سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 655

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰى خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ

اَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے، پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی جو احوال ہوتے ہیں ان کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔

سوال 1: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! فلاں ساہیوال سے، پچھلے مہینے میں ذکر جاری رہا لیکن مصروف ہونے کی وجہ سے دس دن تقریباً نہیں ہوا۔ بعض دفعہ خدمت کی وجہ سے ہسپتال میں دو دفعہ گیا، امی کے ساتھ ایک دفعہ اور بیوی کے ساتھ ایک دفعہ اور بعض جگہ گھر کا کام کی وجہ سے منزل کا بھی یہی حال ہے۔ الحمدللہ باقی سارا کچھ ٹھیک ہے اللہ کی طرف سے پیسے میں کچھ تنگی آئی ہے جو امید ہے کہ عنقریب ختم ہو جائے گی۔ ذکر کے وقت جیسے پہلے کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا، ذکر میرا 200 مرتبہ لا الہ الا اللہ ہے، 400 مرتبہ لا الہ الا ھو ہے، 600 مرتبہ حق ہے اور ڈھائی ہزار مرتبہ اللہ ہے۔


[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: بھائی صاحب! اصل میں بات یہ ہے کہ آپ کی بات صحیح ہے، مصروفیات تو ہوتی رہتی ہیں لیکن اس میں وقت نکالنا یہ ہر ایک کا اپنا کام ہے۔ مصروفیات میں صرف اتنی بات کی گنجائش تو ہوتی ہے کہ اگر آگے پیچھے ہو جائے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن بالکل ختم کرنا یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ سوچیں کہ اس کو آپ کیسے وقت اس کے لیے نکالتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ ڈھائی ہزار مرتبہ اللہ اللہ ہے اس کو مختلف حصوں میں بھی کر سکتے ہیں، لیکن 200، 400، 600، حق اور 100 دفعہ یہ ایک وقت میں کر لیا کریں اس پہ پھر اتنا زیادہ وقت نہیں لگتا۔ تو مطلب یہ ہے کہ وقت اس کے لیے نکال ہی لیا کریں۔


سوال 2: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری ایک بیٹی فلاں آپ سے بیعت ہو گئی، الحمدللہ۔ دوسری بیٹی اس وقت سفر میں ہے وہ پشاور رہتی ہے تو وہ پوچھ رہی تھی کہ اگر ممکن ہو تو کل یا پرسوں تین بجے ہی بیعت کر لے۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: وعلیکم السلام! ہاں بالکل ٹھیک ہے، اس میں کوئی بات نہیں پرسوں کر لے، کل کر لے اور تین بجے exact فون کر لے۔ تاکہ میں ادھر ادھر نہ ہو جاؤں، کیونکہ تین بجے کا وقت دیا ہوتا ہے تو اگر تین بج کر پانچ منٹ یا دس منٹ تک کوئی فون نہیں آتا تو پھر ظاہر ہے میں کسی اور کام میں مصروف ہو سکتا ہوں۔ تو کم از کم میسج کر لیں اور تین بجے exact فون کر لیں۔

سوال 3:السلام علیکم حضرت! لاہور سے فلاں بات کر رہا ہوں۔ گزشتہ ماہ آپ نے مجھے جہری ذکر لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ اس کے ساتھ ساڑھے دس ہزار مرتبہ "اللہ اللہ "کا بڑھانے کا فرمایا تھا جس کو الحمدللہ ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے اور آپ سے مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔ علاوہ ازیں اہل خانہ کی تربیت کے معاملے میں بھی رہنمائی کی درخواست ہے۔ مثلاً ان کو ٹی وی سے روکنے کے لیے کس حد تک سختی کرنی چاہیے؟

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: سب سے پہلے یہ بات ہے کہ آپ تو گیارہ ہزار مرتبہ "اللہ اللہ"کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جہاں تک اہل خانہ کی بات ہے تو سختی کی بات تو نہیں لیکن کیا ان کی تربیت کا سلسلہ کسی کے ساتھ ہے یا نہیں ہے؟ اگر ایسا ہو تو ٹھیک ہے اس راستے سے ان کو یہ تمام باتیں پہنچا دیں۔ اور اگر نہیں ہے تو اس کا کروانے کی کچھ کوشش کیجیے۔ یعنی ترغیب اس کی دے دیجیے کیونکہ ایسے مسائل میں پھر یہی طریقہ کار ٹھیک ہوتا ہے۔ وہ مجھے ایک صاحب جو بیعت ہوئے تھے، کافی پرانی بات ہے۔ تو اس نے مجھ سے کہا کہ میری بیوی پردہ نہیں کرتی تو میں اس کو کہوں؟ میں نے کہا نہیں ہرگز نہ کہیں، آپ صرف ان کو ہمارے ہاں جو خواتین کی مجلس ہے اس میں لانے کی کوشش کر لیا کریں۔ یہ آپ کا کام ہے باقی اللہ تعالی کی مرضی ہوگی ان شاءاللہ۔ بہرحال یہ کہ اس نے پھر باقاعدگی کے ساتھ ہر ہفتے ان کو لایا، تین مہینے جب ہو گئے تو اس نے خود ہی بیعت کے لیے درخواست کی۔ بیعت ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی اس نے شرعی پردہ شروع کر لیا۔ شرعی پردہ، بہت سارے دینی گھرانوں میں بھی نہیں ہے۔ اس نے شرعی پردہ شروع کر لیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہی طریقہ ہی مناسب ہے۔

سوال 4: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت میں فلاں بات کر رہا ہوں جہلم سے، ان شاءاللہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ حضرت جی! میری فجر کی نماز اکثر قضا ہو جاتی ہے اور میری پہلی نمازیں بھی قضا ہیں ان کو کیسے ادا کروں؟ رہنمائی فرمائیں۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: وعلیکم السلام! سب سے پہلا تو یہ جو فجر کی نماز قضا ہو رہی ہے اس کا بندوبست کر لیں، اس کی وجہ مجھے بتا دیں کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ اگر دیر سے سونا ہو تو اس میں کیا مجبوری ہے آپ کی وہ ذرا مجھے بتا دیں تاکہ اس کی حیثیت سے میں آپ کو بتا دوں، کیونکہ سب سے پہلے تو اس قضا کرنے کو روکیں، پھر اس کے بعد باقی قضا کرنے کی نوبت آئے گی۔

سوال 5: السلام علیکم! میرا پندرہ منٹ کا مراقبہ ہے لطیفہ روح کا خاص فیض کا، اس میں آپ نے اللہ پاک کی صفات کے بارے میں سوچنے کا کہا تھا۔ وہ کون کون سی صفات بتائے تھے آپ نے؟ kindly مجھے وائس میں بتا دیجیے، میں یاد کر لوں گی۔ صفات just ایک مرتبہ سوچنی ہیں start میں یا پورے پندرہ منٹ؟ [سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: اصل بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی جو صفات ہیں، خاص جس کو صفات ثبوتیہ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ جل شانہ "حی" ہے، اللہ جل شانہ سنتے ہیں، اللہ جل شانہ دیکھتے ہیں، اللہ جل شانہ کلام فرماتے ہیں، اللہ پاک کا ارادہ ہے، اصل اللہ پاک کا علم ہے اور اللہ پاک نے ساری مخلوقات کو پیدا کیا، تکوین کے مالک ہیں۔ اور اللہ پاک کی قدرت۔ یہ آٹھ صفات، یہ خاص صفات ہیں۔

تو ان آٹھ صفات کے بارے میں آپ کو اگر معلوم ہو، جیسے میں نے بتا دیے، بس صرف معلوم ہونے چاہیے، آپ کو معلوم ہونے چاہیے کہ یہ صفات ہیں۔ مثال کے طور پر چار آدمی ہیں کوئی اور میں کہتا ہوں ان چار آدمیوں کے ساتھ میرا معاملہ ہے۔ تو اس وقت میں یاد تو نہیں کروں گا فلاں آدمی، فلاں آدمی، فلاں آدمی، فلاں آدمی، یہ یاد نہیں کروں گا بس وہ چار آدمیوں کا مجھے پتہ ہوگا کہ ان کے ساتھ میرا معاملہ ہے۔ تو اس طریقے سے ان آٹھ صفات کے بارے میں آپ نے اپنے ذہن میں رکھنا ہے کہ اس کا جو فیض ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شیخ کی طرف اور شیخ کی طرف سے آپ کے لطیفہ روح پر آ رہا ہے، یہ آپ نے کرنا ہے ان شاءاللہ۔


سوال 6: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت درود شریف کثرت سے پڑھتا ہوں تو درود ابراہیمی زیادہ پڑھنا چاہیے یا چھوٹا درود وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ؟ کیا دونوں درود کی فضیلت ایک جیسی ہے؟ حضرت! دو ماہ سے معمولات کا پرچہ نہیں بھیجا، پانچوں لطائف کر رہا ہوں۔ یکم جنوری سے بلا ناغہ پرچہ حل کرنا شروع کر لیا ہے۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: فضیلت تو یقیناً درود ابراہیمی کی زیادہ ہے اس لیے تو اس کو نماز کے لیے چن لیا گیا ہے۔ لیکن تعداد میں کم پڑھا جاتا ہے اور وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّاس کا تعداد میں زیادہ پڑھنا تو ظاہر ہے اس کی کمی اس طرح پوری ہو جاتی ہے۔ تو حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ذوق ہو، اگر زیادہ پڑھنے کا ذوق ہو تو پھر زیادہ تعداد میں اس کو پڑھیں ، اور اگر آپ کا زیادہ فضیلت والے کا ذوق ہو تو پھر درود ابراہیمی پڑھیں۔


سوال 7: حضرت! دو ماہ سے معمولات کا پرچہ نہیں بھیجا، پانچوں لطائف کر رہا ہوں۔ یکم جنوری سے بلا ناغہ پرچہ حل کرنا شروع کر لیا ہے۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: جی ہاں بالکل یہ باقاعدہ بلا ناغہ آپ اس کو حل کر لیا کریں اور پھر بھیج دیا کریں۔

سوال 8: کسی سائل نے مراقبہ میں یکسوئی نہ ہونے کی شکایت کی جس پر حضرت والا نے درج ذیل جواب دیا

جواب: مراقبہ میں یکسوئی ان شاءاللہ آتی رہے گی آہستہ آہستہ، آپ اپنے اعمال جاری رکھیں اور اس میں ناغہ نہ کریں۔ توجہ اور یکسوئی کے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کریں۔ اس طرح بھی نہیں کہ اپنے آپ کے ساتھ لڑنا شروع کر لیں، بس یہ بات ہے کہ فضول خیالات کی طرف توجہ نہ دیں۔


سوال 9: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت میں جب کسی سے بات کرتی ہوں تو باتوں ہی باتوں میں وہ باتیں بھی نکل جاتی ہیں جو میں بتانا نہیں چاہتی، پھر بعد میں اس چیز کا افسوس ہوتا ہے۔ اگر اس وقت خیال آتا ہے تو یہ بات نہ کرتی، اس چیز پر کنٹرول کیسے کروں؟

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: دیکھیں انسان کھانا کھاتا ہو تو اس کو ایک پتہ ہوتا ہے کہ یہ چیزیں مفید ہیں یہ چیزیں مفید نہیں ہیں، اس سے مجھے نقصان ہوتا ہے تو کیا خیال ہے اس پر کنٹرول کیسے کیا جائے گا اگر اس کا ہاتھ نقصان دہ چیزوں کی طرف جاتا ہے؟ اس میں کوئی اور اس کی مدد کر سکتا ہے؟ بس یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس کی طرف متوجہ رکھنا ہے کہ کوئی جیسے نقصان دہ چیز نہ کھانے کے لیے آپ کا ذہن متوجہ ہوتا ہے اس طریقے سے آپ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے بعد میں پشیمانی ہو۔

سوال 10: السلام علیکم! نام فلاں، تعلیم فلاں، شہر فلاں۔

تسبیحات؛ کلمہ سوم، درود ابراہیمی، استغفار، لسانی ذکر لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، اللہ 500 مرتبہ۔ لا الہ الا اللہ کا ذکر کے بعد بھی جب خاموش ہو جاتا ہوں تو بھی میرے اندر ذکر جاری رہتا ہے اور کافی دیر تک ایسے جاری رہتا ہے، اس وقت تک دوسرا ذکر شروع نہیں کرتا جب تک اندر سے آنے والی آواز بالکل مدھم نہ ہو جائے۔

قلبی ذکر ؛لطیفہ قلب، لطیفہ روح، لطیفہ سر، لطیفہ خفی، لطیفہ اخفی ہر لطیفہ پر دس منٹ، مراقبہ صفات سلبیہ 15 منٹ، مراقبہ میں تصور قائم کرنے میں مشکل ہوتی ہے، قلبی ذکر تو ٹھیک سے ہوتا ہے لیکن مراقبہ میں یکسوئی نہیں ہوتی۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: یہ آپ اس طرح کر لیں کہ اگر آپ کا لا الہ الا اللہ کا ذکر خود بخود چلتا ہے تو پھر اللہ اللہ کے ذکر کے بجائے آپ لا الہ الا اللہ کا ذکر کر لیا کریں دل ہی دل میں، اور اس کو کر کے دیکھیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لطیفہ قلب، لطیفہ روح، لطیفہ سر، لطیفہ خفی، لطیفہ اخفی پر ہر لطیفہ پر 10 منٹ لا الہ الا اللہ کا ذکر کر کے دیکھیں۔ اور صفات سلبیہ کا جو مراقبہ ہے اس میں یہ والی بات ہے کہ بس آپ ذہن میں رکھیں کہ صفات سلبیہ کیا ہیں؟ یعنی اللہ جل شانہ کی اولاد نہیں، اللہ جل شانہ نےکسی کو جنا نہیں، اللہ پاک کسی سے جنا نہیں گیا۔اللہ جل شانہ ، اس کو اونگھ نہیں آتی جیسے کہ آیۃ الکرسی میں ہے، تو یہ جو صفات سلبیہ ہیں اس کو ذہن میں رکھ کر کہیں کہ ان صفات کا جو فیض ہے وہ آ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شیخ کی طرف اور شیخ کی طرف سے آپ کے لطیفہ خفی پر، یہ آپ نے بھیجنا ہے۔


سوال 11: السلام علیکم ورحمۃ اللہ! میرا نام فلاں ہے میں شانگلہ تعلق رکھتا ہوں۔ آپ نے مجھے ذکر دیا تھا 200 مرتبہ لا الہ الا اللہ، 400 مرتبہ لا الہ الا ھو، 600 مرتبہ حق اور ہزار مرتبہ اللہ۔ اس کا ایک مہینہ پورا ہو گیا ہے، آگے رہنمائی فرمائیں۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: اب پندرہ سو مرتبہ اللہ، اور باقی سب یہی۔

Question 12: Assalamu alaikum Hazrat. If somebody is unwell with a viral illness, should he go for salah with jamaat or should he pray at home to avoid giving anyone else the virus?


[Question and Answer Session January 8, 2024, Session Number 655]


Answer: If he is imam, I think he must go because he is at the farther distance from the people and should not shake hand with the people. This is enough. And if he is not imam, I think he should stand in the corner or a little farther.


سوال 13: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! معمولات یہ ہیں، دو، چار، چھ اور ساڑھے تین ہزار، بہت سستی ہے، اس میں بندہ کی نااہلی ہے، پورے نہیں ہوتے۔ اس کے بارے میں کیا کروں؟ کاروبار کے لیے اسلامی کتابوں، سٹیشنری کا کچھ سامان جمع کیا ہے، ابھی اس کا نام حضرت کوئی رکھتے ہیں تو شروع کرتے ہیں۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: ٹھیک ہے پھر بعد میں فون پر بات کر لیں۔


سوال 14: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی! معافی چاہتا ہوں معمولات کی اطلاع میں تاخیر ہوئی، دراصل ڈیوٹی میں زیادہ ٹائم لگ جاتا ہے، اس کے لیے زیادہ تر سفر میں معمولات کرتا ہوں، اس میں بعض اوقات ناغہ ہو جائے تو دوبارہ شروع کر لیتا ہوں۔ حضرت! اس کے علاوہ جب مراقبہ شروع کروں، عمل میں سخت مزاحمت ہے اور وقت میں قلت رہتی ہے۔ بہت کوشش کے باوجود چند دن بعد ناغہ ہو جاتا ہے، حضرت ایسی کیفیات ایسے ہیں کہ کوتاہی باعث افسردگی رہتی ہے۔ ذکر 200، 400، 600، 5000، مراقبہ لطیفہ قلب 10 منٹ، لطیفہ روح 15 منٹ ہے۔ حضرت جی! مراقبہ لطیفہ قلب اور لطیفہ روح میں دوران "اللہ اللہ "محسوس ہوتا ہے۔ رہنمائی فرما دیں، والسلام علیکم۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: ماشاءاللہ ابھی آپ اس طرح کر لیں لطیفہ روح کے ساتھ لطیفہ سِر بھی شروع کر لیں۔ وہ 15 منٹ کی بجائے تینوں دس دس منٹ کریں، باقی اپنے اعمال بالکل اس طرح کر لیں اور ناغے سے بچنے کی کوشش کریں۔

سوال 15: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی! اللہ پاک سے آپ کی صحت اور تندرستی و بلند درجات کے لیے دعا گو ہوں، اللہ پاک آپ کے جملہ متعلقین کو بھی دین و دنیا کی کامیابی عطا فرمائے، آمین۔ آپ کی ہدایت کے مطابق سو نوافل اتوار کے دن ایک ہی نشست میں ادا کیے الحمدللہ، اس کے علاوہ روزے بھی رکھنے شروع کر دیے ہیں، ان شاءاللہ زیادہ سے زیادہ روزے رکھنے کی کوشش کروں گا۔ والد صاحب کی وفات کے بعد موت کا خیال کافی زیادہ ہو گیا ہے، اکثر اوقات ان کی آخری گھڑیاں اور قبر کا تصور رہتا ہے اور اور اعصاب جھنجھلا اٹھتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کے لیے دعائیں بھی شروع کر دیتا ہوں۔ حضرت جی! میں نے محسوس کیا کہ میری نظر لگنی شروع ہو گئی ہے، ایسے کہ سڑک کے کنارے کھڑی ایک گاڑی دیکھی تو خیال آیا کہ کتنی اچھی گاڑی ہے، کچھ دیر بعد وہی گاڑی دوبارہ دیکھی تو اس کا پچھلا بمپر ٹوٹا ہوا تھا۔ بعض اوقات ذومعنی قسم کے فقرے بھی زبان سے نکلنے شروع ہو گئے ہیں جس کا مطلب کچھ فحش انداز میں بھی نکلتا ہے۔ برائے مہربانی اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں، اللہ پاک آپ کے درجات کو بلند فرمائے اور آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے، آمین۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: ٹھیک ہے، آپ نے ماشاءاللہ جو روزے رکھے اس کے لیے اور نوافل پڑھے اللہ جل شانہ اس کو قبول فرمائے اور اللہ تعالی پھر اس سے، ان چیزوں سے بچائے۔ اور موت کی یاد تو یہ بڑی اچھی بات ہے اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ جہاں تک نظر لگنے کی بات ہے تو ماشاءاللہ دل سے کہا کریں تاکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کی توجہ اللہ کی طرف جائے یعنی مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی آپ کے ذہن میں آنی چاہیے، اس چیز کی بڑائی نہیں۔ یعنی اس چیز کی طرف توجہ نہ جائے بلکہ اللہ کی طرف کہ اللہ پاک نے کیسی خوبصورت چیز بنائی ہے۔ تو ماشاءاللہ پھر اس طرح کہنے سے یہ مسئلہ نہیں ہوگا۔ باقی ذومعنی الفاظ نہیں، (قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيدًا )یہ تو حکم ہے کہ بس صاف بات کر لو، تو بس وہ جو بات کرنا چاہتے ہو وہی کر لو، ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں۔

کسی نے حضرت سے دعا کی درخواست کی جس پر حضرت نے فرمایا:



جواب: اللہ تعالی آپ کو صحت دے دے اور اس کے لیے کچھ معالج سے بھی بات کر لیں کہ کچھ بہتر ہو جائے۔

Question 16: Assalamu alaikum wa rahmatullahi wa barakatuh.

Number one: one and half months past of zikr. Nafi isbat 200, La ilaha illallah 200, La ilaha illahu 200, Haq 200 and Allah 200. Although I feel some weakness, headache.

Number two: I don't do any other nafal and wazifa or amliyat other than guided, except that I try to do some munajat, although I don't recite Munajat-e-Maqbool as a whole. Alhamdulillah, now by the barakah of your dua, my situation for this week improved. Yesterday night I received some good kaifiyat during zikr. I don't do any muraqabat as I am not ordered. What is mamoolat parcha, where and how to send it?

[Question and Answer Session January 8, 2024, Session Number 655]

Answer: MashaAllah it is very good that you found the truth. And now you should do Nafi Isbat 200, La ilaha illahu 300, Haq 300 and Allah 100. And I think as far as the muraqaba is concerned, so InshaAllah it will come soon. As far as the mamoolat parcha is concerned, so this is available on our website, you can download it and you can fill up the blanks in this and send it on my number, this number from where I am reading .question answer number, so you can send on this.



سوال 17: مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جذب کسی بھی طریقے سے حاصل ہو جائے تو پھر سلوک کی طرف آنا چاہیے۔ تو ایک طریقہ تو یعنی ذکر اذکار کا ہے کہ اس کے ذریعے سے جذب حاصل ہو جائے۔ یہ جو بیانات وغیرہ ہوتے ہیں تو کیا اس سے بھی جذب حاصل ہوتا ہے؟

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: تبلیغ والوں میں جذب کیسے آتا ہے؟ یہی ہوتا ہے، تو ان کا بھی تو جذب ہوتا ہے تو اگر وہ آتے آتے سلوک میں آ جائیں

اللہ أكبر

جذب بہت زبردست power ہے، لیکن power کا صحیح استعمال، یہ بہت اہم ہے۔ آپ بہت powerfull گاڑی لے لیں اور اناڑی ڈرائیور کو بٹھا دیں، کباڑ اکر دے گا۔

سوال 18: یہ جو نقشبندی سلسلہ ہے تو کیا اس میں جذب جلدی حاصل ہو جاتا ہے، باقی سلاسل کی نسبت جو جہری اذکار ہیں، اس کی نسبت جو مراقبات کے ذریعے جلدی یہ چیز حاصل ہو سکتی ہے؟

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: وہاں جذب کی باقاعدہ نیت کی جاتی ہے یعنی اس کو حاصل کرنے کی۔ جبکہ باقی حضرات کو ویسے ہی حاصل ہو جاتا ہے، اگرچہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ کبھی کبھار حاصل ہو جاتا ہے، لیکن آج کل چونکہ یہاں پر ذکر اذکار دیے جاتے ہیں، دوسرے سلاسل میں بھی، اس وجہ سے ان کے ہاں بھی ذکر سے اکثر وہ جذب حاصل ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ بات ہے کہ معمولات جو ہوتے ہیں اس کی اطلاع اگر ساتھ ساتھ دیتے جائیں تو پھر فائدہ بہت ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ کو پتہ ہوتا ہے کہ کدھر جا رہا ہے۔ اور اگر بتانا چھوڑ دیں تو پھر اس میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔شیخ کے ساتھ جو محبت ہے وہ بھی بہت پاور فل چیز ہے سلوک طے کرنے کے لیے، وہ بھی ایک راستہ ہے؟

محبت الفاظ نہیں محبت اپنی حالت میں، جس کو محبت کہتے ہیں۔ وہ ہو تو پھر، پھر اثر ہوتا ہے، پھر بہت فائدہ ہوتا ہے۔



سوال 19: السلام علیکم! حضرت! جس طرح ہے کہ تمام انسانیت کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، مسلمان ہونا چاہیے۔ اور اسی طرح کیا سب کو اپنے نفس کی اصلاح اور شیطان سے بچنے کے لیے، کیایہ بھی ضروری ہے؟ تو اس کا جہاں علماء بھی ہوتے ہیں لیکن مشائخ کم ہوتے ہیں کچھ جگہوں پر، اور اس کے علاوہ باقی ابتدائی ترتیب کس طرح لوگ ڈھونڈیں، اولاد سے لے کر سب ہی بڑے چھوٹے مرد عورتیں سبھی، اصلاح کی ان میں کس طرح طلب پیدا کی جا سکتی ہے؟

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: دیکھیں یہ سارا Pyramid approch ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھیں سو آدمی متوجہ ہو گئے کسی شیخ کی طرف، اس میں اللہ پاک نے پانچ چھ آدمیوں کو نسبت عطا فرما دی۔ تو اب ایک شیخ نہیں رہا نا، اب پانچ چھ ہو گئے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس کے بعد مطلب یہ ہے کہ کچھ اور حضرات بھی متوجہ ہو گئے تو اس میں سے بھی کچھ بن جائیں گے۔ تو شیخ تو بے شک ایک ہو لیکن جب لوگ ان کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں تو اللہ جل شانہ ان کی حیثیت سے کام بڑھاتے رہتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اتنے متوجہ ہوتے نہیں۔ میدان تو موجود ہے، لیکن اگر کوئی متوجہ نہ ہو تو پھر اس میں کس کا قصور ہے؟ اب اس وقت دیکھیں بہت سارے لوگ تو اس پہ convinced ہی نہیں ہیں۔ کہ مطلب یہ کام کرنا چاہیے، بلکہ مخالفت والے بھی ہیں۔ تو اب ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ resistance ہے۔ اس میں ایک کمی جو ہے وہ یہ بات ہے کہ علماء ہیں، علمائے کرام، اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی بھی ایک ذمہ داری ہے۔ اور یہ ذمہ داری اگر اپنی محسوس کر لیں تو یہ بہت کام کر سکتے ہیں مثلاً دیکھو یہ جس وقت منبر پر بیٹھتے ہیں، جمعہ کا بیان کرتے ہیں، اگر یہ لوگوں کو سمجھا دیں کہ یہ کام کتنا ضروری ہے؟ تو ان میں سے جتنے لوگ قبول ہو جائیں گے تو یہ ان کا صدقہ جاریہ ہوگا۔ کام تو شیخ کو کرنا ہوگا یعنی شیخ کے پاس جائیں گے اور مطلب محنت تو وہ کرے گا لیکن ان کے کہنے سے جب جائیں گے تو ان کا کام بھی ہو جائے گا۔ تو علمائے کرام اس لائن میں یہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ علمی باتوں میں علماء کی لوگ مانتے ہیں، جو لوگ ماننے والے ہیں، علما کی مانتے ہیں۔ تو اگر علماء ان کو وقت پہ بتا دیں تو ماشاءاللہ کام آسان ہو جائے گا۔

اس وقت مجھے بتاؤ کون سے منبر سے یہ بات ہوتی ہے؟ مجھے تو مثال دینا مشکل ہو جاتا ہے،کہ کون سے منبر سے بات ہوتی ہے۔ جہانگیرہ ہمارا گاؤں ہے جہاں ہماری فیملی کا ایک بہت بڑا اچھا نام ہے الحمدللہ یعنی اللہ کا شکر ہے۔ کہ ہمارے والد صاحب کی خدمات اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اور پھر ہماری فیملی کا، تو وہاں اگر ہم کوئی بھی آواز اٹھا دیں نا تو ماشاءاللہ یعنی بہت favor ہوتی ہے۔ اب مجھ سے وہاں پر ایک ذہین بچہ بیعت ہوا۔ تو لوگوں نے اسے کہنا شروع کیا کہ آپ بیعت کیوں ہو گئے یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ مطلب بیعت ہونا تو ٹھیک نہیں ہے۔ ان سے کہنا شروع کر لیا، اب وہ ظاہر ہے ذہین بھی تھے اور مطلب سمجھدار تھے تو انہوں نے اپنے امام مسجد سے پوچھا، کہ میں شبیر صاحب (مجھے تو وہاں شبیر صاحب ہی کہتے ہیں، شاہ صاحب تو نہیں کہتے، باچا) اچھا تو ان سے پوچھا اپنے امام مسجد سے پوچھا، امام مسجد صحیح عالم تھے اور صحیح العقیدہ بھی تھے۔ اس نے کہا کہ بالکل ٹھیک بات ہے ہمارے جو بزرگ تھے وہ بیعت کرتے بھی تھے اور بیعت ہوتے بھی تھے اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، کوئی غلط کام نہیں کیا۔ تو وہ چونکہ ذہین بچہ تھا تو اس نے اس امام سے کہا کہ حضرت آپ نے یہ بات ہمیں کبھی بتائی ہے؟ اگر آپ نے ہمیں یہ بات پہلے بتائی ہوتی تو کیا مجھے اشکال ہوتا؟ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہوتی؟

ظاہر ہے پھر وہ کیا کہہ سکتا تھا، بات تو ایسی ہے کہ اس کے بارے میں کوئی کہتا تو نہیں ہے۔ اب ہمارے پاس ہیں مولانا صاحب ادھر مسجد میں امام ہیں، اور ماشاءاللہ یعنی اس سلسلے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن کبھی اس نے منبر پہ اس کی دعوت دی ہے؟ نہیں دی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں ہمت ہی نہیں ہے کہ اس بات کو کر لیں۔ تو ہمت تو پیدا کرنی پڑے گی نا، یہ تو کہیں باہر سے کوئی نہیں ڈالے گا، یہ تو انسان کے اندر خود آئے گی نا۔ تو علمائے کرام کا یہ کام ہے کہ لوگوں کو بتائیں، سمجھائیں، بالخصوص جو لوگ اس سے مطمئن ہیں اور جو لوگ اس کے، اس کو صحیح مانتے ہیں، کم از کم ان کو ہمت کرنی پڑے گی۔ اور مشائخ کو ڈیوٹی دینی پڑے گی۔ مطلب ان کو اپنا کام اس طریقے سے کرنا پڑے گا جس طریقے سے لوگ مستفید ہوں اور وہ کر لیں۔

تو یہ اس کام کی resistance بہت زیادہ ہے شیطان کی طرف سے، بہت زیادہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں غلط فہمیاں بہت زیادہ ہیں۔ اب دیکھو آج ہی میں ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا تو اس میں ایک صاحب نے تجلیہ، تخلیہ ,اس پہ بات کر رہے تھے، اس کو ڈسکس کر رہے تھے۔ تو پھر صوفیائے کرام کی انہوں نے مثالیں دیں کہ فلاں نے یہ کہا، فلاں نے یہ کہا۔ تو نیچے ایک جو کمنٹ کرنے والا تھا، اس نے کہا کہ آپ یہ بات علمی بنیاد پہ کر لیا کریں، صوفیاء کی مثال نہ دیں کیونکہ اس میں گمراہی بہت آ گئی ہے۔ او خدا کے بندے! گمراہ صوفی بھی ہیں، جو گمراہ نہیں ہیں وہ بھی ہیں، سارے تو گمراہ نہیں ہیں۔ ورنہ اگر یہ بات ہے تو علماء سارے کون سے صحیح ہیں؟ کیا علمائے سوء موجود نہیں ہیں؟ یعنی حدیث شریف میں صوفیائے سوء کا نام نہیں ہے، علمائے سوء کا نام ہے۔ تو علمائے سوء تو نص سے ثابت ہے کہ وہ موجود ہیں۔ تو علمائے سوء کے ہوتے ہوئے آپ علمائے حق کو اگر مانتے ہیں تو صوفیائے سوء کے ہوتے ہوئے آپ صوفیائے حق کیوں نہیں مانتے؟ یہ دو عملی ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے لیکن بہرحال ہے، اس کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں، مشکلات بھی ہیں لیکن راستے بھی ہیں۔


سوال 20: جی السلام علیکم۔ جی حضرت! جس طرح ہمارے علاقے میں اس طرح یہ ماحول نہیں ہے کہ خانقاہیں۔۔۔ یہ تو خانقاہ مجھے ادھر آ کے پتہ چلا کہ خانقاہیں بھی ہوتی ہیں اور دیوبندیوں میں پیر بھی ہوتے ہیں۔ یہ چیز کیسے لوگوں کو متعارف کروائی جائے؟ ہمارے علاقے میں تو یہ چیز ہے.

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: آپ کے ہاں دیوبندی علماء ہیں یا نہیں ہیں؟

(سائل: بہت ہیں)

تو انہوں نے کیوں نہیں بتایا؟

(سائل: کسی نے یہ چیز نہیں بتائی)

بس یہی تو مسئلہ ہے، یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ یہ ان کا کام ہے۔


حالانکہ ویسے حضرات موجود ہیں۔ یہ خود ایک لاہور، لاہور جیسا شہر جہاں پر مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ جیسے شخص رہے ہیں، اور بڑے بڑے صوفیائے کرام رہے ہیں۔ یہ قمر الزمان صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ وہ ڈاکٹر مدثر صاحب نے مجھے بتایا تو میں نے کہا کیا دیوبندیوں میں بھی پیر ہوتے ہیں؟ لاہور جیسے شہر کی بات کر رہا ہوں۔

جہاں حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ دفن ہیں اور جہاں پر میاں میر رحمۃ اللہ علیہ دفن ہیں، اور جہاں پر بڑے بڑے حضرات گزرے ہیں، صوفیاء کا شہر ہے۔ تو وہاں پر ایک صاحب پوچھ رہے ہیں کہ کیا دیوبندیوں میں بھی پیر ہوتے ہیں؟


مولانا حاشر صاحب کی بات مجھے بڑی پسند آئی، وہ کہتے ہیں، بھئی! دیوبندیوں میں ہی تو اصل پیر ہوتے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ اس میں جو ہے نا اس کو ذرا خیال رکھنا چاہیے کہ علمائے کرام جو ہیں ان کے اندر یہ ہمت ہونی چاہیے کہ ان باتوں کو کھول کے بیان کریں۔ ٹھیک ہے کوئی نہیں مانے گا، کوئی مانے گا۔ یہ تو نہیں ہے کہ ہم لوگ اس کے مکلف ہیں کہ جو بات ہم کریں وہ سارے لوگ مان لیں۔ کیا میری ساری باتیں لوگ مانتے ہیں؟ میری باتیں سارے لوگ تو نہیں مانتے، بہت مخالفت بھی کرتے ہیں، لیکن میں جہاں بھی جاتا ہوں میں یہ باتیں کرتا ہوں اور فائدہ ہو جاتا ہے۔


ایک صاحب تھے نا، مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں رہتے ہیں؟ میں نے کہا میں خانقاہ میں رہتا ہوں۔

اس نے کہا کہ اس میں کس کا مزار ہے؟ میں نے کہا اس میں مزار کا ہونا ضروری ہے تو پھر شاید میرا مزار ہو۔ میں نے کہا اس کا مزار کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کیا مدرسوں میں مزار نہیں ہے؟ مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مدرسے میں ہے نا؟ مسجدوں میں ہے۔ یہ مسجد قاسم علی خان ہے اس میں مولانا عبدالقیوم پوپلزئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ہے نا؟ تو کیا وہ ہم کہیں گے بس ہر مسجد میں مزار ہونی چاہیے؟


تو یہ تو اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے،accidentally یہ ممکن ہے خانقاہ میں کسی کا مزار ہو، ممکن ہے مسجد میں کسی کا مزار ہو، ممکن ہے مدرسے میں کسی کا مزار ہو۔ تو کسی جگہ مزار کا ہونا لازم نہیں ہے البتہ ہو سکتا ہے، کسی بھی جگہ ہو سکتا ہے۔


سب سے بڑی بات الحمدللہ مسجد نبوی، بالکل مطلب یہ ہے کہ ادھر بھی نماز پڑھی ہے ادھر بھی نماز پڑھی ہے درمیان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار شریف ہے نا؟ کیا مطلب اس میں ہر مسجد میں مزار کو مانیں گے ہم؟ یہ تو نہیں ہے۔ اب میں ترکی میں میں نے دیکھا ہے وہ مساجد کے پاس صحابہ کرام کے مزار ہیں۔



سوال 21: حضرت جی! والدین کے ساتھ اولاد کے سلوک کے بارے میں بتا دیں، کیسا ہونا چاہیے؟ میرے والد صاحب تھوڑے سخت طبیعت کے ہیں، ہم سب بہن بھائیوں کے ساتھ تھوڑی سختی کرتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے بھی تھوڑا degrade کرتے ہیں جس وجہ سے ان کے پاس کوئی زیادہ دیر تک نہیں بیٹھتا۔ اس معاملے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ان کی طبیعت شروع ہی سے ایسی ہے۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: اس کا مطلب ہے آپ لوگوں کے لیے اجر کا سامان بہت ہے۔ میں تو یہی کہوں گا، کیونکہ اگر والد سخت ہیں اور آپ برداشت کرتے ہیں تو اس برداشت پر آپ کو بہت اجر ملے گا۔ کیونکہ قرآن میں ہے کہ ان کے سامنے اپنےوہ پست کر دو ۔


تو بس یہ تو ہے، تو اس وجہ سے آپ نے اچھا کہا ہے کہ تھوڑا سخت ہیں، تو زیادہ بھی سخت ہوں پھر بھی یہی کرنا ہوگا۔ مطلب ظاہراً ان کے ساتھ tit for tat والا معاملہ تو نہیں ہونا چاہیے یہ والد کے ساتھ۔


سوال 22: دعا بھی کریں، کچھ دن پہلے شروع کرنا تھا پر پھر سوچا حضرت کو اطلاع دوں، دعا کی درخواست کروں، پھر شروع کروں۔ دعا کی درخواست ہے۔

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: ضرور ان شاء اللہ العزیز، دعا ضرور کریں گے۔ اللہ جل شانہٗ اس کام کو کامیاب فرما دے اور یہ اس کو انتہائی خیر کا ذریعہ بنا دے۔ ماشاء اللہ۔

Question 23: Hazrat, some people inspire us in their Tariqa with their dreams and Kashfs. Although I am not unaware of the position of Khwab and Kashf, but still get confused and motivated by them. Some of them are very reliable, so when they relate their experience, I get inspired. How should it be tackled?

[Question and Answer Session January 8, 2024, Session Number 655]


Answer: First of all, you should think about this that Kashf and Khwab is Zanni, if you understand what is the meaning of Zanni. And Quran and Hadith is Qat'i. So think about those people who are inspiring you because of Quran and Hadith, and think about those who are inspiring you because of Khwab and Kashf. Which will you prefer? See the situation. So I think if I would be at your position, I would prefer Quran and Hadith, because this has been told to us.


So our Alhamdulillah Silsila and most Salasil, which are Salasil-e-Haq, they get knowledge from Quran and Hadith and practice upon them through Tariqat. Because Tariqat is the way how to come to follow Shariah. Because only there are two obstacles in following Shariah.

Number one is the obstacle of Nafs, and the second is obstacle of Shaitan. Shaitan understands how the wishes of Nafs can be used against you, he understands. So therefore, he is using very intelligently this thing.


So the Sheikh should be capable of this to understand this situation and should be able to break that approach which comes from Shaitan. So there comes the role of Sheikh. So therefore, I think you must understand, Alhamdulillah summa Alhamdulillah, we have many Khwab and many Makshoofat of our elders, so should we tell you? No, we don't need it. Because we don't want to depend you on these things.


We shall tell you Quran and Hadith and the experience of people of Allah Subhanahu Wa Ta'ala, Awliya Allah, the experience. So we do have this thing, so don't depend on these things, I will tell you.



سوال 24: السلام علیکم! حضرت محمد فاروق نام ہے۔ حضرت! ہفتے کے دن بیان میں آپ نے تین قسم کیcatagories بتائی تھیں تصوف کی، ایک فلسفیانہ تھی، ایک مبتدیانہ اور ایک اسلامی تھی۔ تو حضرت یہ ایک جگہ پہ آپ نے ایک درس میں فرمایا تھا کہ لوگوں کی سمجھ کے لیے مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پھر ایک فلسفے کی مدد سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ مطلب تصوف کیا ہے؟ ضرورت پڑی لوگوں کو۔ تو سر میرا سوال یہ ہے کہ یہ جو اصطلاحات develop ہوئی ہیں، اور بعد میں جو جس طرح کشف ہے یا مناصب ہیں تو یہ سر پھر قرآن سے، حدیث سے انہوں نے لیے ہیں یا مطلب اس کا source کیا ہے؟

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 655]


جواب: دیکھیں حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فلسفے کے ذریعے سے نہیں سمجھایا، فلسفے کا توڑ کیا ہے۔ مطلب فلسفے میں جو زہر تھا اس کا توڑ کیا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اس وجہ سے حضرت تو وہ تمام چیزیں جو بتاتے ہیں وہ تو یہی بتاتے ہیں کہ ہمارے جو خیالات ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اصل تو قرآن و حدیث ہے، وہ تو یہی بتاتے ہیں۔

باقی experiences تجربات ہیں۔ تو فلسفے کی جو اصطلاحات کا استعمال، تو ایسے ہے جیسے کہ ہم لوگ سائنس کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے آج کل کے دور میں لوگ سائنس کی اصطلاحات جانتے ہیں نا؟ میں آپ کو اپنا ایک واقعہ بتاتا ہوں، بڑا interesting واقعہ ہے۔ بھئی جب چھپر والی مسجد میں ہمارے بیانات ہوتے تھے، تو وہاں پر ایک بڑے learned scholar تھے راجہ اشرف صاحب جو پرنسپل ریٹائرڈ ہوئے تھے اور اس وقت ان کی عمر 90 پلس ہوگی۔ وہ تشریف لایا کرتے تھے تو ظاہر ہے فزکس کے ماہر تھے، تو سوالات تو پھر اس کے حساب سے ہوتے تھے۔ تو انہوں نے حال کے بارے میں بات کی تو میں نے کہا side effect ہے۔ تو اتنا خوش ہو گیا کہ آپ کے ایک لفظ نے میرا سارا مسئلہ ہی حل کر دیا۔ اب کیا بات ہے "side effect" ایک term ہے نا مطلب scientificٹھیک ہے نا۔ تو اب یہ جو اس قسم کی جو چیزیں ہوتی ہیں جو terminology آپ دوسری استعمال کرتے ہیں، اصل اپنا رکھتے ہیں استعمال ان کے الفاظ کرتے ہیں تو یہ تو ٹھیک ہے، یہ تو ہر جگہ ہوتا ہے۔

تو اس وجہ سے اگر کبھی انہوں نے ایسی چیزوں کو استعمال کیا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ یہ بات ہے کہ وہ تو فلسفے کے پیچھے جانے والے نہیں تھے، بلکہ فلسفے کا توڑ کیا ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ پہلے فلسفی تھے نا؟ پھر جس وقت وہ گئے ہیں اور پھر ماشاءاللہ ان ساری چیزوں سے گزرے ہیں تو انہوں نے پھر فلسفے کا توڑ کیا بہت زبردست۔ تو یہ ہمارے جتنے بھی اکابر تھے، ان لوگوں نے یہ کام کیا ہے۔

تو اس دور میں ہم جس وقت "عبقات" کتاب، اس پہ کام کر رہے تھے، حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے، تو اس میں فلسفیانہ توجیہات کے جوابات دیے گئے تھے۔ اس انداز میں اس کو حل کیا گیا تھا۔ تو حضرت کی ایک صاحب کو زیارت ہوئی۔


تو حضرت نے فرمایا کہ، میرا بتا دیا کہ یہ جو کرتا ہے، یہ اچھا کام ہے۔ البتہ یہ وہ ہمارے وقت میں فلسفہ فتنہ تھا۔ اِس وقت سائنس مسئلہ بن رہا ہے، تو یہ سائنٹیفک انداز میں جوابات دے۔ اور میری اصطلاحات استعمال نہ کرے کیونکہ اس کی ان کو ضرورت نہیں ہے، خود اپنی اصطلاحات بنائے۔ اب بتاؤ۔


اب ظاہر ہے وہ تو یہاں نہیں ہیں نا۔ تو جو یہاں نہیں ہیں، ان کے جوابات تو ان کی طرف سے نہیں آ رہے۔ وہ تو من جانب اللہ ہیں نا، کیونکہ جو فوت ہو چکا ہے وہ اپنی طرف سے کیا کر سکتا ہے؟ ہم ادھر جو کام کرتے ہیں، میں کہتا ہوں میں بول رہا ہوں، یا آپ بول رہے ہیں، ظنی طور پر یہ بات سمجھی جا سکتی ہے، کیونکہ اللہ پاک نے ہم لوگوں کو یہ طاقت دی، صلاحیت دی، اس کے مطابق ہم کر رہے ہیں۔


تو ہمیں ذرا تھوڑا سا پیچھے جانا پڑے گا کہ اس کے پیچھے تو اللہ ہے، جو یہ بول رہا ہے، لیکن وہ hidden ہے اور یہ ظاہر ہے۔ ہمارا بولنا ظاہر ہے اور اللہ تعالیٰ کی وہ قدرت پیچھے ہے۔ لیکن جو فوت ہو چکے ہیں ان کی تو ہر بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ رہی ہے، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ وہ تو خود کچھ کر ہی نہیں سکتا، وہ معاملے ایسی پوزیشن میں ہیں کہ وہ تو سب کچھ ان کا، یعنی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ تو ہمیں ہمارے پاس جب یہ چیز آ گئی تو اب اس کو کیا آپ کہیں گے؟ ٹھیک ہے نا؟اچھا! کمال کی بات ہے، دیکھیں نا ایک ہوتا ہے کشف in general اور ایک ہوتا ہے کشف ایک ایسی چیز کا جو پہلے سے proven ہے۔ مثلاً کتاب میں ایک چیز موجود ہے، آپ کو کشفاً پتہ چل گیا کہ فلاں صفحے پر یہ چیز ہے۔ تو ذریعہ آپ کا کشف ہو گیا، لیکن علم تو بدلا نہیں ہے نا۔ علم تو کشف وہ اس چیز کا علم تو کشف نہیں ہے نا۔ اگر آپ کتاب کھول لیں اور وہ چیز نظر آ جائے آپ کو، تو پھر وہ تو کشف نہیں ہے نا۔ ہاں البتہ اس کا پتہ آپ کو کس طریقے سے چلا؟ کشف کے ذریعے سے چلا۔ تو ایسا کشف تو بہت زبردست ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی عنایت ہے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ فیڈرل شریعت کورٹ میں ان کو ایک مسئلے کی صورت میں، ایک حدیث شریف کی ضرورت تھی۔


ان دنوں تو یہ مکتبہ شاملہ بھی نہیں تھا اور یہ انٹرنیٹ پہ یہ تمام facilities نہیں تھیں، اس وہ وقت تو۔ تو کتابوں میں، اوریجنل کتابوں میں دیکھنا پڑتا تھا سارا کچھ۔ تو حوالہ ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا تھا۔ ہم اپنی کتابوں میں اپنا شعر نہیں نکال سکتے تو دوسری چیزیں جو ہے نا وہ ہم کیا کریں گے؟ ٹھیک ہے نا؟ تو اس طرح مطلب ہے کہ یہ بات ہے کہ ان کو ڈھونڈنا تھا۔ تو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ارشاد ہوا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب اوجز المسالک" اس فلاں جگہ پر ہے۔ وہ کھولا تو وہاں موجود تھا۔ بس وہاں سے نوٹ کر لیا اور پیش کر لیا۔ اب یہ خواب ہے، خواب بذاتِ خود ظنی ہے، لیکن وہ جو علم آیا وہ تو ظنی نہیں ہے نا۔ بات سمجھ میں آ گئی نا بات؟ وہ تو ان کو پتہ چل گیا۔


تو اس طریقے سے اگر ہمیں کچھ کشفاً، چاہے میرا کشف ہو چاہے کسی اور کا کشف ہو، مجھے کشف نہیں ہوتا میں تو صرف مثال کے طور پہ کہہ رہا ہوں۔ لیکن یہ بات ہے کہ چاہے میرا کشف ہو، چاہے کسی اور کا کشف ہو، لیکن اس سے وہ چیز مجھے مل رہی ہو جو actual ہے، تو یہ اللہ کی نعمت ہے۔ کیونکہ میرے لیے وہ مشکل سے مجھے نکال دیا اور آسانی سے پہنچا دیا ادھر۔ لیکن ایسے کشف، میں کہتا ہوں جی یہ کام ہونے والا ہے، اس کی کوئی value نہیں ہے۔ چھوڑ دیں اس کو۔ ٹھیک ہے؟ نہ ہی بان چیزوں کے پیچھے پڑو۔ ٹھیک ہے نا؟


سوال 25: اس دن آپ نے فرمایا تھا کہ کچھ آپ کے ایسے دوست تھے جن کے کشف کو آپ نے غلط ثابت کیا تھا، کہ آپ نے کہا تھا کہ ان کے کشف ٹھیک نہیں ہیں۔ توحضرت یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی دل کا حال معلوم کرنا، یا حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ہم یہ کہتے ہیں کہ ان کو یہ کشف تھا ۔۔تو آپ نے کہا تھا کہ اگر اس کے لیے کوئی یہ کام کرے تو یہ مکمل گناہ ہے، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے (کرنا چاہیے)، اور اگر اللہ کی طرف سے آپ کو آ جائے تو ہے۔ تو اس حالات میں جی بعض لوگوں کے پاس یہ موکلات ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں آپ کا نام یہ ہے، آپ کی ماں کا نام یہ ہے اور وہ شیطان اس کو بتاتا ہے اور یہ۔ تو اس پہ ذرا حضرت وضاحت کیجیے کہ اگر کشف ہو تو اس کا benchmark یا معیار کیا ہے؟ کس کو صحیح قرار دیا جائے؟ اور اگر غلط ہے تو پھر وہ کیا ہوگا؟

[سوال جواب مجلس 8 جنوری 2024، مجلس نمبر 655]


جواب: ٹھیک ہے، ہے موجود۔ اصل میں یہ تو یہی "عبقات" میں بتایا گیا ہے نا۔ یہ اس میں یہ چیز بتائی گئی تھی کہ علم کے تین sources ہیں۔ ایک نقلی علوم ہیں، ایک عقلی علوم ہیں، ایک کشفی علوم ہیں۔ نقلی علوم میں بھی کچھ مشکلات ہیں۔ اور وہ مشکل یہ ہے کہ وہ نقل ثابت کرنا ہوتا ہے، reference دینا ہوتا ہے۔ عقلی علوم میں بھی کچھ مشکلات ہیں، کہ وہ نقل کے خلاف نہ ہو۔ نقل کے خلاف نہ ہو۔ اور کشفی علوم میں دونوں ہیں، کہ نہ وہ عقل کے خلاف ہو، نہ وہ نقل کے خلاف ہو۔ ٹھیک ہے نا؟ دونوں conditions اس کو satisfy کرنی پڑیں گی۔


لیکن حضرت فرماتے ہیں کہ کشفی علوم پھر بہت زیادہ ہیں۔ بے تحاشہ ہیں۔ اب ہر آدمی کے جو صاحبِ کشف ہے، پتہ نہیں اس کو کتنا۔۔ جیسے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے جو مکشوفات ہیں، بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح اور بہت سارے بزرگوں کے اپنے مکشوفات ہیں، انہوں نے لکھے بھی ہیں۔ تو بہت زیادہ ہیں۔ تو اب بات یہ ہے کہ وہ ایک علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن check کرنا ضروری ہے اس کا، کہ آیا وہ ان دو criterion پر پورا اترتا ہے یا نہیں اترتا؟ نہ تو خلافِ عقل ہو، نہ خلافِ نقل ہو۔ بس! میرے خیال میں اس پہ یہ کافی ہے، کیونکہ time is over۔ ماشاءاللہ!




وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ





سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول