حُبِّ مصطفیٰﷺ اور اتباعِ سنت کا حسین امتزاج

عارفانہ کلام از کتاب

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

محبت اور اتباع کا تعلق:

نعت گوئی کی اہمیت

صحابہ کرامؓ کا کلام

اقسامِ محبت

دلیل بمقابلہ جذبات

کلام و تشریح: حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل (دامت برکاتہم)

کتاب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آواز: مولانا افتخار صاحب


کیا رہے دل میں اگر حُبِّ مصطفیٰﷺ نہ رہے

یا پھر عمل میں اگر اُن کی اتباع نہ رہے


ان دونوں چیزوں کو آپس میں ملانا ضروری ہے۔ آج کل دو علیحدہ علیحدہ تو موجود ہیں، لیکن دونوں کا اکٹھا کسی میں ہونا یہ مطلوب ہے اور یہ کم ہے۔ کہ آپﷺ کی محبت بھی حاصل ہو اور پھر وہ محبت آپﷺ کی اتباع میں ظاہر ہو جائے۔ یعنی آپﷺ کی اتباع اس کے ذریعے سے نصیب ہو جائے۔

لوگوں نے اپنے اپنے میدان چن لیے ہیں۔ کچھ لوگ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو سنتوں سے مستغنی سمجھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان کو سنتوں کی بات کی جائے تو چڑتے ہیں۔ حالانکہ دیکھو یہ تو کیسے ہو سکتا ہے کہ جن سے آپ محبت کر رہے ہیں آپ ان کا طریقہ نہ اپنائیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بلکہ دنیا میں جہاں پر بھی کسی کے ساتھ بھی محبت ہے تو ان کی طرح ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح وہ چاہتے ہیں اس طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات ہے۔

تو ایک طرف تو یہ ہے۔ دوسری طرف یہ ہے کہ خشک اعمال۔ اعمال ہیں لیکن محبت سے خالی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دعوت بھی ہے، سب کچھ ہے، لیکن جب آپﷺ کی محبت کی بات کی جائے تو ذرا طبیعت مختلف ہو جاتی ہے۔

دیکھیں یہ نعت شریف ہے۔ نعت شریف اصل میں آپﷺ کی تعریف پر مبنی کلام کو کہتے ہیں، چاہے وہ نثر میں ہو چاہے نظم میں ہو۔ اس لیے قرآن پاک میں بھی نعت ہے۔ حالانکہ قرآن پاک شعر تو نہیں ہے، قرآن پاک میں بھی نعت ہے۔

تو آپﷺ کی محبت پر مشتمل جو کلام ہے اس کو "نعت" کہتے ہیں۔ تو بعض لوگوں کو نعتوں سے چڑ ہے۔ اب اگر ان کا یہ عذر ہو بظاہر، جو انہوں نے بنایا ہوا اپنے لیے، کہ آج کل صحیح نعتیں نہیں ہیں۔ تو اول تو یہ دعویٰ غلط ہے۔ ہمارے حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی عجیب بات کی ہے، بہت عجیب بات کی ہے، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے۔ فرمایا:

کھوٹے سکے جو بازار میں چل رہے ہیں نا، وہ کھرے سکوں کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ کھرے سکے اگر بالکل ختم ہو جائیں تو کھوٹے سکے پھر لوگ کیوں لیں گے؟ پھر تو پتہ ہو گا نا کہ یہ کھوٹے ہیں، پھر ان کو لوگ کیوں لیں گے؟ کھوٹے سکے جو لوگ لیتے ہیں اس کا مطلب ہے کھرے سکے موجود ہیں۔ کھرے سکوں کے دھوکے میں لوگ کھوٹے سکے لے رہے ہیں۔

تو اس کا مطلب ہے کہ اگر جھوٹے لوگ موجود ہیں، جو محض محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، دعویٰ ان کا ہے محبت ہے نہیں، تو ایسے لوگ بھی ہیں جن میں محبت بھی ہے اور اتباع بھی ہے اور سچے ہیں۔ ان کو تلاش کرنا چاہیے۔ یہ کوئی ایسے مشکل نہیں کیونکہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ تو اگر کسی کے اندر محبت ہے، وہ تو ایک مخفی جذبہ ہے، لیکن اس کے اعمال سے ظاہر ہو جائے گا کہ اس کو محبت ہے یا نہیں ہے۔


تو اس وجہ سے جو خشک لوگ ہیں وہ اگر کہتے ہیں کہ نعتیں آج کل صحیح طریقے پہ نہیں ہیں، تو اول تو یہ دعویٰ غلط ہے۔ اور اگر بالفرض نہیں بھی ہے تو تم صحیح چیزیں آگے لے آؤ۔ لیکن اس چیز کو ختم تو نہیں کرو کیونکہ یہ چیز پہلے سے موجود ہے۔ صحابہ کرامؓ کے وقت میں تھی نعتیں تھیں۔ تقریباً ہر بڑے صحابی جو مشہور صحابہ ہیں ان میں اکثر نے نعتیں لکھی ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ۔


انبیائے علیہم السلام اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء کرام کی نعتیں اور کلام۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا:


يَا عَيْنَ فَابْكِي وَلَا تَسْأَمِي

وَحَقَّ الْبُكَاءُ عَلَى السَّيِّدِ


عَلَى خَيْرِ خِنْدِفٍ عِنْدَ الْبَلَاءِ

أَمْسَى يُغَيَّبُ فِي الْمَلْحَدِ


فَصَلَّى الْمَلِيكُ وَلِيُّ الْعِبَادِ

وَرَبُّ الْعِبَادِ عَلَى أَحْمَدِ


فَكَيْفَ الْحَيَاةُ لِفَقْدِ الْحَبِيبِ

وَزَيْنِ الْمَعَاشِرِ فِي الْمَشْهَدِ


فَلَيْتَ الْمَمَاتَ لَنَا كُلُّنَا

وَكُنَّا جَمِيعاً مَعَ الْمُهْتَدِي


عمر فاروق رضی اللہ عنہ:


أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ أَظْهَرَ دِينَهُ

عَلَى كُلِّ دِينٍ قَبْلَ ذَلِكَ حَائِدٍ


وَأَسْلَبَهُمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بَعْدَمَا

تَدَاعَوْا إِلَى أَمْرٍ مِنَ الْغَيِّ فَاسِدٍ


غَدَاةَ أَجَالُ الْخَيْلِ فِي عَرَصَاتِهَا

مُسَوَّمَةً بَيْنَ الزُّبَيْرِ وَخَالِدٍ


فَأَمْسَى رَسُولُ اللهِ قَدْ عَزَّ نَصْرُهٗ

وَأَمْسَى عِدَاهُ مِنْ قَتِيلٍ وَشَارِدٍ


حضرت عثمان رضی اللہ عنہ:


فَيَا عَيْنِي أَبْكِي وَلَا تَسْأَمِي

وَحَقَّ الْبُكَاءُ عَلَى السَّيِّدِ


ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا:


مَتَى يَبْدُ فِي الدَّاجِي الْبَهِيمِ جَبِينُهٗ

يَلُحْ مِثْلَ مِصْبَاحِ الدُّجَى الْمُتَوَقِّدِ


فَمَنْ كَانَ أَوْ مَنْ قَدْ يَكُونُ كَأَحْمَدٍ

نِظَاماً لِحَقٍّ أَوْ نَكَالاً لِمُلْحِدِ


حضرت علی کرم اللہ وجہہ:


أَمِنْ بَعْدِ تَكْفِينِ النَّبِيِّ وَدَفْنِهٖ

بِأَثْوَابِهٖ آسَى عَلَى هَالِكٍ ثَوَى


رَزَانَا رَسُولُ اللهِ فِينَا فَلَنْ نَرَى

بِذَاكَ عَدِيلاً مَا حَيِينَا مِنَ الْوَرَى


وَكَانَ لَنَا كَالْحِصْنِ مِنْ دُونِ أَهْلِهٖ

لَهُ مَعْقِلٌ حِرْزٌ حَرِيزٌ مِنَ الرَّدَى


وَكُنَّا بِمَرْآهُ نَرَى النُّورَ وَالْهُدَى

صَبَاحاً وَمَسَاءً رَاحَ فِينَا أَوِ اغْتَدَى


یہ لمبا ہے۔ پھر ابوطالب صاحب کا بھی ہے، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا ہے، حمزہ بن عبدالمطلب صاحب کا ہے، ہمزیۃ البوصیری ہے، کعب بن زہیر ہے، عباس بن مرداس ہے رضی اللہ عنہ۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، اس طرح اور۔۔۔ تو یہ سارے بڑوں کے جو کلام ہں، اس کا مطلب یہ ہے کہ بھئی اس سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا۔ انکار تو نہیں کیا جا سکتا۔ بس تم تلاش کر لو، جو صحیح ہو اس کو لے لو، جو غلط ہو اس کو چھوڑو۔


ٹھیک ہے آج کل لوگ نعتوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، اس کے ساتھ Music ملا رہے ہیں، Music کے Tone ملا رہے ہیں، Music کے طریقے پہ پڑھ رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ وہ ایسا ہے جیسے کہ کوئی لیٹرین میں قرآن پڑھے، تو غلط ہے۔ گناہ ہو گا۔ لیکن ان کی وجہ سے صحیح لوگوں کو تو نہ چھوڑیں نا، صحیح باتوں کو، صحیح کاموں کو تو نہ چھوڑیں۔


تو یہ بات ہے، تو یہاں پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی ضروری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع بھی ضروری ہے۔


یا پھر عمل میں اگر اُن کی اتباع نہ رہے

کیا رہے دل میں اگر حُبِّ مصطفیٰﷺ نہ رہے


جن کو معراج میں بھی خیال تھا امت کا تو پھر

ان کو خیال کیسے قیامت میں ہمارا نہ رہے


کیا رہے دل میں اگر حُبِّ مصطفیٰﷺ نہ رہے


ان کی صورت، ان کے انداز اور کمالات ان کے

یاد ہو کیسے عمل میں، خیال ان کا نہ رہے


یا پھر عمل میں اگر اُن کی اتباع نہ رہے


جبکہ احسان کا بدلہ نہیں احسان کے سوا

کیسے انسان پھر ان کے ساتھ باوفا نہ رہے


یا پھر عمل میں اگر اُن کی اتباع نہ رہے


جبکہ ثانی نہیں جمال و کمال کے ان کا

دل کیسے ان کی محبت میں مبتلا نہ رہے


کیا رہے دل میں اگر حُبِّ مصطفیٰﷺ نہ رہے


ایک ہی بات میں قصہ کرو اب ختم شبیر

نہیں انسان جو کسی حال میں ان کا نہ رہے

اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ

کیا رہے دل میں اگر حُبِّ مصطفیٰﷺ نہ رہے

یا پھر عمل میں اگر اُن کی اتباع نہ رہے


اصل میں ہم صرف "عقلی محبت" کے مکلف ہیں، طبعی محبت غیر اختیاری ہے۔ طبعی محبت غیر اختیاری ہے۔ اگر کسی کو عقلی محبت مل جائے تو اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اور یہ نعت ساری عقلی محبت ہے۔ یعنی ہر ہر چیز عقل بتاتا ہے نا، جیسے: هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ، قرآن پاک کی آیت ہے۔ تو جب یہ بات ہے تو پھر ہم ان کے ساتھ وفا کیوں نہ کریں؟ یہ عقل کی بات ہے۔ جمال و کمال جب ان کا سب سے زیادہ ہے، پھر ان کے پیچھے کیوں نہ رہیں؟ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جب یہ سعادتیں، یہ چیزیں ان کا حاصل ہیں، پھر ان کے ساتھ محبت کیوں نہ کریں؟


مطلب ہر چیز عقل، یعنی گویا کہ جس کو کہتے ہیں Cause and effect، اس کے حساب سے یہ ساری جو نعت ہے وہ لکھی گئی ہے۔ اچھا اب اس کو اگر انسان عقلی طور پر مان لے تو اس کو آپ ﷺ کے ساتھ عقلی محبت حاصل ہو جائے گی۔ عقلی محبت جو ہے وہی مطلب اس کے مکلف ہیں، ہم طبعی محبت کے مکلف نہیں ہیں۔ البتہ اس میں ایک بشارت ہے۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقلی محبت جس کو حاصل ہو، تو اگر تواتر کے ساتھ حاصل رہے، تو وقت کے ساتھ ساتھ وہ طبعی محبت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ عقل دل پر اثر کرتا ہے، اور دل بھی عقل پہ اثر کرتا ہے، یہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ہے۔

تو عقل جب دل پہ اثر کرتا ہے اور آپ کو عقلی محبت ہو، تو دل کو بھی محبت ہو جائے گی۔ تو دل کو جب محبت ہو جائے گی تو بس یہ طبعی محبت ہے۔ تو اس وجہ سے اس نعت شریف کو یا اس قسم کے جو نعتیں ہیں، یعنی ایک ہوتا ہے مطلب یعنی جس کو کہتے ہیں نا Music کے شور سے اور اِدھر اُدھر ہلہ گلہ سے آپ ایک چیز لوگوں کو گرما دیں، تو وہ صرف سطحی بات ہوتی ہے، بس وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔

لیکن جو اصل بات ہوتی ہے۔ ہمارا جو بیٹا ہے محمد ، یہ بہت جذباتی تقریریں سنتا تھا بچپن میں۔ پتہ نہیں کن کن لوگوں کی وہ سنتا تھا ریکارڈنگ ان کے پاس ہوتی تھی۔ تو اچھا خاصا مطلب تھا۔ تو ایک دن میں نے اسے کہا کہ، یہ پڑھ رہا تھا کتاب مغرب سے کچھ پہلے، میں نے کہا آج بیان سننے کے لیے آؤ گے؟ تو اس نے کہا آپ کس چیز پہ بیان کریں گے؟ میں نے کہا آپ بتائیں کس چیز پہ بیان کریں۔ تو اس کے ہاتھ میں قلم تھا، کہتا ہے اس پہ کرو۔ میں نے کہا چلو ہو جائے گا آ جاؤ۔ وہ آ گیا۔ تو اس کے خیال میں بھئی قلم پہ کیا بیان ہو گا؟ اللہ کی مدد ہوتی ہے ایسی چیزوں میں۔ تو جس وقت میں بیٹھ گیا تو: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ - نٓ ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ۔ اس آیت کریمہ سے میں نے شروع کیا۔ اور بس اس کا ترجمہ بیان کرنے کے بعد پورا بیان اسی پہ ہو گیا۔

تو خیر بہرحال جب میں گھر آ گیا تو میں نے اس سے پوچھا میں نے کہا بیان سن لیا؟ کہتا ہے ہاں۔ میں نے کہا آپ نے تو بہت سارے بیان سنے ہیں۔ اچھا مجھے بتاؤ اس بیان میں اور ان بیانوں میں کیا فرق ہے؟ آپ اس میں کیا۔۔۔ اب دیکھو نا یہ وہ ایک، اس کا تو تجربہ تھا نا اس کو ماشاءاللہ باقی بیانوں کا۔ تو مجھے اس وقت، دیکھو نا اس وقت یہ بچے تھے لیکن اس نے جو Observation کی وہ بھی کیا تھی۔ اس نے یہ کہا: "ابو آپ کا بیان یاد رہتا ہے، ان کا بیان بعد میں بھول جاتا ہے۔"

اس وقت بڑا جوش و جذبہ ہوتا ہے اس میں، مطلب وہ جو چیخ چیخ کر بول رہے ہوتے ہیں نا، تو اس کے ساتھ ساتھ انسان اڑ رہا ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں اس کو پتہ نہیں کیا ہوا بس ہوا ہو جاتا ہے، جیسے وہ نہیں ہوتے وہ جو مطلب بچوں کے لیے ہوتے ہیں وہ مشین سے وہ چیزیں جو پھولتی جاتی ہیں، پھولتی جاتی ہیں، اس کو اس طرح کر لو تو کچھ بھی نہیں۔ تو اس طرح مطلب ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن جس وقت دلیل کے ساتھ بات ہو رہی ہو، تو پھر وہ دلائل دماغ کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ تو لہذا اس کا پھر اثر ہوتا ہے، وہ زندگی تبدیل کرنے والی چیز ہوتی ہے۔

تو اس طرح یہ عقلی محبت جو ہے وہ ہم حاصل کر لیں اسی کے ہم مکلف ہیں۔ اس کے بعد پھر اللہ کرے کہ اس کی برکت سے وہ طبعی محبت میں تبدیل ہو جائے، کام بن جائے ان شاءاللہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔




حُبِّ مصطفیٰﷺ اور اتباعِ سنت کا حسین امتزاج - عارفانہ کلام