درود شریف کی فضیلت، اہمیت اور صحابہ و اہل بیت سے محبت کا توازن

فضائل درود شریف، چہل درود و سلام اور مناجاتِ مقبول

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• آیتِ درود (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ) کی تفسیر و تشریح اور اس عمل میں اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی شرکت کا مفہوم۔

• صلاۃ (درود) کے مختلف معانی (اللہ کی طرف سے رحمت، فرشتوں کی طرف سے دعا اور مومنین کی طرف سے اتباع و محبت)۔

• اذان کا مسنون جواب اور اس کے بعد درود شریف اور دعا پڑھنے کی اہمیت و فضیلت۔

• صحابہ کرام کا مثالی طرزِ عمل: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا (عمل)، آمَنَّا وَصَدَّقْنَا (عقیدہ) اور فداکاری (محبت)۔

• افراط و تفریط کے اس دور میں سنتوں کی اتباع اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کو لازم و ملزوم سمجھنا۔

• اہل بیت کی محبت کی اہمیت (سفینہ نوح کی مانند) اور صحابہ کرام کی پیروی (ستاروں کی مانند) میں اعتدال اور توازن۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(سورۃ الاحزاب: آيت 56)


بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں ان پیغمبر پر، اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔


یہ قرآن پاک کی آیت ہے اور اس کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ فائدے میں لکھتے ہیں:

فائدہ:

حق تعالیٰ شانہٗ نے قرآن پاک میں بہت سے احکامات ارشاد فرمائے ہیں، نماز، روزہ، حج وغیرہ۔ اور بہت سے انبیاء کرام کی توصیفیں اور تعریفیں بھی فرمائی ہیں۔ ان کے بہت سے اعزاز و اکرام بھی فرمائے ہیں۔ حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کو پیدا فرمایا تو فرشتوں کو حکم فرمایا کہ ان کو سجدہ کیا جائے لیکن کسی حکم میں یا کسی اعزاز و اکرام میں یہ نہیں فرمایا کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں، تم بھی کرو۔ یہ اعزاز صرف سید الکونین ﷺ ہی کے لیے ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے صلاۃ کی نسبت اولاً اپنی طرف، اس کے بعد اپنے پاک فرشتوں کی طرف کرنے کے بعد، مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں، اے مومنو! تم بھی درود بھیجو۔

اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ اس عمل میں اللہ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ مومنین کی شرکت ہے۔ پھر عربی دان حضرات جانتے ہیں کہ آیت شریفہ کو لفظ "إِنَّ" کے ساتھ شروع فرمایا جو نہایت تاکید پر دلالت کرتا ہے اور صیغہ مضارع کے ساتھ ذکر فرمایا جو استمرار اور دوام پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی یہ قطعی چیز ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے ہمیشہ درود بھیجتے رہتے ہیں نبی ﷺ پر۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آیت شریفہ مضارع کے صیغے کے ساتھ جو دلالت کرنے والا ہے استمرار اور دوام پر، دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ اللہ اور اس کے فرشتے ہمیشہ درود بھیجتے رہتے ہیں نبی کریم ﷺ پر۔ صاحبِ روح البیان لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اللہ کے درود بھیجنے کا مطلب حضور اقدس ﷺ کو مقامِ محمود تک پہنچانا ہے، اور وہ مقامِ شفاعت ہے۔ اور ملائکہ کے درود کا مطلب ان کے دعا کرنا ہے حضور ﷺ کی زیادتیِ مرتبہ کے لیے، حضور ﷺ کی امت کے لیے استغفار۔ اور مومنین کے درود کا مطلب حضور ﷺ کا اتباع، حضور ﷺ کے ساتھ محبت، حضور ﷺ کے اوصافِ جمیلہ کا تذکرہ اور تعریف۔

یہ بھی لکھا ہے کہ یہ اعزاز و اکرام جو اللہ جل شانہٗ نے حضور ﷺ کو عطا فرمایا ہے، اس اعزاز سے بہت بڑھا ہوا ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں سے سجدہ کرا کر عطا فرمایا تھا۔ اس لیے کہ حضور اقدس ﷺ کے اس اعزاز و اکرام میں اللہ جل شانہٗ خود بھی شریک ہیں، بخلاف حضرت آدم علیہ السلام کے اعزاز کے، وہاں صرف فرشتوں کو حکم فرمایا تھا۔


عقل دور اندیش میداند کہ تشریفِ چنیں

ہیچ دیں پرور ندید و ہیچ پیغمبر نیافت


﴿يُصَلِّى عَلَيْهِ اللّٰهُ جَلَّ جَلالُهٗ

بِهٰذَا اَبَدًا لِّلْعَالَمِيْنَ كَمَالُهٗ﴾ علماء نے لکھا ہے کہ آیتِ شریفہ میں حضور ﷺ کو "نبی" کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا "محمد ﷺ" کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جیسا کہ اور انبیاء کو اُن کے اسماء کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، یہ حضور اقدس ﷺ کی غایتِ عظمت اور غایتِ شرافت کی وجہ سے ہے۔ اور ایک جگہ جب حضور ﷺ کا ذکر حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ آیا تو اُن کو تو نام کے ساتھ ذکر کیا اور آپ ﷺ کو نبی کے لفظ سے جیسا کہ: "اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَهٰذَا النَّبِيُّ" میں ہے اور جہاں کہیں نام لیا گیا ہے وہ خصوصی مصلحت کی وجہ سے لیا گیا ہے۔ علامہ سخاوی نے اس مضمون کو تفصیل سے لکھا ہے۔

یہاں ایک بات قابلِ غور یہ ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ جو آیتِ شریفہ میں وارد ہوا ہے اور اس کی نسبت اللہ جل شانہٗ کی طرف اور اُس کے فرشتوں کی طرف اور مؤمنین کی طرف کی گئی ہے وہ ایک مشترک لفظ ہے جو کئی معنی میں مستعمل ہوتا ہے اور کئی مقاصد اس سے حاصل ہوتے ہیں، جیسا کہ صاحبِ روح البیان کے کلام میں بھی گزر چکا۔

علماء نے اس جگہ صلوٰۃ کے بہت سے معنی لکھے ہیں۔ ہر جگہ جو معنی اللہ تعالیٰ شانہٗ اور فرشتوں اور مؤمنین کے حال کے مناسب ہوں گے وہ مراد ہوں گے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ صلوٰۃ علی النبی کا مطلب نبی کی ثناء، تعظیم، رحمت و عطوفت کے ساتھ ہے۔ پھر جس کی طرف صلوٰۃ منسوب ہوگی اسی کے شان و مرتبہ کے لائق ثناء، تعظیم مراد لی جائے گی، جیسا کہ کہتے ہیں کہ باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر، بھائی بھائی پر مہربان ہے۔

یعنی آپ دیکھیں بھائی کی بھائی کے ساتھ محبت، بھائی کی بہن کے ساتھ محبت، بھائی کی ماں کے ساتھ محبت، بھائی کی ماں کے ساتھ محبت... کسی کی بیوی کے ساتھ محبت، یہ ساری محبتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ لیکن لفظ ایک ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر ہر معنیٰ اس حال کے مطابق لیا جائے گا۔ کیونکہ عربی میں بہت زیادہ وسعت ہے، وہ ایک لفظ کو بہت ساری چیزوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور ایک چیز کے بہت سارے مترادفات ہوتے ہیں۔ دونوں طرح بات ہے۔ تو اس وجہ سے جو عربی دان حضرات ہیں، اس کو چونکہ جانتے ہیں، لہٰذا جو چیز جس مقام کی ہوتی ہے، اس کے حساب سے اس کا معنیٰ لیا جاتا ہے۔

جیسا کہ کہتے ہیں کہ باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر، بھائی بھائی پر مہربان ہے، تو ظاہر ہے کہ جس طرح کی مہربانی باپ کی بیٹے پر ہے اُس نوع کی بیٹے کی باپ پر نہیں، اور بھائی کی بھائی پر دونوں سے جدا ہے، اسی طرح یہاں بھی اللہ جل شانہٗ بھی نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ بھیجتا ہے یعنی رحمت و شفقت کے ساتھ آپ کی ثناء، اعزاز و اکرام کرتا ہے اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں مگر ہر ایک کی صلوٰۃ اور رحمت و تکریم اپنی شان و مرتبہ کے موافق ہوگی۔ آگے مؤمنین کو حکم ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و رحمت بھیجو۔ امام بخاری نے ابوالعالیہ سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے درود کا مطلب اُس کا آپ کی تعریف کرنا ہے فرشتوں کے سامنے اور فرشتوں کا درود اُن کا دعا کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس سے ﴿يُصَلُّوْنَ﴾ کی تفسیر ﴿يُبَرِّكُوْنَ﴾ نقل کی گئی ہے یعنی برکت کی دعا کرتے ہیں

بہرحال یہ بہت بڑا مضمون ہے۔ ایک مجلس میں شاید پورا ختم نہ کیا جا سکے، لیکن اس سے ہم صرف اتنا مطلب بھی اگر لے لیں کہ آپ ﷺ پر درود بھیجنا اس کا کیا مقام ہے؟ اور اس کو ہم صرف سرسری نہ لیں، بلکہ اس کو ہم سمجھیں کہ یہ تو آپ ﷺ کے ساتھ تعلق کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یعنی جو بھی آپ ﷺ کے ساتھ تعلق بنانا چاہے گا، اس کے ساتھ بہت آسانی کے ساتھ مطلب جو ہے نا وہ...

دو باتیں ہیں، ایک تو یہ ہے کہ آپ ﷺ پر درود بھیجے، دوسرا آپ ﷺ کی اتباع کرے۔ یعنی آپ ﷺ کی اتباع کرے۔ اور تیسری بات جو ان دونوں میں مشترک ہے، کہ آپ ﷺ کے ساتھ محبت کرے۔

آپ ﷺ کے محبت کا بھی آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ہے۔ کہ تم لوگوں کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک مجھے اپنی اولاد سے، اپنے والدین سے اور بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھیں۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تو فرمایا کہ یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا: یا رسول اللہ، اب تو میں اپنے آپ سے بھی زیادہ آپ کو محبوب سمجھتا ہوں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت بھی اعلیٰ درجے کی ہو۔ درود شریف بھی بہت اچھی کیفیت کے ساتھ پڑھی جائے۔ اور اتباع بھی ہر چیز میں کرنے کی کوشش کی جائے۔ جس میں بھی اتباع یعنی ہو سکتا ہے، اس میں اتباع کیا جائے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمارے اور اللہ کے درمیان واسطہ ہیں۔ یعنی ہم اللہ پاک کے ساتھ براہ راست نہیں کر سکتے رابطہ۔ کیوں ہمیں معلوم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس چیز سے راضی ہوتے ہیں۔ کون بتائے گا؟ ظاہر ہے یہ تو آپ ﷺ بتائیں گے نا کہ اللہ تعالیٰ کس چیز سے راضی ہوتے ہیں۔ تو آپ ﷺ ہی اللہ پاک سے لے کر ہمیں دیتے ہیں، اور ہمارا جو کچھ بھی ہے وہ آپ ﷺ کے ذریعے اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو آپ ﷺ کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ مضبوط کرنا پڑے گا۔ محبت کا رشتہ، اتباع کا رشتہ۔

آج کل افراط و تفریط کا دور ہے۔ یعنی عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ سنتوں کی اتباع نہیں کرتے، اور جو لوگ سنتوں کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ محبت سے چڑے ہوئے ہیں۔ کمال کی بات ہے۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے، اس کو انسان سمجھ ہی نہیں سکتا کہ جس کو آپ ﷺ کے ساتھ محبت ہوگی، وہ اتباع کیسے نہیں کرے گا؟ اور جو اتباع کرتا ہے، وہ محبت کیسے نہیں ہوگی؟ یہ دونوں باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ مثلاً جو محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے سامنے سنت کی بات کی جائے تو ماتھے پہ بل آ جاتے ہیں۔ اور جو اتباع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے سامنے نعت پڑھی جائے یا کوئی آپ ﷺ کی تعریف کی جائے، تو پریشان ہو جاتے ہیں۔ یہ کیسی بات ہے؟ یہ سب شیطان کا دھوکہ ہے۔ اس وجہ سے آپ ﷺ کے ساتھ محبت بھی ہونی چاہیے، آپ ﷺ پہ درود شریف بھی کثرت سے پڑھنا چاہیے، اور آپ ﷺ کا اتباع بھی کرنا چاہیے۔ یہ تینوں باتیں بہت اہم ہیں۔ اس میں کوئی بات ہم لوگ جو ہے نا مطلب چھوڑ نہیں سکتے۔

تو آپ ﷺ کا طریقہ جو ہے، واحد طریقہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمیں مقبول کروا سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے خود فرمایا ہے، کہ تمہارے لیے آپ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ اور یہ بھی آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا، قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ۔ تو آپ ﷺ کی اتباع جو ہے، یہ دونوں ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دونوں کو جدا نہیں کر سکتے۔ اگر ان کو جدا کریں گے تو پھر بہت ساری چیزیں ہماری سمجھ میں نہیں آئیں گی۔ اور ہم لوگ گمراہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔

اس وقت امت کے اندر جوڑ کی ضرورت ہے، اور جوڑ آپ ﷺ کے ذریعے آ سکتا ہے۔ یعنی ایک ہی بات مشترک ہے پوری امت کے اندر کہ سب کے لیے واسطہ، اللہ تعالیٰ کے لیے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بنانے کے لیے، وہ آپ ﷺ کے ساتھ تعلق ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو آپ ﷺ کے تعلق کے بغیر، کسی ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کر لے۔ یہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اللہ پاک کو وہی طریقہ مقبول ہے جو آپ ﷺ کا ہے۔ مثلاً نماز آپ ﷺ کے طریقے پہ نہ پڑھو، تو کیا قبول ہو جائے گی؟ روزہ آپ ﷺ کے طریقے پہ نہ رکھو، کیا وہ قبول ہو جائے گا؟ حج آپ ﷺ کے طریقے پہ نہ کرو، کیا وہ قبول ہو جائے گا؟ تو آپ ﷺ کے طریقے پر ہی سب کچھ کرنا پڑے گا۔ یہ والی بات ہے۔ تو اگر ہم لوگ اس بات کو سمجھیں…

اور درود شریف، یہ تو میں کہتا ہوں کہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ یعنی ہر چیز کے اندر درود شریف کا جو اثر ہے وہ شامل ہے۔ یعنی نماز کے اندر درود شریف ہے، اسی طریقے سے دعا جب ہم کرتے ہیں تو اس سے پہلے بھی درود شریف ہے، اس کے بعد بھی درود شریف ہے۔ اذان جو ہم دیتے ہیں، مسلم شریف کی روایت ہے، مسلم شریف کی روایت ہے، کہ جو اذان دے، اس کے الفاظ میں جواب دو۔ یعنی جو الفاظ... وہ أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ کہے، تم بھی أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ کہو۔ وہ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ ٱللَّهِ کہے، تم بھی أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ ٱللَّهِ کہو۔ وہ حَىَّ عَلَى ٱلصَّلَوٰةِ کہے، تم بھی یہ کہو، یا بعض روایات میں ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ کہہ دو۔ اچھا، ٱللَّهُ أَكْبَر کہے، تم بھی ٱللَّهُ أَكْبَر کہو۔ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ کہے، تم بھی لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ کہو۔ اس کے بعد درود شریف پڑھو۔ اس کے بعد پھر وہ دعا پڑھو، ٱللَّهُمَّ رَبَّ هَـٰذِهِ ٱلدَّعْوَةِ ٱلتَّامَّةِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْقَائِمَةِ...


اب دیکھیں، کچھ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ ٱللَّهِ کا جواب کس چیز سے دیتے ہیں؟ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ جہاں نہیں ہے، جہاں نہیں ہے۔ صاف دیکھو حدیث شریف میں نے آپ کو سنا دی نا مسلم شریف کی حدیث شریف ہے۔ کیوں؟... اگر مؤذن شہادت دے رہا ہے، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ ٱللَّهِ، تو مجھے شہادت نہیں دینی چاہیے؟ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ ہاں، یہ بات الگ ہے، چونکہ آپ ﷺ کا نام آ گیا، درود شریف پڑھنا چاہیے۔ تو اس کے لیے طریقہ بتایا کہ جب اذان ختم ہو جائے، درود شریف پڑھو، تو یہ سب کے لیے ہو جائے گا۔ اذان کے لیے بھی ہو جائے گا، اس کے لیے... جو بھی مطلب، اس کے بعد پھر آپ درود شریف پڑھ لیں تو بس اس کے لیے ہو جائے گا۔ دونوں چیزیں جمع ہو گئیں۔

تو اگر ہم صحابہ کے طریقے پہ چلیں۔ صحابہ کا طریقہ کیا تھا؟ صحابہ کا طریقہ یہی تھا کہ جو آپ ﷺ سے سنا، سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔ جو بات آپ ﷺ نے بتائی، آمَنَّا وَصَدَّقْنَا۔ اور تیسری بات، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ۔ یہ تین نعرے صحابہ کے ہیں۔ یہ تین نعرے صحابہ کے ہیں۔ ان تین نعروں کو ہمیں اپنانا پڑے گا اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ آمَنَّا وَصَدَّقْنَا عقیدہ کا، سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا عمل کا، اور ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ، یہ تعلق کا۔

اللہ جل شانہٗ ہمیں توفیق عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔



اب انشاء اللہ چہل حدیث پڑھی جائے گی، اور پھر اس کے بعد انشاء اللہ العزیز دعا ہوگی۔


یہ چہل حدیث بھی اصل میں احادیث شریفہ ہیں۔ اس لیے اس کو چہل حدیث کہتے ہیں، اور ہیں درود و سلام کے۔ پچیس صیغے درود کے ہیں، اور پندرہ صیغے سلام کے ہیں۔



یہ پچیس صیغے درود پاک کے ہیں۔ اور یہ سب صحیح احادیث شریفہ ہیں۔ اس میں ایک نقطے کی بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں بائیس جگہ پر آلِ محمد کا ذکر ہے۔ بائیس جگہ پر، یعنی بائیس احادیث شریفہ میں آلِ محمد کا ذکر ہے۔ تو آلِ محمد کا مطلب ہے کہ آلِ بیت، آلِ رسول۔


آج کل ہمارے ہاں یہ بھی مسئلہ ہو گیا ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے، چونکہ وہ اہل بیت کا نام لیتے ہیں، تو ہمارے ہاں اہل بیت کا ذکر کچھ کمزور سا لگ رہا ہے۔ اس کا وہ due respect وہ نہیں رہا جو کہ ہونا چاہیے۔ آپ ﷺ نے اہل بیت کے ساتھ ہونے کا حکم فرمایا ہے۔ اور حکم کیسے فرمایا ہے؟ کہ یہ نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہیں۔ یعنی جو بچے گا، وہ ان کے ساتھ جو ہوگا تو بچے گا۔ اور صحابہ کے بارے میں کیا فرمایا؟ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں۔ جو ان میں سے جس کے پیچھے جائے گا تو ہدایت پائے گا۔


تو حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے عقائد کی کتاب میں بڑا عجیب کمنٹ کیا ہے۔ فرمایا: ہم انشاء اللہ اہل بیت کی محبت کی کشتی میں بیٹھ کر، صحابہ کے جو مطلب یہ ہے جو یعنی ہدایت کا راستہ ہے، اس پہ چل کر کامیاب ہوں گے انشاء اللہ۔ یعنی صحابہ کا تعلق بھی ہمیں ہو، اہل سنت والجماعت کی بات کر رہا ہوں، اور اہل بیت کا تعلق بھی ہو۔ صحابہ کی محبت میں اہل بیت سے دور نہ ہوں، اور اہل بیت کی محبت میں صحابہ سے دور نہ ہوں۔ یہ آج کل یہ المیہ ہے، افراط و تفریط بہت زیادہ ہے۔ ان چیزوں کو صحیح کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس وقت اہل بیت کی محبت اس لیے بہت ضروری ہے، اس کے لیے میں بار بار اس لیے عرض کرتا ہوں، کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور شاید قریب ہے۔ حالات جو جس طرح آ رہے ہیں، وہ تو لگتا ہے کہ جیسے بہت قریب ہے۔ تو اب اگر امام مہدی علیہ السلام ہمارے درمیان میں جو اہل بیت میں سے ہوں گے، آلِ رسول میں سے ہوں گے، اگر آلِ رسول کے ساتھ تعلق کم ہوگا، کہیں رکاوٹ نہ بن جائے۔ کہیں رکاوٹ نہ بن جائے۔


اس وجہ سے بہت زیادہ اس بات کو جاننا چاہیے، اہل بیت کی محبت کی باتیں سننی چاہئیں تاکہ ہم لوگوں کو معلوم ہو جائے۔ یعنی آپ دیکھیں نا، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ساری عمر اہل تشیع کے ساتھ لڑتے رہے، ساری عمر۔ لیکن اہل بیت کے بارے میں جو بات کرتے تھے تو دعا کرتے تھے: اے اللہ آلِ فاطمہ کے طفیل میری دعائیں قبول فرما۔ آلِ فاطمہ کے طفیل میری دعائیں قبول فرما لے۔ اور اہل بیت کے بارے میں فرمایا کہ ان کے مقامات... ان کا میں سوچ بھی نہیں سکتا کتنے اونچے ہیں۔ مطلب یہ ایک حضرت نے فرمایا۔ اور آج کل جس ولی کو بھی جو حصہ ملتا ہے، وہ علی کرم اللہ وجہہ کی برکت سے ملتا ہے۔ یعنی ان کے ساتھ رابطے کے، ان کے ساتھ تعلق کے ذریعے سے ملتا ہے۔ اب دیکھیں حضرت مجدد صاحب، کون سے بھئی، مکتوب شریف میں؟ ۱۲۳


ہاں جی، اب دیکھ لو، اس طرح جتنے بھی ہمارے امام، ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، یہ دونوں امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء ہیں۔ ہاں جی، اور حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ تو انہوں نے تو آپ ﷺ کی بات پر عمل کر لیا نا کہ ساتھ ہو گئے۔ انہوں نے تو کر لیا نا عمل۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لَوْلَا سَنَتَانِ لَهَلَكَ النُّعْمَانُ۔ اگر دو سال جو میں نے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزارے یہ نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔ اب ہمارے بڑے تو ایسے تھے۔ لیکن آج کل ہم کیسے ہیں؟ اللہ بچائے۔ ہم لوگوں کو ذرا تھوڑا سا اپنے تعلق کو دیکھنا چاہیے کہ ہے کیا؟






درود شریف کی فضیلت، اہمیت اور صحابہ و اہل بیت سے محبت کا توازن - جمعہ، آخری وقت کی دعا - اشاعت اول