رمضان کے تقویٰ کی حفاظت، صحبتِ صالحین اور صراطِ مستقیم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد الکوثر - ریلوے جنرل ہسپتال، راولپنڈی

اہم موضوعات:

رمضان المبارک میں حاصل ہونے والے تقویٰ کو پورا سال برقرار رکھنے کی اہمیت۔

دل کی حفاظت: گناہوں اور لایعنی باتوں سے پرہیز۔

صحبت کے اثرات (نیک اور بری صحبت کا نتیجہ)۔

صراط مستقیم پر چلنے کے لیے صالحین کی معیت کی اہمیت اور سورہ فاتحہ کا پیغام۔

امتِ مسلمہ میں تہتر (73) فرقوں کی حدیث اور ناجی گروہ (مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي) کی پہچان۔

مشاجراتِ صحابہ اور ان کے باہمی اختلافات میں اخلاص اور احتیاط۔

شخصیات اور فرقوں کی اندھی تقلید سے گریز اور حق و باطل کی پہچان۔

اپنے نفس کی اصلاح اور کردار کی عملی تبلیغ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ۝ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا۔

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ۔

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

معزز خواتین و حضرات! آپ حیران ہوں گے کہ میں نے وہ آیت کریمہ پڑھ لی ہے جو میں رمضان شریف میں جو بیانات ہوتے تھے اس میں پڑھا کرتا تھا۔ بالکل ایسی ہی بات ہے۔ لیکن اس سے میرا ایک مقصد ہے۔ اور مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رمضان شریف کا مہینہ ہمیں عطا فرمایا تھا، اور اس میں اللہ پاک نے جو عبادتیں نصیب فرمائیں، اور اللہ پاک نے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائی، اور اس کے ذریعے سے جو تقویٰ حاصل ہوا، کیا اس تقویٰ کو ضائع کرنا چاہیے یا برقرار رہنا چاہیے؟ رمضان شریف تو سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے، وہ تو بار بار تو نہیں ہوتا۔ تو اللہ جل شانہٗ نے اس کا انتظام فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے سے لوگ اپنی پورے سال بھر کی overhauling کریں۔ اور جو گناہوں کی کثافتیں ہیں ان کے دل و دماغ پر اور نفس پر پڑتی ہیں، ان کو دھو لیں۔ اور پھر اس کے بعد ایک پاک زندگی گزارنا شروع کر لیں۔ یہ ہے اللہ جل شانہٗ کی حکمت اس میں۔

اس حکمت کے مطابق کام کرنا، یہ بہت ضروری ہے، کیونکہ جو تقویٰ والی بات ہے، یہ صرف رمضان شریف کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو ہمیشہ کے لیے ہے۔ جیسے کہ ابھی میں نے دوسری آیت کریمہ تلاوت کی ہے۔ جس میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں، سات قسمیں کھا کر اللہ پاک اعلان فرماتے ہیں کہ میں نے اس نفس کے اندر دونوں چیزیں رکھی ہیں۔ فجور اور تقویٰ دونوں کی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسی نفس کے ذریعے سے فجور بھی واقع ہو سکتے ہیں۔ اور اسی نفس کے ذریعے سے تقویٰ بھی حاصل ہوتا ہے۔ ہاں الگ بات ہے کہ اس کو store کرنے کی جگہ دل ہے، وہ نفس نہیں ہے۔ یعنی دل متاثر ہوتا ہے اس سے۔ لہٰذا فجور سے بھی دل متاثر ہوتا ہے، دل پہ سیاہ داغ لگ جاتے ہیں۔ اور تقویٰ بھی دل میں جمع ہوتا ہے، جیسے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا" اور اشارہ کیا قلب کی طرف۔

اس وجہ سے اپنے دل کی حفاظت جس میں تقویٰ آ گیا ہے... جس میں تقویٰ آ گیا ہے۔ رمضان شریف کے روزوں کی برکت سے، عبادات کی برکت سے، جو تقویٰ آ گیا ہے اب اس دل کو محفوظ کرنا ہے۔ کیونکہ دل کو جو input جاتی ہیں یہ کئی ہیں۔ آنکھ کے ذریعے سے، کان کے ذریعے سے، دماغ کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے، ہاتھ پاؤں کے ذریعے سے، یعنی جہاں جہاں پر کوئی حس ہے، ان تمام حواس کے ذریعے سے دل کو راستہ ہے۔ ایک غلط نظر، انسان کے تقویٰ کو تباہ کر دیتی ہے۔ ایک غلط چیز سننا، انسان کے تقویٰ کو متاثر کر لیتا ہے۔ ایک غلط بات سوچنا، انسان کے تقویٰ کو کمزور کر دیتا ہے۔ اور اس طرح کوئی غلط بات کہنا، یہ بھی انسان کو متاثر کر لیتا ہے۔ یہاں تک بات ہے کہ گناہ کی بات تو یقیناً متاثر کرتی ہے، اس میں تو کسی کو شک ہی نہیں ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ لایعنی بات بھی متاثر کر لیتی ہے۔ لایعنی بات۔ یعنی ایسی بات جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ نہ دین میں ضرورت ہو، نہ دنیا میں ضرورت ہو۔ اس سے بھی دل متاثر ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جا رہا ہے، آپ نے اس سے پوچھ لیا کدھر جا رہے ہو؟ یہ ایک لایعنی بات ہے۔ کیوں پوچھا؟ آپ کو بتانا چاہے گا، نہیں بتانا چاہے گا؟ اس کا اپنا پرسنل راز بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کو کیوں بتائے؟ اب یہ جو بات ہے، اگرچہ یہ براہ راست گناہ میں نہیں آتا، لیکن گناہ کے لیے راستہ ہے۔ گناہ کے لیے راستہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں ایسی چیزوں سے بھی بچنا ہوگا۔ تب ہمارے دل کی حفاظت ہوگی۔

تو اب عید کے دن، خوشی ہے۔ اور یہ خوشی روحانی خوشی ہونی چاہیے۔ یہ خوشی جسمانی خوشی کی تعریف میں نہیں، بلکہ بظاہر جسمانی ہو لیکن حقیقتاً روحانی ہو۔ بظاہر جسمانی ہو لیکن حقیقتاً روحانی ہو۔ کیسے؟ مثلاً دیکھو میں اچھے کپڑے پہنوں۔ ٹھیک ہے؟ اچھے کپڑے پہننے کی اجازت ہے، بلکہ حکم ہے، سنت ہے۔ اچھے کپڑے پہنوں، اس پر مجھے شکر کی توفیق ہو جائے۔ فخر کی بات نہ ہو کہ میں اس پر اتراؤں کہ دیکھو میرے کیسے اچھے کپڑے ہیں۔ اب اگر میں اس پر اتراؤں تو یہ جسمانی خوشی ہے۔ اور اگر میں اس پر شکر کروں تو یہ روحانی خوشی ہے۔ اتنی سی بات ہوتی ہے۔ آپ یقین کیجیے دین بہت پریکٹیکل ہے۔ اس کو پریکٹیکل انداز میں سوچنا چاہیے، پھر اس سے فائدہ ہوتا ہے۔

تو دیکھیں، یہاں پر ایک بہت بڑی بات اللہ پاک نے آپ ﷺ کی زبانی کہلوائی ہے۔ اور یہ ہے بخاری شریف کی پہلی حدیث شریف۔ جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

اب ایک ہی بات آپ ایک نیت سے کریں، نقصان۔ دوسری نیت سے کریں، فائدہ۔ تیسری نیت سے کریں، نہ فائدہ نہ نقصان۔ اب اس میں ہمیں یہ راستے ڈھونڈنے پڑیں گے۔ یعنی علمائے کرام سے، مشائخ سے تعلق رکھنے کا یہی فائدہ ہوتا ہے۔ کہ پتہ چل جاتا ہے کہ کون سی نیت ہے جس کے ذریعے سے میں کما سکتا ہوں؟ اور کون سی نیت ہے جس کے ذریعے سے میں گنوا سکتا ہوں؟ اور کون سی نیت ہے جس سے میرا وقت ہی ضائع ہوتا ہے؟ تو یہ چیز ہم لوگوں کو سمجھنا چاہیے۔ یہی اصل میں دین ہے۔ جیسے کہتے ہیں نا:

صحبتِ صالح ترا صالح کند

صحبتِ طالح ترا طالح کند

نیک صحبت تمہیں صالح بنا دے گی۔ اور بری صحبت تمہیں برا بنا دے گی۔ یعنی جن کے ساتھ آپ بیٹھیں گے اس کا رنگ آپ کے اوپر آئے گا۔ آپ دیکھیں گے پراپرٹی ڈیلر کے ساتھ بیٹھ کر آپ کو پراپرٹی بنانے کی فکر ہوگی۔ ویسے ہی پلاٹوں کا چکر ذہن میں آئے گا ادھر فلاں پلاٹ ہے، ادھر فلاں پلاٹ ہے، ادھر فلاں پلاٹ ہے۔ اس قسم کی باتیں ذہن میں آئیں گی۔ کرکٹ والوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو کرکٹ کی باتیں ہوں گی۔ ان کی کمنٹری کی بات ہو گی، ان کی کامیابی اور شکست کی بات ہو گی۔ حتیٰ کہ لوگ اس پہ جوئے بھی کر لیتے ہیں، شرطیں لگا لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک ماحول ہے۔ اور فسق و فجور، یہ جو گانے بجانے کا ماحول ہوتے ہیں، وہاں پر یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان ماحول سے اثر لیتا ہے تو اپنے ماحولوں کو بہتر کرنا ہوگا۔ اگر اپنے آپ کو بچانا ہے تو اپنے ماحولوں کو بہتر کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

دیکھیں نا اللہ تعالیٰ نے ہمیں سورہ فاتحہ میں ایک بہت بڑی نصیحت فرمائی ہے دعا کے رنگ میں۔ بہت بڑی نصیحت ہے۔ جس کو ہم بار بار سورہ فاتحہ میں دہراتے ہیں۔ کاش سمجھ آ جائے کہ ہم کیا اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں، تو سب سے پہلے تو ہم اپنا رشتہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑتے ہیں

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔

یعنی ہمارا ماویٰ و ملجا تو ہی ہے، تجھ سے ہی مدد مانگ سکتے ہیں کسی اور سے مدد نہیں مانگ سکتے۔ تو ہم کیا مانگتے ہیں؟

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ ہدایت فرما دے۔

سیدھا راستہ ہدایت فرما دے۔ پھر سیدھا راستہ کن لوگوں کا؟

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ

راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا ہے۔

اور انعام کے بارے میں اللہ پاک خود ارشاد فرماتے ہیں:

یہ وہ لوگ ہیں جو انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء اور صالحین ہیں۔

یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے طریقے پہ چلنا مانگتے ہیں۔ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے طریقے پہ چلنا روز مانگتے ہیں۔ مجھے بتاؤ اب صحبت صالحین سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟ یعنی جس چیز کو ہم روز مانگتے ہیں، ہر رکعت کے اندر مانگتے ہیں، اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سمجھ سمجھ کی بات ہے، اگر کوئی نہیں سمجھا وہ تو الگ بات ہے، لیکن جو سمجھدار ہیں وہ تو مانگیں گے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ سے یہی مانگیں گے اور صراط مستقیم پہ چلنے کے لیے صالحین کے ساتھ ساتھ رہیں گے۔ کیونکہ انبیائے کرام تو دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ صدیقین بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ شہداء کا پتہ ہی اس وقت چلتا ہے جب دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں۔ اب کون رہ گئے؟ صالحین رہ گئے نا۔ تو اب صالحین کے ساتھ ساتھ رہنا، یہی ہماری حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہمارے پاس نہیں۔

غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ

اس کے مقابلے میں ایسے لوگ ہیں جن پر خدا کا غصہ ہے۔ خدا کا غضب ہے۔ مثلاً شیطان، یہود، جو جان بوجھ کر برائی کے اوپر مصر ہیں۔ ان کو ایک ایک چیز کا پتہ ہے۔

يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُم

یعنی آپ ﷺ کو ایسے جانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو جانتے تھے۔ پھر بھی ان کی مخالفت کرتے تھے۔ اب بھی بالکل اچھی طرح جانتے ہیں۔

یعنی آپ یقین کیجیے، ایک صاحب تھے وہ کسی یورپ ملک میں کسی ائرپورٹ پہ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک صاحب ان کو نظر آیا کہ داڑھی بھی ہے اور وضع قطع ایسا تھا جیسے کہ متشرع ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھ گیا، پتہ چلا وہ یہودی ہے۔ وہ مسلمان نہیں تھے۔ کیونکہ ان کے مذہبی لوگ بھی داڑھیاں رکھتے ہیں۔ تو ان کے ساتھ بیٹھے تو پھر courtesy میں بات چیت تو شروع ہو جاتی ہے۔ تو اس نے جب اسے بتایا کہ میں مسلمان ہوں تو اس نے کہا کہ کیا آپ کے ہاں فجر کی نماز میں اتنے لوگ ہوتے ہیں جتنے جمعہ کی نماز میں ہوتے ہیں؟ فجر کی نماز میں اتنے لوگ ہوتے ہیں جتنے جمعہ کی نماز میں ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا پھر ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کیوں آپ نے پوچھا؟ آپ نے کیوں پوچھا؟ اس نے کہا کہ اصل میں میں اسی پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ یعنی مسلمانوں کو کیسے دبایا جا سکتا ہے؟ تو میری پی ایچ ڈی مکمل ہے، میرا اب صرف لکھنا باقی ہے۔ اور یہ بات ہمیں بتائی گئی ہے کہ جب مسلمانوں کی فجر کی نماز میں جمعہ کی تعداد آ جائے گی، تو سب پر غالب آ جائیں گے۔ اب بتاؤ، پتہ ہے ان کو۔ ابھی بھی پتہ ہے۔

ان کو ہماری ایک ایک بات کا پتہ ہے۔ ایک یہودی مسلمان ہوا تھا۔ ہمارے ایک ساتھی تھے یوسف کاکاخیل رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی کراچی میں۔ تو ان کے ساتھ گپ شپ لگتی تھی۔ اس نے کہا تمہارے اندر جتنے فرقے ہیں نا، یہ سب ہم سے آئے ہوئے ہیں۔ تمہارے اندر جتنے فرقے آئے ہوئے ہیں، یہ سب ہم سے آئے ہوئے ہیں۔ اور پھر اس نے مثالیں بھی دیں۔ عجیب انفارمیشن ہے۔ اب ذرا دیکھیں ایک حدیث شریف کے ساتھ اس کو compare کرتے ہیں۔ اس انفارمیشن کو ایک حدیث شریف کے ساتھ compare کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

گزشتہ امتوں میں 71 یہود میں فرقے بن گئے۔ 72 نصاریٰ میں ہو گئے تھے۔ اور میری امت میں عنقریب 73 ہو جائیں گے۔ ان میں سے صرف ایک نجات پائے گا۔ صحابہ کرام نے ڈر کے پوچھا یا رسول اللہ، وہ کون ہوں گے جو نجات پائیں گے؟ فرمایا: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" جس پر میں چل رہا ہوں، جس پر میرے صحابہ چل رہے ہیں۔

دیکھ لیں، اب ذرا اس کو analytical انداز میں دیکھیں۔ 71 فرقے یہود میں تھے، وہ سارے کے سارے نصاریٰ میں آ گئے۔ تو نصاریٰ میں 72 ہو گئے نا۔ 72 واں کون تھے؟ خود تھے وہ، 72 واں عیسائی خود تھے۔ جو صحیح عیسائی تھے۔ وہ خود تھے اور 71 کے 71 آ گئے کس میں؟ یہود سے آ گئے۔ اور مسلمانوں میں 73۔ تو اس کا مطلب کیا ہوا؟ 72 کے 72 ان میں آ گئے، مسلمانوں میں آ گئے، اور 73 واں خود ہیں وہ۔ اور 73 واں خود کون ہیں؟ "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي"۔ اس کا مطلب نجات صرف اور صرف، اور صرف اور صرف، اس میں ہے کہ آپ ﷺ کی سنت پہ چلو اور آپ ﷺ کے صحابہ کے طریقے پہ چلو۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نجات کا نہیں۔ کوئی راستہ نجات کا نہیں ہے۔ کوئی مانتا ہے تو مانے، پتہ چل جائے گا ادھر۔ ادھر پتہ چل جائے گا۔ یہاں تو بات یہی ہے۔ آپ ﷺ نے اعلان فرما دیا، "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔

دیکھو صحابہ کرام کے درمیان اختلافات ہوئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ کیا ہے؟ خدا کے بندو! یہ آپس میں اختلافات کو حل کرنے کے، اور اس کی domain کو سمجھنے کے لیے ہمارے پاس انفارمیشن ہے۔ آخر انہوں نے اختلافات کیے، لیکن وہ ایک دوسرے کے جنازے پڑھتے تھے یا نہیں پڑھتے تھے؟ قتال بھی ہوتا تھا، لیکن ایک دوسرے کے جنازے پڑھتے تھے، ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھاتے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ہاں، موقع پر قتال بھی ہو جاتا تھا۔ جیسے ہمارے ہاں تلخی ہو جاتی ہے آپس میں کسی مسئلے میں۔ تو ہم تلخی کرتے ہیں لیکن بعد میں ہم اکٹھے جب بیٹھتے ہیں، اسی طریقے سے قتال بھی اس میں آ جاتا ہے۔

مجھ سے ایک صاحب نے پوچھا، ذرا تھوڑے سے extremist تھے۔ مجھ سے کہا کہ پاکستان کا فوج مرتد ہو چکا ہے۔ تو ایسا ہے... میں نے کہا میں تو کچھ نہیں کہتا۔ تم خود ہی سوچو۔ صرف صحابہ کرام کے جو درمیان مشاجرات ہیں، اس کے اندر غور کر لو۔ کہتے ہیں، فلاں نے فتویٰ دیا، فلاں نے فتویٰ دیا۔ میں نے کہا میں فتووں کو نہیں جانتا۔ میں صرف آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ کیا ہے۔ یہ تم اس طرح کر لو، مشاجراتِ صحابہ کو پڑھ لو۔ اس کے اندر صحابہ نے کیسا طریقہ اختیار کیا تھا؟ بس اس کو آپ understand کرنے کی کوشش کرلو، شاید آپ کو جواب مل جائے۔ تقریبا مہینے بعد اس نے آ گیا، کہتے ہیں میں نے آپ کا میسج communicate کیا تھا، ان لوگوں نے بات مان لی ہے، سمجھ لی ہے۔ اور اپنے اس سے رجوع کر لیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ ایسا ہوتا ہے۔ بھئی قتال کی حد تک انسان چلا جائے، ایک دوسرے کو شہید کر رہے ہیں لیکن کافر نہیں سمجھتے۔ کافر نہیں سمجھ رہے۔ کافر سمجھنے کے لیے بہت بڑی دلیل کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی ایسی بات تو نہیں ہے، چھوئی موئی پتہ تو نہیں، بس پتہ آپ نے چھو لیا اور بس ختم ہو گیا۔ نہیں! ایمان کی گواہی کے لیے آپ کو دلیل چاہیے اور ایمان سے نکلنے کے لیے بھی آپ کو دلیل چاہیے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگ جذبات میں آ کر فیصلے نہ کریں۔ "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" ہمارے پاس سامنے موجود ہے۔ ہم ہر چیز میں صحابہ کو دیکھیں گے۔ صحابہ نے کیسا طریقہ اختیار کیا تھا؟

دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اختلاف ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے ہوتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ کلالہ کا موضوع چل رہا تھا، کلالہ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ میراث کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ اور چوتھے پارے میں اس کے بارے میں ذکر آیا ہے۔ میراث کے اس مسئلے میں۔ صحابہ کرام اس کو decide کر رہے تھے کہ کلالہ ہے کیا؟ سب صحابہ کرام تشریف فرما ہیں، جو بڑے بڑے صحابہ ہیں۔ discuss کر رہے ہیں آپس میں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی باری آئی۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میری بھی ایک رائے ہے۔ میری بھی ایک رائے ہے۔ اگر ٹھیک ہے، تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اگر غلط ہے، تو میرے نفس کی طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ یہ ہے اخلاص۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اگر صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو کس کی طرف سے ہے؟ میرے نفس کی طرف سے ہے، شیطان کی طرف سے ہے۔

بڑے بڑے فیصلے کر رہے ہیں علی کرم اللہ وجہہ، فقہی... فقہی مسئلے، فیصلے کر رہے ہیں۔ آخر وہ ہیں نا، آپ ﷺ نے ایک بار فرمایا کہ: "أَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ" یعنی سب سے بڑے قاضی کون ہیں؟ علی کرم اللہ وجہہ۔ تو علی رضی اللہ عنہ بڑے بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔ لیکن ڈرتے کیسے ہیں؟ ڈرتے کتنے ہیں؟ اتنے ڈرتے ہیں، کہتے ہیں، جو لوگ جہنم کے جراثیم میں یعنی center میں گھسنا چاہتے ہیں، وہ دادا اور بھائی کی میراث میں فیصلہ کریں۔ دادا اور بھائی کی میراث میں فیصلہ کریں۔ یعنی اتنی مشکل چیز ہے۔ اس میں اتنا نپا تلا بات ہونی چاہیے کہ ہر وقت خطرہ ہے، پتہ نہیں میں کہیں غلط نہ کروں۔ یہ بات ہے۔ تو علی کرم اللہ وجہہ اتنی بڑی پوزیشن پر ہوتے ہوئے، "أَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ"، آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا، وہ اتنے ڈر رہے ہیں۔ عشاء کی نماز کے بعد اپنی داڑھی کو پکڑ کر ایسے روتے ہیں جیسے کسی جانور نے ڈسا ہو۔ یہ علی کرم اللہ وجہہ کی بات تھی۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہیں، ہمیں اختلاف کا حق ہے۔ اختلاف کر لیں، کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن ایک تو اللہ کے لیے کریں۔ اپنے نفس کے لیے نہ کریں۔ اللہ کے لیے کریں۔ اور ڈرتے رہیں کہیں...

اچھا ایک بات تھوڑی سی عرض کرتا ہوں، بہت اہم بات ہے۔ قرآن پاک میں منظر کشیاں ہیں۔ یعنی آخرت کی منظر کشیاں۔ کس سے معاملہ ہو گا اللہ تعالیٰ کا، کس طرح فیصلے کریں گے، اور کس طرح لوگوں کے حالات ہوں گے۔ یہ منظر کشیاں ہیں۔ تو ایک منظر کشی اس کی کی گئی ہے کہ جو لوگ اپنے بڑوں کی وجہ سے گمراہ ہو چکے ہوں گے، ان کو عذاب کا فیصلہ ہو چکا ہوگا۔ وہ کہیں گے:

یا اللہ، ان ہمارے بڑوں کو دوگنا عذاب دے دو۔ ان کی وجہ سے ہم گمراہ ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہم گمراہ ہو گئے اور ہم نے ان کی بات مان لی۔

شیطان کے پیچھے لوگ لپکیں گے کہ تیری وجہ سے ہم اس پوزیشن پہ آ گئے تھے، ہم نے اللہ کی بات نہیں مانی، تیری بات مانی۔ کہتا ہے، میرا تمہارے اوپر زور تو نہیں چلتا تھا۔ تمہیں میں نے تو نہیں منوایا۔ میں کوئی زبردستی کر سکتا تھا؟ تم لوگوں نے اپنی بات مانی ہے۔ میں نے تو صرف وسوسہ ڈالا ہے۔ اس سے زیادہ تو میں کر نہیں سکتا تھا۔ اب بھگتو! میں بھی بھگت رہا ہوں، نہ میں تم سے کچھ کم کر سکتا ہوں، نہ تم مجھ سے کچھ کم کر سکتے ہو۔

اس وجہ سے ایک بات میں اکثر کرتا رہتا ہوں اور یہ میں ہر وقت کرتا ہوں۔ کہ دیکھو! پارٹی بازی، فرقہ پرستی، یا اس قسم کی باتوں میں لوگوں کے غلام نہ بن جاؤ۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ لوگوں کے غلام نہ بن جاؤ۔ کہ اپنے کان، آنکھ بند کر کے، من و عن ان کے اوپر چلو۔ نہیں بھئی! خدا کے بندو، زندگی بار بار نہیں ملا کرتی۔ تم اپنی زندگیوں کو ان کے لیے داؤ پہ کیوں لگاتے ہو؟ کیا وہ تمہیں بچا سکیں گے؟ کوئی بھی تمہیں نہیں بچا سکتا۔ اس وجہ سے اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔ کسی کی بھی غلط بات کو، اگر غلط ہو، تو غلط سمجھو۔ چاہے وہ آپ کا کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اور صحیح بات کو، صحیح سمجھو چاہے وہ تیرا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ بعض دفعہ... جزوی طور پہ۔۔۔، ایک آدمی کافر ہے، لیکن سچ بولتا ہے۔ تو کیا میں اس کے سچ کا انکار کر سکتا ہوں؟ کافر ہے، میں اس کے کفر کا تو انکار کروں گا نا، کافر تو میں نہیں بنوں گا اس کے لیے۔ لیکن وہ اگر سچ بولتا ہے، تو مجھے بھی سچ بولنا چاہیے۔

ایک دفعہ ایسا ہوا، جرمنی میں نماز کا وقت تھا عصر کا۔ تو وہاں چونکہ گرمیوں میں دن بڑے لمبے ہو جاتے ہیں۔ یعنی آپ سمجھیں کہ پونے دس بجے مغرب ہوتی تھی۔ اور عصر تقریباً یہ پانچ چھ بجے کے لگ بھگ ہوتی تھی۔ چھ بجے کے لگ بھگ۔ تو میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہی ہوا چاہتا تھا کہ اتنے میں پروفیسر صاحب آ گئے۔ اور جیسے ہی مجھے نماز کے لیے کھڑے ہونے لگا، دیکھا، فورا واپس ہونے لگے۔ میں نے کہا، سر، آپ آ جائیے۔ آپ سے بات کر لیتا ہوں۔ کیوں کہ ان کا بڑا ٹائم important ہوتا ہے نا۔ اس طرح تو نہیں ہوتا ہماری طرح۔ ایک ایک منٹ ان کا بندھا ہوتا ہے۔ میں نے کہا، آپ سے میں بات کر لیتا ہوں، پھر نماز کا میرے پاس دو تین گھنٹے باقی ہیں۔ میں نماز بعد میں پڑھ سکتا ہوں۔ اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ آپ کی بات میں پہلے کر لیتا ہوں۔ اس نے کہا:

No, no, no, you just pray, I will come again. I will come.

پھر وہ نکل گیا۔ اب کیا خیال ہے، میں اس کو کیا سمجھوں؟ غلط سمجھوں؟ اس کی ایک اچھی چیز تھی، میں اس کو مانوں گا۔ اس کا شکریہ بھی ادا کروں گا۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اس نے ایک اچھی بات کی ہے۔ غلط بات تو نہیں کی ہے۔ ہاں، غلط بات چاہے میرا دوست کیوں نہ ہو، وہ کرے گا تو میں کہوں گا یہ تو ٹھیک نہیں، یہ تو غلط بات ہے۔ اصل میں یہی بات ہے کہ ہم نے معاملہ اللہ کے ساتھ صاف رکھنا ہے۔ یہی تقویٰ ہے۔ ہم نے معاملہ اللہ کے ساتھ صاف رکھنا ہے کہ میرا دل اللہ کے لیے بالکل خالص ہو۔ "يُرِيدُونَ وَجْهَهُ" صحابہ کرام کی صفت قرآن پاک میں بتائی گئی ہے، وہ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ وہ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، اور کچھ نہیں چاہتے۔ تو ہمیں بھی اللہ کی رضا چاہیے ہر وقت، بلکہ میں کہتا ہوں اللہ سے مانگنا چاہیے۔ یا اللہ، ہمیں اپنی رضا کا طالب بنا دے۔ اپنی رضا کی طلب نصیب فرما دے۔ اور اپنی رضا نصیب فرما دے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی باتیں ہیں۔ ورنہ کیا ہے، اپنی زندگی ضائع کر دیں گے۔

دوسری بات میں عرض کرتا ہوں کہ جیسے ابھی میں نے عرض کیا کہ رمضان شریف کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے بہت سارے مسلمانوں کو ماشاءاللہ کافی ترقیاں نصیب کی ہوں گی۔ کیونکہ یہ مہینہ ہی ترقی کا ہے۔ اس میں ترقیاں ہو جاتی ہیں۔ لیکن عید کے دن سے ہی مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے میں نے عرض کیا ایک ہوتی ہے روحانی خوشی، ایک ہوتی ہے جسمانی خوشی۔ روحانی خوشی کا مثال دیتا ہوں، وہ ذکر اللہ ہے۔

أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

آگاہ ہو جاؤ اللہ تعالیٰ کی یاد سے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے۔

یہ ایک روحانی خوشی ہے۔ اچھا روحانی خوشی جو ہوتی ہے وہ دل میں ہوتی ہے۔ روحانی خوشی کس چیز میں ہوتی ہے؟ دل میں ہوتی ہے اور نفسانی خوشی صرف نفس کے ساتھ ہوتی ہے۔ اب مثال کے طور پر میں کوئی کھانا اچھا کھاؤں، کھانا اچھا منع نہیں ہے لیکن مثال دے رہا ہوں، میں اچھا کھانا کھاؤں ، اس کی لذت کتنی دیر ملے گی؟ بس ہونٹوں سے لے کر حلق تک۔ اس سے زیادہ نہیں، جیسے حلق سے گزر گیا وہ سب برابر۔ کڑوا، پھیکا، میٹھا سب برابر۔ لیکن ہونٹوں سے لے کر حلق تک مزہ ہے۔

کسی خوبصورت چیز کو دیکھوں، اس وقت تک اس کا مزہ ہے جب تک میں اس کو دیکھ رہا ہوں، میری نظر ہٹ گئی قصہ ختم۔ اس طرح میں کوئی غلط گانا سن رہا ہوں اگر اس کا مزہ ہے تو وہ اتنا ہے جتنا میں اس کو سن رہا ہوں۔ جب ختم ہو گیا تو ختم۔ یہی بات ہے نا؟ تو نفسانی خوشی جو ہوتی ہے یہ اتنی ہوتی ہے جتنی کہ بس ہو رہی ہوتی ہے، وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ جبکہ دل کی جو خوشی ہوتی ہے وہ دیرپا ہوتی ہے کیونکہ دل store ہے۔ نفس سے تقویٰ generate ہوتا ہے یا فجور generate ہوتے ہیں وہ دل میں store ہو جاتے ہیں۔ اگر اچھی چیز آپ نے کر لی کوئی نیکی کا کام کر لیا اس کا اچھا effect آپ کے دل پہ آ گیا۔ مثلاً ذکر کر لیا اب دل آپ کا خوش ہو گیا۔ یہ ماشاءاللہ اس وقت تک خوش رہے گا جب تک آپ اس کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے۔ اس وقت تک خوش رہے گا۔ کیوں؟ آپ نے خوشی gain کر لی روحانی خوشی۔ اور روحانی خوشی اللہ تعالیٰ ضائع نہیں فرماتے:

لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

وہ روحانی خوشی اللہ پاک ضائع نہیں فرماتے، وہ جو نفسانی خوشی ہے وہ وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

اب مجھے بتاؤ کہ جو لوگ روحانی خوشی حاصل کرتے ہیں وہ زیادہ خوش ہیں یا جو جسمانی خوشی حاصل کرتے ہیں وہ زیادہ خوش ہیں؟ آپ حیران ہوں گے کہ جسمانی خوشی کی بہتات خود کشی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ میں اس کو ثابت کر سکتا ہوں۔ جسمانی خوشی کی بہتات جو ہے انسان کو خود کشی کی طرف لے جاتا ہے۔ practical examples میں دے سکتا ہوں۔ ایسے ممالک جو انتہائی خوشحال ممالک ہیں، وہاں پر خودکشیاں اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔ کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ان کے لیے climax آ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں مزید کیا کریں؟ کیونکہ نفس کا ایک عجیب سی چیز ہے اس کا demand fulfill کبھی نہیں ہوتا۔ آپ نے ایک کام کر لیا اس کے ذریعے سے خوش ہو گیا، پتہ نہیں وہ ڈاکٹر حضرات بیٹھے ہوئے ہیں Dopamine level کچھ اس طرح باتیں کرتے ہیں۔ یہ level rise ہوتا جاتا ہے۔ اب اس سے کم پہ آپ خوش نہیں ہیں۔ یہ rise ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ اس حالت تک rise ہو گیا کہ آپ کے پاس اب وسائل ہی نہیں ہیں تو پھر کیا خوش ہو سکتے ہیں آپ؟ آپ خوش نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ایسی حالت میں جب بہتات ہو جائے تو لوگ خود کشیاں کر لیتے ہیں۔

تو اس کا مطلب یہ ہے نفسانی خوشی آپ کے حق میں نہیں جا رہی، وہ آپ کے خلاف جا رہی ہے جبکہ روحانی خوشی آپ کے حق میں جا رہی ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کے بھی قریب کر لیتی ہے اور دنیا میں بھی دنیاوی چیزوں سے بھی فائدہ حاصل کرنے کا آپ کو ماشاءاللہ موقع دیتی ہے۔ جو لوگ واقعتاً اللہ کے قریب ہیں، وہ ہر وقت خوش ہیں۔ وہ ہر وقت خوش ہیں ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ شیطانی کاموں میں مصروف ہیں بالآخر اس کا نتیجہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔

لہٰذا ہم لوگوں کو یہ چاہیے دیکھیں عید کے موقع پر شروع ہوتا ہے نا معاملہ، کہ عید کے موقع پر جو جسمانی خوشی ہے اس کے لیے لوگ جاتے ہیں سیر سپاٹے پہ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم سے ساری پابندیاں ختم ہو گئیں۔ اب ہم آزاد ہیں۔ بھئی آزاد نہیں ہو سکتے، جب تک ہماری جان میں جان ہے اس وقت تک ہم اللہ کے بندے ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں۔ ہم آزاد نہیں ہیں۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ آخری وقت میں ایسی حالت تھی کہ بیٹے ان کو تلقین کر رہے تھے لا الہ الا اللّٰہ کی۔ اور حضرت کی زبان سے نکل رہا ہے کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں! اب بچے حیران ہیں کہ یا اللہ کیا بات ہے؟ حضرت نے تو والد صاحب نے تو پوری عمر ذکر کرتے گزاری اب یہ حالت ہے کیا وجہ ہے؟ افاقہ ہو گیا وہ آخری حالت نہیں تھی وہ صرف غشی طاری ہو گئی تھی۔ پوچھا، حضرت! ہم کہہ رہے تھے ذکر کر رہے تھے آپ جو ہیں نا کہہ رہے تھے کہ ابھی نہیں، کہتے ہیں مجھے تو آپ کا ذکر یاد نہیں ہے میرے سامنے شیطان آ گیا تو شیطان اپنے سر پہ خاک ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ احمد! تو مجھ سے بچ کے چلا گیا، احمد! تو مجھ سے بچ کے چلا گیا، احمد! افسوس تو مجھ سے بچ کے چلا گیا! میں کہتا تھا نہیں ابھی نہیں، ابھی نہیں بھئی ابھی میں زندہ ہوں ابھی میں زندہ ہوں۔ یہ ہے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی بات۔ یعنی جب تک ہم زندہ ہیں اس وقت تک ہم اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔

اور یاد رکھیں، یاد رکھیں، یاد رکھیں، جس حالت میں کسی کی موت آتی ہے اسی حالت پر اٹھائے جائیں گے۔ جس حالت میں کسی کی موت آتی ہے، مثلاً اس کی موت ذکر پہ آتی ہے ذکر کرتے اٹھیں گے۔ کوئی نماز پڑھتے فوت ہو گیا تو نماز پڑھتے اٹھیں گے۔ اب کوئی اور اچھا کام کریں گے تو اس پہ... اور اگر برا کام کرتے ہوئے مر گیا تو اسی حالت میں اٹھیں گے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو خطرہ ہر وقت ہونا چاہیے کہیں ہماری موت گناہ کی حالت میں نہ آ جائے۔ اور کیا موت کا پتہ ہے آپ کو؟ موت کس وقت آنی ہے؟ جب پتہ نہیں ہے تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہر وقت ڈرنا چاہیے اور یہی ہر وقت کا ڈرنا خوف ہے اور یہ کیا چیز ہے؟ یہ تقویٰ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔

تو تقویٰ کا پھر آپ کو کیا ملے گا؟ سبحان اللہ! اللہ پاک فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا

جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ راستہ کھول دیتے ہیں۔

سبحان اللہ! یہ تو ہے، دوسری بات:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

جو اللہ کے اولیاء ہیں ان پر نہ خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے

اور کیا ہو گا؟

کیونکہ انہوں نے ایمان حاصل کیا ہو گا اور تقویٰ اختیار کیا ہو گا۔

اس وجہ سے دین دنیا دونوں میں کامیابی تقویٰ کے ذریعے سے ہے۔ دین دنیا دونوں میں کامیابی تقویٰ، لہٰذا ہم تقویٰ حاصل کر لیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ ہماری دوستی ہو جو متقین ہوں۔ ہاں! متقین ہوں، کیوں وجہ کیا ہے؟ اگر متقین کے ساتھ ہم نہیں ہیں تو فسق و فجور میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور فسق و فجور یہ تباہی و بربادی ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی ماشاءاللہ ہمارا سلسلہ شروع ہو گیا اعمال کا۔ جو تقویٰ ہم نے رمضان شریف میں حاصل کیا ہے اس کو lose نہیں کرنا بلکہ اس کو enhance کرنا ہے۔

تو اس وجہ سے چھ روزے جو بعد میں رکھے جاتے ہیں، اور پورے شوال میں رکھے جا سکتے ہیں۔ تاکہ وہ چیز اپنی جگہ پر رہے۔ ایک تو یہ بات۔

دوسری بات یہ ہے کہ ماشاءاللہ sense تو انسان میں آ جاتا ہے نا، کہ اچھی چیز کیا ہے، بری چیز کیا ہے۔ تو بری چیز سے ڈرو۔ اور اچھی چیز کو اپناؤ۔ نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھو۔ برے لوگوں سے بچو۔

بعض دفعہ شیطان کہتا ہے تم ان کو نصیحت کر لو گے۔ بھئی خدا کے بندے، سب سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرو۔ سب سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرنا ہے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنے آپ کو نصیحت کرنے کے قابل نہیں، دوسروں کو نصیحت کرنے کے قابل بالکل نہیں ہیں۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں، ہم ایک جلسے میں گئے تھے۔ اس جلسے میں اچانک پتہ نہیں کیا ہو گیا، سارے لوگ کھڑے ہو گئے تھے۔ اور وہ جلسے والے پریشان ہیں کہ کیا ہو گیا؟ ان کے سٹیج سے ایک نعرہ لگ رہا تھا، آواز آ رہی تھی، بزرگو اور دوستو! اپنے اپنے آپ کو بٹھاؤ کسی اور کو نہ بٹھاؤ، بزرگو اور دوستو! اپنے اپنے آپ کو بٹھاؤ کسی اور کو نہ بٹھاؤ۔ 5 منٹ میں سارا مجمع بیٹھ گیا۔ کیوں بیٹھ گیا؟ اپنے اپنے آپ کو بٹھایا۔ اگر وہ دوسروں کو بٹھاتے تو کیا لوگ بیٹھ جاتے؟ سب لوگ کھڑے ہونے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ سے شروع کر لو۔ جب آپ اپنے آپ سے اصلاح شروع کر لیں گے نا، آپ یقین کیجئے آپ بغیر بتائے بھی تبلیغ کر رہے ہیں۔ یہ تبلیغ ہے، کردار کی تبلیغ۔

گفتار کا غازی بن تو گیا

کردار کا غازی بن نہ سکا

مطلب یہ ہے کہ جب تم کردار کے غازی بن جاؤ گے، لوگ تمہیں دیکھ کر، سب سے پہلے آپ کے گھر والے آپ سے اثر لیں گے۔ پھر اس کے بعد محلے والے اثر لیں گے، پھر آپ سے دوسرے لوگ اثر لے لیں گے۔ آپ یقین کیجیے، میں آپ کو بتاؤں، جن دینداروں کی گھروں میں مخالفت ہوتی ہے۔ یہ مجھے چونکہ اندازہ ہے نا کیونکہ میرے پاس لوگ آتے ہیں۔ جن دینداروں کی گھروں میں مخالفت ہوتی ہے، جب ان کے اوپر کوئی مصیبت آتی ہے، ان دینداروں سے کہتے ہیں ہمارے لیے دعا کرو۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ اس کا مطلب یہ ہے دل میں ان کو اچھا سمجھتے ہیں نا۔ دل میں ان کو اچھا سمجھتے ہیں، صرف ظاہری طور پر، ان کی مخالفت کرتے ہیں، اپنے نفس کی خواہشات کی وجہ سے۔ لیکن دل میں ان کو اچھا سمجھتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے فائدہ تو آپ سے پھر ہو گا۔ آپ اپنا رابطہ اللہ کے ساتھ درست رکھیں۔ لوگوں کا رابطہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ درست کر دے گا۔

ایک بزرگ تھے، ان کے ہاں کوئی شخص مہمان ہو گیا۔ وہ بھی بزرگ تھے۔ اس نے جب دیکھا کہ اخور جس میں پانی ڈالتے ہیں جانوروں کے لیے، وہاں پر بھیڑیا بھی ہے اور بکری بھی ہے۔ دونوں ایک میں پانی پی رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں حضرت، یہ کیا مسئلہ ہے؟ مجھے تو ہمیں تو سمجھ نہیں، یہ تو ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ فرمایا، میں نے اللہ پاک سے صلح کر لی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بنا دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی آپس میں صلح کرا دی۔ میری جگہ پر یہ سارے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

مقصد یہ ہے تم اللہ کا بن جاؤ، اللہ تمہارا ہو جائے گا۔ جب اللہ تمہارا ہو جائے گا، پھر اللہ کی ساری چیزیں تیری ہیں۔

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں

محمد ﷺ سے وفا کیا ہے؟ محمد ﷺ کی سنتیں اختیار کر لو۔ محمد ﷺ کے ساتھ محبت کرو، محمد ﷺ کی نسبتوں کے ساتھ محبت کرو۔ محمد ﷺ کے کام کو شروع کر لو۔ بس یہی بات ہے کہ:

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں


سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



رمضان کے تقویٰ کی حفاظت، صحبتِ صالحین اور صراطِ مستقیم - جمعہ بیان