرنا شروع کر لیں۔ مثلاً یہ کہ اپنے نفس کو، اپنے جو ہے نا وہ آپ... جیسے میں اکثر غض بصر کا جو ہے نا وہ مجاہدہ دیا کرتا ہوں۔ کہ آپ کسی ب... بن... جگہ پہ بیٹھ کر وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ پانچ منٹ نیچے دیکھیں۔ بالکل کچھ نہ کریں بس صرف نیچے دیکھیں۔ پھر اگلے دن چھ منٹ، پھر اگلے دن سات منٹ، اگلے دن آٹھ منٹ۔ اس طرح بڑھاتے بڑھاتے پچیس منٹ تک آپ اس کو پہنچا دیں، یعنی بیس دن میں۔ پھر باہر آ کر اس کے اندر جو ثمر ہے، جو مجاہدہ کا جو ثمر ہے، باہر آپ پانچ منٹ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نیچے دیکھیں۔ یہ اس کو گویا کہ اتنا نفس کنٹرول ہو گیا۔ اس طرح کان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح زبان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح دماغ کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح مر... ہاتھ پاؤں کا... اب یہ جو مجاہدات آپ ایک کر کے... تو یہ اصل میں نفس سے چھڑانے والی چیزیں ہیں روح کا۔ کہ روح جو ہے نا مطلب آپ اس کو آزاد کر رہے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس میں جو مقامات ہیں، مق... مقامِ توبہ، مقامِ انابت، مقامِ قناعت، مقامِ ریاضت، مقامِ تقویٰ، مقامِ صبر، مقامِ زہد، مقامِ توکل، مقامِ تسلیم، مقامِ رضا... یہ تمام مقامات، یہ کیا ہیں؟ یہ نفس کے خلاف مجاہدات ہیں۔ جس کے ذریعے سے آپ یہ مقامات... رذائل کو دبا رہے ہیں اور آپ مقامات حاصل کر رہے ہیں۔ تو یہ جب سارے حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کا نفس روح سے آزاد ہو گیا۔ اس کو ہم کہتے ہیں سیر اِلَی اللّٰہ۔ ہاں جی سیر اِلَی اللّٰہ۔ اب جب یہ روح ن... نفس سے آزاد ہو گیا تو روح جو ہے نا جہاں جانا چاہتا ہے وہاں جا سکتا ہے۔ تو ملأِ اعلیٰ کے ساتھ مل جائے گا۔ نتیجتاً، نتیجتاً دو لطائف کھل جائیں گے... ایک لطیفۂ روح، ایک لطیفۂ سر۔ اور ماشاءاللہ ملأِ اعلیٰ سے اس کو سا... چیزیں... یہ مشاہدات شروع ہو جائیں گے۔ ٹھیک ہے نا۔
تو اب یہ... یہ جو ہے نا مطلب یہ... تو یہ مجد... مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تھیسز (thesis) ہے۔ یہاں پر میں کہتا ہوں... "حرص سے فارغ وہاں ہوتی ہے یہ..." وہ تو انسان مجاہدے سے کرتا ہے۔ یہاں پر روز اس کے ساتھ ہوتا ہے خواب میں۔ یعنی خواب میں آزاد ہو جاتا ہے۔ خواب میں روح جو ہوتا ہے نفس سے آزاد ہو جاتا ہے۔ لہذا روح جو ہے نا مطلب آزاد پھرتی ہے۔
چھوٹ پرندہ جائے جیسے جال سےترکِ روز نے جب سنہری ڈھال سے، رات کا ہندو کاٹ دیا تلوار سے
مطلب جو یعنی گویا کہ صبح ہو گئی۔ ترکِ روز مطلب یہ ہے کہ روز جو دن ہے وہ چڑھ گیا، سورج سنہری ڈھال۔ اس نے رات کے ہندو... یعنی رات کو، تاریکی کو کاٹ دیا۔ اور یہ سورج... ہو گیا۔
روح کا میلان تن کی جانب ہو گیاسویا تھا جب وہ بیدار اب ہو گیا
ہاں... یعنی تو ہر جا... تو ہر جان کا میلان بدن کی طرف ہو جاتا ہے اور ہر بدن روح سے باردار ہو جاتی ہے۔
پھر شکاری جیسے جال بچھائے توروح کو تکلیف دہ جال میں پھر لائے تو
اب دوبارہ پھر نفس کے شکاری نے جال بچھایا روح کے لیے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو روح کو پھر دوبارہ تکلیف دہ جال میں لایا تو۔ یعنی روح کا تصرف تمام قوائے و... بدنی میں بال... بیداری ہوتا ہے۔ پھر جب نیند آئی تو یہ تصرف جاتا رہتا ہے اور تمام قویٰ معطل و بیکار ہو کر آرام کرتے رہتے ہیں۔ پس بیداری کی حالت ان قویٰ کے لیے ایک طوفانِ مشقت یا تکلیف دہ جال ہے۔ یا تو اس لحاظ سے کہ ان کو اس حالت میں روح کی خدمت گزاری کرنی پڑتی ہے، یا اس کی جہت کہ اس وقت وہ طبعاً امورِ رذیلہ و سفلیہ میں تصرفات کرنے ب... بالف... دیگر اکتسابِ گناہ پر مجبور ہو جاتا ہے۔ غرض خواب اور سکر و بے خودی ایک امن و راحت کی حالت ہے بمقابلہ بیداری اور سو (؟) کے۔
مجھے بتائیں، جب کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کو انجیکشن دیا جاتا ہے نا اس کا؟ ہاں جی۔ نیند کا۔ کیوں؟ بس اس سے آزاد ہو جا... اس کو نیند میں تو پتہ نہیں ہوتا نا کہ مجھے بیماری ہے یا... وہ... مطلب ہے کہ درد ہے یا کوئی اس طرح، وہ نیند... تو اس کو آرام مل جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو یہ بات ہے۔
سر پہ آئے جیسے نورِ صبح دماور سنہری گدھ اڑے پھر دم بدم
ہاں جی۔ یعنی جونہی صبح کی روشنی پھیلنے لگتی ہے اور سنہری گدھ اڑنے لگتے ہیں، یعنی سورج طلوع ہو جاتا ہے، نیند سے سب کو جگاتا ہے تو پ... جگاتا ہے تو پھر، صورِ اسرافیل دکھاتا ہے تو پھر۔ تو خداوندِ تعالیٰ جو صبح کو پیدا کرنے والا ہے، اسرافیل علیہ السلام کی طرح سب کو عالمِ مثال کے بیچو... ولایت سے عالمِ صورت میں لاتا ہے، یعنی عالمِ اجسام میں۔ یعنی اسرافیل علیہ السلام کے دوبارہ صور پھونکنے کی تشبیہ مقصود ہے۔ یعنی صبح کو سب کے لوگ... سب لوگ جو پہلے نیند میں مردہ ہوتے ہیں، حرکت سے، اس طرح بیدار... جس طرح اسرافیل علیہ السلام کے دوبارہ صور پھونکنے سے مردے زندہ ہو جائیں گے۔
سونے والوں کو عالمِ صورت میں لانے سے جگانا مراد ہے۔ دو دن یا تین دن کچھ اس طرح میرے خیال میں میری لائف میں گزرے جس میں مجھے پوری رات نیند نہیں آئی تھی۔ وہ... تو اس وقت جب میں... نیند تو مجھے نہیں آئی تھی، تو میں نماز کے لیے جب جا رہا تھا صبح کے وقت، تو جو... جو لوگ سو کے اٹھے تھے نا، اور آ رہے تھے مسجد میں نماز کے لیے، تو ان کے چہرے پہ بڑا سکون تھا۔ اور میں بڑا رشک کر رہا تھا میں نے کہا یہ سو کے آئے ہوئے۔ مطلب اس نیند کی ہمیں قدر نہیں ہوتی نا کہ روزانہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیتے۔ ہاں جی۔ بہت بڑی نعمت ہے اور واقعی جس کو نیند نہیں آتی وہ کتنا پریشان ہوتا ہے۔ وہ بیچارہ تو... وہ مجھے خود ایک... کچھ ساتھی اس طرح تھے جن کو یہ شور، مشینوں کا، کچھ زیادہ... مشینوں نے... شور میں کام کرنا پڑا تو ان کا دماغ متاثر ہو گیا اور نیند پھر ان کو نہیں آتی تھی۔ تو وہ کہتے تھے کہ ہم جب نیند کی گولی کھا لیتے ہیں نا، تو تھوڑا سا غنودگی جو آ جاتی ہے، ہم کہتے ہیں غنودگی بڑھ جائے اور مطلب ہے نیند کی طرف چلے، لیکن پھر وہ نہیں جاتی۔ تو بس وہی چیز ہم مزے لے لیتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز مفت میں اللہ پاک روزانہ دیتے ہیں ہم کو۔ کیوں ڈاکٹر صاحب؟ کیا کہتے ہیں انسومنیا (Insomnia)؟ تو کتنا پرابلمیٹک (problematic) چیز ہے مطلب جو ہے نا انسان۔
صحیح بات ہے وہ بہت پریشانی والی بات ہوتی ہے۔ تو یہ... بہرحال تک کہ بعض لوگ خودکشی کر لیتے ہیں مطلب... یعنی یہ اس میں بہت مشکل زندگی ہوتی ہے۔ یہ مائیکل جیکسن (Michael Jackson) جو تھا یہ اس کو نیند نہیں آتی تھی۔ تو یہ اپنے آپ کو نیند کے انجکشن لگواتا تھا۔ تو اس کی موت جو ہوئی تھی وہ زیادہ... وہ ویلیو (value)... جو مقدار ڈرگز (drugs) وہ لینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ جب سوتا تھا تو ان کی آنکھیں کھلی ہوتی تھیں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ ان کا... وہ... کیونکہ وہ صرف ان کے ایک جسم سن ہو جاتا تھا نا، بس اس کو وہ نیند کہتے تھے۔ باقی جو ہے نا مطلب وہ... یعنی اس کی آنکھیں کھلی ہوتی تھیں۔
یہ جو ہے نا مطلب یہ جو خواہشات ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ جو انسان کے نفس کے جو خواہشات ہیں مختلف، تو یہ جو ہے نا مطلب گویا کہ اگر آپ اس کو ایک ایک کر کے بند کرنا شروع کر لیں... مثلاً یہ کہ اپنے نفس کو، اپنے جو ہے نا وہ آپ... جیسے میں اکثر غضِ بصر کا جو ہے نا وہ مجاہدہ دیا کرتا ہوں کہ آپ کسی ب... بند جگہ پہ بیٹھ کر، وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ پانچ منٹ نیچے دیکھیں۔ بالکل کچھ نہ کریں بس صرف نیچے دیکھیں۔ پھر اگلے دن چھ منٹ، پھر اگلے دن سات منٹ، اگلے دن آٹھ منٹ۔ اس طرح بڑھاتے بڑھاتے پچیس منٹ کر لیں۔ ماشاءاللہ آپ کو اب... لوگوں کے درمیان رہ کر نیچے دیکھنے کا، اتنا ماشاءاللہ ہو گیا، یہ اس کو گویا کہ اتنا نفس کنٹرول ہو گیا۔ اس طرح کان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح زبان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح دماغ کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح مر... ہاتھ پاؤں کا... اب یہ جو مجاہدات آپ ایک کر کے... تو یہ اصل میں نفس سے چھڑانے والی چیزیں ہیں روح کا۔ کہ روح جو ہے نا مطلب آپ اس کو آزاد کر رہے ہیں۔
تو مطلب یہ ہے کہ اس میں جو مقامات ہیں، مق... مقامِ توبہ، مقامِ انابت، مقامِ قناعت، مقامِ ریاضت، مقامِ تقویٰ، مقامِ صبر، مقامِ زہد، مقامِ توکل، مقامِ تسلیم، مقامِ رضا... یہ تمام مقامات، یہ کیا ہیں؟ یہ نفس کے خلاف مجاہدات ہیں۔ جس کے ذریعے سے آپ یہ مقامات... رذائل کو دبا رہے ہیں اور آپ مقامات حاصل کر رہے ہیں۔ تو یہ جب سارے حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کا نفس روح سے آزاد ہو گیا۔ اس کو ہم کہتے ہیں سیر اِلَی اللّٰہ۔ ہاں جی سیر اِلَی اللّٰہ۔ اب جب یہ روح ن... نفس سے آزاد ہو گیا تو روح جو ہے نا جہاں جانا چاہتا ہے وہاں جا سکتا ہے۔ تو ملأِ اعلیٰ کے ساتھ مل جائے گا۔ نتیجتاً، نتیجتاً دو لطائف کھل جائیں گے... ایک لطیفۂ روح، ایک لطیفۂ سر۔ اور ماشاءاللہ ملأِ اعلیٰ سے اس کو سا... چیزیں... یہ مشاہدات شروع ہو جائیں گے۔ ٹھیک ہے نا۔
تو اب یہ... یہ جو ہے نا مطلب یہ... تو یہ مجد... مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تھیسز (thesis) ہے۔ یہاں پر میں کہتا ہوں... "حرص سے فارغ وہاں ہوتی ہے یہ..." وہ تو انسان مجاہدے سے کرتا ہے۔ یہاں پر روز اس کے ساتھ ہوتا ہے خواب میں۔ یعنی خواب میں آزاد ہو جاتا ہے۔ خواب میں روح جو ہوتا ہے نفس سے آزاد ہو جاتا ہے۔ لہذا روح جو ہے نا مطلب آزاد پھرتی ہے۔
چھوٹ پرندہ جائے جیسے جال سےترکِ روز نے جب سنہری ڈھال سے، رات کا ہندو کاٹ دیا تلوار سے
مطلب جو یعنی گویا کہ صبح ہو گئی۔ ترکِ روز مطلب یہ ہے کہ روز جو دن ہے وہ چڑھ گیا، سورج سنہری ڈھال۔ اس نے رات کے ہندو... یعنی رات کو، تاریکی کو کاٹ دیا۔ اور یہ سورج... ہو گیا۔
روح کا میلان تن کی جانب ہو گیاسویا تھا جب وہ بیدار اب ہو گیا
ہاں... یعنی تو ہر جا... تو ہر جان کا میلان بدن کی طرف ہو جاتا ہے اور ہر بدن روح سے باردار ہو جاتی ہے۔
پھر شکاری جیسے جال بچھائے توروح کو تکلیف دہ جال میں پھر لائے تو
اب دوبارہ پھر نفس کے شکاری نے جال بچھایا روح کے لیے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو روح کو پھر دوبارہ تکلیف دہ جال میں لایا تو۔ یعنی روح کا تصرف تمام قوائے و... بدنی میں بال... بیداری ہوتا ہے۔ پھر جب نیند آئی تو یہ تصرف جاتا رہتا ہے اور تمام قویٰ معطل و بیکار ہو کر آرام کرتے رہتے ہیں۔ پس بیداری کی حالت ان قویٰ کے لیے ایک طوفانِ مشقت یا تکلیف دہ جال ہے۔ یا تو اس لحاظ سے کہ ان کو اس حالت میں روح کی خدمت گزاری کرنی پڑتی ہے، یا اس کی جہت کہ اس وقت وہ طبعاً امورِ رذیلہ و سفلیہ میں تصرفات کرنے ب... بالف... دیگر اکتسابِ گناہ پر مجبور ہو جاتا ہے۔ غرض خواب اور سکر و بے خودی ایک امن و راحت کی حالت ہے بمقابلہ بیداری اور سو (؟) کے۔
مجھے بتائیں، جب کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کو انجیکشن دیا جاتا ہے نا اس کا؟ ہاں جی۔ نیند کا۔ کیوں؟ بس اس سے آزاد ہو جا... اس کو نیند میں تو پتہ نہیں ہوتا نا کہ مجھے بیماری ہے یا... وہ... مطلب ہے کہ درد ہے یا کوئی اس طرح، وہ نیند... تو اس کو آرام مل جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو یہ بات ہے۔
سر پہ آئے جیسے نورِ صبح دماور سنہری گدھ اڑے پھر دم بدم
ہاں جی۔ یعنی جونہی صبح کی روشنی پھیلنے لگتی ہے اور سنہری گدھ اڑنے لگتے ہیں، یعنی سورج طلوع ہو جاتا ہے، نیند سے سب کو جگاتا ہے تو پ... جگاتا ہے تو پھر، صورِ اسرافیل دکھاتا ہے تو پھر۔ تو خداوندِ تعالیٰ جو صبح کو پیدا کرنے والا ہے، اسرافیل علیہ السلام کی طرح سب کو عالمِ مثال کے بیچو... ولایت سے عالمِ صورت میں لاتا ہے، یعنی عالمِ اجسام میں۔ یعنی اسرافیل علیہ السلام کے دوبارہ صور پھونکنے کی تشبیہ مقصود ہے۔ یعنی صبح کو سب کے لوگ... سب لوگ جو پہلے نیند میں مردہ ہوتے ہیں، حرکت سے، اس طرح بیدار... جس طرح اسرافیل علیہ السلام کے دوبارہ صور پھونکنے سے مردے زندہ ہو جائیں گے۔
سونے والوں کو عالمِ صورت میں لانے سے جگانا مراد ہے۔ دو دن یا تین دن کچھ اس طرح میرے خیال میں میری لائف میں گزرے جس میں مجھے پوری رات نیند نہیں آئی تھی۔ وہ... تو اس وقت جب میں... نیند تو مجھے نہیں آئی تھی، تو میں نماز کے لیے جب جا رہا تھا صبح کے وقت، تو جو... جو لوگ سو کے اٹھے تھے نا، اور آ رہے تھے مسجد میں نماز کے لیے، تو ان کے چہرے پہ بڑا سکون تھا۔ اور میں بڑا رشک کر رہا تھا میں نے کہا یہ سو کے آئے ہوئے۔ مطلب اس نیند کی ہمیں قدر نہیں ہوتی نا کہ روزانہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیتے۔ ہاں جی۔ بہت بڑی نعمت ہے اور واقعی جس کو نیند نہیں آتی وہ کتنا پریشان ہوتا ہے۔ وہ بیچارہ تو... وہ مجھے خود ایک... کچھ ساتھی اس طرح تھے جن کو یہ شور، مشینوں کا، کچھ زیادہ... مشینوں نے... شور میں کام کرنا پڑا تو ان کا دماغ متاثر ہو گیا اور نیند پھر ان کو نہیں آتی تھی۔ تو وہ کہتے تھے کہ ہم جب نیند کی گولی کھا لیتے ہیں نا، تو تھوڑا سا غنودگی جو آ جاتی ہے، ہم کہتے ہیں غنودگی بڑھ جائے اور مطلب ہے نیند کی طرف چلے، لیکن پھر وہ نہیں جاتی۔ تو بس وہی چیز ہم مزے لے لیتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز مفت میں اللہ پاک روزانہ دیتے ہیں ہم کو۔ کیوں ڈاکٹر صاحب؟ کیا کہتے ہیں انسومنیا (Insomnia)؟ تو کتنا پرابلمیٹک (problematic) چیز ہے مطلب جو ہے نا انسان۔
صحیح بات ہے وہ بہت پریشانی والی بات ہوتی ہے۔ تو یہ... بہرحال تک کہ بعض لوگ خودکشی کر لیتے ہیں مطلب... یعنی یہ اس میں بہت مشکل زندگی ہوتی ہے۔ یہ مائیکل جیکسن (Michael Jackson) جو تھا یہ اس کو نیند نہیں آتی تھی۔ تو یہ اپنے آپ کو نیند کے انجکشن لگواتا تھا۔ تو اس کی موت جو ہوئی تھی وہ زیادہ... وہ ویلیو (value)... جو مقدار ڈرگز (drugs) وہ لینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ جب سوتا تھا تو ان کی آنکھیں کھلی ہوتی تھیں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ ان کا... وہ... کیونکہ وہ صرف ان کے ایک جسم سن ہو جاتا تھا نا، بس اس کو وہ نیند کہتے تھے۔ باقی جو ہے نا مطلب وہ... یعنی اس کی آنکھیں کھلی ہوتی تھیں۔
روح کو اصحابِ کہف سا روکتےیا کہ بچتے ہم کشتی نوح جیسے
کاش کہ اصحابِ کہف کی طرح صدیوں تک روح کو عالمِ مثال میں محفوظ رکھتا، یہاں نہ آنے دیتا۔ یا اس کشتی کی طرح کم از کم چند ماہ کے لیے محفوظ رکھتا، جس نے نوح علیہ السلام کو محفوظ رکھا۔ قیدِ حیات کی وجہ سے جو دنیا کی طرف متوجہ ہونا اور ماسوا کی طرف التفات کرنا پڑتا ہے، اس سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش اصحابِ کہف کی طرح غیر محدود مدت تک دنیا میں نہ آتے، یا نوح علیہ السلام کی طرح کچھ محدود مدت کے لیے ہی دنیا کے طوفانِ علائق سے نجات ملتی۔
روح کو تسلی اسی میں ہے کہ وہواپس آتے ہیں، کتاب ِ کل میں وہ
یعنی روح کو تسلی اسی میں ہے کہ وہ... مطلب ہے کہ انکار (؟) کہ... تو یہ اپنے جال سے نکل جاتا ہے۔ اس پر بات مجھے یاد آ گئی حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی۔
(حضرت والا دوبارہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات کی طرف لوٹتے ہیں)مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روح جو ہے نا عاشق ہے اللہ کا۔ اور جب اس کو نفس... جب اس کو جسم میں بھیج دیا گیا تو نفس نے اس کو جکڑ لیا۔ اب اس سے نفس کام کرواتا ہے، نفس کے لیے وہ استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ نفس سے اگر... مطلب یہ چونکہ بالکل اس میں ختم ہو گیا، مطلب مدغم ہو گیا، تو اس کو بھول... وہ بھول گیا کہ میں بھی اللہ کا عاشق تھا۔ وہ نفس کے مان کے چلتا ہے۔ فرمایا کہ یہ جو جذب کی کیفیت ہے... ذکر، اذکار، مراقبات... اس سے روح کو پتہ چلتا ہے کہ میں تو اللہ کا عاشق تھا۔ تو اس کو جب اس کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں تو اللہ کا عاشق تھا تو پھر وہ آزادی چاہتا ہے اس سے، رو... نفس سے آزادی چاہتا ہے۔ لیکن نفس اس کو چھوڑتا نہیں ہے۔ اس سے چھڑانے کے لیے آپ کو اس کی ہیلپ (help) کرنی پڑے گی۔ اور وہ ہے "سیر اِلَی اللّٰہ"۔ یعنی ن... سلوک طے کرنا۔ سلوک طے کرنا یعنی مجاہدات ہوتے ہیں، یہی اس کی ہیلپ ہے نا کہ مجاہدہ نفس کی مخالفت میں ہے، تو مجاہدے سے نفس زیر ہوتا ہے۔ تو وہ مجاہدے کے ذریعے سے آپ گویا کہ نفس کے ہاتھ پیر باندھ لیتے ہیں۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں اس کی۔ نفس کیا ہے؟ نفس حس... حس ہے، مطلب جو ہے نا مختلف قسم حس ہیں۔ آنکھ میں بھی حس ہے، کان میں بھی حس ہے، زبان میں بھی حس ہے، دماغ میں بھی حس ہے، ہاں جی مطلب ہاتھ پاؤں میں بھی حس ہے۔ اب یہ جو حسیں ہیں مختلف جگہوں پہ، ان کی خواہشات بھی ہیں۔ آنکھ کی اپنی خواہش ہے، لذت جو اس کو چیز جس چیز میں ملتی ہے وہ چاہتی ہے۔ کان میں اپنی خواہشات ہیں، زبان میں اپنی خواہشات ہیں۔ اب یہ جو ہے نا مطلب یہ جو خواہشات ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ جو انسان کے نفس کے جو خواہشات ہیں مختلف، تو یہ جو ہے نا مطلب گویا کہ اگر آپ اس کو ایک ایک کر کے بند کرنا شروع کر لیں... مثلاً یہ کہ اپنے نفس کو، اپنے جو ہے نا وہ آپ... جیسے میں اکثر غضِ بصر کا جو ہے نا وہ مجاہدہ دیا کرتا ہوں کہ آپ کسی ب... بند جگہ پہ بیٹھ کر، وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ پانچ منٹ نیچے دیکھیں۔ بالکل کچھ نہ کریں بس صرف نیچے دیکھیں۔ پھر اگلے دن چھ منٹ، پھر اگلے دن سات منٹ، اگلے دن آٹھ منٹ۔ اس طرح بڑھاتے بڑھاتے پچیس منٹ تک آپ اس کو پہنچا دیں، یعنی بیس دن میں۔ پھر باہر آ کر اس کے اندر جو ثمر ہے، جو مجاہدہ کا جو ثمر ہے، باہر آپ پانچ منٹ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نیچے دیکھیں۔ یہ اس کو گویا کہ اتنا نفس کنٹرول ہو گیا۔ اس طرح کان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح زبان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح دماغ کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح مر... ہاتھ پاؤں کا... اب یہ جو مجاہدات آپ ایک کر کے... تو یہ اصل میں نفس سے چھڑانے والی چیزیں ہیں روح کا۔ کہ روح جو ہے نا مطلب آپ اس کو آزاد کر رہے ہیں۔
تو مطلب یہ ہے کہ اس میں جو مقامات ہیں، مق... مقامِ توبہ، مقامِ انابت، مقامِ قناعت، مقامِ ریاضت، مقامِ تقویٰ، مقامِ صبر، مقامِ زہد، مقامِ توکل، مقامِ تسلیم، مقامِ رضا... یہ تمام مقامات، یہ کیا ہیں؟ یہ نفس کے خلاف مجاہدات ہیں۔ جس کے ذریعے سے آپ یہ مقامات... رذائل کو دبا رہے ہیں اور آپ مقامات حاصل کر رہے ہیں۔ تو یہ جب سارے حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کا نفس روح سے آزاد ہو گیا۔ اس کو ہم کہتے ہیں سیر اِلَی اللّٰہ۔ ہاں جی سیر اِلَی اللّٰہ۔ اب جب یہ روح ن... نفس سے آزاد ہو گیا تو روح جو ہے نا جہاں جانا چاہتا ہے وہاں جا سکتا ہے۔ تو ملأِ اعلیٰ کے ساتھ مل جائے گا۔ نتیجتاً، نتیجتاً دو لطائف کھل جائیں گے... ایک لطیفۂ روح، ایک لطیفۂ سر۔ اور ماشاءاللہ ملأِ اعلیٰ سے اس کو سا... چیزیں... یہ مشاہدات شروع ہو جائیں گے۔ ٹھیک ہے نا۔
تو اب یہ... یہ جو ہے نا مطلب یہ... تو یہ مجد... مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تھیسز (thesis) ہے۔ یہاں پر میں کہتا ہوں... "حرص سے فارغ وہاں ہوتی ہے یہ..." وہ تو انسان مجاہدے سے کرتا ہے۔ یہاں پر روز اس کے ساتھ ہوتا ہے خواب میں۔ یعنی خواب میں آزاد ہو جاتا ہے۔ خواب میں روح جو ہوتا ہے نفس سے آزاد ہو جاتا ہے۔ لہذا روح جو ہے نا مطلب آزاد پھرتی ہے۔
چھوٹ پرندہ جائے جیسے جال سےترکِ روز نے جب سنہری ڈھال سے، رات کا ہندو کاٹ دیا تلوار سے
مطلب جو یعنی گویا کہ صبح ہو گئی۔ ترکِ روز مطلب یہ ہے کہ روز جو دن ہے وہ چڑھ گیا، سورج سنہری ڈھال۔ اس نے رات کے ہندو... یعنی رات کو، تاریکی کو کاٹ دیا۔ اور یہ سورج... ہو گیا۔
روح کا میلان تن کی جانب ہو گیاسویا تھا جب وہ بیدار اب ہو گیا
ہاں... یعنی تو ہر جا... تو ہر جان کا میلان بدن کی طرف ہو جاتا ہے اور ہر بدن روح سے باردار ہو جاتی ہے۔
پھر شکاری جیسے جال بچھائے توروح کو تکلیف دہ جال میں پھر لائے تو
اب دوبارہ پھر نفس کے شکاری نے جال بچھایا روح کے لیے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو روح کو پھر دوبارہ تکلیف دہ جال میں لایا تو۔ یعنی روح کا تصرف تمام قوائے و... بدنی میں بال... بیداری ہوتا ہے۔ پھر جب نیند آئی تو یہ تصرف جاتا رہتا ہے اور تمام قویٰ معطل و بیکار ہو کر آرام کرتے رہتے ہیں۔ پس بیداری کی حالت ان قویٰ کے لیے ایک طوفانِ مشقت یا تکلیف دہ جال ہے۔ یا تو اس لحاظ سے کہ ان کو اس حالت میں روح کی خدمت گزاری کرنی پڑتی ہے، یا اس کی جہت کہ اس وقت وہ طبعاً امورِ رذیلہ و سفلیہ میں تصرفات کرنے ب... بالف... دیگر اکتسابِ گناہ پر مجبور ہو جاتا ہے۔ غرض خواب اور سکر و بے خودی ایک امن و راحت کی حالت ہے بمقابلہ بیداری اور سو (؟) کے۔
مجھے بتائیں، جب کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کو انجیکشن دیا جاتا ہے نا اس کا؟ ہاں جی۔ نیند کا۔ کیوں؟ بس اس سے آزاد ہو جا... اس کو نیند میں تو پتہ نہیں ہوتا نا کہ مجھے بیماری ہے یا... وہ... مطلب ہے کہ درد ہے یا کوئی اس طرح، وہ نیند... تو اس کو آرام مل جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو یہ بات ہے۔
سر پہ آئے جیسے نورِ صبح دماور سنہری گدھ اڑے پھر دم بدم
ہاں جی۔ یعنی جونہی صبح کی روشنی پھیلنے لگتی ہے اور سنہری گدھ اڑنے لگتے ہیں، یعنی سورج طلوع ہو جاتا ہے، نیند سے سب کو جگاتا ہے تو پ... جگاتا ہے تو پھر، صورِ اسرافیل دکھاتا ہے تو پھر۔ تو خداوندِ تعالیٰ جو صبح کو پیدا کرنے والا ہے، اسرافیل علیہ السلام کی طرح سب کو عالمِ مثال کے بیچو... ولایت سے عالمِ صورت میں لاتا ہے، یعنی عالمِ اجسام میں۔ یعنی اسرافیل علیہ السلام کے دوبارہ صور پھونکنے کی تشبیہ مقصود ہے۔ یعنی صبح کو سب کے لوگ... سب لوگ جو پہلے نیند میں مردہ ہوتے ہیں، حرکت سے، اس طرح بیدار... جس طرح اسرافیل علیہ السلام کے دوبارہ صور پھونکنے سے مردے زندہ ہو جائیں گے۔
سونے والوں کو عالمِ صورت میں لانے سے جگانا مراد ہے۔ دو دن یا تین دن کچھ اس طرح میرے خیال میں میری لائف میں گزرے جس میں مجھے پوری رات نیند نہیں آئی تھی۔ وہ... تو اس وقت جب میں... نیند تو مجھے نہیں آئی تھی، تو میں نماز کے لیے جب جا رہا تھا صبح کے وقت، تو جو... جو لوگ سو کے اٹھے تھے نا، اور آ رہے تھے مسجد میں نماز کے لیے، تو ان کے چہرے پہ بڑا سکون تھا۔ اور میں بڑا رشک کر رہا تھا میں نے کہا یہ سو کے آئے ہوئے۔ مطلب اس نیند کی ہمیں قدر نہیں ہوتی نا کہ روزانہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیتے۔ ہاں جی۔ بہت بڑی نعمت ہے اور واقعی جس کو نیند نہیں آتی وہ کتنا پریشان ہوتا ہے۔ وہ بیچارہ تو... وہ مجھے خود ایک... کچھ ساتھی اس طرح تھے جن کو یہ شور، مشینوں کا، کچھ زیادہ... مشینوں نے... شور میں کام کرنا پڑا تو ان کا دماغ متاثر ہو گیا اور نیند پھر ان کو نہیں آتی تھی۔ تو وہ کہتے تھے کہ ہم جب نیند کی گولی کھا لیتے ہیں نا، تو تھوڑا سا غنودگی جو آ جاتی ہے، ہم کہتے ہیں غنودگی بڑھ جائے اور مطلب ہے نیند کی طرف چلے، لیکن پھر وہ نہیں جاتی۔ تو بس وہی چیز ہم مزے لے لیتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز مفت میں اللہ پاک روزانہ دیتے ہیں ہم کو۔ کیوں ڈاکٹر صاحب؟ کیا کہتے ہیں انسومنیا (Insomnia)؟ تو کتنا پرابلمیٹک (problematic) چیز ہے مطلب جو ہے نا انسان۔
صحیح بات ہے وہ بہت پریشانی والی بات ہوتی ہے۔ تو یہ... بہرحال تک کہ بعض لوگ خودکشی کر لیتے ہیں مطلب... یعنی یہ اس میں بہت مشکل زندگی ہوتی ہے۔ یہ مائیکل جیکسن (Michael Jackson) جو تھا یہ اس کو نیند نہیں آتی تھی۔ تو یہ اپنے آپ کو نیند کے انجکشن لگواتا تھا۔ تو اس کی موت جو ہوئی تھی وہ زیادہ... وہ ویلیو (value)... جو مقدار ڈرگز (drugs) وہ لینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ جب سوتا تھا تو ان کی آنکھیں کھلی ہوتی تھیں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ ان کا... وہ... کیونکہ وہ صرف ان کے ایک جسم سن ہو جاتا تھا نا، بس اس کو وہ نیند کہتے تھے۔ باقی جو ہے نا مطلب وہ... یعنی اس کی آنکھیں کھلی ہوتی تھیں۔
روح کو اصحابِ کہف سا روکتےیا کہ بچتے ہم کشتی نوح جیسے
کاش کہ اصحابِ کہف کی طرح صدیوں تک روح کو عالمِ مثال میں محفوظ رکھتا، یہاں نہ آنے دیتا۔ یا اس کشتی کی طرح کم از کم چند ماہ کے لیے محفوظ رکھتا، جس نے نوح علیہ السلام کو محفوظ رکھا۔ قیدِ حیات کی وجہ سے جو دنیا کی طرف متوجہ ہونا اور ماسوا کی طرف التفات کرنا پڑتا ہے، اس سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش اصحابِ کہف کی طرح غیر محدود مدت تک دنیا میں نہ آتے، یا نوح علیہ السلام کی طرح کچھ محدود مدت کے لیے ہی دنیا کے طوفانِ علائق سے نجات ملتی۔
روح کو تسلی اسی میں ہے کہ وہواپس آتے ہیں، کتاب ِ کل میں وہ
یعنی روح کو تسلی اسی میں ہے کہ وہ... مطلب ہے کہ انکار (؟) کہ... یعنی یہ کہ وہ واپس عالمِ مثال میں جا سکیں گے۔ یہ کتابِ کل سے مراد لوحِ محفوظ ہے۔ یعنی ان کے مقدر میں واپسی بھی ہے۔
(لذتوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت والا فرماتے ہیں)حتیٰ کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب بات کی، پتہ نہیں اس کی طرف مجدد صاحب کا ہی ذہن جا سکتا تھا۔ ہاں جی۔ فرمایا کہ یہ حدیث شریف میں... فرمایا کہ یہ جو ہے نا یہ آتا ہے کہ جو ہے نا وہ ازواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہیں گی جنت میں۔ کیونکہ جو نیک بیوی ہو گی وہ بھی جنت میں اکٹھی رہے گی۔ تو ازواجِ مطہرات بھی، امہات المؤمنین، وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ فرمایا لیکن امہات المؤمنین تو اولیاء ہیں، انبیاء تو نہیں ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں اور نبی بھی خیر... خاتم النبیین۔ تو ان کا مقام برابر تو نہیں ہے۔ تو یہ کیسے ہو گا کہ ایک ہی جیسی چیزیں خاتم النبیین کو اور اولیاء کو ملیں گی... ملیں... اولیاء کو ملیں گی؟ فرمایا ایسا نہیں ہے۔ فرمایا ایک ہی کھانا ہو گا وہاں پر، لیکن جو لذت خاتم النبیین کو اس میں ملے گی وہ اولیاء کو نہیں ملے گی۔ ایک ہی چیز کھائیں گے۔ فرماتے ہیں کہ یہ جو لذت ہو گی وہ بھی اس کے مقام کے حساب سے ہو گی۔
تو اب بتاؤ یہاں اس کی کیسی مثال ہم دے سکتے ہیں؟ ہاں جی۔ جو لذت ہے وہ بھی اس کے... یہاں پر اللہ پاک نے دکھایا تھا کہ فرعون، قبطی جو تھے اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم... فرعون کے اوپر... قبطیوں کے اوپر جو عذاب آیا تھا کہ خون ہر چیز میں خون۔ تو وہ اپنے ساتھ کھانے میں شامل کر لیتے اسرائیلیوں کو کہ چلو ان کے لیے خون نہیں ہو گا تو ہم بھی کھا لیں گے اس سے، ان کو ساتھ کھلاتے۔ تو ایک ہی برتن میں اسرائیلیوں کی طرف دہی (یا صحیح) کھانا ہوتا تھا، ان کی طرف خون ہوتا تھا۔ بس ٹھیک ہے چونکہ اللہ پاک کا فیصلہ تھا تو وہ اس کو چینج تو نہیں کر سکتے۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ وہاں پر ہر شخص کے مقام کے حساب سے ان چیزوں میں لذت ہو گی۔ ہر شخص کے مقام کے حساب سے ہو گا۔ جو جس کا مقام ہے اس کے حساب سے ہو گا۔ ہاں جی۔
لیک ایک لمبی رسی سے باندھ دیتاکہ دن کے وقت واپس آئے بھی
لیکن جب وہ رات پھر زین و بستہ (؟) ہوتے ہیں، اس رسی کو وہ دن کو واپس لائے، ان کے پاؤں میں قیدِ حیات کی ایک لمبی رسی باندھ لیتا ہے۔ ہمارے ایک ساتھی ہیں، بڑے نیک آدمی ہیں اور ماشاءاللہ بہت بڑے افسر ہیں۔ میرے تو شاگرد ہیں، ہاں جی، مولانا عزیز الرحمن (صاحب) سب کے مرید تھے۔ تو ایک دفعہ کہنے لگے کہ میں نے خواب دیکھا، خواب میں یہ بڑی لمبی، اونچی اونچی عمارتیں ہیں۔ کہتے میں ایک عمارت سے دوسری عمارت، بالکل ایسے چل کے جاتا ہوں یعنی جیسے ادھر قدم رکھا تو دوسری عمارت پہ رکھا۔ تو کہتے میں سوچ رہا ہوں کمال ہے مجھ میں اتنی جرأت کیسے آ گئی کہ میں اس طرح ایک عمارت سے ایک قدم دوسرے قدم... عمارت پہ رکھ لیتا ہوں، یعنی گرنے کا خوف نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے؟ کہتے میں نے دیکھا کہ میرے پاؤں کے ساتھ زنجیر بندھی ہوئی ہے اور وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہے بندھی ہوئی۔ یعنی مولانا عزیز الرحمن صاحب کے ساتھ اور آپ کے ساتھ وہ بندھی ہوئی ہے، لہذا مجھے گرنے کا خوف نہیں ہے۔
آپ دیکھیں مطلب یہ ہے کہ یہ نظامِ حفاظت ہے نا۔ تو ان کو بڑے اونچے اونچے عہدوں پہ کام کروائے گئے نا۔ تو یہ اونچی عمارتیں ہیں نا۔ یہ اونچی عمارتیں، تو اونچی عمارتوں پہ، بڑے عہدوں پہ تو انسان خراب ہو سکتا ہے نا۔ تو گویا خواب میں تمثیل ہے کہ خراب نہیں ہو گا، یعنی ان کو پروا نہیں ہو گی کیونکہ ظاہر ہے اللہ پاک نے ان کی حفاظت کا بندوبست فرما دیا ہے۔ تو یہاں پر بھی ہے کہ وہ لمبی رسی، نیند میں بھی ہوتی ہے کہ وہ روح کا اس سے نظام واپس آئے گا ادھر۔
یہ رسی موجود ہے اس واسطےلائے واپس سو اس پہ بوجھ لاد دے
یہ رسی اس لیے پاؤں میں رکھتا ہے کہ دن میں اس کو سبزہ زارِ عالمِ مثال سے کھینچ لائے اور چراگاہِ خواب سے اس کو واپس لا کر کاروبارِ دنیا کا بوجھ اس پر لاد ڈالے۔ جس طرح گھوڑا کچھ دیر کے لیے چراگاہ میں چرنے کے لیے کھلا چھوڑا جاتا ہے لیکن ایک رسی اس کے پاؤں میں باندھ رکھتے ہیں تاکہ جب چاہیں اس کو چراگاہ سے واپس لائیں۔ اس طرح سونے والے کی روح چراگاہِ عالمِ مثال میں آزاد پھرتی ہے، لیکن جسمِ عنصری کے تعلق کی رسی، جس کو قیدِ حیات کہنا چاہیے، اس کے پاؤں میں پڑی ہے۔ اذانِ مسجد یا کوئی اور بیدار کن تحریک اس رسی کو جھٹکا دیتی ہے، تو روح فوراً اس ٹھکانے پر واپس موجود ہوتی ہے۔ خاصانِ خدا اور عارفانِ حق کی مثال بھی یہی ہے کہ ان کی روح کا تعلق بھی دو عالموں سے ہے، ایک عالمِ دنیا سے، دوسرا عالمِ معرفت سے۔ جس میں وہ جمالِ حقیقی کے مشاہدے میں مستغرق ہوتے ہیں۔ طنابِ حیات ان کے پاؤں میں پڑی ہے جو اس عالم میں ان کو کھینچ لاتی ہے۔ مگر فرق یہ کہ سونے والے کے عالمِ دنیا کا تعلق بیداری سے (؟) بیداری کہلاتا ہے، بخلاف اس کے عارفوں کے لیے دنیا کا تعلق خواب اور عالمِ مشاہدات ان کی عین بیداری اور ہوشیاری ہے۔
یعنی دنیا کا تعلق خواب کی طرح ہے۔ جیسے خواب میں ہوں، یعنی بے خودی۔ اور عالمِ مشاہدات جو ہے نا ان کی عین بیداری اور ہوشیاری ہے، جو ان کو مشاہدے ہو رہے ہیں۔
روح کو اصحابِ کہف سا روکتےیا کہ بچتے ہم کشتی نوح جیسے
کاش کہ اصحابِ کہف کی طرح صدیوں تک روح کو عالمِ مثال میں محفوظ رکھتا، یہاں نہ آنے دیتا۔ یا اس کشتی کی طرح کم از کم چند ماہ کے لیے محفوظ رکھتا جس نے نوح علیہ السلام کو محفوظ رکھا۔ قیدِ حیات کی وجہ سے جو دنیا کی طرف متوجہ ہونا اور ماسوا کی طرف التفات کرنا پڑتا ہے، اس سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش اصحابِ کہف کی طرح غیر محدود مدت تک دنیا میں نہ آتے، یا نوح علیہ السلام کی طرح کچھ محدود مدت کے لیے ہی دنیا کے طوفانِ علائق سے نجات ملتی۔
یعنی اے عزیز تو ان اصحابِ کہف کے پیچھے مر رہا ہے، حالانکہ تیرے پاس... تیرے اصحابِ کہف اس جہان میں بھی، اسی زمانے کے اندر تیرے ہم پہلو موجود ہیں۔ یعنی عارفین۔ تو کہہ رہا ہے کہ اصحابِ کہف ہمیں کہاں ملیں گے... بھائی اصحابِ کہف کی طرح وہ عالمِ خواب ہی میں ہے، مطلب ان کو مطلب کوئی پروا نہیں ہوئی۔ وہ جو ہے نا مطلب مشاہدے کے وقت زندہ ہیں اور مطلب جو ہے نا وہ دنیا کے آلے کے لیے مردے ہیں۔ یعنی مطلب ہے کہ ان کا جو ہے نا وہ رخ آخرت کی طرف ہے، تو ان آخر... ان کی آخرت کی چیزوں کی طرف تو زندہ ہے، لیکن دنیا کی چیزوں کی طرف مردہ ہیں۔ تو فرمایا اصحابِ کہف آپ کے پاس... بتیری (؟) موجود ہیں۔ ہاں جی۔ اہلِ اللہ اور اصحابِ باطن دنیا میں موجود ہیں مگر لوگ اس سے آگاہ نہیں۔
غار اور یار ہیں ساتھ تیرے ہم سرودتو ہے غافل تب چھپا ان کا وجود
سبحان اللہ! یہ اب حضرت کے مضامین اب شروع ہو گئے نا... مطلب وہ۔ دنیا میں بہت سے اہلِ اللہ تمہارے ساتھ ملے جلے موجود ہیں جو کمالاتِ باطنی میں اصحابِ کہف سے مشابہ ہیں۔ ان کے اوقات بہ لحاظِ جمعیتِ خاطر و شغل بہ خدا، اصحابِ کہف کے غار کے قائم مقام ہیں۔ مگر شناخت کیوں کرو؟ دل شناسا نہیں ہے۔ ہاں نہیں۔
کس وجہ سے ہیں حجابات سوچ ذرامہر کان آنکھوں پہ رب کا ہے تیرا
تو ان کو اس لیے نہیں جانتا کہ تیرے اوپر حجابات ہیں۔ تیرے کان کے اوپر، آنکھوں کے اوپر رب نے مہر لگایا ہوا ہے۔ اپنے دنیا کے شوق کی وجہ سے۔ یہ سوچ کہ حجاباتِ آنکھوں کے کانوں پر خدا کا مہر کس وجہ سے ہے؟ اس سر (secret) کو ائندہ مثال سے سمجھاتے ہیں۔ تو میرا خیال میں ٹائم پورا ہونے والا ہے۔ تو دفترِ اول، حکایت نمبر 18 میں جو مثال آ رہی ہے وہ پھر اس وقت انشاءاللہ وہ کریں گے۔ جس میں خلیفہ وقت نے لیلیٰ سے سوال کیا تھا، اور لیلیٰ نے اس کا جواب دیا تھا۔ وہ سوال یہ تھا کہ کیا وجہ ہے، تمہارے اندر تو اتنا حسن نہیں ہے کہ مجنون تیرے لیے کیوں مر رہا ہے؟ تو لیلیٰ نے اس کو جواب دیا کہ کیونکہ تو مجنون نہیں ہے۔ اس لیے کہ تو مجنون نہیں ہے۔ اگر تو مجنون ہوتا اور مجنون کی نگاہ سے دیکھتے تو پھر پتہ چلتا۔ ہاں جی۔ یہ بات ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ اگر کسی کا... وہ بھی کرتے ہیں نا مطلب... ڈرامہ بھی کرتے ہیں، تو وہ بھی سمجھ... کنجر سمجھ کے... مطلب ان کی اصل ویلیو ہے، تو کہتے ہیں بس ٹھیک ہے۔ مجھے پتہ چل گیا کہ ہماری ویلیو کیا ہے۔
تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ اللہ پاک معاف فرمائے۔ اللہ پاک نے ہمیں بہت اچھی حالت میں رکھا، اس پہ بہت شکر کرنا چاہیے۔ میں یہ فوٹوگرافروں کو دیکھتا ہوں، یہ... میں کہتا ہوں دیکھو محنت یہ بھی کر رہے ہیں لیکن حرام کام پہ محنت کر رہے ہیں۔ پیسے ہم سے زیادہ نہیں کما رہے۔ ہاں جی، کتنا کمائیں گے؟ ہاں جی جو دوسرے دکاندار ہوتے ہیں، انہی کی طرح کما رہے ہوتے ہیں نا، لیکن وہ حلال کما رہے ہیں اور یہ حرام کما رہے ہیں۔ کیا... مطلب وہ ہے۔ اس طرح جو مختلف... جو مختلف جو حرام کام ہوتے ہیں، وہ جو لوگ کرتے ہیں۔ تو وہ بھی اخیر میں بالکل ایسے ہی ہوتے ہیں، کوئی مطلب ان کا نہیں ہوتا۔ خواہ مخواہ اپنے آپ کو... تو جن کو حلال روزی اللہ دے رہے ہیں نا، تو میں کہتا ہوں اس پہ اللہ کا بہت شکر واجب ہے۔ بس وہ ہر وقت شکر ادا کرے کہ یا اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں حلال کھانے کا بندوبست فرما دیا ہے۔ ورنہ ہم کہاں اور ہماری حیثیت کیا؟ پتہ نہیں کس کس چیز کے پیچھے بھاگتے۔ ہاں جی۔ تو یہ اللہ پاک کا بڑا احسان ہے۔ لیکن ان چیزوں کو ہم سمجھتے نہیں ہیں، ہمارا خیال نہیں ہوتا۔
تو یہاں پر بھی فرمایا کہ سونے والوں کو عالمِ صورت میں لانے سے جگانا مراد ہے۔
تب کھلی ارواح ہو جاتے ہیں قیدہر بدن زندہ ہو اس سے، یہ ہے بھید
یعنی وہ کھلی پھرنے والی روحوں کو بدن میں مقید کر دیتا ہے۔ ہاں... دیکھو نا یعنی گویا کہ ارواح پہلے آزاد تھے، جب جسم میں آ گئے یعنی گویا کہ پھر... تو یہ قید ہو گئے۔ ہاں... اور پھر ہر بدن دوبارہ اس سے زندہ ہو جاتا ہے۔ جان آ جاتی ہے۔
روح سے اتارتا ہے جب زینِ بدن
تب کہیں کہ نیند موت کی ہے بہن
مطلب یہ کہ روح سے ہم لوگ زینِ بدن اتارتے ہیں، یعنی بدن چونکہ نفس ہے نا، تو پھر ہم کہتے ہیں کہ جو نیند ہے موت کی بہن ہے۔
روحوں کے گھوڑوں کو (جو کسے کسائے دوڑتے پھرتے تھے) زین سے خالی کر دیتا ہے۔ (یعنی ان کو سیر و گردش سے بند کر دیتا ہے) بس یہی (ساری تقریر) "اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ" کا راز ہے۔
حدیثِ مذکور بیہقی نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺسے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اہلِ جنت سوئیں گے۔
سوال عجیب تھا
تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ "اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ وَلَا یَمُوْتُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ" یعنی ”نیند موت کی بہن ہے اور اہل جنت کو موت نہیں آئے گی۔“
ماشاء اللہ!
اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ یہاں کے حالات کی طرح جنت کے حالات کو نہ سمجھیں نا، جنت تو جنت ہے نا، وہاں تو معاملے الگ ہیں۔ یہاں اسباب اور ہیں وہاں اسباب اور ہیں۔ یہاں کی بات اور ہے وہاں کی بات اور ہے۔ مثال کے طور پر یہاں کھانا کھاتے ہیں تو فضلہ بنتا ہے، وہاں کھانا کھائیں گے تو وہ معطر ہوا بنے گی، اڑے گی۔ اب ظاہر ہے مطلب کہاں۔۔۔
اب یہ جو اللہ پاک نے Cause and Effect کی یہاں صورت بنائی ہے، تو یہ بھی تو اللہ پاک نے اپنی قدرت سے بنائی ہے نا، تو اللہ پاک نے اپنی قدرت سے وہاں Cause and Effect کا ایک اور سلسلہ بنایا ہوتا ہے۔ وہ ضروری تو نہیں ہے کہ وہ ایسے ہی ہو، لذتوں کا، حتیٰ کہ مجدد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک عجیب بات کہی، پتا نہیں اس کی طرف حضرت مجدد صاحب کا ہی ذہن جا سکتا تھا،
یہ فرمایا کہ یہ جو آتا ہے کہ ازواجِ مطہرات آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہیں گی جنت میں، کیونکہ جو نیک بیوی ہوگی وہ بھی جنت میں اکٹھے رہیں گے، تو ازواجِ مطہرات بھی امہات المؤمنین وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ۔ فرمایا لیکن امہات المؤمنین تو اولیاء ہیں، انبیاء تو نہیں ہیں، اور آپ ﷺ نبی ہیں اور نبی بھی خاتم الانبیاء، تو ان کا مقام برابر تو نہیں ہے۔ تو یہ کیسے ہوگا کہ ایک ہی جیسی چیزیں خاتم النبیین کو اور اولیاء کو بھی ملیں گی؟ فرمایا ایسا نہیں ہے۔ فرمایا ایک ہی کھانا ہوگا وہاں پر، لیکن جو لذت خاتم الانبیاء کو اس میں ملے گی وہ اولیاء کو نہیں ملے گی۔ ایک ہی چیز کھائیں گے۔ فرماتے ہیں کہ یہ جو لذت ہوگی وہ بھی اس کے مقام کے حساب سے ہوگی۔
تو ہم بتاؤ یہاں اس کی کیسی مثال ہم دے سکتے ہیں؟ جو لذت ہے وہ بھی اس کے۔۔۔ یہاں پر اللہ پاک نے دکھایا تھا کہ فرعون، قبطی جو تھے اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم، فرعون کے قبطیوں کے اوپر جو عذاب آیا تھا کہ خون، ہر چیز میں خون۔ تو وہ اپنے ساتھ کھانے میں شامل کر لیتے اسرائیلیوں کو کہ چلو ان کے لیے خون نہیں ہوگا تو ہم بھی کھا لیں گے اس سے، ان کو ساتھ کھلاتے، تو ایک ہی برتن میں اسرائیلیوں کی طرف صحیح کھانا ہوتا تھا ان کی طرف خون ہوتا تھا۔ بس ٹھیک ہے چونکہ اللہ پاک کا فیصلہ تھا تو وہ اس کو چینج تو نہیں کر سکتے تھے۔
تو اس طرح وہاں پر ہر شخص کے مقام کے حساب سے ان چیزوں میں لذات ہوں گی، ہر شخص کے مقام کے حساب سے، جو جس کا مقام ہے اس کے حساب سے ہوگی۔
11
لیک ایک لمبی رسی سے باندھے بھیتاکہ دن کے وقت واپس آئے بھی
لیکن (جب وہ رات بھر زین بستہ ہوتے ہیں تو) اس غرض سے کہ وہ دن کو واپس آ جائیں ان کے پاؤں میں (قیدِ حیات) کی ایک لمبی رسی باندھ رکھتا ہے۔
ہمارے ایک ساتھی ہیں، بڑے نیک آدمی ہیں اور ماشاء اللہ بہت بڑے افسر ہیں۔ میرے تو شاگرد ہیں، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب کے مرید تھے۔ تو ایک دفعہ کہنے لگے کہ میں نے خواب دیکھا، خواب میں یہ بڑی لمبی اونچی اونچی عمارتیں ہیں، کہتے ہیں میں ایک عمارت سے دوسری عمارت بالکل ایسے چل کے جاتا ہوں جیسے ادھر قدم رکھا تو دوسری عمارت پہ رکھا۔ تو کہتے ہیں میں سوچتا ہوں کمال ہے، مجھ میں اتنی جرئت کیسے آگئی کہ میں اس طرح ایک عمارت سے ایک قدم دوسرے قدم پہ عمارت پہ رکھ لیتا ہوں یعنی گرنے کا خوف نہیں ہے، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ میرے پاؤں کے ساتھ زنجیر بندھی ہوئی اور وہ آپ لوگوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے، یعنی مولانا عزیز الرحمٰن صاحب کے ساتھ، آپ کے ساتھ وہ بندھی ہوئی ہے، لہٰذا مجھے گرنے کا خوف نہیں ہے۔
اب دیکھئے کہ مطلب یہ کہ یہ نظامِ حفاظت ہے نا، تو ان کو بڑے بڑے اونچے اونچے عہدوں پہ کام کروایا گیا نا، تو یہ اونچی عمارتیں ہیں نا، یہ اونچی عمارتیں ہیں۔ تو اونچی عمارتوں پہ بڑے عہدوں پہ تو انسان خراب ہو سکتا ہے نا، تو وہ گویا خواب میں تمثیل ہے کہ خراب نہیں ہوگا، یعنی ان کو پرواہ نہیں ہوگی کیونکہ ظاہر ہے اللہ پاک نے ان کی حفاظت کا بندوبست فرما دیا ہے۔ تو یہاں پر بھی ہے کہ وہ لمبی رسی نیند میں بھی ہوتی ہے کہ وہ روح سے نظام واپس آئے گا ادھر۔
12
یہ رسی موجود ہے اس واسطےلائے واپس روح اس پہ بوجھ لاد دے
(یہ رسی) اس لیے (اس کے پاؤں میں باندھ رکھتا ہے) کہ دن میں اس کو اس سبزہ زار (عالمِ مثال) سے کھینچ لائے۔ اور چراگاہ (خواب) سے اس کو (واپس لا کر کاروبارِ دنیا کا) بوجھ اس پر لاد دے۔
جس طرح گھوڑا کچھ دیر کے لیے چراگاہ میں چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک رسی اس کے پاؤں میں باندھ رکھتے ہیں تاکہ جب چاہیں اس کو چراگاہ سے واپس لے آئیں، اسی طرح سونے والے کی روح چراگاہِ عالمِ مثال میں آزاد پھرتی ہے لیکن جسمِ عنصری کے تعلق کی رسی جس کو قیدِ حیات کہنا چاہیے اس کے پاؤں میں پڑی ہے۔ اذانِ مسجد یا کوئی اور بیدار کن تحریک اس رسی کو جھٹکا دیتی ہے تو روح فورًا اسی ٹھکانے پر آن موجود ہوتی ہے۔ خاصانِ خدا و عارفانِ حق کی مثال بھی یہی ہے ان کی روح کا تعلق بھی دو عالموں سے ہے، ایک عالمِ دنیا سے دوسرا عالمِ معرفت سے، جس میں وہ جمالِ حقیقی کے مشاہدہ میں مستغرق ہوتے ہیں۔ طنابِ حیات ان کے پاؤں میں پڑی ہے جو اس عالم میں ان کو کھینچ لاتی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ سونے والے کے لیے عالمِ دنیا کا تعلق بیداری کہلاتا ہے۔ بخلاف اس کے عارفوں کے لیے دنیا کا تعلق خواب اور عالمِ مشاہدات ان کی عین بیداری و ہوشیاری ہے۔
یعنی دنیا کا تعلق خواب کی طرح ہے جیسے خواب میں ہوں، بے خودی، اور عالمِ مشاہدات جو ہے ان کی عین بیداری اور ہشیاری ہے جو ان کو مشاہدے ہو رہے ہیں۔
13
روح کو اصحاب کہف سا روکتےیا کہ بچتے ہم کشتئ نوح جیسے
کاش کہ اصحابِ کہف کی طرح (صدیوں تک) روح کو (عالمِ مثال ہی میں) محفوظ رکھتا (اور یہاں نہ آنے دیتا) یا اس کشتی کی طرح (کم از کم چند ماہ کے لیے محفوظ رکھتا) جس نے حضرت نوح کو (محفوظ رکھا)۔
قیدِ حیات کی وجہ سے جو دنیا کی طرف متوجہ ہونا اور ماسِوا کی طرف التفات کرنا پڑتا ہے اس سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش! اصحابِ کہف کی طرح غیر محدود مدت تک دنیا میں نہ آتے، یا حضرت نوح کی طرح کچھ محدود مدت کے لیے ہی دنیا کے طوفانِ علائق سے نجات ملتی۔
یعنی روح کو تسلی اسی میں ہے کہ وہ واپس دنیا میں نہ آئے یعنی اس میں بوجھ بنتا ہے نا، تو وہ مطلب ہے۔
14
تاکہ اس طوفان و بیداری و ہوش
سے ہم چھوٹتے جو ہے شر از چشم و گوش
بیداری و ہوش جس میں حوادثِ عالم کا احساس موجب الم و اندوہ ہے۔ ایک طوفانِ مصائب ہے اور حوادثِ عالم سے بے خبر رہنا مقامِ راحت و امن ہے
15
اے عزیز اصحاب کہف بہتیرے ہیں ارد گرد کر خیال کچھ پاس تیرے ہیں
اے عزیز! تو ان اصحابِ کہف کے پیچھے مر رہا ہے حالانکہ خود تیرے پاس بہتیرے اصحابِ کہف اس جہان میں اسی زمانے کے اندر تیرے ہم پہلو (موجود) ہیں۔
یعنی عارفین۔ تو کہہ رہا ہے کہ اصحابِ کہف ہمیں کہاں ملے؟ بھائی اصحابِ کہف کی طرح وہ عالمِ خواب ہی میں ہیں، مطلب ان کو کوئی پرواہ نہیں، وہ جو ہے نا مشاہدے کے وقت زندہ ہیں اور دنیا کے علائق کے لیے مردہ ہیں۔ یعنی مطلب ہے کہ ان کا رخ آخرت کی طرف ہے، تو ان آخرت ان کی آخرت کی چیزوں کی طرف تو زندہ ہیں، مطلب ہے کہ دنیا کی چیزوں کی طرف مردہ ہیں۔ تو فرمایا اصحابِ کہف آپ کے پاس بہتیرے موجود ہیں،
اہل اللہ اور صاحبِ باطن دنیا میں موجود ہیں مگر لوگ اس سے آگاہ نہیں۔
16
غار و یار ہیں ساتھ تیرے ہم سرودتو ہے غافل تب چھپا ان کا وجود
سبحان اللہ! یہ حضرت کے مضامین اب شروع ہو گئے
مطلب: دنیا میں بہت سے اہل اللہ تمہارے ساتھ ملے جلے موجود ہیں جو کمالاتِ باطنی میں اصحابِ کہف سے مشابہ ہیں اور ان کے اوقات بلحاظِ جمعیت خاطر و شغل بخدا اصحابِ کہف کے غار کے قائمقام ہیں مگر شناخت کیونکر ہو دل شناسا نہیں ہے۔
17
کس وجہ سے ہیں حجابات سوچ ذرامہر کان آنکھوں پہ رب کا ہے ترا
تو ان کو اس لیے نہیں جانتا کہ تیرے اوپر حجابات ہیں، تیرے کان کے اوپر، آنکھوں کے اوپر رب نے مہر لگایا ہوا ہے اپنے دنیا کے شوق کی وجہ سے۔
(اب) یہ سوچ کہ یہ حجابات اور یہ آنکھوں کانوں پر خدا کا مہر لگا دینا کس وجہ سے ہے۔ (اس سرّ کو آئندہ مثال سے سمجھاتے ہیں:)
تو میرا خیال ہے کہ ٹائم چونکہ پورا ہونے والا ہے، تو دفترِ اول حکایت نمبر 18 میں جو مثال آرہی ہے وہ پھر اس وقت ان شاء اللہ وہ کریں گے جس میں خلیفہِ وقت نے لیلیٰ سے سوال کیا تھا اور لیلیٰ نے اس کا جواب دیا تھا، وہ سوال یہ تھا کہ کیا وجہ ہے تمہارے اندر تو اتنا حسن نہیں ہے کہ مجنوں تیرے لیے کیوں مر رہا ہے؟ تو لیلیٰ نے اس کو جواب دیا کہ چونکہ تو مجنوں نہیں ہے۔ ماشاء اللہ! اس لیے کہ تو مجنوں نہیں ہے، تو مجنوں کی نگاہ سے دیکھتے تو پھر پتا چلتا، تو یہ بات ہے کہ اس پر بہت زبردست حقائق حضرت نے کھولے ہیں۔ کیا عجیب بات ہے، عام سی بات ہوتی ہے لیکن حضرت اس سے کہاں سے کہاں بات نکالتے ہیں، تو ماشاء اللہ ابھی پھر ان شاء اللہ اس کو اگلے اس میں سیشن میں کریں گے۔ اللہ جل شانہ حضرت کے فیوض و برکات ہمیں نصیب فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
حضرت کے جو حکایات ہیں نا اور حضرت کی جو ماشاء اللہ تحقیقات ہیں، اس کے لیے بصیرت چاہیے، بصیرت نہ ہو تو اسے صرف بس کہانیاں بن جاتی ہیں، اس وجہ سے دنیا میں شاید جتنے ریسرچ اس پر ہوا ہے کسی اور کتاب پہ نہیں ہوا۔ انگریز بھی ہیں، جرمن بھی ہیں، دوسرے لوگ بھی بڑے بڑے لوگوں نے اس پہ بڑے وہ کیے ہیں لیکن انہوں نے صرف اپنے آپ کو اس سے خوش رکھا ہے بس کہ جناب یہ یہ دنیاوی چیزوں کے ساتھ مطلب اس کو باندھا ہوا ہے، وہ اصل چیز کو نہیں لیتے۔ کہ اب ماشاء اللہ وہ حضرت نے کہا کیا ہے؟ بس اپنی دنیاوی چیزوں کو اس سے وابستہ کیا ہوا ہے، تو لیکن جو صحیح معنوں میں ان کے فیوض و برکات ہیں وہ تو ان کو ملیں گے جن کو ان چیز کا ذرا خیال ہوگا۔ ابھی خود ہی کہا نا بہت سارے اصحابِ کہف تمہارے پاس ہیں لیکن تمہیں اس کا ہوش نہیں ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔