سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 658

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰه رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے اور پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور احوال کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔

سوال1: ایک صاحب فرماتے ہیں: ”لہذا اگر تزکیۂ نفس حاصل ہو جائے اور سلوک کے دس مقامات طے کر لیے جائیں تو لطائف خود بخود عالمِ امر میں اپنے اصل تک پہنچ جاتے ہیں یا شیخ سے روحانی توجہ یا قلبی دعا کی ضرورت ہے؟ میں پوچھ رہا ہوں کیونکہ سیفی سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر کوشش اور کرنا شیخ پر ہے۔ وہ جذبہ دیتے ہیں جس سے لطائف ان کی اصول تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر سالک آسانی سے سلوک کرتا ہے۔ اگر توجہ صرف ایک قلبی دعا ہے تو پھر لطائف کی حرارت اور پمپنگ کیا ہے جو یہ لوگ توجہ دیتے ہیں؟ معذرت اگر میرے سوالات لاعلمی پر مبنی ہیں، میں ابھی سیکھ رہا ہوں۔ دنیا میں بہت سی معلومات ہیں اور میں کھلے دماغ سے دیکھ رہا ہوں اور میں اللہ کی رہنمائی کے لیے پرامید اور مخلص ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ما شاء اللّٰہ، اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی اس نیت کی جملہ برکات نصیب فرما دے۔ تزکیۂ نفس کیا چیز ہے؟ اور تصفیۂ قلب کیا چیز ہے؟ یہ دونوں باتیں ہیں۔ آپ اگر مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریفہ دیکھیں تو اس میں یہ چیز مل جاتی ہے۔ تزکیۂ نفس یہ ہے کہ نفس کے جو رذائل ہیں وہ دب جائیں۔ اور تصفیۂ قلب یہ ہے کہ دل صاف ہو جائے دنیا کی محبت سے۔ تو چونکہ قلب عالمِ امر سے ہے، لہذا یہ ذکر اذکار کے ذریعے سے صاف ہوتا ہے جیسے کہ حدیث شریف میں ہے۔ ذکر کے ذریعے سے۔

ذکر مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں، جہری بھی ہو سکتا ہے، اور سری بھی ہو سکتا ہے، لطائف کا بھی ہو سکتا ہے، خیال سے بھی ہو سکتا ہے، پاسِ انفاس سے بھی ہو سکتا ہے۔ مطلب مختلف سلسلوں میں مختلف طریقے ہیں ذکر کے۔ لہذا دل کی جو اصلاح ہے، وہ تو ذکر کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ لیکن جو نفس کی اصلاح ہے وہ اصل میں جو رذائل ہیں ان کو دبانے سے ہوتی ہے۔ مثلاً انسان کے اندر سستی ہے، تو سستی کو دور کرنا پڑے گا۔ انسان کے اندر اگر حرص ہے، تو حرص کو دور کرنا پڑے گا۔ اس طرح اگر انسان فجور کی طرف مائل ہے، نفسِ امارہ ہے، تو ظاہری ہے فجور کی بجائے تقویٰ اختیار کرنا پڑے گا۔ بے صبری کو صبر سے بدلنا پڑے گا۔ یہ دس مقامات یہی تو ہیں۔ تو یہ دس مقامات طے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان رذائل کو دبا دیا جائے۔

جب رذائل دب جائیں، تو پھر اس کے بعد دل کے اوپر وہ جو آلائشیں ہیں نفس کی، یعنی گناہوں کے جو اثرات ہیں، کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے نا کہ انسان جب گناہ کرتا ہے تو دل پر ایک نقطہ لگ جاتا ہے سیاہ۔ توبہ کرتا ہے تو مٹ جاتا ہے، نہیں تو رہ جاتا ہے۔ پھر اور گناہ کرنے سے پھر دوبارہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ ہوتے ہوتے یہ نقطے جب زیادہ ہو جائیں تو دل بالکل سیاہ ہو سکتا ہے، اور پھر یہ اصلاح کے قابل نہیں رہتا۔ تو ایسی صورت میں، گویا کہ نفس کا اثر دل کے اوپر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے دل بھی سیاہ ہو جاتا ہے۔

اب، جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو چکی ہو، اس وقت تک دل کی اصلاح پائیدار نہیں ہے۔ لیکن دل کی اصلاح اس لحاظ سے مفید ہے کہ اس سے انسان نفس کی اصلاح کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یعنی پہلا step دل کی اصلاح ہے، پھر اس کے بعد اس سے نفس کی اصلاح ہے۔ تو اس وجہ سے دونوں چیزیں یہ ضروری ہیں۔

اب سیفی سلسلے کا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا وہ تو ان کی اپنی تحقیقات ہوں گی۔ لیکن یہ بات بتاتا ہوں کہ کام کرنا ہوتا ہے مرید کو، شیخ صرف رہنمائی دیتا ہے۔ رہنمائی میں، وہ، مختلف چیزیں آ سکتی ہیں۔ اگر کہیں پر مشکل ہو تو اس مشکل کو دور کیا جاتا ہے۔ اب جو تصرف ہے یا توجہ ہے، اس کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے کہ اگر مرید پھنس جائے اور کسی جگہ سے نہ نکل سکے، تو پھر شیخ کی دعا اور توجہ سے وہ اس سے نکل سکتا ہے۔ لیکن کام پھر بھی اس کو خود ہی کرنا پڑے گا۔ مطلب یہ ہے کہ، یہ نہیں ہے کہ کام شیخ کو کرنا پڑے گا۔ کام پھر خود ہی۔

یہ اصل میں یہ جو اس قسم کے لوگ ہیں نا جو کہ جھوٹی شہرت حاصل کرتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ سارا کام ہم کرتے ہیں۔ نہیں ایسی بات نہیں۔ کام انسان کو خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ اور تبھی اس کو فائدہ ہوتا ہے۔ مطلب دیرپا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب وہ خود کام کرے اور نفس کی اصلاح کرے۔ کیونکہ [وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ (سورۃ العنکبوت: 69)]، تو یہ ”جَاھَدُوا“ کا اشارہ کس طرف ہے؟ یہ شیخ کی طرف ہے یا مرید کی طرف ہے؟ ظاہر ہے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تو مرید کی طرف ہے، جو اپنی اصلاح کر رہا ہے اس کی طرف ہے۔

تو یہ بات ہے کہ باقی جو حرارت اور پمپنگ، یہ تصرفات کی چیزیں ہیں، جو وہ لوگ کرتے ہیں جو کہ اپنی شہرت چاہتے ہیں۔ ورنہ یہ بات ہے کہ صرف اتنی رہنمائی کہ وہ صحیح طریقے سے چل سکے۔ دیرپا وہی ہوتا ہے۔ کیونکہ جو انعکاسی فیض ہوتا ہے، وہ دیرپا نہیں ہوتا۔ وہ جیسے ہیٹر کے سامنے بیٹھا ہے گرم ہو گیا، ہیٹر سے دور ہو گیا تو پھر ٹھنڈا ہو گیا۔ آئینے کے سامنے ہے تو تصویر نظر آ رہی ہے، دور ہو گیا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو یہ انعکاسی فیض ہوتا ہے۔ تو انعکاسی فیض جو ہوتا ہے، وہ دیرپا نہیں ہوتا۔ جس وقت وہ القائی فیض میں بدل جاتا ہے انعکاسی فیض، یعنی وہ مرید خود کام کرنا شروع کر لیتا ہے، تو پھر وہ دیرپا ہوتا ہے۔

تو اب میں اس لحاظ سے عرض کروں گا کہ توجہ جو ہے، یہ قلبی دعا اس طرح ہے کہ شیخ مرید کی طرف جب متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ یا اللہ! اس کا مسئلہ حل کر دے۔ وہ جو اللہ سے قلبی دعا کرتا ہے تو اللہ پاک تو سن رہا ہوتا ہے، دیکھ رہا ہوتا ہے، تو اس کا مسئلہ اللہ پاک حل کر لیتے ہیں۔ جب ایک انسان تصرف کرتا ہے تو اس کی نظر اپنے اوپر ہوتی ہے۔ اور جس وقت وہ قلبی دعا کرتا ہے تو اس کی نظر اللہ پہ ہوتی ہے۔ تو کون سا طریقہ محفوظ ہے؟ ظاہر ہے طریقہ تو محفوظ وہی ہے جس میں اللہ پہ نظر ہو۔ منتہی لوگ جو ہیں نا وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ توجہ کرتے ہیں قلبی دعا سے۔ وہ، اللہ کی طرف۔ کیونکہ وہ مخلوق کی طرف توجہ نہیں کر سکتے زیادہ۔ ان کی غیرت جو ہے نا وہ ادھر نہیں جاتی۔ یہ جو درمیان کے لوگ ہوتے ہیں نا، یہ جس کو مجذوب متمکن کہتے ہیں ہمارے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، یہ جو ہے نا، یہ اس قسم کی توجہات کرتے ہیں۔ تو بہرحال، ہم لوگوں کو اپنی اصلاح عزیز ہے، اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان چیزوں سے خبردار ہونا چاہیے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للّٰه رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

سوال2: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ چار سال قبل جب میں نے بیعت کی تو صحبتِ صالحین یا صحبتِ شیخ کے لیے میرے ذہن میں یہ الجھن پیدا ہوتی تھی کہ نہ میں آپ کی خانقاہ جا پاتی ہوں، آن لائن ہی سب کچھ سنتی ہوں تو صحبتِ شیخ کی برکت کیسے ملے گی؟ لیکن اس عرصے میں الحمد للّٰه میں برکت کی قائل بھی ہو گئی ہوں اور بہت سی اہم باتیں سمجھ آنے لگی ہیں۔ سب سے بڑی نعمت جو مجھے ملتی ہے کہ جو بھی زندگی کا الجھا مسئلہ یا سوال پیدا ہوتا ہے فوراً اللہ کے فضل سے آپ کی کسی بات یا گروپ کی سلائیڈز میں کہیں نہ کہیں سے مل جاتا ہے، الحمد للّٰه۔ میں ماہانہ رپورٹ فلاں کو بهیجتی رہی مگر اب انہوں نے مجھے تاکید کی ہے کہ آپ کو رپورٹ ضرور بھیجا کروں۔ اس معاملے میں میری کم سمجھی کی وجہ سے کوتاہی کی معذرت چاہتی ہوں۔ اِن شاء اللہ اس ماہ سے رپورٹ باقاعدہ بھیجتی رہوں گی تاکہ میرے احوال سے آپ باخبر رہیں۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ما شاء اللّٰہ! اللہ تعالیٰ مزید توفیقات سے نوازے۔

سوال3: ”السلام علیکم۔ 200 بار لا الہ الا اللہ، 400 بار لا الہ الا ھو، 600 بار حق، اور 300 بار اللہ اللہ، پورا ہو گیا ہے۔ آگے رہنمائی فرمائیں۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ما شاء اللّٰہ! اب 200 بار لا الہ الا اللہ، 400 بار لا الہ الا ھو، 600 بار حق، اور 500 بار اللہ اللہ، اِن شاء اللہ، ایک مہینے کے لیے۔

سوال4: ”السلام علیکم! میرا نام فلاں ہے۔ حضرت جی معمولات کا ذکر بغیر اجازت نہیں کر سکتا ہوں۔ ایسے ہی آن لائن بھی اجازت کے ساتھ سننا چاہیے؟

(سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: دیکھیں آن لائن جو ہیں، یہ بیانات ہیں۔ تو بیانات تو انسان علم کے واسطے سنتے ہیں۔ باقی جو اصلاحی ذکر ہے، یہ مثال دوائی کی ہے۔ تو دوائی، یہ ہے کہ بغیر پوچھے تو نہیں استعمال کی جاتی۔

سوال5: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ خیریت سے ہوں گے حضرت جی دامت برکاتہم۔ سارے اذکار پورے ہو گئے ہیں اس مہینے کے دو، چار، چھ، چار ہزار۔ تمام لطائف پر دس دس منٹ مراقبہ ہوا، وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ کا مفہوم پندرہ منٹ، دو ماہ سے جاری ہے۔ اس مراقبے کے بعد مجھ میں وقوفِ قلبی والی کیفیت مزید اور بڑھ گئی، اور موت کا خیال بھی ہمیشہ رہتا ہے۔ جب میں آپ کے لیے دعا کروں تو گویا آپ سے میری طرف کوئی چیز بہت تیز اور زور سے آ رہی ہوتی ہے، میرا دل اس کیفیت کو برداشت کر سکتا ہے۔ جب میں کسی اور کے لیے دعا مانگوں تو گویا میرے دل سے اس شخص کی جانب کوئی چیز جا رہی ہوتی ہے، میرا دل اس چیز کو اچھی طرح برداشت نہیں کرتا۔ حضرت جی دامت برکاتہم آگے کا کچھ حکم؟“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اب ما شاء اللّٰہ، یہ جو ذکر اذکار ہیں یہ تو جاری رکھیں۔ اور کوئی اس طرح نظام بنا لیں کہ جو ہماری فہم التصوف کتاب ہے، اس سے چند ساتھیوں کو دس پندرہ منٹ کی تعلیم کر لیا کریں۔

سوال6: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی میں بیلجیم میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں اور میری شادی نہیں ہوئی ہے۔ یہاں اکثر دوست نکاح کا مشورہ دیتے ہیں اور اکثر رشتے بھی بتاتے ہیں۔ آپ سے مشورہ کرنا چاہتا تھا کہ آپ مجھے یہاں بیلجیم میں کوئی مسلمان رشتہ ملے تو کیا مجھے نکاح کر لینا چاہیے؟ کیونکہ یہاں کے ماحول میں بغیر نکاح کے وقت گزارنا کافی مشکل ہو رہا ہے۔ براہِ کرم اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیر۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: سب سے پہلے تو استخارہ کریں اس کے بعد پھر مشورہ کر لیں ہمارے ساتھ۔

سوال7: ”السلام علیکم حضرت جی۔ میرا مراقبہ ہے لطیفۂ قلب، لطیفۂ روح، لطیفۂ سر، لطیفۂ خفی، لطیفۂ اخفیٰ پر پانچ پانچ منٹ، اور مراقبۂ احدیت دس منٹ ہے۔ پانچوں لطائف محسوس ہوتے ہیں۔ مراقبۂ احدیت محسوس نہیں ہوتا۔ میری ساس کا میرے ساتھ اچھا رویہ نہیں ہے۔ میں ہر رات اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ صبح میں پھر کوئی بات سنتی ہوں ساس سے، میں پھر وہی بات دیورانی سے کرتی ہوں کہ یہ میرے ساتھ اس طرح کیوں کرتی ہے۔ اس سے میرا مراقبہ آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔ ہر کسی سے میری برائی کرتی ہے تو اس کا بیٹا اس کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔ میں اس کو کہتی بھی ہوں تو وہ کہتا ہے کہ میری امی کسی کے بارے میں برا بھلا کہے گی تو اگر میں اس کو منع کروں تو اس کو برا لگتا ہے اور اگر سنوں تو منافقت ہے۔ تو حضرت جی آپ مجھے بتائیں اور میرے لیے دعا بھی کریں۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: سبحان اللّٰہ! اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے دلوں میں الفت و محبت پیدا فرمائے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ما شاء اللّٰہ ان کی خدمت کر لیا کریں اور ان کی باتوں پہ نہ جائیں۔ عمر کے تقاضے ہوتے ہیں بعض دفعہ۔ تو اس خدمت سے آپ ان کے دل کو جیت سکتی ہیں۔ ان شاء اللہ! بہرحال یہ ہے کہ وہ اگر باتیں کرتی ہیں تو آپ کا فائدہ ہے، آپ کے درجات بڑھتے ہیں۔ اور مراقبۂ احدیت جو محسوس نہیں ہوتا، تو یہ اصل میں فیض ہے۔ آپ فیض کا تصور کریں مراقبۂ احدیت کا تصور نہ کریں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ آپ یوں کریں کہ یہ فیض آ رہا ہے، فیض ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو فائدہ پہنچائے، ہر وہ چیز فیض ہے۔ تو اللہ کی طرف سے ہی سارے فائدے پہنچتے ہیں۔ تو آپ یہ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیض آ رہا ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف سے شیخ کی طرف، اور شیخ کی طرف سے آپ کے دل پہ آ رہا ہے۔

سوال8: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی، زاویار نام کا مطلب پوچھنا تھا۔ انٹرنیٹ، گوگل پر ہر جگہ اس کا معنی بہادر آتا ہے۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اصل میں گوگل تو ہر قسم کی بات کرتا ہے۔ یہ تو میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کا جو فتویٰ ہے اس کے بارے میں پوچھا ہے ان سے کسی نے، تو انہوں نے کہا کہ جو متداول لغات ہیں، اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تو فرمایا، انہوں نے بھی یہی کہا ہے کہ بعض لوگ اس کو بہادر کہتے ہیں لیکن اس کا معنی معلوم نہیں ہے۔ تو جس چیز کا معنی معلوم نہ ہو، تو ایک مہمل چیز کا نام کیوں رکھا جائے؟ اچھے نام رکھے جائیں مطلب بچے کا سب سے پہلے حق یہی ہوتا ہے کہ اس کا اچھا نام رکھا جائے۔ تو میرے خیال میں ویسے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آخر زاویار نام رکھنے پہ آپ اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟ کوئی خاص بات ہے اس کے اندر؟ اتنے اچھے اچھے نام موجود ہیں۔ اب خواہ مخواہ یہ آج کل فیشن ہو گیا ہے، اس قسم کے اوٹ پٹانگ نام رکھنے کا آج کل فیشن ہو گیا ہے۔ تو یہ فلمی نام رکھتے ہیں لوگ یا اکثر اس قسم کے نام رکھتے ہیں۔ تو وہ نام رکھیں، بہتر تو یہی ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ جو ہو صفاتی نام، وہ رکھ لیں۔ جیسے عبدالرحمٰن ہے، عبداللہ ہے۔ یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ، کسی صحابی کے نام کے ساتھ۔ یہ ہمارے پرانے طریقے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ بخارا میں ایک قبرستان ہے، جس میں 600 محدثین "محمد" کے نام سے وہ دفن ہیں۔ اور اس قبرستان میں کسی اور کو دفن نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کو دفن کیا جو محدث ہو اور اس کا نام محمد ہو۔ اور ایسے نام بھی ہیں کہ محمد بن محمد بن محمد۔ مطلب یہ نام بھی ہیں۔ تو اتنے اچھے اچھے نام ہوتے ہوئے ایسے فضول ناموں کے پیچھے پڑنا جس کا، چلو اور کچھ نہیں، اختلاف تو ہے نا! یعنی علماء کہتے ہیں کہ اس کا کوئی مطلب نہیں، گوگل کو کس نے کہا ہے؟ وہ تو گوگل تو گوگل ہوتا ہے۔ وہ تو کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ ظاہر ہے اس پہ تو کوئی بھی ڈال سکتا ہے۔ تو یہی سوشل میڈیا کے مسائل ہیں۔

سوال9:

"Assalamu Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatuhu respected Hazrat sb. I pray that you and your loved ones are well. Ameen. Hazrat, I have completed this month's zikr without miss Alhamdulillah. Verbal zikr

200 times لا الہ الا اللہ

400 times لا الہ الا ھو

600 times حق

and 1000 times اللہ

Muraqaba 20 minutes اللہ اللہ on Latifa Qalb. Regarding Muraqaba just like last month I feel the zikr much more compared to last month. But most times I do not and my mind goes elsewhere. I have started to feel Allah Allah's love again and started to abstain from sins and increase in worship." (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: Yes... مراقبہ کے ساتھ آپ کو ما شاء اللّٰہ جو فائدہ ہو رہا ہے، اس کو جاری رکھیں۔ اور مراقبہ اصل میں یہ قلبی فکر کو کہتے ہیں۔ اور فکر بہت بڑی چیز ہے۔ یعنی آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا تصور کریں، اللہ پاک کے کسی نام کا تصور کریں کہ ہو رہا ہے، دل کہہ رہا ہے، کلمہ طیبہ کا، اور بہت سارے مراقبات ہیں۔ تو ما شاء اللّٰہ جو جو بتایا جائے گا آپ اس پہ کرتے جائیں، ان شاء اللّٰہ العزیز وقت کے ساتھ ساتھ مزید development ہوتی جائے گی اِن شاء اللّٰہ۔ لطیفۂ قلب پر ہے۔ تو اگر یہ ہو رہا ہے، تو دس منٹ کے لیے دل پر کریں اور 15 منٹ کے لیے پھر لطیفۂ روح پہ کریں۔

سوال10: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی میں کل کہیں جا رہی تھی تو میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی کہ جدھر جا رہی ہوں وہاں کی عورتیں میری انگوٹھیاں بھی دیکھ لیں۔ لیکن راستے میں خیال آیا کہ میں نے لوگوں کو دکھانے کے لیے پہن لیں کہ لوگ مجھے دیکھیں اور تعریف کریں تو فوراً اتار دی۔ اب میں سونے کے زیورات اس لیے نہیں پہن رہی کہ میرے دل میں یہ چیز آ جاتی ہے کہ لوگ مجھے دیکھیں۔ آپ اصلاح فرمائیں۔ جزاک اللہ۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ما شاء اللّٰہ! ٹھیک ہے یہ حال اچھا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ما شاء اللّٰہ استقامت نصیب فرمائے۔ زیورات جو ہیں، اس کو اپنے گھر میں پہن لیا کریں۔ ہمارا طریقہ، وہ ہم خواتین کو یہ بتاتے ہیں کہ گھر میں آپ اچھی رہیں۔ اپنے شوہر کے سامنے، اور باہر آپ نارمل طریقے سے رہیں۔ کیونکہ باہر والوں کو دکھانے سے کیا ہوتا ہے؟ اپنے گھر میں اگر سکون نہیں ہے، تو باہر سے کیا سکون ملے گا؟ تو اس وجہ سے آپ بس یہی کر لیں کہ اپنے گھر میں آپ یہ زیورات وغیرہ پہن لیا کریں، لیکن باہر جو ہے نا، ویسے جو راستے میں جانا ہوتا ہے اس کے لیے تو اور بھی پابندیاں ہیں۔ لیکن آج کل ہم ڈرتے ہیں کہ کسی کو بتائیں گے تو وہ ماننے سے تو رہے، خواہ مخواہ بھاگ جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں نا، پرانی چادر ہو، اور جس کی طرف نظریں نہ اٹھیں، اور سائیڈ پہ جائیں۔ یہی ہوتا ہے نا! اور عطر نہ لگائے۔ یہ ساری باتیں مطلب ہیں نا خواتین کے لیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے تو اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھیں۔

سوال11: ”حضرت۔ السلام علیکم بچے سکول میں جو بے دینی کی باتیں سیکھتے رہتے ہیں، اس کا توڑ کیسے کیا جائے؟“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: کہتے ہیں آج کل اپنے بچوں کو دوست بنانا چاہیے ورنہ کوئی اور ان کو دوست بنا لے گا۔ لہذا آپ ان کے ساتھ ملتے رہیں، اور ان کے ساتھ اتنا بے تکلف ہوں کہ آپ کو ساری باتیں بتا سکیں۔ اور پھر آپ ان کی تربیت کر سکیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اچھی باتیں ان کو بتا سکیں، بری باتوں سے روک سکیں گے اِن شاء اللّٰہ۔

سوال: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ احوال: حضرت جی معمولات الحمد للّٰه معمول کے مطابق ہو رہے ہیں۔ حضرت جی میرا ذکر ایک مہینے کے لیے دو سو مرتبہ لا الہ الا اللہ، چار سو مرتبہ لا الہ الا ھو، چھ سو مرتبہ حق اور ساڑھے سولہ ہزار مرتبہ اللہ اللہ کے فضل اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے مکمل ہو گیا۔ حضرت جی کچھ کیفیت میں خاص تبدیلی نہیں ہو رہی۔ نمازیوں کے جوتے سیدھے کرنے کا مجاہدہ بھی جاری ہے۔ الحمد للّٰه۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ما شاء اللّٰہ، اب جو ہے نا، آپ اس طرح کر لیں کہ پانچ منٹ کے لیے یہ تصور کرلیں اس کے بعد کہ اللہ پاک مجھے محبت سے دیکھا رہے ہیں یعنی ذکر کرنے کے بعد ان شاء اللّٰہ العزیز۔

Question:

"Assalamu Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatuhu. Ya Hazrat Shah Sahib, may Allah preserve you, Barakallahu feekum. I am contacting you to tell you that I started back the wird Alhamdulillah. I faced and still facing consequences of my actions and subhanallah I feel never needed the wird as I do nowadays. Please make dua for us ya Sayyidi. Actual wird: 500 La ilaha illallah, 1500 Haq Allah, 1500 Haq, 1500 Allah, 500 Haq Hu, and 500 Hu. 30 minutes Allah with respiration and Hu too while exhale. May Allah preserve you."

(سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

Answer: Mashallah you continue this for one month and then tell me, may Allah grant you all barakat of this zikr.

سوال: ”السلام علیکم حضرت جی۔ میرے وظیفے کو ایک ماہ انیس دن ہو گئے ہیں۔ میرا وظیفہ چھ ہزار مرتبہ اللہ، اللہ زبان پر، تین مرتبہ آیت الکرسی اور دس منٹ کا مراقبہ دل پر تھا۔ حضرت جی میرا آپریشن ہوا ہے جس کی وجہ سے اس مرتبہ مجھ سے وظیفہ لینے میں تاخیر ہوئی اور چند دن وظیفہ چھوٹ گیا۔ کوتاہیوں پر معافی چاہتی ہوں۔ دعاؤں کی طلبگار۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: بیماری کی وجہ سے اگر اس قسم کی باتین ہو جائیں تو اس کی کمپنسیشن ہو جاتی ہے۔ آپ اب یہ وظیفہ جاری رکھیں، اللہ جل جلالہ آپ کو اس کی جملہ برکات عطا فرمائے۔ 15 دن کے بعد پھر مجھے بتائیں۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ”جناب محترم شاہ صاحب اللہ تعالی خیر و عافیت والی زندگی عطا فرمائے، آمین۔ حضرت آپ صاحب کا دیا ہوا ذکر یعنی تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار سو سو دفعہ، لا الہ الا اللہ دو سو مرتبہ، لا الہ الا ھو چار سو مرتبہ، حق چھ سو مرتبہ، اللہ سات ہزار مرتبہ، الحمد للّٰه جناب محترم شاہ صاحب پورا ہو گیا۔ آگے جو حضرت آپ کا حکم ہو۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اب ما شاء اللّٰہ، ابھی آپ پانچ منٹ کے لیے ساتھ، اس کے بعد سوچیں کہ آپ کے دل پر اللہ پاک کی رحمت کی نظر ہے، اللہ تعالیٰ رحمت کی نظر سے آپ کو دیکھ رہے ہیں۔

سوال: ”السلام علیکم۔ مراقبے کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے؟ یا اگر قبلہ رخ نہ ہوں ٹیک لگنی ہو کمر کی درد کی وجہ سے اور ٹانگیں لمبی کر کے بیٹھنا تو کیا ٹھیک ہے؟ حضرت جی مجھے معمولات چارٹ چاہیے۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: دیکھیں مجبوری تو ہے نا الگ بات، معذوری اور مجبوری۔ اگر معذوری مجبوری نہیں ہو تو فائدہ تو اس وقت ہوتا ہے جب یکسوئی ہو۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو۔ اور یکسوئی ان چیزوں سے حاصل ہو سکتی ہے کہ قبلہ رخ بیٹھے ہوں، باوضو ہوں، اور آنکھیں بند کیے ہوئے ہوں۔ اور پھر مراقبہ، تصور کریں۔ تو یہ مطلب، اس کے فائدے کے لیے، یہ مبتدی کے لیے، منتہی کے لیے ضروری نہیں ہے، مبتدی کے لیے ایسا ہوتا ہے۔ تو اب یہ ہے کہ ہم جو بتاتے ہیں وہ تو ہم کسی کی مجبوریاں تو نہیں جانتے۔ لہذا ہم تو ایسے ہی بتاتے ہیں۔ ہاں البتہ اگر جیسے آپ نے اپنی مجبوری بتائی ہے تو اگر کمر درد کرتی ہے تو ٹیک لگا کے کریں۔ ٹیک لگانے کا نقصان یہ ہو گا کہ آپ کو نیند آ سکتی ہے۔ اس کا کوئی طریقہ کار کر لیں، کہ مطلب چائے وائے پی لیں تاکہ آپ کو نیند نہ آئے۔ اور دوسری بات ہے کہ قبلہ رخ کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن اگر ہو تو مفید ہے۔ بہت مفید ہے۔ کیونکہ خانہ کعبہ سے جو انوارات آ رہے ہیں، تو اس کا کنکشن ذکر کے وقت تو ہونی چاہیے نا کم از کم۔ آخر نماز میں ہم اس کی طرف رخ کیوں کرتے ہیں؟ تو یہ ہے کہ آپ، اگر ہو سکے تو زیادہ بہتر ہے۔ نہیں ہو تو نہ ہونے سے بہتر ہے۔ اور آنکھیں بند کر سکتی ہیں، چاہے ٹیک لگایا ہو یا نہیں لگایا ہو۔ وہ تو آپ کر سکتی ہیں اِن شاء اللّٰہ۔ اس میں تو کوئی مجبوری نہیں ہے۔

Question: "Assalamu Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatuhu. Ya Maulana, I pray that you are well. Insha'Allah I performed the zikr you gave me 200 times La ilaha illallah, 400 times La ilaha illahu, 600 times Haq, and 2000 times Allah. But I couldn't contact you before because all my belongings, phone, computer have been stolen, (انا للہ وانا الیہ راجعون) I have just bought new ones. I feel a lot of peace, joy, and light in my heart when doing zikr. And these feelings help me a lot when traversing these trials, Alhamdulillah. May Allah subhanahu wa ta'ala bless you and preserve you ya Maulana." (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

Answer: Now you should do 2500 times Allah and the rest will be same۔ may Allah subhanahu wa ta'ala grant you ease and salamati.

"Question: Assalamu Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatuhu. Faqeer named [Fulan], Assalamu Alaikum. I pray you are well dear Sheikh. I have missed couple of Fajr jamaats in the past few days at the masjid and I feel like I have become careless. In the past I used to become very emotional when this ever happened and do lots of tauba. But now it feels like my heart is like rock and I have no shame in displeasing Allah subhanahu wa ta'ala despite all his favors to me. I have tried punishing my nafs but fasting is sometimes I don't mind in fact I enjoy it. Similarly I don't really have a favorite food I can ban myself from. I used to try punish myself by not playing football on Sundays but I don't play regularly anyway. Maybe 100 nawafil is good option? Kindly advise what to do and remember this aajiz in dua." (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: " مطلب یہ آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کو feel نہیں ہو رہا، تو اصل بات یہ ہے کہ آپ کو feel تو ہو رہا ہے۔ تبھی تو آپ نے یہ لکھا ہے۔

ہاں البتہ رنگ اپنا اپنا ہے۔ رنگ یہی ہے کہ آپ کو احساس ہو رہا ہے کہ ایسا ہونا چاہیے تھا اور نہیں ہو رہا، تو یہ بھی ایک قسم کا feel ہو رہا ہے۔ البتہ ٹھیک ہے، آپ نے جو 100 نوافل والی بات کی ہے، یہ صحیح ہے۔ کیونکہ جرمانہ وہ ہونا چاہیے جس سے نفس کے اوپر بوجھ پڑے۔ اتنا بوجھ بھی نہ ہو کہ آدمی کرے ہی نہ، اور اتنا آسان بھی نہ ہو کہ آدمی اس کا اثر ہی نہ لے۔ لہٰذا یہ صحیح ہے، آپ اس کو کر سکتے ہیں۔"

سوال: ”السلام علیکم۔ اللہ تعالی کا ساتھ ہونا، اس کا استحضار ہونا کہ اللہ رحیم ساتھ ہے یہ ایک طرح کا مراقبہ ہے۔ مگر اس کو کیا دائمی بنانے کی کوشش کروں؟ کیا یہ عقلی مشق ہوگی یا قلبی حال؟ اور استحضار کو نہ ہونے دینے والی ایک شیطانی سی اینگزائٹی ہے اس کا کیا کیا جائے؟“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اصل میں بات یہ ہے کہ ابتداء میں یہ عقلی ہوتی ہے، پھر بعد میں یہ قلبی بن جاتی ہے۔ اور پھر بعد میں طبعی بن جاتی ہے۔ لہذا آپ اس کو عقلی مشق کے طور پر کرنا شروع کر لیں تو قلبی خود ہی بن جائے گی اِن شاء اللّٰہ۔

سوال: ”باقی یہ کہ اذکار میرے تقریباً 75 سے 80 منٹ کے ہیں۔ میری منزل جدید ملا کر 100 منٹ۔ جس دن فوراً کر لوں تو اطمینان ہوتا ہے اور نشاط ہوتا ہے۔ جس دن دیر ہو جاتی ہے یعنی اگر دوپہر ہونے لگے تو سارا دن اینگزائٹی رہتی ہے، اوراد رہتے ہیں اس طرح سارا دن ٹینشن رہتی ہے۔ اس کا کیا کروں؟“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: کوشش کر لیں کہ آپ اول وقت میں سب کر لیا کریں۔

سوال: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

نمبر ایک: کم کھانے کا مجاہدہ جاری ہے۔ دن میں ایک دفعہ کھانا کھاتی ہوں لیکن جمعہ اور اتوار کو دو مرتبہ کھانا کھایا تھا اور چائے بھی دو مرتبہ پی تھی۔ جمعہ کو مہمان ہونے کی وجہ سے کھایا تھا اور اتوار کو سفر پر جانا تھا لہذا ناشتہ کیا تھا اور دوپہر کا کھانا بھی لیا تھا اور چائے بھی۔ آج روزہ رکھا ہے، سحری کی تھی اور افطار بھی اس لیے آج بھی دو مرتبہ ہوا۔ لیکن کل سے اِن شاء اللّٰہ پھر ایک وقت کھانے کا مجاہدہ رکھوں گی۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ ہمت دے۔

سوال: ”نمبر دو: تمام لطائف پر دس منٹ ذکر اور مراقبۂ معیت اور دعائیہ 15 منٹ۔ الحمد للّٰه اس بات کا ادراک نصیب ہوا کہ اللہ تعالی میرے ساتھ ہے۔ تکلیف کے وقت یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اللہ تعالی مجھے مبتلا کر کے آزما رہا ہے۔ سُبْحَانَ اللّٰہ۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ٹھیک ہے۔ تو اس مراقبۂ معیت اور دوائیہ کو جاری رکھیں۔

یہ طالبہ ڈیڑھ دو ہفتے پہلے سیڑھیوں سے گری ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے بیھٹنا کافی مشکل ہوجاتا ہے

ٹیک لگا کر کر لیا کرے۔

سوال: ”نمبر تین: تمام لطائف پر دس منٹ ذکر اور مراقبۂ احدیت۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتی ہوں اور ذکر کو، عبادات کو شوق سے کرتی ہوں۔ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ما شاء اللّٰہ، ابھی تمام لطائف پر 10 منٹ ذکر اور مراقبۂ احدیت کی بجائے مراقبۂ تجلیاتِ افعالیہ دے دیں۔

سوال: ”نمبر چار: لطیفۂ قلب 10 منٹ محسوس ہوتا ہے الحمد للّٰه۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اب اس کو لطیفۂ قلب 10 منٹ اور لطیفۂ روح 15 منٹ کر لیں۔

سوال: ”نمبر پانچ: اسمِ ذات کا زبانی ذکر 1500 مرتبہ۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ٹھیک ہے اب دو ہزار کر لیں۔

سوال: ”نمبر چھ: لطیفۂ قلب 10 منٹ، لطیفۂ روح 15 منٹ محسوس ہونے لگا ہے۔ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب:ٹھیک ہے، الحمد للّٰه! ابھی 10 منٹ لطیفۂ قلب، 10 منٹ لطیفۂ روح اور 15 منٹ لطیفۂ سر۔

سوال: ”نمبر سات: تمام لطائف پر 5 منٹ ذکر، مراقبۂ آیتِ کریمہ کا مفہوم 15 منٹ۔ مراقبے کے دوران یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ اللہ تعالی ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ اور مراقبات میں دل غمگین ہوتا تھا لیکن اس مراقبے کے دوران دل کافی خوش ہوتا ہے۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: ما شاء اللّٰہ اس کو جاری رکھیں۔

سوال: ”نمبر آٹھ: تمام لطائف پر 10 منٹ ذکر اور مراقبۂ صفاتِ ثبوتیہ 15 منٹ۔ یہ ادراک نصیب ہوا کہ اللہ تعالی میں یہ صفات حقیقتاً موجود ہیں۔ اس کے علاوہ تلاوتِ قرآن کی رغبت نصیب ہوئی ہے۔ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: الحمد للّٰه، ما شاء اللّٰہ، بس یہ تصور کریں کہ میں اللہ پاک کو قرآن سنا رہا ہوں۔ تو اللہ پاک کا جو دیکھنا اور سننا، یہ اس کا بھی ہو جائے گا مراقبہ اِن شاء اللّٰہ۔

سوال: ”نمبر نو: لطیفۂ قلب 10 منٹ، لطیفۂ روح 15 منٹ۔ پہلے قلب پر محسوس ہوتا تھا لیکن زیادہ ناغوں کی وجہ سے اب قلب پر محسوس نہیں ہوتا۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: تو ناغے نہ کریں اور اس کو ایک مہینے جاری رکھیں۔

سوال: ”نمبر دس: اس طالبہ نے ابتدائی ذکر پورا کیا تھا پھر قلب پہ ذکر ملا تھا لیکن محسوس نہیں ہوتا۔ پھر اس نے مدرسے کے ساتھ ذکر کو بھی چھوڑ دیا تھا اب دوبارہ مدرسے آئی ہے اور ذکر بھی شروع کرنا چاہتی ہے۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: تو دوبارہ یہ ذکر دے دیں۔

سوال: ”السلام علیکم حضرت جی۔ میرا نام فلاں ہے۔ میرا ذکر 200، 400، 600 اور 300 ہے۔ ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اب 200، 400، 600 اور 500 کریں۔

سوال: تفسیر والے ساتھیوں میں کسی نے پوچھا اگر کوئی لڑکی لڑکا زنا میں پکڑے جائیں تو ان کو قتل کریں یا کیا کریں؟ ان کو کیا جواب دوں؟ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: شریعت نے اس کا طریقہ بتایا ہے۔ اسلامی حکومت، ان کے تمام جو اس کے مراحل پورے کر کے، پھر جو سزا تجویز کر لے بس وہی دینی چاہیے۔ اسلامی حکومت ہی اس کا وہ کر سکتی ہے۔

سوال: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ معمولات: 2، 4، 6، 4000 باقی الحمد للّٰه پورا کرتے ہیں۔ لفظ اللہ میں کمی ہوتی ہے۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اچھا، مطلب یہ کہ اللہ اللہ آپ کم کر لیتے ہیں۔ تو اللہ اللہ آپ ذرا مختلف اوقات میں کریں۔ مثلاً ہزار ایک وقت، ہزار دوسری دفعہ، ہزار تیسری دفعہ، ہزار چوتھے وقت میں۔

سوال: ”مدرسۃ البنات کی تعلیم کچھ دن قبل الحمد للّٰه مکمل ہوئی۔ تفسیر اور ترجمہ جاری ہے۔ 10، 15 بندے ہیں۔ آج 10 ہیں الحمد للّٰه پانچواں پارہ آج مکمل ہوا۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اللہ تعالیٰ مزید برکات عطا فرمائے اور اس کی سب کے لیے، اس کو ما شاء اللّٰہ عمل کرنے کا ذریعہ بنائے۔

اس کے لیے دعا کریں کہ مجھے فہمِ قرآن اور خوب اخلاص نصیب ہو جائے، اور پڑھنے والوں کو عمل کرنے کی توفیق۔ آپ کو بھی عمل کی توفیق ہو جائے، صرف دوسروں کو عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی۔ میرے معمولات ہیں 200، 400، 600 اور اسمِ ذات 13500۔“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اب اسمِ ذات 14000 کر لیں۔

سوال: ”حضرت کیا جذبہ سے مراد لطائف کو توجہ دینا ہے اور وہ عالمِ امر میں اپنے اصول کی طرف اڑتا ہے یا جذبہ توجہ ہے جو انسان کو نفس کے خلاف مجاہدے کے لیے تیار کرتا ہے یا ان دونوں کا مجموعہ ہے؟“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: آپ اپنے آپ کو کنفیوز نہ کریں۔ جذب اصل میں ایک شوق پیدا ہوتا ہے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے، جس کی وجہ سے انسان کو قربانی دینا آسان ہو جاتا ہے اور نفس کی اصلاح آسان ہو جاتی ہے۔ تو یہ ذکر سے بھی ہو سکتا ہے، توجہ سے بھی ہو سکتا ہے یعنی قلبی دعا سے، اور یہ صحبتِ صالحین کے ذریعے سے بھی ہو سکتا ہے۔ مطلب کسی بھی ایسی چیز کے ذریعے سے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تعلق بنتا ہو، وہ جذبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ تو جذبہ جب حاصل ہو جائے، مثال کے طور پر ذکر کرتے کرتے، تو بس اس کے بعد پھر سلوک شروع کرنا چاہیے۔

Question: Assalamu Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatuhu Hazrat Ji. Sometimes when listening to others' questions ahwal I feel that it is similar to mine. In that case should I rewrite our ahwal or rather follow the instructions given in answer to someone else's ahwal? (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

Answer: No you should write because although it will look like similar but there might be some difference because you are different man to him. So therefore you should inform accordingly and whatever is told to you you should follow.

سوال: ”مفتی صاحب، حضرت یہ کمالاتِ نبوت اور کمالاتِ ولایت کے بارے میں تھوڑی تفصیل بتا دیں کہ کیا ہے؟“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: کمالاتِ نبوت اور کمالاتِ ولایت، وہ اصل میں اس طرح کریں کہ جو مکتوبات شریف ہیں نا، تو حضرت کو بھی دے دیں۔ پھر اگر کوئی سوال ہو گا تو پھر کر لیں گے اِن شاء اللّٰہ۔ کیونکہ تفصیلی بحث ہے۔

سوال: ”اور بعض اوقات حضرت یہ ہوتا ہے کہ کہیں آدمی ملازمت کرتا ہے۔ وہاں پہ ڈیوٹی کر کر کے اس پر ایک یقین سا آ جاتا ہے بندے کو کہ یہ میں اس کو میں چھوڑوں گا تو پتہ نہیں میرے ساتھ کیا ہو جائے گا۔ تو اس کیفیت کو کیا کہیں گے؟“ (سوال جواب مجلس 29 جنوری 2024، مجلس نمبر 658)

جواب: اصل میں اسباب کا اختیار کرنا ضروری بھی ہے، اور اسباب پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے، یہ ہمارا ایمان ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ ہی کے حکم کے مطابق اسباب اختیار کرنا ضروری ہے۔ بعض اسباب اختیار کرنا تو لازمی ہوتے ہیں، وہ تو اگر کوئی اختیار نہیں کرتا تو، مطلب یہ کہ وہ تو جرم ہو جائے۔ جیسے کوئی کھانا نہ کھائے اور مر جائے اس سے۔ تو ظاہر ہے کہ کوئی شادی نہ کرے، کہے میری اولاد ہو جائے۔ مطلب یہ ایسے اسباب ہیں نا اس سے انکار کرنا تو جرم ہے۔ اور بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں، موہوم اسباب اس کو کہتے ہیں۔ مطلب مجھے تنخواہ نہیں ملے گی تو کیا ہوگا یا کوئی اس قسم کی چیزیں موہوم۔ تو موہوم اسباب میں توکل کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی توکل کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو جو توکل واجب ہے، وہ تو یہ ہے کہ شریعت کے حکم کے مقابلے میں کوئی ایسا سبب جو شریعت نے منع کیا ہو، اس کو اختیار نہ کرے۔ یہ تو توکل واجب ہے۔ لیکن یہ موہوم اسباب کی پروا نہ کرنا، یہ مستحب ہے۔ تو یہ اگر کوئی شخص کر سکے تو اس کا بڑا مقام ہے۔ مقامِ توکل اسی کو کہتے ہیں، جو کسی کو حاصل ہو جائے۔ موہوم اسباب کی پرواہ نہ کرے۔

سوال: ایک خاص یہ جو کیفیت سی رہتی ہے انسان کے اوپر، بھئی یہ ہو گیا تو یہ ہو جائے گا، ایسے جو موہوم سی ہوتی ہے، یہ کیفیت مطلوب ہے؟

جواب: اس میں اللہ پر بھروسہ کرنا مطلوب ہے۔ جیسے آپ کو پتہ نہیں ہے کہ یہ چیز میرے لیے مفید ہے یا مفید نہیں ہے، تو بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهٖ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (سنن ابی داؤد: 5088) پڑھ کے کھا لیا کریں۔ کیونکہ موہوم ہیں یقینی تو نہیں ۔ تو اس طریقے سے اور دعائیں ہیں جو کہ یہ جو مسنون دعائیں ہیں۔ اس کو ہم پڑھ لیا کریں تو اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ (سنن ابی داؤد: 5095)، جیسے مطلب ہے، شروع کرتے رہیں، بسم اللہ توکلت علی اللہ۔ تو اس طرح یعنی جو موہوم اسباب ہیں، اس کو خاطر میں نہ لانا، لیکن اگر میسر ہو تو اختیار کرنا۔ نہ ہو تو اپنے دل پہ نہ لانا۔ یہ بات ہے۔ اب دیکھیں، حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے اپنے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو لکھا، کہ میں یہاں آنا چاہتا ہوں، اپنی ملازمت چھوڑنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا، ملازمت نہ چھوڑو۔ پھر انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔ اور اطلاع کر دی، تو حضرت نے مبارکباد دی۔ تو جنہوں نے دونوں احوال دیکھے تھے نا، تو اس پہ وہ حیران ہو گئے، پوچھا کہ حضرت پہلے آپ نے منع کیا، اب آپ مبارکباد دے رہے ہیں۔ فرمایا: پہلے اس کا توکل کچا تھا۔ اس وجہ سے پوچھا۔ تو اس وجہ سے میں نے کہا کہ اب توکل کچا ہے، تو کہیں خراب نہ ہو جائے اس میں، تو اس وجہ سے میں نے کہا کہ نہیں وہ نہیں چھوڑیں۔ لیکن جب توکل کامل ہو گیا، تو چھوڑ دیا، مجھے اطلاع کر دی۔ تو ما شاء اللّٰہ اس کو یہ چیز حاصل ہو گئی تو میں نے مبارکباد دے دی۔ تو وہ بھی تو، وہ تھا نا مطلب، موہوم سبب ہی تھا نا تو اس وجہ سے انہوں نے مبارکباد دی۔ لیکن وہ توکل مستحب تھا، توکل واجب نہیں تھا۔ اب حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت حاجی صاحب نے فرمایا اللہ پہ بھروسہ کر کے خانقاہ میں بیٹھ جاؤ۔ کوئی کام حضرت نے نہیں کیا۔ اس کے بعد، بس چلاتے رہے اللہ تعالیٰ کام۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اپنے ایک بیان میں فرمایا کہ ہاں... اسباب اختیار کرنے چاہیے، لیکن اس کو اتنا زیادہ وہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنے اوپر سوار کیے جائیں۔ کیونکہ بعض لوگ اس کو اتنا اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں کہ معاملہ اوپر تک چلا جاتا ہے، اوپر والا معاملہ بہت خطرناک ہے، کیونکہ آپ ﷺ سے کام بعثت سے پہلے ثابت ہے اس کے بعد ثابت نہیں ہے۔

بعد میں آپ نے کیا کام کیا؟ دنیا کا تو کوئی کام نہیں کیا جب نبوت ملی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ توکل سے رہتے ہیں تو وہ آپ ﷺ کی سنت پہ عمل کر رہے ہیں۔


سوال: حضرت شیخ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، سب عبادات اور معمولات پورے ہو جاتے ہیں مگر اپنے شیخ کے جواب کی محرومی کی وجہ سے کسی چیز میں دل نہیں لگتا۔ اور ایک اضطرابی کیفیت ہے کہ بندہ شیخ سے تھوڑا دور رہتا ہو اور حاضری کے شوق اور تمنا کے باوجود حاضری مشکل ہے۔ اس لیے دل پر اثر ہو جاتا ہے۔ کسی غلطی پر شیخ ناراض ہے کرم فرمائیے شکایت نہیں ہے، حال عرض کیا ہے۔

یہ کس کا ہے؟ نام نہیں لکھا؟ نام لکھنا چاہیے ہر اس کے ساتھ۔ کیونکہ ہر شخص کے لیے جواب مختلف ہو سکتا ہے۔


سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول