اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
معزز خواتین و حضرات اس وقت ہم اعتکاف میں ہیں مرحبا مسجد کری روڑ راولپنڈی میں اور یہ جو ہمارا معمول ہے یہ ہمارا عام معمول ہے جو کہ چلتا رہا ہے یعنی یہ اعتکاف بغیر اعتکاف کے چلتا رہتا ہے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ معمولات میں کوئی رکاوٹ نہ آئے چاہے باہر ہوں چاہے ادھر ہوں اس وجہ سے کہ لوگ عادی ہوتے ہیں ایک معمول کے اور عادی ہونا بڑا مشکل کام ہے لیکن عادی ہو جائے اور پھر اس کے عادت ٹوٹ جائے دوبارہ عادت بننا بڑا مشکل ہوتا ہے تو یہ اس وجہ سے ہمارا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے تو اگرچے اعتکاف ہے لیکن وہ معمول ہمارا یہاں پر موجود ہے تو آج پیر کا دن ہے پیر کا دن ہمارے یہاں سوالوں کے جوابات دیئے جاتے ہیں یا ان کے جو سالکین ہوتے ہیں سالکات ان کے احوال کی تحقیق بتائی جاتے ہیں
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللّٰه و برکاتہ حضرت جی اللّٰہ پاک سے آپ کی صحت و تندرستی کے لئے دعاگو ہوں حضرت جی میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہفتے کے روز ذکر کے دوران کچھ غنودگی سی طاری ہوئی اس دوران دیکھا کہ ایک سیاہ رنگ کا کتا میری طرف آیا ہے اور بجائے اس کے میں اسے بھگا دے دوں میں اسے چمکارنے شروع کر دیتا ہوں اور پیار کرتا ہوں اس کے علاوہ جب یہ خبر ملی کہ اس مرتبہ اعتکاف جہانگیرہ کے بجائے مرحبا مسجد میں ہو گا تو دل پہ بہت بوجھ سا محسوس ہوا بہت کوشش کر کے اپنے آپ کو راضی کیا کہ جہاں حضرت جی اعتکاف کرنا چاہتے تو میں بھی وہیں پہ راضی ہوں برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں اللّٰه پاک آپ کو اور آپ کے جملہ متعلقین کے درجات کو بلند فرمائے اور بہترین اجر عطا فرمائے
جواب: یہ اصل میں جذبہ ہے جذباتی تعلق ہے کسی جگہ کے ساتھ تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے البتہ عمل تو اس پر ہو گا جو شریعت اور عقل کے مطابق ہو یعنی عام طور پر عقل کے مطابق اگر شریعت کی مخالفت اس میں نہیں ہے اور اگر شریعت کی بات بھی اس میں دوسری ہو تو پھر شریعت کے مطابق چلے گی تو یہاں تو شریعت کی بات ہے نہیں ہر جگہ اعتکاف کرنا درست ہے وہاں بھی درست ہے یہاں بھی درست ہے لہذا شریعت کی بات تو نہیں عقل کی بات یہاں پر ہو سکتی ہے اور وہ یہ بات ہے کہ اصل میں جو اصلاحی اعتکاف ہے اصلاحی اعتکاف میں تو اپنی اصلاح مد نظر رکھنی ہوتی ہے اپنی پسند مد نظر نہیں رکھنی ہوتی ہے لہذا آپ نے اچھا کیا کہ اپنی پسند کو مد نظر نہیں رکھا اور اپنی اصلاح کو مد نظر رکھا اور یہی کرنا چاہیے تھا اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے البتہ جو خواب ہے اس کے بارے میں آپ کو private نمبر پر جواب دوں گا ان شاء اللّٰه کیونکہ خوابوں کو ہم یہاں پر نہیں gradually بتایا کرتے اور اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کی دعاؤں کو قبول فرمائے
سوال: السلام علیکم 40 دن کا بلاناغہ ابتدائی معمولات کا وظیفہ مکمل کر لیا آج
جواب: ماشاء اللّٰہ بڑی اچھی بات ہے اللّٰہ پاک نے بڑا فضل فرمایا کہ آپ نے اس کو مکمل کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں شیطان بہت زور دکھاتا ہے کہ یہ مکمل نہ ہو تو اکثر ہم کہتے رہتے ہیں کہ اس میں آپ نے مقابلہ کرنا ہے اور یہ شیطان کی بات نہیں کرنی تو اللّٰه پاک توفیق دے دیں ایک تو رمضان شریف کا مہینہ تھا تقریبا یعنی 18 19 دن تو رمضان شریف کے مل گئے ہیں اس میں تو شیطان قید ہوتا ہے باقی آپ ہمت کی الحمد للّٰہ تو ابھی آپ اس طرح کر لیں کہ تیسرا کلمہ درود شریف اور استغفار یہ 100 100 دفعہ یہ تو روزانہ کیا کریں اور یہ تو عمر بڑھ رہے گا اس کے علاوہ جو آپ کو card پر بھیجا تھا اس میں جو وظیفہ تھا ہر نماز کے بعد کرنے کا وہ بھی ساری عمر کرنا ہے اور ابھی آپ 10 منٹ کے لئے آنکھ بند زبان بند قبلہ رخ بیٹھ کے یہ تصور کرنا کہ میرا دل اللّٰه اللّٰه کر رہا ہے آپ کروا نہیں سکتیں نہ کروانے کی کوشش کریں لیکن جب خود سے ہونے لگے تو آپ کو پتا چلنا چاہئے آپ کی غفلت کی وجہ سے یہ miss نہیں ہونا چاہئے تو بس اتنا آپ کا کام ہے کہ آپ توجہ رکھیں کہ اگر ہو ہو رہا ہو تو آپ کو پتا چلے اور نہیں ہو رہا ہو تو پرواہ نہ کریں یا بس اس کے انتظار میں بیٹھیں تو یہ 10 منٹ روزانہ کوئی وقت مقرر کر کے آپ اس کو ایک مہینہ کریں پھر مجھے اطلاع کر دیں
سوال: السلام علیکم
جواب: یہ کوئی private بات ہے تو اس کو پھر private نمبر پر send کریں گے عید کے بعد ان شاء اللّٰه
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللّٰه و برکاتہ حضرت اگر کسی گھر کے ماحول میں اثرات ہوں مثلا شرپسند عناصر ٹی وی اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے ساتھ ساتھ جادو اور تعویزوں کے بھی اثرات ہوں اور ہر وقت دیندار لوگ اور علماء کرام کے خلاف بولتے ہوں تو اس ماحول میں اپنی بات کس طرح کی جائے
جواب: یہ بات آپ نے بہت اچھی بتائی ہے یہ ٹیلی ویژن ہے ناں نا ٹیلی ویژن اور یہ موبائل کے اوپر جو بد نظری ہے یہی تو اثرات کو دعوت دیتی ہے کیونکہ اس سے حفاظت ٹوٹتی ہے انسان کی جو عام عمومی حفاظت ہوتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے تو پھر جو ادھر ادھر کی چیزیں ہوتی ہیں ان کو موقع مل جاتا ہے attack کرنے کا ہاں جی تو اپنے آپ کو انسان آسان معمول بنا لیتے ہیں ایسی چیزوں کے تو اس چیزوں سے بچنا تو ویسے بھی ضروری ہے اگر اپنی حفاظت کوئی چاہتا ہے دوسری بات تعویزات اور اس چیزوں کے جو اثرات ہیں ان کو دور کرنے کے لئے ہمارے جو منزل جدید ہے اسی کے لئے ہے کہ منزل جدید اس کو باقاعدگی کے ساتھ مغرب کے بعد پڑھا جائے تاکہ یہ اثرات ختم ہوتے رہیں ورنہ پھر یہ ہے کہ یہ جڑ پکڑ لیں تو پھر پھر اتارنا آسان نہیں ہوتا مشکل ہوتا ہے لہٰذا باقاعدگی کے ساتھ ہمارا کام کیا ہے ہم مسئلہ کیا مسئلہ کیا ہوتا ہے جس وقت امن کی حالت ہو ناں اس وقت تو ایسا نہیں کرتے یعنی حفاظت کے ؤجہ سے نہیں کرتے تو پھر جب ہو جائے ناں تو پھر اس کا نکالنا تو پھر ذرا specialisation ہے ناں اس میں تو ہاں جی تو اس کے لئے اسی سے نکل سکتے ہیں لیکن طریقہ کار ہے وہ اس کا اس طریقے سے کرنا ہوتا ہے ہاں جی تو اس وجہ سے ہم لوگ کو یہ جو منزل جدید دی گئی ہے الحمد للّٰہ یہ اللّٰہ کا بڑا بہت فضل ہے اس کو جب ہمیں جب تک ملا ہے میں اس کا ناغہ نہیں کرتا الحمد للّٰہ میں کل بھی میں نے پڑھا ہے ہاں جی تو مطلب یہ ہے کہ میں بھی خود بھی اس کا ناغہ نہیں کرتا میں روز پڑھتا ہوں ہاں جی کل تراویح جب شروع کر رہے تھے 10 بجے تو 10 منٹ کم 10 پہ آ گئے ہیں ناں میں آ گیا تو میں نے دیکھا 10 منٹ ہے تو اس میں میں نے منزل جدید پڑھ لی پھر اس کے بعد ہم تراویح شروع کر لی تو مطلب یہ ہے کہ یہ اپنی حفاظت ہے گھر کی حفاظت ہے اپنی حفاظت ہے تو اس کو باقاعدگی کے ساتھ پڑھا کریں تاکہ کم از کم اپنی حفاظت ہو اللّٰه تعالیٰ ہم سب کو بھی نصیب فرمائے
سوال: السلام علیکم حضرت امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے سوال عورتیں جو مکہ میں عمرہ یا حج کرنے جاتی ہیں کیا ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے سارے نماز حرم میں جا کر ادا کریں یا وہ گھر یعنی اپنے ہوٹل میں کمرے میں نماز ادا کر سکتی ہیں افضل کیا ہے قرآن حدیث کی روشنی میں تفصیلا رہنمائی کریں
جواب: آپ نے سوال افضل کا کیا ہے تو بتا دیتا ہوں آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ عورت کا گھر میں نماز میری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ہاں جی اور گھر میں صحن میں صحن سے زیادہ برآمدے میں اور برآمدے سے زیادہ کمرے میں افضل ہے یعنی اس کے لیے جو حجاب کے احکامات ہیں وہ بہت زیادہ ضروری ہیں جہاں تک حرم شریف کے اپنے حصے تھے وہاں مکہ مکرمہ کی حرم شریف کی وہاں خانہ کعبہ ہے تو خانہ کعبہ جو ہے صرف نماز کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ خانہ کعبہ کو جو دیکھنا ہے مطلب طواف ایک پہلا تو اس میں طواف ہے وہ جس میں ہم بتاتے ہیں 60 حصے ہیں جو نیکیاں ہیں وہ جاتی ہیں طواف کرنے والوں کے لیے 40 حصے نماز پڑھنے والوں کے لیے اور 20 حصے صرف دیکھنے والوں کے لیے ہے جو اس کو صرف دیکھتے ہیں تو یہ دیکھنا تو کمرے میں نہیں ہو سکتا لہذا اس کے لیے تو جانا پڑتا ہے ہاں جی لیکن ایسی پردے کی والی جگہ پر جہاں عورتوں کی جگہ ہو وہاں بیٹھ کے وہ دیکھا کریں بہت اچھا ہے اور طواف بھی تو عورتیں بھی تو کرتی ہیں لہذا طواف بھی کرنا ہے البتہ جو نماز ہے وہ تو میں نے بتا دیا افضل جو ہے وہ تو اچھا باقی کچھ ایسی باتیں ہیں جو کہ علماء کرام کرتے ہیں وہاں کے وہاں کے مطلب جو جاننے والے حضرات ہیں وہ یہ ہے کہ وہاں اگر عورت نماز پڑھتی ہے نماز تو اس کے پیچھے مردوں کی نمازیں پھر نہیں ہوتیں ہاں جی مطلب ظاہر ہے کہ عورت اگر آگے ہو تو عورت مرد کے پیچھے تو پھر نماز نہ دائیں طرف نہ بائیں طرف اور نہ پیچھے کتنے مردوں کی نماز خراب ہو جائے گی تو اس وجہ سے وہاں پر اپنی نماز پڑھ لیں وہ بہتر ہے اور یہ جو ہے ناں مطلب پھر اس میں عجیب نقطہ ہے کہ کچھ حضرات نے کہا کہ وہ حضرات وہ اس وجہ سے نیت نہیں کرتے ہیں جو ہے ناں عورتوں کی نماز کی تاکہ ان کا نماز میں جو ہے ناں مطلب وہ مسئلہ نہ ہو وہ جو عورتوں کے لئے اچھا ان کے مسلک پر تو یہ مسئلہ آ بھی جاتا ہے کیونکہ ان کے مسلک میں امام کا جو ہے ناں مطلب عورت کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے ہمارے امام کے نزدیک عورت امام نماز اگر پیچھے پڑھے تو امام کے لئے ضروری ان عورتوں کی نیت بھی کرے کیوں مفتی صاحب تو پھر عورتوں کی نماز ہو گی جب نیت نہ کی ہو خطرے میں ہے ناں تو ایسی چیزوں میں احتیاط کس چیز میں ہے ہاں نہیں پڑھنی احتیاط اسی میں ہے تو بہرحال یہ ہے کہ الحمد للّٰہ یہ ہمارے حضرت مولانا سعد صاحب رحمتہ جو حضرت جی تبلیغی جماعت کے ان کے گھر کے خواتین بھی جب آتیں تو نماز کے وقت ان کو باہر نکلواتے ہاں جی تو اس کا مطلب کیا ہے کہ جو متقی علماء ہیں وہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں اس وقت دور اچھا تھا لوگ مانتے تھے اب مانتے نہیں ہیں مسئلہ یہ ہے اب آپ بے شک مسئلہ بتائیں ناں تو پھر درمیان میں کوئی بات کرے گا اچھا پھر تو ایسی بات ہے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ناں تو ان کو مسئلہ کیا بتایا جائے تو مسئلہ تو ان کو بتائے گا جو مانتا ہو جو صحیح چیز سمجھنا چاہتے ہوں بہرحال اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے اور حق کے مطابق بات کرنے کی بھی وَاٰخِرُ دَعْوَانَا
سوال: السلام علیکم شاہ صاحب امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے میرا ذکر 200 مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ 400 مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو 600 مرتبہ حق اور 100 مرتبہ اللّٰه ہے مکمل ہو گیا مجھے آگے کیا کرنا چاہئے
جواب: آپ اس طرح کر لیں کہ 200 مرتبہ 400 مرتبہ 600 مرتبہ تو اپنی جگہ رکھیں لیکن یہ اللّٰه کا ذکر اب 300 مرتبہ کریں
سوال: السلام علیکم گزشتہ کئی سال سے رمضان میں بہت زیادہ جسمانی اور اعصابی کمزوری ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے غیر رمضان والے اعمال بھی نہیں ہو پاتے اور علاج میں بھی غیر رمضان والی تندرستی نہیں ہو پاتی ہے اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جزاک اللّٰہ
جواب: اس کے بارے میں تو میں کسی ڈاکٹر سے ہی پوچھ سکتا ہوں یہ تو میری field نہیں ہے ڈاکٹر ہوں اور اس کی opinion ہو کیونکہ مریض کی opinion تو مریض ہی ہوتی ہے ناں رَائے عَلِیْلٌ عَلِیْلٌ جو علیل کی رائے ہے وہ علیل ہوتی ہے لہذا اس کے بارے میں تو انسان کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن یہ ہے کہ ڈاکٹر کہہ دے کہ ہاں ایسا ہو جاتا ہے تو پھر ٹھیک ہے پھر اس کے لئے جو گنجائش ہیں شرعی ان گنجائشوں پر عمل ہو سکتا ہے لیکن اپنے طور پر کوئی چیز اپنے ذہن میں کوئی ایسا بنا لینا یہ بعض دفعہ مسئلہ ہوتا ہے
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
Respected حضرت I pray that you are well is there any additional steps or آداب I can do to increase the chance of my لطيفۂ قلب activating as I desire to hear اللّٰه اللّٰه from my heart always and stop being غفلت
جواب:
No it is not غفلت actually you are going step by step ahead Because all the things cannot be given at once even if it is possible It means شیخ can give all the things at once but it will not work It may make problem So therefore you should do whatever you can do This is enough ان شاء اللّٰه
سوال: السلام علیکم میرا لطيفۂ قلب روح سر پر 5 منٹ مراقبۂ ہے خفی پر 10 منٹ اور اخفی پر 15 منٹ یہ سب پر اللّٰه اللّٰه محسوس ہوتا ہے بعض پر ٹھنڈک بھی ہوتی ہے
جواب: ہاں تو ٹھیک ہے آپ اس طرح کر لیں کہ ان سب کے اوپر 10 10 منٹ کرنے کے بعد آپ مراقبۂ احدیت کر لیں مراقبۂ احدیت یہ ہوتا ہے کہ آپ یہ مطلب تصور کر لیں کہ فیض اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کی طرف آ رہا ہے اور آپ ﷺ کی طرف سے شیخ کی طرف آرہا ہے اور شیخ کی طرف سے آپ کے دل پر آ رہا ہے یہ جو ہے ناں یہ آپ تصور کر لیں یہ مراقبۂ احدیت ہے یہ اس کے بعد کریں
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ حضرت جی میں اسلام آباد سے فلاں عرض کر رہا ہوں سب سے پہلے آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ رمضان مبارک کے دوران آپ کے پاس حاضر نہیں ہو سکا حضرت جی ایک لمبے عرصے کے بعد اس رمضان مبارک کی برکت اور آپ کے دعا سے مجھے اپنے معمولات دوبارہ شروع کرنے کی توفیق نصیب ہوئی گزشتہ تقریباً 2 ہفتے سے میں نے اسباق ویسے ہی شروع کر دیئے جہاں سے چھوڑے تھے اس کی تفصیل درج ذیل ہے 200 دفعہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ 400 دفعہ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو 600 دفعہ حق اور 100 دفعہ اللّٰه 15 منٹ کا مراقبۂ ہے حضرت جی اللّٰه کا شکر ہے کہ معمولات کو جاری رکھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی ایک دن ناغہ ہو گیا تھا جو میری اپنی سستی کہ وجہ سے ہوا اذکار کے دوران میں ابھی تک بالکل ویسی ہی تصور اختیار کرنے کو جیسے آپ نے کہا آپ کی ہدایت website پر موجود ہے البتہ توجہ ذکر پر ہی مرکوز رہتی ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو کے اذکار کے دوران میرا تصور الگ الگ نہیں ہوتا بلکہ ایک سا ہوتا ہے یعنی اللّٰه تعالیٰ کی وحدانیت وہ صرف اس کے اور میرے دل میں موجودگی کا تصور ہے اس کے ساتھ یہ تصور بھی قائم ہوتا ہے کہ ذکر میرے دل کے لئے اطمینان کا باعث ہے جیسے کہ قرآن پاک کی آیت ہے حق کے ذکر کے دوران میں یہ تصور قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ میرے دل پر باطل چیز نکل میرے دل سے باطل چیز نکل کر صرف حق کی جگہ بن رہی ہے لیکن میرا صرف تصور جو ذکر کے دوران قائم رہتا ہے وہ یہ ہے کہ حق کے علاوہ سب کچھ non-existent ہے یعنی صرف اللّٰه تعالیٰ کی ذات جس کا ایک صفاتی نام حق ہے اس حق کے علاوہ اور کچھ سارے سے موجود ہی نہیں ہے اگر ہے تو صرف نظر کا دھوکہ ہے حق اگر عیاں نہیں پھر بھی موجود ہے اگر میں حق نے ظاہر اگر آخر میں حق نے ظاہر بھی ہو جانا ہے اور فاتح بھی یہی ultimate truth ہے اس کے علاوہ سب باطل ہے اللّٰه کے ذکر کے دوران مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرے ساتھ 2 لوگ اور ہیں جو میرے اندر ہی موجود ہیں اور میرے ساتھ ذکر کر رہے ہیں ایک مرتبہ تو ایسے بھی محسوس ہوا جیسے لوگوں کا ایک گروپ میری پیچھے بیٹھا ذکر کا کر رہا ہے کبھی یہ کہ میرے سینے کی کسی نقص کی وجہ سے 3 آوازیں سنائی دیتی ہیں 15 منٹ مراقبۂ کو میں پورا نہیں کر پاتا کبھی 10 منٹ کبھی 15 منٹ 12 منٹ اور کبھی اس سے بھی کم آنکھ کھول لیتا ہوں مراقبۂ کے دوران میں توجہ اپنے دل کی دھڑکن پر مذکور ہو جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل کی دھڑکن ہی اللّٰه اللّٰه کا ذکر کر رہا ہے لیکن پھر کہ گمان ہوتا ہے کہ یہ تو دھڑکن کی آواز ہے گزشتہ 2 دن سے اس دھڑکن کی آواز یا محسوس کیے بغیر یہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اللّٰه اللّٰه کا ذکر ہوتا ہے لیکن اس پر زیادہ توجہ نہیں مرکوز رکھ سکا حضرت جی میں نے تقریباً 2 سال سے معمولات شروع کیے ہیں برائے کرم میرے رہنمائی فرمائیں اور میرے لئے استقامت کی دعا فرمائیں میرے مزید یہ بھی فرماتے کہ ذکر بالجہر کے دوران آنکھیں بند کرنا یا کھلی رکھنا بہتر ہے
جواب: ماشاء اللّٰہ بہت اچھی analysis ہے اور یہ جو آپ نے ذکر شروع کیا رمضان کی برکت سے تو اس میں ایک message ہے اور وہ message یہ ہے کہ رمضان میں چونکہ شیطان باندھ دیا جاتا ہے تو اس کا جو فورس ہے وہ ختم ہونے کی وجہ سے آپ کو اللّٰه پاک نے توفیق دی اِس کا مطلب ہے آپ اپنے نفس پر قابو پا سکتے ہیں شیطان کے مطلب چکر سے نکل کے شیطان غافل کرتا ہے تو غافل غافل وہ کیا کرتا ہے وہ سب سے پہلے اصلاح ہم سے چھینتا ہے ناں اصلاح ہمارا ذکر ہے تو ذکر ہمارا stop کرواتا ہے لہذا آئندہ اپنے ذکر کا خیال رکھیں ذکر کبھی نہ چھوڑیں جب رمضان شریف پورا گزر جائے تو ذکر بالکل چھوڑنا نہیں ہے اس کو اپنے لئے لازم سمجھنا ہے کہ اس کے علاوہ تو ہماری روح کو اطمینان بھی نہیں ہو سکتا اور ہماری روح رہے گی لہذا ذکر باقاعدگی کے ساتھ کرتے رہیے ایک تو یہ بات ہے دوسری بات یہ ہے کہ آپ جو ہے ناں مطلب جو باتیں آپ نے سوچی ہیں ٹھیک سوچی ہیں کوئی بات نہیں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو کا اگر ایک ہی ہے تو اللّٰه اور ھُو تو ایک ہے ناں کیونکہ ھُو کے نسبت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف کی جا رہی ہے ھُو بذات خود اسم ضمیر ہے اسم ضمیر میں جس کی آپ کے نیت ہو وہی ہوتا ہے بس آپ کہہ دیں کہ وہ ہو تو وہ میں آپ کا کیا مطلب ہے ہاں جی جو بھی آپ کا مطلب ہو گا اسی طرح آپ کا دھیان جائے گا ناں ہاں جی تو یا جو اس کو سمجھتا ہو یعنی آپ کی بات کہ آپ انگلی سے مثلاً اشارہ کیا ہو کہ وہ تو پھر تو اس کی طرف ہو گا لیکن اپنے طور پر آپ جو بھی ذہن میں رکھتے ہوں گے اسی کی حساب سے ہو گا تو اگر آپ کا اس سے مطلب اللّٰه ہی ہے تو پھر تو اللّٰه کی طرف ہی دھیان جائے گا بالکل ٹھیک ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے البتہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ذکر جو ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو یہ ذکر ہے یک سوئی کا اور کس چیز کا یعنی جس کو ہم کہتے ہیں یعنی حضوری حضوری کیفیت حضوری یعنی اللّٰه کے سامنے حاضری ہاں جی اس وجہ سے اس سے وہ کام لیا جا سکتا ہے اگر کیفیتِم حضوری حاصل کرنی ہو ایک ہوتے ہیں کیفیت حضوری ایک ہوتا ہے کیفیت احسان کیفیت حضوری میں ہر وقت انسان اللّٰه کے سامنے اپنے آپ کو پاتا ہے اور کیفیت احسان میں انسان عبادت اس طرح کرتا ہے کہ جیسے اللّٰہ کو دیکھ رہا ہوں ہاں جی تو کیفیت حضوری بہت بڑی نعمت ہے تو اس وجہ سے یہ ذکر جو ہے ناں اس کے لئے کرایا جاتا ہے تو آپ اس میں یہ بھی کر سکتا ہے کہ اللّٰه کے سامنے میں موجود ہوں اس کے سامنے میں موجود ہوں ہاں جی تو بس ٹھیک ہے وہ آپ اس طرح تصور کر سکتے ہیں آپ نے اشارہ بھی دیا ہے موجودگی کا تو بات بالکل وہی ہے اچھا تیسرا حق کی بات یہی بات ہے جو آپ نے سوچا ہے اور وہ یہ سوچ صحیح سوچا ہے کہ حق باطل کا ضد ہے اور حق اس میں صفت ہے اللّٰه کے اللّٰه کا نام ہے اور حق حق کے ساتھ ہی حق قائم ہے لہذا جتنا اللّٰہ کا تعلق ہو گا اتنا ہی حق پہ انسان رہے گا تو بہرحال یہ ہے کہ آپ ہم لوگ جس طرح اس لئے بتاتے ہیں کہ جتنے باطل ہمارے دل میں اس کے ذریعے سے یہ اچھا حق کے ذریعے سے وہ ٹوٹ رہے ہوتے ہیں جیسے اللّٰہ پاک آپ ﷺ فرماتے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر
جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا (بنی اسرائیل:81) جس سے باطل کو توڑ رہے تھے مطلب آپ ﷺ اور ساتھ ساتھ یہ فرماتے جاتے تھے تو ہم اس کا سہارہ لے کر ہم اپنے دل کے بتوں کو دل کے بت کیا ہیں الٰہُ قَوَّاھَا مطلب جس جو لوگ کے معبود جو بنے ہوتے ہیں ناں یعنی خواہشات نفس تو وہ ہمارے دل کے بت ہیں ان کو توڑنا ہوتا ہے تو یہ ٹھیک ہے یہ ماشاء اللّٰہ آج کل چونکہ فتنے بہت زیادہ ہیں لہذا حق کا ذکر بہت ہی مؤثر ہے حق کا ذکر بہت ہی مؤثر ہے ہاں جی تو اس وجہ سے ہمارے سلسلے میں حق کا ذکر بہت زیادہ ہے ہاں جی مطلب یہ ہے کہ جو ہم بتاتے ہیں تاکہ باطل دب جائے اور حق جو ہے ناں مطلب غالب ہو جائے ٹھیک ہے ناں باقی جو اللّٰه کا ذکر ہے اللّٰه اکبر یہ تو ایسا ہے کہ جیسے مثال کے طور پر ہم بندے ہیں اللّٰه کے اللّٰہ ہم سے پیار کرتے ہیں اللّٰه اللّٰہ کی محبت پیار کی وجہ سے ہم مسلمان ہیں یہ توفیقات ہیں تو یہ تصور کہ اللّٰه پاک ہمیں محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ہمارے دل کو محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور اپنا دل ظاہر ہے جب ادھر سے محبت ہے تو ادھر سے بھی محبت ہونی چاہیئے وہ بھی محبت کے ساتھ اللّٰہ اللّٰہ کر رہا ہے ہم تو یہی مطلب بتاتے ہیں بہرحال وہ بھی ٹھیک ہے تو یہی چیز جو ہے ناں مطلب آپ اس کو جاری رکھیں ان شاء اللّٰه العزیز باقی دھڑکن تو ٹھیک ہے ناں دھڑکن ہی تو دھڑکن تو آپ ختم نہیں کر سکتے لیکن دھڑکن کے ساتھ کوئی اور چیز تو آپ attach کر سکتے ہیں ناں تو attach کر وہ چیز جو ہم attach کرتے ہیں وہ اللّٰه کا ذکر ہی ہے تو اللّٰه کا ذکر اس سے محسوس ہوتا ہے ہاں جی اب اگر اس کو technical بات میں کر لوں تو ایسا ہے جیسے بادل ہوں تو بادل میں کسی کے اوپر کوئی shape کسی کوئی چیز کا شکل اس کے نفسیات پہ حاوی ہو تو بادل میں اس کو نظر وہ آتا ہے کہ وہ چیز کی وہ چیز بن رہی ہے ہاں جی وہ چیز بنا رہی ہے حالانکہ وہ چیز تو نہیں ہوتی لیکن اس کے تصور میں تو یہ ہوتا ہے ناں اب چونکہ یہاں پر اگر ہم تصور کریں کہ یہ اللّٰه اللّٰه کہہ رہا ہے ہمارا نفسیات یہ کہہ رہا ہے کہ اللّٰه اللّٰه کہہ رہا ہے تو فائدہ تو ہو رہا ہے ناں غافل تو پھر نہیں رہا ہے ناں کیونکہ ہمیں اللّٰه تعالیٰ یاد تو ہیں ناں جب اللّٰه یاد ہے تو ہمارا کام بن رہا ہے تو ہمیں تو کام سے غرض ہے ہمیں تو اس کی حقیقت سے غرض نہیں ہے کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے اصل میں تو یہ بات ہے کہ ہمیں اس سے ہمیں اس سے کیا ہو رہا ہے تو ہمیں اس سے اگر اچھا ہو رہا ہے تو بس ٹھیک ہے صوفیاء جو ہوتے ہیں ناں یہ یہ جو ہے ناں یہ چیزوں کو استعمال کرتے ہیں آثار کو استعمال کرتے ہیں جس چیز کو بھی یہ استعمال کر لیں حق سے دم لینا حق سے دم یہ جوگی ہیں جوگی کرتے تھے تو ہمارے لوگوں نے اس کو اپنے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا کیسے استعمال کیا کہ حق سے دم سے جو ہے چونکہ انسان کو یک سوئی حاصل ہوتی ہے مجھے بتاؤ کسی کا سانس رک جائے تو کس طرف تصور جائے گا اس کا کسی اور چیز کی طرف جائے گا وہ تو اس کا سانس کی طرف ہی تصور ہو گا ناں تو سانس کے ساتھ تصور جو اس وقت آپ ہم کرتے ہیں یعنی اللّٰه اللّٰه اللّٰه اللّٰه اللّٰه اللّٰه ایک ہی سانس میں کر رہے ہیں تو اس وقت اللّٰه اللّٰه ہی ہو رہا ہے ناں تو اس کا تصور کس طرف ہو گا تو بس یہیں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں ہاں یہی تو کمال ہے ہاں جی جو دوسرے لوگ غلط فائدہ اٹھاتے ہیں کسی چیز سے صوفیاء اس سے اچھا فائدہ اٹھا لیتے ہیں یہ بات ہے پھر لوگ کہتے ہیں دیکھو ناں یہ بھی جوگیوں کی طرح کر رہے ہیں بھئی جوگی کی طرح نہیں جوگی کا اس اس چیز کو کس لئے استعمال کرتے تھے اور یہاں پر لوگ کس لئے استعمال کرتے ہیں استعمال پر موقوف ہے ٹھیک ہے ناں
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
May اللّٰہ تعالیٰ reward you abundantly for all the sacrifices and it would you make for us all and may he grant me توفیق to do شکر for these blessings in a matric which pleasure which pleases I just wanted to ask a question what's the mechanism by which Allah تعالیٰ makes the شیخ The primary point of benefit for the مرید
جواب: سبحان اللّٰہ دیکھیں یہ بڑا اچھا سوال کیا ہے پہلے سوال ذرا انگریزی میں ہے تو اردو میں کر دیتا ہوں وہ سوال یہ ہے کہ یہ کیسا نظام ہے مطلب یہ کیا کیا نظام ہے اس کے اندر جس کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ شیخ کو فائدے کا اصل ذریعہ مطلب جو ہے ناں قرار دیتے ہیں مرید کے لئے یہ مطلب مطلب میں اس کا سمجھاں گا تو اب دیکھیں كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ۞ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ ۞ (القیامہ: 20 21) قرآن پاک میں ہے ہرگز نہیں بلکہ تم فوری چیز کو لیتے ہو اور بعد میں آنے والی چیز کو چھوڑتے ہو یہ مطلب اس کا مفہوم اچھا اب فوری چیز کیا ہے وہ نفس کی خواہش ہے وہ نفس کی خواہش ہے جو جس کو انسان فوری طور پر لیتا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ چیز سامنے ہوتا ہے ہر چیز تو اب اس کا توڑ کہتے ہیں diamonds کا diamond مطلب جو ہے ناں وہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے تو اس کے مقابلے میں کوئی ایسا فوری چیز ہونی چاہیے جو خیر کی طرف لا رہا ہو وہ اگر شر کی طرف لا رہا ہے تو اس کے مقابلے میں کیا ہونا چاہیے خیر کی طرف لانے والی کوئی چیز ہونی چاہیے اب ذرا اس کو میں دوسرے انداز میں بات کرتا ہوں اصل بات تو اللّٰه کی ہے اصل بات تو اللّٰه کی ہے اللّٰه ہی فائدہ پہنچاتا ہے اللّٰه ہی ہدایت دیتا ہے اللّٰه ہی سب کچھ دیتا ہے یہ بات تو سمجھ لیں اس کے لئے سب سے اعلیٰ ذریعہ جو ہمارے لئے بنایا ہے وہ آپ ﷺ ہیں ہاں جی کیونکہ آپ ﷺ کے ذریعے سے تمام رحمت پوری دنیا میں تقسیم ہوتی ہے تو یہ بات تو بالکل صحیح ہے اچھا تو اب قرآن اور حدیث میں کوئی چیز موجود ہے قرآن کا تعلق اللّٰہ کے ساتھ ہے حدیث کا تعلق آپ ﷺ کے ساتھ ہے اس میں ایک چیز موجود ہے لیکن کسی کو توفیق نہیں ہوتی اس پر عمل کرنے کی کسی کو اس پر عمل کرنے کی توفیق نہیں ہوتی مثلاً جھوٹ نہ بولو قرآن میں ہے حدیث میں ہے سب جگہوں پر ہے لیکن جھوٹ نہ بولنے والے اس چیز کو ماننے والے بھی جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں بولتے ہیں کتنے لوگ اس میں اس میں جھوٹ بولتے ہیں تو انہوں نے اللّٰه کے حکم پر عمل نہیں کیا گناہ گار ہو گئے آپ ﷺ کے حکم پر عمل نہیں کیا گناہ گار ہو گئے ناں ٹھیک ہے ناں اب وہ اپنا علاج کرنا چاہتے ہیں کہ گناہ گار نہ ہوں تو اب چونکہ قانون یہ ہے کہ انسان فوری چیز سے اثر لیتا ہے تو دور کی چیز سے اثر نہیں بے شک وہ کتنا ہی زیادہ مؤثر ہو مثلاً مد و جزر کا میں عرض کرتا رہتا ہوں مد و جزر کہ سورج کی وجہ سے مد و جزر کم ہوتا ہے اور چاند کی وجہ سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ تجاذب کی وجہ سے ہوتا ہے کشش کی وجہ سے اور کشش ہوتا ہے مطلب وزن کی بنیاد پر تو چاند کا وزن زیادہ ہے یا سورج کا وزن زیادہ ہے سورج کا تو بہت زیادہ ہے لیکن سورج کا اثر ہمارے اوپر اتنا نہیں ہے پانی کے اوپر اتنا نہیں ہے سمندر کے پانی پر جتنا کہ چاند کا ہے کیوں کیونکہ چاند قریب ہے چاند قریب ہے قریب کا اثر ہمارے اوپر زیادہ ہوتا ہے تو جو چیز ہمارے اوپر ہمارے قریب ہوتا ہے اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے ٹھیک ہے ناں تو اب شیخ چونکہ سامنے ہیں آپ کا اس کے ساتھ تعلق ہے سامنے ہیں وہ جب آپ کو کسی چیز سے روکتے ہیں آپ رک جاتے ہیں حالانکہ وہ چیز پہلے سے اللّٰہ نے روکی ہوئی ہے مثلاً جھوٹ نہ بولو یہ تو اللّٰه نے بھی فرما ہے ناں حدیث شریف میں بھی ہے آپ ﷺ نے لیکن عمل کی توفیق نہیں ہوتی شیخ اس کو کہتا ہے جھوٹ نہ بولو تو وہ جھوٹ نہیں بولتا یہ کیا وجہ ہے ہاں جی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ قریب ہے یعنی آپ اس کو دیکھ رہے ہیں وہ عاجلہ ہے لہٰذا عاجلہ نے آپ کو عاجلہ مطلب جو ہے ناں وہ اس سے وہ کر دیا ٹھیک ہے ناں تو یہی چیز ہے فنا فی الشیخ پہلے ہوتا ہے اور فنا فی الشیخ سے ترقی کر کے انسان فنا فی اللّٰه پہ جاتا ہے نہ فنا فی الرسول پہ جاتا ہے اور پھر فنا فی الرسول سے ترقی کر کے فنا فی اللہ پہ جاتا ہے ترتیب یہاں الٹ اس لیے ہے اثر کے لینے کے لحاظ سے کیونکہ انسان عاجلہ سے جلد زیادہ اثر لیتا ہے ٹھیک ہے ناں
عاجلہ سے زیادہ اثر لیتا ہے تو یہ عاجلہ کی وجہ سے ہے یہ اس کے طاقت کے لحاظ سے نہیں ہے طاقت کے لحاظ سے نہیں ہے عاجلہ کے لحاظ سے ہے کہ یہ چونکہ شیخ عاجلہ ہے اس کا اثر آپ یقین کیجئے حضرت مولانا اشرف صارف جو ہمارے شیخ تھے انہوں نے جو اعمال ہمیں بتائے ہیں ناں وہ اعمال ہمارے گھٹی میں پڑ گئے ہیں وہ ہم سے الحمد للّٰہ نہیں چھوٹتے ابھی تک آپ دیکھو حضرت نے ہمیں جو نماز کے بعد کا جو وظیفہ بتایا ہے 33 دفعہ سُبحَانَ اللّٰه 33 دفعہ اَلْحَمْدُ للّٰهِ 34 دفعہ اللّٰه اَکْبَر 3 دفعہ کلمہ طیبہ 3 دفعہ درود ابراہیمی 3 دفعہ استغفار ایک ایک مرتبہ آیت الکرسی امام صاحب جلدی ہاتھ اٹھا لیتے ہیں ہمارے وظیفہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا یعنی سارے ہم وہی کرتے ہیں چاہے دوسرے لوگ کچھ بھی کر رہے ہوں اس طرح مناجات مقبول حضرت نے دیا تھا الحمد للّٰہ ابھی تک پڑھ رہے ہیں ہاں جی کسی وہ جو بھی چیز ہمیں دیا ہے وہ ماشاء اللّٰہ مستحکم ہے اور جو ہم نے خود شروع کی تھی وہ آہستہ آہستہ side line ہو گئی ٹھیک ہے ناں یہی چیز ہے تو شیخ کا اثر ہے اس اثر کے لئے لوگ شیخ کے پاس آتے ہیں جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے کہا صوفیاء جو ہوتے ہیں وہ حقیقت کی طرف نہیں جاتے وہ اثر اصل کی اثر کی طرف جاتے ہیں کہ اثر کس چیز کا زیادہ ہوتا ہے لوگ کہتے ہیں شیخ الحدیث رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنے کتاب فضائل ذکر میں اور فضائل درود شریف شریف میں خوابیں بھی بتائیں خواب خوابیں تو خواب کی کیا حیثیت ہے قرآن حدیث کے مقابلے میں ہم کہتے ہیں بالکل صحیح کہتے ہو خواب کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو ہے ناں اس کے مقابلے میں لیکن کیا کریں لوگ اس سے اثر زیادہ لیتے ہیں لوگ خواب سے زیادہ اثر لیتے ہیں یا نہیں لیتے ہاں جی بھئی حدیث شریف صحیح حدیث شریف میں ایک چیز آئی ہے آپ کو عمل کی توفیق نہیں ہوتی آپ خواب میں آپ ﷺ کی زیارت کر لیتے ہیں آپ ﷺ آپ کو ایک چیز فرما دیتے ہیں آپ رک جائیں گے آپ اس پر یقیناً کیوں آپ نے خواب میں خود آپ ﷺ کو دیکھا تو آپ کے اوپر اس کا اثر ماشاء اللّٰہ بہت زیادہ ہے تو اب یہ یہی چیز ہے کہ چونکہ اثر اس کا ہے لہٰذا انہوں نے ان چیزوں کو بھی بیان کر دیا یہ اس لئے نہیں یہ اصل میں حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ صاحب نے اس طرح کی چیز کو بیان فرمایا بہت آسانی کے ساتھ فرمایا ایک ہوتا ہے باپ کی نصیحت ایک ہوتی ہے کسی اور کی نصیحت کسی اور کی نصیحت اس طرح ہوتی ہے کہ بس میں نے نصیحت کر لیا اب نہیں مانتا تو جائے بھاڑ میں ہاں جی لیکن باپ کی نصیحت ایسی نہیں ہوتی وہ تو کسی طریقے سے منوانا چاہتا ہے جو چیز جو چیز آپ کے لیے مفید ہو وہ بار بار کہے گا بار بار کہے گا بار بار کہے گا حتی کہ دوسرے لوگوں سے بھی کہلوائے گا کسی طریقے سے بھی آپ کو اس پر لائے گا تو یہ صوفیاء باپ کی طرح ماشاء اللّٰہ شفیق ہوتے ہیں وہ کسی طریقے سے آپ کو حق پر لانا چاہتے ہیں تو آپ ان کی قدر کریں یا ان کی مخالفت کریں گے مثلاً آپ اگر نیکی پر آ جائیں تو اس میں کیا صرف اس کو فائدہ ہو گا یا آپ کو بھی فائدہ ہو گا تو اگر وہ آپ کے لیے سوچ رہا ہے اگر آپ کے لیے بول رہا ہے اگر آپ کے لیے کام کر رہا ہے تو آپ تو اس کو اس پر خوش ہونا چاہیے ناں تو بہرحال یہ چیزیں کیونکہ نہ سمجھنے کی وجہ سے یعنی لوگ اس طرح کرتے ہیں تو ورنہ یہ بات ہے کہ جو یہ بات کہ شیخ جو ہوتا ہے چونکہ عاجلہ ہوتا ہے اس لئے وہ کافی یعنی مؤثر ہوتا ہے مرید کے معمولات میں اللّٰه اکبر میرا تو خیال ہے کہ شاید پوری ہو گئی یہ اگر نہیں ہو اور میری بات سن رہے ہوں تو مجھے بتا دیں اور اگر کسی کا کوئی اور کا سوال ہو تو وہ سوال کر سکتے ہیں ٹائم کتنا ہے ابھی ہے ٹائم کسی کا کوئی سوال وغیرہ ہو تو کر سکتے ہیں جی ہاں
سوال: حضرت سوال یہ ہے کہ آپ ﷺ کے پاس جیسے صحابی نے فرمایا کہ یا رسول اللّٰہ ﷺ میں دعا میں چوتھا حصہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو زیادہ کر لو مفہوم ہے سب سے آخر میں فرمایا کہ ہر وقت درود شریف تو ہمارے جتنے مسائل ہیں اور حاجات ہیں تو ہر وقت اگر ہم درود شریف پڑھیں اور دعا کو تھوڑا سا کر لیں تو آپ سے مشورہ ہے آپ اس میں رہنمائی فرمائیں
جواب: دیکھیں ادۡعُوۡنِىۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَـكُمۡؕ (المؤمن: 60) اللّٰہ کا حکم ہے ہاں جی تو جو دعا کرتے ہیں وہ اللّٰه کا حکم پورا کر رہے ہیں اور اگر درود شریف پڑھ رہے ہیں وہ بھی اللّٰه کا حکم ہے کیونکہ اللّٰه پاک کا حکم ہے اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞ (الاحزاب: 56) ٹھیک ہے ناں اس وجہ سے ان میں کوئی آپس میں اختلاف نہیں ہے دعا آپ کرتے ہیں یہ بھی اللّٰه کا حکم پر عمل ہو رہا ہے درود شریف آپ پڑھ رہے ہیں یہ بھی آپ ﷺ کے حکم پر عمل ہو رہا ہے یہ تو چونکہ انہوں نے کوئی وقت مقرر کیا تھا دعاؤں کے لئے کوئی وقت مقرر کیا تھا اس میں ہے حدیث شریف میں ہے ناں وہ جو کہ میں نے ایک وقت دعاؤں کے لئے مقرر کیا ہے تو اس میں مطلب درود شریف جو ہے ناں وہ کتنا حصہ رکھوں تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ مطلب بڑھا دو تو اچھی بات ہے پھر بڑھاتے بڑھاتے انہوں نے پورا کہہ دیا تو وہ جو وہ جتنا مقرر کیا تھا اس کے بارے میں بات ہے یہ باقی دوسری چیزوں کی ختم کرنے کے بات نہیں ہے ٹھیک ہے ناں آپ دعا بھی کر سکتے ہیں آپ درود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں اس دوران آپ نماز بھی پڑھ سکتے ہیں نفل ہاں جی اس میں آپ کوئی اور ذکر بھی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ساری چیزیں ثابت ہیں ٹھیک ہے ناں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللّٰہ علیہ اس کے فائدہ میں یہ چیزیں لکھی ہے موجود ہیں وہ سوال جو ہوتا ہے وہ سوال کرنے والے کی طرف سے ہوتا ہے تو اس کا ارادہ اگر نہ ہو پھر
سوال: حضرت ایک سوال تھا جی اس سے متعلق سوال تھا کہ جی ہاں یہ اللّٰه پاک ﷺ کا نظام ہے کہ یہ وہ اس اس کا وہ میں نے پوچھنا چاہ رہا ہوں
جواب: یعنی اس کا کتنا یقین کروں جی یہ بات ہے دیکھیں اللّٰہ اکبر انسان کہتے ہیں اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں تو اگر اللّٰه تعالیٰ کے ساتھ آپ کا گمان یہ ہے کہ اللّٰه پاک ہدایت دیتے ہیں اور اللّٰه جل شانہ نے ہدایت کے جو ذریعے بنائے ہیں ان ذریعوں کے مطابق ہدایت دیتے ہیں
اور آپ کے تصور میں یہ جم جائے کہ یہ میرے لئے سب سے بڑا ذریعہ شیخ ہے پھر اللّٰہ تعالیٰ آپ کے گمان کے مطابق شیخ کے ذریعے سے آپ کو فیض پہنچائیں گے ویسے میں عرض کرتا ہوں کہ اس کا میں ایک اکثر ایک مثال دیتا ہوں کہ جیسے پورا ہال ہو اور اس میں بہت ساری کھڑکیاں ہوں اور اس کے اوپر نمبر لکھے ہوں 1 2 3 4 جتنے نمبر ہوں اور آپ جو ہے ناں مطلب ہے کہ لینا چاہیں تو آپ کو ایک ایک کھڑکی نمبر مثلاً 11 نمبر الاٹ ہو جائے اور آپ کی چیز وہاں پر رکھ دی جائے اور دوسرے کے لئے 13 نمبر پہ رکھی جائے کسی اور کے لئے 21 نمبر پر رکھ دی جائے تو کیا کرنا چاہیے اس کو وہ چیز کہاں ملے گی تو وہ باقی کھڑکیوں کے مخالفت تو نہیں ہے ناں یا ان کا مقابلہ تو نہیں ہے ناں ان کے لئے تو یہی ہے ناں تو ان کے لئے تو وہی ہے لیکن آپ کے لئے کونسی ہے آپ کے لئے وہی ہے جو جس جو آپ جیسے انسان کسی شیخ کو چنتا ہے ناں تو گویا کہ وہ اپنے لئے کھڑکی کو پسند کر لیتا ہے کہ میرے لئے یہی کھڑکی ہے اب اللّٰہ جل شانہ چونکہ ہدایت دیتا ہے تو اللّٰه جل شانہ پھر اسی کے ذریعے سے آپ کو ساری چیزیں دیتے اس میں ہمارے لئے الحمد للّٰہ اتنے مشاہدات ہیں سبحان اللّٰہ کہ اللّٰه جل شانہ کے مہربانی سے شیخ کا مقام ایسا بن جاتا ہے کہ بعض دفعہ یعنی مطلب ہے کہ آپ نے بات بتائی نہیں ہے آپ کے ذہن میں سوال ہے آپ کے دل میں سوال ہے اور شیخ کو پھر بات کھل جاتی ہے اور وہ بتا دیتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا بھئی اللّٰہ پاک اس کے ذریعے اس کے ذریعے اس کو ہدایت دے رہے ہیں ناں جب ہدایت دے رہے ہیں تو اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ آپ کے ذہن کا سوال اللّٰہ تعالیٰ دیکھ لیں اور اللّٰه تعالیٰ اس کا جواب آپ کے شیخ کی زبان پر رکھ لیں تو اس میں کیا کون سا مشکل کام ہے لیکن اس میں یہ ضرور بات ہے کہ اللّٰه جل شانہ کی تائید کا پتا چلتا ہے کہ اس تعلق کی تائید اللّٰہ تعالیٰ کتنا فرماتے ہیں کتنا اس سے مطلب فائدہ ہوتا ہے یہ چیز کم از کم ہم اس سے کرتے ہاں جی فرمائیے
سوال: حضرت مولانا بختیار کاکی رحمہ اللّٰہ علیہ شہید یہ جن اکابر کی ہم اتباع کرتے ہیں جی کیونکہ وہ بھی زیادہ سمجھتے ہیں تو یہ line کہاں پر drop کرتا ہے کہ پھر کچھ لوگ گمراہ بھی ہو جاتے ہیں کہ اکابر کی اتباع نہیں قرآن و سنت کو سامنے رکھیں
جواب: اچھا خوارج کا ایک طریقہ تھا اور اس کے مقابلے میں فاطمین کا بھی ایک طریقہ ہے تھا دونوں گمرا ہ تھے ہاں جی خوارج کا طریقہ میں گمراہی کا پہلو یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے کتاب اللّٰه کافی ہے اور وہ رجال اللّٰه کو نہیں مانتے تھے رجال اللّٰه سے نہیں لیتے تھے تو گمراہ ہو گئے ایسے گمراہ ہوئے کہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں پیشن گوئی فرمائی کہ مطلب یہ ہے کہ یعنی ایسے نکل جائیں گے دین سے جیسے شکار سے تیر نکل جانا یعنی تیر شکار سے نکل جاتا ہے ایسے ان کے بارے میں فرمایا تو وہ حالانکہ کتاب اللّٰه کو تو مانتے تھے کتاب اللّٰه سب کا حق ہے وہ کون کہتا ہے کہ حق نہیں ہے لیکن چونکہ انہوں نے رجال اللّٰه سے انکار کر دیا تو دین سے دور ہو گئے دوسری طرف فاطمین ہیں یہ رجال اللّٰه کو اتنا مانتے کہ کتاب اللّٰه کو چھوڑ دیتے ہیں اس کے لئے اور وہ کہتے ہیں جو چیز یہ بتائے بس وہ دین ہے ٹھیک ہے ناں بس ہمارے لئے اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے بات یہی ہے اور کتاب اللّٰه کی جو ہے وہ جو ہے وہ نہیں کرتے ہاں جی بس ہمارے لئے سب کچھ یہی ہے تو وہ بھی گمراہ ہو گئے وہ کس طرف چلے گئے تو اب حق کیا ہے حق ان دونوں کے جمع کرنے ان دونوں کی جمع کرنے میں ہے کہ کتاب اللّٰه کو رجال اللّٰه سے سیکھو گے کتاب اللّٰه کو رجال اللّٰه سے سیکھو کتاب اللّٰه پر عمل کرو گے جب تک آپ کو یعنی وہ یعنی رجال اللّٰه کا تعلق حاصل نہیں ہو گا کتاب اللّٰه کو سمجھنا ہی مشکل ہے ہاں جی اس میں نفس آ جاتا ہے درمیان میں درمیان میں نفس آ جاتا ہے لہذا آپ غلط مطلب لے لیتے ہیں لیکن رجال اللّٰه کی محنت کے ذریعے سے آپ کے نفس کی اصلاح ہو جاتی ہے پھر آپ کو کتاب اللّٰه پورا پورا صاف نظر آ جاتا ہے سمجھ میں آ جاتا ہے جس طرح پھر اس سے گمراہی نہیں ہوتی ہاں جی تو یہی بات ہے کہ ہم لوگ کیا کرتے ہیں رجال اللّٰه کے پاس جاتے ہیں جن میں شیخ بھی ہے اور ہمارے اکابر بھی ہیں کہ وہ جو ہے ناں مطلب ہے کہ ہماری اصلاح ہو جائے اور جب اصلاح ہو جائے اس کے بعد پھر کتاب اللّٰه میں قرآن بھی موجود ہے حدیث بھی موجود ہے بزرگوں کے واقعات بھی موجود ہے ان سب چیزیں سے ہمیں ان شاء اللّٰہ ہدایت ملے گی یہ بات ہے کوئی سوال وغیرہ ہو تو کر سکتے ہیں اشارہ کر لیں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو تو کر لیں کہ حضرت اچھا حضرت سوال یہ تھا کہ بزرگوں سے سنا ہے کہ برے لوگوں کا برا اثر ہوتا ہے تو روزمرہ کی زندگی میں ایسے لوگوں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے کہ جن کے ساتھ کسی نہ کسی کام کی وجہ سے سلام دعا ہوتی ہیں تو ان لوگوں کے اثر سے کیسا بچا جائے اور دوسری بات یہ تھی کہ روزمرہ کی زندگی میں ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جن کے ساتھ بیٹھ کر وہ مال کی باتیں دنیا کی باتیں اور پیسوں کی باتیں بہت زیادہ کرتے ہیں جب ان کے پاس سے اٹھتے ہیں تو وہ چیز اپنے دل سے محسوس کرتے ہیں مال کی محبت اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں تو اس چیز سے کیسے بچ سکتے ہیں
جواب: حدیث شریف میں آتا ہے کہ بری صحبت سے خلوت اچھی ہے اور اچھی صحبت جو ہے وہ خلوت سے اچھی ہے بس ایسے لوگوں کے پاس جن سے شر مطلب پھیلتا ہو یعنی ان کے شر ہو ان کی دعوت ہو شر کی طرف چاہے وہ زبان سے نہ کہتے ہوں لیکن ان کا جو ہے مطلب تعلق ہی شر کی طرف دعوت دے رہا ہو تو ایسے لوگ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دے نہیں چھوڑ سکتے تو کم سے کم کر دے جتنا انسان کم کر سکتا ہے تاکہ نقصان کم سے کم اس کا تو ہو ناں لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یہ جس کو allergy ہوتی ہے ناں تو وہ ایسی جگہوں پہ نہیں جاتا جہاں اس کو مطلب allergy ہوتی ہو اس سے بچت کرتے ہیں لیکن مجبوری ہو پھر کیا کرتے ہیں ماسک وغیرہ لگا لیتے ہیں کوئی اور انتظام کر لیتے ہیں تاکہ اس کے اوپر اس کا اثر نہ آئے تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ چاہیے کہ ایسے لوگ کے پاس سے اٹھنا بیٹھنا بند کر لیں نہ نہ بیٹھیں ان کے پاس لیکن اگر مجبوری ہے جیسے بازار میں کسی کا کام ہے تو بازار میں تو سارے لوگ جاتے ہیں تو پھر کیا کرے پھر اپنی حفاظت کرتے ہوئے جائے تو اپنی حفاظت کرتے ہوئے جو ایک بات ہے کہ ہم لوگ جو ہمارے حفاظت کی جگہ ہیں ان کے ساتھ اپنے رابطہ کو مضبوط کر لیں اور ذکر کے ذریعے سے اپنے آپ کو ہر وقت مطلب جو ہے ناں محفوظ رکھیں کیونکہ ذکر جو ہے یہ انسان کو غفلت سے نکالتا ہے اور غفلت میں شیطان مارتا ہے تو لہٰذا اپنے آپ کو بچانے کے لئے انسان کو ذاکر بنانا چاہیے تو ذاکر جو ہے ناں ایک تو زبان کا ذکر ہوتا ہے ناں ایک قلب کا ذکر ہوتا ہے ہاں جی اور ایک اصل میں دھیان کا ذکر ہوتا ہے تو اب یہ جو ہے اگر کسی کو اصل ذکر حاصل ہو جائے تو پھر وہ بے شد لوگوں کی درمیان بیٹھا ہو لیکن وہ لوگوں کے پاس نہیں ہوتا اللّٰہ کے پاس ہوتا ہے ہاں جی اس کو کہتے خلوت در انجمن یعنی لوگوں کے درمیان رہ کر بھی لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ وہ اللّٰه کے ساتھ ہوتے ہیں تو اسی صورت میں اگر کسی کو یہ حالت نصیب ہو جائے تو اس پر کوئی کیا اثر کرے گا ہاں جی اس پر تو وہ نہیں وہ تو اللّٰه تعالیٰ کے پاس ہوتے ہیں لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ کی موجودگی میں پھر وہ ان چیزوں کی کوئی وہ نہیں کرتے تو پھر اپنی اس کیفیت کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور جہاں سے اس کو اس چیز کا فائدہ ہو وہاں سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے آنے جانے کا اب شیطان جو ہے وہ اس چیز سے روکتا ہے کیونکہ وہ تو اس کا تو دوسرا کام ہے وہ روکتا ہے تو ہمیں یہاں تک اپنے دوستوں نے بتایا ہے کہ جب گھر سے باہر آتے ہیں ناں خانقاہ کی نیت سے اتنے کام ہمیں یاد آ جاتے ہیں اوہ تو نے یہ کام نہیں کیا یہ کرو یہ کرو وہ کرو تو کہتے ہیں ہم پھر کیا کرتے ہیں ہم کہتے ہیں اچھا خانقاہ نہیں جاتے بس اس کے دروازے کو touch کر کے واپس آ جائیں گے لیکن جانا ضرور ہے لیکن کہتے ہیں جیسے پہنچ جائے بس سارا کچھ ختم تو اب بتاؤ یہ کون سی چیز تھی شیطان کی کاروائی تھی ناں ہاں جی تو اپنے آپ کو شیطان کی اس کاروائی سے بچانا چاہئے وہ ہزار مرتبہ بھی کہہ دے کہ یہ کام کہتے بس ٹھیک ہے اس کو کر لوں گا ناں بھئی بعد میں کر لوں گا ابھی تو میں نے ادھر ہی رہنا ہے تو اس طریقے سے ماشاء اللّٰہ کام بن جاتا ہے الحمد للّٰہ
سوال: حضرت اقدس مرشد مولائی آداب ایک دوست کی message ہے جرمنی سے السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ ان شاء اللّٰه
you and your all loved ones are doing well
بِفَضْلِ اللّٰه اَنَا
pray first I will have completed the next thirty days Something noteworthy happened to me two weeks ago I had to give a presentation at school So I stood at the teacher's desk in front of the class and had to talk While talking I noticed how I kept doing things to do the attention or impression from the female side of the class It was not anything significant just some gesture or remarks comments or jokes I made briefly in between and then a flash of thought came to me Imagine if شیخ were sitting here at the front at the front at the front watching you From that moment on everything went much better I immediately started to behave properly And from that day on it has occasionally happened again that I was in such situation and this thought came For example also in physical education class I told you I told you before that when I know the girls are watching it automatically makes me want to perform better and then the flash of thought came to me again It was not like I actually wanted to think about it It was more of a flash of thought what if شیخ would be here watching And then and then again things improved I thought it might be important to for you to know
جواب: سبحان اللّٰہ بڑی اچھی بات ہے یہ بالکل وہی بات ابھی جو ہم کر رہے تھے شیخ کو اللّٰه پاک ذریعہ بناتے ہیں یوسف علیہ السلام کے واقعات میں ہے زلیخا کا جو واقعہ ہوا تھا تو اس میں آیت کریمہ میں ایک لفظ ہے اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ (یوسف: 24) کونسی آیت کریمہ لَوْلَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖؕ (یوسف: 24) ہاں اگر آپ کے رب کی طرف سے برھان تو اس کے بارے میں مفسرین نے بات کی ہے کہ وہ یعقوب علیہ السلام کا شبیہ مطلب سامنے آ گئی تھی ہاں جی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب چونکہ ان کے والد تو پیغمبر ہی تھے اور پھر ان کے مربی بھی تھے تو اللّٰه پاک نے ان کو ان کے لئے وہ ذریعہ بنا دیا تو اسی طریقے سے جو مشائخ ہوتے ہیں یہ واقعتاً یعنی اللّٰه پاک ان کو ذریعہ بناتے ہیں اور بعض دفعہ ایسے حیرت انگیز صورتحال پیش آ جاتے ہیں جس کو عام انداز میں explain کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے تو یہ جو ابھی ابھی اس صاحب نے وہ واقعہ بیان کیا ہے وہ یہی بیان کیا ہے ناں کہ مطلب میں سوچنے لگا کہ اگر شیخ مطلب یہاں پر ہوتے تو کیا ہاں جی تو اس کا شیخ کے اثر سے کہ وہ چیزیں ختم ہو گئیں ہاں جی تو اس کا یاد آنے سے اگر اتنا فائدہ ہوتا ہو تو اس کی موجودگی میں کتنا فائدہ ہو گا یاد آ جانے سے اگر اتنا فائدہ ہوتا ہو تو اس کی موجودگی میں کتنا فائدہ ہوتا ہو گا میں اکثر ایک بات عرض کرتے رہتا ہوں پہلے وقتوں میں تصور الشیخ ایک چیز ہوتی اور بہت ہوتی تصور الشیخ مطلب ہے اس میں یعنی جو مشائخ ہوتے تھے اس کو باقاعدہ دیتے تھے اس وقت اچھے حالات تھے لہذا اس سے بہت فائدہ ہوتا تھا اس کی مثال ایسی ہے جیسے مثال کے طور پر میں ویسے عام طور پر لوگوں سے ملتا ہوں اور کام کرتا ہوں لیکن مجھے پتا ہو کہ شیخ مجلس میں موجود ہے پھر میرا رویہ کیسا ہو گا بالکل different ہو جائے گا بہت conscious ہو جاؤں گا تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو تصور میں اگر شیخ اس طرح آ جائے تو اس کا اثر پھر اس طرح ہو کر پھر اپنے اعمال کے اندر صحیح چیز انسان لینے لگتا ہے لیکن آج کل وہ مشکل ہے کیونکہ آج کل لوگوں میں سمجھ میں قصور ہے وہ کیسے ہوتا ہے کہ جب اس قسم کے واقعات اس کے ساتھ بار بار ہوتے ہیں تو شیخ کو حاضر ناظر سمجھنے لگتے ہیں جو کہ غلط عقیدہ ہے ٹھیک ہے ناں تو اب عقیدہ تو بڑی چیز ہے وہ اس کی تو حفاظت ضروری ہے لہذا ہمارے مشائخ نے تصور شیخ کا مروجہ شکل کو تبدیل کر لیے ایک اور طریقے میں اور وہ یہ شیخ کے لئے دعا کرنا یا شیخ کی کتاب پڑھو ہاں جی تو اب شیخ کے لئے دعا جو آپ کرتے ہیں تو شیخ کا بھی فائدہ ہے اور آپ کا بھی فائدہ کہ وہ شیخ یاد آیا کہ نہیں جب دعا اس کو کریں گے تو آپ کو یاد ہو گا یا نہیں ہو گا یاد ہو گا تو اس کا فائدہ ہو گا یا نہیں ہو گا ہاں جی تو مقصد تو حاصل ہو گیا نا مقصد حاصل ہو گیا لیکن عقیدہ میں مسئلہ نہیں آیا حاضر ناظر والی بات درمیان میں نہیں آئی عقیدہ بچ گیا اور فائدہ باقی رہ گیا یہی اصل میں آج کل کے دور کی تحقیق ہے کہ ہم لوگوں کو لوگوں کے حالات کے مطابق فیصلے کرنے چاہیے اپنے حالت کے مطابق نہیں ڈاکٹر اپنے حالت کے مطابق دوائی دیتے ہیں یا مریض کے حالت کے مطابق دوائی دیتے ہیں ہاں جی مریض کے حالت کے مطابق دوائی دیتے ہیں تو اس وجہ سے جب ہم کہتے ہیں اس وقت تصور شیخ مشکل ہے تو جو تصور شیخ کے گزشتہ طریقے پہ چلتے آ رہے ہیں اور اس کو روکنا نہیں چاہتے تو وہ ہمارے مخالف ہو جاتے ہیں کہتے ہیں دیکھو ناں تصور شیخ کو نہیں مانتے کم کہتے ہیں مانتے ہیں خدا کے بندوں لیکن آج کل کے لحاظ سے آج کل کے لحاظ سے اس کو کرو تو فائدہ ہو گا ان شاء اللّٰہ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا عَنِ الْحَمْدُ للّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اب ہم ذکر کرتے ہیں ان شاء اللّٰه 1 دفعہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں 3 دفعہ سورہ اخلاص اے اللّٰه اپنے فضل و کرم سے ہماری اس تلاوت کو قبول فرما اس کا ثواب اپنے حبیب پاک ﷺ کو اور جملہ انبیاء اکرام کو جملہ صحابہ کرام کو چاروں سلسلوں کے مشائخ کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو پہنچا دے ان سب کی فیض و برکات سے مکمل اور وافر اثر عطا فرما اب دیکھو ہم نے دعا کی ناں تو ان کے فیوض و برکات ہمارے طرف آنے لگے مقصد تو ہو گیا حاصل ہو گیا ناں ہاں جی تو اب ہم ذکر کرتے ہیں اَفْضَلُ الذِّکْر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰه