ایامِ حج کی فضیلت، قربانی کے مسائل اور زیارتِ مدینہ کی اہمیت

خطبات الاحکام سے خطبہ نمبر 49: زیارتِ حرمین کے بیان می

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

 • ایامِ حج کی برکات اور صاحبِ استطاعت پر فرائض (حج اور قربانی)۔• مشترکہ قربانی میں شرکاء کی نیت اور اس کے شرعی احکام۔• فرض حج میں تاخیر کرنے یا ادا نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں۔• فضائل کے باب میں ضعیف احادیث کا مقام اور محدثینِ کرام کا طرزِ عمل۔• محدثین (بالخصوص امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہما) کی حدیث کی حفاظت میں سختی کے واقعات۔• مدینہ منورہ کی حاضری، روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی فضیلت اور شفاعت کا حقدار بننا۔• صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (خصوصاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کا دفاع اور توہین کرنے والوں کی مذمت۔• امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے تقویٰ اور باون (52) حج ادا کرنے کا تذکرہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ. (شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ)

وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی فِى الْحَجِّ: وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ، أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ، أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، فَلْيَمُتْ... فَلْيَمُتْ... فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرَ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ.

وَمِنْ مُكَمِّلَاتِ الْحَجِّ زِيَارَةُ سَيِّدِ الْقُبُورِ لِسَيِّدِ أَهْلِ الْقُبُورِ... وَوَرَدَ فِي فَضْلِهَا السُّنَنُ، إِسْنَادُ بَعْضِهَا حَسَنٌ. كَمَا قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي. صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

معزز خواتین و حضرات! جیسے کہ آپ سب کو پتہ ہے کہ یہ آج کل کے جو ایام ہیں ان کو ایامِ حج کہتے ہیں۔ اور... ظاہر ہے اس کی اپنی برکات ہیں، لیکن دو کام اس کے اندر سب کو کرنے پڑتے ہیں جو سب جن پہ یعنی... جو صاحبِ نسب... جو مطلب ہے صاحبِ نصاب ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ جن پہ حج فرض ہے تو ظاہر ہے وہ حج کو جائیں گے۔ دوسری بات جن پہ قربانی واجب ہوگی، وہ قربانی کی تیاری کریں گے، جانور خریدیں گے، اس کے لیے انتظام کریں گے۔ یہ دو کام جو صاحبِ نسب... جو مطلب صاحبِ نصاب ہیں ان کے لیے ضروری ہے۔

ایک بات یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ہوتا ہے انسان کوئی نفلی کام کرتا ہے، تو یہ اضافی چیز ہے۔ اس کا اجر ہے، لیکن نفل کا اجر فرض کے اجر تک نہیں پہنچ سکتا۔ یا واجب کے اجر تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس اگر کوئی شخص ان... مطلب ہے جو... مطلب جو دوسرے ایام ہیں، اس میں اگر کوئی جانور ذبح کر لیتا ہے اور اس کا ثواب یعنی مطلب کمانا چاہتا ہے تو اس کو خیرات کر دیتا ہے، یقیناً ثواب ہوگا۔ لیکن اگر قربانی اس پر واجب ہے اور قربانی نہیں کرتا، تو بے شک لاکھوں کروڑوں جانور ذبح کر لے۔ اس کے ثواب تک وہ نہیں پہنچ سکتا، گنہگار ہوگا۔ کیونکہ اس کے ذمے ہے، نہیں کرے گا تو گنہگار ہوگا بے شک کروڑوں جانور اس نے ذبح کیے ہوں نفلی۔

مسئلہ اس میں یہ ہے کہ جو باقی جانور اس نے ذبح کیے ہیں وہ دوسرے دنوں میں کیے ہوئے ہیں اپنے مطلب اضافی، اور جو واجب قربانی ہے، وہ ان ایام میں جو قربانی کے ایام ہیں اس میں کرنی پڑے گی، اس نیت کے ساتھ کرنی پڑے گی کہ یہ نیت قربانی کی ہو۔ اس نیت کے ساتھ کرنی پڑے گی۔ اور یہ نیت اتنی ضروری ہے کہ اگر قربانی کی نیت نہ کی ہو، گوشت کھانے کی نیت کی ہو کسی جانور کو خریدنے میں یا ذبح کرنے میں، تو اگر وہ جانور مشترکہ ہو، تو اس میں سے جس کی نیت بھی قربانی کی نہ ہو، اور ویسے گوشت کھانے کی نیت سے اس نے مطلب حصہ ڈالا ہو، تو سب کی قربانی نہیں ہوئی۔ جتنے بھی لوگ ہیں وہ سب کی قربانی نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے مشترکہ قربانی جو ہے، اس کے اندر کچھ مشکلات ہیں کہ جن کے ساتھ قربانی کی جا رہی ہے، ان کے بارے میں معلومات ہوں۔ ایک تو ان کا رزق حلال ہونا چاہیے، جو پیسے ہیں وہ حلال ہونے چاہئیں۔ اور دوسری یہ بات ہے کہ ان کی نیت جو ہے نا واقعی قربانی کی ہو۔ پھر جو ہے نا مطلب ان کے ساتھ قربانی کی جا سکتی ہے۔

آج کل لوگ مروت میں بعض چیزوں کو بھول جاتے ہیں۔ بھئی دین کے اندر مروت والی بات نہیں ہے۔ مروت بظاہر خود اچھی چیز ہے، کوئی بری چیز نہیں ہے۔ لیکن آپ دین میں نہیں کر سکتے۔ ہاں جی، مطلب دین میں تو اللہ کے حکم پہ بات ہوگی۔ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اس کے مطابق چلنا پڑے گا، کوئی اور چیز نہیں ہے۔

بہرحال، جیسے میں نے عرض کیا کہ ان ایام میں یہ دو کام تو ہیں۔ اب جس پر حج فرض ہے اور وہ حج نہیں کرتا، وہ تو بہت ہی خطرناک معاملہ ہے۔ ظاہر ہے میری اور آپ کی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لیکن جہاں سے دین آیا ہے، تو وہاں یہ فرمایا جاتا ہے: مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا. صاف صاف بات ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو ان... ایسے انجاموں سے محفوظ فرمائے۔ بہت خطرناک بات ہے۔

تو فرمایا آپ ﷺ نے کہ جس شخص کو حج سے کلاً مکلاً ضرورت، یا ظالم بادشاہ، یا رکاوٹ کے قابل مرض نے حج سے نہ روکا ہو۔ یعنی اس پہ حج فرض ہو چکا ہو، دوسری... نصاب کے مطابق یعنی پیسے ان کے پاس اتنے ہیں کہ آ سکتا ہے جا سکتا ہے، آپ یہاں بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ تو ان کے لیے استثناء صرف تین وجوہات سے بتائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ... کلاً مکلاً کوئی ایسی ضرورت ہو جو اس کے بغیر نہ ہو سکتا ہو، یا ظالم بادشاہ نے اس کو روکا ہو یعنی راستے محفوظ نہ ہوں، اور یا پھر کوئی ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے وہ جا نہیں سکتا۔ تو وہ مطلب اس کی بات الگ ہے، پھر اس کے لیے قانون الگ ہے، وہ حجِ بدل والی بات ہے وہ کریں گے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر فرمایا، تو بے شک وہ یہودیوں کر مرے یا نصرانیوں کر مرے، اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

تو اب دیکھیے پرواہ نہیں ہے، اس سے مراد کیا ہے کہ توفیقات سلب ہو جاتی ہیں، یعنی آپ یہ کہہ سکتے ہیں۔ تو اگر توفیق سلب ہو جائے تو پھر بچنا تو بڑا مشکل ہے۔ اس فتنے کے دور میں بچنا تو بڑا مشکل ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو چاہیے کہ جس چیز سے یہ خطرہ ہو کہ ہمارا ایمان ضائع ہو سکتا ہے، اس کو تو اول نمبر پہ رکھنا چاہیے تاکہ کہیں پر...

ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کو اپنے والد صاحب نے کچھ پیسے دیے، ہبہ کر لیے۔ تو حضرت نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے مجھے اس کا مالک بنا دیا؟ ہاں جی، یہ دیکھیں عجیب! تو والد صاحب نے کہا جی، مالک بنا دیا۔ ان دنوں اتنے پیسوں سے حج ہو جاتا تھا۔ فرمایا پھر تو میرے اوپر حج فرض ہو گیا۔ تو بس، حج کے لیے چلے گئے۔ اپنے والد صاحب کے ساتھ چلے گئے، حج کے لیے چلے گئے۔

تو مقصد یہ ہے کہ Top priority اس کی یہ ہے۔ جیسے کسی کو پیسے ملیں تو سب سے پہلے کام کیا ہے کہ اگر کوئی اور وجہ نہیں ہے تو پھر اس کے اوپر حج فرض ہو جائے گا۔ اگر... پھر اس کے ساتھ وہ جو ہے نا وہ حج کے معاملے میں بس جلدی کرے۔ اس میں مزید تاخیر نہ کرے کیونکہ زندگی کا کیا پتا ہے؟ دوسری بات یہ ہے دیکھیں نا، زکوٰۃ تو آپ کسی بھی وقت ادا کر سکتے ہیں، جب آپ کے اوپر فرض ہو گزشتہ، کر سکتے ہیں۔ نماز اپنے وقت پہ روزانہ جو فرض ہوتے ہیں مطلب وہ کر سکتے ہیں، قضاء بھی اس کی ہر وقت کر سکتے ہیں۔ حج کے لیے پورے سال میں ایک مخصوص ایام ہیں۔ تو ان ایام کے اندر ہی آپ حج کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ تو نہیں کر سکتے۔ نیت تو کر سکتے ہیں کہ میں کروں گا، لیکن یہ تو نہیں کر سکتے کہ کر لیں۔ تو اس میں Risk بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا جس وقت حج فرض ہو جائے اور حج کے ایام ہوں، تو بس پھر حج کرنا چاہیے۔ پھر جو ہے نا درمیان میں کوئی اور باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

اب جو حج کرتا ہے اس کو ملتا کیا ہے؟ یعنی حج کی مطلب جو فضیلت ہے وہ کیا ہے؟ تو دیکھیے سن لیں، یہ متفق علیہ حدیث شریف ہے، یعنی بخاری شریف میں اور مسلم شریف دونوں میں آیا ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ جس شخص نے خالص اللہ کے لیے حج کیا، اور اس میں نہ فحش گوئی کی، نہ گناہ کا کام کیا، تو وہ شخص اس دن کی مانند لوٹتا ہے جس دن کہ اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔ یعنی بالکل گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ ہاں جی! سبحان اللہ۔ کیا بات ہے! اتنی زبردست...

میری... حدیث شریف، متفق علیہ حدیث شریف ہے۔ آج کل یہ بھی ایک Fashion ہے کہ جس کام کو نہیں کرنا ہوتا کہتے ہیں ضعیف حدیث ہے۔ بھئی یہ علماء بتائیں گے، آپ بتائیں گے؟ یہ تو علماء کا کام ہے، محدثین کا کام ہے، وہ کہیں گے ضعیف ہے یا صحیح ہے۔ پھر بھی فضائل میں ضعیف احادیث چلتی ہیں۔ اس میں صحیح حدیث تو بہت اچھی ہے لیکن اگر صحیح حدیث نہ ہو تو ضعیف حدیث بھی فضائل میں چلتی ہے۔

تو جس کو چاہیے نا مطلب وہ کہ، میں آپ کو ایک واقعہ بتا دوں، حضرت تھانویؒ نے ایک واقعہ کسی وعظ میں فرمایا تھا۔ یہ عربوں کی کتابوں میں، کتابیں ملتی ہیں... کتاب البخلاء بھی ہے کتاب مطلب ہے جو... جو مطلب... طمع، طماع، جو بہت زیادہ طمع کرنے والے ہیں، یہ بھی ملتے ہیں۔ تو ان کے بڑے بڑے لطیفہ ہوتے ہیں تو اس کتاب میں ایک لطیفہ ہے کہ فلاں کوئی صاحب تھے جو کہ بڑے یعنی طماع مشہور تھے۔ بس ہر وقت اس کو طمع ہوتا تھا کہ مجھے کوئی چیز مل جائے گی۔ تو ایک دفعہ... اور مشہور ہو گئے تھے اس پر، تو بچے تو ان کو تو شغل چاہیے۔ تو جس طرف بھی نکلتے بچوں کا ایک جلوس ان کے پیچھے ہو جاتا... اوہ فلاں، اوہ فلاں، اوہ فلاں۔ تو تنگ آ جاتے، وہ بھی تنگ آ گئے۔

تو اس نے ان بچوں کے اس سے بچنے کے لیے، ان سے کہا، "تم میرے پیچھے لگے ہو حالانکہ فلاں محلے میں خیرات ہو رہا ہے۔" ہاں جی! مطلب ظاہر ہے اپنے اوپر ہی وہ کر لیا نا، کہ جو کہ وہ خود طماع تھے تو کہتے ہیں بچے بھی... تو ان کو اس طریقے سے وہ بہلانا چاہا۔ بچوں... بچوں نے About turn لے لیا اور دوڑنے لگے جی اس محلے کی طرف کہ جا کے خیرات میں شریک ہو جائیں۔ تو یہ خود بھی پیچھے دوڑنے لگے! تو کسی نے ان سے، ادھر کھڑے تھے، اس نے سارا ماجرا دیکھا۔ تو انہوں نے کہا، "تم کیوں بھاگ رہے ہو؟ تمہیں تو... تم نے تو ان کو دھوکہ دیا ہے۔" کہتے ہیں، "اتنے لوگ بھاگ رہے ہیں، ممکن ہے ٹھیک ہو!" ہاں جی، جب اتنے لوگ بھاگ رہے ہیں تو پھر اس کا ممکن ہے کہ ٹھیک ہو۔

تو بہرحال یہ ہے کہ طماع تو ایسے ہوتے ہیں۔ مجھے بتاؤ جنت کی طمع کسی کو ہے یا نہیں ہے؟ ہم طماع ہیں نا اس مسئلے میں۔ تو جنت کے بارے میں جو بات ملے کہ اس سے آپ کو جنت ملے گی، اس سے آپ کو فائدہ ہوگا، تو بے شک وہ ضعیف حدیث کیوں نہ ہو، تو اس کے لیے استعمال کرنے کو ضرورت پڑے گی نا! بھئی ممکن ہے جی، کام بن جائے۔ نہ بنے تو تو ویسے بھی... ایسے اعمال... لیکن یہ ہے کہ اگر ہو گیا تو پھر تو کام بن جائے گا۔ ہاں جی!

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جو اس لیے جو ضعیف احادیث ہیں، ان میں بھی اگر وہ فضیلت کے لیے ہے، تو پھر استعمال ہو سکتا ہے۔ فضیلت یا وعید کی ہے۔ وعید کی بھی اس طرح ہو سکتی ہے۔ جیسے اب ایک شخص ہے، جا رہا ہے گاڑی میں۔ راستے میں کوئی ہاتھ دے کر کہتا ہے، "یار سامنے آگے جا کر Strike ہے۔" ہاں جی! کہتا ہے ویسے ہی شاید پتہ نہیں اس کو غلط فہمی ہو چکی ہوگی، چلیں آگے چلیں۔ آگے جو ہے نا ایک دوسرا آدمی نے کہہ دیا بھئی آگے Strike ہے، نہیں راستہ بند ہے۔ تو یہ پھر بھی جاتا ہے، آگے پھر ایک اور کہتا ہے کہ جی بھئی... خطرہ تو اس کے دل میں آ گیا نا کہ بھئی پتہ نہیں سچ نہ ہو۔ لیکن تیسرے پہ وہ اس کو کہتا ہے، "یار اب تو... اب ظاہر ہے اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایسا نہ ہو" تو گاڑی موڑ لیتا ہے۔

اب دیکھیے، ضعیف حدیث کس کو کہتے ہیں؟ یہ حدیث شریف کے معاملے میں یاد رکھو کہ اس کے قوانین بڑے سخت ہیں۔ یہ عام بات چیت کے لیے وہ قوانین نہیں ہیں۔ مجھے آپ بتاؤ کہ اگر آپ کسی کو جھوٹا کہہ دیں... ویسے تو ظن المؤمنین خیرًا ہے نا، کسی کے ساتھ نیک گمان کرنا یہ اچھی بات ہے مطلب اس پر اللہ خوش ہوتے ہیں۔ اور حسنِ ظن کے لیے کہتے ہیں دلیل کی ضرورت نہیں ہے، ہاں سوءِ ظن کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔ ہاں جی! لیکن محدثین کرام کے ہاں یہ الفاظ بہت عام ہیں کسی کے بارے میں کہنا کذاب ہے، جھوٹا ہے، کسی... اس کی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہم نے اس کو... ہم اس کو جانتے ہیں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس قسم کے الفاظ آپ کو محدثین کی کتابوں میں بہت ملیں گے۔ کیوں؟ ان کی بڑی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہم نے نرمی کی کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی جھوٹی حدیث، گڑھی ہوئی حدیث، ضعیف حدیث کی وجہ سے کسی کا ایمان نہ چلا جائے، کوئی عمل خراب نہ ہو جائے۔ لہٰذا وہ خوب مطلب جو ہے نا، وہ کرتے ہیں، جرح کرتے ہیں۔

اور بعض نے تو اتنی سختی کی میں آپ کو کیا بتاؤں، یحییٰ معین رحمۃ اللہ علیہ جو ہیں نا، یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، وہ تو ایسی حالت میں مطلب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے استاذ کو جانچنا چاہا کہ میرا استاذ ثقہ ہے یا نہیں ہے۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ان کے class fellow تھے۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کہا کہ یار اپنے استاذ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ تو انہوں نے کہا نہیں نہیں، ہم نے تو کرنا ہے۔ ہم نے تو کرنا ہے کیونکہ ہمیں، ہمیں جو ہے نا مطلب کیسے پتہ چلے گا، کسی کو کیسے بتائیں گے کہ یہ بات بالکل صحیح ہے۔

خیر طریقہ کار یہ کہ تین آدمی تھے، تو انہوں نے متن تو بالکل وہی رکھا، متن میں تبدیل نہیں کیا، جیسے اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ متن ہے۔ لیکن اس کے راوی، راوی ہوتے ہیں نا، راویوں میں گڑبڑ کی، ایک کے راوی دوسرے کے ساتھ ملا دیے، آپس میں خلط ملط کر دیے۔ کچھ کا کچھ بنا دیا۔ تو اپنے استاذ سے کہا استاذ جی، ہم نے آپ سے احادیث شریف سنی ہیں، ذرا ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ واقعی ہم نے آپ سے سنی ہیں یا نہیں سنی مطلب ذرا تھوڑا تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔ تو آپ تصدیق کر لیں گے؟ کہا ہاں بالکل ٹھیک ہے بتاؤ۔

پہلی حدیث جو سنائی نا تو حضرت کے چہرے پہ ناگواری کے آثار، کہتے ہیں نہیں یہ بھئی یہ مجھ سے تم، تم لوگوں نے مجھ سے نہیں سنا۔ اب جیسے اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ کے راویوں میں گڑبڑ کی جائے اور لوگوں کے سامنے کہہ دے کہ تم نے مجھ سے نہیں سنا، لوگ کہیں گے بھئی یہ تو مشہور حدیث ہے، اس نے کیسے نہیں سنا، عام لوگ تو یہی کہیں گے۔ لیکن محدثین تو سمجھ جائیں گے نا کہ کیا مطلب ہے اس کا۔ تو وہ، آپ ان لوگوں نے مجھ سے نہیں سنا، اس کو کاٹ دو۔ کاٹ دی۔

دوسری حدیث شریف، اس کے اندر بھی گڑبڑ راویوں میں۔ اس پر حضرت کا چہرہ سرخ ہو گیا، کہتے ہیں نہیں اس کو کاٹ دو، یہ بھی نہیں سنی۔ جب تیسری بھی اس طرح کی، تو حضرت اٹھے۔ اور سامنے جو بیٹھے تھے اس سے کہا تو تو ایسا کام کر ہی نہیں سکتا۔ یعنی مطلب اتنا ذہین نہیں تھا ان کے خیال میں، استاذ جی کے۔ امام احمد بن حنبلؒ سے کہا تو صوفی آدمی ہے، تو بھی ایسا کام نہیں کرے گا۔ یعنی ان کو صوفی کہتے تھے امام احمد بن حنبلؒ کو، تو صوفی آدمی ہے، تو تو ایسا کام نہیں کرے گا۔ یحییٰ بن معینؒ کو کہا یہ ساری شرارت تیری ہے۔ اٹھے اور ان کو ٹھڈے مار مار کر چبوترے سے گرا دیا نیچے۔

تو امام احمد بن حنبلؒ نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نہیں کہتا تھا؟ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ السلام علیکم۔ (آواز: وعلیکم السلام) آواز تیز کر لیں۔ اچھا وہ پنکھوں کی وجہ سے ذرا کم ہو گئی نا۔ آواز ذرا ادھر رکھیں۔ اچھا چلیں۔ تو یہ بات ہے۔ تو امام صاحب نے کہا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ اپنے استاذ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا یہ تو ہمارے سروں کے تاج ہیں، مطلب اس، اب ہم کہہ سکتے ہیں ہمارا استاذ ثقہ ہے۔ ہاں جی بالکل۔ تو محدثین ایسے ہوتے تھے۔

تو اب وہ جب اس قسم کی باتیں مطلب وہ کر لیتے ہیں کہ یہ ایسا ہے، تو بھئی ہم اس قسم کی بات نہیں کریں گے۔ آپ کو پتہ ہے جن کے بارے میں انہوں نے تبصرہ کیا ہے، وہ تو ان کی شان تھی نا کہ وہ اس قسم کی بات ان کے بارے میں کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں کے لیے تو وہ، اور آج کل کے دور کے مطابق وہ تو بہت بڑے ولی اللہ تھے اس وقت۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے، اس کا حافظہ کمزور ہے۔ ثابت ہو گیا دو تین باتوں میں کہ ان کا حافظہ کمزور ہے، اور ہے ولی اللہ۔ تو اب محدثین اس سے روایت نہیں لیں گے۔ یہاں تک کہ بعض محدثین نے صوفیوں سے روایتیں نہیں لی ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ ذرا حسنِ ظن کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ تحقیق نہیں کرتے، یہ حسنِ ظن والا معاملہ کرتے ہیں کہ اچھا ٹھیک ہی کہا ہوگا۔ اس وجہ سے ان سے روایتیں نہیں لیں۔

اب بتاؤ، اب اگر وہ نہیں کہتے تو ظاہر ہے وہ اگر ضعیف ہو جائے اس کی وجہ سے، تو کیا واقعی ضعیف ہے؟ واقعی میں تو ضعیف نہیں ہے، امکان تو بہت ہے۔ اس وجہ سے محدثین میں دو قسم کے لوگ، حضرات ہیں۔ ایک وہ جو کہ انتہائی سختی کا معاملہ کرتے ہیں کہ کہیں آپﷺ کے دین میں کوئی نئی بات نہ آ جائے، یا کوئی ضروری بات نہ ختم ہو جائے۔ آپﷺ کے دین کی حفاظت کے لیے بہت سختی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سخت پابندیاں لگائی ہیں جیسے امام بخاریؒ، امام مسلم شریف اور باقی صحاح ستہ والے حضرات، انہوں نے پابندیاں سخت لگائی ہیں۔ لہٰذا ان کی جو کتابیں ہیں، ان میں وہ روایات صرف ملتے ہیں جو کہ بہت ہی زیادہ مستند ہوتے ہیں۔ تو ٹھیک ہے، ان کی نیت بھی بہت زبردست ہے۔

دوسری طرف وہ حضرات ہیں جو، وہ کہتے ہیں کہیں ہماری سختی کی وجہ سے دین کی کوئی بات رہ نہ جائے۔ یعنی جو ہم سختی کرتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت ضروری بات ہے اور وہ جو ہے نا وہ ہماری محفوظ ہی نہ ہو جائے۔ تو وہ پھر کمزور روایات کو بھی ریکارڈ کرتے ہیں۔ جن میں کنز العمال ہے، جیسے امام بیہقیؒ۔ امام بیہقیؒ تو مرتبے میں کوئی کم آدمی نہیں تھے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا امام بخاریؒ کا مرتبہ امام بیہقیؒ سے زیادہ تھا، نہیں۔ ان کی کتاب کا مرتبہ اونچا ہے۔ کتاب کا مرتبہ اونچا ہے، أَصَحُّ الْكِتَابِ بَعْدَ الْقُرْآنِ، أَصَحُّ الْكِتَابِ بَعْدَ الْقُرْآنِ، مطلب یہ کہ قرآن کے بعد صحیح کتاب یہ ہے، تو بات تو صحیح ہے کیونکہ اس میں صحیح روایتیں جمع کی گئی ہیں۔

لیکن اس کی وجہ سے ایسا نہ ہو کہ امام بخاریؒ کو ہم امام بیہقیؒ سے افضل قرار دیں، نہیں۔ یہ تو اللہ کو پتہ ہے۔ اللہ کو پتہ ہے کہ ان میں کون زیادہ افضل تھا، کیونکہ نیتیں دونوں کی اعلیٰ ہیں۔ ایک کی نیت حفاظت کی ہے، دوسری کی بھی یہی ہے نا کہ کہیں رہ نہ جائے کوئی چیز۔ تو ظاہر ہے مطلب اس لحاظ سے انہوں نے، یعنی امام بیہقیؒ، امام ابن تیمیہؒ جو کہ بہت بڑے اپنے طور پہ بہت بڑے محدث بھی ہیں اور بڑے آدمی ہیں، ان کو ایسے ڈانٹتے تھے جیسے کوئی بچے کو ڈانٹتے ہیں۔ تو معمولی شخص تو نہیں تھے نا۔ ہاں جی؟

تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے، ہمیں اس کو دیکھنا چاہیے کہ اگر محدث سختی کرتا ہے، وہ بھی اللہ کے لیے کرتا ہے، اگر نرمی کرتا ہے وہ بھی اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اور جو حدیث شریف ہے، وہ اگر فقہ میں استعمال ہو رہی ہے تو پھر تو صحیح ہونی چاہیے۔ کیونکہ فقہ میں تو کمزور روایت نہیں آ سکتی۔ لیکن اگر فضیلت کی بات ہے، فضیلت میں تو استعمال ہو سکتی ہے، تو محدثین سب اس پر وہ قائل ہیں کہ ان کو فضیلت کے مطلب جو ہے نا اس، جو ہے اس میں استعمال کی جا سکتی ہے کسی بھی عمل کی۔

تو یہاں پر جو ہے یہ متفق علیہ حدیث شریف ہے۔ یعنی مستند ترین حدیث شریفوں میں ہے۔ آپﷺ نے چار عمرے کیے ہیں، وہ سب ذی قعدہ میں تھے۔ سوائے ایک کے جو حج کے ساتھ تھا۔ چونکہ حج کے ساتھ جو عمرہ ہوگا، وہ تو پھر ذی الحج میں ہو گیا نا۔ ہاں جی، تو ان کے ساتھ تھا، لیکن اس سے پہلے جب پہنچے تھے آپﷺ تو ذی قعدہ میں ہی، تو اس سے پتہ چلا کہ تین عمرے ذی قعدہ میں ہوئے ہیں، اور پھر بعد میں ایک جو ہے وہ ہوا ہے۔ یعنی حج کے ساتھ ہوا ہے۔

اس وجہ سے ہمارے جو اللہ والے ہیں، یہ اکثر جب حج پہ جاتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ چار عمرے کر لیں۔ چار عمرے کر لیتے ہیں، خود مجھے اب ہمارے اپنے شیخؒ، چونکہ میں معذور تھا تو انہوں نے ہم سے مطلب عمرے کے لیے کہا تھا کہ، فرمایا چار عمرے کم از کم کر لو۔ ہاں جی؟ تو مطلب یہ ہے کہ چار عمرے اصل میں اس وجہ سے کہ یہ آپﷺ نے اتنے عمرے کیے تھے۔

بہرحال یہ بات ہے کہ اس میں ہم یہ خیال رکھیں کہ حج جس پر فرض ہے اس میں وہ کوتاہی نہ کرے اور اپنے وقت پہ کرے۔ ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی پہ حج فرض ہے اور وہ نہ کرے تو پھر ایمان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اس کی جو فضیلت ہے، وہ اتنی زیادہ ہے کہ اگر کوئی حج کرتا ہے اور اس میں جیسے فرمایا، تین چیزیں ہیں نا، اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ، تو ان تین کاموں سے اگر کوئی بچا، سبحان اللہ، سبحان اللہ، پھر ایسے جیسے کہ ماں نے اس کو اسی وقت جنا ہو، اس قسم کا پاک ہو جائے گا۔ تو یہ بہت بڑی بات ہے۔

ایک اور حدیث شریف ہے، وہ بھی اس میں آ جاتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ کو ملا کر کرو۔ کیونکہ وہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے کہ بھٹی لوہے اور چاندی اور سونے کی میل کو دور کرتی ہے اور حجِ مبرور یعنی مقبول کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہاں جی۔

اب بعض لوگ آج کل کے دور کے جو so called محققین ہیں، بڑے اپنے آپ کو بڑے محقق کہتے ہیں، وہ عجیب و غریب قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ کہتے ہیں بھئی جو عمرہ پہ جاتے ہیں، وہ یہ پیسے غریبوں کو دے دیں۔ یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ آپ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں، اس کی جگہ آپ کسی کی روٹی کا انتظام کر دیں تو اس پہ آپ کو اللہ پاک اور زیادہ دے گا۔ اب یہ میٹھی زہر کی گولیاں ہیں۔ میٹھی زہر کی گولیاں ہیں۔ کہ وہ بات تو بڑی نرمی کے ساتھ اور میٹھے انداز میں کرتے ہیں لیکن ہے تو خطرناک۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کے گھر کو آباد کرتے ہیں، آپ کسی کے روٹی کا انتظام کرتے ہیں، وہ سب کے سب نفلی کام ہیں۔ ہاں، اگر آپ زکوٰۃ کے ذریعے سے کر رہے ہیں تو وہ علیحدہ بات ہے، وہ تو فرض ہے۔ ہاں جی؟ لیکن جو ہے نا، ویسے اگر آپ کر رہے ہیں اضافی، تو کیا ہے؟ وہ نفل ہے۔ اور یہ بتاؤ کہ حج کیا ہے؟ یہ فرض ہے۔ تو فرض کے مقابلے میں ایسی چیزوں کو لانا ایک عجیب سی بات ہے۔

ہاں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سب سے پہلے وہ کرو، یہ کہہ دو کہ جو آپ فضولیات میں خرچ کرتے ہیں، ان فضولیات میں خرچ کرنے کی بجائے آپ کسی کا گھر آباد کر لیں۔ آپ کھانا کھلائیں لوگوں کو۔ تو اب ذرا دیکھیں، وہ ایسی بات نہیں کرتے کیونکہ اس میں خود پھنستے ہیں۔ اب ظاہر ہے کسی نے دو گاڑیاں رکھی ہیں اور پاس ہی پڑوسی بالکل بھوک سے تڑپ رہا ہے، اور اس کو بالکل خیال نہیں ہو رہا کہ میں جو ہے نا مطلب ہے کہ ان کے لیے انتظام کر لوں، کیونکہ میرے پاس تو دو گاڑیاں ہیں۔ ہاں جی؟ تو یہ کیا، کیا خیال ہے؟ یہ باتیں اس قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ اب اگر آپ ان سے کہہ دیں نا کہ بھئی ٹھیک ہے نا، اچھی بات ہے نا، تو چلو ان دو گاڑیوں میں سے ایک گاڑی بیچ دو اور غریبوں کو پیسے بانٹو۔ تو کیا مطلب، آپ کو بہت ثواب ملے گا، تو کیا کہیں گے پھر؟ ہاں یا ناں شاید؟ پھر ایسی بات نہیں کریں گے۔

یہ میرے ساتھ ہوا ہے، اس طرح مطلب یہ نہیں، یہ بھی میں کوئی دوسری بات نہیں کرتا ہوں۔ ہمارے Class fellow تھے، Libya میں کام کرتے تھے۔ بڑے عرصے کے بعد ان سے میری ملاقات ہو گئی پشاور میں۔ ظاہر ہے Class fellow تھے، Class fellow کے ساتھ تو گپ شپ اور یہ ساری چیزیں بے تکلفی ہوتی ہے۔ تو چائے اس نے منگوا لی تھی۔ چائے پہ بات کر رہے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا کہ وہ، وہ جو ہے نا وہ تھے، غنی تھے، اور بلال رضی اللہ عنہ کے جسم پہ کپڑا نہیں تھا اور اس طرح۔ مطلب یہ بات کی، مطلب گویا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی توہین بات کی۔ حالانکہ عثمان رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ جنت خریدی ہے آپ ﷺ کے مطابق۔ ہاں جی؟ تو اس سے پہلے عام باتوں میں وہ یہ بات کہہ چکے تھے کہ اس کے دو گھر ہیں۔ دو گھر اس نے بنائے ہیں کیونکہ ظاہر ہے مالدار آدمی تھا، Libya میں کام کر رہا تھا، پیسے ویسے ان کے پاس تھے۔

میں نے اس سے کہا، میں نے کہا دیکھو بات سنو۔ تو بہت اچھا بنتا ہے نا، کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا تو تو تو کرے گا نا؟ تیرے دو گھر ہیں نا؟ تو ایک گھر کو بیچ دو اور جو آپ کے آس پاس تو بہت غریب ہوں گے، تو ان کو دو نا! تو اس پہ چپ ہو گئے۔ میں نے کہا بات سنو، عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تو صحیح روایات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے تو اپنے مال کو اپنے لیے استعمال نہیں کیا، انہوں نے تو غریبوں کے لیے استعمال کیا۔ بہت ساری روایات ہیں، مطلب میں آپ کو سنا سکتا ہوں کہ انہوں نے غریبوں کے لیے استعمال کیا۔ آپ نے اس کے اوپر اعتراض کر لیا، اور خود یہ حالت ہے تیری! تو اس کا مطلب ہے تیرے دل کے اندر صحابہ کے لیے کوئی احترام نہیں ہے۔ ہاں جی؟ تو اگر ایسی بات ہے تو ہمارے دل میں پھر آپ کے لیے کوئی احترام نہیں ہے، لہٰذا آپ کے ساتھ ہمارا تعلق منقطع۔ اب آئندہ نہ میری آپ کے ساتھ کوئی دوستی ہے، نہ کوئی تعلق ہے، چھوڑ دو، بات ختم کرو۔ اور میں آپ کی چائے نہیں پیتا۔ چائے چھوڑ دی۔

اب وہ ظاہر ہے پٹھانوں کا علاقہ، وہ سارے مجھے میری منتیں کرنے لگے، نہیں جی بس غلطی ہو گئی، معافی مانگتا ہوں، یہ، وہ۔ میں نے کہا جو بھی ہے لیکن اس نے میرے دل کو دکھایا ہے، اب جو ہے نا میں مطلب ہے میں اس کو معاف نہیں کر سکتا۔ میرا معاملہ نہیں ہے، یہ تو صحابہ کا معاملہ ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ بس میں اس کی چائے نہیں پیتا۔ اور نہ آئندہ میرے ساتھ کوئی تعلق رکھے، نہ میں اس کے ساتھ کوئی تعلق رکھوں گا۔ بہت کہا لیکن پھر میں نے کہا نہیں، بات ختم ہو گئی۔ اس وقت دینی غیرت کی ضرورت ہے، مطلب آدمی کیوں مطلب ہے... بھئی اپنے باپ پہ غیرت کرتا ہے، اپنے بھائی پہ غیرت کرتا ہے، ہاں؟ اپنی ماں پہ غیرت کرتا ہے تو صحابی پہ غیرت کیوں نہ کرے؟ کیا کوئی ایسی ویسی بات ہے؟ ہاں جی؟ تو بہرحال یہ ہے کہ مطلب اس قسم کی باتیں جو لوگ کرتے ہیں وہ بیچارے وہ کیا ہیں؟ ہاں، بیمار ہیں۔ بیمار ذہن کے لوگ ہیں۔ تو ایسے بیمار ذہن کے لوگوں کی کیا حیثیت، ان کی بات کی کیا اوقات ہے؟ لہٰذا اس کو بھول جاؤ، پرواہ نہ کرو۔

یہاں تو یہ بات ہے کہ جو جس کو کہتے ہیں حج اور عمرے اس طرح کرتے ہیں نا بار بار، ان کو تو فرماتے ہیں کہ وہ بھٹی کی طرح ہے، کہ جس سے اس کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات ہے کہ دیکھو، آج کل کے سارے ہوشیاروں کو ملا دو، کیا ان کی ہوشیاری امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے برابر ہو گی؟ ہاں جی؟ فقیہِ اعظم ہیں۔ تو وہ فقیہِ اعظم جو ہیں، یہ کیا کرتے ہیں؟ وہ تقریباً باون (52) حج بتاتے ہیں کہ اس نے کیے ہیں۔ اس کا مطلب ہے تقریباً ہر سال حج پہ جاتے تھے جب سے ان پہ فرض ہو چکا تھا، وہ تقریباً حج پہ جاتے ہوں گے۔ اب دیکھیے، اور وہ حج اتنا آسان حج بھی نہیں ہوتا تھا، وہ کوفہ سے جو ہے نا وہی یا گھوڑوں پہ، یا اونٹوں پہ، یا پیدل، اس طریقے سے لوگ آتے تھے۔ تو اس میں کافی Time لگتا تھا اور کافی مشقت ہوتی تھی، لیکن ہر سال وہ مشقت کرتے تھے۔ پھر وہاں سے چھ دن وہیں پر ایامِ حج میں، اور پھر اس کے بعد حج کرنے کے بعد پھر مدینہ منورہ مطلب ہو جاتے تھے۔ تو اب اگر یہ کوئی کمزور بات ہوتی تو اتنا بڑا فقیہ، کیا اس کو اب جو فضائل بتاتے ہیں، یہ فضائل ان کو معلوم نہیں تھے؟ ہاں جی؟ تو وہ کیوں اس طرح کرتے تھے؟

لیکن یاد رکھو، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جو 52 حج کیے، تو انہوں نے کتنے غریبوں کے لیے کام کیے ہیں، وہ بھی ذرا یاد رکھو نا۔ کتنے مطلب جو ہے نا، انہوں نے اپنے مال کو استعمال کیا لوگوں کے لیے، یہ بھی دیکھو۔ اور جو لوگ اعتراض کرتے ہیں حج اور عمرے پہ، ان کو دیکھو کہ انہوں نے کتنا غریبوں کی خدمت کی ہے۔ پتہ چل جائے گا نا، یہ صرف باتیں ہیں۔ تو ایسے شریر ذہن والے لوگوں کی باتیں نہیں سننی چاہئیں، اپنے آپ کو اس سے بچانا چاہیے۔

آگے ایک اور حدیث شریف بہت اہم آ رہی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لیے میری شفاعت ضرور ہو گی۔ ہاں جی، ابنِ خزیمہ کی صحیح میں۔ ہاں جی، یہ روایت ہے۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ بلکہ ایک روایت میں تو یہ آتا ہے کہ فرمایا کہ جو حج کے لیے آیا، اور پھر اس کے بعد میرے پاس نہیں آیا، تو اس نے میرے ساتھ جفا کی۔ اس نے میرے ساتھ جفا کی۔

اب ذرا اندازہ کر لو، بالکل ذرا سمجھنے کے لیے میں عرض کرتا ہوں کہ سمجھیں۔ کیسے اس بات کو سمجھیں؟ ایک شخص کا باپ فیصل آباد میں ہے اور یہ خود England میں کام پہ گیا ہے، کام کرتا ہے۔ کسی کام پہ، اپنے کام کے سلسلے میں لاہور آیا، پاکستان۔ تو England سے فیصل آباد آنا تو ذرا مشکل تھا نا، لیکن لاہور تو وہ آ ہی گیا۔ اب اگر وہ فیصل آباد جا کے اپنے والد سے نہ ملے اور پھر واپس England چلا جائے، تو باپ کیا کہے گا؟ ہاں جی؟ باپ کہے گا نا کہ بھئی اس نے تو، اس نے میرے ساتھ جفا کی۔

یہی تو آپ ﷺ فرما رہے ہیں۔ کہ حج کے لیے آیا، تو حج کے لیے آنا تو ظاہر ہے دور سے آنا ہے، پاکستان سے کوئی آیا، انڈیا سے کوئی آیا، کوئی انڈونیشیا سے آیا۔ تو اس کے لیے تو اگر کوئی بار بار نہیں آ سکتا تو ایک علیحدہ بات ہے، لیکن آ گیا۔ اب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا فاصلہ اس کے مقابلے میں تھوڑا ہے۔ تو اگر وہ وہاں پر نہیں آیا تو اس نے میرے ساتھ جفا کی۔ اور یہ آپ ﷺ کی محبت کی علامت ہے، کہ آپ ﷺ کو اپنی امت کے ساتھ محبت ہے۔ جیسے اولاد کے ساتھ محبت ہوتی ہے، تو اس سے زیادہ آپ ﷺ کو اپنی امت کے ساتھ محبت ہے۔ تو اگر کوئی شخص نہیں جاتا...

اب دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں۔ وہ ہوتا کیا ہے؟ ہوتا یہ ہے کہ ایسے لوگ کیا کہتے ہیں؟ ایسے لوگ کہتے ہیں مکہ مکرمہ میں ایک لاکھ گنا اجر ہے، اور مدینہ منورہ کی مسجدِ نبوی میں ایک ہزار گنا ہے۔ یہ روایات مختلف ہیں، ایک روایت میں پچاس ہزار ہے۔ لیکن بہرحال ایک روایت ایک ہزار کی بھی ہے۔ ہم ایک ہزار کی روایت کو صحیح مان لیتے ہیں۔ پچاس روایات کی روایت۔ ہاں جی، لیکن دیکھو سنو، کہ آپ ﷺ کا ہمارے اوپر حق کتنا ہے؟ اس کے ذریعے سے سوچو، آپ اپنی اس کو نہ دیکھو، اس کو دیکھو کہ آپ ﷺ کا ہمارے اوپر حق کتنا ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں ایک لاکھ کماؤں اور میں آپ ﷺ کو... اس کا ایصالِ ثواب کر لوں؟ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟ تو آپ یہ کہہ دیں میں ایک لاکھ جو چھوڑ رہا ہوں، میں آپ ﷺ کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔ تو یہ بالکل وہی بات ہو جائے گی نا۔ آپ کما لیں، کروڑوں کما لیں، لیکن اگر محبت ہے آپ ﷺ کے ساتھ، تو آپ محبت میں آپ اس کو ایصالِ ثواب کر لیں گے کہ آپ ﷺ کے لیے جو ہے نا اللہ پاک میں ثواب مطلب اس کے لیے وہ کرنا... تو اب یہ جو ہے نا یہ کتنی اچھی بات ہو گی۔ اور اس کا اجر بھی ہو گا۔ اگر کوئی ایصالِ ثواب کرتا ہے تو اس کا مفتی صاحب اجر ہو گا یا نہیں ہو گا؟ بہت اجر ہو گا۔ تو اگر آپ اس انداز میں دیکھیں تو آپ نقصان میں جائیں گے یا فائدے میں جائیں گے؟ ہاں جی، ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کا وہ کام بھی پورا ہو گیا شفاعت والی اور دوسری بات یہ ہے کہ ماشاءاللہ اجر میں بھی آپ کی کمی نہیں آئے گی۔ لیکن وہ اجر Indirect ملے گا۔ Direct والی بات نہیں ہے۔

لیکن Direct والی بات پہ آپ کو بتاؤں، آپ صرف مکہ مکرمہ میں ایک لاکھ گنا اجر تو سوچ رہے ہیں، لیکن گناہ کا ایک لاکھ گنا آپ نہیں سوچ رہے؟ وہاں پر تو یہ بھی بات ہے نا! کہ اگر کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ بھی ایک لاکھ گنا اس کا ہے۔ تو مجھے بتاؤ ہم سے گناہ زیادہ ہوتے ہیں یا ہم سے اچھے کام زیادہ ہوتے ہیں؟ گناہ زیادہ ہوتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں بھئی وہاں تو ایک فرض حج کے لیے تو لازمی ہے، وہ تو رہنا ہی ہے اب، اب آپ کو بتاؤں، سب ظاہر ہے مفتی صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، فرض نماز کے لیے تو آپ کا جانا ہی ہوتا ہے نا مسجد میں۔ تو لوگوں کا کام ہے کہ آپ کو راستہ دے دیں۔ مطلب یہ کہ وہ آپ جو ہے نا مطلب نماز کے لیے جائیں، ٹوٹی پھوٹی حالت بھی ہو تو گزارا ہو جائے کیونکہ ظاہر ہے فرض ہے۔ آپ کو تو جانا تو ہے۔ لیکن اگر آپ نفل پڑھتے ہیں پھر آپ کی ذمہ داری ہے کہ کسی ایسی جگہ کھڑے نہ ہوں جہاں لوگوں کا گزر ہو۔ ہاں جی۔ بہتر ہے کہ آپ گھر میں پڑھیں۔ ہاں جی۔ یہ ساری باتیں مطلب ہمیں یاد رکھنی چاہییں۔ اس کا مطلب ہے نفل پڑھنے والوں پہ، کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، کیونکہ یہ اضافی چیز ہے۔ وہ ایک اضافی چیز ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو فرض حج ہے، اس میں تو گنجائشیں بہت ہیں۔ کیونکہ اس کے لیے تو آنا ہی ہے نا، ہم جیسے لوگوں کو آنا ہوگا۔ سب کے اوپر فرض جب ہو جائے تو جانا ہوگا۔ لہذا ان کی بات الگ ہے۔ لیکن اگر آپ اس کے علاوہ رہتے ہیں تو ذمہ داری بڑھ جائے گی یا نہیں بڑھے گی؟ اس وقت اس ایک لاکھ کے گناہ سے ڈرنا یہ زیادہ مطلب سمجھ میں آتا ہے۔

اس وجہ سے امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ نے، میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے بتایا، کہ بس چھ دن حج کے لیے وہیں ٹھہرتے تھے اور اس کے بعد کدھر جاتے تھے؟ مدینہ منورہ جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ادھر رہتے ہیں، ان کا مزار بھی مکہ مکرمہ میں ہے، عبداللہ بن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کا۔ لیکن ان کا گھر جو تھا وہ تنعیم سے باہر تھا۔ تنعیم میں تھا، یعنی مطلب ہے حدودِ حرم سے باہر تھا۔ لیکن نماز کے لیے تنعیم آ جاتے تھے۔ اندر آ جاتے تھے۔ نماز ادھر پڑھتے تھے، گھر ادھر تھا۔

تو کسی نے کہا حضرت آپ گھر ہی ادھر لے لیں۔ کیوں اس وقت اتنا رش تو نہیں تھا نہ ظاہر ہے، جگہ تھی بہت زیادہ۔ تو آپ اندر کیوں نہیں گھر لیتے؟ فرمایا، میں بھی انسان ہوں، کبھی غلام کو ڈانٹوں گا، کبھی کچھ اور بات اس طرح کی ہوگی، کہیں اس میں ایسا نہ ہو کہ وہ بات میری حدودِ حرم میں آ جائے، تو ایک لاکھ گناہ والا معاملہ سخت ہے۔ لہذا میں رہتا ادھر ہوں، لیکن نماز کے لیے میں آتا ہوں، کیونکہ نماز کا اجر تو مجھے مل ہی رہا ہے نا اس کی برکت سے، لیکن باقی چیزیں میری... یہ ہے فقاہت۔ یہ فقاہت ہے۔

تو آپ کے پاس ایسے انتظامات ہوتے ہیں ادھر؟ کہ آپ رہتے ادھر باہر ہوں اور حرم شریف میں مسجد نماز کے، نماز کے لیے آئیں؟ کیوں، آپ کے پاس ایسے انتظام ہے؟ تو اس کا مطلب ہے آپ تو ذمہ داری لے رہے ہیں جس میں Loss کا بہت زیادہ امکان ہے۔

اچھا ایک اور بات بھی یاد رکھیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، اس کے بارے میں لوگوں کا ایک عجیب Concept ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ مکہ مکرمہ خدا کا ہے اور مدینہ منورہ رسول اللہ کا ہے ﷺ۔ خدا کے بندو کیا کہتے ہو! دونوں خدا کے ہیں! مکہ مکرمہ بھی خدا کا ہے، مدینہ منورہ بھی خدا کا ہے۔ ہاں، ایک میں کعبۃ اللہ ہے اور دوسرے میں رسول اللہ ہیں۔ تو یہاں اگر آپ مقابلہ کریں گے تو کعبۃ اللہ اور رسول اللہ کے حساب سے ہو جائے گا۔ یہ نہیں ہے کہ مکہ مکرمہ خدا کا ہے لہذا یہ زیادہ افضل ہے، ہاں جی، اور مدینہ منورہ رسول اللہ کا ہے اس لیے کم افضل ہے۔ خدا کے بندو کیا کر رہے ہو؟ یہ کونسی سوچ ہے؟ کونسا سوچ ہے؟

اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ ہم کہیں گے کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں ہیں۔ اور کعبہ شریف یہ... اور یہ دونوں آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمیں نہ یہ چیزیں بتائی جاتی ہیں، نہ ان چیزوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ ﷺ سے عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کہتے ہیں، یا رسول اللہ میں عمرہ کے لیے جا رہا ہوں مکہ مکرمہ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے میرے بھائی، مجھے اپنی دعا میں یاد رکھنا۔ مجھے اپنی دعا میں یاد رکھنا۔ تو آپ ﷺ کو بھی بڑی محبت تھی مکہ مکرمہ کے ساتھ۔ بہت محبت تھی۔ اور جس وقت جا رہے تھے ادھر سے ہجرت، تو پیچھے مڑ کے کہا: اے مکہ، مجھے تجھ سے بہت محبت ہے۔ لیکن مجھے یہاں رہنے نہیں دیا جا رہا۔ ہاں جی۔ تو بات تو صحیح ہے کہ مکہ مکرمہ تو محبوب شہر ہے آپ ﷺ کا۔ لہذا اس کی بھی آپ کمی نہیں بیان کر سکتے۔

لیکن مدینہ منورہ... سبحان اللہ! وہ جگہ ہے جہاں پر اللہ کا محبوب رہتا ہے۔ جہاں پر اللہ کا محبوب ہے۔ جہاں پر قدم قدم آپ ﷺ کی نشانیاں ہیں۔ اور یہاں پر، وہاں پر ایک ایسی جگہ بھی ہے، جو ہمارے عقیدے کے مطابق عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔ عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔ وہ کونسی جگہ ہے؟ جو جگہ آپ ﷺ کے جسدِ اطہر کے ساتھ مس کیے ہوئے ہے، مطلب لگا ہوا ہے۔ دلیل وہ حضرات یہ دیتے ہیں کہ دیکھیں... یعنی آپ ﷺ معراج شریف پہ تشریف لے گئے، تو وہی معمول کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ کوئی اور کپڑے نہیں آئے ہوئے تھے۔ وہی معمول کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، وہی معمول کے جوتے مبارک پہنے، اوڑھے، پہنے ہوئے تھے۔ اور اس کے ذریعے سے گئے ہیں اوپر، کرسی سے، عرش سے اوپر جا کے لامکاں تشریف لے گئے۔ تو وہ جو عارضی Touch والے ہیں، کیونکہ مطلب ظاہر ہے اس کے بعد تو اتارنے ہوتے ہیں نا کپڑے، وہ عارضی Touch والے، ان کا اگر مقام ہے کہ عرش و کرسی سے اوپر گئے ہیں، تو جو مستقل Touch والے ہیں، جو کبھی بھی اب جدا نہیں ہو رہے ہیں اب، تو ان کی حیثیت کیا ہوگی؟ ہاں جی۔ تو لہذا وہ بہت... مطلب اونچا مقام ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ مکہ مکرمہ بیٹھ کے سلام پڑھیں تو پہنچا دیا جاتا ہے۔ لیکن مسجد نبوی میں آپ سلام پڑھیں تو آپ ﷺ خود سنتے ہیں۔ ہاں جی، کیا خیال ہے؟ دل چاہتا ہے کہ آپ ﷺ ہماری سلام سن لیں، خود؟ چاہتا ہوگا نا؟ تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ حاضری، روضے جانا چاہیے۔ ہاں جی۔ تو یہ تو... اس میں مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں آپس میں ایک دوسرے کے لازم ملزوم والی بات ہے اس کو سمجھنا چاہیے۔ حج پہ بھی جانا چاہیے، مدینہ منورہ بھی جانا چاہیے۔

مکہ مکرمہ کے ساتھ بھی محبت کرنا چاہیے، مدینہ منورہ کے ساتھ بھی محبت کرنا چاہیے۔ کعبۃ اللہ شریف کے ساتھ بہت محبت کا طواف کرنا چاہیے کیونکہ یہ ماشاءاللہ رحمت کے برسنے کی جگہ ہے۔ جہاں رحمت نازل ہوتی ہے اور پھر وہاں سے پوری دنیا میں تقسیم ہوتی ہے۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ دوسری طرف آپ درود شریف پڑھیں، کہیں پر بھی پڑھ لیں، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ کیا خیال ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ کی شان کیا ہے؟ کہ کہیں پر بھی درود شریف پڑھ لیں، تو آپ کی طرف رحمت متوجہ ہو جائے گی۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف علی صاحب رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ ایک دفعہ تشریف فرما تھے، حضرت اس طرح عام باتوں میں یہ چیزیں سمجھاتے تھے۔ فرمایا، کیا میں آپ کو اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا طریقہ بتاؤں؟ تو سب نے کہا جی بالکل بتائیں۔ حضرت نے درود شریف، حضرت درود شریف پڑھی۔ فرمایا اللہ کی رحمت میری طرف متوجہ ہو گئی اور میں اس پہ قسم کھانے کے لیے تیار ہوں۔ میں اس پر قسم کھانے کے لیے تیار ہوں کہ اللہ کی رحمت میری طرف متوجہ ہو گئی۔ تو اب بتاؤ... آپ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ہیں۔ اور خانہ کعبہ پہ رحمت برس رہی ہے۔ اب بتاؤ، کیا فرق کرو گے اور کیا مقابلہ کرو گے؟ وہ دونوں باتیں دونوں جگہ پر ہیں۔ لہذا اس مسئلے میں آپس میں جو اختلاف کرتے ہیں، اس قسم کی باتیں، وہ کن ذہن لوگ ہیں۔ جاہل لوگ ہیں، جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔

وہ ایک دفعہ... اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع بہت دیا، ۷۲ دن مجھے دیے تھے پہلی دفعہ جب گیا تھا۔ تو پہلے بھی ۱۳ دن اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حج سے پہلے مدینہ منورہ میں اللہ نے نصیب فرما دیے۔ اور جب حج پہ، حج کیا، تو حج چونکہ مولانا صاحب رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ کی معیت میں ہوا، تو حضرت جب جا رہے تھے، میں پھر دوبارہ حضرت کے ساتھ چلا گیا۔ تو ہمارے ایک مصری دوست بن گئے تھے وہاں، یہ مولانا مکی صاحب کی مجلس میں بیٹھتے تھے نا تو اس طرح دوستی ہو گئی ہماری۔ تو مجھے کہا جی حج تو کر لیا، تو کیا پروگرام ہے اب؟ میں نے کہا اِنْ شَاءَ اللَّهُ مدینہ منورہ جاؤں گا۔ آپ گئے تو تھے؟ میں نے کہا ہاں گیا تھا لیکن اب بھی جاؤں گا۔ کہتے ہیں میں تو اتنے عرصے ادھر رہ رہا ہوں، میں تو ایک دفعہ بھی نہیں گیا۔ میں نے کہا یہ آپ کی قسمت ہے۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں اس پر؟ میں نے کہا یہ آپ کی قسمت ہے۔

ہاں جی۔ تو مطلب یہ ہے کہ بعض لوگوں کا... وہ اصل میں توحید کا غلط مطلب سمجھے ہیں۔ توحید کا غلط مطلب سمجھے۔ توحید کا صحیح مطلب کیا ہے؟ بھئی مجھے بتاؤ توحید کا سمجھانے والا کون ہے؟ تو رسول اللہ ہیں۔ جو توحید کو سمجھاتا ہے، وہ کون سمجھاتا ہے؟ ہم توحید جو سمجھیں گے، تو کونسی توحید سمجھیں گے؟ جو آپ ﷺ کا توحید ہے، جو صحابہ کا توحید ہے۔ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ میں اپنے بارے میں نہیں کہہ سکتا ہوں کہ میرا جو توحید ہے وہ اصل ہے۔ بلکہ میں کہوں گا جو آپ ﷺ کی توحید ہے، جو آپ ﷺ کے صحابہ کی توحید ہے، اسی طرح میں توحید کو مطلب جو ہے نا وہ حاصل کروں گا تو پھر یہ ٹھیک ہے۔ کیونکہ معیار یہ بتا دیا گیا ہے۔

تو معیار یہ بتاؤ، زیادہ صحابہ کدھر ہیں؟ کدھر تھے؟ ہاں جی؟ مدینہ منورہ میں۔ حج کے لیے آ جاتے، پھر واپس! ابھی عبداللہ بن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کا میں نے آپ کو مطلب واقعہ بتایا کہ جو ادھر ہی رہتے تھے، لیکن پھر بھی... مطلب اس طرح بات۔ تو ہم صحابہ کے طریقے پر ہیں نا، صحابہ نے جس طریقے سے جس چیز کو سمجھا۔

آج کل یہ بھی بڑی عجیب بات ہے، اللہ معاف فرمائے، کیا جہالت کا دور آ گیا۔ باقاعدہ لوگوں کی یعنی وہاں پر Campaign سی چلی ہے کہ مسجد عائشہ سے جو عمرہ ہوتا ہے وہ عمرہ نہیں ہے۔ بھئی کیا ہے پھر وہ؟ اچھا آپ ﷺ نے عائشہ صدیقہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کو بھیجا تھا، وہ نہیں وہ Special case ہے۔ خدا کے بندے کیا عجیب بات کرتے ہو! اپنی طرف سے! تو آپ ﷺ نے دو باتیں... ایک تو عائشہ صدیقہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کو بھیجا، اسی لیے تو اس کا نام اس کا نام مسجد عائشہ ہے۔ دوسری بات جو بہت زبردست بات ہے، وہ یہ ہے کہ عبداللہ بن زبیر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے جب دوبارہ خانہ کعبہ کی تعمیر کی، تو شکر کے طور پر اس وقت جتنے صحابہ اور موجود تھے مکہ مکرمہ میں اور جو تابعین تھے، ان سب کے ساتھ مل کے جا کے مسجد عائشہ سے احرام باندھا اور شکرانے کا مطلب جو ہے نا عمرہ کیا۔ اب بتاؤ یہ صحابہ کا عمل ہے۔ اور صحابہ کا اس وقت اجتماعی عمل ہے۔ تو پھر کیا ہے؟ اب میں آپ کی بات مانوں یا صحابہ کی بات مانوں؟

یہ جہالت ہے۔ اور یہ جہالت پھیلائی ہے وہاں کے Taxi driver وں نے۔ کیونکہ ان کو پیسے ملتے ہیں نا، وہ جی بڑا عمرہ کرنا چاہیے۔ بڑے عمرے، چھوٹے عمرے کا کیا فرق ہے؟ بھئی حدودِ حرم ہے۔ حدودِ حرم ہے، اس میں مکہ مکرمہ یعنی خانہ کعبہ ادھر ہے۔ اب یہ جگہ اس سے دور ہے اور یہ جگہ قریب ہے۔ تو چاہے ادھر سے احرام باندھو، چاہے ادھر سے احرام باندھو، برابر ہے۔ کیونکہ اصول کیا ہے؟ حدودِ حرم سے احرام باندھنا چاہیے۔ یعنی حِلّ میں جا کے احرام باندھنا چاہیے اور پھر واپس آ کر جو ہے نا مطلب جو ہے نا وہ خانہ کعبہ آنا چاہیے۔ یہی بات ہے نا؟ تو بے شک یہاں پر تین کلومیٹر، چار کلومیٹر ہے، وہاں پر بارہ تیرہ کلومیٹر ہے۔ مجھے Exactly یاد نہیں ہے میں ویسے اندازہ اندازے کی بات بتا رہا ہوں۔ ہاں جی۔ تو وہ، وہ یہ ہے کہ اب وہ جو ہے نا وہ کہتے ہیں جی بارہ تیرہ کلومیٹر جائیں گے تو زیادہ پیسے لیں گے۔ تو کہتے ہیں بڑا عمرہ کرنا چاہیے۔ یہ کیا بڑے چھوٹے کی کیا بات ہے؟ عمرہ کرنا چاہیے! عمرہ کرنا چاہیے۔ جہاں سے بھی آپ احرام باندھیں۔ حدودِ حرم سے، آپ کا عمرہ ایک ہی عمرہ ہے۔

ہاں یہ الگ بات ہے کہ اگر آپ باہر سے آ رہے ہیں، جیسے پاکستان سے ہم آ رہے ہیں، یا کوئی مدینہ منورہ سے آ رہا ہے، تو پھر وہ عمرہ ظاہر ہے مطلب ظاہر ہے آفاقی عمرہ اس کو کہتے ہیں، وہ آفاقی عمرہ ہے۔ لیکن یہ بات تو نہیں ہے نا کہ مطلب آپ جو ہے نا مطلب خواہ مخواہ ایک... مجھے آپ بتا دو، صاف حکم ہے نا کہ ہر، مسجد جو جاتا ہے، ہر قدم پہ نیکیاں ملتی ہیں نا؟ تو کسی کا مسجد اگر دور ہے، تو ان کو تسلی دینے کے لیے فرمایا گیا کہ آپ کے قدم زیادہ پڑیں گے لہذا آپ کو اجر زیادہ ملے گا۔ اب اس کو سن کر، ایک قریب والا جیسے ہمارا گھر ہے، ادھر سے تو مسجد قریب ہے۔ اب میں پانچ چھ چکر لگا کے نا، جا کر، واپس آ کر، پھر جا کر، پھر واپس آ کر، دس دفعہ... وہ جو ہے 50 قدم کو میں 500 بنا دوں۔ ہاں جی؟ کتنا ثواب ملے گا؟ بھائی ثواب تو اس پچاس کا ہی ملے گا، جہالت کی سزا ہو سکتی ہے۔ ثواب تو اس پچاس کا ہی ملے گا نا! اور اگر میں نے اس کو دین سمجھا، تو بدعت ہو جائے گا۔ کیوں، اس سے بدعت ہو گیا، نہیں ہو گا؟ یہ بدعت ہو جائے گا، اپنی طرف سے آپ نے ایک نئی، نئی چیز دین میں داخل کر دی۔ تو اب اگر کوئی ادھر کرے گا تو پھر وہ کیا ہو گا؟

ہاں جی؟ تو انسان کو بہت ٹھیک رہنا چاہیے اور سوچ مطلب، سمجھ کے بات کرنی چاہیے۔ اس طرح جذباتی انداز میں باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ یہ عوام کے ساتھ تو آپ یہ باتیں کر سکتے ہیں، علماء کے ساتھ تو نہیں کر سکتے نا! علماء کے ساتھ کریں گے تو وہ تو مطلب حساب کتاب کریں گے آپ کے ساتھ۔ ممکن ہے بدعت کے زمرے میں آ جاؤ۔ ہاں جی! تو اب یہ جو ہے نا مطلب یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ وہاں پر مختلف قسم کی باتیں آپ سنیں گے۔ ایک بات یاد رکھنا چاہیے۔ وہاں جا کر آپ کو عالم بھی ملیں گے، جاہل بھی ملیں گے۔ ہاں جی! کیونکہ حج سب پر فرض ہے۔ چاہے عالم ہے، چاہے جاہل ہے، مطلب جائیں گے نا، جاہل کہاں جائیں گے؟ وہ بھی تو ادھر ہی آئیں گے نا! لیکن جاہل، جاہل ہی ہوتے ہیں نا، اپنی جہالت کے ساتھ آتے ہیں۔

میں آپ کو ایک جاہل کا واقعہ سناتا ہوں۔ 11 ذوالحج ہم اپنے خیمے میں بیٹھے ہوئے ہیں، تقریباً دس، ساڑھے دس بجے کا ٹائم ہے۔ ایک بڑے میاں ہمارے ساتھ تھے حج پہ، غائب۔ پوچھتے ہیں، بھئی کدھر گیا وہ؟ group میں تھے ہمارے ساتھ، نہیں معلوم۔ تو دس ساڑھے دس بجے پتہ چلا کہ وہ آ رہے ہیں اپنی بیوی کے ساتھ۔ کچھ 75، 80 سال عمر ہو گی اس کی۔ بابا جی، کدھر تھے آپ؟ کہتے ہیں، میں تو وہ کنکریاں پھینک، پھینک رہا تھا۔ میں کنکریاں مارنے... بابا جی، ابھی تو ٹائم ہی داخل نہیں ہوا! وہ تو زوال سے شروع ہوتا ہے۔ 11 ذوالحج والے دن تو زوال سے شروع ہوتا ہے نا، وہ تو زوال سے... تو اب جواب سن لو! یہ جہالت کا جواب ہے۔ کہتے ہیں، ایک شخص نے صحیح حج کیا تھا، دوسرے شخص نے صحیح حج نہیں کیا تھا۔ اللہ پاک نے جس نے صحیح حج نہیں کیا تھا اس کو قبول فرما لیا، اور جس نے صحیح حج کیا تھا اس کو قبول نہیں کیا۔ اب بتاؤ، مفتی صاحب کتنے انعام دے دیں ان کو؟

بھئی تیرے پاس کون سی authority ہے؟ کون سی مطلب آپ کے پاس ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ نے بات کر لی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا کہ وہ اس کا قبول ہو گیا، اس کا قبول نہیں ہوا؟ یہ تو نبی بتا سکتے ہیں نا! کوئی اور تو بتا نہیں سکتا۔ تو نبی ﷺ تو ابھی دنیا میں آپ کے سامنے نہیں ہیں، تو کیسے آپ یہ بات اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں؟ ہاں جی! تو یہ جہالت ہے۔ اس قسم کے جاہل آپ کو ملیں گے وہاں پر۔ وہ تو بابا جی تھے نا، بیچارے سادہ آدمی تھے۔ آپ کو پڑھے لکھے جاہل بھی ملیں گے۔ جو کہیں گے ہم نے بارہ حج کیے ہیں، لیکن سارے غلط کیے ہوں گے۔ ہاں جی، نہیں ہوتے؟ کوئی taxi driver ہوتا ہے، کوئی مطلب جو ہے نا وہ مطلب دکاندار ہوتا ہے، کوئی کیا، مسئلے وسلے کسی سے پوچھتے نہیں اور بس جو سمجھ میں آ گیا وہ کرتے ہیں۔ وہ بارہ حج نہیں، 50 حج بھی کر لو، لیکن غلط کر لو تو کیا وہ ٹھیک ہو جائیں گے؟ ظاہر ہے وہ ٹھیک، حج کرنا بے شک ایک ہی کیا ہو لیکن آپ نے ٹھیک کیا ہو تو پھر تو بات ہے۔ ہاں جی! ورنہ یہ بات ہے کہ مطلب ظاہر ہے ہر چیز کو پوچھ پوچھ کے کرنا چاہیے۔

ہاں جی! وہ کہتے ہیں نہیں، نہیں، نہیں، بس وہ اس طرح ہے۔ اپنی طرف سے وہ باتیں بنا لیں گے۔ تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں، ایک تو یہ بات ہے کہ جو بھی حج کرنا چاہتا ہے، یہیں سے حج سیکھ کے چلا جائے۔ سارے مسائل سیکھ کے۔ ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے ہی جو علماء ہیں، جن کو آپ جانتے ہیں، ان سے بات کرو۔ ان سے پوچھو۔ ادھر ادھر کی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں؟ ظاہر ہے پتہ نہیں ان کا کون سا مسلک ہے، کس چیز کو صحیح سمجھتے ہیں، کس چیز کو غلط سمجھتے ہیں۔

وہ وہاں پر جو ہے نا ادھر مسجد خیف میں ہم تھے۔ عربوں کے ساتھ میری دوستی بہت جلدی ہو جاتی ہے، جیسے میں نے پہلے بھی کہا ہے کافی دفعہ۔ تو ایک صاحب ہیں جو اس نے خانہ کعبہ کی طرف پیر کیے ہوئے تھے۔ میں نے کہا حضرت، آپ پیر خانہ کعبہ کی طرف خوامخواہ کیوں کرتے ہیں؟ آپ دوسری طرف کر لیں۔ کہتے ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے کہا فرق پڑتا ہے، نہیں پڑتا، ضروری ہے کہ آپ نے خانہ کعبہ کی طرف پیر کرنے ہیں؟ کچھ تھوڑا سا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ کہتے ہیں، چلو اسأل المفتي۔ میں مفتی سے پوچھتا ہوں۔ اچھا، وہ وہاں پر مفتی بھی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس چلا گیا، اس نے کہا کہ اگرچہ کوئی فرق تو نہیں پڑتا، لیکن مسنون طریقہ یہی ہے کہ آپ مسنون طریقے سے، مطلب وہ جو ہے نا جیسے ہوتا ہے نا مطلب رخ جو ہے نا خانہ کعبہ کی طرف ہونا چاہیے، پیر نہیں۔ تو اس طریقے سے کرو، ورنہ اس سے فرق کوئی نہیں پڑتا۔

میرے پاس آیا جی، وہ تو یہی کہتا ہے۔ میں نے کہا چلو جی، اس نے بھی بتا دیا نا، کہ بہتر تو یہ ہے کہ مسنون طریقہ ہے۔ تو مسنون طریقہ جو بھی ہے اس پہ عمل کرو۔ اور عمل کرنے کی گنجائش بھی ہے آپ کے پاس۔ لیکن میں نے کہا دیکھو، اگر آپ کو کوئی اور چیز سمجھ میں نہیں آ رہی، تو مجھے بتاؤ کسی مسلمان کا دل دکھانا جائز ہے؟ کہتے ہیں، نہیں۔ میں نے کہا یہاں پر صرف عرب تو نہیں ہوئے نا، یہاں تو انڈونیشی بھی ہے، پاکستانی بھی ہے، بنگلہ دیشی بھی ہے، اور یہ سب یہ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی طرف پیر نہیں کرنا چاہیے۔ تو آپ ان کے سامنے کریں گے تو ان کے دل کو تکلیف ہو گی یا نہیں ہو گی؟ تو کم از کم اس کا خیال کر کے آپ نہ کریں۔ کہتے ہیں، نعم، نعم، نعم، نعم، نعم، نعم! بس اس کے بعد اس نے پھر رخ جو ہے نا، مطلب پیر کے رخ بدل لیے۔ ہاں جی! تو مقصد یہ ہے کہ یہ جو ہے نا، جو بات پوچھو تو اپنے علاقے کے لوگوں کے، علماء سے پوچھو۔ وہ آپ کو صحیح مسئلہ بتائیں گے کیونکہ وہ آپ کو بھی جانتے ہیں، مسئلے کو بھی جانتے ہیں۔ اس طریقے سے آپ کو بتائیں گے، باقی لوگ آپ کو پوری طور پر بات صحیح طور پہ نہیں بتا سکیں گے۔

یہ ضروری ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ اللہ کرے کہ ہم لوگوں کو عقل آ جائے۔ تو آیت کریمہ جو ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ابراہیم علیہ السلام سے، یہ بھی کہا کہ لوگوں میں حج کے فرض ہونے کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس حج کے لیے چلے آئیں گے، پیادہ بھی اور دبلی اونٹنی پر بھی، جو کہ دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بلکہ یہاں تک بھی ہے روایات میں، یہ تو قرآن پاک کی آیت ہے نا، روایات میں یہ آتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے جب اللہ پاک نے فرمایا اعلان کر دو، تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا: یا اللہ، میری آواز تو بہت کمزور ہے۔ کہاں تک جائے گی؟ اور یہ آپ کو پتہ ہے نا اس وقت خانہ کعبہ جو بن گیا تھا تو وہ بالکل چاروں طرف پہاڑ تھے۔ اب تو درمیان میں کافی راستے بن گئے نا، اس وقت تو یہ چیزیں نہیں تھیں۔ تو وہ جو ہے نا پہاڑی، پہاڑ تھے۔ تو فرمایا کہ، یعنی ان پہاڑوں سے بھی آگے میری آواز نہیں جائے گی۔ اللہ پاک نے فرمایا، تیرا کام آواز لگانا ہے، پہنچانا میرا کام ہے۔ تو پھر یوں ہوا کہ وہ آواز اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح تک پہنچا دی۔ جو روح، جو ارواح بعد میں آنے والے ہیں، آنے والے تھے، ان تک بھی پہنچا دی۔ تو اس وجہ سے علمائے کرام کہتے ہیں، علمائے کرام کہتے ہیں، کہ جس اور ارواح نے پھر لبیک بھی کہا تھا۔ جس نے جتنا مرتبہ لبیک کہا اتنی مرتبہ وہ حج کرے گا۔ ہاں، کسی نے دس مرتبہ لبیک کہا تو دس حج کریں گے۔ کسی نے دو مرتبہ کہا تو دو مرتبہ، کسی نے بالکل نہیں کہا تو نہیں کریں گے۔ ہاں جی! تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو اللہ پاک نے پھر ایسا پہنچا دیا کہ عالم ارواح میں بھی پہنچا دیا۔

لہذا حج ایک special عمل ہے۔ اور اس میں special طریقے ہیں۔ normal means کی باتیں نہیں ہیں۔ اس میں اللہ پاک کے حکم کو ہم دیکھیں گے، اپنی عقل کی بات کو نہیں دیکھیں گے۔ کیونکہ عقل کو bypass کروایا جا رہا ہے اس میں۔ عقل کو اس میں... کیونکہ ایک ہے ایمانی عقل اور ایک ہوتے ہیں نفسانی عقل۔ تو نفسانی عقل کے مقابلے میں ایمانی عقل کو فوقیت دینا لازمی ہے اور اس کا مظاہرہ حج میں ہو جاتا ہے۔ کہ اس میں ایمانی عقل یہ بتائے، ایسا ہونا چاہیے۔ ظاہری عقل یہ بتاتا ہے کہ اس طرح ہونا چاہیے۔ ہم وہ ظاہری والی بات چھوڑ کر، ہم ایمانی عقل کی بات کو مانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا آپ ﷺ نے کہ جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو، اس کو چاہیے کہ جلدی کرے۔ دیر نہ کرے۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان عرفہ کے دن سے زیادہ ذلیل اور راندہ اور حقیر اور رنجیدہ نہیں دیکھا گیا۔ اور نہیں ہے یہ، مگر اس کی وجہ سے کہ جو رحمت کا نازل ہونا، خدا تعالیٰ کا بڑے بڑے گناہوں سے درگزر فرمانا دیکھتا ہے۔ سوائے جنگ بدر کے، کہ اس میں تو عرفہ کے برابر یا زیادہ اس کی خواری و خفت دیکھی گئی۔ کیونکہ اس روز اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کی صفیں ترتیب دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ تو مطلب یہ ہے، عرفہ کے دن جو اللہ پاک کی رحمت مطلب جو ہے نا کہ سامنے، بس گناہ، بڑے بڑے گناہ کچھ بھی نہیں ہوتے اور جو روتا ہے، گڑگڑاتا ہے، معافی مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرتے رہتے ہیں، تو شیطان بہت ذلیل ہو جاتا ہے اور اپنے سر کے اوپر خاک ڈالتا ہے کہ میرا ناس ہو، دیکھو نا یہ تو میں نے اتنی محنت کی، ساری محنت رائیگاں چلی گئی۔ اب یہ اللہ پاک ان کو معاف کر رہے ہیں۔ ہاں جی! تو اس وجہ سے جو ہے نا مطلب۔

اور یہ فرمایا، ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کفارہ ہے ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا۔ کیا خیال ہے؟ عمرے پھر کرنے چاہیے یا نہیں کرنے چاہیے؟ یہ بھی فرمایا نا! اور ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ دعا مانگیں تو خدا قبول کرتا ہے اور اگر وہ استغفار کریں تو خدا ان کی مغفرت کر دیتا ہے۔ اس لیے حاجیوں کے پاس لوگ جاتے ہیں دعا کروانے کے لیے۔ کیونکہ ان کی نسبت بدل جاتی ہے۔ ان کی نسبت اللہ کے گھر سے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ لہذا جو لوگ ان کا اکرام کرتے ہیں، جو لوگ ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں، جو لوگ ان سے دعاؤں کے لیے کہتے ہیں، وہ اس بنیاد پر کہتے ہیں۔ ہاں جی! تو لہذا پھر اللہ پاک تو ان کی پھر بات سنتے ہیں۔ تو اس وجہ سے، یعنی جو، جو حاجی جا رہے ہوں تو خود لوگوں کے پاس جائیں۔ معافی، استغفار، معافی مانگیں کہ کوئی غلطی ہوئی تو معاف کر دیں۔ اس وقت تو بہتر یہ ہے کہ انسان خود لوگوں کے پاس، اپنے رشتہ داروں، اپنے دوست احباب کے پاس جائے۔ مسجد میں کہہ دیں۔

لیکن جب آئیں تو پھر لوگوں کو ان کے پاس جانا چاہیے۔ حیثیت بدل گئی نا! حیثیت بدل گئی، اب لوگ مطلب اس کی وجہ سے نہیں جا رہے بلکہ وہ اس حج کی وجہ سے جو ہے نا مطلب ان کے پاس جا رہے ہیں۔ لہذا جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ ان کے پاس جانا چاہیے، ان سے اپنے لیے دعاؤں کے لیے کہنا چاہیے، کیونکہ ان کی دعائیں اللہ پاک قبول فرماتے ہیں۔ بلکہ یہاں تک ہے کہ اگر گھر میں ابھی تک داخل نہیں ہوا، گھر میں اگر ابھی داخل نہیں ہوا، تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ وہ ان کی دعائیں تو بہت زیادہ قبولیت کے قریب ہوتی ہیں۔ لہذا اس وقت حاجی کو بھی چاہیے ذرا تھوڑا سا تحمل کر کے گھر میں داخل ہو جائے نا تاکہ لوگوں کو موقع مل جائے۔ ہاں جی! مجھے اس کا ایک سیدھا تیر کی طرح گھر میں چلے جائیں اور اس موقع کو ضائع کر دیں۔ تو اچھی بات یہ ہے کہ اگر جگہ ہو، کوئی اور بس مسجد سے بہتر جگہ اور کیا ہو گی؟ تو مسجد چلا جائے وہاں پر ویسے بھی سفر کا بھی یہ مستحب ہے نا کہ جب کوئی سفر سے آئے تو کدھر جائے پہلے؟ مسجد جائے، وہاں پر دو رکعت نماز پڑھے۔ ہاں جی! پھر اس کے بعد پھر گھر جائے۔ تو اگر وہاں پر چلے گئے اور وہاں لوگ بھی وہاں چلے جائیں، اور مسجد میں ہی وہ دعا بھی کر لیں تو سبحان اللہ، ماشاءاللہ دونوں کام ہو جائیں گے۔

تو اس طریقے سے ماشاءاللہ یہ ساری چیزیں جمع ہو جائیں گی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو مقبول حج اور مقبول عمرے نصیب فرمائے۔ اور بار بار ادھر لے جائے۔ لوگوں کی باتیں نہ سنیں۔ ہاں جی! جو اللہ کے رسول کی پیاری پیاری باتیں ہیں وہ سننی چاہئیں۔ جو قرآن کی آیات ہیں، جو احادیث شریفہ ہیں، ان کو سننا چاہیے۔ اسی سے ہمیں مطلب وہ لینا چاہیے، help لینی چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو بار بار وہاں پر مطلب لے جانے کی توفیق عطا فرمائے، قبولیت کے ساتھ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ اے اللہ تو اپنے فضل و کرم سے یا ارحم الراحمین، جو صحیح دین ہے وہ ہمارے دل کے اوپر کھول دے اور یا اللہ اس کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یا ارحم الراحمین، علمِ نافع عطا فرما، اس پہ عملِ صالح عطا فرما۔ یا اللہ اس میں اخلاص نصیب فرما اور یا اللہ اس کو قبول فرما دے۔ یا اللہ اس پر راضی ہو جا۔ ایسے راضی ہو جا کہ پھر ناراض نہ ہو۔ اپنے حبیب پاک ﷺ کی معیتِ پاک میں اپنے دیدارِ پاک عطا فرما۔ یا اللہ جب تو فرمائے گا کہ میں تم سے راضی ہوا پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، اے اللہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔ عمل نامہ دائیں ہاتھ سے نصیب فرما۔ حسنِ خاتمہ کے عظیم دولت سے سرفراز فرما۔ موت کی سختی سے، عذابِ قبر سے، پل صراط کی مشکلات سے، جہنم کی آگ اور دھوئیں سے، اور حشر کی رسوائی سے ہم سب کو نجات عطا فرما۔ یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے محبوبین میں، محبین میں، صدیقین میں، صادقین میں، مقربین میں شامل فرما۔ ان لوگوں میں شامل فرما جن کو دیکھ کر تو خوش ہوتا ہے۔ ان لوگوں میں شامل فرما جن کے بارے میں تو فرماتا ہے جو میرے ہیں، ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! اپنے حبیب پاک ﷺ کی معیتِ پاک میں اپنے دیدارِ پاک عطا فرما۔ یا اللہ جب تو فرمائے گا کہ میں تم سے راضی ہوا پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، اے اللہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔

بار بار حج اور عمرے قبولیت کے ساتھ، آسانی کے ساتھ یا اللہ نصیب فرما۔ اور یا ارحم الراحمین، ہمارے جتنے بھی حاجات ہیں، یا اللہ اس سلسلے میں تمام حاجات کا تکفل تو فرما، بیماریوں سے نجات عطا فرما، مشکلات دور فرما دے، آسانیاں نصیب فرما دے۔ یا ارحم الراحمین وہاں پر اچھے، اچھی نیت سے صحیح اعمال عطا فرما دے۔

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ ﷺ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ ﷺ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع اور بہترین عنوان: ایامِ حج کی فضیلت، قربانی کے مسائل اور زیارتِ مدینہ کی اہمیت

متبادل عنوان: حج اور قربانی: فرضیت، فضائل اور محدثین کی احتیاط

اہم موضوعات: • ایامِ حج کی برکات اور صاحبِ استطاعت پر فرائض (حج اور قربانی)۔ • مشترکہ قربانی میں شرکاء کی نیت اور اس کے شرعی احکام۔ • فرض حج میں تاخیر کرنے یا ادا نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں۔ • فضائل کے باب میں ضعیف احادیث کا مقام اور محدثینِ کرام کا طرزِ عمل۔ • محدثین (بالخصوص امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہما) کی حدیث کی حفاظت میں سختی کے واقعات۔ • مدینہ منورہ کی حاضری، روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی فضیلت اور شفاعت کا حقدار بننا۔ • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (خصوصاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کا دفاع اور توہین کرنے والوں کی مذمت۔ • امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے تقویٰ اور باون (52) حج ادا کرنے کا تذکرہ۔

خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے ایامِ حج کی فضیلت اور صاحبِ استطاعت پر حج اور قربانی کی فرضیت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے مشترکہ قربانی میں نیت کی اہمیت کو واضح کیا اور فرض حج میں تاخیر کرنے والوں کے لیے احادیث کی روشنی میں سخت وعیدیں بیان کیں۔ مزید برآں، آپ نے فضائل کے باب میں ضعیف احادیث کے استعمال، محدثینِ کرام کی احادیث کو محفوظ رکھنے کے لیے کی گئی سختیوں اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے تقویٰ و حج کے واقعات کو بیان کیا۔ آخر میں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مدینہ منورہ اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی اہمیت اور شفاعت کے حقدار بننے کے موضوع پر روشنی ڈالی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دفاع کیا، دین میں عقلی توجیہات کے بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر زور دیا، اور بیان کا اختتام ایک جامع و رقت انگیز دعا پر فرمایا


ایامِ حج کی فضیلت، قربانی کے مسائل اور زیارتِ مدینہ کی اہمیت - خواتین کیلئے اصلاحی بیان