استقبالِ رمضان اور تقویٰ کی اہمیت

قرآنی آیات و احادیث از خطبات الاحکام

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد فیڈرل بورڈ - سیکٹر H-8/4 اسلام آباد
  • ماہِ شعبان کے آخری ایام میں رسول اللہ ﷺ کا خطبہ
    • رمضان میں فرض اور نفل عبادت کا اجر و ثواب
      • موبائل فون کی لت اور اس سے نجات
        • ولایت اور تقویٰ کا صحیح مفہوم
          • استقامت بمقابلہ کرامت (حضرت جنید بغدادیؒ اور حضرت خواجہ عطارؒ کے واقعات)
            • لیلۃ القدر کی فضیلت اور عبادت کی اہمیت

              أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

              يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ قَالَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ:"يٰاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَھْرٌ مُّبَارَكٌ، شَھْرٌ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهٗ فَرِيْضَةً وَّ قِيَامَ لَيْلِهٖ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيْهِ بِخَصْلَةٍ مِّنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدّٰى فَرِيْضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَ مَنْ أَدّٰى فَرِيْضَةً فِيْهِ كَانَ كَمَنْ أَدّٰى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَ هُوَ شَھْرُ الصَّبْرِ، وَ الصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَ شَھْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَ شَھْرٌ يُّزَادُ فِيْهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيْهِ صَائِمًا كَانَ لَهٗ مَغْفِرَةً لِّذُنُوْبِهٖ وَ عِتْقَ رَقَبَتِهٖ مِنَ النَّارِ، وَ كَانَ لَهٗ مِثْلَ أَجْرِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ، قُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ! لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا یُفَطِّرُ الصَّائِمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يُعْطِي اللهُ ھٰذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰی مُذْقَةِ لَبَنٍ اَوْ تَمْرَةٍ اَوْ شَرْبَةٍ مِّنْ مَاءٍ، وَ مَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللهُ مِنْ حَوْضِيْ شَرْبَةً لَّا يَظْمَأُ حَتّٰى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَ هُوَ شَھْرٌ أَوَّلُهٗ رَحْمَةٌ وَّ أَوْسَطُهٗ مَغْفِرَةٌ وَّ اٰخِرُہٗ عِتْقٌ مِّنَ النَّارِ، وَ مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَّمْلُوكِهٖ فِيْهِ غَفَرَ اللهُ لَهٗ وَ أَعْتَقَهٗ مِنَ النَّارِ''." صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

              معزز خواتین و حضرات! اس وقت شعبان کے آخری ایام ہیں اور آخری ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبہ دیا تھا جس کا یہاں پر ذکر ہو رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے مختصر ہوا کرتے تھے اور انتہائی جامع ہوا کرتے تھے۔

              اب ذرا غور سے دیکھیے، ہم نے ابھی سن لیا کہ کتنا مختصر خطبہ ہے۔ لیکن اس میں کیا کچھ نہیں ہے۔ یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعجازِ نبوت۔ تو آپ صلی اللہ وآلہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

              "اے لوگو! تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یہ مہینہ مبارک مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ افضل رات ہے۔"

              اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے:إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ

              آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید فرماتے ہیں: اللہ پاک نے اس کے روزے کو فرض قرار دیا۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے: يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ اور اس کے رات کے قیام کو ثواب کی چیز بنا دیا۔ یعنی نفل اور سنت۔ لیکن دوسرے احادیث شریفہ سے علماء کرام نے استدلال کیا ہے کہ جو تراویح کی نماز ہے یہ سنت مؤکدہ ہے۔ اصل میں دو بنیادی اصطلاحات ہیں۔ پھر ان میں دو دو ہیں۔ ہر میں ایک دو دو ہیں۔ ایک فرض ہے، ایک نفل ہے۔ تو فرض میں پھر واجب بھی ساتھ شامل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فرض کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے، واجب کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوتا لیکن ثواب اور عذاب کرنے نہ کرنے پہ برابر ہے۔ اسی طرح نفل زائد چیز کو کہتے ہیں۔ یعنی جو اصل ہے اس پر مزید اضافہ جب کیا جاتا ہے اس کو نفل کہتے ہیں۔ تو زائد، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زائد چیز کی جب تاکید فرمائی ہو تو سنت مؤکدہ ہو جاتا ہے۔ اور اگر تاکید نہیں فرمائی، صرف ترغیب دی ہو، تو اس کو پھر سنت مستحبہ کہتے ہیں۔ تو یہ جو تراویح ہیں، ان میں سنت مؤکدہ ہے۔ اور جو تہجد کا نماز ہے اور باقی جو نوافل ہیں رات کے جو پڑھتے ہیں، وہ سب سنت مستحبہ میں آتے ہیں۔

              پھر آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: "اس میں جس شخص نے اللہ پاک کی قربت حاصل کی کسی ایسے کام میں جو نفل ہے، تو اس نے ایسا کیا جیسے اس نے فرض کام کر لیا۔"یہ نفلوں کا ثواب فرضوں کی طرح ملتا ہے۔ یہ بہت بڑا اجر ہے، بہت بڑا اجر ہے۔ کیونکہ نفل کبھی بھی فرض کے برابر نہیں ہو سکتا سوائے رمضان کے۔ بہت بڑا وہ ہے۔تو یہ ہمارے لیے الحمد للہ ایک بشارت ہے۔ اب دیکھو پانچ نمازیں ہم پڑھتے ہیں دن میں، یہ فرض ہیں۔ چھٹی نماز فرض نہیں پڑھ سکتے ہے، پڑھیں گے تو خود بخود نفل ہو جائے گا۔ حج ایک دفعہ فرض ہے، اس کے بعد جتنے بھی حج کوئی کرے گا تو وہ نفل ہو جائیں گے۔ روزے 30 دن یا 29 دن جو رمضان کے مہینے کے ہوتے ہیں وہ فرض ہوتے ہیں، اس کے بعد جتنے روزے کوئی رکھے گا تو وہ نفل ہو جائیں گے۔ تو فرضوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا، نہ اس میں کمی کی جا سکتی ہے۔ لیکن نفلوں میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ جتنا پڑھو... آپ کا حوصلہ ہے، آپ کی ہمت ہے۔ اب کوئی اگر چاہے کہ مجھے فرضوں کا ثواب بہت زیادہ ملے، یعنی بہت زیادہ فرض پڑھوں، تو فرضوں کے ذریعے سے تو نہیں کر سکتا وہ۔ رمضان شریف میں نفل پڑھے زیادہ... تو ماشاءاللہ وہ فرضوں کی طرح ان کو ثواب ملے گا۔ سبحان اللہ! بہت بڑا کرم ہے اللہ کا۔

              اور جس نے اللہ کے ساتھ قربت حاصل کی، قرب حاصل کیا کسی فرض عمل کی وجہ سے، تو ایسا ہے جیسے اس نے 70 فرض ادا کیے۔ پس ہم ویسے عام نماز، عام دنوں میں پانچ نمازیں پڑھ سکتے ہیں فرض، لیکن رمضان شریف میں یہ کتنے ہو جائیں گے؟ 350۔ 350 نمازیں ہو جائیں گی۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس میں کوئی نماز مس کرنا کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ ایک عرب تھے، ہمارے یونیورسٹی پشاور یونیورسٹی میں تھے، اس نے مجھے ایک دن کہا، کہتا ہے میں بڑا حیران ہوں یہاں پاکستان میں، میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ روزے رکھتے ہیں لیکن نماز نہیں پڑھتے۔ کہتے ہیں ہمارے ہاں یہ تصور نہیں ہے، کوئی روزہ نہیں رکھے گا تو پھر نماز بھی نہیں پڑھے گا، یعنی بے دین ہوگا۔ لیکن یہاں کمال کی بات ہے کہ یہاں روزے رکھتے ہیں، روزے نہیں چھوڑتے، لیکن نماز نہیں پڑھتے۔ یہ بات غلط ہے۔ رمضان شریف میں تو نماز کا معاملہ اور اونچا ہو جاتا ہے، یعنی نماز تو بہت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

              بلکہ حدیث شریف میں جو آتا ہے کہ روزہ ڈھال ہے اگر کوئی اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ اور لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ، قرآن پاک میں جو آیت ہے تاکہ اس سے تقویٰ حاصل کرو، تو اس سے تقویٰ یقیناً حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اب میں ایک مضبوط دیوار بنا لوں حفاظت کے لیے اور نیچے اس کے گڑھا کھود دوں، تو کیا خیال ہے وہ مضبوط رہے گا؟ وہ تو مضبوطی تو ختم ہو گئی۔ ٹھیک ہے وہ دیوار مضبوط ہے لیکن نیچے گڑھا ہے لہذا اس کی کوئی مضبوطی نہیں ہے۔ تو اس طریقے سے اگر کوئی روزے کے ذریعے سے تقویٰ حاصل کرتا ہے لیکن تقویٰ کے خلاف کام کرتے ہیں، نتیجتاً وہ تقویٰ پھر تقویٰ نہیں رہتا۔ لہذا یہ فرمایا کہ بعض لوگ روزے رکھتے ہیں لیکن ان کو روزے میں سوائے فاقہ کے کوئی چیز نہیں ملتی۔ بس فاقہ انہوں نے کر لیا، باقی روزے کا جو ثواب ہے وہ ان کو نہیں ملتا۔ تو یہ بات ہے کہ مطلب ہم لوگ روزے میں، ایک تو یہ بات ہے کہ جو فرائض و واجبات اور سنت مؤکدہ ہے اس کو تو لازم پکڑیں، اس میں تو کوئی کمی نہ کریں اور گناہوں سے بچیں۔

              جو گناہ عام طور پر عادی ہیں لوگ، مثلاً میں ایک بات عرض کرتا ہوں جیسے Mobile ہمارے پاس ہماری ضرورت ہے۔ ہم ضرورت کے طور پر رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ بہت سارے مفاسد بھی ہیں۔ بعض لوگ Television دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، بعض لوگ ویسے ہی گپ شپ میں، ادھر ادھر کی باتوں میں، جھوٹ، غیبت... یہ چیزیں مطلب آزادی کے ساتھ کرتے ہیں۔ تو کم از کم رمضان شریف میں اپنے آپ کو روکیں۔ ایسی چیزوں سے بچ جائیں۔ اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ ایک بات عرض کرتا ہوں، یہ بہت اچھی بات یاد آ گئی، سبحان اللہ۔ سبحان اللہ، بہت اچھی بات یاد آ گئی۔ ڈاکٹروں کی Research کے مطابق، آج کل کے ڈاکٹروں کی ریسرچ کے مطابق، Addiction ایک زبردست بیماری ہے۔ یعنی کسی چیز کی لت پڑ جائے، عادی ہو جائے۔ اور آدمی اس سے بچ نہ سکے، بچنا چاہے پھر بھی نہیں بچ سکے۔ مطلب ایسی بیماری ہوتی ہے یہ ایڈکشن۔ تو بچوں میں اگر یہ پائی جائے تو ان کو ایک ہفتہ اگر اس سے روک دیا جائے نا، تو لت ٹوٹ جائے گی بچوں کے لیے۔ اور بڑوں کے لیے تین ہفتے اگر وہ اگر اپنے آپ کو بچائیں اس سے، تو اس کی لت ٹوٹ جائے گی۔ یعنی اس میں اتنا زور نہیں رہے گا کہ پھر دوبارہ اس پہ واپس لے آئے۔ ہاں اگر ویسے ہی کمزور ہے، مطلب یہ ماننا ہی نہ چاہے تو پھر تو اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن جو آدمی بچنا چاہے، اس کی بات کر رہا ہوں۔ جو آدمی بچنا چاہے، تو تین ہفتے تک، یہ ڈاکٹر لوگ کہتے ہیں، کہ تین ہفتے تک اگر کوئی اس سے بچ جائے تو اس کی لت ٹوٹ جائے گی، وہ ایڈکشن ختم ہو جائے گی۔

              اب اگر کسی کو موبائل کی ایڈکشن ہے۔ حضرت! اس بات کو بہت پھیلا دیجیے، بہت اہم بات ہے۔ کیونکہ یہ چیز جو ہے نا واقعی آج کل بڑا مسئلہ ہے۔ یہ موبائل کی جو لت ہے، اس کے سامنے بڑے بڑے لوگ ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ تو اگر کوئی شخص، اور یہ بچے بیچارے بہت زیادہ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تو اگر کوئی شخص پورے رمضان میں اس سے اپنے آپ کو چھڑا لے، مطلب سادہ موبائل استعمال کر لے۔اور وہ بھی ضرورت کے وقت۔ تو ان شاءاللہ رمضان شریف کے گزرنے کے بعد اس کی لت ٹوٹ چکی ہوگی۔ پھر اپنے آپ کو عام موبائل کے ساتھ عادی رکھیں۔

              میں نے ایسے خوش نصیب لوگوں کو دیکھا ہے، ابھی بھی ہیں، ہمارے Director بھی تھے، اس کے ساتھ سادہ موبائل بھی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ سادہ موبائل بھی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں میں اپنے آپ کو کیوں پریشان کروں؟ بھئی اگر کسی نے مجھے فون کرنا ہے تو Landline پہ کریں نا، گھر میں ٹیلی فون ہے، اس پہ فون کریں۔ میں خواہ مخواہ راستے پہ چل رہا ہوں اور... اور میں اس پہ مصروف ہو جاؤں ٹیلی فون پر۔ یہ کیا مصیبت ہے؟ اور یہ واقعتاً بالکل ایسا ہی ہے۔ اور آج کل تو ساتھ یہ آتے ہیں نا جو کیا ہوتے ہیں، کانوں میں جو ڈالتے ہیں؟ ہاں Headphone۔

              پہلے دور میں اگر کوئی اپنے آپ کے ساتھ کوئی بات کرتا تھا اس کو لوگ پاگل کہتے تھے، یہ بھئی پاگل جا رہا ہے۔ ایسا ہوتا تھا نا؟ اب یہ پاگل ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ راستے پہ جا رہے ہوں گے اور باتیں ہو رہی ہوں گی، آدمی حیران ہو گا بھئی یہ کیا کر رہے ہیں؟ باتیں ہو رہی ہوں گی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو واقعی اگر اس سے کوئی آزاد کرنا چاہے تو ممکن ہے۔ اور رمضان شریف کا مہینہ اس کے لیے... ایک تو رمضان شریف بڑا شاندار ہو جائے گا ان شاءاللہ، اللہ تعالیٰ میرا بھی کرے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان شاءاللہ یہ لت ٹوٹ جائے گی اور اس فضول چیز سے اللہ تعالیٰ چھٹکارا نصیب فرما دیں گے۔

              بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی بات ہے میں آپ کو بتاؤں۔ آج کل کے دور میں یہ دجال کے خصوصی ہتھیاروں میں سے ہے۔ مطلب دجالیت... دجال تو ابھی آئے گا، دجالیت کے خصوصی ہتھیاروں میں سے ہے۔ یعنی آدمی جانتا ہے کہ یہ خراب ہے۔ دجال کی تعریف ہے نا کہ اس کے ماتھے پہ کافر لکھا ہوگا لیکن پھر بھی لوگ اس کی طرف جائیں گے۔ تو کیا موبائل کے بارے میں لوگ جانتے نہیں ہیں کہ اس میں بڑی خرابی ہے؟ لیکن اس کے باوجود لوگ ظاہر ہے مطلب اس سے اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکتے۔ تو مقصد یہ ہے کہ رمضان شریف کے مہینے میں ان شاءاللہ ہم لوگ اس سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔

              فرمایا مزید... ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔"وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ۔"یہ وہ مہینہ ہے جس میں صبر نصیب ہوتا ہے۔ سبحان اللہ۔ صبر نصیب ہوتا ہے۔ اور صبر کیا چیز ہے؟ دیکھو نا اس میں دو چیزیں ہیں، بلکہ تین چیزیں میں آپ کو بتاؤں اگر ان تین چیزوں پر ہی پورا بیان ہو جائے تو بات کافی ہے۔ایک تو یہ ہے کہ اس میں تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔ اور تقویٰ کیا چیز ہے؟ تقویٰ اگر ایمان کے ساتھ مل جائے تو ولایت ہے۔ نص صریح کے مطابق قرآن پاک کی آیت مبارکہ ہے:أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

              آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے ولی ہیں، ان کو نہ غم ہوگا نہ خوف ہوگا۔کیسے بنے ہوں گے ولی؟ یہ وہ لوگ ہوں گے جو ایمان لا چکے ہوں گے، یعنی ایمان ان کے پاس ہوگا اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا۔

              پس اگر کوئی شخص متقی ہے تو وہ ولی اللہ بھی ہے کوئی شخص متقی ہے تو وہ ولی اللہ بھی ہے نصِ صریح کے مطابق۔ ہاں، درجات میں فرق ہے۔ درجات کیسے؟ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ بے شک تم میں زیادہ معزز و مکرم اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ پس درجہ بدرجہ جس کا تقویٰ جتنا زیادہ ہے، اتنا درجہ کی ولایت پر ہے۔

              ایک بات عرض کروں، Definition ہر چیز کی اپنے آپ سے ہم نہیں بنا سکتے۔ جو چیز پہلے سے موجود ہو، یعنی نص کے مطابق ہو، اس کو ہم لوگ لیں۔ آج کل لوگ ولیوں کا معیار الگ بنا لیتے ہیں۔ اللہ معاف فرمائے ایسے لوگ بھی اس دنیا میں ہیں، شاید پاکستان میں بھی ہیں، جو رنڈیاں نچانے والوں کو، بٹیروں کو لڑانے والوں کو، کتوں کو لڑانے والوں کو، شراب پینے والوں کو ولی سمجھتے ہیں۔ ہیں یا نہیں ہیں؟ ایسے لوگ بھی ہیں۔ تو یہ قرآن کے ساتھ سراسر مخالفت ہے۔

              جو فاسق اور فاجر ہو وہ ولی اللہ ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ نفس کے اندر دو چیزیں ہیں: یا فجور ہے یا تقویٰ ہے۔ پس اگر فجور ہے تو تقویٰ نہیں، اگر تقویٰ ہے تو فجور نہیں۔ پس جو فاسق و فاجر ہے اس میں تقویٰ نہیں، جس میں تقویٰ نہیں وہ ولی اللہ نہیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ جس میں تقویٰ نہیں وہ ولی اللہ نہیں ہے۔

              تو ایسے لوگوں کی جالوں سے بھی اپنے آپ کو آزاد کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اس میں پھنسا ہوا ہے، اس نے اپنی عجیب عجیب تاویلیں لوگوں نے بنائی ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ عام چیز سے ذرا مختلف کام کرنے والوں کو پھر ولی اللہ سمجھتے ہیں۔ مطلب حالانکہ یقین جانیے کہ ولی اللہ کے لیے کسی کرامت کا ہونا ضروری نہیں ہے، تقویٰ کا ہونا ضروری ہے۔

              کرامت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اولیاء اللہ کو ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ بڑے اولیاء اللہ جو ہیں وہ صحابہ کرام ہیں۔ تو صحابہ کرام کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں چند ہی صحابہ کی کرامات ہوں گی مشہور۔ اس کے علاوہ عام صحابہ کی کرامات کوئی مشہور نہیں ہیں۔ تو عام سے عام صحابی بھی جو ہے وہ بڑے سے بڑے ولی اللہ سے بڑا ولی ہے۔ تو اگر ان میں کسی کی کرامت نہیں ہے تو اس کا مطلب کیا ہے کہ اس کے لیے کرامت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

              اور لوگوں نے معیار اس کا کرامت بنایا ہوا ہے۔ بھئی جس میں کرامت نہیں ہے وہ ولی اللہ نہیں ہے اور یہ بات ابھی سے نہیں ہے، بہت پرانی چلی آ رہی ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں، اللہ نے ان کو بہت اونچا مقام دیا تھا۔ ایک شخص ان کے پاس آیا اور دس سال رہا، دس سال۔ ان کی خدمت میں رہا، پھر مایوس ہو کے جانے لگا۔ حضرت کو اندازہ ہو گیا کہ یہ آدمی تو مایوس ہو کے جا رہا ہے، اس کو بلایا کہ بھئی کدھر جا رہے ہو؟ کہتا ہے واپس جا رہا ہوں۔ کیوں جا رہے ہو واپس؟

              "حضرت میں تو آیا تھا کہ آپ کے ہاتھ پہ کوئی کرامت میں دیکھوں گا، میں نے تو اتنے عرصے میں کوئی کرامت آپ کے ہاتھ پہ نہیں دیکھی۔

              دس سال معمولی سا وقت ہے...؟ دس سال۔ میں نے آپ کے ہاتھ پہ کوئی کرامت ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔"

              حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جلال میں آ گئے۔ فرمایا: "خدا کے بندے! ان دس سالوں میں مجھ سے کوئی کام خلافِ سنت ہوتے دیکھا ہے؟ کہ میں نے سنت کی کوئی خلاف ورزی کی ہو، سنت کے خلاف کوئی کام کیا ہو؟" اس نے کہا: "نہیں۔" انہوں نے کہا: "جنید کی اس سے بڑھ کر کرامت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس نے اتنے عرصے میں اللہ کو ناراض نہیں کیا۔"

              پھر ایک تاریخی فقرہ کہا، تاریخی فقرہ جو ماشاءاللہ سند ہے ہم سب کے لیے، وہ کیا ہے؟ "الاستقامۃ فوق الکرامۃ" الاستقامۃ... کس چیز پر استقامت؟ شریعت پر چلنے کی۔ "الاستقامۃ فوق الکرامۃ" استقامت کرامت سے اونچی ہے۔ کیوں؟ اللہ پاک نے کرامت کا ہمیں مکلف نہیں فرمایا۔ میں اس پہ قسم کھا سکتا ہوں۔ کرامت کا ہمیں نہیں مکلف فرمایا، استقامت کا مکلف فرمایا۔ الحمد للہ قرآن پاک میں ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا۔۔۔۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہ کہو پھر فَاسْتَقِمْ، پھر اس کے اوپر استقامت اختیار کر۔ تو استقامت قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث سے بھی ثابت ہے۔ لہذا استقامت مطلوب ہے اور کرامت یہ عطیہ ہے۔ عطیہ الٰہی ہے۔ جس کو دے، جس وقت دے، جتنا دے، جیسے دے، یہ اس کا کام ہے۔ یہ مطلب کسی سے مطلوب نہیں ہے کیونکہ یہ اختیاری نہیں ہے، یہ غیر اختیاری ہے۔ جس کو اللہ پاک دینا چاہے تو دے دیں گے۔ اور عین ممکن ہے کہ کسی چھوٹے ولی کو کرامات بہت دے دیں اور اس سے بڑے ولی کو بالکل کرامت نہ دیں جیسے میں نے صحابہ کا واقعہ بتا دیا۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو یہ عقیدہ درست کرنا چاہیے۔ دوسرے بھی غلطی کرتے ہیں، یہ مجذوب نہیں ہوتے مجذوب؟ ان کے پیچھے بھی لوگ پڑتے ہیں۔ حالانکہ مجذوب جو ہوتے ہیں، دیکھو مجذوب کس کو کہتے ہیں؟ دو قسم کے مجذوب ہیں۔ ایک وہ مجذوب ہیں جن میں شدتِ عشق ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، لیکن اس پر اس کو قابو حاصل ہو اور اس کو اعمال میں استعمال کرتا ہو۔ یہ تو بہت بڑی بات ہے، یہ تو جس کو بھی حاصل ہے تو سبحان اللہ۔ یہ تو بہت بڑے اونچے اولیاء اللہ ہیں کیونکہ تقویٰ تو ان کے پاس ہے ہی اور ساتھ عشق بھی ہے۔ لہذا یہ تو بہت بڑے لوگ ہیں۔

              لیکن ایک وہ مجذوب ہیں جن کی وجہ سے، جن کی عشق کی وجہ سے ان کا دماغ کا فیوز جل گیا ہو۔ اور اب وہ عام لوگوں کی طرح عقل نہیں رکھتا۔ بلکہ کبھی Normal ہو کبھی بالکل ہی Abnormal ہو۔ ایسے وقت میں یہ مجنونوں کی طرح ہوتا ہے، تو جیسے مجنون پر شریعت لازم نہیں ہے، اس طرح ان پر بھی اس وقت شریعت لازم نہیں ہوتا۔ لیکن یہ معذور ہوتے ہیں، ماجور بھی نہیں ہوتے، مقتدیٰ بھی نہیں ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی اقتداء نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ شریعت پہ نہیں چل رہے ہیں۔ جو شریعت پر چل رہا ہے وہ مقتدیٰ بن سکتا ہے ۔ یہ مرشدین ہوتے ہیں۔ جو بھی مرشد ہوتے ہیں ان کے پیچھے جانا چاہیے، ان سے سیکھنا چاہیے، مجذوبوں کے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔

              بہت سارے لوگوں کو میں نے دیکھا ہے جو مجذوبوں کے پیچھے پڑتے ہیں، ڈھونڈتے ہیں کہیں پر مجذوب مل جائے۔ خدا کے بندو! مجذوب تو ایک ہوتا ہے کیا کہتے ہیں Guided Missile ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جس کے لیے مقرر کیا ہوتا ہے وہ سیدھا اس کے پاس جا کے Hit کرتے ہیں اور ان سے کام لے لیتے ہیں پھر۔ جیسے حضرت عطار رومی رحمۃ اللہ علیہ، یہ حکیم تھے، بہت بڑے حکیم تھے۔ تو دکان تھا ان کا، مطلب ظاہر ہے اس پہ Clinic تھا۔ تو ایک مجذوب آیا، اس کو اللہ پاک کی طرف سے بس آرڈر ہو گیا، وہ آ گیا اس کو کبھی اس کو گھور کے دیکھ رہا ہے کبھی ان کی شیشیوں کو گھور کے دیکھتا ہے۔ تو تنگ ہوتا ہے آدمی، اور یہ تو بہت بڑے آدمی بھی تھے عطار رحمۃ اللہ علیہ، تو ان کی اپنا ایک مقام تھا۔ تو اس نے کہا: "یہ کیا کر رہے ہو؟ مجھے کیوں گھور گھور کے دیکھ رہے ہو؟" اس نے کہا: "میں اس لیے آپ کو گھور گھور کے دیکھ رہا ہوں کہ آپ کا روح... آپ کا روح کن شیشیوں میں، کتنی شیشیوں میں بند ہے، تیری روح نکلے گی کیسے؟"

              اس نے کہا: "جا جا، خود اپنے بارے میں سوچو تیری روح کس طریقے سے نکلے گی؟" اس نے کہا: "اچھا میری روح کیسے نکلے گی؟" تو سیدھا لیٹ گیا، سنت طریقے کے مطابق قبلہ کی طرف رخ کر کے کلمہ پڑھ لیا اور ختم۔

              اب خواجہ عطار رحمۃ اللہ علیہ حیران ہو گئے بھئی یہ کیا ماجرا ہے؟ بھئی کوئی اپنی مرضی سے مر سکتا ہے؟ اپنی مرضی سے تو کوئی نہیں مر سکتا نا۔ اس کا مطلب ہے بھیجا گیا تھا نا۔ بھیجا گیا تھا، آخری کام ان سے اللہ تعالیٰ نے یہی لے لیا۔ تو اب یہ جو ہے نا مطلب حضرت اتنے زیادہ Shock میں چلے گئے کہ دکان بند کر دیا، جنگل میں چلے گئے۔ اس کے بعد پھر اللہ والوں سے ملاقات ہو گئی، خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ... اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے... مطلب ان کو بڑا مقام عطا فرمایا اور خواجہ عطار رومی رحمۃ اللہ علیہ بن گئے جن کے بارے میں حضرت مولانا روم فرماتے ہیں: "ہم تو کسی کوچے میں پھرے ہیں، دیکھو عطار کو جو پورے شہر کے چکر لگا چکا ہے۔" تو مطلب یہ ہے کہ وہ بہت بڑے آدمی تھے۔

              تو مطلب میرا یہ ہے، مجذوبوں کے پیچھے جانا نہیں چاہیے۔ اگر آپ کو اللہ نے ان کے ذریعے کچھ دینا ہوگا، خود آئیں گے۔ وہ اپنی مرضی سے تھوڑے آتے ہیں، وہ اپنی مرضی سے نہیں آتے، خود آئیں گے لیکن آپ کو ان کو تلاش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ آپ کا کام کیا ہے؟

              ایک صاحب تھے ہزارے کی سائیڈ کے، وہ اپنے شیخ کے پاس جا رہے تھے۔ شیخ کے ساتھ بڑی محبت ہوتی ہے لوگوں کو۔ ہاں جی۔ آپ تو ہزارے کے ہیں آپ کو تو پتہ ہے وہ پہاڑی علاقہ ہے سارا۔ایک پہاڑ سے نیچے اتر رہے تھے اور دوسرے پہ چڑھنا تھا۔ ممکن ہے پکلائی کا علاقہ ہو واللہ اعلم بالصواب۔ خیر بہرحال ایسا ہوا کہ پیچھے سے آواز آئی: "آؤ میرے پاس۔" اس نے سنی ان سنی کر دی۔ انہوں نے کہا: "میں خضر ہوں، خضر علیہ السلام۔" انہوں نے پھر سنی ان سنی کر دی۔ انہوں نے کہا: "لوگ تو میرے پاس دور دور سے آتے ہیں، مجھے ڈھونڈتے ہیں اور تم... تمہیں میں خود آواز دیتا ہوں تم نہیں آتے ہو؟" تو اس نے بغیر دیکھے آواز دی: "میرا خضر ادھر بیٹھا ہوا ہے میں اس کے پاس جا رہا ہوں۔"

              میرا خضر ادھر... اور اسی پہ اللہ پاک نے انہیں بہت کچھ دے دیا، عطا فرما دیا۔ اصل دینے والی ذات تو اللہ کی ہے نا۔ اصل دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جو اللہ کے لیے مخلص ہو کر کسی ولی کے ساتھ لگ گیا اور اس نے شریعت کے اوپر چلنا شروع کر لیا اور اس پر استقامت اختیار کر لیا، سبحان اللہ ولی اللہ بن گیا۔ یہی تو ساری بات ہے۔

              خیر بہرحال بات دوسری طرف نکل گئی۔"وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ"اور صبر کا جو ثواب ہے وہ جنت ہے۔ صبر کا جو ثواب ہے جنت ہے۔"وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ"اور یہ خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ خیر خواہی کا مہینہ ہے۔"وَشَهْرٌ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ"اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ سبحان اللہ۔ آپ نے دیکھا ہوگا غریب غریب لوگوں کے پاس بھی اللہ پاک بھیج دیتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ رزق کا سامان ان کا ہو جاتا ہے۔ تو یہ ہے کہ واقعی برکت آ جاتی ہے۔ لیکن یہ برکت واقعی من جانب اللہ برکت ہو، Corruption والی چیز کو برکت نہ سمجھا جائے۔ جیسے آج کل قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں نا۔ دکاندار قیمتیں بڑھا دیتے ہیں کیونکہ ظاہر ہے سارے مرغے کٹ رہے ہوں گے۔ بھئی ایسا نہیں ہے۔ ہر ایک... ایک چیز خریدے گا۔ یا ثواب لے گا، یا ثواب لینے کا عقاب لے گا۔ مطلب ظاہر ہے مطلب جو ثواب کما رہے ہیں، ظاہر ہے وہ ان کا مجرم بنے گا کیونکہ ظاہر ہے ان کے کام کو مشکل بنائے گا تو کیا بنے گا؟ ہاں تو اس وجہ سے بھئی کسی اور کے جیب کو کاٹ کے رزق کو بڑھانے کی سوچنا نہیں چاہیے، ٹھیک ہے نا۔ اللہ تعالیٰ دینے والے ہیں، جب دیتا ہے تو پھر ایسے دیتا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔

              اچھا۔"مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَہٗ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهٖ"جس نے کسی روزہ دار کا افطار کرایا، اس کو اللہ پاک معاف فرما دیں گے، اس کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔"وَعِتْقَ رَقَبَتِهٖ مِنَ النَّارِ"اس کی گردن کو آگ سے آزاد کر دیا جائے گا۔ سبحان اللہ۔ اللہ ہمیں بھی فرمائے۔"وَكَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ"اور اس کو اللہ تعالیٰ اتنا ہی اجر دیں گے جتنا کہ اس روزہ دار کو مل رہا ہے۔ جو روزہ دار کو افطار کرا رہا ہے، تو روزہ دار کے افطار... افطار تو ثواب جو ملے گا اس کو ملے گا، لیکن اس کو بھی اتنا ثواب ملے گا جتنا اس نے روزے میں رکھا ہے۔

              میں نے خود ایک آدمی کو دیکھا، میں کہتا یار یہ تو بہت بڑی Investment ہے۔ ہم جا رہے تھے، مکہ مکرمہ میں محلہ شامیہ سے... اذان شروع ہو گئی تھی اور نیچے ظاہر ہے اتر... ڈھلوان تھا نا، تو دوڑ دوڑ کے گویا کہ ایک قسم کی وہ تھی کیونکہ ظاہر ہے سپیڈ بڑھ جاتی ہے۔ تو ایک عرب کھڑے تھے، اس نے ایک ایک تھیلی میں ایک چھوٹی بوتل زمزم کے پانی اور تین تین کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ اور دھڑا دھڑ دے رہے تھے، لوگ دوڑ رہے تھے ان کو دے رہے تھے، دوڑ رہے تھے ان کو دے رہے تھے۔ میں نے کہا یہ تو بہت بڑی انویسٹمنٹ کی اس نے... خدا کے بندے نے پتہ نہیں کتنا کما لیا۔ اب جتنے لوگ گئے ہیں اور جن کو ان نے روزہ افطار کرا دیا، ان کا اجر لے لیا اور اجر کون سے روزے کا لیا؟ حرم شریف کے روزے کا، ایک لاکھ روزوں کا۔ تو کتنے لاکھ اجر اس نے روزوں کے اجر کمائے ہوں گے؟ بہت بڑی انویسٹمنٹ ہے، بہت بڑی انویسٹمنٹ ہے۔ لوگ پتہ نہیں کیا کیا تجارتیں کرتے ہیں، یہ بھی ایک تجارت ہے نا۔

              اچھا۔"...مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ" یعنی اس کے اجر سے کوئی کم نہیں کیا جائے گا روزہ دار کے اجر سے۔ "قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ" اب یہ بڑی عجیب بات ہے۔ اس میں صحابہ کرام کے معاشرت کا بھی پتہ چلتا ہے، ان کے طلب کا بھی پتہ چلتا ہے۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں:"قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا يُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ؟" ہم میں سے ہر ایک کی اتنی استطاعت نہیں کہ روزہ دار کو افطار کرا سکے۔ غریب تھے اکثر زیادہ تر غریب تھے۔ خود علی کرم اللہ وجہہ... غریب تھے، کبھی کسی وقت کھانا ہوتا تھا کبھی نہیں ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبھی ہوتا تھا کبھی نہیں ہوتا تھا۔ تو فرمایا کہ ہم میں سے ہر ایک کی تو اتنی استطاعت نہیں کہ ہم روزہ دار کو روزہ افطار کرا سکیں۔"فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"يُعْطِي اللهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ"سبحان اللہ۔ یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی دیتا ہے جو کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے ایک گھونٹ دودھ سے۔ ہاں۔"أَوْ تَمْرَةٍ"یا کسی کھجور سے۔"أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ"یا تھوڑے سے پانی سے۔ سبحان اللہ۔ یہ روزہ دار کو اگر آپ نے اتنے سے بھی افطار کرا دیا تو آپ کا ثواب ہو گیا۔

              اچھا فرق... فرق کیا ہے یہ بتائیں۔"وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ"اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا، تو اس کو میرے حوض یعنی حوضِ کوثر سے پانی پلایا جائے گا۔ ہاں جی، پانی پلایا جائے گا۔ یہ ایسا پانی ہے، سبحان اللہ... لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، جس کے بعد پیاس نہیں لگے گی یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ سبحان اللہ۔ اور جنت میں تو پھر پیاس ہے نہیں۔"وَهُوَ شَهْرُ أَوَّلُهٗ رَحْمَةٌ"اور یہ وہ مہینہ ہے جس کا پہلا حصہ، یعنی پہلا عشرہ رحمت ہے۔ جس سے سب مستفید ہوتے ہیں، اپنے اپنے شان کے مطابق مستفید ہوتے ہیں، پہلا حصہ جو ہے رحمت ہے۔"وَأَوْسَطُهٗ مَغْفِرَةٌ" اور درمیانی حصہ مغفرت ہے۔ گناہگاروں کی مغفرت ہوتی ہے۔"وَآخِرُهٗ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ"اور جو آخری حصہ ہے وہ تو جہنم سے خلاصی کا ہے۔

              ہم لوگ صحیح بات ہے اس وقت ہم محجوب ہیں، محجوب سے مراد یہ ہے کہ ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آ رہیں۔ نہ آنکھوں سے نظر آ رہی ہیں نہ دل سے نظر آ رہی ہیں۔ دل سے اولیاء اللہ کو نظر آتی ہیں۔ لیکن ہم لوگوں کو آنکھوں سے بھی نظر نہیں آتی، دل سے بھی نظر نہیں آ رہی۔ وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ "عِتْقٌ مِنَ النَّارِ" کیا چیز ہے؟ اللہ پاک خود ارشاد فرماتے ہیں، جس نے اس چیز کو Create کیا ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں:جو عذابِ جہنم سے بچ گیا فَقَدْ فَازَ فوزََ عَظِیماََ تو بہت عظیم کامیابی اس نے حاصل کر لی۔ بہت عظیم کامیابی اس نے حاصل کر لی۔تو یہ بات ہے کہ ہم لوگوں کو عذابِ جہنم سے بار بار بار بار بار بار پناہ مانگنی چاہیے۔ بلکہ رمضان شریف کے مہینے میں جو چار چیزوں کی کثرت کا بتایا جاتا ہے کہ چار چیزوں کی کثرت کرے، ان میں ایک لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهُ کا... تاکہ ایمان تازہ رہے۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ کی کثرت۔ دوسرا استغفار کی کثرت، تاکہ گناہ ختم ہوتے رہیں۔ استغفار کی کثرت۔ تیسرا جنت کو مانگنے کی کثرت۔ جنت کو مانگنے کی کثرت۔ اور چوتھا جہنم سے پناہ مانگنے کی کثرت۔اس کے لیے ہمیں فرمایا گیا ہے کہ اس میں ہم لوگ یہ چار چیزوں کی کثرت کریں۔

              تو یہ مہینہ الحمد للہ قریب آ گیا ہے۔ اللہ کرے ہمارے نصیب میں ہو۔ کیونکہ اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب کے مہینے میں دعا فرمائی تھی، جب رجب کا چاند دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ" اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت رکھے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے۔ دیکھو نا دو مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں اے اللہ ہمیں رمضان تک پہنچا دے۔ کیوں؟ ہمیں کیا پتہ؟ ہمیں کیا پتہ کہ وہاں رمضان تک ہم پہنچ سکتے ہیں نہیں پہنچ سکتے؟ ایک گھڑی کا بھی فرق ہو تو پتہ نہیں ہے۔ لہذا رمضان شریف تک پہنچنے کا دعا کرنا چاہیے کیونکہ رمضان شریف تو ایک خزانہ ہے۔

              اب دیکھو ایک شخص ہے وہ اپنے زندگی میں اس کو سب سے بڑا کام سمجھتا ہے کہ ایک سونے کی کان تک پہنچ رہا ہے اور جتنا وہ نکالنا چاہے گا نکالے گا۔ تو کیا کرے گا؟ تھک تو جائے گا، کوشش کرے گا، لیکن دعا بھی کرے گا کہ بس میں اللہ تعالیٰ مجھے پہنچا دے وہاں تک۔تو یہاں پر رمضان شریف کا مہینہ ایسا ہے جس پر جیسے ابھی ابھی آپ نے حضرات نے سنا کہ ماشاءاللہ سنت... مطلب جو سنت اور نفل پڑھنے پر فرضوں کا ثواب ملتا ہے اور فرضوں کے... یعنی ثواب 70 گنا ہو جاتا ہے اور روزہ دار کو افطار کرایا جاتا ہے تو اس پر سبحان اللہ ان کے... یعنی روزے کے برابر اجر ملتا ہے۔ کیا کیا چیزیں ملتی ہیں؟ اور سب سے بڑی بات، سب سے بڑی بات... اللہ مجھے بھی آپ کو بھی نصیب فرمائے... وہ ہے "لیلۃ القدر"۔

              لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر میں کوئی شک نہیں ہے کیوں یہ قرآن سے ثابت ہے۔إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ اللہ پاک نے صورت استفہامیہ سے مطلب سمجھایا ہے۔ فرمایا تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلۃ القدر تو وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔اب ہزار مہینوں سے زیادہ افضل کیا ہے؟ وہ بتاتا ہوں۔ مثلاً آپ نے لیلۃ القدر میں ایک پارہ تلاوت کیا۔ ایسا ہے جیسے آپ نے ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہر رات میں ایک پارہ تلاوت کیا۔ یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے، اب آج کل بھی یہ بیماری ہے۔ بھئی خود کوئی کام نہیں کرنا چاہتے تو کہتے ہیں یہ ضعیف حدیث ہے۔ اور نہ خود کرو نہ دوسروں کو کرنے دو۔ حالانکہ فضائل میں تو ضعیف حدیث بھی چالو ہے۔ Accepted ہے، علماء کرام کے نزدیک ضعیف حدیث بھی فضائل میں Accepted ہے۔ یعنی کیوں وجہ ہے؟ شوق ہے نا، محبت ہے۔ شوق اور محبت کے ساتھ کوئی عمل کرنا نصیب ہو جائے تو عمل تو بذاتِ خود مطلوب ہے۔ لہذا اگر آپ اس کو ضعیف حدیث کے ذریعے سے بھی حاصل کر لیں تو آپ کو تو فائدہ تو ہو گیا نا۔ آپ کو فائدہ تو ہو گیا، نقصان میں تو آپ نہیں چلے گئے اور بدعت اس لیے نہیں ہے کہ حدیث شریف تو ہے۔ موضوع حدیث نہیں ہے۔

              ضعیف حدیث، ضعیف حدیث کیسا ہوتا ہے میں آپ کو بتاؤں۔ ضعیف حدیث ایسا ہوتا ہے کہ جیسے کسی راوی کا پتہ نہ ہو کہ یہ کون تھا۔ یہ ضعیف ہو گیا۔ راوی کا حافظہ کمزور تھا، یہ ضعیف ہو گیا۔ راوی کو شک پڑ جاتا تھا کسی چیز میں تو یہ ضعیف ہو گیا۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس کا مطلب ہے راوی پر سارے مسائل ہیں۔ لیکن میں آپ کو ایک تجربہ بتاتا ہوں۔ آپ اس طرح کریں بازار میں... اپنی گاڑی چلاتے ہوئے جائیں، راستے میں کوئی اجنبی آپ کے سامنے کھڑا ہو کہتا ہے آگے نہ جائیں Strike ہو رہی ہے۔ آپ کا دل کو کھٹکا لگتا ہے بھئی یہ کیا مسئلہ ہے؟ لیکن کہتے ہیں پتہ نہیں۔ آگے جا کر ایک اور آدمی بھی آپ کو بتاتا ہے کہ بھئی یہ سٹرائیک ہو رہی ہے۔ آپ کہتے ہیں ممکن ہے نہ ہو، پھر آگے جا کے ایک تیسرا آدمی... تو پھر آپ کیا چلیں گے اس راستے پہ؟ لیکن مجھے بتاؤ کیا ان تینوں کو آپ جانتے تھے؟کیا خیال ہے یہ ضعیف حدیث ہے یا صحیح حدیث ہے؟ عمل کیوں کیا پھر؟ ضعیف حدیث پہ عمل نہیں کرتے ہو نا تم، پھر اس پر عمل کیوں کیا؟ تو Practical سوچنا چاہیے، پریکٹیکل۔ Theory میں اتنا زیادہ نہیں جانا چاہیے۔ Theory میں بعض دفعہ انسان مار کھاتا ہے۔ پریکٹیکل کیا چیز ہے؟ بھئی جب آپ کو کسی چیز سے فائدہ ہو رہا ہے تو فائدہ حاصل کرو۔ نقصان ہو رہا ہے تو اس سے بچو۔ ٹھیک ہے نا، بس اس... اس کی اتنی سی بات ہے۔

              لیکن یہ ضعیف حدیث نہیں ہے، یہ قرآن کی آیت ہے۔ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔ اور پھر اس میں فرشتوں کا بھی ہے کہ فرشتے آتے ہیں جھنڈ کی صورت میں جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں اور ایسے لوگوں جو لوگ دعائیں کرتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔

              یہ جن لوگوں کو نظر آتی ہے، روشنی نظر آتی ہے یا پانی میٹھا ہوتا ہے، اس کا بھی انکار نہیں کرنا چاہیے، ایسا ہے، بعض صحابہ نے بھی اس طرح روایتیں کی ہیں۔ ممکن ہے۔ لیکن یہ لازمی نہیں ہے ہر ایک کے ساتھ۔ ہاں یہ لازمی نہیں ہے ہر ایک کے ساتھ۔ لیکن بہرحال ایسا ہو سکتا ہے۔ تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب فرشتے آ جاتے ہیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ جب آ جاتے ہیں ان کی برکت سے روشنی بھی نظر آتی ہے، ان کی برکت سے پانی بھی میٹھا ہو... ان کی برکت سے وہ جو ہے نا وہ... بعض دفعہ درخت جو ہے نا وہ سجدے بھی کرتے ہیں، لیکن یہ کشفی باتیں ہیں۔ عین ممکن ہے ایک آدمی کو نظر آ جائے دوسرے کو ساتھ بیٹھا ہوا اس کو نظر نہ آئے۔ یہ کشفی باتیں ہیں اور کشفیات پر اتنا زیادہ جانا نہیں چاہیے۔ سب سے بڑی... سب سے بڑا کشف میرا قرآن کا ہے جس نے فرمایا کہ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس کے بعد میں کچھ کسی اور چیز کا انتظار کروں؟ بس میرے لیے یہ بات کافی ہے نا۔ تو بات یہ ہے کہ اس رات میں عبادت کرو۔ اس رات میں کچھ کماؤ۔ کماؤ کیسے؟ مطلب اس طرح نہیں کہ بس نعتیں سنو اور تقریریں سنو اور باتیں کرو... نہیں بھئی یہ چیزیں پہلے کرو۔ اس سے پہلے کرو جیسے میں بھی کر رہا ہوں، پہلے کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے کیا تھا نا۔ اس وقت عمل کرو۔ تو عمل کیسے کرو؟ نفلیں پڑھو، قرآن پاک کی تلاوت کرو، ذکر اذکار کر لو، درود شریف پڑھو، استغفار کر لو اور اس طرح دعائیں مانگو۔ اور دعائیں قرآنی اور حدیث کی دعائیں اگر آپ کو آتی ہیں تو سبحان اللہ وہ تو بہت بڑی بات ہے۔

              اللہ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے آپ کو بھی۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُسُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ برحمتک یا ارحم الراحمین۔


              استقبالِ رمضان اور تقویٰ کی اہمیت - جمعہ بیان