اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهٗ فَاٰزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا۔
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، کافروں پر سخت ہیں، آپس میں رحم دل ہیں۔ تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں۔ ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے۔ ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے۔ مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اسے مضبوط کیا اور موٹا ہو گیا، پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے۔ ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔
معزز خواتین و حضرات! یہ آیتِ کریمہ جو میں نے تلاوت کی ہے، سورۃ الفتح کی آیت مبارکہ ہے آخری۔ اس میں اللہ جل شانہ نے صحابہ کرام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ بالکل ساتھ ہی تعریف موجود ہے کہ آپ ﷺ اور جو ان کے ساتھ ہیں۔ تو آپ ﷺ کے ساتھ کون تھے؟ صحابہ کرام تھے۔ تو صحابہ کرام کے بارے میں ہمیں ذرا تھوڑا سا جاننا چاہیے۔ اس کی وجہ ہے کہ پورے دین کی بنیاد ان کے ساتھ تعلق پر ہے۔وجہ یہ ہے کہ ماننا تو اللہ کا ہے۔ ماننا تو اللہ کا ہے۔ ہر مسلمان اللہ کی رضا کے لیے کام کرنا چاہے گا۔ لیکن اللہ کی کیسے مانے گا؟ کیونکہ اللہ اور ہماری آپس میں کوئی مناسبت نہیں ہے، اللہ خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں۔ اس وجہ سے اللہ پاک نے ایک مخلوق پیدا کی جو انبیائے کرام کہلاتے ہیں۔ ان کو اپنے ساتھ اتنا قرب عطا فرمایا کہ ان کو درمیان کا واسطہ بنایا۔ تو انبیائے کرام اللہ سے لیتے ہیں اور اپنی امت کو دیتے ہیں۔ ہر دور میں، ہر نبی یہی کام کرتا تھا کہ اللہ پاک سے لیتا تھا اور اپنی امت کو دیتا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، جتنے بھی انبیائے کرام گزرے ہیں۔
تو واسطہ انبیائے کرام ہیں اللہ جل شانہ سے لینے کے۔ لیکن اللہ پاک سے لینے کے بعد اور امت کو دینے کے بعد، ان کے لیے جو واسطہ بنایا جاتا ہے وہ نبی کے ساتھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ اولین مخاطب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے ان کو سکھایا جاتا ہے، اور جب وہ سیکھتے ہیں وہ پھر باقی لوگوں کو سکھاتے ہیں۔ طریقہ کار ہے۔ اس وجہ سے آپ ﷺ نے ایک حدیث شریف میں بالکل واضح ارشاد فرمایا:" گزشتہ امتوں میں یہود میں اکہتر فرقے بن گئے، عیسائیوں میں بہتر بن گئے، اور میری امت میں عنقریب تہتر ہو جائیں گے۔ لیکن ایک نجات پائے گا"۔ خطرناک بات تھی۔
آپ ﷺ کے صحابہ کرام نے ڈر کے مارے پوچھا: یا رسول اللہﷺ! وہ کون لوگ ہوں گے جو یعنی نجات پائیں گے؟ فرمایا:مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
"جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ"
اس سے ہمیں دو باتیں مل گئیں۔ دو باتیں ہمیں بالکل واضح طور پر مل گئیں۔ ایک یہ کہ سنتِ رسولﷺ، اس کو یعنی اس پر عمل کرنا ہے اس کو پانا ہے، یہی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
دوسری طرف یہ سنت پر عمل کرنا کیسا ہے؟ دیکھیں پہلی بات اللہ کی بات ماننا کیسا ہے؟ نبی کو دیکھیں گے۔ نبی کی بات کیسے مانیں گے؟ صحابی کو دیکھیں گے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو نبی کے لیے خاص ہوتے ہیں۔ وہ صرف نبی کے لیے ہوتے ہیں، باقی لوگوں کے لیے نہیں ہوتے۔ مثلاً؛ آپ ﷺ نے چار سے زیادہ شادیاں کیں۔ کوئی اور کر سکتا ہے؟ کیسے پتا چلا کہ کوئی اور نہیں کر سکتا؟ کیونکہ کسی اور صحابی نے ایسا نہیں کیا۔ پتا چلا کہ صحابہ کو دیکھ کر ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کام صرف آپ ﷺ کے لیے تھا۔
آپ ﷺ کی نیند میں وضو نہیں ٹوٹتا تھا۔ تو کیا باقی لوگوں کا وضو نہیں ٹوٹے گا؟ باقی لوگوں کا ٹوٹے گا، کیسے؟ صحابہ کرام کو دیکھیں گے۔ صحابہ کرام نے کیا کیا تھا۔ اس طریقے سے ہمارے پاس صحابہ کرام معیارِ حق ہیں، بلکہ معیارِ معرفتِ سنت ہیں۔ یعنی سنت کو سمجھنے کا ذریعہ ہمارے پاس صحابہ کرام ہیں۔
اللہ جل شانہ نے لوگوں کو مختلف طبیعتوں پر پیدا کیا ہے۔ مختلف حالات میں پیدا کیا ہے، مختلف جگہوں پر پیدا کیا ہے، مختلف اصناف میں پیدا کیا ہے۔ لیکن سب کو روشنی مل رہی ہے نبی سے۔ اب یہ روشنی ہر صحابی کو ملتی ہے، وہ اپنے حالات کے مطابق اس کو سمجھتا ہے اور آپ ﷺ کے طریقے پہ چلتا ہے۔ اس سے ہر شخص کو، بعد میں آنے والوں کو، جو ان صحابہ کی طرح ہوگا ان حالات میں ہوگا، مثلاً شہری صحابہ، دیہاتی صحابہ، مرد صحابہ، عورتیں صحابیات، ہوشیار صحابہ، سادہ صحابہ، یہ سب جتنی بھی قسم کے صحابہ گزرے ہیں، اتنی قسم کے لوگوں کے لیے معیار ہیں۔کیونکہ آپ ﷺ تو شہر میں تھے۔ آپ ﷺ مرد تھے۔ آپ ﷺ اونچے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اب غلام کے لیے کہاں سے آئے گا؟ آپ ﷺ تو اونچے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آزاد تھے، تو غلام کے بارے میں پتا کیسے چلے گا؟ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اس طرح اور صحابہ جو غلام رہے ہیں، ان کو کیسے دین ملا اور اس دین پر انہوں نے کیسے عمل کیا؟
عورتوں نے کیسے عمل کیا؟ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھیں گی، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھیں گی، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھیں گی۔ یعنی صحابیات عورتوں کے لیے معیار ہیں۔ اور شہری صحابہ، شہری لوگوں کے لیے معیار ہیں۔ دیہاتی صحابہ، دیہاتی لوگوں کے لیے معیار ہیں۔ جو علما صحابہ ہیں وہ علما کے لیے معیار ہیں، جو عوام صحابہ ہیں وہ عوام کے لیے معیار ہیں۔ گویا کہ ہر ایک کے لیے نمونہ مل گیا۔ اس طرح پورے دین پر عمل کرنا ممکن ہو گیا۔
اب جب یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ سارا کچھ صحابہ کرام کے ذریعے سے ہوا ہے، یعنی دین کا نفاذ جو ہے صحابہ کرام کے ذریعے سے ہوا ہے، تو صحابہ کرام کی Protection آپ ﷺ نے اپنے طور پہ کی ہے۔
"اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ"
اے میرے امتیو! میرے صحابہ کے بارے میں، بہت محتاط رہنا۔ تمہیں خدا کا واسطہ ہے، ان کو میرے بعد ملامت کا نشانہ نہ بنانا۔ جو ان کے ساتھ محبت رکھتا ہے، وہ میری وجہ سے ان کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ جو ان کے ساتھ بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھتا ہے۔ اب بتاؤ کوئی چیز باقی رہ گئی؟
اتنے واضح طور پر فرمایا ہے۔ بس پتا چلا کہ صحابہ کرام کے بارے میں بہت محتاط، بہت محتاط۔ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ، بہت بڑے خلیفہ گزرے ہیں اور خلفائے راشدین میں شمار ہوتے ہیں۔ تو ایک بہت بڑے بزرگ غالباً شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ تھے یا کوئی اور اس طرح سادات میں سے تھے، ان سے پوچھا گیا کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت اچھی تھی یا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی؟ عجیب سوال ہے۔ فرمایا: عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اگر اس گھوڑے کے نتھنے میں جو گرد ہے، جس پہ بیٹھ کر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جہاد کیا حضور ﷺ کی معیت میں، اس تک پہنچ جائیں ان کا بڑا مقام ہوگا۔ کیونکہ وہ صحابی ہیں۔ کیونکہ وہ صحابی ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ، بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ
"میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، جن کے پیچھے جاؤ گے ہدایت پا لو گے"۔
صحابہ کرام کا پتا چل گیا کہ وہ کیا ہیں؟ معیارِ حق ہیں۔لیکن یاد رکھیے، صحابہ کرام کون ہیں؟ اس کو بھی جاننا چاہیے ورنہ پھر بھی Confusion میں پڑ جائیں گے۔ صحابہ کرام تین قسموں پر ہیں۔ اور تینوں معیارِ حق ہیں۔ تین قسموں پر ہیں، کون سے؟
1۔عام صحابہ، جن کی رشتہ داری آپ ﷺ کے ساتھ نہیں تھی۔
2۔وہ صحابہ جو رشتہ دار ہیں، اہل بیت۔
3۔ اور وہ جو صحابیات ہیں، امہات المومنین۔
یہ تینوں صحابہ ہیں۔ ان کو آپس میں علیحدہ نہیں کر سکتے۔ علی کرم اللہ وجہہ اہل بیت میں سے ہیں، تو کیا وہ صحابی نہیں ہیں؟ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا اہل بیت میں سے ہیں، تو کیا وہ صحابیہ نہیں ہیں؟ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اہل بیت میں سے ہیں، تو کیا وہ صحابہ نہیں ہیں؟ تو صحابیت میں سب مشترک ہیں۔ صحابیت میں یہ تینوں مشترک ہیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں، صحابیہ بھی ہیں۔ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ سب صحابیات بھی ہیں اور ظاہر ہے امہات المومنین بھی ہیں۔
تو گویا کہ ان تینوں کے پیچھے جانا ہے۔ تو اس طرح گویا کہ تین ہدایت کے رستے ہیں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پہنچی، وہ ہدایت تین ذریعوں سے امت تک پہنچی؛ عام صحابہ کے ذریعے سے، اہل بیت کے ذریعے سے، اور امہات المومنین کے ذریعے سے۔
ان تینوں کے ذریعے سے امت تک پہنچی۔ پس جنہوں نے تینوں سے لیا، انہوں نے پورا دین لیا۔ جنہوں نے تینوں سے لیا انہوں نے پورا دین لیا۔ اور جس نے کسی ایک سے لیا، دوسرے سے نہیں لیا، تو اس نے ناقص دین لیا، پورا نہیں لیا۔ اور جس نے ان میں سے کسی ایک کی مخالفت کی، اس نے کچھ بھی نہیں لیا، تباہ و برباد ہو گیا۔
کیوں؟ انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت کی ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے فضائل بیان کیے ہیں، ان تینوں کے فضائل بیان کیے ہیں۔ تم کون ہو ان کو چیلنج کرنے والے؟ دین ہمیں حضور ﷺ سے ملا ہے یا تم سے ملا ہے؟ ہم تمہاری بات مانیں گے یا حضور ﷺ کی بات مانیں گے؟ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف فرمائی ہے، کون اس کو چیلنج کر سکتا ہے؟ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف فرمائی ہے، کون ان کو چیلنج کر سکتا ہے؟ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف فرمائی ہے، کون ان کو چیلنج کر سکتا ہے؟ علی کرم اللہ وجہہ کی تعریف فرمائی ہے، کون ان کو چیلنج کر سکتا ہے؟ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی،ان سب کی تعریف فرمائی ہے، کون ان کو چیلنج کر سکتا ہے؟
یہ سب کیا ہیں؟ آپ ﷺ کے واسطے سے ہیں۔ آپ ﷺ کے واسطے سے ہیں، لہٰذا بات آپ ﷺ پہ جائے گی۔ کسی کی مخالفت کرو گے تو بات کس پہ جائے گی؟ آپ ﷺ پہ جائے گی، اور جب آپ ﷺ پہ جائے گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف جائے گی۔ تو معاملہ بڑا خطرناک ہو جاتا ہے۔ یہ عقائد کی بات ہے اس میں بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ایک ہوتی ہے تاریخ، اور ایک ہوتی ہے حقیقت۔ انگلینڈ میں ایک صاحب تھے پروفیسر، ایک تاریخ لکھنا چاہتے تھے، عالمی، عالمی تاریخ لکھنا چاہتے تھے۔ لکھا بہت کچھ لکھا، بہت کچھ لکھا، بہت کچھ لکھا۔ نیچے پتا نہیں کون سے Floor پہ تھے، نیچے کوئی مسئلہ ہو گیا، کوئی جمگھٹا کھڑا ہو گیا۔ تو وہ تحقیق کے لیے نیچے اترے کہ دیکھتا ہوں کہ کیا ہے؟ اب جس سے پوچھیں Different کہانی سنائیں۔ کوئی کیا کہے، کوئی کیا کہے۔ آ کر اس نے سارے کاغذات کو آگ لگا دی۔ دوستوں نے کہا بھئی آپ نے کیا کیا؟ کہتے ہیں میں نیچے ایک واقعے کی تحقیق نہیں کر سکا، ابھی جا کے میں نے دیکھا جو میرے سامنے واقعہ ہو گیا اس کی تحقیق۔۔۔ تو میں گزشتہ واقعات کی تحقیق کیسے کر سکتا ہوں؟
یہ ہے تاریخ کی حقیقت۔ تاریخ جو ہوتی ہے، اکثر Biased ہوتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ Biased ہوتی ہے۔ جو تاریخ لکھنے والا ہے، اس کی نفسیات اس میں شامل ہوتی ہیں۔ وہ Biased لکھتا ہے۔ لیکن قرآن Biased نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ہے۔ اور حدیث Biased نہیں ہے، کیونکہ آپ ﷺ کی بات ہے۔ لہٰذا اگر قرآن میں کوئی بات آئی ہے، اور حدیث میں کوئی بات آئی ہے، اس کو تاریخ کے ذریعے سے نہیں جھٹلا سکتے۔ تاریخ کے ذریعے سے نہیں جھٹلا سکتے۔ یہ میں سب کے لیے کہہ رہا ہوں، میں کسی کا ساتھ نہیں دے رہا کیونکہ مجھے اللہ کو جواب دینا ہے۔اگر کوئی صحابہ کے خلاف ہے وہ بھی غلطی پر ہے۔ کوئی اہل بیت کے خلاف ہے وہ بھی غلطی پر ہے۔ کوئی امہات المومنین کے خلاف ہے وہ بھی غلطی پر ہے۔ جس کے بھی خلاف ہے۔
یہ بہت اونچے لوگ تھے۔ ان کو ہم تاریخ کی روشنی میں نہیں پرکھیں گے، ان کو ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں پرکھیں گے۔
غالباً جرمنی کا کوئی بادشاہ تھا جس نے احادیث شریف پہ ریسرچ کروائی۔ تقریباً پانچ لاکھ جو حدیث کے بارے میں جاننے والے تھے ان کی تاریخ جمع کر دی، اور اس سے اسماء الرجال کا فن نکلا۔ جس کے ذریعے سے آج بھی کسی حدیث شریف کے بارے میں معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی حیثیت کیا ہے؟ یہ "صحیح "ہے، یا "ضعیف" ہے، یا "موضوع" ہے، یا "حسن "ہے، یا "حسن لغیرہ" ہے، مطلب مختلف قسمیں ہیں حدیث شریف کی، اس کی ایک قسم اس پہ لگائی جا سکتی ہے۔ کیوں؟ پوری History معلوم ہے سب کی، جو اسماء الرجال کا فن ہے جس کو آتا ہے، تو اس کے ذریعے سے وہ کسی حدیث شریف کی حیثیت کو معلوم کر سکتا ہے۔
اب یہ اتنی زیادہ جانچ پڑتال جو ہے کسی تاریخ میں مل سکتی ہے؟ تاریخ میں کہاں مل سکتی ہے؟ لہٰذا ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں قرآن اور سنت بس کافی ہے۔ احادیث شریفہ، قرآن کے مقابلے میں کوئی بات ہو، اب دیکھو میں نے ابھی پڑھا ہے کیا پڑھا ہے؟ قرآن پڑھا ہے نا؟ ترجمہ بھی آپ لوگوں نے سن لیا نا؟ اب دیکھو آگے،
"مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اسے مضبوط کیا اور موٹا ہو گیا، پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا"
یہ صحابہ کرام کے حالات ہیں۔ پہلے قلیل تعداد میں تھے، پھر اللہ پاک نے ان کی تعداد زیادہ کر لی، پھر ان میں قوت آئی، پھر اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو گئے۔
اب جو اخیر میں بات ہے نا وہ بہت اہم ہے۔ وہ ذرا سمجھنے والی ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:
(يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا)
تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے۔ میں کیوں تعریف کر رہا ہوں اللہ پاک فرماتے ہیں صحابہ کی؟ کیوں کہ اس سے کافروں کو میں چڑانا چاہتا ہوں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ صحابہ کا معاملہ کدھر جاتا ہے؟
قرآن میں بتا رہا ہوں نا اپنی طرف سے تو کوئی بات نہیں کر رہا نا۔
" ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ تعالیٰ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہوا ہے"
لہٰذا صحابہ کرام کے بارے والے معاملے میں ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔ بہت محتاط رہنا چاہیے، یہ معاملہ بہت خطرناک ہے۔
ایک بہت بڑے بزرگ ہیں، ان سے صحابہ کے بارے میں پوچھا، فرمایا بھئی چپ رہو۔ ان مقدس حضرات کے خون سے ہماری تلواروں کو اللہ نے جدا رکھا ہے، ہم اپنی زبانوں کو کیوں آلودہ کریں؟ اپنی زبانوں کو کیوں آلودہ کریں؟
یہ میں نے آپ کو ایک Aspect بتایا۔ ایک Aspectدوسرا Aspect کیا ہے؟ اہل بیت، رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
بعض حضرات صحابہ کی محبت میں اہل بیت کو Ignore کر لیتے ہیں۔ یہ بھی خطرناک بات ہے۔ ہم ابھی درود شریف پڑھتے ہیں نا، نماز میں، پڑھیں گے نا؟
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ
کیا مطلب؟
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ایک بزرگ نے چالیس احادیث شریفہ صحیح درود و سلام کی جمع کی ہیں۔ میں نے اس میں دیکھا پچیس صیغے درود کے ہیں اور پندرہ سلام کے ہیں۔ 22 صیغے جو ہیں اس میں "آلِ محمد" کے ہیں۔ تین میں نہیں ہے۔ اب یہ سب صحیح احادیث شریفہ ہیں۔ اب بتاؤ 22 صحیح احادیث پچیس میں سے کتناpercent بنتی ہیں؟ تو اس پہ کتنا زور دیا گیا ہے؟
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میری اولاد نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے۔ جو ان کے ساتھ ہو گیا بچ گیا، جو رہ گیا وہ رہ گیا۔ اس وجہ سے ہمارے جتنے امام گزرے ہیں امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل یہ سب اہل بیت کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ دونوں امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء ہیں۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں، وہ دو سال میں نے جو حضرت کے ساتھ گزارے ہیں اگر میں نہ گزارتا تو ہلاک ہو جاتا۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا سن لو۔ مشہور شعر ہے شاید آپ حضرات کو یاد ہوگا میں الفاظ بھول گیا ہوں لیکن مفہوم یاد ہے۔ فرمایا اے منیٰ کو جانے والو ثقلین گواہ رہیں۔ اگر اہل بیت کی محبت، اہل بیت کی محبت جو ہے نا وہ رفض ہے، تو میں رافضی ہوں۔یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں۔
یہ بات ہے۔ یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ اونچی ہستیاں تھیں ہم بھول گئے ہیں۔ شاید Confuse ہو گئے ہیں۔
مجھ سے ایک صاحب نے پوچھا، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو امام کہہ سکتے ہیں؟ میں نے کہا یار بڑی عجیب بات آپ نے کی، عجیب بات آپ نے کی۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑپوتے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ارشاد ہے کہ میں بنا ہوں تو کس کے ذریعے سے بنا ہوں؟ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے بنا ہوں۔ تو آپ ان کے پردادا کو کہتے ہیں کہ ان کو میں امام کہہ سکتا ہوں؟ خدا کے بندو، امام ہونے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یہ ہماری غلط فہمیاں ہیں۔ ہم کسی اور سے گلہ نہ کریں نا، کچھ اپنی غلطیاں بھی تو ہیں۔ ہمیں یہ غلطیاں بھی نہیں کرنی چاہئیں۔
اہل بیت کی جو محبت ہے، اصل میں، میں آپ کو کیا بتاؤں، اللہ جل شانہ نے ایک عجیب نظام بنایا، یہ اللہ ہی کر سکتے تھے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔ دیکھیں، نسبی لحاظ سے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلفائے راشدین میں سب سے دور ہیں آپ ﷺ سے، سب سے دور نصبی لحاظ سے۔ پھر دور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، پھر دور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، سب سے قریب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ لیکن خلافت کو دیکھیں تو خلافت میں اول ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر علی کرم اللہ وجہہ۔ یہ اللہ پاک کا نظام ہے۔
اس مسئلے میں نسب کو نہیں رکھا۔ لیکن نسب کو ویسے بھی نہیں چھوڑا، ان کے ساتھ محبت کو لازمی قرار دے دیا۔ ان کے ساتھ محبت کو لازمی قرار دے دیا۔ تو اہل بیت کے ساتھ محبت ہے، صحابہ کا اتباع ہے۔ اہل بیت کے ساتھ محبت ہے، صحابہ کے ساتھ اتباع ہے۔ صحابہ کا اتباع کرنا ہے۔ جیسے ماں کے ساتھ محبت ہے، باپ کا اتباع کرنا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو صحابہ سارے ہیں نا؟ اتباع میں تو سب شریک ہیں، لیکن محبت کا جو درجہ ہے صحابہ کرام کو جتنا خیال تھا اہل بیت کا، خود عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرما رہی ہیں۔ فرما رہی ہیں کہ جس وقت تک حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا زندہ تھیں، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام صحابہ میں ایک بہت منفرد تھا۔ جس وقت وہ دنیا سے چلی گئیں، تو پھر وہ نہیں رہا۔بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو یہ محبت والا معاملہ بالکل جدا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آخری صحابہ میں سے تھے، بیٹھے ہوئے خانہ کعبہ کے پاس۔ حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے۔ لوگ ان کے پاس لے گئے کیونکہ نابینا ہو گئے تھے۔ ان سے کہا یہ زین العابدین ہیں۔ حضرت نے بہت پیار سے ان کا ہاتھ لے کر اپنے سینے پر اس طرح پھیرا، کہتے ہیں یہ تو ہمارے محبوب ہیں۔ اس طرح سینے پہ پھراتے رہے۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے پہ سوار ہیں، عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ساتھ جا رہے ہیں۔ ان سے کہا کہ یہ ہاتھ تھوڑا سا دے دیں۔ انہوں نے کہا پتا نہیں کیا چاہتے ہیں، ہاتھ دے دیا تو انہوں نے فوراً چوم لیا۔ انہوں نے کہا یہ کیا کیا آپ نے؟ انہوں نے کہا ہم نے اپنے بڑوں سے یہی سیکھا ہے۔ تو خیر وہ تھوڑی دیر جا کر انہوں نے کہا جی یہ ہاتھ دے دیں، تو انہوں نے دے دیا تو انہوں نے فوراً وہ چوم لیا۔ کہتے ہیں یہ کیا ہے؟ کہتے ہیں ہم نے اپنے بڑوں سے یہی سیکھا ہے۔
ان کی آپس میں ایسی محبتیں تھیں۔ لوگوں نے کیا کہانیاں بنا دی؟ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں اہل بیت کے ساتھ محبت، صحابہ کرام کا اتباع، امہات المومنین کے ساتھ، خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اور میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اس طرح جو ہے نا وہ سب جتنی بھی ہماری امہات ہیں، الحمد للہ سب کے ساتھ ہمارا ادب اور احترام اور محبت کا سلسلہ ہو۔ جیسے ماں کے ساتھ ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
تو یہ ہمارا ما شاء اللہ یہ ہے۔ کبھی بھی کسی کی باتوں میں آ کر اپنی عاقبت کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ معاملہ ہی ایسا ہے۔ یہ معاملہ بہت اوپر جاتا ہے۔ تو یہی میں عرض کرنا چاہتا ہوں، اعتدال یہی ہے۔ اسی میں اعتدال ہے۔
یہ ہماری جو امت ہے یہ امتِ وسط، یعنی بالکل اعتدال والی امت ہے۔ تو اس میں کیا ہے؟ اس میں ساری چیزوں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ صرف one-sided گیم نہیں ہے۔ کہ بس آپ صرف ایک رخ پہ دیکھیں اور پھر اس کے بعد اپنی رائے بنائیں اور اپنے فیصلے کر لیں، نہیں۔ اس میں ذرا غور کرنا چاہیے اور سب سے بڑی بات ہے آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ آپ ﷺ نے کسی کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟ یہی ہمارے لیے معیار ہے۔ اسی کے مطابق ہم چلیں گے۔
تو بہتر تو یہ ہے کہ ہم ان سب کے لیے ایصالِ ثواب کریں۔ اگر کوئی غلطی، کوتاہی ہم سے ہوئی ہو کسی کی بات، کسی کے بارے میں، باتوں میں، کچھ اس قسم کی بات ہو چکی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرے۔ اور آئندہ کے لیے ہم محتاط رہیں۔
کبھی کسی تاریخی واقعے کی بنیاد پر ہم کسی کے بارے میں کوئی غلط رائے نہ بنا دیں۔ دیکھیں بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہیں، صرف نہ جاننے کی وجہ سے انسان کا نظریہ اس میں مختلف ہوتا ہے۔ جس وقت وہ جان لیتا ہے، کہتے ہیں بھئی یہ تو واقعی بالکل ٹھیک بات تھی۔ بہت ساری غلط فہمیاں آپس میں ہماری ہوتی ہیں، جس وقت ہم لوگ نہیں جانتے کسی کا Approach، کسی کا Opinion نہیں جانتے کہ بھئی اس نے کس وجہ سے کیا ہے، ہم اس کے بارے میں اپنی ایک رائے بنا لیتے ہیں۔ جب وہ اس کو Explain کر لیتا ہے، پتا چل جاتا ہے، پھر آدمی کہتا ہے بھئی اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔
تو اسی طریقے سے صحابہ کرام کے بارے میں بہت سارے واقعات ایسے ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ میں آپ کو بتاؤں، علی کرم اللہ وجہہ اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان مشاجرات ہوئے ہیں، اس میں کوئی انکار نہیں ہے۔ لیکن آپ ان مشاجرات کو تو دیکھ رہے ہیں، مشاجرات کے بعد کیا ہوا ہے اس کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ مثلاً؛ آپس میں لڑائی ہوئی، لیکن ایک دوسرے کا جنازہ پڑھ رہے ہیں۔
ٹھیک ہے، ایک دوسرے کا جنازہ پڑھ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے محبت کی باتیں کر رہے ہیں۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب شہید ہوئے تو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے حضرات سے کہا، اب میرے سامنے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریفیں کرو، ان کے واقعات بتاؤ۔ وہ لوگ کہنے لگے، وہ کہتے ہیں بالکل وہ ایسے ہی تھے، بالکل وہ ایسے ہی تھے، بالکل وہ ایسے ہی تھے۔
اگر انہوں نے اختلاف کیا تو صرف اور صرف اجتہادی اختلاف کیا۔ اب اجتہادی اختلاف کیا ہوتا ہے؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہمارا فاتحہ خلف الامام والا مسئلہ ہے، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا۔ فرماتے ہیں: حرام ہے۔ امام پڑھ رہا ہو، آپ نہیں پڑھ سکتے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرض ہے۔
اب اختلاف کون سا ہے؟ فرض اور حرام کا۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو ماننے والے بھی ٹھیک ہیں، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ماننے والے بھی ٹھیک ہیں۔ ہے نا بات؟ اجتہادی اختلاف ہے۔ اگر اجتہادی اختلاف مسائل میں ہو سکتا ہے، تو معاملات میں نہیں ہو سکتا؟
اور وہ معاملات جس میں حق کے لیے اپنے آپ کو قربان کرنا ہو، تو کسی اور کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے آپ، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کون سی قربانی دی؟ اپنی قربانی دی نا! کس چیز کے لیے دی؟ حق کے لیے دی۔ جس چیز کو وہ حق سمجھتا تھا اس کے لیے جان قربان کر دی۔ تو ظاہر ہے۔ اسی طریقے سے اگر انہوں نے سمجھا کہ یہ غلطی پر ہے اور مانتا نہیں ہے، تو انہوں نے کہا اس آدمی کو شہید کرنا زیادہ آسان ہے بمقابلہ پوری امت کو خراب کرنا۔
تو یہ بات ہے۔ امت میں بعد میں بھی اس قسم کی باتیں ہوئیں۔ منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ جو تھے، ان کو فقہائے کرام نے باقاعدہ ان پر فتویٰ لگا دیا، تو ان کو شہید کر دیا۔ لیکن بعد میں وہ کہتے تھے کہ ہم ان کو غلطی پر نہیں سمجھتے۔ یہ صرف لوگوں کو بچانے کے لیے کیا ہے۔ اب ظاہر ہے اس قسم کی باتیں تو بعد میں بھی ہوئی ہیں۔
تو امت میں جب اختلاف ہو تو اس اختلاف کو اجتہاد کے رنگ میں دیکھنا چاہیے۔ اگر اجتہاد کے رنگ میں دیکھو گے تو کبھی پریشان نہیں ہوگے۔
درمیان میں کچھ ایسے لوگ تھے جن لوگوں نے سازش کی۔ سازش سے مراد یہ ہے کہ اس طرف بھی حملہ کیا، اس طرف بھی حملہ کیا۔ یہ سمجھے کہ انہوں نے حملہ کیا ہے اور وہ سمجھے کہ انہوں نے حملہ کیا، رات کا وقت تھا۔ مقابلہ شروع ہو گیا۔ تو اس قسم کے مسائل تو ہو گئے ہیں نا؟
تو بہرحال ہم سب کو کیا کرنا چاہیے؟ اگر علی کرم اللہ وجہہ کے وقت میں نہیں، کیونکہ آپ ﷺ نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو تعریف فرمائی تھی، وہ تعریف یہ کی تھی:
أَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ
بہترین قاضی کون ہے؟ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی تعریف ہے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی تعریف ہے، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی، اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی تعریف ہے، ایک علم کی وجہ سے تعریف فرمائی تھی کہ میں علم کا شہر ہوں، علی اس کا دروازہ ہے۔ شجاعت کے لحاظ سے تعریف فرمائی، اور قضا کے لحاظ سے تعریف فرمائی: أَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ۔
اچھا، اب جب یہ بات ہے، اگر یہ واقعات علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں نہ ہوتے، یہ اختلاف جس میں قتال تھا، کون فیصلہ کرتا بعد میں؟ اور کس کا فیصلہ صحیح ہوتا؟ اور پوری ایک فقہ وجود میں آئی، مسلمانوں کے درمیان میں اگر اختلاف ہو تو اس میں کیا کرنا چاہیے؟ اس کی فقہ اُس دور میں وجود میں آئی کہ اب کیا کرنا چاہیے؟
تو یہ سب چیزیں آپ ﷺ کے صحابہ کے دور میں ہوئی ہیں، تو پھر اس کے بعد، دیکھو آپ ﷺ کے صحابہ کے دور میں نبوت کا دعویٰ کیا گیا، ان کے ساتھ کیا کیا گیا؟ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت میں ہو گیا۔ اس طریقے سے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا۔ اس طرح جو ہے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت میں جو واقعات ہوئے، یہ سارے واقعات جو ہوئے ہیں، وہ سب ہمارے لیے دین کا حصہ ہیں۔ ہم لوگ اس سے اپنا دین سیکھتے ہیں۔
تو اسی طریقے سے جو مشاجراتِ صحابہ ہیں اس میں بھی پورا دین سکھایا گیا ہے۔ یہ بات ایک جگہ پر بڑی کام آ گئی۔ مجھ سے کسی Extremist نے پوچھا (Extremist ہوتے ہیں نا دنیا میں بہت سارے ہوتے ہیں)، Extremist نے پوچھا، یہ پاکستان کی فوج ایسی ہے، تو میں نے کہا میں کچھ نہیں کہتا، آپ صرف یہ کر لیں کہ مشاجراتِ صحابہ کا Chapter پڑھ لیں۔ جو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان میں ہوا تھا، میرے خیال میں شاید آپ کو جواب مل جائے گا۔ کافی عرصے کے بعد جواب آ گیا، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔
مقصد یہ دیکھو نا Extremism نہیں بھئی، ہر شخص کی Position کو دیکھو۔ سمجھو، اس کے مطابق بات کرو۔ یہ نہیں کہ جلد بازی میں آپ اتنے بڑے گیم کھیلنا شروع کر لیں، تو یہ ساری باتیں ہمارے، ما شاء اللہ ہمارے لیے رہنما باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔