الحمد للہ رب العالمین، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے، پیر کے دن ہمارے ہاں جو سوال کیے جاتے ہیں ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ جو احوال بتائے جاتے ہیں ان کے بارے میں بھی تحقیق عرض کی جاتی ہے۔
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میں سب سے زیادہ اللہ پاک کو یاد کرتا ہوں کیونکہ نماز، ذکر، تلاوت سب اللہ کے لیے ہوتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرتا ہوں۔ پھر آپ حضرت جی کو یاد کرتا ہوں۔ پھر وقتاً فوقتاً ضرورت، بہت سی کچھ اور فکریں بھی رہتی ہیں لیکن یاد کرنے کے درجے میں نہیں بلکہ صرف فکر اور ضرورت کے درجے میں۔ اب اللہ پاک کو اختیاری بھی یاد کرتا ہوں جس سے اور یاد آتی ہے اور پھر ایسے بھی ہوتا ہے کہ دل کرتا ہے کچھ اور یاد ہی نہ رہے بس اللہ ہی یاد رہے۔ جیسے کہ آپ نے فرمایا ہے اختیاری کو چھوڑنا نہیں اور غیر اختیاری کے درپے نہیں ہونا۔ اللہ پاک کی یاد کی اس حالت میں اختیاری غیر اختیاری کو کیسے بیلنس کروں؟ جبکہ اللہ پاک کی یاد تو اب بفضل تعالیٰ ہے، یہ بھی نہیں کسی اور کام میں خود کو مصروف کروں، کیونکہ جس کام میں جاؤں گا اس میں اللہ کی یاد ہوگی، اس لحاظ سے پھر مزید یاد آئے گی۔ جو غیر اختیاری ہوگی پھر اس کا اپنا لطف ہوتا ہے، پھر اس لطف میں مزید یاد ہوتی ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: مجھے نہیں معلوم کہ آپ پوچھنا کیا چاہتے ہیں؟ تو ساری باتیں آپ جو بتا رہے ہیں محمود حالات ہیں لیکن اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے؟ کیونکہ اختیاری، غیر اختیاری کا آپ کو پتا ہے۔ تو اختیاری وہ ہوتی ہے جو انسان اپنے اختیار اور ارادے سے کرتا ہے۔ اور غیر اختیاری وہ ہوتا ہے جو خود بخود ہوتا ہے۔ اس میں کسی کے عمل کا وہ نہیں ہوتا۔ مثلاً اچھے خوابوں کا آنا، یہ غیر اختیاری ہے۔ کسی چیز کا کشف ہو جانا، یہ غیر اختیاری ہے۔ اس طریقے سے طبیعت کا اچھا ہونا، یہ بھی غیر اختیاری ہے۔ کوئی اپنی طبیعت کو خود مرضی سے، اختیار سے اچھا نہیں کر سکتا۔ بیماری کا آ جانا غیر اختیاری ہے۔ مطلب ظاہر ہے اگر آپ پرہیز وغیرہ نہیں کرتے تو وہ علیحدہ بات ہے، لیکن ویسے بیماری کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔ تو جو غیر اختیاری ہیں وہ من جانب اللہ جو ہوتے ہیں، اس میں بڑی اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہوتی ہیں۔ اور جو اختیاری ہیں وہ یہ ہیں جن کا حکم ہے۔ جن کا حکم ہے۔ اوامر و نواہی یہ اختیاری ہیں، اور اسی کو شریعت کہتے ہیں۔ تو ظاہر ہے شریعت کے ہم مکلف ہیں، اس کے علاوہ کسی چیز کے مکلف نہیں۔ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ تو بس ہم سیدھے سیدھے شریعت پر رہیں، درمیان میں کنفیوز ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اے اللہ! مجھے اپنے آپ کے سوا اپنے کسی بندے کا محتاج نہ بنا۔
Please explain the following
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ایک دعا وارد ہے: اَللّٰھُمَّ لَا تُحْوِجْنِيْ إِلٰی أَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ یعنی اے اللہ! مجھے اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہ بنا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو فرمایا: ایسا مت کہنا، بلکہ کہو: اَللّٰهُمَّ لَا تُحْوِجْنِيْ إِلٰی شِرَارِ خَلْقِكَ اے اللہ! مجھے اپنے بندوں میں سے برے آدمی کا محتاج نہ بنا۔ دراصل یہ ہے کہ اصل روایات میں ہے، جیسے کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: (تو ہے کہ یعنی مجھے وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے سوا اپنے کسی بندے کا محتاج نہ بنا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے تو پھر یہ بات کیوں ہے؟ مجھ سے پوچھنا چاہتی ہیں۔ ٹھیک ہے نا!)
تو میں نے جو جواب دیا ہے وہ بھی ایک سوال ہی ہے۔ سوال کا جواب سوال۔ تو میں نے سوال کیا لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ کا کیا مطلب ہے؟ کیا مطلب ہے؟ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ (کوئی پناہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے سوا) کوئی ٹھکانہ نہیں ہے نا اللہ تعالیٰ کے سوا، تو محتاجی اسی کی ہے نا! تو ظاہر ہے ہے کہ اگر کوئی مانگتا ہے کہ اے اللہ! مجھے کسی کا محتاج نہ بنا، تو یہ جو محتاجی ہے اس طرح ہے کہ اصل محتاجی اللہ کی ہے، جیسے اصل قدرت اللہ کی ہے، یہ اس معنی میں ہے۔ یہ نہیں کہ مثال کے طور پر آپ کسی سے کچھ مانگ نہیں سکتے، یہ نہیں ہے۔ اصل ارادہ اللہ کا ہے، اصل فیصلہ اللہ کا ہے۔ کیونکہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث شریف ہے، وہ بالکل اچھی طرح اس کو explain کرتی ہے۔ کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! یاد رکھو اگر ساری دنیا جمع ہو جائے اور تجھ سے کوئی چیز روکنا چاہے تو وہ نہیں کر سکتے، اگر اللہ نہ چاہے۔ اور اگر ساری دنیا جمع ہو جائے تمہیں کچھ چیز دینا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو تمہیں وہ چیز نہیں دے سکتے۔ اب اس کا مطلب کیا ہے؟ تو اصل ارادہ اللہ کا ہے، اس لحاظ سے یہ کہنا لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ یہ بھی صحیح ہے اور جو معاذ رضی اللہ عنہ والی روایت ہے وہ بھی صحیح ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ عمومی طور پر ایک دوسرے سے مانگنا، ایک دوسرے کے کام آنا، پوری دنیا جو ہے اس کا جو پورا setup ہے وہ دو چیزوں پر چل رہا ہے، کمال کی بات ہے۔ یعنی ہماری جتنی بھی سوشل activites ہیں وہ صرف دو چیزوں پر چل رہی ہیں ظاہری طور پر، ایک پیسے پر اور ایک محتاجی پر۔ اس کے علاوہ تیسرا بتا دو؟ ایک پیسے پر، اور دوسرا محتاجی پر۔ اگر ایک دوسرے کے محتاج ہم نہ ہوتے، تو ایک دوسرے کے کام آ سکتے؟ ایک دوسرے کے کام نہ آ سکتے۔ ایک دوسرے کے کام نہ آ سکتے تو ہمارے کام ہو سکتے؟ کیونکہ سارے کام سارے لوگ تو نہیں کر سکتے۔ ہر ایک سارے کام نہیں کر سکتا۔ مثلاً میں ڈاکٹر نہیں ہوں، انجینئر ہوں۔ میں دکاندار نہیں ہوں۔ میں سویپر نہیں ہوں۔ میں پتا نہیں کیا کیا چیز نہیں ہوں۔ تو جو نہیں ہوں، اس میں ان کا محتاج ہوں۔ ایک دن سویپر نہ آئے تو کیا مسئلہ ہوتا ہے؟ محتاجی ہو گئی نا۔ بھئی جب سڑک پر جاتے ہیں ٹریفک پولیس کے محتاج ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو رش ہو جاتا ہے اور ساری گاڑیاں آپس میں پھنس جاتی ہیں۔ کہتے ہیں جی پولیس والے کدھر چلے گئے؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں ظاہری طور پر۔ لیکن اصل محتاجی اللہ کی ہے، سب کی۔ اللہ کے سب محتاج ہیں اور ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ اور اسی بل پر ہی ساری دنیا چل رہی ہے۔ اور اس کے لیے ذریعہ اللہ پاک نے medium پیسے کو بنایا ہوا ہے، ڈاکٹر فیس لیتا ہے، ڈاکٹر دکاندار سے سودا لیتا ہے۔ ڈاکٹر ممکن ہے اس کو گاڑی میں جانا پڑے، جہاز میں جانا پڑے، ان کو پیسے دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو پیسے وہ کماتا ہے وہ خرچ کرتا ہے، تو جہاں خرچ کرتا ہے وہاں محتاج ہے وہ۔ اور جہاں لوگ ان کے پاس آتے ہیں تو لوگ ان کے محتاج ہیں۔ تو اس طرح ہر آدمی دوسرے کا محتاج ہے۔ اور اس کے لیے medium اللہ پاک نے پیسے کو اپنایا ہوا ہے کہ اس کے ذریعے سے سارے۔۔۔ تو وہ جو انگریزوں نے کہا ہے نا
"Money makes the mare go"
یعنی دولت سے کام چلتے ہیں، تو اس کا ظاہری معنی یہی ہے۔ کہ مطلب دولت ایک medium ہے جس کے ذریعے سے ایک دوسرے کی محتاجی کو پورا کیا جاتا ہے اور سب کے کام ہوتے رہتے ہیں۔ تو یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ یہی بات ہے کہ کسی شریر کا مجھے محتاج نہ بنا۔ کیوں؟ اس میں عزت نفس کا سوال آ جاتا ہے، مسئلہ ہو جاتا ہے، پریشانی ہو جاتی ہے۔ تو اب بتاؤ سوال کس سے کیا گیا ہے؟ مجھے کسی شریر کا محتاج نہ بنا، یہ سوال کس سے ہے؟ محتاجی میں اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں نا۔ ٹھیک ہے نا! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو بات فرمائی وہ بھی، اخیر میں ادھر ہی جاتی ہے۔
سوال: کسی نے مجھے کہا تھا کہ میری طرف سے درخواست ہے کہ آپ میرے لیے دعا کرو کہ میری جاب مل جائے۔ اگر آپ کے پاس کوئی وظیفہ ہے، آپ مجھے بتائیں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: بعض لوگ اسی لیے رابطہ کرتے ہیں لوگوں کو کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ تو پھر میں نے جواب دیا کہ تہجد کے بعد اللہ تعالیٰ سے مانگنے سے بڑا وظیفہ میرے پاس نہیں ہے۔ ہم تو یہی بتاتے ہیں۔ اگر کسی کو اس پر اعتقاد ہے تو ان شاء اللہ اس کے سارے کام اس کے ذریعے سے ہوں گے جو اللہ کرنا چاہے گا۔ کیونکہ بعض چیزیں جیسے انسان کہتا ہے میں مروں نہیں، تو وہ تو كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، مرنا تو ایک دن ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ پاک کرنا چاہے تو وہ اللہ پاک سے مانگیں گے تو اللہ پاک کرے گا۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جی میں فلاں، کراچی سے دورہ حدیث میں پڑھنے والا طالب علم ہوں۔ شاید آپ حضرت کے علم میں ہوگا، وفاق کے امتحان قریب ہیں اور میرا ذکر دو سو بار لا الہ الا اللہ، چار سو بار لا الہ الا ھو، چھ سو بار حق، اور سو بار اللہ، اللہ ہے، اور دس منٹ کا مراقبہ ہے۔ تو وقت کا مسئلہ ہے اور کام زیادہ ہے۔ تو اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ دوسری بات یہ کہ دورہ حدیث اللہ کی توفیق سے پورا ہونے والا ہے تو میرے لیے اللہ پاک سے دعا مانگیں کہ اللہ مجھے دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور مجھ سے دین کا کام لے اور دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی ذلت اور رسوائی سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں چار Categories تھیں، ایک عامی مشغول، عامی فارغ، ایک عالم مشغول، عالم فارغ۔ وہ تھے نا چار؟ تو آپ درمیان میں ہیں، نہ عامی ہیں، نہ عالم ہیں۔ کیونکہ ابھی طالب علم ہیں۔ تو نہ عامی ہیں نہ عالم ہیں۔ لہٰذا فی الحال آپ یہی کر لیں کہ دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، دو سو مرتبہ حق، اور سو مرتبہ اللہ۔ یہ کر لیں۔
لیکن ایک بات میں آپ کو بتاؤں، وہ یہ ہے کہ تقسیم کار ہے۔ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، یہ تو ہے۔ ٹائم ہمارے پاس محدود ہے۔ اور اس محدود ٹائم کو ہم لگاتے ہیں مختلف کاموں میں۔ تو ربڑ کی طرح جب ہم اس کو کھینچیں گے تو اس کی لمبائی تو بڑھتی ہے لیکن چوڑائی اور موٹائی کم ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کچھ چیزیں پانے کے لیے آپ کچھ چیزوں کو چھوڑتے ہیں۔ تو لہٰذا میں نے وظیفہ جو کم کر لیا تو اس سے آپ کا یہ کام تو ہو گیا کہ امتحان میں آپ کو تیاری کا اچھا موقع ملے گا لیکن اس کے حساب سے پیچھے تو ہونا پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ اس لائن میں۔ تو فی الحال آپ اس پر صبر کر سکتے ہیں، اس کی تلافی پھر بعد میں آپ کریں۔ یعنی ایسا ہوتا ہے بعض دفعہ، آدمی کسی چیز کے سیزن میں وہ آدمی ایک چیز پر زیادہ فوکس کرتا ہے لیکن بعد میں جو دوسری چیزیں ہوتی ہیں ان کی طرف توجہ زیادہ کرتا ہے کہ وہ بھی پوری ہو جائیں۔ کیونکہ وہ بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اصلاح بھی ضرورت ہے، علم بھی ضرورت ہے۔ اصلاح بھی ضرورت ہے، علم بھی ضرورت ہے۔ تو آپ علم کے لیے اصلاح کو فی الحال Postpone کرنا چاہتے ہیں۔ تو میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ایسا کریں۔ ہاں البتہ تھوڑی سی سپیڈ آپ کی کم ہو جائے گی تو ٹھیک ہے میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں، دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، دو سو مرتبہ حق اور سو مرتبہ اللہ کریں لیکن جیسے آپ فارغ ہو جائیں، تو پھر آپ پوری توجہ کے ساتھ، جیسے ہمارے گزشتہ بزرگانِ دین جو گزرے ہیں، وہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد مکمل اس کو وقت دیتے تھے۔ باقاعدہ جا کے خانقاہوں میں بیٹھ جاتے تھے۔ تو پھر ان کو کچھ ملا نا۔ ان کو کچھ ملا نا۔ تو اس طریقے سے کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے، کچھ کرنا پڑتا ہے۔ خیر فی الحال آپ یہی کریں۔ ان شاء اللہ، اور دعا میں نے کی ہے جیسے کہ آپ نے فرمایا ہے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت جی میں فلاں بات کر رہا ہوں جہلم سے، ان شاء اللہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
حضرت میں نے قرآن پاک حفظ کیا ہوا ہے، الحمد للہ، لیکن قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر اور باقی دینی علوم کے بارے میں اتنا علم نہیں ہے۔ میں سیکھنا چاہتا ہوں لیکن مدرسے میں باقاعدہ داخلہ نہیں لے سکتا کیونکہ گھر کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیسے علم حاصل کر سکتا ہوں؟ اور کیا مدرسے میں داخلہ لینا ضروری ہے؟ جزاک اللہ۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: اب اگر کوئی آسان سی بات بتا دوں تو آپ کو سمجھ نہیں آئے گی، مشکل بات آپ کر نہیں سکتے۔ تو کیا خیال ہے، کیا کریں؟ درمیان میں کوئی رستہ بتا دیتا ہوں۔ تو درمیان والا رستہ یہ ہے کہ فرضِ عین علم حاصل کرو۔ جو فرض ہے۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ یہ فرض ہے۔ مدرسے میں پورا درس نظامی کرنا فرض نہیں ہے۔ کیوں کوئی مفتی فتویٰ دے سکتا ہے کہ یہ فرض ہے؟ تو وہ فرضِ عین نہیں ہے، وہ فرضِ کفایہ ہے۔ ٹھیک ہے نا! لیکن جو فرضِ عین علم ہے وہ سب کے اوپر فرض ہے۔ تو آپ فرضِ عین علم حاصل کر لیں، بتدریج، ان شاء اللہ۔ آپ کو اللہ پاک جتنا اس علم سے نوازیں گے اس پر عمل کی آپ کوشش کریں تو آپ کی بنیادی ضرورت پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعد پھر مزید، سبحان اللہ! اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ تو جتنا، علم تو کبھی بھی کوئی پورا نہیں کر سکتا۔ میں تو نہیں سمجھتا کہ کوئی عالم کہہ سکتا ہے کہ میں مکمل عالم ہو گیا ہوں۔ یہ تو ہو نہیں سکتا۔ تو جب ہو نہیں سکتا تو ساری عمر ہی کرنا ہے نا۔ وہ کہتے ہیں مہد سے لحد تک علم حاصل کرنا ہوتا ہے۔ تو اس کے لیے تو آپ پھر کوشش کر لیں، لیکن یہ بات ضرور ہے کہ فی الحال فرضِ عین علم وہ آپ کے لیے لازم ہے، due ہے۔ اس کے لیے آپ آسان طریقہ یہ ہے کہ بہشتی زیور اور تعلیم الاسلام، یہ دونوں آپ مکمل طور پر پڑھیں۔ بہشتی زیور اور تعلیم الاسلام یہ دونوں مکمل طور پر پڑھیں۔ پھر اس کے علاوہ، ان شاء اللہ ان دو کے پڑھنے سے آپ کو مزید خود ہی پتا چل جائے گا کہ اور کچھ، کیا کرنا ہے۔ ان شاء اللہ اس کے اندر رستے موجود ہیں۔ تو فی الحال آپ یہ کر لیں، باقی ان شاء اللہ پھر بعد میں ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم! میرے لیے دعا کیجیے کہ میں تہجد کی نماز میں اٹھ سکوں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: اللہ تعالیٰ آپ کی اس خواہش کو پورا فرما دے۔ لیکن دعاؤں پہ آپ چیز چھوڑیں گے نہیں، اسباب اختیار کرنا لازمی ہوتے ہیں۔ ورنہ وہ دعا تمنا بن جاتی ہے۔ اور تمنا سے کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی۔ تمنا میں اور ارادے میں فرق یہی ہے۔ تمنا میں اور ارادے میں فرق یہ ہے کہ تمنا میں محض خواہش ہوتی ہے، عمل نہیں ہوتا۔ اور ارادے میں اسباب کو اختیار کرنے کا ما شاء اللہ نظام ہوتا ہے اور جتنا وہ اس وقت کر سکتا ہے وہ شروع کر لیتا ہے۔ اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے، میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں، اور نہ وہ میٹرک کرے، نہ ایف ایس سی کرے، نہ medical proficiency test وغیرہ دے، تو ٹھیک ہے اس کی خواہش ہے لیکن تمنا ہے۔ وہ ارادہ نہیں ہے۔ ارادہ تب ہو گا جب یہ پڑھنا شروع کرے گا۔ تو اس وجہ سے آپ تہجد کے لیے جو اسباب ہیں نا ان کو اختیار کرنا شروع کر لیں۔ اور وہ کیا ہیں؟ جلدی سو جانا۔ جلدی سو جانا۔ اور دن کے وقت اگر ممکن ہو قیلولہ کرنا، بیس پچیس منٹ۔ یہ دو کام آپ شروع کر لیں ان شاء اللہ تہجد کے لیے اٹھنا نصیب ہو جائے گا۔ اللہ پاک نصیب فرمائے۔
سوال: السلام علیکم! میں فلاں شانگلہ KPK سے ہوں۔ میں آپ سے اپنی اصلاح کروانا چاہتا ہوں۔ آپ سے ملاقات کرنا بھی چاہتا ہوں۔ مجھے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ میرا حافظہ کمزور، اور دماغ میں ڈپریشن ہے، جس کی وجہ سے بستر پر ہوتا ہوں۔ آپ میری صحت یابی کے لیے دعا کیجیے گا تاکہ جلد از جلد آپ کی خانقاہ میں آ جاؤں۔ جواب کا منتظر رہوں گا۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: اللہ تعالیٰ آپ کو جلد سے جلد صحت یابی عطا فرما دے اور آپ کی اس خیالی بیماری کو جلد سے جلد درست فرما دے۔ یہ ڈپریشن جو ہے نا، یہ خیالی بیماری ہوتی ہے۔ تو اگر انسان کا خیال اور تصور درست ہو جائے تو یہ بیماری درست ہو سکتی ہے۔ مثلاً، ایک شخص ہے کسی چیز سے گھبرا جائے، تو جو کر سکتا ہے وہ بھی نہیں کر سکے گا۔ تو ہمارے پٹھان لوگ جو ہیں نا اس مسئلے میں ذرا تھوڑے سے different ہیں۔ تو ان کی ایک ضرب المثل ہے۔ کہتے ہیں
"چې د کومې بلا نه نه خلاصېږې، غاړې غټې ورته ځه"۔
کہتے ہیں جس بلا سے مفر نہیں ہے پھر اس کے گلے لگ جاؤ۔ مطلب ظاہر ہے گلے لگا لو بس ظاہر ہے وہ کیا کرے گا پھر؟ جو ہونا ہے وہ تو ویسے بھی ہونا ہے نا، تو پھر میں ڈر کے کیوں مر جاؤں؟ پھر میں ڈر کے کیوں مر جاؤں؟ میں اپنی طرف سے جتنا کر سکتا ہوں تو کرو نا! یہ ایک بہادری والی بات ہے۔ اللہ کرے کہ آپ اس خیالی بیماری سے جلد سے جلد صحت یاب ہو جائیں۔
باقی اصلاح کا جو ہے کام آپ نے فرما دیا نا، وہ چاہے آپ بیمار ہیں، چاہے صحت مند ہیں، اصلاح ضروری ہے۔ چاہے آپ بیمار ہیں، چاہے صحت مند ہیں، اصلاح ضروری ہے۔ اس کے لیے آپ کو انتظار نہیں کرنا کہ مجھے صحت حاصل ہو جائے پھر میں اپنی اصلاح کروں گا۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اصلاح کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے۔ تو کیا بیمار کو آخرت نہیں چاہیے؟ بیمار کو بھی آخرت اچھی چاہیے، صحت مند کو بھی۔ کسی کو شکر کے ذریعے سے ملتی ہے، کسی کو صبر کے ذریعے سے ملتی ہے، کسی کو کس ذریعے سے ملتی ہے، کسی کو کس ذریعے سے۔ تو اس وجہ سے یہ بات آپ بھول جائیں کہ آپ صحت مند ہو جائیں گے تو پھر آپ اپنی اصلاح کریں گے۔ اگر آپ کے خیال میں یہ ہے تو یہ بھی خیالی بیماری ہے۔ اس خیال کو بھی درست کرنا ضروری ہے۔ اللہ جل شانہٗ تمام خیالی بیماریاں آپ کی درست فرما دے۔
سوال: ایک اور صاحب ہیں خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے، تو وہ بھی بس یہی بات کر رہے ہیں کہ آپ کے پاس میں آنا چاہتا ہوں تصوف کے لیے اور خانقاہ کے لوازمات وغیرہ بھی پوچھے تھے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: اور میں نے بتایا بھی تھا، تو خانقاہ کا جو ویب سائٹ کا جو پتا ہے، وہ میں ابھی بھیج دیتا ہوں، لوکیشن۔ باقی تو یہ کام ہمت سے ہوتے ہیں۔ ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔ یہ لوکیشن، یہ لوکیشن میں بھیج رہا ہوں، اگر تشریف لانا ہو تو ضرور Most welcome، اللہ پاک آپ کو خیریت سے لے آئے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی جہلم سے احقر فلاں بات کر رہا ہوں۔ آپ کے ارشادِ عالی کے مطابق الحمد للہ مراقبۂ معیت کر رہا ہوں روزانہ 15 منٹ۔ جس کی برکت سے اللہ کا خوف دل میں محسوس کرتا ہوں اور گناہوں سے بچنے کا دھیان بھی رہتا ہے۔ آپ کی برکت سے گناہوں کی جرات کم ہو رہی ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: اللہ جل شانہٗ مزید آپ کو ترقی عطا فرمائے۔
سوال: السلام علیکم! یہ AOA لکھنا ٹھیک نہیں ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: "السلام علیکم" پورا لکھنا چاہیے عربی میں۔ یہ ہمارے معمولی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ۔ تو سلام کو پھیلانے کا حکم ہے، تو AOA کیا چیز ہوتی ہے؟ یہ مخففات یہ انگریزوں کی چیزیں ہیں، انگریزی ایسی فضول قسم کی زبان ہے کہ اس میں اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ اگر میں لکھتا ہوں AOA تو ساؤنڈ کے لحاظ سے اتنے ہی ہوتے ہیں "السلام علیکم"۔ آواز میں کتنا فرق آ گیا؟ صرف لکھنے کی، بس وہ ایک فرق ہے۔ تو AOA، بہت ساری چیزیں بن سکتی ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ مخففات، یہ انگریزوں کی زبان میں ہے، ہماری زبان میں نہیں ہے۔ تو اس کو چھوڑیے، باقاعدہ السلام علیکم لکھنا چاہیے، سلام مسنون ہے یہ۔
سوال: مراقبہ دس منٹ کا ہے ایک مہینے سے اوپر ہو گیا ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: ما شاء اللہ! اب دس منٹ کی جگہ 15 منٹ کریں۔ ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی میں تزکیہ کی ویب سائٹ سے نماز کے اوقات ڈاؤنلوڈ کرنا چاہ رہی تھی لیکن وہ صفحہ کھل نہیں رہا۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: ممکن ہے ویب سائٹ کا مسئلہ نہ ہو، Wifi کا ہو یا کوئی اور چیز ہو۔ بہرحال متعلقہ لوگوں سے میں بات کر لوں گا۔ اس قسم کی بات اگر آپ کو پیش آ رہی ہے تو دیکھ لیتے ہیں کہ کیا صورتحال ہے۔ اور یہ کب کی بات ہے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی انسان کی زندگی میں کبھی ایسے ادوار آ جاتے ہیں کہ وہ بہت مشکل میں ہوتا ہے اور ماحول میں بھی کچھ ایسے عناصر ہوتے ہیں جو اس کی زندگی کو اور بھی مشکل بنا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب وہ صبر سے کام لیتا ہے اور ایک ایسا دور آ جاتا ہے کہ مشکلات زیادہ تر حل ہو جاتی ہیں اور آسان دور شروع ہو جاتا ہے اور زندگی پہلے سے سہل ہو جاتی ہے۔ تو انسانی فطرت میں ہے کہ ایک وقت سے وہ لوگ زیادہ جنہوں نے مشکل دور کو اور بھی مشکل بنایا تھا، انسان کے دل میں ایک چھپی ہوئی نفرت ہوتی ہے۔ اور جب دیکھتا ہے کہ اب اس دوسرے انسان پر برا وقت ہے تو خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے اس سے بدلہ لے لیا اور خود بھی کوشش کرتا ہے کہ میں بھی کسی طریقے سے بدلہ لوں۔
حضرت! سلوک جو لوگ طے کرتے ہیں، تو ان کے لیے اس قسم کے احساسات کہ دوسروں سے بدلہ لینا، ان پر برا وقت آنے پر خوش ہونا، ان احساسات کو تو ختم کرنا چاہیے نا؟ تو حضرت، ایسے احساسات اکثر مجھے بھی ہو جاتے ہیں۔ اب چونکہ میں تصوف کی پہلی سیڑھی پر ہوں تو میں پھر دل میں ہی توبہ کر لیتی ہوں اور استغفار بھی پڑھ لیتی ہوں۔ ایسے احساسات کو ہمیشہ کے لیے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے کہ بندہ سب کچھ، جو بھی برا ہو، بھول جائے اور ایسا ہو جائے کہ دل میں بھی برا خیال نہ آئے؟ میرے تو چونکہ دل میں برا خیال آتا ہے پھر خفا ہوتی ہوں کہ کسی کو نہیں مگر اللہ کو تو پتا چل گیا کہ اگر اللہ خفا ہو جائے تو پھر کیا ہوگا؟ اور اللہ خفا بھی ہوتا ہے اور مجھے پتا بھی دیتا ہے اور ذرا ڈرا بھی دیتا ہے۔ اب حضرت! میں اپنے دل کی گندگی کو کیسے ختم کروں کہ جب دل ٹھیک ہو گا تو پورا بدن ٹھیک ہو گا۔ میرا تو دل ہی گندا ہے تو اس کو صاف کیسے کروں؟ آپ اصلاح فرمائیں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: ما شاء اللہ اچھے احساسات ہیں لیکن تھوڑی سی ناسمجھی بھی ہے۔ اور وہ ناسمجھی یہ ہے کہ غیر اختیاری اور اختیاری کا پتا معلوم نہیں ہے۔ یہ جو باتیں ہو رہی ہیں، یہ غیر اختیاری ہیں۔ کیونکہ دیکھیں، اگر اختیاری ہوتیں تو پھر اس پہ تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟ پھر اس پر شرمندگی کیوں ہو رہی ہے؟ تو اختیاری نہیں ہے نا، غیر اختیاری ہے۔ یعنی روکنا چاہتی ہیں لیکن روک نہیں پا رہیں۔ تو اس کا مطلب ہے یہ غیر اختیاری چیز ہے۔ تو جو غیر اختیاری چیز ہے، اس کے درپے نہیں ہونا چاہیے۔ اس پہ اللہ پاک پکڑتا نہیں ہے۔ اور آپ اس کی پروا نہ کریں۔ ہاں! حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بہت اونچا مقام دیا تھا۔ بہت ٹیڑھے مسئلے حل کیا کرتے تھے۔ فرمایا کہ حکم تو یہی ہے کہ غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑو، کہ خیالات ہی نہ آئیں اس کے بارے میں آپ سوچیں نہیں، ارادہ بھی نہ کریں۔ بس اس کو بھول جائیں چھوڑیں، جو ہوتا ہے بس ہوتا ہے۔ آپ نے وہ کرنا ہے جو اللہ پاک کا حکم ہے ارادے کے ساتھ۔ فرمایا کہ، ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے سڑک خالی کر دی جاتی ہے، لیکن وہ لوگ سارے نہیں ہوتے۔ تھوڑے لوگ ہوتے ہیں۔ تو اگر اللہ نے چاہا تو آپ کے لیے بھی کسی وقت سڑک کو خالی کر دیں گے، دل تو سڑک ہے۔ فرمایا اب اس وقت آپ ایسا مراقبہ کر سکتے ہیں، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ صاحب نے جو بتایا ہے، کہ آپ کہیں، کمال ہے، کیا بات ہے، اللہ نے کیسا دل بنایا ہے کہ اس میں مختلف قسم کی چیزیں خود بخود آ رہی ہیں اور میں اس پر قابو بھی نہیں پاتا، اور اللہ پاک اس پر پکڑتے بھی نہیں ہیں۔ کیا بات ہے! تو اللہ کے شکر کی توفیق ہو جائے گی۔ تو جو چیز آپ اس سے ڈر رہی ہیں وہی آپ کے لیے خیر کا ذریعہ بن جائے گی۔ کیونکہ شکر اختیاری ہے۔ شکر اختیاری ہے۔ اور وہ حالات جو ہیں نا وہ کیا ہیں؟ وہ غیر اختیاری ہیں، تو آپ نے غیر اختیاری چیز کے ذریعے سے اجر کما لیا۔ اس لیے باقاعدہ ایک دعا ہے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِيْ خَشْيَتَكَ وَذِكْرَكَ۔ اے اللہ! میرے دل کے وسوسوں کو اپنی خشیت بنا دے اور اپنا ذکر بنا دے۔ تو آپ بھی یہ دعا کر لیا کریں ان شاء اللہ آپ کے لیے بھی امید ہے کہ اس میں بڑا خیر ہوگا۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت آپ نے ستمبر 2023 میں مندرجہ ذیل ذکر فرمایا تھا۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ 200، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ 400، حَقّ 600، اور اللّٰه 500۔
ساتھ روزانہ کے معمولات میں سو مرتبہ تیسرا کلمہ، سو مرتبہ درود شریف، سو مرتبہ استغفار جاری ہے۔ علاوہ ازیں نماز کی تسبیحات بھی جاری ہیں۔
انٹرنیٹ سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے اور ہمارے علاقے میں signal بھی بہت کمزور ہوتے ہیں، سوال و جواب کی ریکارڈنگ شاید میں آپ کے جواب شاید میں نہ سن سکا۔ اور وہی ذکر ستمبر سے اسی تعداد میں روزانہ جاری ہے۔
حضرت آپ سے آگے رہنمائی کی درخواست ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: ابھی مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ ابھی آپ نے انٹرنیٹ کے ذریعے سے مجھے یہ میسج بھیجا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ تک آپ کی رسائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اس کے ذریعے سے اپنے احوال مجھے بھیج سکتے تھے۔ تو آپ نے بھیجے نہیں، دیر کر لی۔ ستمبر اور اب کیا ہے؟ جنوری ہے۔ تو یہ تو کافی دیر ہو گئی۔ خیر دیر جو آپ نے کر لی جو بھی کر لی ہے لیکن اس کی وجہ سے انسان پیچھے ہو جاتا ہے۔ آئندہ ایسا نہ کریں اور مہینے کے ذکر کو مطلب باقاعدہ مہینے کے بعد بتا دیا کریں اس کی حالت کو۔
تو ابھی آپ اس طرح کر لیں کہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ 200 مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ 400 مرتبہ، حَقّ 600 مرتبہ، اور اللّٰه 500 مرتبہ جو آپ کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا مراقبہ کر لیں 5 منٹ کے لیے۔ آنکھیں بند، زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کے تصور کر لیں کہ میرا دل وہی اللّٰه اللّٰه جو آپ 500 دفعہ زبان سے کر رہے ہیں وہ آپ کا دل اپنی زبان سے کر رہا ہے۔ یعنی دل، دل اللّٰه اللّٰه کر رہا ہے۔ بس اس تصور میں بیٹھ جائیں 5 منٹ کے لیے روزانہ۔ اس ذکر کے بعد۔ اور ایک مہینہ یہ سارا کر کے پھر مجھے بتا دیں۔ جو تسبیحات دائمی ہیں، تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار، یا نمازوں کے بعد، وہ بھی ساتھ چلتے رہیں گے۔
یا اللّٰه تیرا شکر...
Question:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ As per your instructions I was able to do the following Hazrat virtuous deeds in the last few months. Number one, read two pages of Tafseer daily. Fasting on Monday and Thursday. Teach Quran recitation to some brothers and sisters. After doing the above I have almost same feelings as few months before. That is I feel confident and have more patience and have more Control over myself.
Answer: سُبْحَانَ اللّٰهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ. You are very right. You can continue this and you can teach obligatory knowledge which is فرض for all Muslim. Just like procedure of صَلَاة and fasting and زَكَاة and if some people are going coming for حَجّ so for them procedure of حَجّ and (مُعَامَلَات) dealings. So you should continue this by this to other brothers you should teach these things with all these things ان شاء اللہ.
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
Question: Sheikh السلام علیکم. As per your instructions I have been focusing on the following حَسَنَات virtues deeds related to others for the last one month as follows.
Number one reduction in conflict with my mother. Sheikh this is my little change during this month. I would be thankful if you may kindly guide me next. جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا.
Wife of Falan..
Answer: So ما شاء اللہ it's very good. Now ان شاء اللہ if you will yourself learn دینی مسائل it mean how to perform صَلَاة, how to perform fasting, how to perform زَكَاة, how to perform حَجّ if some people are coming for حَجّ. So this just you learn yourself and then teach other sisters. ان شاء اللہ. Beside this…
I did not find any message from your daughter. What she is doing whether she is working on her اصلاح or not.
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ... لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ…
کسی سائل نے آڈیو میسج بھیجا جس پر حضرت نے جواب دیا کہ
جواب: میں ان شاء اللہ بعد میں آپ کو جواب دوں گا کیونکہ آپ کی آڈیو ہے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی میں زوجہ فلاں، آپ سے مخاطب ہوں۔ حضرت جی آپ کی دعا سے میرے حالات اب بہتر ہیں۔ اللّٰه پاک نے اس آزمائش کے ذریعے جو تبدیل کرنا تھا، میں اس تبدیلی پر راضی ہوں۔ الحمد للہ۔ اور کوشش کرتی ہوں کہ میرے الفاظ اور عمل میں ناشکری نہ ہو۔
حضرت میرے شوہر کے دل میں اگر کسی کی بات کا اثر ہوتا ہے تو وہ آپ ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنی زندگی میں صرف آپ کے کہنے کی وجہ سے رکھا ہوا ہے۔ میں آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ حضرت جی میرے شوہر سے میری سفارش کر دیجیے میرا تو سب کچھ آپ ہی ہیں۔ آپ میرے حالات جانتے ہیں آپ میرے والد ہیں۔ آپ اپنی بیٹی کے لیے سفارش کر دیں کہ مجھے معاف کر کے واپس رکھ لیں۔ میں اپنی ہمت سے زیادہ کوشش کر رہی ہوں تبدیل ہونے کی۔
حضرت میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے، بس ہر سانس میں دعا کرتی ہوں، لیکن آزمائش اس وقت کم ہو گی۔ حضرت جی سفارش آپ کی شان کے شایان شان نہیں ہے، لیکن دنیا میں کوئی اور ذریعہ اور نہیں ہے، جو میرے لیے کچھ بول سکے۔ آپ کے الفاظ کی برکت سے میری زندگی میں ٹھہراؤ آ جائے۔
جواب: اللّٰه جل شانه آپ کے حالات بہتر فرمائے، بہتر فرما دے۔ مجھ سے جو ہو سکے گا میں ضرور کرتا ہوں۔ اللّٰه تعالیٰ آپ کے تمام حالات کو درست فرمائے اور ہم سب کے حالات کو درست فرمائے کیونکہ ہم سب محتاج ہیں۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مجھے امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ برائے کرم واضح کریں کہ اگر ولایت اور اعلیٰ روحانی مقامات کے لیے بیعت ضروری نہیں، تو شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے لوگوں نے بیعت کیوں کی؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیخ کی توجہ کے بغیر آدمی کا عروج نہیں ہو سکتا اور ان کے لطائف اپنے اصل عروج کے مزید مقامات تک نہیں پہنچا سکتا۔ کیا یہ سچ ہے؟ کہتے ہیں اگر آپ پچاس ہزار سال تک اپنے دل پر کام کریں تو پھر بھی یہ ذاکر نہیں ہوگا یا آپ روحانی مقام تک نہیں پہنچ پائیں گے، لیکن ایک تو توجہ سے یہ ممکن ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: اللہ اکبر! کنفیوژن کنفیوژن کنفیوژن، آج کل لوگوں کو کنفیوژن بہت ہو رہی ہے۔ چیز کوئی ہوتی ہے اس کو کچھ اور بنایا جاتا ہے۔ دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ اصل بات تو اصلاحِ نفس ہے۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح فرمایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے،
"عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ بے وقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا جو کرنا چاہے کرلے، اور محض تمنائیں اللہ پر کر لے"
تو یہ تو بات قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث شریف سے بھی ثابت ہے، اپنی تربیت اور اپنی اصلاح، اپنے نفس کی، یہ بنیادی بات ہے۔
اب اس کے لیے ذرائع ہیں۔ تو ذرائع سب کے لیے ایک نہیں ہوتے، نمبر ایک۔ اور اس میں تغیر بھی آسکتا ہے۔ اب یہ بات ضرور ہے کہ اصلاح بغیر کسی مرشد کے نہیں ہوا کرتی، یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بغیر مرشد کے جو اصلاح ہوتی ہے وہ اخیار کا طریقہ ہے اور اخیار کے طریقے میں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ بات تو ہے۔ اور یہ جو بیعت ہو کر یا اپنے کسی خاص شخص کی تربیت میں رہ کر اپنی اصلاح کروانا، یہ ابرار کا طریقہ ہے۔ تو اس تربیت کے لیے جو کہ اصل ضروری ہے اس کے لیے بیعت ایک ذریعہ ہے۔
تو اس کو ذریعہ کے درجے میں رکھ سکتے ہو۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنا سارا کچھ اس شخص کے ساتھ وابستہ کر لیتا ہے، ادھر ادھر نہیں دیکھتا، لہٰذا اس کو کنفیوژن نہیں ہوتی۔ اور وہ یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ یہ بات تو صحیح ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص بغیر اس کے یکسوئی کر سکتا ہے تو کیا اس پر بھی لازم ہوگا؟ اس وجہ سے بعض ایسے لوگ ہیں جو بیعت نہیں ہوتے لیکن بیعت والوں سے زیادہ شیخ کے معتقد ہوتے ہیں۔ بعض لوگ بیعت ہو کر اپنے آپ کو فارغ سمجھ لیتے ہیں، بس ٹھیک ہے میری اصلاح ہو گئی، مجھے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ ان سے یہ لوگ زیادہ بہتر ہوتے ہیں جو بیعت تو نہیں کرتے لیکن اپنی تربیت کرواتے رہتے ہیں باقاعدہ۔
تو اس وجہ سے آپ سب کے اوپر ایک حکم نہیں لگا سکتے، subjective to condition ہے، person to person اس میں فرق ہے۔ لہٰذا دونوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں کہ بعض لوگوں کے لیے بیعت بہت مفید ہے بغیر اس کے وہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کے دل میں یکسوئی نہیں ہوتی، تو لہٰذا یکسوئی اس کے ذریعے سے اس کو ملتی ہے، لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے۔ لیکن بعض لوگ بغیر اس کے بھی... عقل ان کی اتنی زیادہ کامل ہوتی ہے کہ وہ اپنی عقل کے ذریعے سے فوکس کر لیتے ہیں کسی ایک شخص پر۔ اور تربیت میں رہ کر وہ اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں۔
تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ اس صدی کے مجدد ہیں اور اس فن کو میرے خیال میں آج کل کے دور میں سب سے زیادہ جانتے تھے، تو انہوں نے یہ فرمایا کہ بیعت ضروری نہیں، تربیت ضروری ہے۔ بیعت ضروری نہیں ہے، تربیت ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص تربیت حاصل کرتا ہے، بے شک وہ بیعت نہ بھی ہو تو اس کا کام بن جائے گا۔
دوسرا شخص ہے جس نے بیعت کر لی لیکن تربیت حاصل نہیں کر رہا تو اس کا کام نہیں ہوگا۔ اور جس نے بیعت بھی کی اور تربیت پہ بھی فوکس کر رہا ہے وہ نورٌ علیٰ نور ہے۔ سبحان اللہ۔ اب اپنے لیے راستہ ڈھونڈیں اس میں جو بھی ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیعت کی ہے، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیعت کی ہے، بہت بڑے بڑے لوگوں... میں نے بھی بیعت کی ہے۔ سبحان اللہ۔ ہمارے شیخ نے بھی بیعت کی تھی۔ تو بیعت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ البتہ بیعت کرنا لازم نہیں ہے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! جب کبھی کسی مجلس میں غیبت ہوتی ہے تو میں وہاں پر دعوت دینا شروع کرتی ہوں۔ تو اکثر یہ ہوتا ہے کچھ لوگ اٹھ جاتے ہیں، کچھ پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کبھی ایسی situation آتی ہے کہ اگلے بندے کو منع نہیں کر سکتے۔ جیسے مثال کے طور پر میں... میری خالہ بزرگ خاتون ہیں، بیمار بھی ہیں، تو ان سے میں بات کر رہی تھی تو انہوں نے غیبت شروع کی تو میں نے دعوت کی طرف ان کی discussion موڑنا چاہی تو تھوڑی دیر سننے کے بعد انہوں نے پھر وہی بات شروع کی کہ آپ کو نہیں پتہ اس نے بہت برا کیا تھا میرے ساتھ۔ ایسی خاتون ہیں، ویسی خاتون ہیں۔ تو میں نے بھی غیبت سن لی۔ تو ایسے حالات میں کیسے میں خود کو غیبت سننے سے بچاؤں؟ آپ اصلاح فرما دیں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: دیکھو، ہر شخص جس کو کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ وہ اچھا نہیں ہے، تو وہ غیبت نہیں ہوا کرتی۔ لَّا يُحِبُّ اللهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ کیا مطلب ہے اس کا؟ جس پر ظلم کیا جائے تو اس کو اجازت ہے نا کہ وہ اس کے بارے میں بات کر سکتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اگر کسی پہ ظلم ہوا ہے، اس کے بارے میں بات کر رہا ہے، واقعی ایسا ہوا ہے تو وہ بات کر سکتا ہے۔ تو وہ غیبت نہیں ہوگی۔ ہاں البتہ محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں غیبت کے دائرے میں داخل نہ ہو جائے۔
تو آپ اس بزرگ خاتون، اس کی بات سن کے، اصلاح کی نیت سے آپ اس میں اگر حد سے کوئی گزرا ہے تو اس کے بارے میں کہہ سکتی ہیں کہ یہ بات تو ٹھیک ہے البتہ اس میں اتنا نہیں جانا چاہیے۔ ہم دعا کرتے ہیں سب، کہ اللہ پاک اس کو بھی ٹھیک کر دے، ہم کو بھی ٹھیک کر دے، ہم سب کو ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے۔ بس اس طرح بات کر کے پھر چھوڑ دیں۔ خیر واللہ اعلم بالصواب، وہ آپ زیادہ بہتر جانتی ہیں۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! جناب کے فیض کا چشمہ جاری ہے۔ ذکر کا معمول عشاء کے بعد ہے۔ کسی وجہ سے یہ نہ کر سکوں تو اگلے صبح کر لیتا ہوں۔ کل عشاء کے بعد نہیں کر سکا تو پھر صبح کے وقت بھی بالکل یاد نہیں رہا۔ ابھی مغرب کے وقت یاد آیا ہے۔ اس صورت میں کیا حکم ہے؟
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: ٹھیک ہے، اگر نہیں کر سکے تو پھر آپ جس وجہ سے نہیں کر سکے اس کی آپ ٹوہ لگا دیں۔ اور پھر آئندہ اس سے بچنے کی کوشش کر لیں۔ اس کی تلافی اس طریقے سے ہو سکتی ہے۔ یعنی اپنے loss سے کچھ gain کر لیں۔ ٹھیک ہے نا؟ باقی اس سے یہی gain کرنا ہے کہ آئندہ قضا نہ ہو۔ آئندہ وقت پر ہو جایا کرے، اس کے لیے فکر کر لیں۔ تو اگر ذکر نہیں ہوا تو فکر تو ہو جائے گا نا ان شاء اللہ۔ اللہ پاک قبول فرمائے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! اللہ پاک سے آپ کی صحت و تندرستی اور بلند درجات کے لیے دعا گو ہوں۔ آمین۔
حضرت جی! گناہوں سے توبہ استغفار تو میں کرتا ہوں لیکن مجھے ایسا احساس ہو رہا ہے کہ میری توبہ میں اخلاص نہیں ہے کیونکہ گناہوں کی جانب طبیعت کافی مائل رہتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور آپ کی دعاؤں، برکت اور سلسلے کی برکت نہ ہوتی تو میں کب کا دوبارہ کبائر گناہوں میں مبتلا ہو چکا ہوتا۔ میں توبہ میں اخلاص کیسے پیدا کروں؟ توبۃ النصوح کیسے حاصل کروں؟ کہ گناہوں سے بیزار ہو جاؤں اور گناہ کرنے سے ہی نفرت ہو جائے۔ اس کے علاوہ میں نیند کا بہت رسیا ہوں۔ بہت سے کام اس کے باعث رہ جاتے ہیں۔ اکثر تہجد کی نماز بھی نیند کے باعث رہ جاتی ہے۔ مجھے مہینے میں دو تین مرتبہ شدید قسم کا نزلہ زکام ہو جاتا ہے اور بے تحاشہ چھینکیں آتی ہیں۔ نزلہ زکام کے دوران میں انفرادی نماز پڑھ لیتا ہوں اور مسجد نہیں جاتا یہ سوچ کر کہ دوسری نمازی حضرات متاثر نہ ہوں۔ اس بات پر ایک امام صاحب مجھے ٹوک بھی چکے ہیں کہ ایسی حالت میں نماز کو گھر پر پڑھی جا سکتی ہے کیونکہ دوسرے نمازی متاثر ہوتے ہیں۔ آپ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ ایسا کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ اللہ پاک آپ کے درجات کو بلند فرمائے، آپ کے اور آپ کے جملہ متعلقین کے لیے بے حد آسانیاں پیدا فرمائے، آمین ثم آمین۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: یا اللہ! یا کریم! ما شاء اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو بھی صحت و تندرستی، بلند درجات عطا فرما دے۔ گناہوں سے توبہ و استغفار تو بہت بڑی عقلمندی ہے۔ اگر آپ یہ کر رہے ہیں تو واقعی آپ عقلمند ہیں ما شاء اللہ۔ کوشش جاری رہنی چاہیے ٹھیک ہونے کی۔ غلطی ہو جائے اس پر توبہ کرنا لازمی ہے۔ اور وہ آپ کر رہے ہیں، ان شاء اللہ آگے بات چلے گی۔
باقی کب حاصل ہوگا یہ کامل؟ تو یہ تو subjective to condition ہے۔ بہت سارے parameters ہیں اس میں۔ تو وہ سب جب ٹھیک ہو سکتے ہیں تو پھر اس کے بعد یہ بات ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمارے ساتھ نفس ہے، نفس کی اصلاح جب تک نہیں ہوگی تو نفس تو شرارت کرے گا۔ نیند بھی تو نفس ہی کی ایک خواہش ہے نا۔ تو لہٰذا اس میں بھی یہی بات ہوتی ہے۔
جہاں تک نزلہ زکام کی بات ہے تو آپ علاج کر لیں اس کا، علاج کرنا کوئی مشکل نہیں ہے، میرے خیال میں الرجی ہے۔ کیوں ڈاکٹر صاحب؟ وائرل تو کبھی کبھی ہوتا ہے نا وہ تو اس طرح تو ریگولرلی نہیں ہوتا۔ تو میرے خیال میں آپ کو الرجی ہے تو الرجی کا آپ لوگ ٹیسٹ کر لیں۔ یہاں کا تو مجھے پتہ ہے، وہاں کا پتہ نہیں، وہاں بھی ہوں گے لاہور میں بھی ہوں گے۔ تو وہاں سے اگر ٹیسٹ کر لیں تو امید ہے کہ پتہ چل جائے کہ آپ کو کس کس چیز کے ساتھ الرجی ہے۔ تو vaccination بھی اس کی ہوتی ہے۔ تو اگر کسی کو vaccination کام نہ دے تو ان چیزوں سے بچنے کی کوشش کریں، avoid کریں۔ اور اگر ہو جائے الرجی تو اس کے لیے پھر medicines ہیں۔ اس پہ گزارا کرنا چاہیے۔
لیکن اس کے لیے نماز باجماعت چھوڑنا کم از کم میں تو اس کی جرأت نہیں کر سکتا۔ کہ میں کسی کو یہ بتاؤں کہ آپ نماز کے لیے نہ آئیں۔ البتہ میں اس کو یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اس سے کم چیز، ایک تو ہوتا ہے گھر میں نماز پڑھنا، وہ تو بہت بڑی جسارت ہے نا۔ لیکن اگر آپ اکیلے کسی بعد کی صف میں کھڑے ہو جائیں، کوئی بھی آپ کے ساتھ نہ ہو۔ تو وہ بھی ٹھیک نہیں ہے لیکن چلو بیماری کی حالت میں آپ کے لیے گنجائش ہوگی۔ اور وہ گنجائش اس سے تو کم از کم بہتر گنجائش ہے نا کہ آپ نماز کے لیے ہی نہ آئیں۔ مطلب آپ اکیلے کھڑے ہو جائیں۔ تو اگر خود آپ کے ساتھ کوئی کھڑا ہو گیا تو اس کی اپنی مرضی ہے۔ آپ تو کسی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے نا۔ تو اس طریقے سے میرے خیال میں ہو سکتا ہے۔ باقی شاید... exaggeration والی بات ہے۔ تو اس کے لیے اگر آپ کسی مفتی سے معلوم کر لیں تو زیادہ بہتر ہے۔ پورا مسئلہ، کیونکہ میرا ذوق تو یہی ہے کہ جو میں نے بتا دیا، لیکن میں کوئی مفتی تو نہیں ہوں کہ میں اس پہ فتویٰ دے رہا ہوں! تو آپ کسی مفتی سے بات کر لیں۔ تو شاید وہ آپ کو بہتر بات بتا دیں گے ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! جب کبھی کوئی پریشانی ہوتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ پاک سے تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ یہ لفظ ٹوٹ جانا سخت لفظ ہے لیکن محسوس ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر نماز پڑھتا ہوں تو صرف اٹھک بیٹھک محسوس ہوتی ہے، اگر ذکر کروں تو کچھ اثر نہیں لیتا۔ پھر کچھ وقت کے بعد حالت کچھ بہتر ہوتی ہے اور بہت بے چینی ہوتی ہے۔ ان منفی کیفیات کو کس طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: دیکھیں غیر اختیاری والی بات کا میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ اس کی پروا نہ کریں۔ یعنی اگر آپ کے اوپر ایسی بھی حالت آ جائے کہ کفر کے وسوسے آجائیں، پھر بھی اس سے کافر کوئی نہیں ہوتا۔ کیونکہ وسوسہ، وسوسہ ہے۔ تو کبیرہ کے اگر وسوسے آجائیں تو پھر بھی اس سے کوئی کبیرہ گناہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ وسوسہ ہے۔ یعنی جب انسان اس میں ارادہ شامل کر لیتا ہے پھر وہ چیز غلط ہو جاتی ہے پھر وہ گرفت ہے اس پر۔ جب تک وہ ارادہ اس کے ساتھ شامل نہیں ہے بس وہ خیال آگیا اور آپ نے پروا نہیں کی، وہ ختم ہو گیا۔ لہٰذا اس کی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
تو آپ یہ بات چھوڑ دیں کہ وسوسہ بھی کوئی چیز ہے۔ بس اس کی آپ پروا نہ کریں۔ باقی نماز تو ہمیں ہر حالت میں پڑھنی ہے۔ چاہے ہمارا دل کرے نہ کرے چاہے ہمیں آسان لگے چاہے مشکل لگے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! کچھ عرصے سے محسوس ہو رہا ہے کہ مجھ سے کوشش کے باوجود غیبت ہو جاتی ہے۔ اس پر اللہ کریم سے معافی مانگنا بھول جاتا ہوں۔ اللہ کا احسان، کریم ہے کہ غیبت کا احساس ہونے پر تلافی کے طور پر شخص کی جائز، بے حد تعریف بھی کر دیتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ غیبت کی وجہ سے حسد ہے۔ کیا حسد انسانی جبلت کا حصہ ہے؟ حسد اور غیبت سے نکلنے کا حل تجویز فرما دیں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: حسد جبلت کا حصہ نہیں ہے۔ حسد نفس کی ایک شرارت ہے۔ اخلاقِ ذمیمہ ہے۔ اور بہت بری بات ہے۔ مِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، قرآن پاک میں اس کی مذمت آئی ہے۔ ایک تو حسد کا وسوسہ ہوتا ہے، ایک حسد ہوتا ہے۔ حسد کا وسوسہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہوتا رہے کوئی بات نہیں۔ لیکن حسد اس کو کہتے ہیں کہ باقاعدہ آپ اس کے لیے بری پلاننگ کرنا شروع کر لیں، بری خواہش آپ کی شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے آپ کا ارادہ بھی شامل ہو جاتے ہیں وہ حسد ہے۔ یا اس کے ساتھ پھر کینہ بننا شروع ہو جاتا ہے۔ تو وہ چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی اس میں کوئی عملیت نہیں آنی چاہیے؟ تو بس اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو اس کی تعریف کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو نہیں ہے۔
باقی یہ ہے کہ غیبت ہو نہیں جاتی، غیبت کی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اختیاری چیز ہے، غیر اختیاری نہیں ہے۔ غیبت کیا ہے؟ اختیاری چیز ہے، غیر اختیاری نہیں ہے۔ تو غیبت ہونا... یہ غیر اختیاری والی بات ہے۔ اور غیبت کرنا، یہ اختیاری والی بات ہے۔ تو غیبت کی جاتی ہے، غیبت ہو نہیں جاتی۔
سوال: السلام علیکم۔ حضرت میں فلاں ہوں، آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں۔ ان شاء اللہ یکم فروری کو عمرہ کے لیے جا رہی ہوں۔ مکی حجازی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ کیا چپل پہن کر طواف کر سکتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جی کر سکتے ہیں اگر چپل پاک ہو۔ تو آپ اس میں نماز بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تو میں آپ سے پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ میرے اکثر ننگے پاؤں چلنے سے پاؤں کے تلووں میں درد ہوتا ہے۔ کیا طواف اور سعی کرنے کے لیے الگ سے پاک سلیپر رکھ سکتی ہوں؟ یا یہ ادب کے خلاف ہوگا؟
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: دیکھیں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انسان کر سکتا ہے اس کے لیے پلاننگ کرنی پڑتی ہے۔ تو اگر آپ چپل پہن کر طواف کریں گی نا، تو دوسرے لوگ کیونکہ وہ بہت سارے لوگ آج کل چپل پہن کر طواف کر رہے ہیں۔ جوتے پہن کر طواف کر رہے ہیں۔ بے ادبی اور گستاخی ہوتی ہے ان میں۔ اب اگر آپ اپنے عذر سے بھی کر رہے ہو نا پاک چپل، تو لوگ اس کو وہی سمجھیں گے۔ تو لوگوں کو شبہ ہوگا۔ کہ وہ بھی مطلب۔۔ اگر کوئی آپ کا معتقد ہوگا تو وہ تو ضرور کرے گا۔ مثلا میں کروں گا تو کہیں گے کہ شبیر صاحب کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے اس کی گنجائش ہے۔ تو میں مصیبت میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ تو اس وجہ سے کسی کے لیے بیماری کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
تو اس کے لیے آپ یہ کر لیں کہ جو۔۔ میرے خیال میں ایسی چیزیں ہیں، میرے پاس بھی تھی۔ وہ یہ ہے کہ اس میں نیچے والا حصہ تلوے والا حصہ چھپا رہتا ہے، اور تھوڑا سا انگلیوں والا حصہ، اور پیچھے سے۔ اور درمیان میں جس جگہ کو کھلا رکھنا ہوتا ہے وہ کھلا ہوتا ہے۔ تو وہ بات ہے۔ باقی میرے خیال میں عورتوں پر تو یہ پابندی بھی نہیں ہے۔ تو وہ تو جرابیں بھی پہن سکتی ہیں۔ تو اس وقت مطلب یہ ہے کہ آپ کو یہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نا، وہ تو آپ تو کر سکتی ہیں۔ لہٰذا آپ طواف کے وقت جرابیں پہن لیا کریں۔ اور تلوے پھر نہیں۔۔ باقی اگر آپ کو پھر بھی محسوس ہو رہا ہے، تو پھر وہی چیز، جو، مجھے پتہ نہیں اس کو زبان میں، کس زبان، اردو میں کیا کہتے ہیں۔ ہم تو اس کو کپئی کہتے ہیں پشتو میں۔ تو اب پتہ نہیں کہ اس کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں حضرت؟ وہ جو آگے سے بوٹ سا ہوتا ہے، مطلب اس میں، اوپر خالی جگہ ہوتی ہے۔
خیر بہرحال، میرے خیال میں عورت نے پوچھا ہے اس کے لیے بات ہو گئی۔ یہ عورت کے اس میں چہرہ ہے اس پہ کپڑا لگانا منع ہے نا۔ اور کوئی پابندی تو اس میں نہیں ہے۔ تو ان کے لیے تو مسئلہ نہیں مردوں کے لیے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ان کے لیے تو صرف یہی ہے کہ بس وہ چہرے پہ کوئی چیز نہ لگے۔ تو اس کا طریقہ پھر یہ بتایا ہے کہ ایک چھجا سا، جیسے وہ نہیں ہو، ٹوپی جو اس میں چھجا ہوتا ہے۔ وہ اگر اس پہ کوئی پہن لے اور اس کے اوپر نقاب ڈال لے۔ تو سامنے سے نظر نہیں آئے گی، اور Requirement بھی پوری ہو جائے گی۔ اس کا طریقہ پھر یہ ہے۔
(مجلس میں گفتگو: مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو یہ کیوں اتنی دیر سے یاد آتا ہے کہ مجھے سوال کرنا ہے۔ ابھی ۱۸:۳۹ ہو چکے ہیں، آپ بلکہ 18:39 پہ آپ بھیج چکے ہیں سوال۔ تو یہ پہلے بھی تو آپ بھیج سکتی تھیں۔ مطلب یہ ہے تو، مطلب پھر اگر یہ تھوڑا سا اور تاخیر ہو جاتی تو ابھی تو آج چونکہ ساڑھے سات بجے ہماری نماز ہے، تو ہمارے پاس ٹائم ہے۔ اور پچھلے ہفتے اگر اس طرح ہوتا تو پچھلے ہفتے تو سوا سات بجے نماز تھا تو پھر ہم دوسری معمولات شروع کر چکے ہوتے۔ تو ہر کام اپنے وقت پہ ہو تو زیادہ بہتر ہے ان شاء اللہ۔)
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
نمبر ایک۔ کم کھانے کا مجاہدہ جاری ہے۔ الحمد للہ اس ہفتے میں ایک دن تین دفعہ کھانا کھایا ہے لیکن تین دنوں سے چوبیس گھنٹے میں صرف ایک دفعہ کھانا کھایا ہے۔ تقریباً بیس یا اکیس گھنٹے فاسٹنگ کے بعد کھاتی ہوں کیونکہ بھوک کم ہو گئی ہے لہذا آسانی سے ایک دفعہ کھانے پر گزارا ہو جاتا ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: سبحان اللہ سبحان اللہ۔
سوال: نمبر دو۔ تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ شؤنات ذاتیہ پندرہ منٹ۔ سالکہ مدرسے کی طالبہ نہیں، کہتی ہیں کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے وظیفے میں کچھ مدت رہ گیا، لیکن پھر دوبارہ شروع کر لیا۔ شروع میں تو صحیح طور پر محسوس نہیں ہو رہا تھا لیکن آہستہ آہستہ محسوس ہونا شروع ہو گیا۔ اب الحمد للہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مختلف شانیں ہوتی ہیں۔ عملی طور پر اس کا استحضار نصیب ہوا ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: ما شاء اللہ بڑی اچھی بات ہے۔ اب ان کو صفات سلبیہ اور تنزیہ کا مراقبہ بتا دیں۔ باقی چیزوں کے ساتھ۔
سوال: نمبر تین۔ تمام لطائف پر دس منٹ ذکر اور مراقبہ صفات ثبوتیہ پندرہ منٹ۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات ثبوت پر عقیدہ پختہ ہو، اور کوئی بھی کام کرتی ہو تو اس کا استحضار آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: سبحان اللہ بہت اچھی بات ہے۔ تو اب ان کو شؤنات ذاتیہ کا مراقبہ دے دیجیے گا۔
سوال: اگر کوئی شخص تزکیہ نفس کو حاصل کر کے مجدد صاحب کا ذکر کرتے ہوئے دس مقامات سے گزرے تو کیا ان کے لطیف مرشد اور توجہ کے بغیر بھی ان کے اصول تک پہنچ جاتے ہیں؟
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: لطیف مرشد کا بتائیں میرے خیال میں اس میں کچھ اور لکھنا چاہتے ہیں اور اور یہاں پر یہ ہو گیا۔
بہرحال توجہ جو ہے نا توجہ... ہمارے نزدیک توجہ کیا ہے وہ بتاتا ہوں۔ ہمارے نزدیک توجہ قلبی دعا کو کہتے ہیں۔ مثلاً زبان سے کوئی دعا نہ کرے۔ کسی کے بارے میں اللہ پاک کی طرف متوجہ ہو کہ یا اللہ اس کو یہ چیز عطا ہو جائے۔ اور اللہ کے ساتھ اس کا تعلق ایسا ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ اس کام کو کر دیتا ہے۔ تو یہ توجہ ہے۔ اس کے لیے الفاظ نہیں ہوتے وہ ایک کیفیت ہے۔ وہ ایک کیفیت ہے۔ تو اس وجہ سے لوگ اس کو "توجہ" کا لفظ دیتے ہیں۔
جو عام توجہ جس کو سمجھتے ہیں نا وہ ہمارے ہاں کیوں نہیں ہے؟ اس کو تصرف کہتے ہیں۔ جو تصرف ہے نا اس میں انسان جو تصرف کر رہا ہے نا اس کی اپنے اوپر نظر ہوتی ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔ تو یہ تو تصوف کی بنیادی چیزوں کے خلاف ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ کوئی بھی کامل شخص اللہ تعالیٰ سے اپنی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ کسی کے لیے۔ تو اس وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے سلسلے جو مشہور ہیں ان کے مشائخ نے جب توجہ کی باتیں شروع کیں تو مسائل گڑبڑ ہو گئے۔ پھر دعوے ہونے لگے میری توجہ یہاں اتنی، میری توجہ اتنی۔ یہ کیا ہے، کوئی دکانداری کی بات ہے یا دنیا داری کی بات ہے؟ یہ تو تصوف نہیں ہے۔
تو تصرف ہمارے نزدیک قلبی دعا ہے۔ باقی قلبی دعا تو انسان ہر وقت کر سکتا ہے۔ تو شیخ بھی کر سکتا ہے۔ تو اس کے ذریعے سے فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن عموماً یہ جو کیفیت ہوتی ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے باقاعدہ اس کے لیے پورا ایک قصہ سنایا ہے مواعظ میں۔ شاہ بھیکھ رحمۃ اللہ علیہ کا۔ شاہ بھیکھ رحمۃ اللہ علیہ ہر وقت شیخ کی خدمت میں رہتا تھا اور بڑی مشکلات سے اور اس میں خدمت کرتا تھا۔ ایک دن وہ حضرت نے اس کو نکالا تھا لیکن بارش ہو گئی۔ تو بیوی نے کہا کہ جو خادم تھا، جو یہ کام کر سکتا تھا اس کو آپ نے نکال دیا، اگر وہ ہوتا تو ابھی اس کی لیپائی کر لیتا، ٹپکنا شروع ہو گیا تھا چھت۔ تو اس نے کہا میں نے نکالا، تو نے تو نہیں نکالا۔ اس کا مطلب ہے اس کو گویا اجازت دے دی کہ آپ بلوا سکتی ہیں۔ تو اس نے کسی کے ذریعے اس کو بلوایا، تو وہ تو اسی انتظار میں تھا کہ کوئی کام مجھے کہہ دے تو میں کر لوں۔ تو پیچھے سے وہ آیا، چھوٹے چھوٹے چھت تھے، اتنے بڑے تو نہیں، تو آیا اور گارا اس پہ ڈالنے لگے اور لیپ کرنے لگے۔ حضرت اس وقت کھانا کھا رہے تھے۔ چک چک کی آواز آئی تو باہر جا کے دیکھا تو شاہ بھیکھ ہے۔ تو حضرت اس وقت بڑے خوش ہو گئے۔ تو انہوں نے کہا آؤ شاہ بھیکھ کھا لو ایک نوالہ، ان کے ہاتھ میں تھا۔ وہ تو اسی انتظار میں تھا، وہیں سے چھلانگ لگا دی، اور وہ لقمہ کھا لیا۔ اسی سے سب کچھ مل گیا۔
تو حضرت نے فرمایا دیکھو شاہ بھیکھ کو لقمے سے سب کچھ ملا لیکن لقمہ کتنے عرصے میں تیار ہوا ہے؟ اس کو لوگ نہیں دیکھتے۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ مفت مفت کے چکر ذرا مشکل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا پہلے رکھا ہے، لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا بعد میں رکھا ہے۔ تو پہلے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا تو کریں نا۔ ٹھیک ہے نا؟ پھر ہو جائے گا ان شاء اللہ۔
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
Question: Assalamu alaikum wa rahmatullahi wa barakatuh. I pray you are well dear Sheikh. I have missed a couple of Fajr Jamaat in the past few days at the masjid and I feel like I have become careless. In the past I used to become very emotional when this ever happened...
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: بعد میں جواب دوں گا۔ بعد میں جواب ملے گا ان شاء اللہ۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ...