درسِ قرآن

سورة الأحزاب ۔آیت نمبر 61 تا 65, درس نمبر 1208

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مرحبا مسجد - ہائی وے لنک دربار روڈ، کری روڈ، راولپنڈی
  1. منافقین اگر اپنی نازیبا حرکتوں سے باز نہ آئیں تو ان کا نفاق ظاہر ہو جاتا ہے اور انہیں اللہ کی سنت کے مطابق سزا ملتی ہے۔
  2. شریعت کی نافرمانی پر اللہ تعالیٰ اپنے تکوینی نظام کے تحت لوگوں کے اعمال کے مطابق ان پر دنیاوی سزائیں مسلط فرماتا ہے۔
  3. اسلام تمام پیغمبروں کا دین تھا اور ان سب کے بنیادی ایمانیات اور احکامات بالکل ایک جیسے تھے۔
  4. قیامت اور امام مہدی کے ظہور کا قطعی علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس لیے مخصوص تاریخیں مقرر کرنے کے بجائے نشانیوں کو دیکھنا چاہیے۔
  5. مصیبت کے وقت جذبات میں آ کر اللہ پر ظلم کی نسبت کرنا کفر ہے، اس لیے جذبات پر قابو رکھ کر ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا۔ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا۔ يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا۔ إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا، خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَّا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا، صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ۔

جن میں وہ پھٹکارے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جن پہ لعنت برس رہی ہوگی۔ پھر جہاں کہیں ملیں گے، پکڑ لیے جائیں گے۔ اور انہیں ایک ایک کر کے قتل کر دیا جائے گا۔ یہاں منافقین کو خبردار کیا گیا ہے اس وقت تو ان کی منافقت چھپی ہوئی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے اپنی نازیبا حرکتیں نہ چھوڑیں، جن میں عورتوں کو چھیڑنے اور بے بنیاد افواہیں پھیلانے کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے، تو ان کی منافقت صاف واضح ہو جائے گی۔ اور اس صورت میں ان کے ساتھ غیر مسلم دشمنوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔ کیونکہ منافق کا جب تک نفاق کھلا نہیں ہے، تو اس کے بارے میں خاموشی ہے۔ READING A: کیونکہ دل کا معاملہ اللہ جانتا ہے۔ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن جب اس کا کوئی عمل اس سے ایسا سرزد ہو جائے جس سے اس کا نفاق کھل جائے، تو پھر اس کے پاس، اس کے بارے میں پھر وہی ہوگا جیسے کہ منافقین کے ساتھ ہوگا۔ یعنی جن کا نفاق کھل چکا ہوگا۔ یہ اللہ کا وہ معمول ہے جس پر ان لوگوں کے معاملے میں بھی عمل ہوتا رہا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم اللہ کے معمول میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پاؤ گے۔

اللہ تعالیٰ کے معمول سے یہاں مراد یہ ہے کہ جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کو پہلے خبردار کیا جاتا ہے۔ پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتے تو انہیں سزا دی جاتی ہے۔ دیکھیں، اللہ پاک کا ایک تکوینی نظام ہے اور ایک تشریعی نظام ہے۔ دونوں نظام اللہ تعالیٰ چلاتے ہیں۔ یعنی تکوینی احکامات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور شریعت کے احکامات بھی اللہ پاک نے بھیجے ہیں۔ لہٰذا جو شریعت کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، تو ان کو دنیا میں اگر سزا دینی ہو، تو تکوینی طور پر ان کے حالات ایسے بن جاتے ہیں کہ وہ، ان کو سزا ہو جاتی ہے۔ جیسے قرآن پاک میں آتا ہے، ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ کہ بحر و بر میں، دونوں یعنی سڑ۔۔ خشکی تری میں، فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔ یعنی لوگ جو اعمال کرتے ہیں اس کے مطابق ان کے لیے فیصلے اترتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی زکوٰۃ نہیں دیتے لوگ، بارشیں روک دی جاتی ہیں۔ کوئی، مطلب، زنا وغیرہ کثرت سے ہونے لگتی ہے، اس کے مطابق احکامات آ جاتے ہیں۔ اور اس قسم کے جو ہیں، اس کے بارے میں احادیث شریفہ میں اس کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔ مشکوٰۃ شریف میں بھی ہے۔ تو اس میں معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سے عمل کی وجہ سے کس قسم کی تکوینی سزا آ سکتی ہے۔ تو یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں، اللہ تعالیٰ کا جو طریقہ ہے، طریقہ کار ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہے۔

ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام سارے پیغمبروں کا دین تھا۔ یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دین عیسائیت تھا۔ نہیں، عیسیٰ علیہ السلام کا دین بھی اسلام تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کا دین بھی اسلام تھا۔ بعد میں جب وہ مطلب جہان دنیا سے تشریف لے گئے تو ان کی وجہ سے وہ ان کا نام اس طرح پڑ گیا، لیکن پیغمبر ہونے کے لحاظ سے وہ سب چونکہ اللہ سے لیتے تھے، لہٰذا ایک ہی احکامات ہیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ لہٰذا جو تمام پیغمبروں کے جو موٹے موٹے احکامات ہیں، ایمانیات، وہ سب ایک جیسے ہیں۔ اس میں کوئی فرق نہیں پائیں گے۔

لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ کس سے فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے ہیں۔ کہ کہہ دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تمہیں کیا پتا شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو۔

ایک بات یاد رکھنی چاہیے، آج کل یہ پر اسراریت بہت پسند کی جاتی ہے۔ بہت اسرار واقعات کوئی بتاتا ہو نا، تو ان کو بڑے شوق سے سنا جاتا ہے۔ مثلاً امام مہدی علیہ السلام کا ظہور کب ہوگا، اس پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ خدا کے بندو! اگر اللہ پاک نے اس کو ظاہر کرنا چاہا ہوتا تو کیا چھپا ہوتا؟ اللہ پاک نے اس کو اگر مبہم رکھا ہوا ہے تو تم کون ہو اس کو ظاہر کر سکتے ہو؟ کوئی بھی ظاہر نہیں کر سکتا۔ ہاں جب ظاہر ہو جائے گا پھر سب کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔ ہاں سب کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔ ہاں البتہ نشانیوں سے ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ قریب آ گئے ہیں۔ حالات قریب آ رہے ہیں، یہ ہم کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا کہ قیامت اور میں اس طرح، مطلب قریب قریب فرما دیا۔ تو اس وقت بھی قریب تھا، اب بھی قریب ہے۔ البتہ غریب ہونے کا معیار اپنا اپنا ہے۔ تو یہ بات تو صحیح ہے لیکن یہ باتیں کب صحیح بالکل وقت جیسے بعض لوگ کہتے ہیں کہ 2026 میں امام مہدی علیہ السلام آئیں گے، خدا کے بندے تمہیں ٹیلی فون ہوا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو نہ قرآن میں یہ بات کی ہے، نہ حدیث میں بات ہوئی ہے، تو تمہیں کیسے پتہ چلا؟ امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ آپ کی کوئی دوستی ہے؟ کہ اس نے آپ کو اطلاع کر دی کہ میں 2026 میں آؤں گا۔ یہ specifically کہنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں کہہ سکتے ہیں قریب آ گیا ہے۔ نشانیاں ظاہر ہونے لگی ہیں۔ بہت زیادہ نشانیاں سامنے آ گئی ہیں، یہ بات ہم کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ کب آئے گا، یہ تو اللہ کو پتہ ہے۔ جیسے اللہ پاک نے یہاں نبی سے فرما دیا کہ اگر کوئی پوچھے کہ قیامت کب آئے گی؟ تو مطلب یہ ہے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کب ہو گا۔

اچھا اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے کافروں کو رحمت سے دور کر دیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر لی ہے، کی ہے، جس میں وہ ہمیشہ اس طرح رہیں گے کہ انہیں نہ کوئی حمایتی مل سکے گا اور نہ کوئی مددگار۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے انجام سے بچا دے۔

دیکھیے میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ کافر، ہم اگر کوئی ہمیں کافر کہہ دے نا تو ہم کتنا غصہ ہوں گے؟ کیوں کافر ایسی چیز ہے کیونکہ اللہ کی رحمت سے دور ہے۔ تو انسان کو غصہ آتا ہے۔ لیکن اگر کسی، کوئی ناسمجھی میں کافر ہو جائے۔ اس کو پتہ ہی نہ چلے کہ میں کافر ہو گیا ہوں۔ یہ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ایک بچی نے سوال کیا۔ حضرت کی ہے نا کتاب آپ کے مسائل اور ان کا حل۔ ایک بچی نے سوال کیا کہ میرے ساتھ یہ ظلم ہوا، یہ ظلم ہوا، یہ ظلم ہوا، مطلب ایک شادی وغیرہ اس میں مسائل بنتے ہیں نا۔ اگر یہ بات ٹھیک نہیں ہوئی تو میں عیسائی ہو جاؤں گی۔ حضرت نے فرمایا بدبخت! تو اسی وقت سے عیسائی ہو گئی ہے جس وقت تو نے کہا ہے۔ تو اس وقت سے کافر تو ہو گئی ہے۔ اب توبہ کر۔ کیوں، ظلم تجھ پر اللہ نے تو نہیں کیا، ظلم تو تجھ پر لوگوں نے کیا، اس کی سزا آپ اسلام کو دینا چاہتی ہیں؟ اسلام نے تو تم پر، اسلام نے تو احکامات کھلے بتا دیے۔ اگر کوئی عمل نہیں کرتا تو جرم تو اس کا ہے۔ جرم تو اسلام کا تو نہیں ہے۔ تو حضرت نے کون سی چیز بتائی کہ اس کہنے کے ساتھ ہی تو کافر ہو گئی ہے۔ تو یہ بات ہے مطلب اس قسم کی touchy باتیں جو ہوتی ہیں اسے جاننا چاہیے۔ بہشتی زیور میں باقاعدہ اس پر چیپٹر ہے، پورا عقائد کا چیپٹر ہے، پھر اس کے بعد وہ باتیں جن کے کہنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ وہ باقاعدہ پوری تفصیلات موجود ہیں۔ ان کو دیکھنا چاہیے کہ کون سی بات ہے جیسے بعض عورتیں کہہ دیتی ہیں نا کہ یہ ہے کہ یعنی کیوں یہ ظلم کیا؟ یہ بچہ کوئی فوت ہو جاتا ہے نا تو منہ سے کہہ دیتی ہیں کہ کیوں یہ ظلم کیا؟ تو اس سے بندہ کافر ہو جاتا ہے کیوں اللہ کی طرف ظلم کی نسبت۔ تو ہوتے جذبات میں ہیں لیکن بات تو یہی ہے کہ جذبات کو کنٹرول کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے یا نہیں ہے؟ ہمیں اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا چاہیے، ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے ہمارے ایمان پر فرق پڑ جائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ اچھا، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

درسِ قرآن - درسِ قرآن - پہلا دور