رمضان المبارک: اوقات کی قدر و قیمت اور روزے کی باطنی اصلاح

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • وقت کی اہمیت اور اس کا صحیح استعمال (نفع و نقصان)۔
    • فرائض کی اہمیت اور نوافل کا کردار۔
      • روزے کی حقیقت: خلوت و جلوت میں اللہ کا خوف (تقویٰ)۔
        • روزے دار کا اجر: اللہ تعالیٰ کا خود اجر دینا۔
          • صبح صادق اور صبح کاذب کی تفصیلی سائنسی اور شرعی وضاحت (بروجی روشنی/Zodiacal light)۔
            • تہجد اور تراویح کی فضیلت اور ان کے ذریعے ولایت کا حصول۔
              • خواتین اور قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام۔
                • آخری عشرہ اور لیلۃ القدر کی فضیلت اور تلاش۔

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ اَمَّا بَعْدُ:

                  فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

                  ﴿فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ۖ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ﴾ (البقرة: 187)

                  وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ:

                  ((اِذَا كَانَ اَوَّلُ لَيْلَةٍ مِّنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِيْنُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَّا بَاغِيَ الْخَيْرِ اَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ اَقْصِرْ، وَلِلّٰهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذٰلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ))

                  وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ:

                  ((كُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ اَمْثَالِهَا اِلٰی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّهٗ لِيْ وَاَنَا اَجْزِيْ بِهٖ يَدَعُ شَهْوَتَهٗ وَطَعَامَهٗ مِنْ اَجْلِيْ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهٖ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَآءِ رَبِّهٖ وَلَخُلُوْفُ فِيْهِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ رِّيْحِ الْمِسْكِ))

                  ((وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ وَاِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ اَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ فَاِنْ سَابَّهٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلَهٗ فَلْيَقُلْ اِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ))

                  اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

                  ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا﴾ (المزمل: 4)

                  ﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۙ قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا ۙ نِّصْفَهٗ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا ۙ اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا ۗ﴾ (المزمل: 1-4)

                  صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

                  معزز خواتین و حضرات!

                  رمضان شریف کا مبارک مہینہ شروع ہو چکا ہے اور آج تقریباً... آج کون سا دن ہے؟ ساتواں دن ہے؟ چھٹا ہے؟ چھ رمضان ہے۔ اب دیکھیں ہم کہہ رہے تھے کہ رمضان آئے گا، رمضان آئے گا... یہ تقریباً چھ دن نکل بھی گئے، اتنی جلدی یہ گزر رہا ہے۔

                  تو اس وجہ سے اس کے اندر جو کچھ ہے وہ ان کو، اس کو ہمیں حاصل کرنا چاہیے پوری طرح کوشش کر کے۔ وجہ یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ وقت کو لوگ استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاً وہ ایک چلتا ہوا پانی ہوتا ہے، اس پانی کو اگر آپ استعمال نہ کریں تو جا کر سمندر میں گر جائے گا، آپ کے کسی کام نہیں آئے گا۔ لیکن اگر آپ نے اس کو استعمال کرنا شروع کر لیا، تو جتنا آپ نے استعمال کر لیا وہ کر لیا۔

                  تو اسی طریقے سے وقت جو ہے یہ چل رہا ہے۔ اس کو Store نہیں کیا جا سکتا۔ پانی تو پھر بھی Store کیا جا سکتا ہے ڈیم (Dam) وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ جو ہے نا وقت اس کو Store نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو یا آپ استعمال کریں گے یا ضائع کریں گے۔ استعمال دو قسم کا ہو سکتا ہے؛ اچھی چیز میں استعمال کر لو، بری چیز میں استعمال کر لو۔ اچھی چیز میں استعمال کر لو یہ نفع ہے، بُری چیز میں استعمال کر لو یہ نقصان ہے۔ اور اگر آپ نے نہ اچھی میں استعمال کیا نہ بری میں استعمال کیا تو پھر کیا ہے؟ پھر نہ گیا نہ آیا۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے۔

                  اب ہمارا دن ہے نا، گزر رہا ہے، چوبیس گھنٹے ہیں، ان چوبیس گھنٹوں میں ہم پانچ نمازوں کے مکلف ہیں۔ تو اگر ہم کچھ بھی نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم "نہ کچھ گیا نہ کچھ آیا" میں ہیں، بلکہ ہم کن میں ہیں؟ نقصان میں ہیں۔ کیونکہ ہم نے نماز کو چھوڑ دیا۔ نماز کو ترک کر لیا۔ اس کا پوچھا جائے گا۔ اور بہت سخت عذاب دیا جا سکتا ہے اس کے لیے۔

                  لہٰذا نماز تو پڑھنی ہے۔ روزہ آ گیا، روزہ تو رکھنا ہے۔ زکوٰۃ کا وقت آ گیا تو اگر آپ پہ زکوٰۃ فرض ہوتا ہے تو زکوٰۃ تو دینا ہے۔ اگر حج کا وقت آ گیا اور آپ پر فرض ہے تو حج کرنا پڑے گا۔ یعنی ہر چیز جو جس وقت مقرر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس کو کرنا پڑے گا۔ گویا یوں کہہ سکتے ہیں ہم کہ اوقات کا کچھ حصہ اللہ جل شانہٗ نے اس کے استعمال طے کر دیا ہے کہ اس کا استعمال تو اس طرح کرنا پڑے گا۔ اور باقی جو اوقات ہیں وہ آپ کے لیے Free چھوڑ دیے ہیں۔ اس میں آپ تینوں طرح کام ہو سکتے ہیں۔ اچھا بھی کر سکتے ہیں، برا بھی کر سکتے ہیں اور چھوڑ بھی سکتے ہیں۔

                  اب اچھا کیا مطلب ہے؟ اچھے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اللہ پاک نے آپ کے اوپر فرض تو نہیں کیا لیکن آپ کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا۔ اگر آپ ان میں سے یہ کام کر لیں تو یہ اللہ کو پسند ہے۔ جس کو مستحب کہتے ہیں۔ وہ اگر آپ کریں گے تو یہ وقت کا صحیح استعمال ہے، اگر وہ آپ کریں گے۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ناپسند ہیں، مکروہات ہیں۔ اگر وہ کریں گے تو ناپسندیدگی کا اظہار ہو گا۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے طے شدہ پروگرام ہے سارا کچھ۔ ہمارے چوبیس گھنٹے، چوبیس گھنٹے ہفتے کے، پورا ہفتہ، پورے ہفتے سے مہینہ، مہینے سے سال، سال سے پوری عمر۔ یہ ہمارے لیے طے ہے۔

                  لہٰذا ہم لوگ اگر اس کے مطابق چلتے ہیں اور اس میں ہم لوگ وہ کام کرتے ہیں جو کہ اللہ نے کرنے کو فرمایا ہے، یعنی فرض ہے، واجب ہے، اور جو آپ ﷺ نے تاکید فرمائی ہے، سنتِ مؤکدہ ہے، یہ تو کرنے ہی کرنے ہیں، اس کو چھوڑ نہیں سکتے۔ لیکن اس کے علاوہ جو اوقات ہیں اس میں ہمارے پاس مستحبات ہیں اور پھر اس کے علاوہ جو ہے وہ کیا ہے؟ مباحات ہیں۔ تو مستحبات کو سمجھنا چاہیے۔ اب دیکھ لیں رمضان شریف کے روزے فرض ہیں، یہ تو رکھنے ہیں۔ اس پر اللہ پاک بہت زیادہ اجر عطا فرمائیں گے۔

                  جیسے کہ یہاں پر حدیث شریف گزری کہ اللہ پاک فرماتے ہیں: میں ہر چیز کا جو جزا ہے وہ کسی اور سے دلواتا ہوں مگر اس کو مطلب ہے دس گنا سے سات سو گنا اجر دلواتا ہوں، فرشتوں کے ذریعے سے۔ مگر روزہ! اس کا اجر میں خود دوں گا۔ کیونکہ روزہ میرے لیے رکھا ہے اس نے، اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

                  دیکھو نماز بھی لوگ اللہ کے لیے کرتے ہیں۔ کیا نماز کسی اور کے لیے پڑھتے ہیں؟ حج بھی اللہ پاک کے لیے کرتے ہیں۔ زکوٰۃ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے۔ روزے کی کیا خصوصیت ہے کہ فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے؟ کوئی بات تو ہو گی نا۔ وہ بات یہ ہے کہ حج کو لوگ دیکھ رہے ہیں، زکوٰۃ ادا کرنے کو لوگ دیکھ رہے ہیں، نماز کو لوگ دیکھ رہے ہیں۔ اس میں ان کا بھی حصہ ہو سکتا ہے۔ یعنی کچھ لوگ نماز اس لیے پڑھتے ہیں کہ میں نمازی کہلاؤں۔ حج اس لیے کرتے ہیں کہ میں حاجی کہلاؤں۔ زکوٰۃ اس لیے دیتے ہیں کہ لوگ مجھے سخی کہیں۔ یعنی یہ چیز ہو سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ سب لوگ ایسا ہی کرتے ہیں، بڑے اللہ والے موجود ہیں الحمد للہ، اچھے اچھے کام کرتے ہیں۔ لیکن ایسا ہو سکتا ہے۔

                  روزے میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ روزے میں اس لیے ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس میں خلوت جلوت میں سب میں روزہ ہے۔ لوگوں کے سامنے بھی روزہ ہے لیکن خلوت میں بھی روزہ ہے جس میں آپ کے ساتھ کوئی نہیں۔ اس وقت گویا کہ اس چیز کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ اللہ کے لیے روزہ رکھ رہا ہے یا کسی اور کے لیے رکھ رہا ہے۔ اگر جلوت میں روزہ ہے اور خلوت میں نہیں ہے تو روزہ تو ہے ہی نہیں! کیونکہ روزہ تو صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے مباشرت سے پرہیز ہے۔ تو اگر ان میں سے کسی بھی وقت میں چاہے خلوت میں کھا لیا، پی لیا یا مباشرت کی، یا جلوت میں، تو روزہ تو گیا۔ لیکن لوگ اس کو روزہ دار سمجھیں گے اگر لوگوں کے سامنے نہیں کرتے۔ لوگ اس کو روزہ دار سمجھیں گے، اللہ پاک کے نزدیک روزہ دار نہیں ہو گا۔ اور جو خلوت میں بھی کچھ نہیں کرتے ان چیزوں میں سے، تو وہ واقعی روزہ دار ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے۔

                  ایک دفعہ ایک بحری جہاز کا Captain جو تھا اس کا سامان کسی عرب ملک میں ان لوڈ (Unload) ہو رہا تھا۔ تو وہ دیکھ رہا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ہے اور پسینے سے شرابور ہے اور رمضان شریف کا مہینہ تھا اس کو پتہ ہے کہ لوگوں کے روزے ہیں۔ تو اس کو اس کے اوپر بڑا ترس آیا۔ جب سامان unload ہو گیا تو اس ادھیڑ عمر آدمی کو بلا لیا اپنے chamber میں۔ chamber میں بلا کے دروازہ بند کر لیا اور فریج سے ٹھنڈا مشروب لے کے اس کو پیش کر کے کہا: لو آپ پیو، آپ تھکے ہوئے ہیں۔

                  اس نے کہا: میرا روزہ ہے۔

                  اس نے کہا: میں نے دروازہ بند کیا ہے، کوئی آپ کو نہیں دیکھے گا، آپ پیئیں۔

                  تو وہ عرب تھے، تو اس نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا، کہتا ہے: "اَيْنَ اللّٰهُ؟ فَاَيْنَ اللّٰهُ؟ فَاَيْنَ اللّٰهُ؟" پھر اللہ کدھر ہے؟ پھر اللہ کدھر ہے؟ مطلب میں اگر یہ پیوں تو پھر اللہ پاک کدھر ہے؟ یعنی میں نے تو پھر اللہ پاک کے لیے نہیں رکھا۔

                  اس کا اس کیپٹن کے دل پہ بڑا اثر ہوا کہ یہ کوئی عجیب چیز ہے۔ پھر اس نے تحقیق کی، اسلام کا مطالعہ کیا اور پتہ چلا کہ اسلام واقعی حقیقی مذہب ہے، تو وہ بھی مسلمان ہو گیا۔ یعنی اس کے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ وہ شخص بنے جس نے خلوت جلوت میں روزے کا اہتمام کیا۔

                  تو روزہ ایسی نعمت ہے جو اللہ والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ پس ہمیں روزہ کو اگر رکھنا ہی ہے تو پھر اچھی طرح رکھیں۔ مجھے آپ بتا دیں وہ کون سا ہوشیار آدمی ہو گا جو بازار سے سودا لائے گا اور ایسے تھیلوں میں ڈالے گا جس میں شگاف ہو؟ مثلاً کوئی چاول لا رہا ہے دس کلو کا، تھیلے میں شگاف ہے اور موٹر سائیکل پہ رکھ لیا، موٹر سائیکل گھر پہنچ گیا تو پتہ چلا صرف تھیلا ہی ہے درمیان میں کچھ بھی نہیں، وہ چاول تو راستے کے نذر ہو گئے۔ کوئی ایسا ہوشیار آدمی ہو گا جو اس طرح کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا۔

                  تو ایسے ہوشیار آپ کو بہت ملیں گے جو روزہ تو رکھ لیں گے، تین چیزوں سے پرہیز کر لیں گے خلوت جلوت میں، لیکن اس میں گناہ کے کام بھی کریں گے۔ اپنی آنکھ کو غلط استعمال کریں گے۔ کان سے غلط چیزیں سنیں گے۔ زبان سے ممنوع چیزیں بولیں گے۔ اور لوگوں کے ساتھ غلط ڈیل (Deal) کریں گے۔ اب اس شخص کا ویسے روزہ تو ہے، روزہ کو Challenge نہیں کیا جا سکتا، روزہ ہے، اس کو دوبارہ روزہ نہیں رکھنا، روزہ اس کا ہو گیا ہے۔ لیکن روزے کا ثواب گیا! اور روزے کا جو اصل تھا وہ ختم ہو گیا، مثلاً وہی میں کہتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ میں تھیلا رہ گیا اور تھیلا جس چیز کے لیے تھا وہ گیا۔ تو اس طریقے سے اگر کسی شخص نے روزے کے جو صحیح احوال ہیں اس کا اہتمام نہیں کیا تو وہ اپنے روزے کو ضائع کر دیتا ہے۔

                  اس لیے یہ فرمایا کہ بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کو روزے میں سوائے بھوک افلاس کے کچھ نہیں ملتا۔ بس انہوں نے بھوک اختیار کر لی اور ان کو فاقہ ہو گیا لیکن اس کو کوئی ثواب نہیں ملا۔ فائدہ نہیں ہوا۔ وجہ کیا ہے؟ روزے کے ساتھ ہم کیا کماتے ہیں؟ نصِ قرآنی ہے کہ روزے کے ساتھ ہم تقویٰ کماتے ہیں۔

                  ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ (البقرة: 183)

                  "اے ایمان والو! تم پر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے تھے جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔" تو روزے کا جو ہے مقصد جس چیز کے لیے روزہ رکھوایا گیا ہے وہ ہے تقویٰ حاصل کرنا۔

                  اب تقویٰ کیا چیز ہے؟ اگر حاصل ہو گیا تو ولی اللہ بن گئے۔ کیونکہ ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ۚ * الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ ۗ﴾ (يونس: 62-63)۔ آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے ولی ہیں ان کو نہ خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے، وہ ایمان رکھتے ہوں گے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہو گا۔ سبحان اللہ۔ اب تقویٰ اگر ایمان کے ساتھ مل جائے تو ولایت ہے۔ تو اگر آپ نے اس روزے کو Maintain کیا، برقرار رکھا، اس کے خلاف کوئی کام نہیں کیا، یعنی تقویٰ موجود رہا تو ماشاءاللہ آپ ولی اللہ بن گئے۔ لیکن اگر آپ نے اس تقویٰ کو جو روزے سے حاصل کر رہے ہیں، وہ ان اعمال کی وجہ سے ضائع کر رہے ہیں جو میں نے عرض کیے؛ آنکھ کے ذریعے سے غلط اعمال، کان کے ذریعے سے غلط اعمال، زبان کے ذریعے سے غلط اعمال، دماغ کے ذریعے سے غلط سوچ اور ہاتھ پاؤں غلط استعمال، اس کی وجہ سے آپ اگر روزہ ضائع کر رہے ہیں تو آپ کو کچھ بھی نہیں ملا۔ تو ہر روز آپ کو یہ چانس (Chance) ملتا ہے کہ آپ متقی بن جائیں، آپ ولی اللہ بن جائیں۔ لیکن اگر آپ واقعتاً اس طرح رہیں، اگر اس طرح نہیں رہے تو نہیں ملے گی وہ چیز۔

                  تو پہلے تو ہمیں روزے کے بارے میں سمجھنا ہے کہ روزہ ہے کیا، اس میں ہمیں کرنا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں کیا مدد ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں کیا مدد ہے؟ وہ بھی عرض کرتا ہوں۔ ابھی حدیث شریف میرے سامنے ہے، فرمایا: (اِذَا كَانَ اَوَّلُ لَيْلَةٍ مِّنْ شَهْرِ رَمَضَانَ) جب پہلی رات رمضان شریف کی آتی ہے... یہاں دن نہیں فرمایا، کیوں؟ دن نہیں فرمایا؟ رات پہلے آتی ہے۔ یعنی پورا رمضان تب ہو گا جب رات سے شروع ہو۔ اگر دن سے آپ شروع کریں تو وہ پہلا والا رات تو گیا۔ تو جب پہلی رات رمضان شریف کی آتی ہے (صُفِّدَتِ الشَّيَاطِيْنُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ) شیاطین کو اور سرکش جنات کو قید کر دیا جاتا ہے۔ (وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ) اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ (فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ) پس اس میں پھر کوئی دروازہ ان کا نہیں کھولا جاتا رمضان میں۔ وَفُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ اور پھر اس میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔

                  (وَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَّا بَاغِيَ الْخَيْرِ) اور ایک ندا کرنے والا کہتا ہے: اے خیر کے طلبگار! (اَقْبِلْ) آگے بڑھو۔ یعنی مزید کرو محنت کرو، آگے بڑھو۔ (وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ اَقْصِرْ) اے شر کے طلبگار رک جاؤ۔ (وَلِلّٰهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ) اور اللہ جل شانہٗ لوگوں کو جہنم سے چھڑاتے ہیں۔ (وَذٰلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ) اور یہ ہر رات معمول ہے۔

                  اب یہاں پر فرماتے ہیں آگے کہ (لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ) روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں۔ (فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهٖ) ایک فرحت تو اس کا روزہ کھولنے کے وقت ہے۔ آپ سب کا تجربہ ہو گا کہ جتنا روزہ مشکل ہوتا ہے اتنا ہی فرحت کھولنے کے وقت ہوتی ہے۔

                  میں ایک دفعہ زیارت کاکا صاحب میں تھا، گرمی کے روزے تھے۔ عصر کے وقت بارش ہو گئی تو ایک وہاں ہمارے رشتہ دار بیٹھے ہوئے تھے، کہتے: چلو افطار کا مزہ گیا۔ افطار کا مزہ گیا! وہ چونکہ پورا دن گرمی کا روزہ رکھا تھا تو اب عصر کو بارش ہو گئی موسم ٹھنڈا ہو گیا، لہٰذا اب وہ مزہ نہیں آئے گا جو کہ وہ گرمی والا ہوتا۔ تو بہرحال جس موسم کا بھی روزہ ہوتا ہے افطار اس کا بڑا مزیدار ہوتا ہے۔ افطار اس کا بڑا مزیدار ہوتا ہے۔ تو یہ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر رکھا ہے یہاں پر۔

                  (وفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَآءِ رَبِّهٖ) اور دوسری خوشی اس وقت ہو گی جب یہ اللہ سے ملے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا میں اس کو روزے کا اجر خود دوں گا۔ تو جب سرٹیفیکیٹ ملتا ہے، شیلڈ ملتا ہے، انعام ملتا ہے، اس وقت لوگوں کی کتنی خوشی ہوتی ہے اور انعام دینے والا اللہ پاک! تو کتنی خوشی ہو گی؟ تو یہ ایک وہاں پر ہو گا۔

                  (وَلَخُلُوْفُ فَمِّ الصَّائِمِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ رِّيْحِ الْمِسْكِ) وہ جو بدبو روزہ دار کے منہ سے آتی ہے پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے۔ پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے۔ تو (اَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ رِّيْحِ الْمِسْكِ) یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے مشک کی بو سے۔ اللہ کو پسند ہے۔

                  (وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ) اور روزے جو ہیں نا یہ کیا ہے؟ ڈھال ہے۔ لیکن ایک اور حدیث شریف میں فرماتے ہیں جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ یعنی کوئی عمل اس کے خلاف نہ کرے جیسے میں نے عرض کیا تھوڑی دیر پہلے۔ (وَاِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ اَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ) تو جس وقت کوئی روزہ رکھے تم میں سے تو نہ تو رفث کر لے یعنی بد نظری کر لے اور جو مقابل جنس ہے اس کے ساتھ اختلاط کرے اور نہ چیخے چلائے۔ (فَاِنْ سَابَّهٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلَهٗ فَلْيَقُلْ) اگر اس کو کوئی ٹکرے اور اس کے ساتھ لڑائی کرے تو کیا کہے؟ (فَلْيَقُلْ اِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ) میں تو روزہ دار آدمی ہوں، یعنی مجھے نہ چھیڑو میں آپ کے ساتھ لڑ نہیں سکتا۔ اپنے آپ کو بچائے۔ جیسے ایک اور جگہ قرآن میں ہے نا کہ جس وقت جاہل ٹکر جائیں تو ﴿قَالُوْا سَلٰمًا﴾ (الفرقان: 63) اس وقت بس سلام کر کے نکل جاؤ۔ ﴿وَاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا﴾ (الفرقان: 63)۔

                  تو انسان کو جب اتنا بڑا انعام مل رہا ہو... یہ سیاسی لیڈروں سے سیکھو نا! یہ سیاسی لیڈر جو کامیاب ہو جاتے ہیں نا الیکشن میں، تو دوسرے مخالفین اس کی بہت مخالفت کرتے ہیں، چیختے چلاتے ہیں، چور ہے، فلاں ہے، یہ ہے، وہ ہے، تو اس کی پرواہ کرتے ہیں؟ وہ پرواہ نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہم نے جو چیز حاصل کر لی کر لی اب یہ چیخیں چلائیں ہمیں ان سے کیا؟ تو اسی طریقے سے اگر کوئی ہمیں روزے میں ٹکرے تو یہ بالکل ایسا ہے کہ جو ہمارے مخالف ہیں، تو ہم کیوں خواہ مخواہ اپنی چیز کو ضائع کر دیں؟ تو پرواہ نہ کرے۔ آدمی۔

                  اللہ اکبر! تو جو آیت کریمہ تلاوت کی ہے اس کے بارے میں ہے: ﴿فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ﴾ (البقرة: 187) پس اب مباشرت کرو اپنی بیویوں کے ساتھ اور اس کو حاصل کرو جو تمہارے لیے لکھا گیا ہے۔ ﴿وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ (البقرة: 187) "اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے جو سفید دھاری ہے سیاہ دھاری سے فجر کی"۔ ﴿ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ﴾ (البقرة: 187) "پھر روزہ مکمل کر لو رات کے وقت تک"۔

                  اب اس میں حدود بتائے گئے اور جو روزے میں چیزیں ہیں لازم وہ بتا دی گئیں۔ تینوں بتا دیے گئے۔ دیکھیں مباشرت رات کے اندر جائز ہے جب تک روزہ شروع نہیں۔ اور کھانا پینا بھی جاری رہ سکتا ہے جب تک یہ صبح صادق کا وقت نہ آئے۔ اور صبح صادق کا وقت کیا ہے؟ جب سفید دھاری یعنی وہ صبح کی اور سیاہ دھاری رات کی فجر کے وقت جو ظاہر ہوتی ہے وہ ظاہر ہو جائے۔ تو یہ وقت بتا دیا گیا۔ اس کو کہتے ہیں صبح صادق۔

                  ایک ہوتا ہے صبح کاذب۔ صبح کاذب وہ ہے جو صبح کی طرح نظر آتا ہے لیکن صبح نہیں ہوتا۔ صبح کی طرح کیوں نظر آتا ہے؟ اس میں روشنی ہوتی ہے۔ تو ظاہر ہے رات کے اندھیرے سے روشنی تو آ گئی نا مطلب تو ظاہر ہے وہ جو فارمولا (Formula) ہے وہ تو ہو جاتا ہے، یعنی روشنی تو ہو گئی تاریکی ختم ہو گئی۔ تو صبح تو ہے لیکن کاذب اس لیے کہ ابھی وہ جو شرعی صبح ہے وہ نہیں ہے۔ اب یہ کیا چیز ہے؟ یہ تو قرآن میں اور حدیث میں تو اتنا ہے۔ حدیث میں اتنا فرمایا گیا کہ بلال -رضی اللہ عنہ- کی اذان پر کھانے پینے سے نہ رکو اور طولانی صبح کے ظہور سے بھی کھانے پینے سے نہ رکو۔ یہاں تک کہ وہ صبح نمودار ہو جائے جو پھیلی ہوئی ہو، جو پھیلی ہو۔

                  پھیلی ہوئی اور طولانی میں کیا فرق ہے؟ آسمان یا افق کا جو طول ہے وہ اس کی بلندی ہے اور پھیلاؤ جو ہے وہ افق کے اوپر ہے۔ پس جو روشنی اونچائی کی طرف جاتی ہے اور پھیلاؤ میں کم ہے تو یہ طولانی ہے۔ مستطیل بھی اس کو کہتے ہیں احادیث شریف میں، مستطیل روشنی۔ کیونکہ وجہ کیا ہے کہ یہ اس کی جڑ جتنی پھیلی ہوتی ہے وہ تنگ ہوتی ہے اور بلندی اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو حدیث شریف میں اشارہ ہاتھ اس طرح کھڑا کر کے بتایا گیا کہ جیسے ہاتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اب ہاتھ کھڑا ہو گیا تو کیا مطلب؟ طولانی ہے نا، پھیلاؤ کم ہے اور طول زیادہ ہے مطلب بلندی زیادہ ہے۔ اور انگلیاں کھول دیں کہ اس طرح ہوتا ہے صبح صادق، مطلب یہ پھیلاؤ۔ اب دیکھیں یہ یہاں سے لے کر یہاں تک جو بلندی ہے وہ کم ہے یہاں سے لے کر یہاں تک کے مقابلے میں۔ تو یہ مطلب بتایا گیا۔

                  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صبح صادق وہ ہے جس کا پھیلاؤ اس کی بلندی سے زیادہ ہو۔ اور صبح کاذب وہ ہے جس کی بلندی اس کی جڑ کے پھیلاؤ سے زیادہ ہو۔ اچھا اب یہ کاذب کیوں ہے؟ روشنی تو ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے سورج کی روشنی کو ہمارے لیے معیار بنایا ہے اوقات کا۔ سورج کی روشنی کو معیار بنایا ہے اوقات کا۔ اب سورج کی روشنی جو ہے یہ وہی ہے جو صبح صادق کی ہے کہ ظاہر ہے سورج ختم تو نہیں ہوتا، سورج آڑ کے پیچھے چھپ جاتا ہے افق کے، اس طرح چلا جاتا ہے مغرب کے وقت، یعنی نیچے چلا جاتا ہے۔ پھر نیچے سے ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے واپسی میں صبح کے وقت مشرق سے نمودار ہوتا ہے۔

                  تو جو نمودار ہوتا ہے اس کا زاویہ تو بالکل ٹھیک یعنی صفر درجہ آپ کہہ سکتے ہیں، یعنی ہو جاتا ہے۔ لیکن صبح صادق جو ہوتا ہے وہ جب یہ اٹھارہ درجے نیچے ہوتا ہے، اس وقت اس کی جو روشنی پھوٹتی ہے وہ افق کے اس کناروں کو Cross کرتے ہوئے سامنے آتی ہے۔ تو وہ بن جاتی ہے ایک ماشاءاللہ... جیسے اب دیکھو نا روشنی تو گولائی میں پھیلتی ہے نا ہر طرف۔ آپ کوئی Bulb لے لیں تو اس کی روشنی کو دیکھو تو کیسے جاتی ہے؟ ہر طرف جاتی ہے تو ایک Sphere بن جاتا ہے۔ تو اسی طریقے سے اس کا بھی Sphere بنتا ہے۔ تو وہ جو Sphere یا گنبد ہے یا جو بھی ہے وہ جتنا حصہ آپ کو افق پہ نظر آئے گا تو آپ کو قوس کی شکل میں نظر آئے گا۔ تو یہ جو ہے نا یہ کیا ہے؟ صبح صادق ہے۔

                  لیکن جو صبح کاذب ہے وہ روشنی سورج کی نہیں ہے۔ کیونکہ سورج تو ابھی اس مقام پہ نہیں آیا۔ وہ روشنی سورج کی نہیں ہے، وہ روشنی ہے ستاروں کی۔ بھئی ستارے تو ہر طرف ہوتے ہیں تو پھر یہ روشنی ستاروں کی کیوں ہے اور باقیوں کی نہیں ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ وہ ستارے جو سیارے ہیں، جس کو عام لوگ ستارے کہتے ہیں جیسے مشتری اور زہرہ اور یہ، وہ سیارے ہیں۔ کیونکہ سیارے جو ہے یہ کیا ہوتے ہیں؟ یہ سورج کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ تو اب وہ جو سورج کے ارد گرد جو سیارے گھومنے والے ان کی جو روشنی ہے، Reflection، تو وہ روشنی تو براہ راست سورج کی نہیں ہے نا وہ تو Reflection ہے۔ تو Reflection سے نہیں ہوتا تو وہ روشنی جو سورج کی Reflect ہوتی ہے سیاروں سے، وہ روشنی آپ کو دکھائی دے رہی ہے صبح کاذب کے وقت۔

                  اچھا طولانی کیوں ہوتی ہے؟ طولانی اس لیے ہوتی ہے کہ اگر آپ دائرے کو دیکھیں Side سے، تو آپ کو کیسے نظر آئے گا؟ یعنی دائرے کو اگر... مطلب ہے اگر دائرہ ہے اس طرح، اس کو آپ ادھر سے دیکھیں تو آپ کو اس طرح نظر آئے گا۔ مطلب تنگ وہ ہو جائے گا۔ تو جو صبح کاذب کی روشنی ہے بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے اتنا آدھا آپ کو نظر آتا ہے۔ تو یہ بروجی روشنی کہلاتی ہے، اس کو Zodiacal light بھی کہتے ہیں، بروجی روشنی کہتے ہیں۔ یہ یہ Zodiac... Zodiac جو مختلف سیارے ہیں اور جھرمٹیں ہیں، وہ ان کی جو روشنی ہے، وہ جھرمٹوں کی روشنی وہ Reflect ہو جاتی ہے۔ مختلف، کیونکہ سورج کے ارد گرد سارے جھرمٹ چل رہے ہیں نا۔ تو ان کی روشنی آ رہی ہے تو وہ اس طرح نظر آتی ہے۔ بہرحال چونکہ وہ سورج کی روشنی نہیں ہے تو اس وجہ سے اس کے اوپر اعمال فرض نہیں ہوتے۔ اعمال فرض نہیں ہوتے۔ تو بہرحال یہ اتنی بات میں نے اس لیے کی کہ آج کل اس چیز کو Confuse کیا جا رہا ہے۔ بہت سارے لوگ مجھ سے اس قسم کی باتیں پوچھتے ہیں کہ یہ کیوں ہے اور یہ کیسا ہے؟ آج کل چونکہ دوسرے لوگ بتاتے ہیں۔ تو پھر ظاہر ہے پھر ہمیں بھی بتانا پڑتا ہے کیونکہ Social Media ہے اب کیا کریں جی؟ اب Social Media پہ ہر ایک آدمی بولتا ہے۔ تو اگر غلط آدمی بولتا ہے تو صحیح آدمی کو پھر بولنا چاہیے نا کیونکہ وہ تو اگر وہ جواب نہ دے تو لوگ تو Confuse ہی ہوں گے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ مجبوراً ہمیں بتانا پڑتا ہے۔

                  تو یہ صبح صادق ہے اور صبح صادق کے بعد روزہ شروع ہو جاتا ہے اور روزہ رہے گا ﴿اِلَى الَّيْلِ﴾ . ﴿ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ﴾ (البقرة: 187) اس کو پھر پورا کرو رات تک۔ رات تک اس روزے کو برقرار رکھنا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ روزے کے جو Duration ہے، Time، یہ Fixed نہیں کیا گیا۔ بلکہ ہر موسم میں تبدیل ہوتا ہے اور یہ تبدیلی روز بروز آتی ہے۔ اس کی کیا حکمت ہے؟ عجیب! یعنی کسی Time گھنٹوں کے حساب سے فکس (Fix) نہیں کہ اتنا گھنٹے روزہ رکھو۔ اور یہ بھی نہیں کہا بلکہ یہ کیا ہے کہ ایک تو تبدیلی ہے، تو تبدیلی اس طرح ہے کہ دیکھو نصف کرہ شمالی جو ہے وہ نصف کرہ جنوبی سے مختلف ہے۔ اب ادھر بہار آ رہا ہے نا، بلکہ بہار ہے، تو نصف کرہ جنوبی میں کیا ہے؟ وہاں خزاں ہے۔ وہاں خزاں ہے۔ یہاں اگر روزے سخت گرمیوں میں ہیں تو وہاں سخت سردیوں میں ہوں گے۔ یہاں اگر دن لمبے ہوں گے تو وہاں دن چھوٹے ہوں گے۔

                  تو اگر شمسی مہینوں کے حساب سے ہوتا، مثلاً یہ کہا جاتا کہ آپ مئی میں روزے رکھیں۔ تو مئی کے روزے ہمارے لیے بہت گرم روزے ہوتے اور ان کے لیے بہت ٹھنڈے ہوتے، انصاف والی بات نہ ہوتی۔ انصاف والی بات نہیں ہوتی۔ تو قمری روزے رکھے، تو اس میں کبھی ان کے گرم کبھی ہمارے گرم، کبھی ان کے سرد کبھی ہمارے سرد، کبھی ان کے لمبے کبھی ہمارے لمبے، اس طریقے سے سب کے ساتھ ایک جیسا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو ایک تو یہ کہ شمسی نہیں رکھے، قمری رکھے۔ اور پھر قمری رکھنے کی وجہ سے یہ اس میں کم و بیش یہ ہوتا رہتے ہیں۔ جو قمری حساب ہے مہینوں کے وہ تو یہ ہوتا ہے کہ ہر موسم میں آتا ہے نا۔ ہر سال تقریباً دس گیارہ دن کا فرق پڑتا ہے۔ تو یہ مطلب مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ تو 36 سال میں تقریباً یہ دور پورا ہوتا ہے۔ یعنی اگر کسی نے سخت گرمی کے روزے رکھے نا تو 36 سال کے بعد پھر ان کو سخت گرمی کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ اس سے پہلے وہ سخت گرمی کے روزے نہیں آئیں گے۔ تو یہ تقریباً اس طرح ہے۔

                  تو اللہ جل شانہٗ نے اپنی حکمتوں کے ساتھ ان تمام چیزوں کو فرض کیا ہوا ہے اور اللہ کی حکمت کے مطابق ہی ان کو رکھنا چاہیے۔ ابھی عرض کرتا ہوں یہ ماشاءاللہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں یہ فرمایا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۙ ، قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا ۙ * نِّصْفَهٗ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا ۙ ، اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا ۗ﴾ (المزمل: 1-4)۔ سورۃ مزمل ماشاءاللہ سب لوگ جانتے ہیں اور سورۃ مزمل میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں: اے کپڑوں میں رہنے والے نبی! رات کو کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی یعنی آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر دیجیے یا کچھ زیادہ کر دیجیے اور قرآن خوب صاف صاف پڑھا کرو۔

                  تو اللہ جل شانہٗ نے دن کو رکھا ہے کام کے لیے اور رات کو رکھا ہے آرام کے لیے۔ دن کو جو فرض نمازیں ہیں دو نمازیں جو ہیں نا فرض ہیں وہ ظہر کی اور عصر کی، وہ ہوتی ہیں اور رات کو تین نمازیں ہوتی ہیں۔ مغرب، عشاء اور صبح فجر کی، مطلب وہ بھی اس میں ہوتی ہیں یعنی گویا کہ سورج نہیں چڑھا ہوتا۔ تو یہ نمازیں ہمارے پاس ماشاءاللہ فرض نمازیں ہیں۔ اس کے علاوہ نفل نمازیں ہیں۔ جو نفل نمازیں ہیں دن کی بھی نفل نمازیں ہیں؛ اشراق ہے جو سورج کے طلوع ہونے کے فوراً بعد یعنی کچھ مکروہ وقت گزرنے کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ پھر چاشت ہے، پھر اوابین ہے۔

                  میں ایک دن سوچ رہا تھا (اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمتیں ہیں) یعنی اب دیکھیں اگر ظہر کی نماز کو آپ دیکھیں تو ظہر کی نماز کے مقابلے میں... ظہر فرض ہے نا، تو ظہر کی نماز کے مقابلے میں چاشت کی نماز نفل ہے۔ یہ چاشت کی نماز نفل ہے۔ اور عصر فرض ہے نا، تو عصر کے مقابلے میں اشراق کی نماز نفل ہے۔ یعنی گویا کہ کسی حصے کو محروم نہیں رکھا گیا۔ ایک میں اگر فرض ہے تو دوسرے میں نفل رکھا گیا ہے۔ تو یہ جو مغرب ہے... مغرب... تو مغرب تو خیر رات کی ابتداء میں ہے، تو عشاء کے مقابلے میں تہجد رکھا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ وہ بھی نفل ہے نا۔ ٹھیک ہے۔ تو اب یہ... یہ جو نفل ہے چونکہ یہ رات کا ہے اس کے لیے اٹھنا دشوار ہوتا ہے، تو اس پہ اجر بہت زیادہ رکھا ہے۔ اس کو نفل نمازوں کا سردار کہا جاتا ہے اور ولایت کی کنجی کہا جاتا ہے، یہ ولایت کی کنجی ہے۔

                  اگر کوئی ان نوافل کا اہتمام کرے تو اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو گی ولی اللہ بننے کی۔ جس طرح یعنی انسان مراقبات اور خلوت کے ذریعے سے ولی اللہ بننے کی تیاری کر سکتا ہے نا، اس طرح جو یہ رات کا نماز ہے یہ بھی ولایت کی کنجی ہے اگر کوئی شروع کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستہ بنائے گا آہستہ آہستہ آہستہ ولی اللہ بن جائیں گے۔ تو اس نماز کو ہمارے بزرگ نفل ہی کہتے ہیں، مستحب ہی کہتے ہیں لیکن اس کی ترغیب بہت زیادہ دیتے ہیں۔ ترغیب بہت... اس میں علاج بھی ہے اور اس میں ثواب بھی ہے۔ علاج اس طرح ہے کہ تہجد ہے، مجاہدہ ہے۔ تو مجاہدہ نفس کا علاج ہے تو اس میں علاج بھی ہے اور ثواب بہت زیادہ ہے کہ ﴿فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ﴾ (الاسراء: 79) تو نفل چیز جو زائد ہوتی ہے ثواب کے لیے تو اس میں ثواب زیادہ ہوتا ہے۔ تو مطلب اس میں ثواب بھی زیادہ ہے اور علاج بھی ہے۔ پس اگر کوئی شخص اپنے علاج کے لیے یہ تہجد کا نماز شروع کر لے تو اس کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا اس میں۔

                  ٹھیک ہے ابتداء میں مشکل ہوتا ہے لیکن جس وقت لوگ عادی ہو جاتے ہیں نا پھر ان کے لیے نہ پڑھنا مشکل ہو گا۔ بلکہ اس کا ایک نور ہے۔ تہجد کی نماز کا ایک نور ہے۔ تو اس نور کا ظہور دل پر بھی ہوتا ہے، چہرے پر بھی ہوتا ہے۔ یہ میں مختلف چیزیں جمع کر رہا ہوں مطلب جو روایات میں آتی ہیں نا تو ان کو میں جمع کر رہا ہوں کہ اس کا ظہور دل پر بھی ہوتا ہے اور اس کا ظہور چہرے پر بھی ہوتا ہے۔ چہرے پر اس طرح ہوتا ہے کہ جو تہجد گزار آدمی ہوتا ہے اس کی آنکھوں میں اور ماتھے پہ ایک خاص قسم کی روشنی ہوتی ہے جو محقق کو نظر آ جاتی ہے۔

                  "مرد حقانی کی پیشانی کا نور

                  چھپ نہیں سکتا ہے پیش ذی شعور"

                  تو جو ذی شعور ہوتے ہیں وہ پہچان لیتے ہیں کہ یہ تہجد گزار ہے۔ جیسے حیادار آدمی کی آنکھوں کی جھلک مختلف ہوتی ہے نا بے حیا آدمی سے۔ بے حیا آدمی کی آنکھیں مختلف ہوتی ہیں اور حیادار آدمی کی آنکھیں مختلف ہوتی ہیں۔ اس طرح تہجد گزار آدمی کی آنکھیں مختلف ہوتی ہیں اور جو تہجد نہیں پڑھتا اس کی آنکھیں مختلف ہوتی ہیں۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ یہ صبح سویرے جو اٹھنا ہے نا یہ انسان کے اندر تبدیلی لاتا ہے۔ تو یہ تبدیلی ظاہری بھی ہوتی ہے باطنی بھی ہوتی ہے جیسے میں نے کہا دل پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے اور ساتھ اس کا چہرے پر بھی ہوتا ہے تو ظاہری باطنی دونوں یہ کرتا ہے۔

                  تو رمضان شریف میں اس طرح ایک نعمت ہر آدمی کو لازمی دی جاتی ہے اور وہ ہے تراویح۔ تراویح جو ہے، یعنی گویا عشاء کی نماز کا مقابلے میں اللہ نے نفل رکھوایا ہے نا تہجد کا، تو یہاں پر عشاء کے ساتھ ہی وہ دے دیا جاتا ہے بیس رکعت تراویح اور یہ بیس رکعت تراویح جو ہے بہت قیمتی ہے۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ انسان کے اوپر یہ بہت اثر کرتا ہے۔ یعنی اس کے اندر دو چیزیں ہیں؛ تہجد کی طرح اس میں مجاہدہ ہے۔ یعنی اب دیکھیں پہلے دنوں میں جب آپ نے کھانا وانا نہیں کھایا ہوتا مثال کے طور پر پورا اور آپ جو ہے نا مطلب ہے کہ عشاء کی نماز پڑھ لیتے ہیں نو رکعت، اب آپ نے پورے دن کا حساب کر لیا یعنی افطاری کے وقت جتنا کھا سکتے ہیں وہ کھا لیا، تو انسان کی طبعی خواہش کیا ہو گی کہ لیٹ جاؤں۔ طبعی خواہش کیا ہو گی؟ لیٹ جاؤں، لیکن لیٹنے کا حکم نہیں ہے، کھڑا ہونے کا حکم ہے۔ (قِيَامُ الَّيْلِ) کھڑا ہونے کا حکم ہے۔

                  اب اس وقت وہ اللہ کے لیے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں تو جیسے روزہ دار کا حساب ہے کہ (اَلصَّوْمُ لِيْ) تو یہاں پر بھی آپ کھڑے کس لیے ہوتے ہیں؟ اللہ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں نا۔ تو پھر ماشاءاللہ اس پہ آپ کے اندر تبدیلی آتی ہے۔ اب تبدیلی دو قسم کی ہے۔ ایک تبدیلی روزے سے آتی ہے وہ ہے براہ راست مجاہدہ نفس کا کیونکہ نفس تین چیزوں کا بہت شوقین ہے؛ کھانے پینے مباشرت کا، اس سے کسی حالت میں رک نہیں سکتا۔ اس پہ پہرہ رکھوا دیا اللہ پاک نے رمضان شریف میں روزے میں، تو یہ جو روزہ ہے یہ آپ کو کیا کرتا ہے؟ یہ آپ کو مجاہدے میں ڈالتا ہے۔ مجاہدہ ہے۔ تو اس کے ذریعے سے آپ کا نفس Depress ہوتا ہے، اس کے رذائل دب جاتے ہیں، اس سے تقویٰ کا ظہور ہو جاتا ہے، تو یہ کیا ہے؟ آپ کا جو روزہ ہے یہ آپ کو ماشاءاللہ آپ کے نفس کی اصلاح ہے۔

                  جبکہ جو تراویح ہے، تراویح نماز کی صورت میں ہے۔ اور نماز ذکر ہے۔ ﴿اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِكْرِيْ﴾ (طہ: 14) نماز کو قائم کرو میرے ذکر کے لیے۔ تو یہ نماز کی صورت میں ہے، تو نماز کی صورت میں ذکر ہے اور ذکر دل پر اثر کرتا ہے۔ ہر چیز کے لیے ایک صقالہ ہوتا ہے حدیث شریف میں آتا ہے، ہر چیز کے لیے ایک صفائی کا آلہ ہوتا ہے اور دلوں کی صفائی کا آلہ ذکر اللہ ہے۔ تو نماز بہترین ذکر ہے لہٰذا اثر کرے گا یا نہیں؟

                  دوسرا جو ذکر ہے قرآن ہے۔ قرآن میں ﴿وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ﴾ (طہ: 124) جس نے قرآن سے اعراض کر لیا۔ تو یہاں قرآن بمعنی کیا ہے؟ ذکر ہے۔ تو نماز بھی ذکر ہے، قرآن بھی ذکر ہے۔ تو جب قرآن آپ نماز میں پڑھتے ہیں تو

                  (نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ) مطلب ایک نور تو نماز ہے ایک نور اس میں قرآن ہے، تو (نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ)۔ سبحان اللہ۔

                  اب جیسے مثال کے طور پر آپ لوگوں نے دیکھے ہوں گے... مثال کے طور پر یہاں تو میں نہیں کہہ سکتا ہوں شاید ہوتا ہے یہ یہاں پر پشاور روڈ پہ یا غریب لوگوں کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں لوگ۔ تو بعض لوگ زیادہ ہوتے ہیں تو ان کو ویسے ہاتھوں ہاتھ نہیں دیتے، پھینکتے ہیں۔ پھینکتے ہیں، تو لوگ اس طرح جھولیاں... مطلب ان کے پاس چھتریاں ہوں، جھولیاں ہوں، جو بھی ہوں مطلب اس میں آتے ہیں، حج کے موقع پہ تو بہت زیادہ ہوتا ہے نا یہ۔ تو اس طرح لوگ جھولیاں پھیلاتے ہیں تاکہ وہ ہمارے حصے میں آ جائے۔ تو ایک تو اللہ کی طرف سے تو پھینکا جا رہا ہے جی ماشاءاللہ دیا جا رہا ہے، تو اس وقت آپ اپنی جھولی بھی پھیلاؤ نا۔

                  تو اگر آپ میں طلب ہو تراویح کے دوران... ایک تو تراویح سے تھکاوٹ ہے تو تھکاوٹ کا تو آپ مقابلہ مجاہدے سے کر رہے ہیں اور ایک اس میں قرآن پڑھا جا رہا ہے تو قرآن پڑھا جا رہا ہے تو اس سے اللہ پاک کے کلام کا جو نور ہے وہ تقسیم ہو رہا ہے۔ تو اس کے لیے اپنے دل کو پیالہ بناؤ کہ دل کو اس کے لیے وا کرو تاکہ وہ چیزیں میرے اندر جذب ہو جائیں، ضائع نہ ہوں۔ تو اگر آپ کے اندر طلب ہو اور قاری بھی زبردست ہو ماشاءاللہ یعنی اخلاص والا ہو، وہ اس کے ساتھ... مطلب اس اخلاص کے ساتھ تلاوت کر لے اور آپ کے اندر طلب ہو اور پڑھا جا رہا ہو قرآن، اور تراویح کا موقع ہو تو آپ کو کتنا ملے گا؟ تو یہ دل کی اصلاح ہے۔ تو دل کی اصلاح آپ کی تراویح میں ہو رہی ہے اور نفس کی اصلاح آپ کی روزے سے ہو رہی ہے۔ تو یہی تو چاہیے تھی۔ تو اس لیے جو پورا روزہ ہے اس میں ماشاءاللہ اصلاح بہت زیادہ ہو جاتی ہے اگر صحیح معنوں میں کوئی اس کو استعمال کرے، بہت ہو جاتی ہے۔

                  اب آتا ہوں اس کی طرف کہ جب اس کا بہار آتا ہے... جب اس اصلاح کے نظام کا بہار آتا ہے وہ آخری عشرہ ہے، آخری عشرہ ہے۔ تو آخری عشرے میں پھر ثواب بھی بہت بڑھ جاتا ہے، آثار بھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔ ثواب تو اتنا بڑھ جاتا ہے کہ آخری عشرے میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ اس میں اگر آپ کوئی عمل کرتے ہیں تو وہ ہزار مہینے سے زیادہ کا ہوتا ہے۔ مثلاً آپ لیلۃ القدر میں ایک پارہ تلاوت کر لیں تو ایسے جیسے ہزار مہینے آپ نے ہر رات کے اندر ایک پارہ تلاوت کیا۔ اب اندازہ کریں۔ 83 سال بنتے ہیں اس سے۔ تو 83 سال آپ نے وہ عمل کر لیا۔ کہاں سے لائیں گے اتنا عرصہ؟

                  بہت سارے لوگ جو ناسمجھ لوگ ہوتے ہیں وہ اس عشرہ میں معمولی معمولی چیزوں کے لیے ثواب ضائع کر لیتے ہیں۔ مثلاً کوئی عید کارڈ (Card) بیچ رہا ہے۔ بھئی کتنا کماؤ گے؟ اگر یہ راتوں میں آپ مسجد میں بیٹھ جاتے اور اس کو کمانے شروع کر لیتے یا اپنے گھر میں، تو کتنا آپ کما لیتے؟ ہر چیز کا ایک سیزن (Season) ہوتا ہے، اس سیزن (Season) میں پھر اور کام نہیں کیے جاتے، پھر وہی کیا جاتا ہے جس کا وہ سیزن (Season) ہوتا ہے۔ تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نیکیوں کا سیزن (Season) ہے یہ آخری عشرہ۔ اس میں اپنی تمام Activities کو آگے پیچھے کر کے صرف اس کے لیے اپنے آپ کو فارغ کریں۔ صرف اس کے لیے اپنے آپ کو فارغ کریں۔

                  تو کیا ہو گا؟ اگر آپ کو یہ مثال کے طور پر ہر سال آپ کو لیلۃ القدر ملتا ہے تو 83 سال کی عبادت آپ کو ہر سال مل رہی ہے۔ تو اگر 40 سال آپ کو 40 دفعہ ملے تو 40 کو 83 سے ضرب دے دو۔ کتنا ہو گا؟ اب لوگ کہتے ہیں بھئی اس کا تو پتہ نہیں چلتا۔ ہمیں کیا پتہ کہ لیلۃ القدر کب ہے؟ تو پتہ چلنا ضروری تو نہیں ہے۔ اجر تو پتہ چلنے پر نہیں ہے، اجر تو اس میں عمل کرنے پر ہے۔ اگر آپ کو پتہ نہیں بھی لگا کہ لیلۃ القدر ہے لیکن لیلۃ القدر میں آپ نے فرض نماز پڑھ لیا، آپ کو اس کا اجر مل گیا فرض... مغرب اور عشاء کا۔ آپ نے نفل پڑھ لیا تو آپ کو نفل کا اجر مل گیا۔ وہ تو حساب اللہ تعالیٰ ہی کریں گے نا تم تو نہیں کرو گے کہ تمہیں پتہ ہو۔ تو اللہ تعالیٰ کو تو پتہ ہوتا ہے۔ ہاں یہ البتہ ضرور ہے کہ پتہ نہ لگنے کی وجہ سے یہ بڑھ سکتا ہے۔ کیسے بڑھ سکتا ہے؟ کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں: (اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ) میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جس طرح وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے اس کے ساتھ میں وہ معاملہ کرتا ہوں۔

                  اب آخری عشرے کو میں اگر ہر رات آپ کو امکان نظر آئے، محسوس ہو کہ بھئی آج بھی لیلۃ القدر ہو سکتا ہے اور آپ اس کی وجہ سے عبادت کر لیں، عین ممکن ہے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے لیے اسی کو لیلۃ القدر بنا دے۔ کیونکہ آپ کا گمان ہے نا اللہ تعالیٰ سے۔ ہمارے شیخ فرمایا کرتے تھے: ایک لیلۃ القدر لے لی تو پانچ لیلۃ القدر دے دی۔ کیونکہ طاق راتوں میں زیادہ ہوتا ہے نا امکان۔ تو اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں، آپ ہر ایک کو اس خواہش پہ، اس کوشش پہ کہ ممکن ہے یہ ہو، تو آپ یہ عبادت کریں تو آپ کو ماشاءاللہ پانچ لیلۃ القدروں کا اجر آپ کو مل جائے گا۔

                  تو بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو مختلف بہانوں سے دیتے رہتے ہیں۔ ہم لینے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے دینے سے تو انکار نہیں کیا۔ پھر اللہ پاک کے ساتھ خزانوں میں کمی تو نہیں ہے کہ بس اتنے سارے لوگ لیں گے تو پھر میرے لیے کیا بچے گا؟ نہیں، اللہ تعالیٰ تو چیزوں کو بناتا ہے۔ اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اللہ پاک سے اللہ کی شان کے مطابق توقع رکھنی چاہیے کہ اللہ پاک کتنا دیتے ہیں۔ تو رمضان شریف کا مہینہ اس کی اونچی شان ہے۔ اور اس میں قرآن نازل ہوا ہے ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ﴾ (البقرة: 185) رمضان کا وہ مہینہ... ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ تو اس کا قرآن کے ساتھ تعلق ہے اور قرآن کا اللہ کی ذات کے ساتھ تعلق ہے۔ تو اب بتاؤ رمضان کا کس کے ساتھ تعلق ہوا؟ اللہ کی ذات کے ساتھ تعلق ہو گیا۔ یعنی گویا کہ اللہ پاک کے جو ہے نا مطلب جو قرآن ہے وہ تو صفتِ کلام کے ساتھ ہے، تو صفتِ کلام تو براہ راست اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اور پھر رمضان اس کا ظل ہے، یعنی اس کا وہ ہے... اثر ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ آپ یعنی اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے بہت کچھ لے سکتے ہیں۔ تو اس میں قرآن پاک کو بہت پڑھنا چاہیے۔ قرآن پاک کی تلاوت کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔

                  نیک اور دینی گھرانے جو ہوتے ہیں، ان میں عورتیں جو ہوتی ہیں، اس میں جو عورتیں ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ مقابلہ کرتی ہیں۔ کہ اس نے اگر دو ختم کیے تو میں نے تین کرنے ہیں۔ اس نے اگر تین کیے تو میں نے پانچ کرنے ہیں۔ مقابلہ ہوتے تھے۔ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کی عورتیں، اس طرح دوسرے خاندان کی، باقاعدہ وہ آپ بیتی میں لکھا ہوا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عورتوں کو بھی ایسا چاہیے۔ عورتوں کا میں نے خصوصی طور پہ کیوں ذکر کیا؟ مردوں کا کیوں نہیں کیا؟ تو مرد بھی کریں گے، یہ نہیں کہ مرد نہیں کریں گے، لیکن اس وقت میں مخاطب عورتوں سے ہوں، ایک تو یہ بات ہے۔ تو اس وجہ سے یہ بات کی۔ دوسری بات یہ کہ مردوں کے ذمے باہر کے کام ہوتے ہیں؛ چلنا پھرنا، ادھر ادھر دوڑنا بھاگنا، کمانا، گھر لانا، یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ تو عورتیں جو ہے نا وہ اپنے گھر کے کاموں کو کر کے، اپنے آپ کو فارغ کر کے وہ کر سکتی ہیں۔

                  میرے ساتھ ایسا ہوا تھا ایک حج کے موقع پہ، مزدلفہ کی رات... مزدلفہ کی رات... میں انتظامی امور میں تھا اپنے گروپ (Group) کا تو لہٰذا میں آگے پیچھے بھاگتا تھا ادھر ادھر۔ میرے ساتھ ایک قرآن پاک تھا حمائل شریف، مطلب چھوٹے سائز کا۔ تو میں نے اپنے ساتھ... اس وقت موبائل (Mobile) موبائل (Mobile) تو نہیں تھے، 1984 کی بات ہے، تو نہیں 84 نہیں 85... پتہ نہیں واللہ بھول گیا۔ خیر تو بہرحال یہ ہے کہ وہ... وہ جو ہے نا... ہوتی ہے۔ تو ایک خاتون تھی ہمارے ساتھ گروپ (Group) میں، اس نے Request کی کہ جو قرآن آپ کے پاس ہے وہ ہم مجھے دیں، میں اس میں تلاوت کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا الحمد للہ کوئی تو اس کو استعمال کر لے گا مجھے بھی ثواب ملے گا، میں نے اس کو دے دیا۔ اس خدا کی بندی نے مزدلفہ کی رات جو بڑی تھکاوٹ کی رات ہوتی ہے، قرآن پاک ختم کیا۔ تو ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں۔

                  تو اس لیے میں نے کہا کہ اچھا موقع ہے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو اور قرآن کو زیادہ سے زیادہ پڑھو، قرآن کے نور کو حاصل کرو۔ کیونکہ قرآن کے اندر اللہ نے بہت کچھ رکھا ہے۔ اللہ پاک کا یہ کرم ہے کہ اللہ پاک نے قرآن ہمارے درمیان اتارا ہے۔ یعنی اللہ پاک کی ایک صفت کا ظہور ہے، کلام کی صفت کا ظہور ہے۔ اس لیے قرآن سبحان اللہ یعنی جو صاحبِ ذوق ہوتے ہیں وہ اس کو جانتے ہیں کہ قرآن کیا ہے۔

                  ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں تراویح میں قرآن پاک کے پانچ ختم ہوا کرتے تھے۔ جب راتیں لمبی ہوتی تھیں، پہلے دس راتوں میں ایک، دوسرے دس راتوں میں دو، تیسرے... چھ راتوں میں چوتھا 27ویں میں پورا اور آخری دو راتوں میں 28ویں، 29ویں کو۔ اور حضرت مفلوج تھے، آخر وقت میں کروٹ بھی نہیں بدل سکتے تھے، لیکن باقاعدہ آخری وقت تک ماشاءاللہ یہ نظام رکھا ہے۔ تو کیا بات تھی؟ محبت تھی نا، محبت تھی۔

                  بہرحال حضرت کے واقعات تو بہت زیادہ ہیں وہ میں بیان کرنے لگوں تو Time اس کے لیے تو ہے نہیں ہمارے پاس۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ جو بھی اولیاء اللہ ہوتے ہیں جیسے مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، وہ ہر دن رمضان شریف کے اس میں 30 پارے پڑھا کرتے تھے۔ 30 پارے تلاوت کرتے تھے، یعنی پورے قرآن کے برابر تلاوت کرتے تھے۔ تو ماشاءاللہ ایسے لوگ بھی تھے۔ ابھی بھی الحمد للہ ایسے لوگ ہیں جو کرتے ہیں۔ ہمیں ان میں ہونا چاہیے اور ہمیں قرآن پاک سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مجھے، آپ کو، سب کو نصیب فرما دے۔

                  وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ.

                  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَآ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ.

                  اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۙ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ەۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ.

                  اَللّٰهُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَهٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَهٗ.

                  يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيْثُ اَصْلِحْ لَنَا شَاْنَنَا كُلَّهٗ وَلَا تَكِلْنَآ اِلٰٓى اَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ.

                  رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ.

                  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَآ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ.

                  سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ۚ وَسَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ ۚ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ.



                  رمضان المبارک: اوقات کی قدر و قیمت اور روزے کی باطنی اصلاح - خواتین کیلئے اصلاحی بیان