میں مریضِ حبِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں

عارفانہ کلام از کتاب شاہراہ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھممسعود احمد صاحب
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

عشقِ حقیقی اور روحانی مرض کی حقیقت (واقعہ امام غزالیؒ)

نفس کی بیماریاں (حبِ جاہ، حبِ مال، حبِ باہ) اور ان کا علاج

"عاشق" ہونے کا اصل مفہوم اور اتباعِ شریعت

کلام: حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل (دامت برکاتہم)

آواز: مسعود احمد صاحب

کتاب: شاہراہِ محبت

شاہراہِ محبت سے حضرت والا کا کلام ہے۔ کلام کا عنوان ہے کہ کھلے گا گر تو یہاں پہ ہی، کہ کھلے گا گر تو یہاں پہ ہی، جو میرے نصیب کا تالا ہے۔


حضرت والا فرماتے ہیں:


میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


جو سبب حیات کا ہے میری

میرے دل میں جس سے اجالا ہے


میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


جو سبب حیات کا ہے میری

میرے دل میں جس سے اجالا ہے


میرے دل میں اس سے سرور ہے

میرے دل کو اس سے سکون ہے


میرے دل میں اس سے سرور ہے

میرے دل کو اس سے سکون ہے


میں نے دل میں شوق سے ذوق سے

جانے کب سے پیار سے پالا ہے


میں نے دل میں شوق سے ذوق سے

جانے کب سے پیار سے پالا ہے


میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


کوئی مجھ کو اس سے نہ روک دے

میں علاج اس کا کروں گا کیوں


کوئی مجھ کو اس سے نہ روک دے

میں علاج اس کا کروں گا کیوں


کہ مرض یہی تو علاج ہے

اس نے نفس کے شر کو جو ٹالا ہے


کہ مرض یہی تو علاج ہے

اس نے نفس کے شر کو جو ٹالا ہے


(تشریح - حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم)

یہ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ جس وقت استتار میں تھے، یعنی اپنی اصلاح کے لیے چودہ سال غائب ہو گئے تھے۔ اس دور میں لوگوں ان کو جانتے نہیں تھے، وہ جو جس علاقوں میں، جن علاقوں میں تھے، لوگوں ان کو نہیں جانتے تھے۔


تو ایک دن یہ مطلب بیہوش پڑے ہوئے تھے۔ تو لوگوں نے جب دیکھا تو انہوں نے کہا کہ مسافر ہے، بیہوش پڑا ہوا ہے۔ تو ایک عیسائی حکیم کو بلا لیا کہ اس کا ذرا دیکھ لیں، علاج کریں۔


تو وہ حکیم بھی حکیم تھے، اگرچہ تھے عیسائی لیکن کمال کے حکیم تھے۔ تو انہوں نے جب چیک اپ (Checkup) کر لیا، تو اس پر جو ہے ناں، اس حکیم صاحب نے کہا کہ میں اس کا علاج نہیں کر سکتا ہوں، یہ عاشق ہے۔ اور عاشق بھی کسی مخلوق کا نہیں ہے، خالق کا ہے۔ لہذا میں اس کا علاج نہیں کر سکتا۔


تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ مطلب یہ چیز ہے جس کے آثار بیماری جیسے ملتے ہیں لیکن بیمار نہیں ہوتا، اصل صحت مند تو وہی ہوتا ہے۔ لیکن آثار بیماری کے ہوتے ہیں۔ لوگ بھی اس کو بیماری سمجھتے ہیں۔


تو یہ حضرت حاجی محمد امین صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو تھے ہمارے پشتو کے مشہور شاعر تھے، ان کا بھی ایک کلام ہے میرے پاس، اس میں بھی انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ: "زڑہ دے زخمی دے سینہ دے ھم بیمار دے، نہ دا" یعنی مطلب یہ ہے کہ۔۔۔ کیا یاد ہے آپ کو؟ اس میں ہے کہ یعنی اگر تو۔۔۔ آپ ﷺ کی محبت میں نہیں، تو پھر تیرا دل زخمی نہیں اور سینہ بھی بیمار نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو اس سے فارغ ہے۔


تو یہ بات تو ہے کہ اس۔۔۔ یہ جو بیماری اس کو جو لوگ کہیں گے، یہ تو بہت بڑی بات ہے، بڑی اونچی نسبت کی چیز ہے۔ اور یہ ہے کہ بہت سارے واقعی روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے۔


میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


میرے نفس نے مجھ کو اٹھا دیا

اور اٹھا اٹھا کے پٹخ دیا


میرے نفس نے مجھ کو اٹھا دیا

اور اٹھا اٹھا کے پٹخ دیا


میں پٹخ پٹخ کے گرا گرا

تو اسی نے مجھ کو سنبھالا ہے


میں پٹخ پٹخ۔۔۔



یہ اصل میں ہمارا جو نفس ہے، یہ اس کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں۔ تو ان خواہشات میں جو بڑے ہیں وہ یہ ہے: حبِ جاہ ہے، حبِ باہ ہے اور حبِ مال ہے۔


تو حبِ جاہ جو ہے، مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنا بڑا ہونے کا جو گمان ہونے لگتا ہے، تو اس سے پھر بہت سارے مفاسد وجود میں آ جاتے ہیں۔ ظلم بھی وجود میں آ جاتا ہے اور اس طرح مطلب یہ ہے کہ حسد، کینہ بھی، تمام چیزیں وجود میں آ جاتی ہیں۔


تو یہ جو ہے ناں مطلب یہ ہے کہ یہ جو میرا نفس ہے، اس نے مجھے اٹھا دیا، یعنی مطلب ہے کہ مجھے تکبر میں مبتلا کر دیا، جس کی وجہ سے میں کئی مفاسد میں مبتلا ہو گیا۔ لیکن آپ ﷺ کی محبت مجھے واپس لے آئی اور مجھے مطلب پھر اپنی جگہ پہ لے آئی، عاجزی پر۔ یہ اصل میں مراد ہے۔


(کلام جاری)

پٹخ کے گرا گرا

تو اسی نے مجھ کو سنبھالا ہے


میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


میں دیوانہ عشق کی مار کا

مجھے عقل کی کوئی دوا نہ دے


میں دیوانہ عشق کی مار کا

مجھے عقل کی کوئی دوا نہ دے


میرے دل میں ایسا دخل جو دے

میں نے دل سے اس کو نکالا ہے


میرے دل میں ایسا دخل جو دے

میں نے دل سے اس کو نکالا ہے


تشریح

یہ واقعتاً بعض لوگ جو شریعت پر عمل کرتے ہیں آپ ﷺ کی محبت میں، تو ان کو لوگ پھر کیا سمجھتے ہیں؟ ان کو پھر نصیحتیں کرتے ہیں۔ مطلب اپنے طور سے ان کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں کہ یہ تو ٹھیک نہیں ہے، اس کا بھی امکان ہے، اس کا بھی ہو سکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے، اس کی بھی گنجائش ہے، اس کی بھی گنجائش ہے۔ مطلب لوگ پھر وہ نصیحتیں کرتے ہیں۔


تو وہ جو نصیحتیں ہوتی ہیں وہ ظاہر ہے جو واقعی صحیح معنوں میں عاشق ہوتا ہے، وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ بلکہ انہی لوگوں کی محبت دل سے ان کی نکل جاتی ہے جو ان کو اس معنے میں نصیحت کرتی ہیں۔ تو یہ بات ہے۔



میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


آخری والے شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں۔۔۔


درِ جد پہ آ کے پڑا ہوں میں

گو نہیں ہوں اس کے بھی قابل میں


درِ جد پہ آ کے پڑا ہوں میں

گو نہیں ہوں اس کے بھی قابل میں


کہ کھلے گا گر تو یہاں پہ ہی

جو میرے نصیب کا تالا ہے


کہ کھلے گا گر تو یہاں پہ ہی

جو میرے نصیب کا تالا ہے


میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


میں مریضِ حبِ رسول ہوں

کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے


جو سبب حیات کا ہے میری

میرے دل میں جس سے اجالا ہے


(تشریح)

یہ تو ہو گیا نعت شریف۔ اصل میں جمعہ کی رات میں عموماً نعت شریف یہ لوگ پڑھتے ہیں۔ تو نعت شریف ہم سنتے ہیں یا پڑھتے ہیں یا پڑھواتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے، کیونکہ اللہ پاک اس سے خوش ہوتے ہیں۔


لیکن آپ ﷺ کس چیز سے خوش ہوتے ہیں؟ وہ تو اللہ پاک کی۔۔۔ ظاہر ہے تعریف کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں تو۔۔۔ ظاہر ہے معاملہ بالکل الگ الگ ہے ناں۔ یعنی اس میں فرق کرنا تو یہ بڑی عجیب بات ہے، یہ بھی ایک قسم کا عقلمندی نہیں ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ میں حضور ﷺ کی تعریف کرتا ہوں تو اللہ تک نہ پہنچے۔


بقول مجذوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جو آپ ﷺ کی محبت کی بات کرے اور اللہ تک نہ پہنچے اس کے ذریعے سے، تو وہ اپنا عاشق ہے حضور کا عاشق نہیں ہے۔ وہ اپنا عاشق ہے، اپنی ذات کا عاشق ہے حضور کا عاشق نہیں ہے۔


کیونکہ وہ پیغام کون سا لے کر آئے تھے آپ ﷺ؟ قُولُوا لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُون۔ یہی پیغام تھا ناں؟ پوری زندگی میں تو یہی پیغام دیا ہے۔ اس وجہ سے ایسے موقع پہ ہم حمد کہنا اس بات پہ کہ آپ ﷺ خوش ہو جائیں، اور یہ آپ ﷺ ہی کا پیغام ہے۔



میں مریضِ حبِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں - عارفانہ کلام