اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات!
آج پیر کا دن ہے۔
پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔
سوال1: حضرت السلام علیکم! گزشتہ کئی سالوں سے رمضان میں بہت زیادہ جسمانی اور اعصابی کمزوری ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے غیر رمضان والے اعمال بھی نہیں ہو پاتے اور علاج سے بھی غیر رمضان والی تندرستی نہیں ہو پاتی ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جزاک اللہ۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اصل میں ،میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں، یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا صورتحال ہے۔ فی الحال تو کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے کہ جو فرائض اعمال ہیں اور واجبات ہیں اور سننِ مؤکدہ ہیں، اس میں فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ باقی حسبِ توفیق ہے۔ اگر انسان واقعی معذور ہو تو اس سے تو ان کا پوچھا نہیں کی جائے گا، لیکن یہ بات ہے کہ اگر ویسے ہی صرف کم ہمتی کی وجہ سے ہو رہا ہو تو پھر محرومی کی بات ہو گی۔ تو اس کے بارے میں یا خود آپ تعین کر سکتے ہیں یا پھر یہ کہ کسی ماہر ڈاکٹر سے کنسلٹ کر کے جو شریعت کا پابند بھی ہو، وہی زیادہ بہتر بات بتا سکتے ہیں۔
سوال2: السلام علیکم حضرت! میں فلاں آپ سے اپنی اصلاح کی خاطر میسج لکھ رہا ہوں۔ عرصہ دراز سے شش و پنج کی حالت میں تھا کہ آپ سے رابطہ کروں یا نہیں، آپ کہیں غصہ تو نہیں کریں گے۔ میں نے سن رکھا ہے کہ آپ ناراض بھی ہو جاتے ہیں اور بھی بہت سارے سوالات تھے مگر پھر ہمت کر کے معاملات کا فارم پُر کرنے کی ٹھان لی تھی۔ خیر بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس میں نمازوں کی تفصیل بھی درکار ہے، جیسے کہ نماز انفرادی ادا کی جاتی ہے یا جماعت کے ساتھ وغیرہ وغیرہ، ان شاء اللہ آئندہ مرتبہ اس کا خیال رکھوں گا۔ میں آپ سے اس لیے اپنی حالت بیان کر رہا ہوں کیونکہ میں آپ کو متبع سنت و شریعت مانتا ہوں، آپ کے بیانات بھی سنتا رہا ہوں جن سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور برائی سے بچ جاتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں فلاں شاہ صاحب سے بہت متاثر ہوں، ان کی شاعری اصل وجہ ہے۔ پھر ان سے ملنے کا بہت شوق تھا مگر پھر معلوم ہوا کہ وہ وفات ہو چکے ہیں۔ میں نے ان کے بہت سے بیانات سنے ہیں اور ان سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اگر ان کے متعلق آپ کا کوئی مشورہ یا رائے ہو تو میری اصلاح ہو سکے۔
عقائد میں یہ ہے کہ میں اللہ کو ایک مانتا ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی اور پیغمبر مانتا ہوں، میں تمام آسمانی کتابوں پر یقین رکھتا ہوں اور انبیاء کرام پر بھی۔ میں یہ مانتا ہوں کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں، میں بھی اس کائنات کی ہر شے میں اللہ کا محتاج ہوں، کائنات کی ہر بھی شے اللہ کی محتاج ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کسی کو نفع نہیں پہنچا سکتے۔ بہت لوگ پیروں سے منسوب کرتے ہیں کہ مدد کرتے ہیں، وہ حاجت روا ہے، پیروں سے مانگو وغیرہ، میں ان کو روحانی طبیب سمجھتا ہوں۔ اگر عقائد میں کچھ غلطی ہے تو درست فرمائیے گا۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: جو بتائے ہیں اس میں تو کوئی غلطی نہیں ہے۔
حالات: کچھ عرصہ پہلے حالت تھی کہ نماز تک پڑھنے کا دل نہیں کرتا تھا، اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ سے بہت دوری ہو گئی تھی، عشقِ مجازی نے جکڑ رکھا تھا اور حالت سب نہیں جانتے، مگر اللہ تعالیٰ سے ڈر کی وجہ سے بہت مجاہدہ کیا، خود کو اس سے نکالنے کے لیے بہت محنت کی۔ الحمدللہ نا محرم سے نہیں ملا، نہ براہِ راست رابطہ کیا، نفس نے بہت کوشش کی اور اب اس کوشش میں ہوں کہ اس مرض سے نجات حاصل کر لوں اور عشقِ حقیقی میں فنا ہو جاؤں۔ میں سمجھ چکا ہوں کہ یہ بہت دنیا عارضی ہے، ہر شے کو موت آنی ہے اور ایک ایسی چیز کے لیے خود کو فنا کرنا جو خود فنا ہو سکتی ہے، کج فہمی ہے۔ بہت سی روحانی بیماریاں ہیں جن کا علاج کروانا چاہتا ہوں، جیسے کبھی کبھار خود کو بہت بہتر سمجھنے لگ جاتا ہوں، دوسروں کو بھی کمتر، لیکن حالانکہ میں جانتا ہوں کہ یہ سب غلط ہے اور بھی بہت ساری بیماریاں ہیں۔ نظر کی حفاظت کرنے کی بہت کوشش کرتا ہوں، الحمدللہ میں سنتِ رسول پر عمل کرتے ہوئے داڑھی بھی رکھ لی ہے۔ میں نے قرآن حفظ کیا مگر بیماری کی وجہ سے بہت نقصان ہوا، بہت مرتبہ یاد کرنے کی کوشش کی مگر رائیگاں رہی، ابھی دوبارہ انفرادی طور پر منزل کو کر رہا ہوں۔ میرا ایمان تھا کہ جب تک میری اصلاح نہیں ہو جاتی، یہ عظیم کلام اس قلب میں نہیں رہ سکتا، بہت پریشان ہوں۔ والد صاحب صرف چند چیزوں سے واقف ہیں۔ آپ کو جہاں تک ہو سکی حالات بیان کر دیے اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر یہ میسج بہت طویل ہو جائے گا، اللہ ہم سب کی مدد فرمائے اور ہمیں سیدھی راہ دکھائے۔
جواب: ماشاء اللہ آپ کے خیالات بڑے اچھے ہیں، میں اس سے بڑا متاثر ہوا اور اگر آپ خانقاہ آ کر اس کا ریفرنس دے دیں تو شاید زیادہ بہتر ہو جائے گا۔ کیونکہ بہت ساری باتیں انسان کو خط و کتابت سے صحیح سامنے نہیں آتیں۔ تو اگر ایسا ہو سکے تو بہت بہتر ہے ورنہ یہ کہ اصلاح کے لیے تو کوشش آپ کر رہے ہیں اور ماشاء اللہ اس کی ہیلپ کے لیے اگر آپ کسی سے رابطہ کرتے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ تو بڑی اچھی بات ہے، اس سلسلے میں کوشش شروع کی جا سکتی ہے۔ لیکن بہرحال پہلے آپ مجھے بتائیں کہ اگر آپ خانقاہ آ سکتے ہیں تو یہ بہت زیادہ بہتر ہے، نہیں تو پھر میں ادھر سے شروع کروا لوں گا لیکن ظاہر ہے Diagnosisکے لیے اور تمام چیزوں کی بہتری کے لیے ایک دفعہ کم از کم خانقاہ آنا زیادہ بہتر رہے گا۔
سوال3: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے 27 فروری کو جو وظیفہ بتایا تھا وہ مندرجہ ذیل ہے ان میں جو میں نے مکمل کر لیا: {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ} 200، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو} 400، {حَقْ} 600 اور {اَللہ} ایک ہزار مرتبہ۔ مراقبہ پانچ منٹ کا تھا۔ اب وظائف معمول کے مطابق جاری ہیں، دورانِ مراقبہ کچھ محسوس نہیں ہوا۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اب یہ مراقبہ 10 منٹ کر لیں اور باقی چیزیں یہ رکھیں، پھر ان شاء اللہ دیکھیں گے۔ یہ ایک مہینے کے لیے ہے۔
Question-4: Assalamu Alaikum Warahmatullahi Wabarakatuh. Alhamdulillah, I have completed four weeks consecutively of quietly 100 times 3rd Kalima, 100 times Durood Sharif, 100 times Istighfar. Loudly, 200 times لا الہ الا اللہ, 200 times لا الہ الا ھو, 200 times حق and 100 times اللہ. Please advise for the next.
(Sawala Jawab Majlis 15 April 2024, Majlis No 669)
Answer: Okay, now you can do 200 times لا الہ الا اللہ, 300 times لا الہ الا ھو, 300 times حق and 100 times اللہ for one month Insha’Allah.
سوال5: السلام علیکم ورحمۃ اللہ! حضرت جی میں فلاں ہوں، اللہ پاک آپ سے راضی ہوں۔ آپ کی بات سمجھ آ گئی، الحمدللہ ایسے ہی شکر کروں گی ان شاء اللہ۔ حضرت جی کچھ عجیب کیفیت ہو رہی ہے، آپ سے محبت محسوس ہو رہی ہے، زیادہ تر بیانات نہ سن سکی۔ کمزوری ہے، بہت صحت بھی نامناسب رہتی ہے، اتوار کا بیان کبھی لیٹ کر، کبھی نیند میں، بس جیسے ہو سن لیتی ہوں۔ جوڑ کے لیے ہمت کر لیتی ہوں، بس جتنی توفیق ہو پاتی ہے عمل میں لگی رہتی ہوں کیونکہ کمزور ہوں۔ اس لیے بہت زیادہ تر نہیں کر پاتی، البتہ رمضان میں خاص کر اعتکاف میں آپ کی دعاؤں کی مجالس اور کلام کی مجالس میں شامل ہو جاتی تھی تشریح کے ساتھ والی ، اس سے بہت فائدہ ہوتا۔ لیکن حضرت جی کئی بار جو کلام میرے ذہن میں آ رہا ہوتا ہے، آپ وہی اس مجلس میں لگاتے تھے۔ میں بہت حیران ہوتی تھی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں ایک بار سن لیتی ہوتی تھی پرانے سال کا، دوسری بار آپ لگا لیتے۔ مجھے خوشی تو ہوتی تھی، اس سے پتا نہیں ایسے لگتا تھا کہ آپ کی معرفت وقت کے ساتھ ساتھ بہت بڑھ رہی ہے۔ ماشاء اللہ جو آپ سب اکابر کے فیض کو اکٹھا کر رہے ہیں، بہت کام لے رہے ہیں اللہ پاک آپ سے۔ آپ کی دعا سے بھی لگتا ہے حضرت مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں ایک گاڑی ہوں، خود کمزور ہوں، اپنے آپ کو نہیں چلا سکتی، پہلے لوگ مجھے چلا رہے تھے اور اب اس کا سٹیرنگ اللہ کے پاس ہے۔ بس وہ مجھے چلا رہے ہیں اور میں مطمئن ہوں کہ اب کوئی گڑبڑ ہو نہیں سکتی، اس کو زیادہ پتا ہے۔ کب رفتار تیز کرنی ہے، آہستہ کرنی ہے، بریک لگانی ہے، مجھے کچھ نہیں پتا۔ راستہ پر چل پڑی ہوں وہ بھی اللہ نے آپ کے طفیل دکھا دیا ہے، مطلب منزل تک پہنچ جاؤں گی۔ بس کبھی راستے میں بارش، آندھی، ٹریفک سب ہوں گے لیکن مجھے ہمت نہیں چھوڑنی، کبھی میرے اندر انجن، بریک، تیل، ٹائر وغیرہ میں مسئلہ آ سکتا ہے جیسے نفس، عقل اور دل میں، تو ساتھ ساتھ ٹھیک کرتے کرتے گاڑی چلتی رہے گی۔ آگے پیچھے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا، دوسری گاڑیوں کو بھی نہیں دیکھنا، نہ اپنے اندر کمی دیکھنی ہے موازنہ کر کے، سب چلتے ہیں سب آسان ہو جائے گا۔ آپ دعا فرما دیں میری اصلاح ہو جائے اور دوسروں سے نظر ہٹ جائے اور دائمی تعلق صرف اللہ تعالیٰ سے جڑ جائے۔ اور دنیا کی آزمائشوں سے نہ گھبرائے صرف اللہ پر نظر رکھوں۔ ابھی جو تفویض کی کیفیت محسوس ہوئی، پہلے ایسی نہیں ہوئی۔ مجھے تو نہیں پتا یہی حال ہے یا کیا ہے، بس اللہ پاک اس پر موت تک استقامت دے دے۔ حضرت جی بالکل کیفیت بتا رہی ہوں، مطلب کہانی نہیں ہے۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: ٹھیک ہے ماشاء اللہ یہ بڑی اچھی بات ہے، تفویض کی حالت تو بہت اچھی بات ہے۔ البتہ تفویض کے ساتھ یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے، اوامر و نواہی، اس میں انسان کو اس طرح نہیں رہنا چاہیے کہ بس اگر ہو گیا تو ہو گیا، نہیں ہوا تو نہیں ہوا۔ نہیں اس میں اپنی ہمت کرنی ہے، جتنی ہمت انسان کے اندر ہو اتنی ہمت کرنی ہے۔ اور اگر اس کے ساتھ کچھ مسئلہ ہو تو پھر شریعت کے مطابق جو اس کا علاج ہو اس کو اس طرح کرنا چاہیے اور پھر اللہ پہ چھوڑنا چاہیے۔ مطلب جیسے انسان پوری دوائی کر کے پھر اللہ پہ چھوڑتا ہے، اس طریقے سے آپ کو شریعت کے اعمال میں بھی کرنی چاہیے۔ اللہ جل شانہٗ توفیق عطا فرما دے، باقی بہتری کے لیے دعا کرتا ہوں۔
سوال 6: السلام علیکم میرے پیارے حضرت! جب بھی میں باقاعدگی کے ساتھ کوئی اچھا کام کرنا شروع کرتا ہوں تو مجھے بزرگی کا مسئلہ ہونے لگتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ میں کچھ خاص ہوں اور میرے نفس کو بہت خوشی ہوتی ہے۔ جب کوئی میری تعریف کرتا ہے یہ ہمیشہ مجھے اچھے اعمال کو آخر روکنے کی طرف لے جاتا ہے، کیا میں اس احساس کو روکنے کے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟ برائے مہربانی۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: بالکل کر سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب آپ کو پتا ہے کہ عجب، یعنی اپنے آپ کو بزرگ سمجھنا اور اچھا سمجھنا، یہ برا ہے۔ تو جب آپ سمجھتے ہیں کہ مجھ میں یہ مرض ہے تو پھر اپنے آپ کو آپ کیسے بزرگ سمجھ سکتے ہیں؟ تو جو اس کا آؤٹ پٹ (Output) ہے، وہی اس کے لیے ان پٹ (Input) ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ جب سمجھے کہ میں بزرگ سمجھ رہا ہوں تو بزرگ سمجھنا اچھا نہیں ہے، لہذا میں اچھا نہیں ہوں۔ بس بزرگی ختم۔
سوال 7: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی میں لاہور سے فلاں آپ سے مخاطب ہوں۔ میں نے آپ کا بتایا ہوا 40 روز کا عمل شروع کر رکھا تھا، الحمدللہ کل مورخہ 11 اپریل کو 40 روز پورے ہو جائیں گے۔ مزید رہنمائی فرمائیں، دعاؤں کی خاص درخواست ہے۔ لاہور خانقاہ کا ایڈریس اور لاہور میں آپ سے ملاقات کا شیڈول بھی بتا دیجئے گا۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: ٹھیک ہے ان شاء اللہ جب ہمارا پروگرام لاہور کا بنے گا تو پھر ان شاء اللہ آپ سے عرض کروں گا۔ اور جن کے ہاں یہ پروگرام ہوتا ہے فی الحال وہ بیمار ہیں، تو ان شاء اللہ جیسے ہی ان کی طبیعت درست ہو گی تو اس کے بارے میں عرض کر لوں گا۔ بہرحال یہ ہے کہ ابھی فی الحال آپ نے چونکہ 40 روز کا وہ پورا کر لیا ہے تو اب آپ ان شاء اللہ وہ ذکر کل شروع کر لیں جہری ذکر، اور وہ ہے {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ} یہ سو دفعہ، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو، لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو} سو دفعہ، {حَقْ، حَقْ، حَقْ} سو دفعہ، {اَللہ، اَللہ، اَللہ} سو دفعہ۔ یہ آپ نے سو سو دفعہ کرنا ہے یہ ایک مہینے کے لیے، اور کوئی وقت مقرر کر کے اس کو بغیر ناغہ کے کرنا ہے ان شاء اللہ۔ اور دوسرا یہ کہ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار سو سو دفعہ، یہ آپ نے عمر بھر کے لیے کرنا ہے۔ اور ہر نماز کے بعد جو ذکر بتایا تھا وہ بھی آپ کو کرنا ہے ان شاء اللہ۔ ان شاء اللہ ایک مہینے کے بعد بتائیں گے آپ۔
سوال 8: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت آپ کو اور تمام اہل خانہ کو میری طرف سے عید مبارک ہو۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اللہ جل شانہٗ آپ کو بھی گزشتہ عید مبارک فرمائے یعنی اس کی برکات آپ پر برقرار رکھے۔ اور کوتاہیوں سے ضائع نہ ہو جائیں۔
سوال 9: السلام علیکم حضرت شاہ صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین۔ ذکر الحمدللہ آپ کی برکت سے 200، 400، 600، 9000 اور 10 منٹ کا مراقبہ، تہجد کو دو ماہ ہو گئے ہیں۔ دیر سے اطلاع کی معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ کی برکت سے اصلاحی اعتکاف کی سعادت نصیب ہوئی، الحمدللہ اعتکاف کی تراویح میں دل کے مقام پر {اَللہ، اَللہ} محسوس ہوتا تھا دل کے مراقبے میں۔ جبکہ مراقبہ میں رمضان سے پہلے کبھی اتنا ممکن ہوتا تھا کہ وقتی طور پر یاداشت چلی جاتی ہے کہ میں کون ہوں اور کہاں ہوں۔ آپ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا دھیان نصیب ہوتا ہے، جو کہ نماز میں کم اور غیر نماز میں زیادہ ہوتا ہے۔ اعتکاف کے بعد اس دھیان میں تھوڑا سا لطف محسوس ہوتا ہے۔ پوچھنا تھا کہ نماز میں جس میں خشوع و خضوع کا حکم ہے، اس میں تو دھیان کم ہوتا ہے جبکہ غیر نماز میں زیادہ، اس کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے؟ اعتکاف میں خلافت کے وسوسے آتے تھے اور جس پر نفس کو ڈانٹتا کہ تم نے بہت تیر چلائے، ہو سکتا ہے کہ اب شاہ صاحب تم سے بیعت کر لیں، اور شاید سارے مشائخ تمہارے ہاتھ پر بیعت کریں، اس کے بعد نفس کے وسوسے بند ہو گئے۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: دیکھیں بات سنیں کہ نماز سے پہلے آپ ایک خاص چیز پر، یا نماز میں جب آپ نہیں ہوتے تو آپ کسی چیز پر اپنی مرضی سے فوکس کر سکتے ہیں، مثلاً ذکر کے اوپر۔ تو اس سے جو ہے نا ماشاء اللہ یعنی محسوس زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ نماز میں آپ کو مسلسل حرکت ہوتی ہے نماز کے اعمال کی طرف۔ تو اس میں خشوع و خضوع یہی ہے کہ آپ کا دل جو ہے نا نماز کے حالات سے ہٹنے نہ پائے، بس نماز کی طرف رہے۔ اور دوسری طرف یہ بات ہے کہ آپ سکون کے ساتھ نماز پڑھیں یعنی اس میں بے جا جلدی نہ ہو اور جس رکن میں اعضاء جس حالت میں ہونے چاہیے اسی حالت میں ہوں۔ تو اس کو خشوع و خضوع کہتے ہیں، یہی ہونا چاہیے اور اگر یہ ہو تو کافی ہے۔
باقی جہاں تک خلافت کے وسوسے ہیں تو وسوسہ وسوسہ ہی ہوتا ہے۔ اس کی پرواہ ہی نہیں کرنا چاہیے، مطلب کہاں بزرگی اور کہاں ہم۔ مطلب ہم لوگ تو بس عام لوگ ہیں اور ماشاء اللہ یعنی حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بزرگوں کے نصاب پہ نہ رہیں، عام لوگوں کے نصاب پہ رہیں تو سہولت ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے اگر بزرگوں والا نصاب تم پہ ڈال دیا تو پھر کیا کرو گے۔
سوال 10: حضرت شیخ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عید الفطر مبارک۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا میں نے 30 دن {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ} 200، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو} 200، {حَقْ} 200 اور {اَللہ} 100 کا وظیفہ پورا کر لیا۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اب {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ} 200، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو} 300، {حَقْ} 300 اور {اَللہ} سو دفعہ کا وظیفہ ایک مہینے کے لیے کریں۔
سوال 11: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ہماری طرف سے اور آپ کے اہل خانہ کو عید بہت بہت مبارک ہو۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: آپ سب کو بہت عید مبارک ہو۔
سوال 12: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضور کل میرا ذکر اس ماہ مکمل ہو گیا 200 مرتبہ {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ}، 400 مرتبہ {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو}، 600 مرتبہ {حَقْ} اور 2000 مرتبہ {اَللہ}۔ حضور تمام مریضوں سمیت میرے لیے صحت یابی اور اس دنیا سے با ایمان رخصتی کی دعا کی درخواست ہے۔ اللہ پاک میرے لیے اس ذکر میں آسانی عطا فرمائے۔ حضور اس ذکر کو جاری رکھنے کی اجازت عطا فرمائیے۔ آپ کی دعاؤں کا طالب۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اللهم آمین۔ اب آپ {اَللہ، اَللہ} ڈھائی ہزار مرتبہ کر لیں، باقی چیزیں وہیں رکھیں ان شاء اللہ ایک مہینے کے لیے۔
سوال 13: السلام علیکم حضرت! میرا نام فلاں ہے، میرے شوہر بھی آپ سے بیعت ہیں، وہ دبئی میں ہوتے ہیں فلاں اس کا نام ہے، ہم فلاں جگہ کے ہیں۔ میں نے فلاں سے 40 دن کا ذکر بھی لیا ہے، اب آپ اگر مجھے ذکر بتا دیں، اور میری شادی کو تین ماہ ہوئے ہیں۔ میرے شوہر شادی کے ایک ماہ بعد دبئی چلا گیا ہے، اب میں اس کے پیچھے بہت روتی ہوں لیکن میرے شوہر اکلوتے ہیں اور گھر میں کوئی اور کمائی والا ہے نہیں، تو اب ان کی تو مجبوری ہے، لہذا میں اکیلی ہوتی ہوں تو صبر نہیں آتا بہت روتی ہوں، آپ رہنمائی فرما دیں۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: بات بہت Simple ہے کہ Compromise کرنا ہے حالات میں۔ اب دیکھو آپ نے خود ہی بتا دیا کہ اس کی مجبوری ہے۔ تو مجبوری مجبوری ہوتی ہے، تو آپ کو اگر جو تکلیف ہے اس میں آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھیں تاکہ آپ کا اس چیز کا زیادہ استحضار وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں تبدیل ہو جائے۔ تو اس کے لیے آپ ذکر کریں اور وہ یہ ہے کہ 40 دن کا جو ذکر آپ نے کیا ہے تو اس میں اگر ناغہ نہیں ہوا، تو پھر تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار یہ سو سو دفعہ یہ پوری عمر آپ جاری رکھیں روزانہ۔ اور ہر نماز کے بعد جو ذکر بتایا ہے وہ بھی آپ جاری رکھیں۔ اس کے علاوہ 10 منٹ کے لیے آنکھیں بند، زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کر آپ نے تصور کرنا ہے کہ میرا دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے۔ تو بس یہ تصور کرنا ہے کروانا نہیں ہے کیونکہ وہ آپ کروا نہیں سکتی۔ لیکن اگر ہونا شروع ہو جائے تو کم از کم آپ کو پتا چل جائے۔ بس اس طرح فوکس رکھیں، ان شاء اللہ یہ 10 منٹ کا مراقبہ ہے، یہ ایک مہینہ کر کے مجھے اطلاع کرنی ہے ان شاء اللہ۔
Question-14: Assalamu Alaikum Sheikh. As per your instructions, I was continuing to do the following Hasanat, virtuous deeds in the last one and a half month.
Number 1: Read two pages of Tafseer Quran daily.
Number 2: Teach Quran recitation to some brothers and sisters.
Number 3: I was trying to helping, to help Masjid to organize Iftar for the people during the Ramadan. After doing the above, I have more good and strong feelings that is I feel more confidence, patience, and feel Allah is so kind to me and give me countless Barakat all the times. Even I have very small health problem and challenge during the Ramadan but I feel, it’s a testing and also kind of Barakat to me from Allah. I have more self-control Alhamdulillah. Sheikh, please kindly let me know what should I do for the next Insha’Allah.
(Sawal Jawab Majlis 15 April 2024, Majlis No 669)
Answer: Mashallah, you are doing well. May Allah Subhanahu Wa Ta'ala grant you Toufeeq to continue this. And if you stand up in the morning, you should think what better thing I can do with the people, for themselves to perform good for Akhirah. And when you sleep in the night, before this you should think how much you are successful in this. So, this you should repeatedly do daily Insha’Allah. And beside the other things what you are doing.
سوال 15: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و سلامت رکھے، آمین۔ حضرت جی کچھ وقت خانقاہ میں لگانے سے پوری زندگی بدل گئی ہے۔ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اپنی کچھ دنیاوی معاملات لوگوں کے ساتھ خراب تھے، ان سے صلح صفائی کر لی ہے۔ ابھی بھی دل میں دیکھتا ہوں کہ کسی کے لیے بغض یا کینہ تو نہیں رہا۔
نمبر دو: ذکر و دعا میں دل لگتا ہے۔
نمبر تین: فرض نماز میں کوشش کے باوجود توجہ نہیں ہوئی۔ آپ کے دیے ہوئے ذکر کا وقت پورا ہو گیا ہے، {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ} 200، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو} 400، {حَقْ} 600، {اَللہ} 1200، یہ میں ترتیب سو سو بار کر رہا ہوں۔
حضرت دل و دماغ ابھی تک خانقاہ میں ہے، دل چاہتا ہے کہ پھر کچھ وقت آ کر خانقاہ میں لگاؤں۔
اہلیہ کا ذکر: تیسرا کلمہ جو بالترتیب 300، 200 ہے آپ کے کارڈ والا ذکر، اس کا چلہ پورا ہو گیا ہے۔ گھر میں نماز اور اذکار کی الحمدللہ پوری پابندی چل رہی ہے، آپ سے گزارش ہے دعا کریں۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اچھا ماشاء اللہ، ماشاء اللہ۔ اب یہ اس طرح کر لیں کہ آپ جو ہے نا وہ ذکر جو ہے نا اب {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ} 200 مرتبہ، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُو} 200 مرتبہ، {حَقْ} 200 مرتبہ اور {اَللہ} یہ سو مرتبہ، یہ اب روزانہ کر لیا کریں ایک مہینے کے لیے۔
اور باقی جو آپ کی اہلیہ ہے اس کو بتا دیں کہ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار سو سو دفعہ روزانہ، یہ عمر بھر کے لیے۔ اور جو نماز کے بعد والا اذکار ہے اس کو بھی آپ نے عمر بھر کے لیے کرنا ہے۔ اور اس کے علاوہ 10 منٹ کے لیے آپ تصور کریں گی آنکھیں بند، قبلہ رخ بیٹھ کے، زبان بند، آپ تصور کریں گی کہ میرا دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے۔ آپ نے کروانا نہیں ہے کیوں کروا نہیں سکتی، لیکن یہ بات ہے کہ اگر ہونا شروع ہو جائے تو کم از کم آپ کو پتا چل رہا ہو، تو یہ 10 منٹ کے لیے روزانہ آپ نے یہ کرنا ہے فوکس، اور ایک مہینے کے لیے ان شاء اللہ، ایک مہینے کے بعد پھر مجھے بتانا ہے، آپ دونوں تو بتائیں گے ان شاء اللہ۔
ایک سوال کا جواب: اس کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ درجہ کی تواضع چاہیے یعنی اپنے آپ کو بالکل کچھ نہ سمجھنا ہو، جب تک آپ اپنے اندر تکبر سمجھیں تو اپنے آپ کو کچھ بھی نہ سمجھیں۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
سوال 16: السلام علیکم حضرت جی! آپ خیریت سے ہوں، میں نے عمرے پر جانا ہے 25 اپریل کو ان شاء اللہ، آپ سے دعا کی اپیل ہے کہ اللہ سب سیدھا فرمائے اور صحیح طریقے سے کرنے کی توفیق ہو جائے۔ پوچھنا یہ تھا کہ عورت کو چہرہ ڈھانپنا احرام میں حرام ہے، سلا ہوا نقاب پہن نہیں سکتی، آپ کے پیج پر لکھا ہے جبکہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کہتی ہے کہ سلا ہوا نقاب پہننا حرام ہے اور چہرہ نامحرم سے چھپانا چاہیے۔ یہ واضح فرمائیں اور عورت کو نماز مکہ اور مدینہ میں کدھر پڑھنی چاہیے، مسجد میں؟ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: ہاں یہ بات ہے کہ دیکھیں نا اس طرح ہوتا ہے کہ ایک چھجے والی ٹوپی سی ہوتی ہے، وہ اگر کوئی پہن لے اور اس کے اوپر اپنا نقاب ڈال لے، تو کپڑا چہرے پہ نہیں لگے گا باقی چہرہ غیر محرم سے چھپ جائے گا۔ تو بس اتنا کر سکتی ہیں اور یہ بات ہے کہ باقی تو پورا جسم جیسے انسان عام طور پہ چھپاتا ہے اس طریقے سے آپ لوگوں سے چھپائیں گی۔ اور اگر کمرے میں ہے تو ظاہر ہے لوگوں سے تو نہیں چھپائیں گے اس وقت تو آپ چہرہ بھی کھول سکتی ہیں۔ تو بس یہ بات بہت آسان ہے اب یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔
البتہ نماز جو ہے وہ مکہ اور مدینہ منورہ میں وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف ہے نا کہ میری مسجد میں نماز پڑھنے سے اس عورت کا گھر کے اندر نماز پڑھنا بہتر ہے، صحن سے زیادہ برآمدے میں، برآمدے سے زیادہ جو ہے نا وہ اندرونی کمرے میں۔ تو آپ خود ہی سوچ لیں۔
Question-17: Assalamu Alaikum Warahmatullahi Wabarakatuh. Respected Hazrat Sheikh Sahab, I pray that you are well, Amin. I have completed this month Zikr without miss Alhamdulillah. لا الہ الا اللہ 200 times, لا الہ الا ھو 400 times, حق 600 times, اللہ 1000 times.
Muraqaba 10 minutes اللہ اللہ on Latifa-e-Qalb, 15 minutes on Latifa-e-Ruh. Regarding Muraqaba, I feel the Zikr more compared to last month on both Lataif in recent days, but my thoughts still tend to stray away from the Zikr, which then I try to keep focused.
(Sawal Jawab Majlis 15 April 2024, Majlis No 669)
Answer: Mashallah, this try is actually required. So you continue this try and now I think you should do 10 minutes اللہ اللہ on Latifa-e-Qalb and 10 minutes on Latifa-e-Ruh and 15 minutes on Latifa-e-Sirr. The rest will be the same Insha’Allah.
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میں فلاں بات کر رہا ہوں جہلم سے، ان شاء اللہ خیریت سے ہوں گے۔ حضرت جی آپ نے مجھے ذکر دیا تھا {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ} 200 مرتبہ، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ} 400 مرتبہ، {حَقْ} 600 مرتبہ، {اَللہُ، اَللہُ} 1500 مرتبہ۔ دو مہینے پہلے میں نے کیا، پہلے مہینے میں کچھ ناغے ہوئے تھے اور رمضان میں بھی ناغے ہوئے ہیں لیکن دوسرے اذکار کاقرآن مجید پر کافی توجہ رہتی ہے، میری رہنمائی فرما دیں۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669)
جواب: اب آپ اس طرح کر لیں کہ {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ} 200 مرتبہ، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ} 400 مرتبہ، {حَقْ} 600 مرتبہ اور {اَللہُ، اَللہُ} دو ہزار مرتبہ کر لیں، اور ایک مہینہ کے بعد پھر مجھے اطلاع کر دیں ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم محترم حضرت جی! میرے سارے اذکار پورے ہو گئے اس مہینے کے لیے، 200، 400، 600، 4000۔ تمام لطائف پر دس دس منٹ مراقبہ، "وَھُوَ مَعَکُمْ اَيْنَ مَا كُنتُمْ" کا مفہوم 15 منٹ چند ماہ سے جاری ہے۔ اس مراقبہ کو بھی، مجھے وقوفِ قلبی والی کیفیت مزید بڑھ گئی ہے اور موت کا خیال بھی ہمیشہ رہتا ہے، میرے اندر صبر بھی بہت زیادہ بڑھ گیا، الحمدللہ۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اب ماشاء اللہ اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کر کے شکر کا مراقبہ کریں کہ کتنی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں، اس پر شکر اگر کم ہے تو اس پہ شکر کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو سمجھانا چاہیے کہ اللہ پاک کی جو نعمتیں بغیر استحقاق کے ہمیں دے رہے ہیں اس پر شکر کرنا چاہیے۔ باقی چیزیں یہی جاری رکھیں۔
سوال: حج کے دوران عورتوں کو سلے ہوئے کپڑا پہننا کیسا ہے؟جواب: آپ کے اوپر سلے ہوئے کپڑے کی پابندی نہیں ہے، وہ مردوں کے اوپر ہوتی ہے۔ تو آپ تو سلا ہوا کپڑا پہن سکتی ہیں، البتہ یہ ہے کہ چہرہ جو کھلا رکھنے والی بات ہوتی ہے، اس کے لیے میں نے آپ کو بتایا کہ ایک چھجے والی ٹوپی آپ اس کو پہن لیں اور پھر اس کے اوپر اپنا نقاب لٹکا دیں۔ تو عورتوں کے لیے نصاب الگ ہے۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
سوال: منزل جدید پڑھنے کا بہترین وقت کون سا ہے؟
جواب: جو منزلِ جدید ہے وہ مغرب کے بعد جو ہے نا بہتر ہے کیونکہ رات شروع ہو رہی ہوتی ہے اور یہ چیزیں رات کو ہی زیادہ ہوتی ہیں۔ البتہ اگر مغرب کے وقت آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو عشاء کے بعد کر لیں، تو یہ بھی ممکن ہے۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669)
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! احوال: حضرت جی معمولات الحمدللہ معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ذکر: حضرت جی میرا ذکر ایک مہینے کے لیے 200، 400، 600، ساڑھے 16 ہزار تھا۔ پانچ منٹ کے لیے یہ سوچنا کہ اللہ مجھے محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور اللہ کے فضل اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے مکمل ہو گیا۔ کیفیت میں کچھ خاص تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی، نمازیوں کے جوتے سیدھے کرنے کا مجاہدہ بھی جاری ہے، الحمدللہ۔
(سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024، مجلس نمبر 669)
جواب: اب آپ یہ کریں کہ روزانہ صبح اٹھتے وقت یہ سوچا کریں کہ میں آج لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا کر سکتا ہوں جائز بھلائی کے لیے۔ اور پھر رات کو سونے سے پہلے اس کا محاسبہ کر لیں کہ میں نے کیا کیا ہوا ہے۔ یہ شروع فرما لیں، تقریباً 15 منٹ کے لیے سوچیں کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟ وہ باقی چیزیں وہی رہیں گی ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم! حضرت آپ نے جو اذکار دیے تھے ان کو ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے، الحمدللہ۔ لیکن کچھ دن اذکار کی تعداد مکمل نہیں کر سکا، مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔ {لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ} 200، {لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ} 400، {حَقْ} 600 اور {اَللہُ} 13 ہزار۔ اس کے ساتھ پانچ منٹ تصور کرنا کہ دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے لیکن حضرت ابھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ دل اللہ کر رہا ہو۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: تو آپ اس طرح کر لیں کہ پھر {اَللہُ، اَللہُ} جو ہے نا ساڑھے 13 ہزار کر لیں اور یہ باقی وہی چیزیں رکھیں۔
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میرا Month complete ہو گیا ہے، مراقبہ کا بتانا تھا آپ کو، پانچ پانچ منٹ چار لطائف پہ اور لطیفہ خفی کے اوپر خاص فیض، لطیفہ خفی کے اوپر خاص فیض 15 منٹ کا۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: یہ میرے خیال میں تھوڑی سی آپ سے غلطی ہوئی ہے، یہ پانچ پانچ منٹ جو ہے نا وہ سب لطائف پر ہے، چار لطائف پر۔ اور 15 منٹ جو ہے نا وہ آپ کا لطیفہ خفی پر وہ خاص فیض والا نہیں ہے، یہ بھی اللہ اللہ والا ہے۔ اگر وہ خاص فیض والا ہے تو دل کے اوپر ہوتا ہے اور اس کے بعد ہوتا ہے یعنی پانچ لطائف کے بعد۔
سوال: السلام علیکم حضرت! آپ نے ایک ماہ کے لیے مجھے 20 منٹ کا مراقبہ دیا، تصور کرنا میرے دل "اللہ اللہ" کر رہا ہے۔ ابھی تک مجھے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: آپ اس کو جاری رکھیں اور ناغہ بالکل نہ کریں۔
سوال: اگر خانقاہ میں وقت لگانے کے لیے آنا ہو تو اپنے ساتھ کیا کیا سامان لانا ہوتا ہے؟جواب: سامان یہ ہے کہ موسم کے لحاظ سے اگر آپ کو، کوئی اپنے ساتھ بستر لانا چاہے تو لائیں اور ضرورت کا جو آپ کے اپنی ذاتی ضرورت کے سامان ہوں وہ لے آ سکتے ہیں۔ بہرحال یہاں Foam تو مل جاتا ہے، Foam نیچے بچھانے کے لیے، لیکن ویسے مطلب اپنے طور پہ لوگ بعض اپنی چیزیں اپنے ساتھ رکھتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ لے آئیں۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرتِ اقدس، مزاج بخیر و عافیت ہوں گے۔ بندہ کی اہلیہ کو جو ذکر دیا تھا اس کے ایک مہینہ بلا ناغہ پورا ہوا اور وہ یہ تھی پانچ منٹ تک "اللہ اللہ" کا مراقبہ جو کہ محسوس ہوتا ہے، (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: ما شاء اللہ! اب اس کو 10 منٹ کے لیے دل کا بتائیں اور 15 منٹ کے لیے لطیفہ روح کا بتائیں۔ لطیفہ روح اگر آپ کو معلوم نہ ہو تو بتا دیں میں بتا دوں گا ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میرا نام فلاں ہے، میرا ذکر 200، 400، 600 اور 1000 ہے، ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے مزید رہنمائی فرمائیں۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: اب 200، 400، 600 اور 1500 کر لیں۔
Question: Assalamu Alaikum. I pray you are well, dear Sheikh. I wanted to ask a question about understanding of Tasawwuf. Why is understanding Tasawwuf (Fahm-ut-Tasawwuf) important and what benefits are there for the Salik in its understanding? Also, how deep should a Salik try to understand it because Tasawwuf is obviously a practical field! Jazakallah Khair. A humble request for your Duas. (Sawala Jawab Majlis 15 April 2024, Majlis No 669)
جواب: ماشاء اللہ بڑی اچھی بات ہے آپ نے یہ سوال کیا۔ اصل میں فہم التصوف جو ہے یہ اس لیے ضروری ہے کہ آج کل فتنوں کا دور ہے اور فتنوں کے دور میں تصوف کو مختلف رنگوں میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں بعض بالکل ہی غلط ہیں۔ تو اگر وہ کسی کو معلوم نہ ہو تو ان کی ساری کوششیں پریکٹیکل جو ہیں وہ رائیگاں چلی جاتی ہے۔ ہاں جی! مثلاً کوئی آدمی کشف کو ضروری سمجھتا ہے، اب وہ کشف کو ہی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو، تو اس کی ساری کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی کیونکہ ظاہر ہے کشف تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ کچھ چیزیں اختیاری ہوتی ہیں وہ اس کی کوشش جیسے معاملات کی صفائی ہوتی ہے وہ اختیاری چیز ہے، لیکن اس کی پرواہ نہیں کرتا اور کشفوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ اس طرح بہت ساری چیزیں ہیں جس میں غلط فہمی بڑی نقصان دہ ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے آج کل مطلب Understanding اتنی ضروری ہے کہ مطلب یہ ہے کم از کم کوئی اس کو دھوکہ نہ دے سکے اور خود دھوکہ نہ کھا سکے، اس وجہ سے اس کی ضرورت ہے۔
Question: The question I have to
حضرت والا مرشدی یہ ایک سوال ہے نائجیرین ڈاکٹر صاحب کا۔ رہنمائی درکار ہے۔
The question I have to, do with my profession. I am a medical doctor and I am the only one in my hospital. I attend to female clients in clinic. I do ultrasound for pregnant women and perform CS for those who require it. I sometimes being called upon by my midwife to conduct delivery if they failed to do it. All these mean I have to touch them with with gloves without desire. Sir my question is, will all these affect my progress in my training to attain Qurb of Allah Subhanahu Wa Ta’ala. You gave me 40 days Zikr, I am at 15th day of the Zikr. Sir I want you know to, that I always remember you in my five daily prayers. Please Sir kindly pray for my success and pray for me, pay me your tawajjuh. Wassalam Sir. (Sawala Jawab Majlis 15 April 2024, Majlis No 669)
Answer: As far as your Zikr is concerned, I think it's okay, you should continue it and till it becomes 40 days, so then you will inform after that. And as far as this question is concerned, this is regarding Fatwa. So I shall contact some Ulama for this purpose and when they will answer me, I shall inform you Insha’Allah.
سوال: شیخ طریقت حضرت شاہ شبیر کاکاخیل صاحب خلیفہ مجاز عارف باللہ ڈاکٹر صوفی اقبال صاحب مہاجر مدنی دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!شَیْخُنَا امید ہے کہ آپ با عافیت ہوں گے۔ سیدی بندہ عبدالمالک ندوی دہلی سے ہے، بندہ نے سوشل میڈیا پر آپ کے بیانات سنے اور آپ کی تصنیفات و تالیفات سے استفادہ کیا، تو آپ سے قلبی مناسبت محسوس ہوئی اور دل میں آپ سے روحانی رشتہ جوڑنے کی خواہش ہوئی۔ بندہ سوشل میڈیا پر آپ کے بیانات سے استفادہ کرتا ہے، آپ کے بیانات و تحریریں واقعی چشم کشا اور معلومات افزاء ہوتی ہیں اور سامعین کے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ خاص طور پر تصوف کے حوالے سے آپ کے مضامین قرآن و سنت پر مبنی اور نفع بخش ہوتے ہیں۔ واقعی یہ ہے کہ اس دور میں حقیقی تصوف کو عام کرنے والے خال خال ہی لوگ ملتے ہیں ورنہ اکثر غیر مستند باتیں ہی نشر کرتے ہیں۔ سیدی بندہ اہلِ اللہ اور مشائخ طریقت سے قلبی محبت رکھتا ہے۔ بندہ کا بیعت و ارشاد کا تعلق شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ عبدالقادر مظاہری گجراتی سے رہا ہے۔ الحمدللہ چار سال سفر و حضر میں آپ کی رفاقت رہی، حتّی المقدور استفادہ کیا، انہوں نے احقر کی نالائقی اور نااہلی کے باوجود سلاسل اربعہ عالیہ چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ، سہروردیہ میں اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ ان کے علاوہ عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ منیر احمد کالینا ممبئی نور اللہ مرقدہ، شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا فرید الدین دیوبندی خلیفہ حکیم الاسلام حضرت مفتی مظفر حسین سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اجازت و خلافت کی نعمت حاصل ہے۔ سیدی بندہ کو اکابر مشائخ کی نسبتوں کی بہت قدر ہے، بندہ کا خیال ہے کہ اکابر سے وابستہ رہنے سے نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اور ایمان پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔ سیدی چونکہ آپ شیخ المشائخ حضرت صوفی محمد اقبال مدنی مہاجر کے سلسلہ میں نسبت و اجازت حاصل ہے۔ اس طرح حضرت اقدس تنظیم الحق حلیمی سمیت دیگر متعدد مشائخ کے سلسلہ میں بھی نسبت کے بھی امین ہیں۔ خواہش ہے کہ آپ کے سلسلے کی فیوض و برکات اس ناکارہ کو نصیب ہوں، آپ اس ناکارہ پر دستِ شفقت فرما دیجئے گا۔ اکابر کا شیوہ ہے کہ چھوٹوں پر شفقت کرنا، اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آپ کے فیضانِ روحانی کو چار دانگِ عالم میں عام فرمائے۔ حق تو یہ تھا کہ آپ کی خدمت میں براہِ راست حاضر ہو کر استفادہ کرتا لیکن بعدِ مکانی کی بنا پر اس سے محروم رہا ہوں۔ بندہ دہلی میں قرآن پاک کی تعلیم میں مشغول ہے، اسکول کے طلباء پر زیادہ فوکس ہے، ان کے عقیدہ و ایمان کے سلسلے میں زیادہ محنت ہو رہی ہے۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مبارک محنت کے لیے قبول فرما دے۔ طلباء کے اوپر بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، سٹوڈنٹس پہ، نوجوانوں پر۔ اس وقت نوجوانوں میں بہت زیادہ بداخلاقیاں اور مطلب اعمال کے لحاظ سے غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں قصداً۔ اور لوگ نشوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، تو اس کو دور کرنا یہ آپ کی اور ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا بھی یہی کام تھا، یونیورسٹی میں تھے۔ یونیورسٹی میں ماشاء اللہ ان سے ہم سب نے استفادہ کیا اور وہ اصل میں ماشاء اللہ سٹوڈنٹس کے درمیان سٹوڈنٹس ہی کی طرح کام کرتے تھے اور ان کے ساتھ گپ شپ میں بہت ساری باتیں ان کو پہنچاتے تھے۔ تو آپ اگر چاہیں تو ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو مقالے ہیں وہ ان شاء اللہ میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو میں Send کر دوں، آپ ان سے استفادہ کریں اور ماشاء اللہ سٹوڈنٹس کے اندر کام کریں اور اس طریقے سے آپ کو ہمارے سلسلے کے برکات نصیب ہوتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ میں آپ کے لیے دعا گو ہوں اور آپ میرے لیے بھی دعا کریں اور مجھے بھی اپنے دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ رکھے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
تو یہ بات تو ہو گئی ہمارے خیال میں، تو ابھی اگر کچھ سوال آپ حضرات کرنا چاہتے ہیں تھوڑا ٹائم تو ہے، کر سکتے ہیں۔ حرین کر سکتے ہیں یا کوئی باہر سے بھی اگر کوئی سوال کرنا چاہتا ہو تو وہ ابھی فون وغیرہ پہ کر سکتے ہیں یا واٹس ایپ پر کر سکتے ہیں۔
سوال: حضرت رمضان شریف میں قرآن پاک سنانے کا سلسلہ ہوتا رہا، تو اس میں یہ ہوا کہ کچھ ناغے رہ گئے ذکر میں۔ ذکر بالجہر تو چلتا رہا لیکن جو باقی لطائف کے تھے اس میں ناغہ رہ گیا تھا۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: بس اس کو شروع فرما لیں اور مطلب یہ ہے کہ کوشش کر لیں کہ اس سے اس کی تلافی ہو جائے۔ بہرحال رمضان شریف میں تو قرآن پاک کے انوارات اللہ تعالیٰ نے نصیب فرما دیے، یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ البتہ یہ جو ذکر تو جہاں سے ناغے ہوئے ہیں وہیں سے آپ شروع فرما لیں، ان شاء اللہ واپس ہو جائیں گے۔
سوال: حضرت دو باتیں پوچھنی تھیں، ایک تو ہمیشہ بس ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ایسے میرے گردے ختم ہو جائیں گے، بیماری لگ جائے گی، بیوی بچوں کا کیا بنے گا؟ یہ پریشانی ذہن سے نکلتی نہیں ہے، زیادہ تر تو یہ رہتی ہے۔ ایک تو اس کا کچھ بتا دیں اور دوسرا ذکر بھی پوچھنا تھا، وہ مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ 200 دفعہ ہے، 200، 400، 600 اور 300 دفعہ۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: ذکر تو 200، 400، 600 اور 500 دفعہ کر لیں اور باقی ایک آیت کریمہ ہے وہ {وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ} (غافر: 44)، اس کو جو ہے نا آپ 111 مرتبہ پڑھیں اور مطلب یہ جو ہے نا وہ ہر نماز کے بعد گیارہ دفعہ {سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ} (یس: 58)، یہ پڑھ لیا کریں تاکہ بلاوجہ جو وساوس ہیں وہ مطلب یہ نہ آئے۔ یہ بلاوجہ وساوس شیطان صرف ڈراتا ہے۔ {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ} (البقرۃ: 268) شیطان تمہیں جو ہے نا وہ فقر سے ڈراتا ہے، تو وہ تو اس کا کام ہی یہی ہے، تو کبھی آپ کو بیماریوں سے ڈرائے گا، کبھی فقر سے ڈرائے گا، کبھی کس چیز سے ڈرائے گا، کبھی کس چیز سے ڈرائے گا، تو آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔
سوال: 111 دفعہ کتنا ٹائم کرنا ہے جو 111 دفعہ ہے؟ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: یہ ابھی مطلب چلتے رکھیں جب تک کہ آپ ان شاء اللہ بیمار اس چیز سے نکل جائیں گے پھر چھوڑ دیں، ٹھیک ہے ابھی فی الحال آپ کرتے رہیں۔
سوال: شیخ صاحب میرا یہ سوال ہے کہ جیسے اذان ہوتی ہے ہم ان کا جواب دیتے ہیں ساتھ کے ساتھ نا، جیسے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" اس میں ہم کہتے ہیں کہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"۔ تو اسی طرح جیسے فجر کی اذان ہوتی ہے تو اس میں "اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ" ہے اس کی جگہ کیا کہا جائے؟ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: "صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ"۔ آپ نے سچ کہا اور ٹھنڈک پہنچائی۔
سوال: حضرت یہ ایک چیز یہ دیکھی، دیکھنے میں آئی ہے کہ جب آپ اللہ کے رستے میں چل رہے ہوتے ہیں، چاہے جس طرح سے بھی نا، تو بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں، ملتے ہیں جو مایوسیاں پھیلاتے ہیں۔ مثلاً مسجد میں ہوں یا تصوف میں ہوں یا وہ ایسی سی باتیں کرتے ہیں نا جس طرح ایک بندہ بعض بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں بندہ بہت آگے، بعض مایوسیاں اتنی پھیلا دیتے ہیں کہ وہ پھر دائیں بائیں دیکھتا ہے۔ مثال کے طور پر جس لائن پہ آپ چل رہے ہیں وہ اس میں جو غلط قسم کے لوگ ہیں ان کو بھی سامنے لے آتے ہیں کہ دیکھیں فلاں آدمی تھا اس نے یہ کیا، وہ غلط آدمی تھا، فلاں غلط آدمی تھا۔ آپ اس میں چل کے کون سے تیر چلا لیں گے؟ تو یہ بعض دفعہ انسان مایوس ہو جاتا ہے لیکن وہی بات ہے اللہ کا راستہ تو حق اور سچ ہے، یہ ایک۔۔۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: دیکھیں بات سنیں! اگر کوئی غلط کام کر رہا ہے تو اس غلط کام کی وجہ سے یہ تو نہیں کہ جو صحیح کام کرنے والے ہیں وہ بھی کام کرنا چھوڑ دیں۔ بلکہ اس وقت تو صحیح کام کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا! بازار میں اگر لوگ غلط طریقے سے تجارت کر رہے ہوں تو صحیح تجارت کرنے والوں کو ثواب و اجر بھی زیادہ ملے گا، تو ان کی کوششوں میں اللہ تعالیٰ مدد بھی بہت فرمائیں گے۔ تو اس وقت تو زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ مطلب یہ تو عجیب بات ہے کہ مطلب یہ ہے کہ بروں کی وجہ سے اچھے بھی اپنا کام چھوڑ دیں، کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہے؟ دنیا میں تو اس طرح نہیں کرتے تو پھر دین میں اس طرح کیوں کرتے ہیں؟ یہ صرف اور صرف شیطانی وساوس ہیں کیونکہ شیطان جو ہے نا مختلف لوگوں کو استعمال کرتا ہے، کبھی بھائی کو کرے گا، کبھی ماں کو کرے گا، کبھی باپ کو، کبھی دوست کو، کبھی یار مطلب جس کو جس طریقے سے بھی وہ کرتے ہیں کیونکہ شیطان کا کام مایوسی پھیلانا ہوتا ہے۔ مایوسی شیطان کا کام ہے۔ اور ہمت دلانا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اللہ جل شانہٗ ہمت دلاتا ہے۔ اور نیک لوگ جو ہوتے ہیں یہ بھی ہمت دلاتے ہیں۔ تو باقی یہ ہے کہ ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، ہم لوگ ان کے لیے تو کام نہیں کر رہے، ہم تو اللہ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اللہ کے لیے جو کام کرتے ہیں اگر وہ ناکام بھی ہو جائیں تو ناکام نہیں ہیں۔ بزرگوں نے اس کے لیے جو شعر پڑھا ہے وہ یہ ہے:
مے خانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے
مے خانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ یعنی کام شروع کر لے اور بالکل ناکام ہو جائیں، پھر بھی وہ اللہ کے ہاں بہت بڑا انعام پائیں گے کیونکہ وہ یہاں کے لیے تو کام نہیں کیا تھا، انہوں نے تو اللہ کے لیے کام کیا، تو اللہ تعالیٰ تو الحی القیوم ہیں، لہذا مطلب اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ بعض پیغمبر ایسے ہیں جنہوں نے ابھی بس بعثت کا اعلان ہی کیا تھا کہ ان لوگوں نے ان کو شہید کر دیا۔ تو کیا وہ پیغمبر نہیں رہے؟ ظاہر ہے پیغمبر ہیں ان کا مقام تو ویسا ہی رہا۔ تو اس طرح مطلب ہے باقی یہ ہے کہ جو مطلب یہ ہے کہ جو ہم کہتے ہیں خراب لوگ ہیں، تو خراب لوگوں کا علاج یہ ہے کہ اور اچھے لوگوں کو Produce کرو۔ تاکہ وہ غالب آ جائیں۔ اس کی وجہ سے مطلب مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ مایوسی شیطان پہ ہے، {لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ} (الزمر: 53) یہ جو ہے نا مطلب اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، ہمیں ہمت سے کام کرنا چاہیے۔
سوال: شیخ صاحب یہ جو نماز کے جو بنے ہوئے ہیں اوقات تو اس میں جیسے اشراق سے پہلے وہ دیا ہوا ہے جیسے آپ کو وہ ہے تو شاید یہ وہ تو نہیں ہے جو پہلے جیسے وہ بزرگ جو ہوتے تھے وہ اس وقت میں آدھے سر کا جو درد ہوتا تھا اس کا علاج کرتے تھے، چائے کی چھننی جیسے آٹا چھننی نہیں ہوتی!وہ لگا کر اس کا کوئی علاج۔۔ وہ والا یہ ٹائم تو نہیں ہے آدھا ایک منٹ دیا ہوا ہے آپ کے اس میں؟ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: وہ عامل لوگ کرتے تھے، بزرگ نہیں کرتے تھے عامل لوگ کرتے تھے۔ عامل لوگ تو شاید اب بھی کرتے ہوں گے۔ لیکن ہمارا عملیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سائل: تو یہ اس وقت مطلب اشراق کا نماز پڑھ سکتے ہیں؟جواب: اشراق کی نماز اس وقت پڑھ سکتے ہیں جب اشراق کا وقت داخل ہو جائے یعنی مکروہ وقت ختم ہوجائے۔ مکروہ وقت جو ہوتا ہے یہ سورج طلوع ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور تقریبا یہ 12 13 منٹ کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ بہر حال اس میں جو اشراق کا وقت لکھا ہے وہ اصل میں یہی ہے کہ اس پہ وہ مکروہ وقت ختم ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ اچھی چیزوں کو بھی بعض دفعہ ترک کرنا پڑتا ہے مجبورا، کیونکہ اس کے ساتھ اور بہت ساری چیزیں Confusing ہو جاتی ہیں۔ مثلاً بزرگوں نے بعض دفعہ عملیات کیں تاکہ لوگ برے عاملوں کے پاس نہ چلے جائیں۔ لیکن وہ چیز اتنا عام ہو گیا کہ اب لوگ پیروں کو عامل سمجھنے، عامل کو پیر سمجھنے لگے۔ تو ان کے لیے ہم جیسے لٹھ قسم کے لوگ بھی چاہیے جو فرق کر لیں کہ بھئی پیر پیر ہوتا ہے، عامل عامل ہوتا ہے، ہم عامل نہیں، وہ پیر نہیں۔ مطلب یہ فرق واضح ہونا چاہیے تاکہ جو ہے نا یہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ وہ مجھے بعض دفعہ کوئی فون پہ بات کرتے ہیں نا، تو کوئی اپنا کوئی نفسیاتی مسئلہ بتا دے، میں نے کہا بھئی میں نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ہوں۔ کوئی عملیات کے بارے میں کچھ بات کریں، میں کہتا ہوں بھئی میں عامل نہیں ہوں۔ کوئی اپنی کوئی بیماری بتائے، میں نے کہا بھئی میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔ مجھ سے تو اگر بات کرتے ہو اصلاح کے لیے کر لو۔ اصلاح اگر آپ چاہتے ہو تو بسر و چشم حاضر ہیں، الحمدللہ۔ اس کے لیے بزرگوں نے ہمیں بٹھایا ہے۔ باقی ذمہ داریاں ہماری نہیں ہیں۔ ہاں جی! اس کے لیے ڈاکٹر موجود ہیں، اس کے لیے ماشاء اللہ یعنی جو اچھے نیک عامل ہیں وہ موجود ہیں، وہ آپ کام کریں، مطلب وہ اپنا اپنا کام کریں۔ ہم لوگ جو ہے نا صرف اور صرف ایک ہی چیز کے لیے ہیں اور وہ کیا ہے؟ جو بندہ اخلاص سے اپنی اصلاح کے لیے آتا ہے، ان کی خدمت ہمارے ذمہ لازم ہے اگر وہ ہمارے پاس آتا ہے۔ یہ کوشش ہم کر سکتے ہیں اور یہ ایسی چیز ہے میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ چیز سمجھ تو نہیں آئے گی جو میں تو عرصہ دراز سے باتیں کر رہا ہوں لیکن سمجھ لوگوں کو نہیں آتی، تو شاید ابھی بھی سمجھ میں نہ آئے لیکن بات تو میں کرتا ہوں۔ اگر آپ کی اصلاح ہو جائے تو آپ کا "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھنا، عاملوں کے چلوں سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ صرف "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھنا، وہ آپ کا عاملوں کے چلوں سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ کیونکہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" میں جو طاقت ہے، وہ ان کے پاس نہیں ہے۔ لیکن آپ اپنے آپ کو بنائیں تو سہی نا۔ لیکن اس میں یہ نیت نہ کریں کہ میرے بسم اللہ میں طاقت آ جائے کیونکہ پھر وہ عملیات کی نیت ہو جائے گی۔ آپ نے صرف اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لو، جب اللہ کے ساتھ تعلق، "بسم اللہ"، بسم اللہ "ب" اور "س" میں آپس میں ملے ہوئے ہیں، یہ تو "باسمِ اللہ" ہے نا، مطلب ہے اس کو ملا دیا گیا "بسم اللہ" ہو گیا۔ تو وہ جو ہے نا اس طرح جس طرح ملے ہوئے ہیں، تو اس طرح اپنا تعلق جوڑ دو اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ اب جب ہو جائے گا تو بس اس میں پھر یہ طاقت آ جائے گی۔ پھر سبحان اللہ، پھر ماشاء اللہ پھر کیا چیز ہے یہ، اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ تو یہ جو مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ شروع کھانے میں شروع کر لیں بسم اللہ سے شروع کر لیں، کپڑے پہننا شروع کرو، کوئی اور نیک کام کرنا شروع کر دیں بسم اللہ سے شروع کر لیں، تو آخر کیوں ہے؟ کیونکہ اس میں ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی ضرورت ہے۔ تو یہ ہم اگر ہم صحیح معنوں میں، اس طرح دیکھیں نا ہم کہتے ہیں "سبحان اللہ"، اس "سبحان اللہ" میں طاقت آ جائے کہنے میں۔ "الحمدللہ" کہنے میں طاقت آ جائے، "اللہ اکبر" کہنے میں طاقت آ جائے، جو صحیح معنوں میں ادا ہو، دل سے ادا ہو اور آپ کا اس پر یقین ہو۔ تو پھر یہ چیزیں ایسی ہوں گی کہ سبحان اللہ یہ پھر کہاں سے کہاں ہی آپ کو پہنچا دیں گے۔ لیکن میں نے اس لیے کہا کہ بھئی نیت ان کی نہیں کرنی اس طرح، نیت تو کرنی ہے اللہ تعالیٰ کے تعلق کی، وہ تو پھر اللہ تعالیٰ خود ہی ڈال لیتے ہیں: {مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللهُ لَهٗ} جو اللہ کا ہو گیا اللہ اس کا ہو گیا، تو اللہ کی ساری خدائی اس کے لیے استعمال ہوتی رہے گی پھر۔ پھر کوئی پریشانی نہیں ہے، پریشانی اس وقت ہے جب اس سے دور ہے۔ پھر شیطان سوار ہو جاتا ہے، نفس سوار ہو جاتا ہے، اس کے ساتھ پھر مسائل ہونے لگتے ہیں۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔
سوال: شیخ صاحب ایک جیسے مسجد بنی ہوئی ہے نا، پر وہ گورنمنٹ کی زمین پر بنی ہوئی ہے غصب کر کے۔ جی! تو اس میں مطلب نماز، بس عبادت کر سکتے ہیں؟ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، یہ چونکہ میں بہت دور ہوں مجھے تو پتا نہیں کہ وہ کیا معاملہ ہے۔ اصل میں جو لوگ باتیں کرتے ہیں وہ اپنی اپنی سوچ کے مطابق کرتے ہیں، حقیقتِ حال کیا ہے وہ تو اللہ کو پتا ہے نا۔ تو اس علاقے کے جو مفتیانِ کرام ہیں، صحیح مخلص مفتیانِ کرام، ان سے اس کے بارے میں پوچھو وہ تحقیق کر کے بتائیں کہ کیا بات ہے۔ پھر اس میں مسئلہ بھی معلوم ہو جائے گا۔
سوال: وہ مطلب کراچی بنوریہ سے مطلب آیا تھا، انہوں نے کہا کہ صحیح نہیں ہے۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: بس پھر ان کے اوپر عمل کرو۔ مطلب ظاہر ہے اس میں میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے کیا پتا کہ وہ کیا چیز ہے۔ مطلب میں اس کے بارے میں نہیں جانتا، وہ لوگ جانتے ہیں جو، جو لوگ وہاں اس کو دیکھ چکے ہیں، ان کے حالات ان کو معلوم ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ دشمنیاں بھی کر لیتے ہیں نا، تو اپنی طرف سے بات بنا لیتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ایسی بات کی ذمہ داری ہم کیوں لیں۔
سوال: تو اب اس علاقے کے جو ابھی عالم ہیں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین تو مطلب اللہ کی ہے، کہاں، یہ ہر جگہ مطلب۔ (سوال جواب مجلس 15 اپریل 2024 ، مجلس نمبر 669)
جواب: پھر آپ ہر ایک کے گھر پہ قبضہ کرو نا پھر، پھر پتا چل جائے گا، کر کے دکھاؤ، ہے کہ زمین تو ساری اللہ کی ہے۔ مسجد نبوی کیسے بنی تھی، وہ پھر اس کا دیکھ لو۔