درسِ قرآن
سورة الأحزاب ۔آیت نمبر 59 تا 60, درس نمبر 1207
- قرآن مجید کی رو سے پردے کا حکم صرف ازواجِ مطہرات تک محدود نہیں بلکہ تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہے کہ وہ چادر سے اپنا چہرہ چھپائیں۔
- معاشرتی دباؤ کی پرواہ کیے بغیر شریعت کے مطابق پردہ کرنا لازم ہے، اور حج کے دوران بھی چہرہ چھپانے کا شرعی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
- پردہ عورت کو مردوں کی ہوس بھری نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے، اور یہی تحفظ مغربی خواتین کو اسلام کی طرف سب سے زیادہ attract کرتا ہے۔
- دنیا میں روحانیت کے بجائے حیوانیت والے لوگ زیادہ ہیں، اس لیے بے پردہ نکلنا ان کی حیوانی جبلت کو موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
- بے پردگی معاشرے میں گناہ کا باعث بنتی ہے، اس لیے عورت کو خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
- شرعی لباس کے ساتھ راستے کے کنارے چلنے سے عورتیں عام شریر طبقے کے شر اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہتی ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُورًا رَحِيمًا۔ لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا۔ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اے نبی تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے منہ کے اوپر جھکا لیا کریں۔ جلابیب۔ اس آیت نے واضح فرما دیا کہ پردے کا حکم صرف ازواجِ مطہرات کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہے۔ انہیں حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اپنے چہروں پر جھکا کر انہیں چھپا لیا کریں۔ مقصد یہ ہے کہ راستہ دیکھنے کے لیے آنکھوں کو چھوڑ کر چہرے کا باقی حصہ چھپا لیا جائے۔ اس کی صورت یہ بھی ممکن ہے کہ جس چادر سے پورا جسم ڈھکا ہوا ہے، اس کو چہرے پر اس طرح لپیٹ لیا جائے کہ آنکھوں کے سوا باقی چہرہ نظر نہ آئے۔ اور یہ صورت بھی ممکن ہے کہ چہرے پر الگ سے نقاب ڈال لیا جائے۔
یہ دیکھیں قرآن پاک میں صاف واضح طور پر مطلب یہ آ گیا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جی چہرے کا پردہ نہیں ہے۔ آج کل یہ ماڈرن دور میں ماڈرن لوگوں کے مسائل ہیں۔ جب میں جرمنی میں تھا تو میرے ساتھ گھر والے بھی تھے۔ تو ظاہر ہے وہ تو یہاں کے پردے کے مطابق، جیسے پردہ خواتین کرتی ہیں، چہرہ بھی چھپا لیا، نقاب ڈال لیا۔ تو مجھے جو پاکستانی تھے انہوں نے بتایا کہ آپ ترکوں کی طرح ان کو کہہ دیں کہ مطلب یہ ہے کہ چہرہ وہ نہ چھپائیں اور باقی جسم ڈھکا رہے۔ تو پھر لوگ ان کی طرف نہیں دیکھیں گے کیونکہ یہاں لوگ ترکوں کے ساتھ عادی ہیں، ترک عورتیں اس طرح کرتی ہیں۔ تو یہ جو اس وقت different ہے تو اس وجہ سے سارے لوگ اس کو اس کی طرف پھر دیکھتے ہیں کہ یہ کیا عجوبہ ہے۔ تو میں نے کہا کہ دیکھو اگر پورا جرمنی اس کی طرف دیکھے لیکن یہ ڈھکی ہوئی ہو۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے جسم ڈھکا ہوا ہے۔ لیکن اگر اس کا چہرہ کھلا ہوا ہے اور صرف ایک بھی اس کو دیکھے تو مجھے برداشت نہیں ہے۔ کیونکہ شریعت کے خلاف ہے۔ کیا مسئلہ ہے اس کو مطلب ہے کہ میں صرف لوگوں کی وجہ سے تبدیل کر لوں۔ ہاں جو شریعت کی بات ہے وہ بس بالکل صحیح ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ الحمدللہ پھر وہ جب ایسا ہوتا کہ جرمن عورتیں آتیں نا تو وہ react کرتیں، بعض دفعہ مجھ سے کہتی ہیں تو نے کیوں اس کو اس طرح کہا ہے۔ تو میں ان کو کہتا کہ ان سے پوچھو، مجھ سے نہ پوچھو۔ تو جب وہ ان سے پوچھتیں تو پھر یہ ان کو سمجھاتیں۔ کہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، یہ وجہ ہے، یہ وجہ ہے، یہ وجہ ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک خواہ مخواہ تبلیغ کا ذریعہ بن جاتا، مطلب وہ بات کرنے کا ذریعہ بن جاتا۔ تو یہ بات ہے کہ یہ بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے۔
اب دیکھیں حج کے موقع پر تو یہ ہے کہ نقاب چہرے کے ساتھ نہ لگایا کریں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چہرہ کھول لیا جائے۔ نقاب نہ لگانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کپڑا چہرے پہ نہ لگے۔ تو اس کے لیے باقاعدہ امہات المؤمنین نے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے، مطلب جو انتظام کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ اس طرح ایک چھجہ سا بنایا ہوا تھا، اس کے اوپر نقاب لٹکایا ہوا تھا۔ تو چہرے پہ لگتا بھی نہیں تھا اور چہرہ چھپ بھی جاتا تھا۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ یعنی اگر دیکھا جائے تو ہمیں حل وہ تلاش کرنا چاہیے جو شریعت کے مطابق ہو۔ شریعت سے آگے پیچھے اگر ہو تو پھر ٹھیک نہیں ہے۔ اور آج کل کے فتنے کے دور میں تو بہت ہی زیادہ مسئلہ ہے۔
آپ حیران ہوں گے جو یورپ اور امریکہ میں جو عورتیں مسلمان ہوئی ہیں، ان کو سب سے زیادہ جو اسلام کی چیز نے appeal کی ہے وہ پردہ ہے۔ جس وقت وہ یعنی بعد میں انٹرویو وغیرہ دیتی تھیں تو اس میں یہی بات ہوتی تھی کہ وہ جو ہوس بھری نظریں ہمارے اندر گھستی جاتی تھیں، اس سے ہم محفوظ ہو گئیں۔ بالکل اسی طریقے سے بات کرتی ہیں۔ اور یہ بات صحیح ہے کہ جو بھی عورت مطلب اس مسئلے میں یعنی اپنی عفت کے بارے میں conscious ہو تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ مرد کیا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر مرد مرد ہی ہے، مطلب مرد مرد ہی ہوتا ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں لنچ کے لیے جا رہا تھا دفتر میں۔ تو دھوپ لگ رہی تھی۔ ظاہر ہے لنچ کا ٹائم تھا۔ تو میں نے سائے کو دیکھا جیسے میرے اوپر جھپٹ پڑ رہا ہو کوئی، کوئی مطلب چیل ہے یا کوئی اس طرح جھپٹ پڑ رہا ہے۔ سائے میں میں نے دیکھا۔ تو مجھے فوراً خیال آیا کہ میری قراقلی ٹوپی جو ہے، وہ اس کا جو shape اس طرح ہے اور رنگ کہ قیمے کی طرح نظر آتا ہے۔ کلر اس کا اس طرح تھا نا قراقلی ٹوپی کا۔ کہ قیمے کی طرح نظر آتا ہے۔ میں نے کہا اچھا یہ چیل اس کو قیمہ سمجھ رہی ہے، اس کے اوپر جھپٹ رہی ہے۔ تو میں نے فوراً اپنی وہ قراقلی نیچے کر لی اور وہ چیل اس طرح جھپٹ کر نیچے، غوطہ لگاتے ہوئے وہ چلی گئی۔ تو اس وقت مجھے خیال آیا کہ دیکھیں، یہ اس کو قیمہ سمجھ رہے تھے۔
تو اس کی فطرت ہے کہ اس کی طرف اس نے جھپٹنا تھا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اس طرح گوشت open چھوڑ دیں اور بلی سے کہیں کہ please اس کو touch نہ کرو، تو کیا خیال ہے؟ کتنی سمجھ کی بات ہو گی؟ بلی کی فطرت میں کیا چیز ہے؟ اس کا یہ ہے کہ مطلب اس کے سامنے اگر گوشت کھلا ہے تو اس پہ وہ جھپٹے گی۔ چاہے آپ اس کو منع کریں یا منع نہ کریں۔ کتے کی بھی اپنی ایک فطرت ہے۔ وہ بھی مطلب اپنی فطرت کے مطابق کرتا ہے۔
تو انسان کے اندر دو چیزیں ہیں، ایک حیوانیت ہے اور ایک روحانیت ہے۔ تو جس کی روحانیت کمزور ہے، تو وہ حیوانیت والا ہے۔ تو حیوانیت والا کیا کرے گا؟ وہ اپنی جبلت کے مطابق، جو اس کی وہ ہے فطرت ہے، اس کے مطابق عمل کرے گا۔ تو اب ذرا دیکھو کہ دنیا کے اندر حیوانیت والے زیادہ ہیں یا روحانیت والے زیادہ ہیں؟ خود ہی فیصلہ کر لو۔ کسی خاص کے اوپر specific انگلی نہیں رکھ سکتے، وہ ظاہر ہے وہ علیحدہ بات ہے۔ لیکن generally اگر کہہ دیں، تو روحانیت والے زیادہ ہیں یا حیوانیت والے زیادہ ہیں؟ تو ظاہر ہے حیوانیت والے زیادہ ہیں۔ تو ان کے سامنے اگر ہم ان کی فطرت کے مطابق جو ان کو مطلوب چیز ہے، وہ اس طرح open کر دیں، تو نتیجہ کیا ہو گا؟ نتیجہ وہی ہو گا جو نظر آتا ہے۔ سمجھ میں آتا ہے؟ یعنی یہاں تک کہ حکم ہے کہ کوئی غیر محرم اگر آواز پکارے، تو ان کے ساتھ بات ہی اس طرح نہ کرے کہ اس کے دل میں کوئی چور ہو تو وہ جاگ اٹھے۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ یعنی انسان کو بہت خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ جو چیز عزیز ہو، اس کو بچا کے رکھا جاتا ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ جہاز میں ایک بزرگ جا رہے تھے۔ تو ظاہر ہے جو معتقدین تھے، وہ جو ان کو نظر آتے تھے، تو آ کر ان سے ملتے اور ان کے ہاتھ چومتے۔ اور اس طریقے سے مطلب ہے کہ، تو ایک air hostess تھی امریکن۔ اس نے جب دیکھا کہ بھئی یہ کوئی مسلمانوں کا بڑا ہی آدمی ہے۔ تو جب سب لوگ rush ختم ہو گیا، تو خود آئی۔ کہتی ہے جی میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟ اس نے کہا پوچھیں۔ اس نے کہا آپ نے مسلمانوں نے یہ عورتوں کو اس طرح کیوں پابند کیا ہوا ہے، جکڑا ہوا ہے کہ مطلب وہ باہر نہیں آ سکتیں اور یہ نہیں کر سکتیں وہ نہیں کر سکتیں؟ آخر کیوں اس طرح different سلوک آپ ان کے ساتھ کر رہے ہیں؟ تو وہ جو بزرگ تھا، وہ خیر سمجھدار تھا اور امریکہ کے قانون اور طریقوں سے بھی آگاہ تھا۔ اس نے کہا بیٹی، یہ تو آپ لوگوں کے قانون نے مجھے سکھایا ہے۔ اس نے کہا کیسے؟ اس نے کہا دیکھو ایک مقدمہ آپ کے ہاں بہت چل رہا تھا۔ بڑا لمبا مقدمہ چلا، اخیر میں جو فیصلہ ہوا اس کا، وہ بتاتا ہوں آپ لوگوں کے امریکن قانون کے مطابق۔ کہ ایک دکان کسی سے کھلی رہ گئی تھی۔ تو چوری ہو گئی تھی۔ اس کا مطلب ہے معاملہ چل رہا تھا۔ تو فیصلہ ججز نے یہ کیا کہ تو نے دکان کیوں کھلی چھوڑی تھی؟ تو نے امریکہ کے اندر ایک چور کا اضافہ کر دیا۔ اگر آپ دکان کھلی نہ چھوڑتے، تو چور کو کیسے جرات ہوتی کہ وہ آپ کی دکان میں سے چوری کرتا؟ تم نے امریکہ میں ایک چور کا اضافہ کر دیا، تو سزا اس کو دے دی اس دکاندار کو کہ اس نے دکان کھلی چھوڑی تھی۔ تو اس نے کہا ہم بھی یہی کرتے ہیں۔ کہ عورت opposite sex ہے۔ اس کے لیے attraction ہے۔ ہم کہتے ہیں اپنے آپ کو چھپا کے رکھو، تاکہ معاشرہ گناہ سے بچ جائے۔ تو ہم اس کو کہتے ہیں کہ protect رہو۔ اپنے آپ کو اس طرح کھلا نہ چھوڑو اس دکان کی طرح۔ تاکہ کسی کو جرات نہ ہو۔ تو اس نے کہا yes yes it is ok it is ok۔ کہ وہ چلی گئی۔
مطلب میرا یہ ہے کہ یہ بات بالکل fact ہے۔ بھئی فطرت فطرت ہے، اس کو آپ چینج نہیں کر سکتے۔ آپ اس کو ٹرین ضرور کر سکتے ہیں، لیکن ٹرین کرنے کے لیے وہ تیار تو ہو نا۔ تو جو راستے کے راہگیر، آپ اس کو ٹرین کر سکتے ہیں؟ راستے کے راہگیروں کو تو آپ اس طرح ٹرین نہیں کر سکتے، وہ تو اپنی فطرت کے مطابق چل رہے ہیں جو بھی ہے۔ روحانیت والے وہ اپنی آنکھ نیچے کر لے گا، ان سے تو ڈر نہیں ہے۔ لیکن جو روحانیت والے نہیں حیوانیت والے ہیں۔ تو وہ تو پھر موقع تلاش کریں گے۔ یہ بات ہے۔
اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ پہچان لی جائیں گی تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ یہ بھی ایک بات ہو گئی کہ بعض منافقین عورتوں کو راستے میں چھیڑا کرتے تھے۔ اس آیت میں پردے کے ساتھ نکلنے کی حکمت بیان فرمائی کہ جب عورتیں اس پردے کے ساتھ باہر نکلیں گی تو ہر دیکھنے والا سمجھ جائے گا کہ یہ شریف اور پاکدامن عورتیں ہیں، اس لیے منافقین انہیں چھیڑنے اور ستانے کی جرات نہیں کریں گے۔ اس کے برخلاف بے پردہ بن ٹھن کر باہر نکلنے والی خواتین ان کی چھیڑ چھاڑ کا زیادہ نشانہ بن سکتی ہیں۔ علامہ ابو حیان رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ یعنی دعوت کا لباس جس نے پہنا ہو۔ تو پھر تو وہ دعوت ہی ہوگی۔
کیونکہ شریعت میں جو عورتوں کو طریقہ بتایا گیا کہ اول تو گھر سے نکلیں نہیں۔ گھروں کے ٹاٹ بن جائیں۔ اگر نکلنے کی ضرورت پڑ گئی کسی طریقے سے۔ تو ایک تو ایسا لباس نہ پہنو جو attract کرنے والا ہو۔ آنکھیں اٹھیں۔ اور دوسرا یہ کہ راستے کی سائیڈ پہ چلیں۔ یعنی گویا کہ پردے کے ساتھ ڈر ڈر کے کوئی چلتے ہیں۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ امید ہے کہ ایک بہت بڑا جو طبقہ ہے، اس کے شر سے وہ بچ جائیں گی۔ اور جو خصوصی شریر فساد فسادی لوگ ہیں، ان کے ساتھ پھر کوئی اور ترتیب کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔ لیکن جو usually عام شریر طبقہ ہے، وہ جو open شرارت نہیں کر سکتے اور مطلب یہ ہے کہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں نقصان ہو سکتا ہے اس سے، تو کم از کم ان سے بچ جائیں گی۔ یہ بات ہے۔
اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ اگر وہ لوگ باز نہ آئے جو منافق ہیں، جن کے دلوں میں روگ ہے، اور جو شہر میں شر انگیز افواہیں پھیلاتے ہیں، تو ہم ضرور ایسا کریں گے کہ تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو گے۔ پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں گے، البتہ تھوڑے دن۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن پاک کے عالی مضامین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس کے مطابق اپنے ذہن اور قلب بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔