"اتباعِ سنت، تقویٰ کا حصول اور سچی حبِ رسول ﷺ کا معیار"

آیت از سورۃ الاحزاب : سورۃ: 33، آیت: 21 اور آیت از سورۃ آل عمران : سورۃ: 3، آیت: 31

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد توکلی - سٹی صدر راولپنڈی
  • سنتِ نبوی ﷺ پر چلنے کی اہمیت اور شریعت کی پابندی
  • شرک اور بدعت کی سنگینی اور ان سے بچنے کی تاکید
  • ماہِ صفر کے توہمات کی تردید (حدیث: لَا صَفَرَ کی روشنی میں)
  • تقویٰ کی حقیقت اور فجور (نفسانی خواہشات) کے تین بڑے دروازے: شہرت کی طلب، لذات کا شوق، اور مال کی محبت
  • نفسانی خواہشات اور بخل کا علاج (مجاہدہ اور صدقات)
  • فتنوں کے دور میں آنکھ، کان اور زبان کی حفاظت
  • بری صحبت کے اثرات سے بچنے کے لیے نیک محفلوں اور خلوت و ذکر کا اہتمام
  • نبی کریم ﷺ سے محبت کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم والا سچا طریقہ
  • گانے اور Music کی طرز پر نعت خوانی کی سخت ممانعت اور گمراہی

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: یَتَشَائَمُوْنَ بِدُخُولِ صَفَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا صَفَرَ۔

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

بزرگوں اور دوستو! کچھ ضروری باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرنی ہیں۔ صفر کا مہینہ شروع ہے اور اس کے بعد ان شاء اللہ ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوگا۔ کافی عرصے کے بعد یہاں حاضر ہوئے ہیں، چونکہ ربیع الاول میں آنے کا امکان بظاہر نہیں ہے لہذا اس کے بارے میں بھی بات ان شاء اللہ اسی مجلس میں ہوگی۔ اور صفر کے بارے میں تو بات ضروری ہے کیونکہ جو وقت چل رہا ہو اس کے بارے میں بات کرنا تو ضروری ہوتا ہے۔

میں نے جو آیاتِ کریمہ آپ کی خدمت میں تلاوت کی ہیں، اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں "البتہ بالتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے"۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا اللہ پاک نے اپنے حبیب سے کہ "تو کہہ اپنی امت سے، اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ اللہ کے ساتھ محبت کرو تو میری اتباع کر لو اللہ پاک تم سے محبت کرنے لگیں گے"۔ لہذا ہم لوگوں کو ایک بات کا پتہ یقینی طور پر چل گیا، کیونکہ قرآن پاک کی ہر بات یقینی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ قرآن جیسے اترا ہے اسی طرح ہمارے درمیان موجود ہے۔ یہ الحمد للہ اعجاز ہے قرآن پاک کا۔ باقی جتنی بھی کتابیں اتری ہیں ان میں لوگوں نے تحریف کی ہے۔ اپنی مرضی کے مطابق۔ لیکن قرآن کے اندر تحریف کا دروازہ بند کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی تحریف نہیں کر سکتا۔ لہذا جو قرآن ہم پڑھ رہے ہیں یہ وہی قرآن ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے اللہ جل شانہ کے نزدیک، وہ یہ ہے کہ اگر ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں تو اس میں ہماری مکمل کامیابی ہے۔ پیروی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو اختیار کر لیں۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنے کا حکم دیا ہے اس کے مطابق کام کریں، جس چیز سے روکا ہے اس سے رک جائیں۔ اوامر اور نواہی ساری کی ساری اسی سے بنی ہیں۔ اس لیے شریعت جو ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ تو شریعت پر چلنے کا حکم ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مقابلے میں اگر کوئی طریقہ نکلتا ہے تو اس کی غلطی کے بارے میں آپ کو خود معلوم ہونا چاہیے۔ جب ایک طریقہ اتنا اچھا ہے اور یہ موجود ہے، یہ موجود ہے، یعنی اس کو ختم نہیں کیا گیا، پھر اس کے بعد اس کے مقابلے میں دوسرے طریقے نکلنے کا کیا مطلب ہے؟ یعنی گویا کہ اس کو کم سمجھا گیا۔ ناکافی سمجھا گیا۔ اللہ اور اللہ کے رسول کی بات کو ہلکا سمجھا گیا۔ تو ایسی صورت میں ایسے لوگوں کی تباہی میں کوئی کسر رہ سکتی ہے؟

تو دو باتیں ہیں جن میں انسان کو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ ایک بات ہے شرک سے بچنا۔ کیونکہ اللہ جل شانہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ تو بہت بڑا ظلم ہے فرمایا: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ۔ بیشک شرک کیا ہے، یہ عظیم ظلم ہے۔ بہت بڑا بہت بڑا ظلم ہے، اپنے اوپر جو انسان کرتا ہے۔ اور دوسری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مقابلے میں کوئی طریقہ نکالنا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہونے کا دعویٰ ہے۔ یعنی میں بھی کوئی اچھی چیز نکال سکتا ہوں۔ میری بات کی بھی کوئی حیثیت ہے اور وہ بھی -نعوذ باللہ من ذلک- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مقابلے میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے مقابلے میں، تو یہ کتنی غلط بات ہو گی۔ اس لیے فرمایا: "كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" ساری بدعتیں گمراہی ہیں۔ اور ساری گمراہیاں جہنم کی طرف لے جانے والی ہیں۔ لہذا ان دو باتوں سے بہت زیادہ بچنا چاہیے، شرک سے اور بدعت سے۔

شرک کے بارے میں فرماتے ہیں اللہ جل شانہ جس چیز کو بھی معاف کرنا چاہے تو معاف کر لے، یہ اس کا کرم ہے اس کا فیصلہ ہے، لیکن شرک کو معاف نہیں کرتا۔ شرک کو معاف نہیں کرتا۔ یہ اللہ پاک کا قانون ہے۔ اور وہ پہلے والا اللہ کا فضل ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کا فضل یہ ہے جس گناہ کو بھی بخشنا چاہے تو بخش دے۔ قانون یہ ہے کہ شرک کو معاف نہیں کرتے۔ بات ختم ہو گئی۔ لہذا شرک سے ہر صورت میں بچنا چاہیے۔ اور بدعت کسی صورت میں بھی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک پیغام ہے جو ہمیں اپنے بڑوں سے ملا ہے اور اس پر عمل کرنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔

اب دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا صَفَرَ۔ صفر کے اندر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اب آپ اخباروں کو پڑھ لیں اِدھر اُدھر چیزوں کو پڑھ لیں تو پتہ چلے گا صفر کے اندر بڑی بلائیں اترتی ہیں۔ ان بلاؤں کو دور کرنے کے لیے کچھ وظیفے بھی بتائے جاتے ہیں، کچھ نماز کا طریقہ بھی بتایا جاتا ہے۔ اب بتاؤ یہ کہاں سے آ گیا؟ کیا یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے یا اللہ کے رسول کی طرف سے آیا ہے؟ تو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں: لَا صَفَرَ۔

اچھا اللہ پاک کیا فرماتے ہیں؟ دیکھو ایک چیز ہے اسلام کے اندر نیک فالی ہے۔ نیک فالی کسی چیز کے بارے میں، مثلاً میں کسی کے ساتھ ملتا ہوں، کہتا ہوں ما شاء اللہ آپ کا آنا بڑا مبارک ہے میرا فلانا کام اچھا ہو گیا۔ یہ جائز ہے۔ لیکن -نعوذ باللہ من ذلک- میرا کام خراب ہو گیا اور میں کہوں دیکھو فلاں کے ساتھ میں ملا تھا میرا کام خراب ہو گیا۔ یہ منحوس ہے۔ یہ جائز نہیں ہے۔ اس کے لیے کوئی صورت نہیں ہے۔ "ظُنُّوا بِالْمُؤْمِنِينَ خَيْرًا" مومن کے بارے میں گمان کونسا ہونا چاہیے؟ اچھا ہونا چاہیے۔ اچھا ہونا چاہیے۔ برے گمان کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔ اچھے گمان کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا ہم اگر کسی کے بارے میں اچھا گمان کر لیں اس پر ثواب ملتا ہے، بے شک وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ بے شک وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، لیکن یہ ہے کہ چونکہ میرے پاس دلیل نہیں ہے اس کے بارے میں خلاف کوئی بات کرنے کی، لہذا اگر میں اس پر عمل کر لوں میں اس کے بارے میں اچھا گمان کر لوں تو ٹھیک ہے۔

مثلاً میں کسی کو ولی اللہ کہہ دوں۔ اس پر پابندی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا: "اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا" یعنی صرف ایمان کے ساتھ فرما دیا، اللہ جل شانہ ان کا دوست ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ "يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ"۔ ان کو ظلمات سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ تو -سبحان اللہ- میں ہر مسلمان کو ولی کہہ سکتا ہوں، ولی اللہ کہہ سکتا ہوں۔ ہاں خاص ولایت، "ولایتِ خاصہ" اس کو کہتے ہیں، اس کے ساتھ اللہ پاک نے تقویٰ کی شرط لگائی ہوئی ہے۔ "أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ"۔ آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے دوست ہیں، خاص دوست، ان کے لیے کیا ہے، نہ ان کو خوف ہوگا نہ ان کو غم ہوگا۔ اچھا وہ کیسے بنے ہوں گے؟ یہ بھی فرمایا اللہ پاک نے: الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ۔ وہ ایمان لا چکے ہوں گے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا۔ پس تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے خاص ولایت۔

اچھا اب کس کی ولایت کتنی اونچی ہے؟ اس کا بھی جواب اللہ نے دیا ہے۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ بے شک تم میں زیادہ معزز اور مکرم اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔ پس جس کا تقویٰ جتنا زیادہ وہ اتنا بڑا اللہ کا ولی۔ تقویٰ کی سیڑھیوں پر چڑھتے جاؤ، ولایت حاصل کرتے جاؤ۔ رستہ بند نہیں ہے، رستہ قیامت تک کھلا ہے۔ موت تک کھلا ہے۔ لہذا جو بھی اللہ کا ولی بننا چاہتا ہے تقویٰ حاصل کر لے۔ اللہ کا ولی بن جائے گا۔ اور جتنا جتنا تقویٰ اس کو حاصل ہوتا جائے گا، اتنا اتنا وہ اللہ کا ولی بنتا جائے گا۔

اچھا یہ بتاؤ تقویٰ کیسے حاصل ہوگا؟ سوال ذہن میں آ سکتا ہے نا۔ اتنی بڑی چیز ہے جس سے انسان اللہ کا ولی بنتا ہے۔ تو تقویٰ کیسے حاصل ہوتا ہے؟ تو دیکھیں کہتے ہیں چیزیں ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ دن وہ ہے جو رات نہیں ہے۔ دن وہ ہے جو رات نہیں ہے۔ اندھیرا نہیں ہے اس کا مطلب ہے دن ہے، مطلب یہ ہے کہ روشنی ہے، سورج چڑھا ہوا ہے، لہذا یہ روشنی ہے تو اس میں یہ دن ہے۔ تو اس طریقے سے درد نہیں ہے تو صحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چیزیں اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔ تو تقویٰ کی ضد کیا ہے؟ تقویٰ کی ضد فجور ہے۔ اللہ جل شانہ نے سورہ شمس کے اندر بہت وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے، بہت وضاحت کے ساتھ۔ سات قسمیں کھا کر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: "وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا" پس الہام کی اللہ پاک نے، دو چیزیں اس نفس کے اندر رکھ دیں، دو چیزیں اس نفس کے اندر رکھ دیں۔ فجور اس کا اور اس کا تقویٰ۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔ یعنی یا یہ ہوگا یا یہ ہوگا۔ ان دونوں کی استعداد اس میں ہے۔ پس فجور اگر نہیں ہے تو تقویٰ ہے اور اگر تقویٰ نہیں ہے تو فجور ہے۔ دن نہیں ہے تو رات ہے رات نہیں ہے تو دن ہے۔ پس اب اگر کوئی شخص فجور کو ختم کرتا جائے تو تقویٰ حاصل کرتا جائے گا۔ فجور کو ختم کرتا جائے، تقویٰ حاصل کرتا جائے گا۔

مثلاً ایک شخص باہر جاتا ہے مسجد سے باہر، اور غیر محرم پر نظر پڑ گئی۔ اگر اس پر نظر باقی رکھ لی تو یہ فجور ہے۔ اگر اس پر نظر باقی رکھ لی یا اس کا پیچھا کیا تو یہ فجور ہے۔ اور اگر اس وجہ اللہ سے ڈر کر اپنی نظر ہٹا لی، کہ اس سے تو اللہ ناراض ہوتا ہے، یہ تقویٰ ہے۔ یہ تقویٰ ہے۔ بلکہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں، اگر کسی شخص نے ایسا کیا کہ غیر محرم پہ نظر پڑ گئی اور اس نے اپنی نظر ہٹا لی اللہ تعالیٰ کے ڈر سے، تو اللہ پاک فرماتے ہیں میں اس کو زندگی میں ایسی عبادت نصیب کروں گا جس سے وہ اپنے ایمان کی حلاوت خود محسوس کر لے گا۔ اپنے ایمان کی حلاوت خود محسوس کر لے گا۔ تو اس کا مطلب یہ دیکھو نا وہ تقویٰ مل گیا تو اس کا بدلہ بھی مل گیا۔ اور دنیا میں مل گیا۔ تو اس کا مطلب ہے متقی جیسے جیسے متقی بنتا جاتا ہے راستہ کھلتا جاتا ہے۔ شیطانی راستے بند ہوتے ہیں، -سبحان اللہ- رحمانی راستے کھلتے جاتے ہیں۔ تو لہذا تقویٰ کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، تو تقویٰ حاصل کرنے کا کیا ہے؟ وہ فجور کو بند کر لو۔

اب فجور کے تین بڑے دروازے ہیں۔ فجور کے تین بڑے دروازے ہیں۔ ان دروازوں کو بند کرنا ضروری ہوتا ہے تقویٰ کو حاصل کرنے کے لیے۔

پہلا دروازہ: شہرت کا شوق۔ مجھے شہرت مل جائے، میں بڑا بن جاؤں۔ یہ بہت بڑا دروازہ ہے فجور کا۔ اس کے لیے انسان بڑا ظالم بنتا ہے۔ دھوکے باز بنتا ہے، جھوٹا بنتا ہے، کمینہ بنتا ہے۔ یعنی ہر قسم کے رذائل اس کے اندر یہ آ جاتے ہیں کہ ایک شخص ہے وہ دوسرے کو نیچا دکھاتا ہے کہ میں اس سے زیادہ مشہور ہو جاؤں، اس کو گرانا چاہتا ہے۔ اب مجھے بتاؤ کیا کیا انسان سے ممکن ہے؟ یہ ساری چیزیں ہو سکتی ہیں نہیں ہو سکتی؟ شہرت کی وجہ سے۔ یعنی بعض دفعہ ایسے لوگ ہوتے ہیں... میں مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں، کسی کے اوپر کوئی طنز و اعتراض نہیں ہے۔ یعنی بعض علاقوں میں یہ ہے کہ اگر کوئی بڑی مونچھ رکھ دے نا، تو بڑے مونچھوں والے اس کو کہتے ہیں، تمہیں کس نے اجازت دی ہے بڑی مونچھ رکھنے کے لیے؟ لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کے بندے! (بڑی) مونچھ رکھنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، لیکن یہ لڑائی کی بات بھی تو نہیں ہے نا کہ تجھ سے زیادہ بڑی مونچھ رکھ لی تو اس پر لڑو تم۔ مطلب یہ کوئی اس قسم کی بات... عجیب بات ہے۔ تو اس پر کیا ہوا؟ مطلب یہ آپ نے یہ کام کیوں کیا؟ تو نے اس طرح کیوں کیا؟ یعنی تو مجھ سے آگے کیوں بڑھنا چاہتا ہے؟ اس پہ لڑائیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے دفتروں کے اندر یہ Leg pulling جس کو کہتے ہیں Leg pulling، یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ یہی چیز ہوتی ہے کہ ایک انسان کے پیر کو کھینچو اور خود آگے بڑھ جاؤ۔ یہ شہرت کی بات ہے کہ انسان مشہور بن جانا چاہتا ہے۔ تو یہ چیز انسان کو خراب کرتی ہے۔ یہ بہت بڑا دروازہ ہے جو فجور کے راستے کھولتا ہے۔

دوسرا بڑا دروازہ ہے: لذات کی طلب۔ لذات، لذتیں۔ لذتیں عجیب عجیب چیزیں ہیں۔ مثلاً آنکھ کی لذت، خوبصورت چیزوں کو دیکھنا۔ بڑا اچھا مکان، بڑی گاڑی، اور مطلب یہ ہے کہ وہ کیا... دوسری چیزیں جو ممبر پہ بیان کرنے کی نہیں ہیں، وہ ساری چیزیں اس کی آنکھ کی طلب۔ یہ فجور کا دروازہ ہے۔ کہتے ہیںؔ: نظر کیا ہے؟ شیطان کے تیروں میں سے تیر ہے نا۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ کیا ہے سیدھا دل پہ جاتا ہے۔ سیدھا دل پہ جاتا ہے۔

اس طرح کان، گانے سننے کا شوق۔ یہ بھی لذت ہے نا، لوگوں کو اس میں لذت، لذت ملتی ہے۔ تو گانے سننے کا شوق۔ زبان کی لذت، غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، ویسے اس قسم کی فضول باتیں کرنا۔ اور گھنٹوں کرنا، ختم نہ ہونا۔ یہ کیا ہے؟ وہ ساری زبان کی لذت۔ اس طرح دماغ کی لذت، یعنی انسان کچھ غلط باتیں سوچتا رہے، اس سے لذت حاصل کرتا رہے۔ ہاں یہ ہے۔ ہاتھ پاؤں کی لذت، یہ سب لذات ہیں۔

مثلاً کوئی چیز کھانی ہے، تو ٹھیک ہے۔ آپ کے پاس حلال چیز موجود ہے، حلال چیز کھاؤ۔ آئس کریم کھانے کو جی چاہتا ہے بے شک کھاؤ۔ لیکن کسی سے چھین کر کھاؤ گے، تو جائز ہو گا؟ بھئی آئس کریم کھانا جائز ہے لیکن کسی سے چھین کر کھانا جائز نہیں ہے۔ اب چلو آئس کریم تو نہیں چھین کے کھاتے ہو، اس کے لیے لوگوں سے پیسے چھین کر آپ آئس کریم کھاتے ہو، تو کیا وہ جائز ہو گا؟ جائز نہیں ہو گا نا۔ اچھا اس کے لیے Corruption کر کے، اس کے ذریعے سے آپ یہ کام کرنا چاہتے ہو، تو جائز ہو گا؟ ناجائز ہو گا۔ تو اب دیکھو کتنے Sources بن گئے۔ یہ صرف زبان کی لذت کے لیے کتنے Sources بن گئے۔ تو یہ سب کہہ دوں، لذات کا شوق۔ یہ چیز مطلب یہ بھی انسان کو بیمار کر لیتی ہے روحانی طور پر۔ بہت سارے اس کے اندر وہ رذائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

اور ایک ہے مال کی محبت۔ یہ تو بہت مشہور ہے۔ مال کی محبت ایسی محبت ہے نا میں آپ کو کیا بتاؤں۔ کمال کی بات ہے۔ مال کی بذات خود کچھ بھی قیمت نہیں ہے، یعنی کوئی فائدہ نہیں ہے، جب تک اس کو خرچ نہ کیا جائے۔ اگر مال پڑا رہے تو اس کا کوئی فائدہ ہے؟ کسی کے پاس بینک میں ایک ارب روپیہ پڑا ہوا ہے، اس کا اس کو کوئی فائدہ ہے؟ جب تک اس کو خرچ نہ کرے۔ جس کو مال کی محبت ہوتی ہے وہ خرچ نہیں کر سکتا۔ جس کو مال کی محبت ہوتی ہے وہ خرچ نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ ایسا تک ہو جاتا ہے کہ پھر اپنے اوپر بھی خرچ نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مال کی جو محبت ہے یہ انسان کو ذلیل کر کے رکھ دیتی ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ لینے کے جو ذرائع ہیں وہ بھی حرام۔ اس کے لیے کرتے ہیں، کیونکہ ظاہر ہے وہ چاہتا ہے کہ میں بہت سے بڑا مالدار ہو جاؤں۔

آپ یقین کیجیے جتنے بڑے مالدار لوگ ہیں، ان کی 1% سے بھی کم دولت ان کی تمام ضروریات کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کافی ہوتی ہے۔ لیکن وہ کس چکر میں ہوتے ہیں؟ وہ اس چکر میں ہوتے ہیں کہ میں سب سے زیادہ مالدار ہو جاوں۔ مثلاً دنیا میں اس وقت نمبر 1 کون ہے؟ نمبر دو نمبر تین... اگر نمبر 1، نمبر دو ہو جائے، تو پوری کوشش لگاتا ہے کہ پھر میں دوبارہ نمبر 1 ہو جاؤں۔ اور جو نمبر دو ہے وہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ میں نمبر 1 ہو جاؤں۔ حالانکہ اس کی ضروریات ساری کی ساری پوری ہیں۔ تو اب اسی دو اور ایک کے چکر میں لوگ رہتے ہیں۔ سب لوگ اسی میں لگے رہتے ہیں۔ اور اس کے لیے پتہ نہیں کیا کیا Corruption کرتے ہیں کیا کیا دھوکے کرتے ہیں کیا کیا غلط کام کرتے ہیں۔ وہ سب کام اس کو جائز سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے مال کو جمع کرنا ہے۔

تو یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو کہ انسان کے لیے، جو فجور ہے، اس کے دروازے ہیں۔ پس اگر ان دروازوں کو بند کیا جائے تو تقویٰ کا دروازہ کھل گیا۔ تقویٰ کا دروازہ کھل گیا۔ مطلب آپ نے مال کی محبت کو ختم کیا تو مال تو آپ کے لیے تقویٰ کا دروازہ، اچھا کمال کی بات ہے چونکہ یہ سب نفسانی چیزیں ہیں، نفس کی چیزیں ہیں۔ نفس کی خواہشات ہیں۔ لہذا اس کا جو علاج ہے، علاج بالضد ہوتا ہے۔ علاج بالضد ہوتا ہے۔ اب نفس کی چیز کو جو خواہش ہوتی ہے اب اس کو نہ دے تو یہ اس کا علاج ہے۔ اس کو "مجاہدہ" کہتے ہیں۔

تو جو مالدار ہے، اس کو کہتے ہیں خرچ کرو۔ خرچ کرو۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ اس میں کچھ خرچ کرنا فرض ہے، اور کچھ خرچ کرنا یہ نفل ہے صدقات۔ اب جو فرض ہے مثلاً زکوٰۃ، عُشر، یہ فرض ہے۔ اب وہ لازماً دینا پڑے گا۔ اگر نہیں دیتا گناہگار ہے۔ لیکن اگر دیتا ہے سبحان اللہ، نہ صرف یہ کہ گناہ سے بچ گیا، بلکہ اس کے حصے کا جو فجور ہے وہ بھی ختم ہوتے جائیں گے۔ وہ مال کی محبت کے کیونکہ جتنا جتنا خرچ کرتا ہے ما شاء اللہ اتنا اتنا اس کی مال سے محبت کم ہوتی جاتی ہے۔

میں آپ کو چھوٹا سا واقعہ بتاتا ہوں۔ ایک بہت بڑے عالم تھے، نام میں نہیں لیتا کیونکہ بعض لوگ ممکن ہے اس کو جانتے ہوں۔ بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن عالم چاہے کتنا ہی بڑا ہو اس کا استاد تو اس کا استاد ہی ہوتا ہے نا۔ استاد کے سامنے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تو اس کا ایک استاد تھا کراچی، بنوری ٹاؤن میں، ما شاء اللہ پڑھاتا تھا استاد تھا۔ یہ عالم سرکاری طور پر حج کے لیے جا رہا تھا۔ ان دنوں ہوائی جہاز پہ نہیں جاتے تھے، لوگ بحری جہازوں کے ذریعے سے جایا کرتے تھے۔ تو بحری جہاز کے لیے کراچی جانا پڑتا تھا۔ کراچی حاجی کیمپ میں ظاہر ہے ان کو پہلے کچھ وقت گزارنا ہوتا تھا، پھر اس کے بعد وہ حج پر روانہ ہوتے تھے۔

وہ وہاں تھے تو اپنے Education center وہ اپنے بنوری ٹاؤن مادرِ علمی وہاں چلے گئے۔ تو وہاں چلے گئے تو وہاں ان کے استاد تھے۔ تو اس کے استاد نے اس سے کہا شکر الحمد للہ کہ آپ حج پہ جا رہے ہیں۔ شکر الحمد للہ کہ آپ حج پہ جا رہے ہیں۔ اگرچہ آپ سرکاری طور پر جا رہے ہیں، لیکن جو پیسے آپ خرچ کریں گے کم از کم اپنے ہاتھ سے تو خرچ کریں گے۔ اس سے آپ کا بخل ختم ہوتا جائے گا۔ اس سے آپ کا بخل ختم ہوتا جائے گا کیونکہ وہ بخیل تھے۔ بقول استاد کے، میں تو نہیں کہہ سکتا میرے لیے تو عالم ہے۔ میں اس کی کوئی بات نہیں، ان کے استاد کے بقول چونکہ وہ بخیل تھے، لہذا فرمایا اب اپنے ہاتھ سے بے شک چونکہ خرچ کرو گے تو تمہارا بخل کم ہوتا جائے گا۔

اب دیکھو جب زکوٰۃ دینے، جو صرف اڑھائی percent ہے، اس سے اگر بخل ختم ہوتا ہے تو جو صدقات و خیرات کے ذریعے سے مال خرچ کرتا ہے، اس کا کیا حال ہوگا؟ بہت ختم ہوگا نا؟ ہمارے ایک بہت بزرگ تھے، وہ کبھی کبھی دعوت کیا کرتے تھے۔ تو دعوت میں ہم بھی شریک ہو جاتے تھے۔ تو ایک دن اس سے کسی نے پوچھا حضرت آپ کیوں دعوت کرتے ہیں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کوئی وجہ ہوتی ہے دعوت دینے کی، دعوت کرنے کی؟ تو انہوں نے فرمایا میں اپنے بخل کو دور کرتا ہوں۔ میں اس دعوت سے اپنے بخل کو دور کرتا ہوں۔ تو یہ ایک طریقہ ہے مطلب مال کی محبت کو کم کرنے کا، کہ آپ پیسے مسجد میں دے دو، آپ کسی غریب کو دے دو، آپ کسی کا مشکل کام ہے وہ اس کا کر دو۔ جس طریقے سے بھی آپ اپنا پیسہ خیر کے راستے میں لگائیں گے نہ صرف یہ کہ آپ کو اس کا ثواب ملے گا بلکہ آپ کا بخل بھی دور ہوتا جائے گا۔ اس سے ما شاء اللہ آپ اس راستے پہ بڑھیں گے تو وہ رذائل کا دروازہ بند ہوتا جائے گا لذات کی بات: جہاں تک لذات کی بات ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس کا طریقہ یہ ہے، اگر یہ حد سے بڑھا ہوا ہے یعنی گناہ کی رینج میں داخل ہو گیا ہے، تو پھر اس کو کم کرنا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ کم کرنا پڑے گا۔ اب کم کیسے کریں؟ اب دیکھو ایک کاغذ ہے، میں اس کو رول کر لیتا ہوں۔ جب میں رول کر لیتا ہوں، کھول دیتا ہوں تو یہ کاغذ بالکل سیدھا ہو جائے گا؟ نہیں ہوگا تھوڑی سی ٹیڑھ اس میں باقی رہے گی، کیونکہ کاغذ اتنی جلدی سیدھا نہیں ہوتا۔ اس کو سیدھا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ اس کو مخالف سمت میں رول کر لو۔ جس طرح پہلے کیا تھا اسی طرح مخالف میں، پھر جب کر لو گے تو سیدھا ہو جائے گا۔ یعنی گویا کہ یوں سمجھ لیجیے جتنا بگاڑ ہے، صرف اس کو دور کرنے کی کوشش کرو گے تو آدھا رہ جائے گا۔ لیکن اگر اس سے زیادہ کرو گے تو کیا ہو جائے گا؟ وہ نارمل لیول پہ آ جائے گا۔ یہی مجاہدہ اختیاری۔ یہ کیا چیز ہے؟ یہ مجاہدہ اختیاری ہے۔ یعنی اگرچہ آپ کو گناہ نہیں اس میں ہے، اگر آپ اس کو نارمل لیول پر لائیں تو گناہ ختم۔ لیکن آگے درمیان میں وہ چیز موجود ہے وہ دوبارہ آپ سے گناہ کروا سکتی ہے۔ چونکہ وہ چیز ختم نہیں ہوئی ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے کچھ زیادہ کرنا پڑے گا۔ تو اس سے ما شاء اللہ وہ چیز دور ہو جائے گی۔

تو لذتوں کو ختم کرنے کے لیے، اپنی آنکھوں کے لیے فرمایا غَضِّ بَصَر۔ اپنی آنکھوں کو نیچے رکھو۔ اپنی آنکھوں کو نیچے رکھو۔ یہ باقاعدہ قرآن کا حکم ہے۔ قرآن میں آتا ہے۔ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں کو نیچا رکھے۔ اس کی وجہ ہے کہ شیطان نے چار طرفوں کا کہا ہے، آگے سے آؤں گا پیچھے سے آؤں گا، دائیں سے آؤں گا بائیں سے آؤں گا۔ چار طرفوں کا کہا ہے۔ دو طرفوں کا نہیں کہا، اوپر سے آؤں گا نیچے سے آؤں گا یہ نہیں کہا۔ تو اب اوپر تو آپ دیکھ نہیں سکتے دیکھیں گے تو ٹکر لگے گی۔ تو نیچے تو دیکھ سکتے ہیں نا؟

اچھا ایک اور بات عرض کرتا ہوں، اللہ پاک نے بھی اس کا انتظام کیا ہے۔ کیسے انتظام کیا ہے؟ ہماری جو آنکھ ہے نا یہ زبردست چیز ہے۔ اس پہ اگر غور کریں تو اس کے اندر بڑی عجیب عجیب چیزیں ہیں۔ اس کے اندر Rods بھی ہیں Rods، یہ لاکھوں Rods ہیں۔ یہ ہماری ایک آنکھ کے اندر لاکھوں Rods ہوتے ہیں، یہ سائیڈوں پہ اور یہ اوپر نیچے، یہ Rods ہیں۔ یہ Rods کیا کرتے ہیں؟ یہ صرف ہمیں یعنی وہ صرف موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ مثلاً مجھے پتہ ہے کہ ادھر کچھ ہے۔ یہ نہیں پتہ کیا ہے۔ جب تک دیکھوں گا نہیں تو مجھے پتہ نہیں ہے۔ نہ اس کے رنگ کا پتہ ہے نہ اس کا لیکن مجھے پتہ ہے کہ ادھر ہے۔ اسی طرح اس سے کوئی آ رہا ہے تو میں فوراً محسوس کر لوں گا کوئی آ رہا ہے۔ اس طرح اوپر سے اگر کوئی چیز گر رہی ہے تو مجھے یہاں محسوس ہو جائے کوئی ہے لیکن جب تک سامنے نہیں آئے گا تو مجھے پتہ نہیں چلے گا۔ نیچے سے بھی اگر وہ اس طرح ہو تو۔

تو اب دیکھیں، اگر میں سیدھا دیکھوں اور یہ نیچے دیکھوں، تو یہ میرے جو Rods ہیں، یہ سامنے ہیں۔ میرا Cornea سامنے ہی نہیں ہے۔ لہذا مجھے پتہ نہیں چلے گا کہ کون آ رہا ہے۔ لیکن یہ پتہ لگے گا کہ کوئی آ رہا ہے۔ لہذا ٹکر سے تو بچیں گے۔ لیکن فتنے میں نہیں پڑیں گے۔ ٹکر سے بچیں گے فتنے میں نہیں پڑیں گے۔ اور بچنا تو فتنے سے ہے نا۔ بچنا تو فتنے سے ہے۔ لہذا دیکھنا نہیں ہے۔

اگر نیچے دیکھ دیکھ کر انسان اتنا محسوس کرے، آپ حضرات شاید جانتے ہوں یا نہیں جانتے ہوں، پہلے دور میں صوفیائے کرام جو ہوتے تھے، یہ خانقاہوں کے اندر رہتے تھے، اس وقت تربیت کے دنوں میں ان کا یہ طریقہ ہوتا تھا وہ اپنی چادر کو اس طرح اوڑھتے تھے کہ اس سے کوئی تھوڑا سا آگے سے بھی نیچے آ جاتا تھا۔ تو وہ جب دیکھتے تھے تو سامنے والی چیز نظر نہیں آتی تھی صرف ایک محدود ایریا نظر آتا تھا۔ یہ باقاعدہ اعتکاف میں جو بیٹھتے تھے، آپ حضرات جانتے ہوں گے یہ میرے خیال میں شاید گاؤں وغیرہ میں بالخصوص چونکہ گاؤں میں یہ ہوتا تھا کہ وہ بیت الخلائیں تو نہیں ہوتی تھیں نا مسجد میں، تو گاؤں میں تو رفع حاجت کے لیے کافی دور کھیتوں وغیرہ میں جانا ہوتا تھا۔ تو اس صورت میں اب جانا تو ان کو پڑتا تھا۔ تو جب جاتے تھے تو اس طریقے سے وہ بنا لیتے تھے چھجا سا، اور اپنے اوپر چادر وغیرہ ڈال لیتے تھے کہ وہ سامنے کی چیز نظر نہیں آتی تھی، محسوس ہوتی تھی۔ تو وہ سب چیزیں بالکل اصل میں بزرگوں سے سیکھی ہوتی تھیں کہ یہ اس قسم کی اپنی آنکھ کی حفاظت۔

اس طرح اپنے کان کی حفاظت۔ کان کی حفاظت یہ ہے کہ اس وقت تقریباً ہر جگہ فتنہ و فساد ہے فجور ہے۔ تو اگر ایک انسان اپنے کان کی حفاظت کرنا چاہتا ہے کہ کوئی غلط آواز اس کے کان میں نہ پڑے، تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ... آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جا رہے تھے اور ایک بچہ، جو بعد میں صحابی بنے ظاہر ہے، وہ ساتھ تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بانسری کی آواز سنی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں دے دیں، اور تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کہ وہ آواز تو اب نہیں آ رہی؟ تو اس نے کہا وہ آواز اب نہیں آ رہی۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں انگلیاں نکال لیں۔ اب پتہ چل گیا؟ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کیا اثر ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سبحان اللہ عفت کے پہاڑ تھے۔ لیکن ہمیں کیا بتا دیا؟ بتا دیا کہ ایسا کرنا چاہیے۔ تو بعد میں وہ جو صحابی بڑے ہو گئے انہوں نے بھی بالکل ایسا کیا۔ اس طریقے سے روایت ہم تک پہنچی ہے کہ انہوں نے بھی ایسا کیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہمیں کوئی خطرہ سامنے آ جائے تو خطرے سے بچنے کے لیے کیا کریں؟ اپنے کانوں کو بند کریں۔ اسی میں فائدہ ہے۔ ورنہ کیا ہو جائے گا؟ ان میں کوئی ایسی آواز دل لبھانے والی اگر محسوس ہو جائے، تو اس کی طرف انسان پھر چلا جاتا ہے۔ پھر اس کے ساتھ ایک Series شروع ہو جاتی ہے۔

یہ دیکھیں نا ایک انسان کے اندر یہ مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو اگلا گناہ اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ اور اگر کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اگلا اچھا کام اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ اب میں مسجد میں آ جاتا ہوں یہ نیکی کا کام ہے۔ تو مسجد میں جب آؤں گا تو مجھے تلاوت کرنا آسان ہو جائے گا۔ ذکر کرنا آسان ہو جائے گا۔ نفل پڑھنا آسان ہو جائے گا۔ راستے کھل گئے نا؟ تو اسی طریقے سے میں بازار کی طرف جاتا ہوں۔ اب بازار میں بغیر ضرورت کے جانا یہ اپنے آپ کو فتنے میں ڈالنا ہے۔ ناراض نہ ہوں، بہت سارے دکاندار بیٹھے ہوں گے لیکن میں کیا کروں۔ بتایا ہے نا کہ سب سے بہترین جگہ کون سی ہے؟ مسجد، اور سب سے بدترین جگہ کون سی ہے؟ بازار۔ تو بس مطلب ظاہر ہے کہ اگر کوئی مجبور ہے، مطلب کام اُدھر کرتا ہے، تو کیا کرے، کام تو کرے گا، لیکن اپنے آپ کو فتنوں سے تو بچائے گا نا۔ اپنے آپ کو نقصان سے تو بچائے گا۔ تو اس کے لیے کیا ہے، سبحان اللہ، مجبور ہے کام کر رہا ہے، لیکن جیسے اذان ہو جائے، فٹافٹ او سبحان اللہ بچنے کا وقت آ گیا۔ بچنے کا وقت آ گیا، اب میں نماز کے لیے جاتا ہوں، تاکہ جو گند میرے دل کے اوپر بازار کی وجہ سے لگا ہے وہ دُھل جائے اور میں جلدی جلدی مسجد میں آ جاؤں۔ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ اس طرح کان کا معاملہ ہے۔

اس طرح زبان کا معاملہ ہے۔ زبان جو ہے دیکھیں! -اللہ اکبر- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی۔ جس نے خاموشی اختیار کر لی اس نے نجات پائی۔ وجہ کیا ہے؟ جب انسان بولتا ہے تو اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ جو اس کے اندر ہے وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ اب مجھے بتاؤ، آج کل اچھائی ہمارے اندر ہے یا برائی ہمارے اندر ہے؟ خود ہم فیصلہ کر لیں۔ تو جب ہم بولیں گے تو کیا بولیں گے؟ کوئی چیز ایسی بولیں گے جو کہ نقصان ہی پہنچائے گی نا۔ تو ایسی صورت میں چپ رہنا اچھی بات نہیں ہے؟ اور چپ رہنے سے بھی اچھی بات آپ کو بتاؤں؟ ذکر کرنا۔ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیں جو میں ہر وقت کر سکوں۔ فرمایا: اللہ کی یاد سے اپنی زبان کو تر رکھو۔ رَطْبُ اللِّسَان رہو۔ اللہ کی یاد سے رَطْبُ اللِّسَان رہو۔

تو مطلب یہ ہے کہ ذکر، اور ذکر ایسی چیز ہے، ایسی چیز ہے، ایسی چیز ہے -سبحان اللہ- کہ یہ جو ہے یہ نہ اس پہ پیسہ لگتا ہے، نہ اس پہ کوئی زیادہ Physical exercise لگتی ہے، نہ آپ سے کوئی اور اس کے لیے پرمیشن لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سب چیزیں مفت میں ہیں، مطلب یہ ہے کہ کچھ بھی، اچھا آپ نے ارادہ کر لیا اور ذکر کرنا شروع کر لیا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مائنڈ کرتا ہو کہ آپ ہونٹ اس کے سامنے کیوں ہلا رہے ہیں، آپ دل میں ذکر کریں۔ اس کو تو نہیں روک سکتا نا؟ اس کو تو نہیں روک سکتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذکر ہر حال میں کیا جا سکتا ہے۔ لہذا آدمی ذاکر بن جائے، وہ خاموشی سے بھی افضل ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بری صحبت سے خلوت اچھی ہے۔ اور اچھی صحبت خلوت سے اچھی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اگر میں بری صحبت میں ہوں تو جلد سے جلد خلوت میں پہنچنے کی کوشش کروں۔ اگر مجھے اچھی صحبت میسر نہیں ہے۔

حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ ایسی عجیب مثال پیش کی ہے نا میں کہتا ہوں کہ بس اس کے بعد ختم ہے بات۔ مجھے بتاؤ مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ گشت کے لیے جاتے تھے میوات، خود فرمایا، میں جب میوات گشت کے لیے جاتا ہوں، اچھے لوگوں کو ساتھ لے جاتا ہوں، اچھی صحبت کے لیے۔ کس مقصد کے لیے جا رہے ہیں؟ گشت کے لیے، نیک عمل ہے، دین کا عمل ہے۔ لیکن کس کے ساتھ جا رہے ہیں؟ نیک لوگوں کے ساتھ جا رہے ہیں تاکہ مجھ پہ اثر نہ ہو غلط لوگوں کا۔ ایک بات۔ فرمایا، اس کے باوجود لوگوں کے ساتھ مل کر میرے دل پر اثر ہو جاتا ہے۔ اب دیکھو، ان کے ساتھ دین کے لیے مل رہے ہیں۔ ایک اثر ہو جاتا ہے یا نہیں ہو جاتا؟ کیوں نہیں ہو جاتا؟ گرم پانی اور ٹھنڈا پانی جب ملتا ہے، تو ٹھنڈے پانی پہ گرم کا اثر ہوتا ہے یا نہیں؟ اور ٹھنڈے پر گرم کا اثر، گرم پر ٹھنڈے کا اثر ہوتا ہے۔ لہذا اچھا اور برا جب ملتا ہے، تو برا کچھ اچھا ہونے لگتا ہے۔ اور اچھا کچھ اس کی طرف چلا جاتا ہے، اس کے دل پر اثر ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اور مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ چونکہ ذکی الحس تھے۔ پتہ چلتا تھا۔ آج کل کے لوگوں کو تو پتہ ہی نہیں چلتا نا۔ ذکی الحس تھے۔ تو فوراً حضرت کو پتہ چل جاتا کہ مسئلہ ہے، کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے۔

تو حضرت نے فرمایا پھر میں کیا کرتا ہوں؟ میں رائے پور شریف جاتا ہوں وہاں خانقاہ تھی، شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کی، یا سہارنپور شریف جاتا ہوں وہ حضرت کی خود اپنی خانقاہ تھی جہاں سے تربیت ہوئی تھی۔ یا پھر مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔ یا پھر مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔ اعتکاف میں کیا ہے؟ خلوت ہے۔ اعتکاف میں کیا ہے؟ خلوت ہے۔ اور خلوت کے وہ کرتے ہیں اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں ذکر کے ذریعے سے، تلاوت کے ذریعے سے۔ اپنے دل کو ٹھیک کرتے تھے۔

اب یہ چیز اگر ہم بھی آج شروع کر لیں تو حفاظت ہو جائے گی یا نہیں ہوگی؟ بہت سارے لوگوں کو تو اس کا احساس بھی نہیں ہے کہ ہمارے اوپر دوسروں کا اثر ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہے۔ حالانکہ اثر یقینی بات ہے۔ چاہے کوئی مانے، نہ مانے۔ ایک کا دوسرے پر اور دوسرے کا پہلے پر اثر ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ مناظرہ ہو رہا تھا ایک پادری اور ایک Atheist کے درمیان، جو دہریہ ہوتا ہے۔ مناظرہ جب ختم ہوا کئی دن تک چلتا رہا، جب ختم ہوا تو پادری دہریہ ہو گیا اور دہریہ وہ عیسائی ہو گیا۔ اب بتاؤ؟ مطلب ایک دوسرے پہ اثر ہوتا ہے۔ لہذا ہم لوگوں کو اپنی حفاظت پہلے کرنی چاہیے۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر ہمیں کچھ انتظام اپنا کرنا چاہیے نا؟ تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اپنے آپ کی حفاظت، تو اپنی آنکھ کی حفاظت، اپنے کان کی حفاظت، اپنی زبان کی حفاظت، یہ ضروری ہے۔

اب میں آپ کو آخر میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ پانچ منٹ باقی رہ گئے ہیں۔ وہ یہ، میں نے شروع کیا تھا کس چیز سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ جو ہے، کیا ہے؟ بہترین طریقہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اللہ پاک نے بھیجا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلنا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے طریقے پہ کرنا ہوگا۔ اپنے طریقے سے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے جیسے محبت کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، مجھے بتاؤ ہم اس طرح کر سکتے ہیں؟ ہم اس طرح نہیں کر سکتے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ربیع الاول آ رہا ہے۔ تو کس طرح محبت کرنی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرح۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں فرمایا، مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جو بچنے والے ہوں گے وہ کون ہوں گے؟ جو میرے طریقے پہ ہوں گے، جو میرے صحابہ کے طریقے پہ ہوں گے۔

صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو لیے ہوئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر مطلب ان کے اوپر Apply ہو چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے انہوں نے اپنے اوپر Apply کر کے لوگوں کو دکھا دیا کہ کیسے کرتے ہیں۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا طریقہ، عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ، عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ، علی کرم اللہ وجہہ کا طریقہ۔ ان حضرات کے طریقوں پہ چل کر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کر سکتے ہیں۔ اپنی مرضی سے نہیں! اپنی مرضی سے نہیں۔ تفصیلات میں میں نہیں جاتا، لیکن ہم لوگ خود اپنے اپنے وہ دیکھ لیں آیا جو ہمارے طریقے ہیں وہ کیا ہیں؟ دیکھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی پوچھتا ہے، یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں۔ یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھتے ہیں، کیا کہہ رہے ہو؟ یعنی ذرا محتاط۔۔۔۔ پھر وہ کہتا ہے یا رسول اللہ میں آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے ہیں کہ یہ کیا کہتے ہو؟ جب اچھی طرح اس سے وہ لے لیا، پھر فرمایا، پھر زیادہ سجدوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ زیادہ سجدوں کے ذریعے سے میری مدد کرو، یعنی زیادہ نوافل پڑھو، زیادہ نماز پڑھو۔ فرض تو پہلے سے پڑھتے تھے نا، واجبات پہلے سے کرتے تھے، سنتیں تو پہلے سے۔ اب مستحبات کی بات میں اضافہ ہو سکتا ہے نا۔ تو فرمایا، زیادہ سجدوں کے ساتھ میری مدد کرو۔ یعنی مزید زیادہ چیز نفل زیادہ کو کہتے ہیں آپ کو پتا ہے نا زیادہ کو کہتے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ نوافل زیادہ پڑھو اس کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ جتنی آپ۔۔۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ محبت ہو گئی، محبت کا جواب تو محبت ہے نا، تو جب محبت ہو گئی تو کیا طریقہ ان کو سکھائیں گے جس سے وہ بچ جائیں؟

دیکھو، اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہتے ہیں، فرمایا: اے میری بیٹی! اس وجہ سے نہیں بچو گی کہ تو میری بیٹی ہے۔ اس لیے بچو گی کہ تیرا اپنا عمل اچھا ہوگا تو پھر بچو گی! تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریفیں کر کے صرف نہیں بچ سکتے، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ نہیں چلیں گے۔ تعریفیں بھی ایسی نہیں کرنی جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی صفات میں شریک کریں۔ یہ تعریفیں نہیں کرنی، یہ عیسائیوں کا کام ہے۔ یہ عیسائیوں کا کام ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے۔

ہم تو وہی تعریف کریں گے جو اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ان کی کی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کی ہے۔ یہ مطلب ہم وہ تعریف کریں گے۔ اس سے زیادہ کے روادار ہم نہیں ہیں۔ ورنہ اگر اپنے طور پہ کریں گے تو ایسا ہو جائے گا، ہاں ایک دفعہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آئے، انہوں نے کسریٰ وغیرہ کو دیکھا۔ تو آ کر سجدہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا کر رہے ہو؟ کہا جی وہ وہاں وہ لوگ اپنے بڑوں کو سجدہ کر رہے ہیں، تو میں نے کہا آپ تو زیادہ مستحق ہیں۔ فرمایا نہیں۔ میرے لیے سجدہ نہ کرو۔ کیا آپ میری قبر پہ آئیں گے تو سجدہ کریں گے؟ نہیں، تو پھر اب کیوں؟ تو اب بتاؤ، قبر پر سجدہ بھی ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، اپنے لیے جب سجدہ پسند نہیں کیا تو کسی بزرگ، ولی کے لیے ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا۔ تو اس وجہ سے قبر کو بھی سجدہ جب نہیں ہو سکتا، اپنے آپ کو بھی نہیں، تو آپ کسی زندہ ولی کو بھی نہیں کر سکتے، اور قبر پر بھی نہیں کر سکتے۔ یہ راستہ بند ہو گیا ہے۔ اس راستے کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا۔

تو اس کا مطلب ہے محبت ہم نے کرنی ہے تو کس طرح کرنی ہے؟ جیسے اللہ چاہے، جیسے اللہ کا رسول چاہے، جیسے صحابہ کرام نے کی۔ کیونکہ اس کی دلیل موجود ہے۔ صحابہ کرام نے جو کام کیا، صحیح کیا؟ منع نہیں فرمایا۔ صحیح نہیں کیا، یعنی ٹھیک نہیں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً منع فرما دیا۔ اسی کو "تقریری حدیث" کہتے ہیں۔ لہذا ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ضرور کریں۔ بعض لوگ ذرا اس میں Touchy ہو جاتے ہیں، مثلاً تعریف کے ساتھ، نہیں نہیں نہیں تعریف ہم ضرور کریں گے۔ نعت شریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی سنی ہے۔ صحابہ کرام نے نعتیں پڑھی ہیں، اور تقریباً بڑے بڑے صحابہ ان سب سے نعتیں منقول ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی، عمر رضی اللہ عنہ کی، عثمان رضی اللہ عنہ سب کی، میرے پاس موجود ہیں۔ تو وہ نعت شریف غلط بات نہیں۔

لیکن گانے کی طرز پر نعت؟ سخت منع ہے۔ سخت منع ہے۔ ایسا ہے جیسے قرآن کوئی Toilet میں پڑھے۔ تو قرآن پڑھنا منع نہیں ہے لیکن Toilet میں پڑھنا تو منع ہے نا؟ تو اس وجہ سے نعت شریف کوئی پابندی نہیں، بہت اچھی نعت ہو، بڑی اچھی آواز سے ہو -سبحان اللہ- بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن کس طریقے سے ہو؟ جیسا صحابہ نے کیا ہے۔ اسی طریقے سے ہم کرتے ہوں۔ اور پھر یہ کہ گانے کی طرز پر نہ ہو۔ گانے کی طرز پر اور آج کل تو گانے کی طرز پر کیا Music کے ساتھ نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ اللہ پاک ان لوگوں کو ہدایت عطا فرما دے۔ بے شک یہ گمراہ ہیں۔ بے شک یہ گمراہ ہیں۔ اگر ہم ان کو گمراہ نہ کہیں تو پھر گمراہ کس کو کہتے ہیں؟ گمراہ کس کو کہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس گمراہی سے ہم سب کو نکالیں اور ہم لوگوں کو حقیقت پر لے آئیں۔ وہ حقیقت جو اللہ کے نزدیک حقیقت ہے۔ مجھے بھی، آپ کو بھی سب کو بھی اللہ مجھے نصیب فرمائے آپ سب کو نصیب فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔