الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ.أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. ﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ﴾.
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» لَا سِيَّمَا صَوْمَ عَرَفَةَ الَّتِي قَالَ فِيهَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ». وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ. وَكَانَ عَلِيٌّ يُكَبِّرُ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَيُكَبِّرُ بَعْدَ الْعَصْرِ. وَمِنْهَا إِحْيَاءُ لَيْلَةِ الْعِيدِ، وَمِنْهَا الصَّلَاةُ وَالْخُطْبَةُ وَقَدْ سَبَقَ فِي خُطْبَةِ آخِرِ رَمَضَانَ.
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! ہوشیار کون لوگ ہوتے ہیں؟ ایک تعریف ہوشیار کی میری آپ کی یا عام لوگوں کی ہے۔ ایک تعریف ہوشیار کی ہوشیار لوگوں کی ہے۔ اور ایک تعریف اللہ اور اللہ کے رسول کی ہے۔ ظاہر ہے وہ تعریف ہی اصل ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول کی ہے۔ تو اللہ کا رسول ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: عقلمند ہے وہ جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بیوقوف ہے وہ جس نے اپنے نفس کو آزاد چھوڑا کہ جو کرنا چاہتا تھا کرتا رہا اور پھر محض اللہ تعالیٰ پر تمنائیں کرتا رہا، یعنی اللہ غفور الرحیم ہے، اللہ مجھے بخش دے گا، اس قسم کی باتیں۔ اس سے اپنے آپ کو تسلیاں دیتا رہا۔
اللہ تعالیٰ سے امید رکھنا تو ضروری ہے، لیکن اللہ پاک کا قانون کا خیال رکھنا بھی ایسا ہی ضروری ہے۔ ایک شخص اگر آگ میں ہاتھ رکھے اور کہے اللہ بچانے والا ہے، تو دونوں باتیں اپنی جگہ صحیح ہوں گی۔ آگ جلائے گا اور اللہ بچانے والا ہوگا۔ اللہ بچانے والا تب ہوگا جب یہ اپنے آپ کو بچانا چاہے گا۔ یہ جو لوگ خودکشی کرتے ہیں، یہ حرام موت کہلاتا ہے۔ اور جس چیز سے خودکشی کرتے ہیں اسی سے کرتے رہیں گے وہاں پر۔ اب دیکھ لیں یہاں تک کہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اس نے جو اپنے آپ کو بگاڑا ہے اس کو میں نہیں ٹھیک کروں گا۔ اس نے خود اپنے آپ کو بگاڑا۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے، اللہ اس کو بچائے گا۔ جو اپنے آپ کو خود نہیں بچانا چاہتا تو وہ کیسے پھر کہہ سکتا ہے کہ مجھے اللہ پاک بچائے۔ اس وجہ سے اللہ پاک کے قانون کا خیال رکھنا پڑے گا اور اللہ پاک سے اچھی امید... آپ محنت کرو، آپ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرو اور پھر اللہ پاک سے امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ بچانے والا ہے۔ اور ویسے حقیقتاً اللہ تعالیٰ پھر بچاتا ہے۔
دیکھیں، آپ ﷺ کی پوری زندگی اس بات سے عبارت ہے کہ آپ ﷺ نے اسباب کو اختیار کر کے نتیجہ اللہ پہ چھوڑا اور اللہ پاک سے مانگتے رہے اور اللہ پاک سے خوب مانگتے رہے۔ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ ایک موقع پہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
انبیاء در کارِ دنیا جبری اند
ہاں جی، انبیاء جو ہیں یہ دنیا کے کام کے اندر جبری ہیں۔
انبیاء در کارِ عقبیٰ قدری اند
اور انبیاء جو ہیں آخرت کے کام میں قدری ہیں۔
جبری اور قدری کا تعریف کروں گا تو آپ کو سمجھ آئے گی۔ جبری ان کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو مجبور سمجھتے ہیں۔ بس جی جو ہوگا تو ہوگا بھئی، ہم تو کیا کر سکتے ہیں۔ یہ جبری ہیں۔ قدری وہ ہیں جو کہتے ہیں ہمیں کوشش کرنا چاہیے، جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے وہ کرنا چاہیے۔ یہ قدری کہلاتے ہیں۔
تو دنیا کے کام میں انبیاء جو ہوتے ہیں وہ جبری ہوتے ہیں، جو ملا ملتا ہے بس ٹھیک ہے۔ آپ ﷺ پوچھ لیتے تھے کھانے کو کچھ ہے؟ تو اگر ہوتا تو کھا لیتے، نہیں ہوتا اچھا میں نے روزہ رکھ لیا۔ ایسی بات۔ جو ملا کھا لیا، جو ملا اوڑھ لیا۔ اس کے بارے میں اپنے آپ کو پریشان نہیں کرتے تھے کہ کیا ملا اور کیا نہیں ملا۔ لیکن آخرت کے کسی کام میں ذرہ بھر بھی، ذرہ بھر بھی تاخیر گوارہ نہیں فرماتے تھے۔
ایک دفعہ تشریف فرما ہیں نماز کے بعد، غالباً مغرب کی نماز تھی، اور اچانک کھڑے ہو گئے، تشریف جلدی جلدی اپنے گھر تشریف لے گئے پھر واپس آئے۔ صحابہ کرام نے پوچھا حضرت کیا کام تھا مطلب جس طرح جلدی جلدی... فرمایا کہ کچھ سونا وغیرہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے کہا رات وہ ہمارے گھر میں کیوں گزارے۔ اس کو میں آگے کرنا چاہتا ہوں۔ اب دیکھو اس کام میں ذرہ بھر بھی تاخیر گوارہ نہیں فرما رہے تھے۔ ہاں جی۔ اور دنیا کے کاموں میں اللہ پر چھوڑ دیتے تھے۔
اور مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو دوسرے لوگ ہیں وہ آخرت کے کام میں جبری ہیں اور دنیا کے کام میں قدری ہیں۔ یعنی وہ دنیا میں پورے اسباب اختیار کرتے ہیں کہ کوئی چیز رہ نہ جائے اپنے خیال میں، اور آخرت کو اللہ پہ چھوڑتے ہیں جو ہوگا تو ہوگا وہ الٹا حساب ہے۔ ہاں جی۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم اپنی نفس کی اصلاح کر کے آخرت کے کاموں کے لیے مستعد ہونے کی فضیلت حاصل کریں، کوشش کریں، محنت کریں۔ وہ ہوشیار لوگ ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں۔ اور جو بیوقوف ہیں کہ وہ اپنے نفس سے غافل ہیں، جو کرنا چاہے وہ کرنے دیتا ہے، پرواہ نہیں کرتا اور پھر اللہ پاک سے امیدیں لگائے بیٹھے، اللہ غفور الرحیم ہے، ایسا ہے، ویسا ہے۔ تو یہ آپ ﷺ فرماتے ہیں بیوقوف لوگ ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں حدیث شریف ہے۔
تو مطلب میرا یہ ہے کہ جو ہوشیار لوگ ہیں وہ وقت کی قدر کرتے ہیں ایک بات۔ جگہ کی قدر کرتے ہیں دوسری بات۔ افراد کی قدر کرتے ہیں تیسری بات۔ اپنے صلاحیتوں کی قدر کرتے ہیں چوتھی بات۔ ہاں جی۔ یعنی اللہ پاک نے اگر موقع دے دیا، رمضان دے دیا، رمضان میں خوب عبادت کی، رمضان سے خوب فائدہ اٹھا لیا۔ اس میں صبر کے دامن کو تھامے رکھا۔ عید آ گیا تو اللہ پاک نے شکر نصیب فرمایا۔ دل سے شکر ادا کیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، تکبیر بیان فرمائی، سبحان اللہ، عید کے بھی مزے لوٹے۔
پھر اللہ پاک نے حج کا موقع دیا، سبحان اللہ۔ وہاں پر جو کچھ شاقہ طریقہ تھا اس طریقے پہ چلے، اور اپنے نفس کو خوب سمجھایا کہ تیری سوچ قبول نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کا سوچ ہے وہ قبول ہے۔ جو ابراہیم علیہ السلام کا سوچ ہے، جو اسماعیل علیہ السلام کا سوچ ہے، ہاں جی، جو ہاجرہ بی بی کا... وہی قبول ہے اللہ نے جب اس کو قبول کیا ہے۔ تو وہ اپنے نفس کو، اپنی عقل کو یہ چیز سمجھاتا رہا حج میں اور خوب محنت کی اور کامیاب و کامران لوٹے۔
اس طرح ماشاءاللہ ذی الحجہ کے ایام آ گئے۔ ابھی میں نے آپ کے سامنے حدیث شریف تلاوت کی ہے۔ اس کا مطلب، مفہوم میں عرض کر لیتا ہوں، خود ہی آپ سن لیں۔ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی دن عشرہ ذی الحجہ کے سوا ایسے نہیں کہ ان میں عبادت کرنا خدا تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو۔ ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزے رکھنے کے برابر ہے۔ البتہ دسویں کو روزہ رکھنا حرام ہے۔ پس یہ فضیلت نو دنوں کے لیے ہے۔ اور ان کی ہر رات کا جاگنا شب قدر کے برابر ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت ہے، یہ دونوں صحاح ستہ کی کتابیں ہیں۔
اور آپ ﷺ نے نویں ذی الحجہ کے روزے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ عرفہ کا روزہ کفارہ ہو جاتا ہے ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کا۔ سبحان اللہ۔ اب ذوالحج آ رہا ہے چند دنوں کے تفاوت... مطلب تفاوت پر ہے۔ ہمت والے اپنی ہمتیں جگائیں اور لوٹنے والے لوٹیں۔ کام کرنے والے کام کریں، ماشاءاللہ دن ابھی بہت قریب ہیں۔ یہ ہے عقلمندی، ہوشمندی۔ وہ جو انسان چھوڑ دیتا ہے نا بس ٹھیک ہے جو کچھ ہوگا، یہ وہی والی بات ہے کہ جو دوسرے لوگ ہیں وہ آخرت کے معاملے میں جبری ہیں اور دنیا کے معاملے میں قدری ہیں۔ بھئی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ آخرت کے معاملے میں ہمیں قدری ہونا چاہیے کہ ہم کوئی چیز بھی چھوڑیں نہیں اس طرح۔ ہاں بالکل ٹھیک ہے، وہ پھر اللہ پاک کا کام ہے کتنا قبول فرماتے ہیں۔ اس کے لیے ہم دعا کریں گے لیکن محنت ہم نے خوب کرنی ہے، اور طریقے سے کرنی ہے، وہ طریقہ ہے آپ ﷺ کا۔ بس یہ ہمارے لیے ایک ماشاءاللہ اصول زریں ہے۔
تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ ہم لوگ اپنے وقت کی قدر کریں۔ وقت گزرتا جا رہا ہے، وقت کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا۔ وقت کا Definition ہی سائنسدان نہیں کر سکتے، وقت ایک ایسی چیز ہے۔ کر سکتے ہیں آپ Definition وقت کی؟ Relative time ہے نا مطلب، بس اس میں آپ کیا کہیں گے؟ ہاں جی۔ تو وقت جو ہے گزرتا جا رہا ہے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا، Store نہیں کر سکتا۔ تو اس وجہ سے جو اس سے فائدہ اٹھاؤ اٹھاؤ۔ جو اٹھا لیا اٹھا لیا، اور جو نہیں نہیں اٹھایا، تو تیرے لیے کھڑا نہیں رہے گا کہ چلو جی پھر بعد میں کر لینا۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، بس گیا۔ ہمارے بزرگوں نے فرمایا نا گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔
اب پچھتائے کیا ہوتجب چڑیاں چگ گئیں کھیت
لوگوں نے اپنے اپنے طریقے سے ان چیزوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہم لوگ غافل۔ حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرما رہے تھے، افسوس اللہ کا قانون بہت اٹل ہے اور ہم بہت غافل ہیں۔ اللہ کا قانون بہت اٹل ہے اور ہم بہت غافل ہیں۔ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ۔ اللہ تعالیٰ کسی کے لیے قانون تبدیل نہیں کرتا۔ ہاں جی ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے آپ کو اللہ کے قانون کے مطابق بنانا ہوگا۔ ہاں جی یہ بات ہے۔
تو جب یہ System ہے تو ہمیں ایسے اوقات سے فائدہ اٹھانا چاہیے جس میں اللہ پاک کچھ دے رہا ہو۔ اب دیکھو تہجد کے وقت سبحان اللہ، اللہ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ مانگے اور دوں؟ ہے کوئی پریشان حال کہ اس کی پریشانی دور کروں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مصیبت دور کروں؟ ہے کوئی ایسا؟ ہے کوئی ایسا؟ آواز تو لگ رہی ہے، کون لبیک کہہ رہا ہے؟ جو لبیک کہے گا اس کا فائدہ ہوگا۔ ماشاءاللہ پانچ وقت نماز کے لیے آواز لگ رہی ہے، سعادت مند لوگ جا کر ماشاءاللہ اپنا اپنا حصہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اور جو غافل لوگ ہیں وہ اپنے کاموں میں لگے ہوتے ہیں۔
کام کیا ہوتے ہیں؟ میں آپ کو ایک بات بتاؤں کام کیا ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے بچے جو ہوتے ہیں نا یہ ریت وغیرہ جو پڑی ہوتی ہے نا اس میں گھروندے بناتے ہیں۔ ہاتھ رکھ کر نا اس کے اوپر ریت رکھ کر اس کو جما کے ہاتھ باہر نکال کے، وہ ایک غار سا بن جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں یہ ہمارا گھر ہے۔ تو پھر آپس میں لڑتے ہیں اس کے اوپر، آپ نے میرا گھر وہ کیا... ہاں جی۔ تو بڑے جو ہیں نا ان کو دیکھ کر ہنستے ہیں کہ دیکھو بچے ہیں نا تب ہی تو اس طرح کرتے ہیں۔ بچے ہیں تب ہی تو ایسا کرتے ہیں، تو چلو ٹھیک ہے وہ تو بچے ہیں نا۔ لیکن وہ یہ بچے کیسے ہیں، بتاتا ہوں۔ اگر ان کی زندگی ستر سال ہے مثال کے طور پر جو اللہ نے لکھی ہے، تو اس میں اگر اس کی عمر اس وقت پانچ سال ہے تو ایک نسبت چودہ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ چودہواں حصہ ہے مطلب اس کی زندگی کا، اور یہ بچہ ہے۔ ٹھیک ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ... یہ جو گھروندا ہے، یہ زیادہ دیر کے لیے، پانچ منٹ کے لیے رہے گا مثلاً۔ فانی چیز ہے، خود بخود ہی ختم ہوگا، پانچ منٹ دس منٹ کے لیے رہے گا۔
اچھا، پانچ منٹ اور اس کا بھی ستر سال کا بھی کوئی حساب ہے۔ مطلب ایک گھنٹے میں بارہ اور چوبیس سے ضرب دے دو تو دن میں اتنا اور پھر ستر سے ضرب دو تو اتنا، تو اتنا حصہ اس کا ہو گیا۔ اب اس کے لیے جو بچے لڑ رہے ہیں، ہم کہتے ہیں بچے ہی ہیں نا۔ اس پر افسوس ہوتا ہے لیکن بہرحال اس پر کہتے ہیں جی بچے ہیں اس لیے تو لڑ رہے ہیں۔ اب ہماری زندگی کا آخرت کی زندگی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو کیا نسبت بنتی ہے؟ ہاں جی وہاں کی پہلے دن جو ہے، حشر کا وہ پچاس ہزار سال ہے۔ تو پچاس ہزار سال کے ساتھ ہماری سو سال کی زندگی بھی تین منٹ بنتی ہے۔ اگر وہ چوبیس گھنٹے ہو تو یہ تین منٹ بنتی ہے۔ اب بتاؤ یہ یہاں پر جو ہم گھر بنا رہے ہیں یہ کیا چیز ہے پھر؟ ایک دن کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ کیا چیز ہے پھر، اب اس کے لیے اگر ہم لڑیں؟ تو جو پیغمبر ہیں وہ پھر حیران ہوتے ہیں، فرشتے ہم پر حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں، دیکھو نا ایک فانی چیز پہ لڑ رہے ہیں۔ جو کل ختم ہونے والے ہیں ختم... مطلب ان کے لیے کل ایسے ہی ہے بالکل Just۔
ہاں جی ایک دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ، وہ ہزار سال ہے جو تم پکڑتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک دن جو ہے۔ تو اگر اللہ پاک کہتا ہے کل، تو اس کا مطلب کیا ہے؟ ہزار سال بعد۔ تو اس کا مطلب کیا ہوا یعنی ہماری زندگی کی کیا حیثیت رہی؟ اور ہم اس کے لیے بڑے لمبے چوڑے منصوبے بنا رہے ہیں۔ منصوبے بناؤ، اس سے کسی نے نہیں روکا لیکن جائز، اور اس کے لیے کوئی بڑی چیز کو قربان نہ کرو یعنی آخرت، اس کو قربان نہ کرو۔ جو ملے اللہ کی طرف سے اس پہ خوش رہو، شکر کرو، لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ، تمہاری نعمت اللہ تعالیٰ مزید بڑھا دیں گے۔ اور جو نہ ملے اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق آپ کے لیے درست نہیں ہے، اس پہ صبر کرو، اللہ تمہارے ساتھ ہوں گے اور اللہ پاک تمہیں مہتدین میں شمار فرمائیں گے، مہتدین میں۔ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ؕ اُولٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ۔
ہاں جی تو اب دیکھو بالکل واضح واضح باتیں ہیں، یا مشکل حالت ہوگی یا اچھی حالت ہوگی۔ اچھی حالت میں اللہ پاک کا شکر کرو تاکہ نعمت بڑھ جائے اور اللہ پاک خوش ہو جائیں، وَاللّٰهُ يُحِبُّ الشَّاكِرِيْنَ۔ اور مشکل حالت ہو تو صبر کرو، اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس ہر وقت کا فارمولا موجود ہے، ہر وقت کا فارمولا موجود ہے، لہذا ہم اس کے مطابق کام کریں۔ بات میں عرض کر رہا تھا کہ وقت کی قدر کریں۔ تو جو وقت کے احکامات ہیں ان کو ہم جان لیں۔ وقت کے احکامات کیا ہیں؟ نماز کا وقت آئے دیر نہ کرو، کیونکہ نماز کا اپنا ایک وقت ہے، اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتَابًا مَّوْقُوْتًا۔ نماز کا اپنا ایک وقت مقرر کیا ہے اللہ پاک نے، جب وہ مقرر وقت آ جائے پھر انتظار نہ کرو، پھر دیر نہ کرو۔ آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ یا امہات المومنین کے ساتھ تشریف فرما ہوتے اور باتیں کرتے تھے جیسے کہ ان کے ساتھ باتیں ہوتی تھیں، لیکن جیسے اذان ہوتی، بالکل جیسے تعارف ہی نہیں کسی کے ساتھ، بس اٹھ کے چل دیے۔ ایسا ہونا چاہیے، لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں انسان کو لگا رہنا چاہیے لیکن جب اللہ پاک کا بلاوا آ جائے بس وہ سب سے اونچا ہے، لہذا اس کے لیے پھر تیار رہنا چاہیے۔
دیکھیں کچھ چیزیں ایسی ہیں نا میں آپ سے بات عرض کروں، آج ہی ہمارے ایک ساتھی ہیں اس نے بڑی عجیب بات بتائی۔ وہ دکاندار ہے عام دکاندار، لیکن ہے دیندار، خدمت گار آدمی ہے، خدمت میں لگا رہتا ہے لوگوں کے، اللہ تعالیٰ نے جس کو توفیق عطا فرمائے۔ ڈاکٹروں کے ساتھ ان کے آپ چونکہ تعلقات ہیں، کچھ وقت ان کے ساتھ پریکٹسیں کی ہیں تو ڈاکٹر لوگ بھی ان کا خیال رکھتے ہیں۔ تو ان کے پڑوس میں کوئی عورت تھی جس کا بچہ بہت سخت بیمار ہو گیا تو ان کو فون کیا کہ بیٹا آؤ۔ تو اس نے اپنا دکان کو، یہ ہے کہ کچھ سامان باہر پڑا ہوا ہے کچھ اندر پڑا ہوا ہے، تالا لگا کے چابی اپنے پڑوسی دکاندار کو دے دی کہ میں جا رہا ہوں آپ ذرا اس کا خیال رکھنا دکان کا، ہاں جی میں جا رہا ہوں۔
یہ گویا دوپہر کا وقت ہے، اور یہ چلا گیا۔ وہاں جا کے بچہ بڑا Serious تھا چونکہ ڈاکٹروں سے کچھ سیکھا ہوا تھا اس نے فوراً اس کے کپڑے اتارے، اس کے اوپر پانی وانی ڈالا، بخار جو ہے نا وہ تو Down ہو گیا، بچہ کھیلنے لگا۔ تو انہوں نے کہا جی ہم ذرا تسلی کے لیے کسی ہسپتال کو بھی لے جاتے ہیں، ہسپتال لے گئے، ہسپتال والوں کی قسمت میں ان سے 80 ہزار روپے تھے تو لے لیے اور ایک دن کے لیے ان کو رکھا حالانکہ بچہ ٹھیک ہو گیا تھا۔ ہاں جی اچھا، یہ شام کو واپس آ گیا دکانیں ساری بند ہو گئی ہیں اس کا کچھ سامان باہر پڑا ہوا ہے جو بڑا سامان ہے۔ اس نے اپنا سامان اندر رکھنے کے لیے Shutter اٹھایا، اس وقت دکانیں ساری بند ہیں، اتنے میں ایک شخص آتا ہے، اور اس سے کچھ چیزیں پوچھتا ہے خریدنے کے لیے۔ تو کہتا ہے میرے پورے دن کی خریداری جتنی ہوتی ہے، مطلب Sale ہوتی ہے، وہ پانچ منٹ میں ہو گئی، وہ سارا لے لیا۔ دکان سے غائب رہا تو ٹھیک ہے غائب رہا، ایک طرف سامان کی حفاظت بھی اللہ نے کروائی اس کا کچھ ہوا نہیں تھا، اور دوسری طرف یہ کہ پانچ منٹ کے اندر سارا ماشاءاللہ ان کا اتنا سودا Sale ہو گیا جو پورے دن میں ہوتا ہے بلکہ اس سے زیادہ۔
یہ آج کل کے دور کی بات ہے۔ یہ کوئی صحابہ کے دور کی بات میں نہیں بتا رہا ہوں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہیں۔ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، جو مخلوق کا خیال رکھتا ہے اللہ بھی اس کا خیال رکھتا ہے۔ مَنْ يَّرْحَمْ... ہاں مطلب جناب جو... مطلب جس کو کہتے ہیں نا... تم زمین والوں پر رحم کرو، اللہ آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ تو بس یہ بات ہے کہ ہم لوگ اپنے وقت کی قدر کریں، موقع محل کی قدر کریں۔
تو ایک تو یہ بات میں عرض کر رہا تھا کہ اب یہ ذی الحج سبحان اللہ! یہ آ رہا ہے،اور ذی الحج میں یہ نو روزے بھی آ رہے ہیں۔ اور اس میں ہر روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے۔ اور عرفات کا روزہ... یہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ کرتا ہے۔ اب کون ہے خوش قسمت جو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے؟ گرمی ضرور ہے، مشکل روزے ہیں، لیکن اجر بھی اس کا پھر زیادہ ہوگا۔
ویسے میں کہتا ہوں آج کل Doctors نے بہت ساری چیزوں سے ہمیں بے نیاز کر دیا ہے۔ پہلے لوگ ڈرتے تھے نا، بھوکے رہیں گے تو مر جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں بھوکے رہو گے تو صحت مند رہو گے، آج کل Doctor یہ کہتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ آٹھ آٹھ دن، دس
دس دن بغیر کچھ کھائے، صرف پانی پر... وہ رکھتے ہیں، تب ان کا علاج ہوتا ہے۔ صرف
پانی پیتے ہیں۔ بتاؤ... ہمارے ساتھیوں کی بات ہے، مطلب یہ میں کوئی... دوسری جگہوں
کی بات نہیں، ہمارے ساتھیوں نے کیا ہے۔ ہاں جی، اور ماشاءاللہ ان سے ان کو فائدہ
ہوا۔ ان کی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ بڑھ گئی... کیسے بڑھ گئی؟ دیکھیں میں آپ کو بتاؤں، میں یہ
چیز اٹھاتا ہوں... مطلب وہ پانچ کلو کا۔ اور کل میں پندرہ کلو اٹھا سکتا ہوں، تو
میں مزید کتنا کلو اٹھاؤں گا؟ پانچ کلو میرے پاس پہلے سے ہاتھ میں ہے، تو اب میں
مزید کتنا اٹھا سکتا ہوں؟ 10 کلو اٹھا سکتا ہوں نا۔ اب یہ پانچ کلو میں رکھ دوں،
پھر کتنا اٹھا سکتا ہوں؟ ہاں؟ 15 کلو اٹھا سکتا ہوں۔ 15 کلو اٹھا سکتا ہوں، یہ
بات ہے نا۔ تو جو ہمارے اوپر وزن ہے، اس وزن نے ہمیں کچھ پھنسایا ہوا ہے نا۔ اس
کو بھی تو اٹھایا ہوا ہے نا۔ تو ہم مزید کتنا اٹھائیں گے؟ اتنا اٹھائیں گے جتنا جو
اس سے رہ گیا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اگر وہ وزن آپ کا کم ہو جائے، تو ماشاءاللہ آپ
زیادہ سے زیادہ اٹھائیں گے۔ اس وزن نے آپ کے گھٹنوں کے اوپر جو بوجھ ڈالا ہوا
ہے اور آپ چھڑی لینے پر مجبور ہیں، ہاں جی، لیکن جس وقت وہ آپ کا وزن کم ہو جاتا
ہے، تو آپ کے گھٹنے بھی اپنی اصلی حالت پہ آ جاتے ہیں۔ وہ بھی رونا دھونا چھوڑ
دیتا ہے۔ اور ماشاءاللہ آپ صحت مند ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ایک رشتہ دار خاتون تھیں تو انہوں نے Practice کیا تھا۔ تو وہ اپنے میکے میں
چلی گئیں۔ تو وہاں پر چڑھائی ہے، چڑھنے... چڑھنا پڑتا ہے، چڑھائی ہے۔ تو وہاں چڑھی
تو ان لوگوں نے (کہا) "او تو تو بڑی دبلی ہو گئی، کمزور ہو گئی"۔ انہوں نے کہا
"کمزور نہیں ہوں، اچھی ہو گئی ہوں۔ ورنہ اگر میں پہلی طرح ہوتی تو میرا سانس
ابھی تک چڑھا ہوتا، میں یہاں پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔ اب جو سانس نہیں چڑھا، یہ
اس کی وجہ سے ہے"۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو ہم لوگوں نے اپنے جو بنائے ہوئے تھے
نا قصے اور کہانیاں، وہ آج کل Doctors نے اس کو Zero سے ضرب دیا ہے۔ کہتے ہیں یہ
چیزیں ٹھیک نہیں ہیں۔ ہاں جی، تو یہ روزے جو ہیں نا ہمیں نقصان نہیں پہنچا رہے۔
ایک آدمی کو، جاپان کا Professor ہے Doctor ہے، اس کو Nobel Prize ملا ہے۔ Nobel
Prize کس چیز پر ملا ہے؟ اس پر ملا ہے کہ اس نے تحقیق کی Research کی کہ انسان کے
جسم کے اندر کچھ مادے Extra ہوتے ہیں، پیدا ہوتے ہیں۔ Floating condition میں
ہوتے ہیں۔ وہ Cancer کے باعث ہوتے ہیں۔ اس سے Cancer بنتا ہے۔ اگر سال میں
کچھ 25، 26 دن، کوئی آدمی بھوکا رہے 15، 16 گھنٹے روزانہ، تو یہ فاسد مادے انسان
کا جسم کھا لیتا ہے۔ لہذا اس کو پھر Cancer نہیں ہوتا۔ تو اب بتاؤ، سال میں
ہمارا... مہینہ تو ہمارا ہوتا ہے نا رمضان شریف۔ اور رمضان شریف روزے بھی
تقریباً زیادہ سے زیادہ جو ہوں گے وہ 15، 16 گھنٹے ہوں گے۔ تو جو اس طرح کھانے
پینے کے بغیر رہے تو سبحان اللہ! وہ فائدہ اس کو حاصل ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے روزہ
رکھنے سے کوئی صحت میں... ہاں ٹھیک ہے بیمار ہو کوئی تو ٹھیک ہے، اس کے لیے اللہ
پاک نے بھی آسانی دی ہے، فرض روزے کو بھی مؤخر کیا ہے۔ کہ ٹھیک ہے، اگر بیمار ہو
تو اس وقت روزہ نہ رکھو، بعد میں اس کو پورا کر لو۔ ہاں جی، لیکن اگر کوئی بیمار
نہیں ہے، عام طور پر صحت مند ہے، سارے کام کر سکتا ہے، پھر روزہ نہیں رکھتا تو...
اگر فرض روزہ ہے تو اپنا نقصان کر رہا ہے، اگر نفلی روزہ ہے تو اپنے آپ کو اس کی
نعمت سے محروم کر رہا ہے۔ ہاں جی۔ تو لہذا ہم ان چیزوں سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک بات
تو جو آج میں عرض کرنا چاہتا تھا۔
دوسری بات... ایک اور موقع آ رہا ہے۔ سبحان اللہ! وہ موقع کیا آ رہا ہے؟ وہ ہے
قربانی کا۔ سبحان اللہ! قربانی... یہ اللہ تعالیٰ کا بہت فضل ہے ہمارے اوپر کہ
اتنی بڑی نعمت کو اتنا آسان کر دیا ہے۔ آپ کہیں گے آپ کون سی باتیں کر رہے ہیں؟
کیسے آسان ہے؟ اور کیا ہے... یہ تو بڑا مہنگا سودا ہے... یہ ہوتا ہے وہ ہوتا
ہے۔ تو اب بتاتا ہوں نا۔ مجھے بتاؤ، 15 کروڑ کا بیل مہنگا ہے یا بیٹا؟ اگر بیٹے
کا کہہ دیں کہ بیٹے کو قربان کرو... ہاں جی، وہ مشکل ہے یا 15 کروڑ کا بیل قربان
کرنا مشکل ہے؟ ہاں جی، ہاں... تو ابراہیم علیہ السلام کو کیا حکم ہوا تھا؟
ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا تھا اپنے بیٹے کو... اور کمال کی بات یہ ہے
کہ اشارتاً فرمایا۔ خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہے۔ لیکن ابراہیم علیہ
السلام پیغمبر تھے، سمجھتے تھے کہ پیغمبر کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔
اچھا، حضرت تو پیغمبر تھے ہی نا، بڑے عمر کے تھے، اسماعیل علیہ السلام تو ابھی
پیغمبر نہیں بنے تھے، اور ابھی بچے تھے۔ میرا خیال ہے اس بچے سے بھی چھوٹے
تھے۔ ہاں جی۔ تو جا رہے ہیں ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ۔ تو ابراہیم علیہ
السلام ان سے کہتے ہیں، میں نے آپ کو خواب میں ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہے، کیا
خیال ہے آپ کا؟ آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟ تو اسماعیل علیہ السلام سمجھ
جاتے ہیں کہ مطلب کیا ہے۔ تو فرماتے ہیں: يَا أَبَتِ افْعَلْ جو... جو آپ کو
حکم ہے، اے میرے ابا جان! وہ کر گزریں۔ ہاں جی۔ مجھے آپ انشاءاللہ صابرین میں سے
پائیں گے۔ ہاں جی۔ پوری بات سمجھ گئے۔
پھر جب بات کھل گئی اور سامنے آ گئی، تو فرمایا کہ اب مجھے جس وقت قربانی کرنا ہو،
تو اپنے آنکھوں پہ پٹی باندھیں، اور مجھے اوندھے منہ لٹکائیں، اور تیز چھری سے
مجھے ذبح کر دیں تاکہ اللہ کے حکم میں تاخیر نہ ہو جائے۔ یہ جو ذبح ہونے والا
ہے وہ کہہ رہا ہے۔ ہاں جی۔ پھر اس کے بعد، وہ ایسا ہی کر لیتے ہیں۔ اسباب کی دنیا
میں سارا کچھ کر گیا۔ یہ تھا مجاہدہ! غیر اختیاری مجاہدہ تھا، آ گیا۔ اس کے بعد
اللہ مشاہدہ کراتے ہیں۔ طریقہ کار ہے اللہ تعالیٰ کا۔ جبرائیل علیہ السلام کو
حکم ہوتا ہے جلدی چلے جائیں، جنت سے مینڈھا لے کے اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس
کو ڈال دیں، اسماعیل علیہ السلام کو علیحدہ کھڑا کر دیں۔ جبرائیل علیہ السلام ادھر
سے سیدھے فوراً آ جاتے ہیں، مینڈھے کے ساتھ۔ مینڈھا اس کے سامنے ڈال دیتے ہیں،
اسماعیل علیہ السلام کو Side پہ کھڑا کر دیتے ہیں۔
پہلے چھری کو حکم نہیں ہے! یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ تکوینی امور اور تشریعی امور آپس
میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ دونوں کی جگہ ایک ہی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو
حکم ہے ذبح کرو تشریعی حکم۔ چھری کو حکم ہے ذبح نہ کرو تکوینی حکم۔ ہاں جی، دونوں اپنی اپنی جگہ پر ہو
رہے ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام میں جو نہ سمجھنے کی وجہ تھی
وہ کیا تھی؟ کہ موسیٰ علیہ السلام تشریعی امور کے ماہر تھے، پیغمبر تھے۔ اور خضر
علیہ السلام تکوینی امور کے۔ تو موسیٰ علیہ السلام نہیں سمجھ رہے کہ یہ کیا کر
رہے ہیں۔ جب تک انہوں نے بتایا نہیں۔ اور خضر علیہ السلام نے پہلے سے کہہ دیا تھا
کہ آپ میرے ساتھ نہیں جا سکتے۔ ہاں جی، میرے ساتھ نہیں جا سکتے۔ تو مطلب میرا یہ ہے
کہ یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ تو خیر، جب مینڈھا آیا سامنے، تو اللہ نے حکم دیا اب چھری کو
کہ ذبح کرو۔ اب چھری چل پڑی، اور ابراہیم علیہ السلام سمجھے کہ حکم پر عمل پورا ہو
گیا۔
آنکھیں کھولیں۔ مینڈھا ذبح ہے، اسماعیل علیہ السلام کھڑے ہیں۔ اب ابراہیم علیہ
السلام حیران کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے تو اپنے سامنے اسماعیل علیہ السلام
کو گرایا تھا۔ ادھر یہ مینڈھا کہاں سے آ گیا؟ اتنے میں وحی آتی ہے: اے ابراہیم! تو
نے اپنا خواب سچا کر کے دکھا دیا۔ ہاں جی۔ اس سے پتہ چلا: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ
بِالنِّيَّاتِ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ نیت چونکہ اسماعیل علیہ
السلام کی ذبح کی تھی، لہذا اگرچہ وہ ایسا ہوا نہیں، لیکن اللہ پاک نے اس کو
اسی طرح قبول فرما لیا۔ ہاں جی، اسی طرح قبول فرما لیا۔ اس وجہ سے نیتوں کی قدر
کرو اور نیتیں بڑی بڑی بناؤ۔ اس کے مطابق اجر ملتا ہے۔
تو خیر، اب ہمارے لیے یہ پورا ایک سامان ہے۔ کہ اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھا
ذبح ہوا۔ تو مینڈھا تو ایک ہی تھا نا، وہ ذبح ہو گیا نا اس وقت۔ اب ہم جو قربانی
کرتے ہیں، اس مینڈھے کے ذبح ہونے کے قائم مقام ہے۔ اور مینڈھے کی ذبح اسماعیل
علیہ السلام کی ذبح کے قائم مقام ہے۔ لہذا ہماری قربانی جو ہے، وہ اسماعیل علیہ
السلام کی قربانی کے قائم مقام ہے۔ اب بتاؤ، یہ اللہ پاک کا فضل ہے یا نہیں ہے؟ اس
پر شکر کرنا چاہیے یا نہیں شکر؟ ہاں جی۔ تو اللہ پاک نے اس بہت مشکل عمل کو ہمارے
لیے کتنا آسان کر دیا۔
اب ذرا آج کل کے ہوشیار لوگوں کو دیکھیں۔ ایک تو ہوتے ہیں نا ہمارے... لیکن اللہ
پاک جس کو ہوشیار کہتا ہے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا۔ ایک آج کل کے ہوشیار لوگوں
کو دیکھیں، کہتے ہیں "یہ گوشت ضائع ہو جاتا ہے، اس وجہ سے ان پیسوں سے کوئی نیک کام
کرنا چاہیے، کسی بچی کی شادی کرواؤ، ہاں جی، کسی غریب کا گھر بساؤ، کسی بھوکے کو
کھانا کھلاؤ"۔ یہ اچھی پیاری پیاری باتیں ہیں، ہاں جی، یہ کرنے والے لوگ ہیں۔
اس کے لیے فقہاء کے اندر... فقہاء میں ایک بات مشہور ہے۔ اور وہ کیا ہے، شاید غالباً حدیث شریف بھی ہے شاید۔ کل...
کیا... وہ کیا نام ہے...؟ كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا الْبَاطِلُ۔ کہ اچھی بات،
صحیح بات، اس سے غلط مراد ہو۔ مقصود غلط چیز ہو۔ تو یہ بالکل وہی چیز ہے۔ اب ان
ہوشیار لوگوں سے کوئی پوچھے کہ تم لوگوں نے غریبوں کے کتنے گھر بسائے ہیں؟ جو اس
بات کی دعوت دیتے ہو تو تم لوگوں نے غریبوں کے کتنے گھر بسائے ہیں؟ کتنی بچیوں کے
نکاح کروائے ہیں؟
ہاں جی، کتنے جو ہے نہ مطلب، بھوکوں کو کھانا کھلایا ہے؟ آپ کے Porch میں اگر تین
گاڑیاں کھڑی ہیں، تو آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دو گاڑیاں تو میں بیچ کے اس کو غریبوں
کو... یہ اس کے پیسے دے دوں، کبھی سوچا ہے؟ تو یہی اچھی چیز ہے کہ حج نہ کرو،
قربانی نہ کرو، عمرہ نہ کرو، اس وقت یہ اچھا کام اس سے ہو سکتا ہے، اس سے
اچھا کام نہیں ہو سکتا؟ یہ سارا Fraud case ہے۔ شیطانی سوچیں ہیں۔
علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایامِ نحر میں، جو قربانی کے ایام ہیں، اس میں اگر
کوئی شخص پوری دنیا کی دولت کو خیرات کر دے... پوری دنیا کی دولت کو خیر اور قربانی نہ
کرے، یہ گنہگار ہے۔ کیونکہ اس نے واجب کو چھوڑا اور مستحب کو کر لیا۔ ہاں جی،
واجب کو چھوڑا، مستحب کو کر لیا۔ اور دوسرا شخص ہے، اس نے قربانی کی، اس نے سارا
گوشت خود کھا لیا۔ کسی کو ایک بوٹی بھی نہ دی، یہ گنہگار نہیں ہے۔ یہ گنہگار نہیں
ہے۔ اس کو ثواب مل رہا ہے۔ وہ تو اگر اس کو تقسیم کرتا ہے اس کا Extra ثواب ہے۔
وہ قربانی کا حصہ نہیں ہے۔
یہ جو ہم کہتے ہیں نا تین حصے کر لو، ایک آپ غریبوں کو دو، ایک اپنے رشتہ داروں کو
دو اور ایک خود کھاؤ، یہ احسن طریقہ ہے۔ اس پہ مزید اجر ملتا ہے۔ فضیلت ہے اس کی۔
لیکن کوئی آدمی ایک بوٹی بھی کسی کو نہ دے، سارا خود کھا لے، یا سارا ضائع ہو
جائے، پھر بھی اس کی قربانی کو فرق نہیں پڑتا۔ پھر بھی اس کی قربانی کو فرق
نہیں پڑتا۔ کیوں؟ قربانی حکم ہے۔ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا
دِمَاؤُهَا (سورۃ الحج: 37)۔ مطلب جانوروں کا اللہ تعالیٰ تک قربانی کا
خون اور گوشت نہیں پہنچتا، ہاں وہ جو تمہارا تقویٰ ہے وہ پہنچتا ہے۔ دلوں کا
تقویٰ۔
تو یہ بات ہے کہ ہم لوگ قربانی کریں اللہ کے لیے، اس میں ہم اللہ کو راضی کرنے کی
نیت کر لیں، حضور ﷺ کے طریقے پر کر لیں، بس کافی ہے۔ اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں
ہے۔ ہاں البتہ، اگر آپ اس کو اور زیادہ بہتر کرنا چاہیں تو یہ طریقہ ہے کہ اس میں
غریبوں کو... وہ جیسے قرآن میں بھی ہے کہ جو صبر نہ کرنے والے ہیں ان کو بھی کھلاؤ،
جو ویسے کھڑے ہیں ان کو بھی کھلاؤ، جس میں ہے نا مطلب اس میں۔ تو یہ ہے، مستحب ہے۔
ان کو کھلاؤ۔ اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ، یہ ایک موقع آرہا ہے قربانی کا بھی ٹھیک ہے قربانی مہنگی ہے۔ لیکن بیٹے
سے زیادہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی اس کو مہنگا نہ سمجھیں۔ ہاں جی بلکہ اس کو
ایک موقع سمجھیں کہ اللہ پاک نے مجھ پر... مجھے توفیق دی ہے کہ میں قربانی کر رہا
ہوں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا... دیکھیں نا علی کرم اللہ وجہہ جو تھے نا، یہ غریب صحابہ
میں سے تھے، غرباء صحابہ میں سے تھے۔ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی بیٹی تھیں
لیکن تھیں تو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نا، تو یہ بھی غریب خاندان کی تھیں۔ لیکن
ان کی قربانی کرنا ثابت ہے۔ بلکہ آپ ﷺ کا ایک قول ان کے لیے جو تھا، وہ یہ ہے کہ اے
فاطمہ! جب تیری قربانی کا وقت آ جائے، تو اس کے ساتھ کھڑی ہو جاؤ۔ اس کے ساتھ کھڑی
ہو جاؤ۔ یعنی اگر... اگر موقع ہو، حفاظت کا، یعنی ستر کا اور مطلب یہ ہے کہ پردے
کا ہو، حالات ہوں جیسے اپنے رشتہ دار آپس میں قربانی کرتے ہیں نا، تو اس وقت ساتھ
کھڑی ہو جاؤ۔ ہاں اگر ایسا ہے تو پھر... یا پردے میں کھڑی ہو جاؤ، یا پھر یہ ہے کہ
اوٹ میں کھڑی ہو جاؤ۔ لیکن یہ کہ یہ مستحب ہے کہ جو قربانی کر رہا ہے، وہ اپنی
قربانی کے قریب بیٹھ جائے، اپنی قربانی کو قربان ہوتے دیکھے۔ اس کی کیفیت کو
محسوس کرے۔ ہاں جی۔ تو بہرحال میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ قربانی بہت بڑی دولت
ہے۔ اور اس کو Miss نہیں کرنا چاہیے۔
جرمنی میں تھا تو وہاں تو قانونی ہے نا کہ... وہاں تو کوئی ذبح ہی نہیں کر سکتا۔ وہ
تو ان کے Slaughter houses ہوتے ہیں، مطلب اس... وہی لوگ کرتے ہیں ان کا License
ہوتا ہے۔ کوئی اور اپنی طرف سے ذبح نہیں کر سکتا، قانونی ہے۔ کیونکہ غیر ملک ہے،
ہمارا ملک تو نہیں ہے۔ قربانی کے ایام آ گئے۔ آپس میں مشورے کر رہے ہیں، عرب حضرات
ہیں، اور پاکستانی بھی سب۔ ایک عرب نے کہا کہ... اس وقت افغانستان کی لڑائی ہو رہی
تھی، روس کے ساتھ۔ تو ہم لوگ یہ قربانی کے پیسے ان کو کیوں نہ بھیجیں؟ یہاں تو نہیں
ہو سکتا۔ تو ہم ان کو بھیج دیتے ہیں۔ میں نے کہا نہیں، قربانی کے پیسے آپ کسی اور
کو نہیں بھیج سکتے۔ قربانی میں تو قربانی ہی ہے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی
اپنے ملک والوں کو Phone کر لے کہ ہماری طرف سے قربانی کر لو، وہ وکیل بن
جائیں، پھر آپ ان کو پیسے پہنچائیں۔ یہ ممکن ہے۔ وہ اس طرح کر لو۔ لیکن
قربانی کے لیے تو قربانی ہی ہے۔ وہ تو کرنی پڑے گی۔ واجب ہے۔
خدا کی شان، میں سوچ ہی رہا تھا، الفریڈ، جو ہمارے ساتھی مسلم بھائی تھے، ان سے میں
نے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کوئی فکر نہ کریں، فکر نہ کریں۔ میں آپ کو لے جاؤں گا،
قربانی ہم کرتے ہیں، فکر نہ کریں۔ عید کے دن آیا، عید کی نماز ہم نے پڑھی، گاڑی
میں بٹھایا، Suburbs میں لے گئے۔ وہ ان کے Farm houses جو تھے، ان میں لوگوں نے
یہ بھیڑیں اور اس قسم کی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ ان کے ساتھ سودا ہوا دو جانوروں
کا۔ ہاں جی، ادھر ہی ہم نے ذبح کر لیا۔ ادھر ہی ہم نے گوشت بنا لیا، سارا کچھ
ڈگی میں ڈال کے اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلا کہ ہم نے کہاں ذبح کیا
ہے۔ ہاں جی، انتظام اللہ پاک نے کر دیا۔
کہتے ہیں شکر خورے کو اللہ شکر دیتے ہیں۔ ہاں جی، جو شکر کھانے کا عادی ہوتا ہے نا،
اس کو اللہ پاک شکر دیتے ہیں۔ آپ محنت کریں، کوشش کر لیں، اللہ پاک کروا دے گا۔ ہاں
اگر آپ بیٹھ گئے، ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر کہ، خود سے کوئی چیز ہو جائے تو بس ہو جائے،
ہاں جی، اور میں نے تو کچھ نہیں کرنا۔ تو اس کو ہم پشتو میں 'لٹ' کہتے ہیں۔ لٹ
کہتے ہیں نا... کیا ہے اس لٹ کا ترجمہ کیا ہے؟ ہاں جی، وہ کاہل، سست، جو خود
کچھ نہیں کرتا ہو سب چیزیں دوسروں پہ چھوڑتا ہو۔ تو لٹ کے لیے تو پھر وہ پنجابی
والا لٹھ چاہیے اردو والا۔ اس کے لیے وہ چاہیے، تاکہ وہ ذرا چست ہو جائے۔ ہاں جی،
تو اگر یہ لٹھ ادھر نہ ملے تو پھر ادھر تو ہوتا ہے۔ ادھر تو لٹھ کا پورا King size
ملے گا۔ اس وجہ سے ہمیں اپنے آپ کو بچانا چاہیے اس سے۔
ٹھیک ہے نا؟ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔ بہرحال بہت بہترین ایام آنے والے ہیں
عبادت کے لحاظ سے، کمانے کے لحاظ سے، اور قربانی کی فکر کو سیکھنے کے لحاظ سے۔ اور،
جو حضرات حج پہ جانے والے ہیں، ان کو مبارکباد۔ اللہ تعالیٰ ان کا حج قبول فرمائے۔
لیکن ان سے گزارش ہے کہ وہ حج کو سیکھیں۔ حج کو سیکھ کر جائیں۔ وہاں سیکھنے پہ نہ
چھوڑیں۔ یہاں سے سیکھ کے جائیں۔ پھر کام بنے گا۔ خدانخواستہ اگر آپ نے حج ادھر
نہیں سیکھا، تو ادھر یہ جو لوگ ہیں خود رائے قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو دین کو اپنا تابع کرتے ہیں بہت سارے موجود ہیں وہاں پر ایک دفعہ میں اعتکاف کر رہا تھا، حرم شریف میں۔
اللہ نے نصیب فرمایا تھا۔ بہت پرانی بات ہے۔ تو میں نے خواب دیکھا۔ خواب عجیب خواب
ہے، بہت عجیب خواب ہے۔ میں تو گھبرا گیا تھا۔ خواب میں دیکھتا ہوں برآمدے ہیں،
Corridors ہیں۔ اور اس میں لوگ بیٹھے ہوئے دعائیں کر رہے ہیں۔ اور ایک ساتھ دعا کر
رہے ہیں، 'اے اللہ ہمیں ایسا نبی عطا فرما جو ہمارا تابع ہو۔'
میں تو غصے سے بالکل ہو گیا، میں نے کہا یہ کیا... یہ کونسی دعا ہے؟ ایک تو ختمِ
نبوت کے خلاف ہے، کہ پیغمبر تو اب آنا نہیں ہے۔ اور دوسرا پیغمبر کے تو انسان
متابعت کرتا ہے، پیغمبر کو تو کوئی تابع نہیں بناتا۔ یہ کونسا طریقہ ہے؟ تو اتنی
درجہ کا غصہ مجھے آیا، اس غصے کی وجہ سے میں جاگ گیا۔ ہاں جی میں جاگ گیا۔ میں نے
کہا یہ کیا، یہ کونسا خواب ہے، یہ تو سمجھ میں نہیں آ رہا، کس قسم کی بات ہو سکتی
ہے؟ تو عبدالمنان صاحب تھے ہمارے ساتھی ادھر، اس کو میں نے خواب سنایا۔ کہتا ہے
بالکل ٹھیک خواب دیکھا ہے۔ میں نے کہا کیوں؟ کہتے ہیں لوگ آج کل دین کو تابع
بنا لیتے ہیں۔ آج کل لوگ دین کو تابع بنا لیتے ہیں۔ دین کی اطاعت نہیں کرتے،
متابعت نہیں کرتے، بلکہ دین کو اپنی متابعت، دین سے کرواتے ہیں۔ بس ایسی بات ہو
جو ہم چاہیں۔
تو بات تو یہ ہے، آج کل تو یہ دور ہے۔ تو وہاں آپ کو ایسے لوگ بہت ملیں گے، میں نے
خواب ادھر دیکھا تھا نا، ہاں جی، تو آپ کو وہاں بہت سارے لوگ ایسے ملیں گے جو...
اس نے کہا میں نے بارہ حج کیے اور بارہ کے بارہ غلط کیے ہوں گے۔ آپ سن لیں ان سے،
پتہ چل جائے گا۔ اگر آپ نے یہاں سیکھا ہے تو۔ ان میں زیادہ تر یہ مزدور طبقہ اور
یہ... مطلب اس قسم کا ہوتا ہے نا، تو جن کو کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ چلو پتہ نہ ہونا
کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ وہ تو علماء کرام سے پوچھے آدمی تو معلوم ہو جاتا ہے۔ لیکن
جو علماء کو جاہل سمجھے اور خود اپنے آپ کو عالم کہے، تو پھر اس کے ساتھ کیا بات
کریں گے آپ؟ تو اس قسم کے لوگ بہت ہوں گے وہاں پر۔تو اپنے حج کو خراب نہیں کرنا۔ حج کو باقاعدہ
سیکھنا ہے اور اس کے مطابق کرنا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
دیکھو ایک ہوتا ہے مثال کے طور پر سائنسدان ہے۔ ہے سائنسدان ٹھیک ہے، سائنسدان بھی
ہوتے ہیں۔ پروفیسر ہوتے ہیں، بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے field کے ماہر ہوتے
ہیں۔ specialist ہوتے ہیں۔ اگر آپ ایک specialist کے پاس چلے جائیں اور وہ اس کا
مسئلہ نہ ہو، تو بہت simple سا جواب دیتے ہیں بھئی یہ میری field نہیں ہے، یا فلاں
کے پاس چلے جاؤ اس کا field ہے۔ آسانی کے ساتھ کہہ دیتا ہے، اس میں کوئی نہیں۔ اب
اگر کوئی problem، ENT کا ہے، اور medical specialist کے پاس چلے جائیں تو وہ کہیں
گے یہ تو ENT کا problem ہے جاؤ ان کے پاس جاؤ۔ حالانکہ ایک ہی medical ہے نا، مطلب
medical تو سب کا ایک ہی ہے۔ لیکن نہیں کہتے۔ اب آنکھوں کا مسئلہ ہو، تو آپ ENT
specialist کے پاس جائیں تو وہ کیا کہے گا؟ یار کمال کرتے ہو یار۔ وہ تو ایسے ہے
جیسے کہ آپ سونے کا زیور خریدیں اور پنساری کی دکان پہ چلے جائیں، جی یہاں پر
مطلب وہ زیور کیسے بنتا ہے، اتنا وہ کہیں گے دماغ تو ٹھیک ہے نا تمہارا؟ یہ کیا
کر رہے ہو؟ بھئی میرا پنساری کا دکان ہے، جاؤ اپنا کام کرو، کسی سنار کے پاس جاؤ۔
تو اس طرح تقسیم کار ہے۔ لیکن یہ تقسیم کار کوئی دین میں نہیں سمجھتا ہے۔ دنیا میں
سمجھتا ہے۔ تو عالم جو ہوتا ہے جس نے پوری عمر فنا کی ہوتی ہے اپنی یہ دین کے علم
حاصل کرنے میں، ان سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں ہم بھی تو پڑھ سکتے ہیں
نا۔ تو بس ٹھیک ہے نا، بس ہم پڑھ کے معلوم کر لیں۔ بھئی پڑھنا اور ہوتا ہے، سمجھنا
اور ہوتا ہے۔ دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پڑھنا اور ہے، سمجھنا اور ہے۔
medical کتابیں اٹھا کے دیکھو نا۔ انگریزی آپ کو آتی ہو گی۔ آپ اس کو پورا پڑھ لیں
گے، لیکن سمجھ بھی لیں گے؟ نہیں۔ کیونکہ آپس میں interconnection ہوتی ہے۔ اگر ایک
چیز آپ کو نہیں آتی، دوسری چیز اس کی وجہ سے پھر نہیں آئے گی۔ ہاں جی! تو اب یہ
ساری باتیں جو ہیں نا مطلب، یہ جو میں عرض کر رہا ہوں کہ specialization کا دور
ہے۔ اور آپ دین کو پھر ایسا ہی نعوذ باللہ مذاق سمجھتے ہیں کہ یہ خود بخود آ جائے
گا؟ نہیں۔ اس کے لیے بھی محنت کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے محنت لوگوں نے کی ہے۔ تو اس
محنت سے آپ فائدہ اٹھائیں۔ ان سے پوچھیں۔ وہ آپ کو بتا دیں گے۔
الحمد للہ اللہ کا شکر ہے۔ اب میں خود، میرا ساتھ ہوا وہاں پر۔ میں بیمار تھا، میں
نے operation کروایا تھا۔ لہذا وزن نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اور چلنے پھرنے میں rush
میں بھی ذرا مسئلہ تھا۔ اور اس سے ایک سال پہلے، رمی میں کئی لوگ شہید ہوئے تھے۔
rush کی وجہ سے، کئی لوگ! یعنی وہ ہمارے جو سال تھا اس سے ایک سال پہلے۔ لہذا وہ
tension بھی سر پہ تھا۔ تو ہوا یہ کہ میں کھڑا ہوں، ڈاکٹر جسٹس عثمان علی شاہ صاحب،
وہ بوڑھے تھے۔ Judge تھے۔ وہ کھڑے تھے، ان کے ساتھ ایک اور judge کھڑے تھے۔ وہ
دونوں بوڑھے ہونے کی وجہ سے پریشان تھے کہ ہم کیا کریں گے اور میں اپنی بیمار
ہونے کی وجہ سے پریشان تھا کہ کیا کریں گے۔ یہ تینوں ہم کھڑے ہیں، کہ سمندر کو
دیکھ رہے ہیں لوگوں کی۔ ان دنوں ایسا نہیں تھا، اب تو بہت بڑی دیوار ہے نا، اس
سے وہ کنکریاں مارتے ہیں، وہ صرف ایک ستون ہوتا تھا۔ تو پریشان اس طرح کھڑے کہ کیا
کریں۔
اتنے میں وہ ایک حبشی type لوگ نہیں ہوتے؟ ان کا ایک ریلا آیا۔ وہ ریلا چلنے لگا تو
پیچھے vacuum بنتا گیا۔ ریلے کا تو یہی مطلب ہوتا ہے نا کہ ریلا جب جاتا ہے تو
پیچھے جگہ خالی ہوتی ہے۔ تو اس خالی جگہ میں ہم دوڑنے لگے۔ ہمارے لیے اللہ پاک
نے آسانی کر دی۔ ہاں جی! اور ہوتے ہوتے جب وہ رمی کرنے لگے، ہم بھی بالکل اس کے
پاس، یعنی جیسے حکیم صاحب بیٹھے ہیں اس دیوار... اتنے فاصلے پہ ہم نے کنکریاں
ماریں۔ آسانی کے ساتھ کنکریاں ماریں۔ لیکن tension چونکہ رہی تھی، تو گننے میں
مجھ سے غلطی ہوئی۔ تو میں نے ایک کنکری اور ماری۔ میں نے کہا چلو اگر کم ہو گئی
ہو تو پوری ہو جائے گی۔ آٹھ ہو گئیں۔
اب کنکری مار دی لیکن tension پھر اور بڑھ گئی۔ میں نے کہا اگر یہ اٹھ... ٹھیک نہ
ہوں تو پھر کیا ہو گا؟ ہاں جی! اب مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو بھی ہمارے
ساتھ تھے ہمارے شیخ۔ وہ تو معذور مطلب وہ تو مفلوج تھے۔ تو ان کو تو wheel chair
پہ لایا جا رہا تھا اور rush میں پھنس گئے۔ عصر سے پہلے وہ جگہ پہ پہنچ ہی نہیں
سکے اور میں عصر تک انتظار میں تھا، حلق بھی نہیں کر سکتا تھا۔ کہ میں نے کہا پتہ
نہیں مسئلے کا حکم معلوم کروں کہ کیا ہے۔ حضرت کافی دیر بعد پہنچے۔
جب پہنچے، اس سے پہلے میں نے ایک وہاں، ایک عالم سے پوچھا۔ جو ہمارے ساتھی علماء
میں تھے۔ عالم سے پوچھا کہ کیا ایسی بات ہے۔ کہتے ہیں تم پر دم آ گیا۔ میں نے
کہا کیوں دم آ گیا؟ کہتے ہیں مولانا صاحب کی بھتیجی نے آٹھ کنکریاں ماری تھیں تو
مولانا صاحب نے ان سے دم دلوایا تھا۔ تو اس وجہ سے میں مولانا صاحب کا انتظار کر
رہا تھا کہ میں نے کہا معلوم کروں کہ یہ کیا بات ہے۔ اللہ خیر، کیونکہ مولانا
صاحب سے ہم نے سنا تھا کہ دم اگر کوئی دے بھی دے، تو اس نے اپنے حج کو زخمی تو
کیا نا۔ تو پریشانی کی بات تو تھی۔ میں نے کہا یا اللہ خیر یہ کیا ہو گیا۔
مولانا صاحب تشریف لائے۔ مولانا صاحب سے میں نے عرض کیا، میں نے کہا حضرت اس طرح
بات ہوئی ہے اور مجھے فلاں صاحب نے یہ کہا ہے۔ حضرت پہلے ہنسے۔ کہتے ہیں وہ تو
آٹھ کنکریاں اس نے اکٹھی ماری تھیں۔ یعنی ساری آٹھ کی آٹھ کنکریاں اکٹھی ماری
تھیں۔ اس وجہ سے دم ان پہ آ گیا تھا۔ وہ تو ایک کنکری ہوتی ہے۔ اگر اکٹھی ماریں
نا، وہ ایک کنکری بن جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے چونکہ باقی کنکریاں تو اس کی ہوئی نہیں
تھیں، تو اس پہ دم آ گیا۔ یہ آپ نے تو ایک زائد ماری ہے تو اس پہ تو کچھ نہیں
ہوتا۔
اور یہ آپ کو کس نے بتایا؟ میں نے کہا فلاں نے بتایا۔ تو حضرت نے اعلان کیا،
خبردار! کوئی بھی شبیر کو مسئلہ نہ بتائے، اس کو صرف میں بتاؤں گا۔ ورنہ آپ
کا دم ہو جائے گا۔ یعنی آپ دم کا بتاتے ہیں تو آپ کا دم ہو جائے گا۔ ہاں جی! تو
اب دیکھیے یعنی... چھوٹی سی بات تھی۔ اتنا مشکل عمل اللہ نے آسان کر دیا۔ لیکن جو
آسان عمل تھا وہ پیچھے... وہ... وہ مشکل ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بس یہ بات ہے کہ
علماء کے ساتھ ساتھ آدمی رہے۔ اور فائدہ ہوتا ہے پھر۔
تو ایک تو یہ بات ہے کہ یہاں سے حج سیکھ کے جاؤ۔ یہ ساری باتیں جو میں... مولانا
صاحب نے بتائیں، کتابوں میں لکھی ہوئی تھیں۔ لیکن میں تو امریکہ سے آیا ہوا تھا
نا۔ تو مطلب میرا یہ ہے کہ وہ تو without preparation والی بات تھی۔ تو اب اپنے
experience کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ بھئی تیاری کر کے جاؤ۔ تیاری کر کے جاؤ،
کیونکہ یہ ایک موقع ہوتا ہے اس میں اگر خدانخواستہ آپ لوگوں سے کوئی سستی ہو
جائے، وہ سستی بڑی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ ہاں جی!
تو حج کے ایام میں... مطلب یہ ہے کہ، ایک تو یہ ہوتا ہے کہ علم اس کے لیے چاہیے۔
دوسرا اس کے لیے شوق اور محبت چاہیے۔ شوق اور محبت کے دو فائدے ہیں۔ ایک فائدہ
تو یہ ہے کہ عمل آسان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ شوق ایک محرک ہے نا۔ تو اس محرک کی وجہ
سے وہ آپ... آپ کا وہ عمل آسان ہو جائے گا، یہ شادی بیاہ میں جو لوگ کتنی محنت
کرتے ہیں، یہ tents لگاتے ہیں اور... لیکن شوق و محبت میں لگاتے ہیں، ان کو پتہ
ہی نہیں چلتا کہ ہم نے کتنا کام کیا ہے۔ ہاں جی! تو شوق و محبت کی وجہ سے بڑے مشکل
سے مشکل مسئلے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔
ایک تو یہ۔ دوسرا یہ بات ہے کہ وہ واقعی... وہ کیفیت انسان حاصل کرتا ہے جو حج میں
حاصل ہونا چاہیے۔ ہاں جی! یعنی حج کا معاملہ ایسا ہی ہے کہ اس میں انسان کا دل اس
کی عقل کے اوپر غالب ہو۔ یعنی دل جو محبت ہے، وہ اس کے عقل کے اوپر غالب ہو۔ وہ
عقلی باتیں اپنی طرف رکھے، اور کہے اصل عقلمندی تو یہ ہے کہ میں اللہ کی مانوں۔
میں یہاں کی دنیاوی چیزوں کی نہ consider کروں، بلکہ اللہ پاک کے حکم کو دیکھوں۔
جیسے ابھی میں نے تھوڑی دیر پہلے حدیث شریف بتایا، سنایا تھا، کہ عقلمند ہے وہ
شخص جس نے نفس کو قابو کیا اور اللہ... اور جو ہے نا مطلب ہے، آخرت کے لیے کام
کیا۔ تو عقلمندی تو یہ ہے۔
تو اس میں ہمیں یہ عقلمندی سیکھنی ہوتی ہے۔ ورنہ صحیح بات ہے کہ عقل کے بہت سارے
کام ہمارے اس عقلمندی کے خلاف ہیں۔ جناب مجھے بتائیں۔ ستھرائی، صفائی، دین میں
پسندیدہ ہے۔
اَلطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ۔ خوشبو لگانا یہ
پسندیدہ فعل ہے، حتیٰ کہ کوئی خوشبو آپ کو خود ہدیہ کے طور پہ دے تو آپ اس کا انکار
نہ کریں۔ یہ پسندیدہ چیز ہے۔ خوشبو لگانا سنت ہے۔ ہاں جی، لیکن احرام کی حالت میں
آپ خوشبو نہیں لگا سکتے۔ خوشبو لگ گیا تو جرمانہ ہے۔ چاہے غلطی سے کیوں نہ لگے،
پھر بھی جرمانہ ہے۔ ہاں جی۔ یہاں سے کوئی صابن جو لے جاتے ہیں، کون سا صابن لے
جاتے ہیں؟ جس میں خوشبو نہ ہو۔ تو کیا خوشبو بری چیز ہے؟ بری چیز تو نہیں ہے،
لیکن یہاں ممنوع ہے۔ کیوں ممنوع ہے؟ اپنی عقل کو switch off کر دو یہاں پر۔ یہ
معاملہ میرا نہیں ہے۔ یہ معاملہ اوپر سے جو آ گیا وہ ٹھیک ہے۔ یہ عقلمندی ہے۔
اچھا، آپ ٹھنڈک کے لیے نہا سکتے ہیں، صفائی کرنے کے لیے نہیں نہا سکتے۔ اب بتاؤ عقل
سے ثابت کرو نا۔ عقل جواب دے گا؟ صفائی کے لیے نہیں نہا سکتے، ٹھنڈک کے لیے نہا
سکتے ہیں۔ تو یہ ٹھیک ہے۔
اچھے بھلے کپڑے اتارو اور دو چادریں پہنو۔ چلو آج کل کے موسم میں تو یہ بہت اچھا
رہتا ہے، لیکن ہم نے ایک ایسا دور بھی دیکھا ہے، اس وقت بھی حج کیا ہے، کہ سردی
سے ٹٹھر رہے تھے اس طرح، ہاں جی، اور دو چادریں پہنی ہوئی تھیں۔ تو وہ، وہ وقت بھی
تھا۔ ٹھیک ہے آپ کمبل بھی اوڑھ سکتے ہیں، لیکن کمبل کدھر ہوتا ہے پھر؟ اور کمبل کو
لے جانا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ ہوتا ہے، حکم ہے بس۔
چپل، عام طور پر یہ لوگ یہ کینچی چپل نہیں پہنتے، وہاں کینچی چپل ہی پہننے پڑتے
ہیں۔ کیوں؟ کہ اوپر کا حصہ، ہڈی والا open ہونا چاہیے۔ ٹھیک ہے، آج کل کے
مجتہدین کی باتیں میں نہیں کر رہا ہوں، آج کل کے جو آج کل کے دور کے مجتہدین
ہیں وہ اپنے لیے آسانیاں بہت ڈھونڈتے ہیں۔ بھئی ہم تو کھرے علماء کی بات کر رہے
ہیں، جو صحیح علماء ہیں جو ان کا بات کرتے ہیں، ان کی بات کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے
ہیں، کتابیں موجود ہیں۔ ہاں جی۔
تو یہ، یہ باتیں میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ وہاں پر ہم نے یہ چیزیں سیکھنی ہیں۔
ہمیں اپنی عقل کی بات نہیں سننی، ہمیں مجتہدین جو صحیح مجتہدین تھے دورِ قرونِ
اولیٰ کے، ان کی باتیں سننی ہیں، وہ کیا کہتے ہیں۔
آج کل کے دور کے مجتہدین کا تو میں آپ کو بتاتا ہوں۔ Corona آ گیا، 20 رکعت سے 10
رکعت ہو گئے۔ Corona چلا گیا، 10 رکعت ہی رہ گئے۔ مجھے بتاؤ یہ کون سا اجتہاد ہے؟
اس کو اجتہاد کہیں گے؟ بھئی Corona ختم ہو گیا تو بس پھر وہ 20 دوبارہ واپس آنے
چاہیے تھے نا؟ کیوں؟ دین تبدیل ہو گیا۔ وہ جو پہلے تھا وہ غلط کر رہے تھے ہم؟
اب صحیح کر رہے ہیں؟ یہ آج کل کے دور کے مجتہدین کے کمالات ہیں۔ ہم نے آج کل کے
دور کے مجتہدین کو نہیں ماننا۔ ہم نے ان کو صفر سے ضرب دینا ہے۔ ہم نے صرف قرونِ
اولیٰ کے مجتہدین کی بات ماننی ہے۔ کیونکہ وہ اس عمل سے باہر رہے ہیں، وہ حکومت کے
اثر سے باہر ہیں، وہ امریکہ کے اثر سے باہر ہیں، وہ برطانیہ کے اثر سے باہر ہیں۔ جو
ان سے باہر ہیں، ہم ان کی بات مان رہے ہیں۔ ہم ان کی بات نہیں جو بیچارے ان کی سن
سن کے ہمیں مسئلے بتاتے ہیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہ دل کے دکھ کے ساتھ میں آپ
کو بتا رہا ہوں۔
اس وجہ سے آج کل ہم نے بہت احتیاط کرنی ہے۔ آپ کو سو طرح لوگ باتیں بتائیں گے، لیکن
نہیں، ہم نے وہ باتیں ماننی ہیں جو کتاب میں لکھی ہوئی ہیں، اور صحیح کتاب میں لکھی
ہوئی ہیں۔ جو پرانا چلا آ رہا ہے، دین کوئی لا تبدیل... مطلب ہے وہ فرماتے ہیں
اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔ دین مکمل ہو گیا ہے۔ اب دین کے اندر
کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ تشریح ہو سکتی ہے، لیکن اس سے پہلے تشریح کون سی تھی
اور اب تشریح کون سی ہے، مجھے بتاؤ کس میں کون سی تشریح صحیح ہے؟
بھئی فقہ کا قاعدہ ہے مشہور سارے فقہوں کا کہ جس پر صحابہ کا اجماع ہو اس کو آپ
تبدیل نہیں کر سکتے۔ تو صحابہ کا اجماع دس رکعت پہ ہوا تھا؟ کس، کس پہ ہوا تھا؟
بیس رکعت پہ ہوا تھا۔ اس لیے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی 20، امام شافعی
رحمۃ اللہ علیہ بھی 20، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بھی 20۔ اور امام
مالک رحمۃ اللہ علیہ 36 بتاتے ہیں۔ وہ 36 اس لیے نہیں بتاتے کہ یہ 16 اس میں
تراویح ہیں، وہ 16 نفل ہیں لیکن وہ نفل اس محبت کے شاہکار کے لحاظ سے ہیں کہ انہوں نے
جب سنا کہ مکہ مکرمہ والے جو ترویحہ ہوتا ہے، ترویحہ... ترویحہ کے اندر وہ طواف
کرتے ہیں، تو ہمارے پاس تو خانہ کعبہ نہیں ہے تو ہم طواف تو نہیں کرتے، چلو ہم
چار رکعت اور پڑھ لیتے ہیں اس کی جگہ۔ اب بتاؤ کتنی محبت کی بات ہے! تو 4
ضربے 4... 16، 16 جمع 20... 36۔
ہاں جی۔ ترویحہ، ایک اکیلے کو کہتے ہیں۔ تراویح کئی کو کہتے ہیں۔ کیونکہ عربی میں
تثنیہ بھی ہوتا ہے، تثنیہ سے مراد جو دو ہوتے ہیں نا اس کو تثنیہ کہتے ہیں۔ ہاں
جی۔ لَهُ، لَهُمَا، لَهُمْ۔ لَهُ کیا ہے؟ واحد ہے۔ لَهُمَا تثنیہ ہے۔ لَهُمْ جمع
ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو اب دیکھو ترویحہ واحد ہے۔ اس کا تثنیہ ہے نہیں،
ترویحتین ہو گا۔ وہ تو کوئی نہیں کہتا۔ ہاں جی، تراویح... تراویح کس کا، کیا ہے،
یہ جمع ہے۔ تو جمع کس کو کہتے ہیں؟ دو سے زیادہ کو۔ تو دو سے زیادہ اگر ترویحے آ
گئے تو آٹھ تو نہیں رہے نا؟ نہ 10 رہے۔ کم از کم 12 ہو گئے نا؟ لیکن اس پہ روکا تو
نہیں ہے، اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ تو 20 تو ہیں، اجماع سے ثابت ہے۔ لہٰذا ہم
لوگ 20 ہی تراویح پڑھیں گے۔
اور 20 تراویح کو ہی ہم سمجھتے ہیں سنتِ صحابہ۔ ٹھیک ہے نا؟ کیوں؟ آپ ﷺ نے ہمیں نہ
صرف اپنی سنت کا تابع کر دیا بلکہ آپ ﷺ نے ہمیں صحابہ کے طریقے کا بھی تابع کر
دیا۔ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چلا ہوں، جس پر میرے صحابہ
چلے ہیں، اور ساتھ یہ بھی: عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ
الرَّاشِدِينَ۔ تم پر میری سنت کا اتباع لازم ہے اور خلفائے راشدین کی سنت
کا اتباع لازم ہے۔ تو یہ کس خلیفہ راشد کی سنت ہے؟ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی۔
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب صحابہ کو جمع کیا۔ تو اب اگر کوئی بہت بڑا عالم
بھی سارے لوگوں کو جمع کرے تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح ہو سکتا ہے وہ؟
ہاں جی، اور وہ لوگ، دوسرے لوگ، وہ اس کی طرح ہو سکتے ہیں؟ اول تو جمع ہی نہیں
ہوں گے، کم از کم ہم تو ساتھ نہیں ہوں گے نا۔ انشاء اللہ۔ ہاں جی۔ تو لہٰذا
اجتماع، اجماع تو ہو نہیں سکتا۔ اجماع تو ہو نہیں سکتا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ
وہ نامکمل رہے گا۔
تو ہم لوگوں کو عقل سے کام لینا چاہیے اس مسئلے میں، ہم اس دور کے فقہاء کے ساتھ
ہیں جس دور میں یہ چیزیں نہیں تھیں، یہ مسئلے نہیں تھے۔ اور آپ ﷺ نے اس کی بشارت
دی تھی۔ خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ
يَلُونَهُمْ۔ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد اور پھر اس کے بعد۔ تو آپ
ﷺ کا زمانہ تو صحابہ کا تھا۔ پھر تابعین کا تھا، پھر تبع تابعین کا ہو گیا۔ تو یہ
تین زمانوں کے بارے میں آپ ﷺ نے بشارت دی کہ یہ خیر القرون ہیں۔ اس کے بعد کا
نہیں دیا ہوا۔ لہٰذا جو معاملہ settle ہو چکا ہو خیر القرون میں، اس کو اشر
القرون میں... شر القرون میں جو ہے نا مطلب ہے ہمیں نہیں وہ مطلب ہے اس کو
چھیڑنا چاہیے۔ آج کل تو شر القرون ہے۔ فتنوں کا دور ہے، دورِ فتن ہے۔ اس دورِ
فتن میں ہم ان کی باتوں کو چھیڑیں گے؟ یہاں تو فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے۔ ایک ایک
چیز سے فتنہ بنتا ہے۔ تو ہم کیوں اپنے آپ کو فتنوں کے حوالے کر دیں؟ یہ باتیں اچھی
طرح اپنے ذہنوں میں رکھیں۔ انشاء اللہ پھر کبھی پریشانی نہیں ہوگی۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو عقل و فہم صحیح نصیب فرما دے اور دل میں اللہ پاک کی محبت
نصیب فرما دے اور ہمارے نفس کو شریعت کا تابع بنا دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا
وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي
الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا
لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ
عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا
رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا
وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ
الْكَافِرِينَ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ
الظَّالِمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ
الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَصَلَّى
اللَّهُ تَعَالَى…
عنوان : ہوشمندی کا معیار، عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت اور قربانی کی روح
عقلمند اور بیوقوف کی نبوی تعریف (حقیقی ہوشمندی کیا ہے؟)
دنیاوی اور اخروی معاملات میں انبیائے کرام علیہم السلام کا طرزِ عمل (جبری اور قدری ہونا)
وقت کی قدر و قیمت اور انسانی زندگی کی حقیقت (بچوں کے گھروندے کی مثال)
عشرہ ذی الحجہ کی بے پناہ فضیلت، روزے اور شب بیداری کا ثواب
قربانی کا اصل مقصد اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت
دین میں خود ساختہ اجتہاد کی مذمت اور مستند اسلاف (specialists) کی پیروی کی اہمیت
تراویح کی بیس رکعات پر صحابہ کرام کا اجماع اور لفظ "تراویح" کی لغوی و شرعی تشریح