ماہِ صفر کے بارے میں دینِ اسلام کی تعلیمات

احادیث از خطبات الاحکام، چالیسواں خطبہ، ماہ صفر کے بارے میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

یہ بیان ماہِ صفر سے وابستہ بدشگونیوں اور توہمات کی تردید کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ اسلام میں بدفالی کو شرک قرار دیا گیا ہے اور اس کا علاج اللہ پر کامل توکل ہے۔ ان توہمات کی بنیادی وجہ غیر اسلامی رسومات اور ذاتی خیالات ہیں جو عقیدے کو خراب کرتے ہیں۔ دین کو سمجھنے کا واحد صحیح اور یقینی ذریعہ صرف قرآن اور سنتِ رسول ﷺ ہیں، جن کی درست تفہیم صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کو معیار بنائے بغیر ناممکن ہے۔ حدیث سے انحراف اور من پسند عقلی تاویلات دین میں سنگین تحریف اور گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بے تحقیق معلومات بھی ایک بڑا فتنہ ہے، لہٰذا ہر خبر کی تصدیق کرنا لازم ہے۔ آخر میں، ان فتنوں سے بچنے کے لیے مستند علماء سے وابستہ رہنے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ اور ہدایت طلب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔  

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد۔

فَقَدْ حَانَ شَهْرُ صَفَرَ، يَتَشَائَمُ بِهٖ بَعْضُ النَّاسِ وَ يَتَطَيَّرُ كَمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مَعَ هٰذَا الْإِعْتِقَادِ يَبْتَدِعُوْنَ فِيْهِ النَّسِيْءَ النُّکْرَ، فَأَبْطَلَهُ اللهُ تَعَالٰی بِقَوْلِهٖ: ﴿اِنَّمَا النَّسِیْءُ زِيَادَةٌ فِی الْكُفْرِ﴾ (التوبہ: 37) وَ كَذٰلِكَ نَفٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الشُّوْمَ وَ الطِّيَرَةَ بِهٖ خُصُوْصًا وَّ بِكُلِّ شَىْءٍ عُمُوْمًا، وَ أَزَاحَ بِهٰذَا النَّفْيِ عَنَّا ھُمُوْمًا وَّ غُمُوْمًا، فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''لَا عَدْوٰى وَ لا طِيَرَةَ وَ لَا هَامَّةَ وَّ لَا صَفَرَ''۔ (بخاری، رقم الحدیث:5707)

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: ''یَتَشَاءَمُوْنَ بِدُخُوْلِ صَفَرَ''۔ فَقَالَ النَبِیُّ ﷺ: ''لَا صَفَرَ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث:3915، بِإِخْتِلَافِ الْأْلْفَاظِ) وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''الطِّیَرَۃُ شِرْكُٗ [قَالَهٗ ثَلٰثاً]، وَ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ (رضی اللہ عنہ): مَا مِنَّا إِلَّا وَلٰکِنَّ اللهَ یُذْھِبُهٗ بِالتَّوَکُّلِ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث:3910) وَ عُلِمَ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ وَسْوَسَةَ الطِّیَرَۃِ إِذَا لَمْ یَعْتَقِدْھَا بِالْقَلْبِ وَ لَمْ یَعْمَلْ بِمُقْتَضَاھَا بِالْجَوَارِحِ وَ لَمْ یَتَکَلَّمْ بِھَا بِاللِّسَانِ لَا یُؤَاخَذُ عَلَیْھَا، وَ ھٰذَا ھُوَ الْمُرَادُ بِالتَّوَکُّلِ۔

وَ مَا رُوِیَ أَنَّهٗ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ قَالَ: ''الشُّؤْمُ فِي المَرْأَةِ وَ الدَّارِ وَ الْفَرَسِ'' (بخاری، رقم الحدیث:5093) فَھُوَ عَلٰی سَبِیْلِ الْفَرْضِ لِمَا قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''وَ إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِيْ شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَ الْمَرْأَةِ وَ الدَّارِ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث:3921)

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ ﴿قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ ۚ اَئِنْ ذُكِّرْتُـمْ ۚ بَلْ اَنْتُـمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴾ (یس: 19)

صدق اللہ العلی العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم۔

معزز خواتین و حضرات! صفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اور اس کے بارے میں لوگوں میں کئی بدشگونیاں پائی جاتی ہیں۔ نیک شگون، یہ تو اسلام میں ہے۔ مثلاً آپ کا کوئی کام اچھا ہو جائے، آپ کہتے ہیں فلاں کی برکت ہے۔ یہ ٹھیک ہے۔ لیکن برا شگون لینا، یہ اسلام میں نہیں ہے، بدشگونی جرم ہے۔ جیسے کوئی کہہ دے کہ فلاں کی نحوست ہے۔ اس مقابلے میں ہندوؤں میں بدشگونی بہت زیادہ ہے۔ وہ ہر چیز میں یہی کہتے ہیں، فلاں کی وجہ سے ہو گیا، فلاں کی وجہ سے ہو گیا۔ ہمارے لوگ چونکہ ہمارے جو بڑے تھے ہندوستان اور پاکستان کے لوگ، یہ ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر چونکہ رہے ہیں، لہٰذا ان میں کچھ باتیں ان کی آ گئی ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی جو customs ہیں، رسومات ہیں، ان کو دیکھنا پڑے گا۔ تاکہ ان رسومات سے بچ جائیں جو ہمارے عقائد کو اور ہمارے اعمال کو خراب کرنے والی ہیں۔

سب سے پہلے جو آیتِ کریمہ اس میں تلاوت ہوئی ہے، اس میں اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ

بے شک مہینوں کا ہٹانا کفر میں ترقی کا باعث ہے۔

یعنی منجملہ اور کفریہ حرکات کے، یہ حرکت بھی کفر ہے جو کفارِ قریش ماہِ محرم وغیرہ کے متعلق کیا کرتے تھے۔ مثلاً اپنی غرض سے محرم کو صفر قرار دے کر اس میں لڑائی وغیرہ کو حلال کر لیتے۔ وغیرہ ذلک۔

اب دیکھ لیں۔ ایک طریقہ چلا آ رہا ہے کہ یہ مبارک مہینے ہیں۔ ان کے اندر لڑائی نہیں کرنی ہے۔ اس میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرنا اس کو کفر میں زیادتی بتایا گیا ہے۔ یعنی دین کے اندر اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ دین چونکہ اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ پیغمبروں کے ذریعے سے آتا ہے۔ لہٰذا پیغمبر ہو گا تو بتائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ چیز ہے۔ اور اگر پیغمبر نہیں ہو گا تو کون بتائے گا؟ کوئی اور بتا نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کے مقابلے میں جو جو چیزیں ہیں وہ ساری ظنی ہیں۔ مثلاً کوئی خواب دیکھے، ظنی ہے۔ کوئی کسی کو کشف ہو، یہ ظنی ہے۔ اس کی بنیاد پر دین نہیں بنتا۔ دین میں پکی باتیں ہوتی ہیں۔ جو وحی سے ثابت ہوتی ہیں۔ اور وحی دو قسم کی ہے۔ ایک کو وحی متلو کہتے ہیں اور ایک کو وحی "غیر متلو" کہتے ہیں۔ وحی "متلو" وہ ہے جو کہ تلاوت کی جاتی ہے جیسے قرآن۔ اور وحی غیر متلو وہ ہے جو اگرچہ اس کی تلاوت نہیں کی جاتی لیکن ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی۔ دوسری بات کہ قرآن میں الفاظ بھی اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اور جو وحی غیر متلو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل پر اتاری جاتی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بیان فرماتے ہیں۔ تو ہمیں یا قرآن بتائے، یا سنتِ رسول ﷺ سے معلوم ہو۔ اس کے ذریعے سے ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کسی چیز کا۔

قرآن تو کتاب ہے۔ اس میں تو جیسے ارشاد فرمایا گیا اسی طرح اس کو لینا ہو گا۔ ہاں، تفسیر کے لیے ہم علماء کے محتاج ہیں۔ لیکن تفسیر بھی کیسے ہو گی؟ تفسیر بھی سنتِ رسول کی روشنی میں ہو گی۔ کیونکہ سب سے پہلے مفسرِ قرآن جو تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر قرآن کی کسی آیت کا جو مطلب بتا دیا، وہی فائنل ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اگر ایسی بات نہ ہوئی ہو تو پھر غور و خوض کر کے اس کے معنوں میں، تفصیل بیان کی جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے علمائے کرام جو اس میں بات کرتے ہیں اس میں اختلاف بھی ہوتا ہے اجتہادی۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں صحابہ کرام کی زندگی دیکھنی ہو گی۔ صحابہ کرام نے اس پر عمل کیسے کیا؟ میں اگر قرآن کو دیکھ کر اور حدیث کو پڑھ کر اس سے کوئی مطلب لیتا ہوں تو مجھے correct کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اس وقت نہیں ہیں، کہ وہ بتا دیں کہ یہ بات ایسی نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث کی تین قسمیں ہیں؛ ایک فعلی حدیث ہوتی ہے، ایک قولی حدیث ہوتی ہے، اور ایک تقریری حدیث ہوتی ہے۔ فعلی حدیث؛ وہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام خود کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اور قولی حدیث؛ وہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں فرمایا ہو کہ "کرو" یا فرمایا کہ "نہ کرو"۔ یہ قولی حدیث ہو گئی۔ اور تقریری حدیث؛ وہ ہے جس میں صحابہ کرام میں سے کسی نے کوئی عمل کیا اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنے دیا۔ یا اس کو کیا صحابہ کرام نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا کہ نہ کرو۔ یہ دونوں قسمیں تقریری حدیث ہیں۔

تو جو فعلی حدیث ہے، اس کی روایت کرنے والا کون ہو گا؟ اس وقت کون موجود تھے؟ صحابہ کرام۔ اور جو قولی حدیث ہے وہ کس کو کہا؟ کسی صحابی سے فرمایا۔ یا کسی کو روکا تو وہ بھی صحابی ہے۔ یا صحابی اس کی روایت کرے گا۔ تو یہ بھی صحابہ پر منحصر ہے۔ اور جو تقریری ہے وہ تو ہے ہی اس طرح کہ وہ تو عمل ہی صحابہ کا ہوتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو روکتے ہیں یا کرنے دیتے ہیں۔ تو گویا کہ صحابہ کرام کی زندگی ہمارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا نمونہ ہے۔

اس وجہ سے صحابہ کرام کے بارے میں ہمیں بڑی محتاط زبان استعمال کرنی پڑے گی چونکہ ہمارے دین کی بنیاد ہیں۔ جیسے قرآن میں اگر کوئی بات کرتا ہے تو ہم نہیں مانتے کیونکہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی کہتا ہے تو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ تو اس طرح صحابہ کرام کے بارے میں بھی ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام قرآن اور سنت کے احکامات کے مظاہر ہیں۔ یعنی ان کے ذریعے سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے یہاں تک فرمایا گیا کہ صحابہ کرام سے کچھ ایسے واقعات اگر ہوئے جو قابلِ گرفت ہوتے ہیں۔ تو ان کو سمجھو کہ تکوینی طور پر ان سے ایسا کرایا گیا کہ اس پر جو گرفت ہوئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں، وہ ہمارے لیے نمونہ بن گیا۔ اگر وہ کام اس وقت نہ ہو چکا ہوتا، تو یہ گرفت کیسے ہوتی؟ کیسے پتہ چلتا کہ یہ کام نہیں کرنا چاہیے؟ یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔ کیسے پتہ چلتا؟ اس وقت جو ہے صحابہ کرام کے اعمال موجود ہوتے ہوئے لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ تو پھر اگر یہ نہ ہوتا تو پھر پتہ نہیں لوگ کیا کرتے کہ "نہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے"۔ اقبال نے بھی اس پر طنز کیا تھا نا کہ تاویل سے قرآن کو بنا دیتے ہیں پازند۔ مطلب اپنی مرضی سے اس کے معنی بیان کر لیتے ہیں۔

میں نے ایک کتاب پڑھی جرمنی میں۔ ہمارے ایک دوست تھے۔ اس نے مجھے وہ کتاب پڑھنے کو دی۔ اس کا جو author تھا وہ تھا غلام احمد پرویز۔ جو منکرِ حدیث ہے، مشہور۔ مجھے پتہ تھا کہ منکرِ حدیث ہے لیکن میں نے کہا کہ چلو اس سے لے لوں، اس کے ساتھ ہونا اس کا خطرناک ہے۔ تو میں اس سے لے لیتا ہوں، ایک تو مجھے پتہ چل جائے کہ یہ کیا کہتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ کم از کم اس کے پاس نہیں رہے گا۔ تو میں نے پڑھنا شروع کیا تو پڑھنے میں پتہ چلا کہ "وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً"۔ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں، ملائکہ، یہ اصل میں کائناتی قوتیں ہیں۔ مثلاً magnetism اور اس طرح یہ کششِ ثقل وہ gravity۔ اور یہ ہوا اور یہ اور فلاں یہ ساری چیزیں یہ کائناتی قوتیں، یہ ملائکہ ہیں۔ تو یہ اصل میں گویا کہ انسان کے ماتحت کر دیے گئے انسان اس کو جیسے استعمال کرنا چاہے تو کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے۔ آگے میں پڑھتا رہا آدم علیہ السلام کا ذکر آیا۔ فرمایا آدم علیہ السلام کوئی شخص نہیں گزرا۔ ویسے لوگوں نے مشہور کر دیا ہے کہ آدم علیہ السلام ہوا کرتا تھا۔ یہ کوئی بابا ہمارا نہیں ہے بس صرف آدمی انسان اس کو "آدم" کہتے ہیں۔ تو یہ آدم علیہ السلام کے سامنے اس کو مسخر کر دیا۔ کتاب تو میں نے بند کر دی۔ بس میرے لیے اتنا کافی تھا۔

اگلے دن ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا بھئی، یہ بتاؤ آدم علیہ السلام کوئی تھا آپ کے خیال میں؟ کہتا ہے یار ہمارے بابا ہیں، ہم سب ان کی اولاد ہیں۔ میں نے کہا اس کا مطلب ہے کہ پھر تو آپ مسلمان لگتے ہیں۔ وہ حیران ہو رہا ہے کہ میں اس کو کیا کہہ رہا ہوں۔ پھر میں نے کہا بھئی فرشتے، یہ کچھ آپ کو پتہ ہے فرشتے کوئی ہیں؟ کہتے ہیں "جی منکر نکیر فرشتے ہر ایک کے ساتھ ہیں"۔ تو ہیں نا فرشتے، میں نے کہا اس کا مطلب ہے پھر تو آپ مسلمان لگتے ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں اب کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا یہی تو کہہ رہا ہوں دیکھو آپ نے مجھے جو کتاب دی ہے اس میں تو یہ لکھا ہے کہ فرشتے تو کائناتی قوتیں ہیں اور یہ آدم علیہ السلام تو کوئی تھا ہی نہیں۔ اب وہ خود حیران ہو گیا اس کا مطلب ہے اس نے خود نہیں پڑھی تھی۔ تو میں نے کہا کہ دیکھو آپ نے ایک ایسی کتاب مجھے دی جو بہت خطرناک کتاب ہے۔ خود نہیں پڑھا مجھے دے دیا مجھے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اب اس کی ایک سزا ہے۔ اور وہ سزا یہ ہے کہ یہ کتاب ضبط ہو گئی اب یہ آپ کو نہیں ملے گی۔ وہ کہتا ہے یہ تو بہت مہنگی کتاب ہے اور یہ میں نے پاکستان سے منگوائی ہے اور یہ اور وہ۔ میں نے کہا جو کچھ بھی ہے۔ یہ کتاب آپ کو نہیں ملے گی ہاں البتہ اس کے بدلے میں آپ کو ایسی کتاب دوں گا جو آپ کو فائدہ پہنچائے گی۔ آپ پڑھیں آپ کی بیوی پڑھے۔ فائدہ پہنچے۔ کہتے ہیں کیسے۔ میں نے کہا Pickthall کا انگلش ترجمہ۔ میں نے کہا وہ میرے پاس ہے تو میں آپ کو گفٹ کرتا ہوں۔ یہ آپ پڑھیں۔ یہ کیا طریقہ ہے وہ آپ ایسی کتابوں کو پڑھتے ہیں جو فتنے ہیں۔

بہرحال میں نے اس سے وہ کتاب، وہ میرے پاس ہو گئی۔ "ابلیس و آدم" اس کا نام ہے۔ اب اندازہ کر لیں۔ اگر حدیث سے کوئی کٹ جائے تو پھر یہ حال ہو گا۔ پھر یہ باتیں ہوں گی۔ جیسے جاوید غامدی ہے۔ وہ بھی اپنے دماغ سے اور اپنی عقل سے وہ باتیں کرتے ہیں اور حدیث شریف کی طرف نہیں جاتے۔ تو پھر وہ کیا کہیں گے، موسیقی بھی جائز ہے۔ فلاں چیز بھی جائز ہے۔ حتّیٰ کہ مجھے بہت خطرناک بات معلوم ہوئی جس پہ تو میں ہل گیا۔ وہ حج کے موقع پر ایک صاحب تھے ماسکو میں تھے، پاکستانی ڈاکٹر تھے لیکن ماسکو میں تھے۔ تو ان سے میری ملاقات ہوئی اصل میں اس نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا میں نے جواب دے دیا۔ اس سے ذرا تھوڑا سا ان کے ساتھ hello hay ہو گئی۔ پھر ملنا جلنا ہو گیا. پھر یہ تاتاری مسلمان تھے وہاں پر جو آئے ہوئے تھے ماسکو سے۔ تو ان کو بتا دیا انہوں نے پھر ہماری ناشتے کی دعوت کی۔ پھر ان کے ساتھ بات چیت ہو گئی۔ تو ایک دن مجھے کہتے ہیں کہ تیس سال سے میں بغیر شادی کے ایک عورت کے ساتھ رہ رہا ہوں۔ تو آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں عیسائی ہے۔ میں نے کہا بات سنو، چھوڑو یہ عام لوگوں کے لیے ہم نہیں بتاتے کہ یہ جائز ہے۔ لیکن آپ کے لیے اس حرام کے درجے جو اس وقت ہے اس سے کم حرام کہ آپ اس سے نکاح کر لیں۔ اب کم از کم آئندہ زندگی تو آپ کی ٹھیک ہو جائے۔ تو کم از کم یہ تو کر لو۔ بعد میں آپ اس پہ کوشش کر لیں کہ مسلمان بھی ہو جائے۔ مجھے کہتے ہیں کہ جاوید غامدی میرا دوست ہے، اس سے میں نے پوچھا تھا۔ تو اس نے کہا کوئی بات نہیں کوئی فکر نہیں۔

اب بتاؤ اگر یہ بھی کوئی فکر نہیں تو پھر کس چیز کی فکر ہے؟ اسلام کدھر ہے پھر؟ موسیقی جائز ہے، شراب جائز ہے -نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- زنا جو ہو گیا نا تو زنا جائز ہے۔ اب بتاؤ اسلام کدھر ہے؟ پھر یہی بے مہار بات چیت ہو گی۔ شتر بے مہار بنیں گے۔ تو اس وجہ سے حدیث کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ سنتِ رسول کو جانے بغیر ہم قرآن کو نہیں سمجھ سکتے۔ اور صحابہ کرام کی زندگی اور واقعات کے بغیر، "آثارِ صحابہ" جن کو کہتے ہیں، اس کے بغیر ہم احادیث شریف کو نہیں سمجھ سکتے۔ کیونکہ راوی بھی وہی ہیں۔ تو یہ بھی نہیں پتہ تو اس کا مطلب ہے کہ سارا زور صحابہ پر آ گیا۔

ہمارے ایک ساتھی ہیں، عرب ہیں۔ بڑا اچھا ما شاء اللہ ساتھی ہے۔ ایک جگہ ان کے ساتھ بات چیت ہو گئی، تقریباً گھنٹہ سوا گھنٹہ۔ اس نے اتنی کتابیں تصوف کی پڑھی تھیں میں دب گیا بالکل میں نے کہا یار اس نے تو کمال کیا ہے۔ اتنی کتابوں کا تو نام بھی ہم نے نہیں سنے تھے۔ چونکہ عرب تھے اور عربی میں کتابیں تو موجود تھیں تو وہ پڑھتا رہا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا۔ لیکن ایک معمولی سی بات میں پھنسے ہوئے تھے۔ مجھے کہتے ہیں شیخ میں اللہ اور اپنے درمیان کسی تیسرے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اپنے خیال میں بڑا توحید کی بات کر رہا تھا۔ میں نے کہا شیخ کم از کم ایک کو ماننا پڑے گا۔ ایک کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں کون؟ میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ وہ فوراً تنبیہ ہو گئے کہتے ہیں ہاں، ہاں بالکل، بالکل، بالکل، نعم نعم۔

میں نے کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو جاننے کے لیے، سمجھنے کے لیے ہمیں صحابہ کرام کو ماننا پڑے گا۔ کیونکہ ان کی بات ہم تک صحابہ کرام کے ذریعے سے پہنچتی ہے۔ کہتے ہیں نعم! نعم! ٹھیک ہے۔ میں نے کہا صحابہ کرام کی بات کو پہنچنے تک، پہنچنے کے لیے ہمیں تین بڑے گروہوں کو ماننا پڑے گا۔ کون؟ میں نے کہا محدثین، فقہاء اور صوفیاء کرام۔ محدثین جو ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اخبار جو کہ صحابہ کرام نے بیان کیے، وہ بیان کرتے ہیں اس کے وہ ہیں جس کو کہتے ہیں ذمہ دار ہوتے ہیں۔

اور جو فقہاء کرام ہیں وہ ان سے مسائل مستنبط کرتے ہیں۔ تو اس لیے وہ ان کو ماننا پڑے گا۔ اور صوفیاء کرام اس پر عمل کرواتے ہیں۔ جو رکاوٹ نفس و شیطان کی ہے اس سے دور کرواتے ہیں اور اس پر عمل کرواتے ہیں۔ سر ہلا دیا۔ میں نے کہا محدثین اور فقہاء کرام کی بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں علمائے کرام کی محتاجی ہے۔ اور صوفیائے کرام کی بات تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے شیخ کے ساتھ ہونا پڑتا ہے۔ اس پر خاموش ہو گئے کچھ نہیں کہا۔ سفر کچھ کیا لیکن درمیان میں کچھ اتنی جلدی تو نہیں ہوتا نا۔

خیر مجلس ہماری ختم ہو گئی۔ ہم آ گئے۔ تین چار دن کے بعد وہ خانقاہ پہنچ گئے اور بیعت کر لی۔ پھر کتابیں تو پڑھی تھیں نا۔ تو اس نظر سے پھر پڑھ لی دوبارہ شاید -واللہ اعلم- تو پھر بیعت بھی کر لی، ذکر بھی لے لیا، اور ما شاء اللہ اب ہمارے ساتھ جب بھی آتے ہیں پاکستان تو۔ آج کل دبئی میں ہیں۔

تو مطلب میرا یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے، لوگوں کے ذہنوں میں اشکالات ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اشکالات سطحی ہوتے ہیں۔ ذرا ان کو تھوڑا سا طریقے سے tackle کیا جائے تو ختم ہو سکتے ہیں۔ طالب ہو۔ طالب ہونا ضروری ہے۔ "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا" پہلے ہے۔ "لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا" بعد میں ہے۔ پہلے اپنی طلب کا اظہار کریں گے۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ بچہ روئے گا نہیں تو ماں دودھ بھی نہیں دیتی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے مانگنا پڑتا ہے۔ طالب بننا پڑتا ہے۔

اور یقین جانیے کہ اگر اللہ پاک سے کوئی مانگے تو اللہ دیتا ضرور ہے۔ ہدایت کی بات کر رہا ہوں۔ باقی چیزوں کو تو اس پر منحصر کرتے ہیں نا کہ اس کے لیے مفید ہے یا نہیں کیونکہ ہدایت سب کے لیے مفید ہے۔ تو اس وجہ سے ہدایت کی دعا جو بھی کرتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتے ہیں۔ اور یہ جو ہم سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں، سورہ فاتحہ میں ہر نماز کی ہر رکعت کے اندر سورہ فاتحہ ہے۔ ہر نماز کی ہر رکعت کے اندر سورہ فاتحہ کم از کم ہے۔ قرآن کی تلاوت بعض میں ہے بعض میں نہیں ہے لیکن سورہ فاتحہ کم از کم ہے۔ تو سورہ فاتحہ میں "اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ"، یہ ہم پڑھتے ہیں۔ اب یہ بار بار جو دعا کر رہے ہیں، کس لیے کروائی جا رہی ہے؟ کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے، اگر یہ نہ ہو تو دنیا کی ساری چیزیں آپ کے پاس ہوں، کچھ بھی نہیں، تباہ و برباد ہیں آپ۔ اور اگر کچھ بھی نہ ہو اور یہی چیز ہو تو آپ بالکل ما شاء اللہ سب کچھ آپ کے پاس ہے۔ تو ہدایت بہت بڑی چیز ہے۔ اس لیے ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے۔

اور بے ہدایتی سے دور رہنا چاہیے، اس سے بچنا چاہیے۔ "رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ"، یہ کیا چیز ہے؟ (اے اللہ ہمارے دل میں کجی نہ ڈال۔ بعد اس کے کہ ہمیں تو نے ہدایت دے دی۔ اور اپنے آپ سے ہمیں عطا فرما رحمت۔ بے شک تو بغیر استحقاق کے عطا فرمانے والا ہے)، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ تو یہ دعا ہمیں کرنی چاہیے نا؟ بہت بڑی دعا ہے۔ کجی سے بچنا چاہیے۔ کجی ایسی خطرناک چیز ہے جیسے جاوید غامدی کا میں نے ابھی ذکر کیا۔ توبہ استغفراللہ۔ تباہی اور بربادی ہے۔ تو یہ میں عرض کر رہا ہوں کہ ہمیں اللہ پاک سے مانگنا چاہیے۔ تو بات خیر کافی دور تک پہنچ گئی لیکن مفید تھی۔

اصل میں تو صفر کے مہینے کی بات ہو رہی تھی، کہ صفر کے مہینے کے ساتھ لوگوں نے عجیب و غریب چیزیں وابستہ کی ہیں۔ بدشگونیاں۔ بدشگونیاں وابستہ کی ہیں کہ اس میں بلائیں اترتی ہیں۔ اور ان بلاؤں کے لیے پھر کچھ انہوں نے اپنے طور پر ٹونے ٹوٹکے بھی بنائے ہیں کچھ وظیفے بھی بنائے ہیں۔

یہ ہمارے عوام کی ایک کمزوری ہے اس سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کمزوری کیا ہے؟ کہ دنیا کے کسی نقصان کو برداشت نہیں کر سکتے۔ تو اگر آپ کسی عمل سے ان کو کہہ دیں کہ اس سے آپ کو فلاں دنیا کا نقصان ہو جائے گا یا ہو سکتا ہے تو بس پھر اس کی طرف چلنا موت ہے۔ فلاں مہینے میں شادی نہ کرو ورنہ یہ شادی تباہ ہو جائے گی۔ ختم ہو جائے گی۔ بس اب، وہ نہیں کرتے۔

وہ جی اتوار کے دن کپڑے نہیں بدلنا کیونکہ یہ ہو جائے گا۔ اور اگر کوئی گھر سے کوئی چلا جائے تو پیچھے جھاڑو نہیں دینی چاہیے ورنہ پھر یہ ہو جائے گا۔ اب لوگوں نے اپنے اپنے طور پہ مشہور کیے ہیں۔ بعض چیزوں کا ٹیسٹ بہت کلیئر ہے۔ مثال کے طور پر یہ شادی والی بات ہے۔ مجھے بتاؤ جن جن کی اس مہینے میں شادیاں ہوئی ہیں اور ان کی طلاق ہوئی ہے وہ گن لو کہ کون کون سے مہینے میں ان کی شادیاں ہوئی تھیں۔ تو پتہ چل جائے گا بھئی کن کن کی کس وقت میں ہوئی تھی۔ بس یہ اپنی طرف سے ایک چیزیں بنائی ہوئی ہیں لوگوں نے۔

وہ ہمارے گھروں میں یہ بات ہوا کرتی تھی کہ وہ عورتیں، عورتیں ہی زیادہ تر توہم پرست ہوتی ہیں زیادہ تر۔ اور مرد جو توہم پرست ہوتے ہیں وہ عورتوں سے باقاعدہ سیکھ سیکھ کر توہم کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کی اسپیشلسٹ عورتیں ہیں۔ تو خیر بہرحال یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاں یہ چیز مشہور تھی کہ کوا جب بولے گا تو مہمان آتے ہیں۔ میں نے کہا اس کا ٹیسٹ تو بہت آسان ہے، ایک کاپی لے لو۔ اس میں آپ ایک شخص وہ جب جب بھی مہمان آتا رہے تو لوگ نوٹ کریں، اس وقت فلاں تاریخ کو مہمان آیا۔ اور دوسری کاپی کسی دوسرے کو دے دو اور اس کو کہو جب جب کوا بولے تو اس میں لکھا کرے کہ کوا فلاں ٹائم پہ بولا تھا۔ اور پھر پورے مہینے کے بعد ریکارڈ compare کر لو۔ کہ بھئی کس وقت کوا بولا تھا اور کس وقت مہمان آئے تھے۔ رزلٹ معلوم ہو جائے گا۔ پتہ چلے گا کہ صرف باتیں ہی ہیں۔ ختم ہو گئی بات۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ انسان وہ کر سکتا ہے، اپنی logic کو، اپنی عقل کو استعمال کر کے ان باتوں سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ تو یہ جو صفر کے معاملے میں بلکہ یہاں تک سنا ہے -واللہ اعلم- کہ اگر کوئی چیز ٹوٹ جائے تو پھر سات مرتبہ ٹوٹے گی۔ عجیب و غریب باتیں ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اس سے بچنا چاہیے۔ ہمارا دین بڑا پاک دین ہے بہت ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ لہٰذا اپنے دین کی طرف آؤ۔ اور دیکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔ صحابہ کرام نے کیا فرمایا ہے؟ علمائے کرام تو چونکہ اپنے وقت کے ہوتے ہیں نا تو ان کے ساتھ تو لوگ مقابلے کی صورت میں ہوتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو تو آپ ignore نہیں کر سکتے اور ساتھ صحابہ کرام کی بات۔ تو میں نے ابھی جو تلاوت کی ہیں چیزیں وہ ذرا میں آپ کو بتاتا ہوں۔ آپ کو ان شاء اللہ اندازہ ہو جائے گا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور یہاں پر کیا فرمایا جا رہا ہے۔

تو ایک تو یہ آیتِ کریمہ میں نے آپ کو بتا دی کہ اس کے بارے میں ہے, نسیء کے بارے میں۔

حدیث شریف میں ارشاد فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ نہ مرض کا تعدیہ ہے بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو مریض بنایا اس طرح دوسرے کو بھی مستقل تصرف سے مریض کر دیتے۔ میل جول وغیرہ سے مرض کسی کو نہیں لگتا یہ سب وہم ہے۔ اور نہ جانور کے اڑنے سے بدشگونی لینا کوئی چیز ہے جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ داہنی جانب سے تیتر وغیرہ اڑے تو منحوس سا جانتے ہیں یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ اور نہ الو کی نحوست کوئی چیز ہے جیسا کہ عام طور پر لوگ اس کو منحوس خیال کرتے ہیں، یہ بالکل من گھڑت بات ہے اور یہ حدیث صریح کے خلاف ہے اور ایک رسم اس ماہ میں آخری چہار شنبہ کی مروج ہے یہ بھی بالکل بے اصل ہے۔

سب سے پہلے میں تعدیہ کا ذکر کرتا ہوں، تعدیہ کیا چیز ہے؟ تعدیہ اصل میں متعدی بیماری کا لگنا ہے۔ اس کے بارے میں چونکہ دونوں قسم کی احادیث شریف موجود ہیں۔ اس وجہ سے ہم دونوں کا خیال رکھیں گے۔ اور یقین اپنی اپنی جگہ پہ صحیح رکھیں گے۔ سبب پہ ہم بات کر سکتے ہیں۔ یہ وہ عقیدہ ہم اپنا disturb نہیں کر سکتے۔

چونکہ بعض احادیث شریف میں یہ ہے کہ وہ جو جذامی ہے اس سے ایسے بھاگو جیسے کہ شیر سے۔ اور یہاں پر یہ فرمایا گیا کہ کچھ نہیں ہے تو اصل میں بنیادی بات تو یہ ہے کہ جذامی کو بھی اگر جذام لگتا ہے تو کسی سے بھی لگے گا تو اللہ کے حکم سے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں لگ سکتا۔ تو یہ عقیدہ تو پکا رکھنا ہے، کہ مطلب یہ ہے کہ اس وجہ سے لگے گا۔ نہیں اس وجہ سے نہیں اللہ کے حکم سے لگے گا۔ بہرحال اگر کسی کی immunity کمزور ہو جائے۔ سبب کے لحاظ سے بات کر رہا ہوں۔ immunity کمزور ہو جائے تو بیماری کوئی بھی اس پہ بہت آسانی کے ساتھ حملہ کر سکتی ہے۔ اور کسی قسم کا وہم بھی ہو یہ immunity کو مارتا ہے immunity کو کم کرتا ہے۔ لہٰذا جس کا خیال یہ ہو کہ بیماری لگتی ہے، اس کا وہم تو ہے۔ لہٰذا اس کو بچنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی immunity گرنے کی وجہ سے اس کو لگے گا اور اس کا عقیدہ بنے گا کہ یہ تو اس وجہ سے لگا ہے۔ یہ والی بات۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ کام خراب ہو جاتا ہے۔

کیوں کہ ہمارے اندر اپنا پورا دفاعی نظام موجود ہے۔ دیکھو ہر چیز یہ تو آپ بیماری کی بات کر رہے ہیں نا یہ گرد نہیں ہے گرد یہ بھی ہمارے جسم کے اندر کچھ گڑبڑ کرتی ہے نہیں کرتی؟ یا بدبو جو آرہی ہے یہ بھی ہمارے جسم کے اندر کرتے ہیں مختلف قسم کی گیسیں ہیں۔ تو یہ لیکن انسان کے اندر جو immunity ہوتی ہے immunity کی وجہ سے وہ repel کرتے ہیں چیزوں کو باہر۔ یہ ہمیں جو چھینک آتی ہے یہ کیا چیز ہے؟ اگرچہ لوگ اس کو برا سمجھتے ہیں لیکن اسی کے ذریعے سے تو مواد خارج ہوتا ہے۔ جو آپ کے جسم میں پہنچ چکے ہوتے ہیں اس کو دوبارہ زور سے نکال لیتے ہیں تاکہ آپ کے جسم کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے اس لیے الحمد للہ اس پہ کہا جاتا ہے نا چھینک آنے پہ کہ آپ کے جسم کی حفاظت ہو رہی ہے۔ اور یہ صحت کی علامت ہے کہ مطلب یہ ہے کہ آپ کی صحت میں اس کے لیے reaction موجود ہے۔ تو یہ بات ہے۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہمارا جو immunity سسٹم ہے وہ باقاعدہ بے شک باہر سے حملہ ہو بھی جائے اگر immunity مضبوط ہو تو کام ہو جاتا ہے۔

یہ ہمارے ایک سلسلے کی خاتون ہیں۔ اس نے کرونا کے دنوں میں مجھے WhatsApp کیا کہ مجھے سر میں درد ہو گیا، پھر گلے میں تکلیف ہو گئی، پھر تھوڑا سا temperature ہو گیا۔ اور پھر اس کے بعد وہ temperature ٹھیک ہو گیا، میں ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے تسلی دی کہ these all are good signs۔ کیونکہ کرونا ہی تھا، سر پہ اثر کر لیا سر سے آ گیا گلے پہ اور اس سے تھوڑا سا temperature ہونے کو تھا کہ immunity نے اس کو پکڑ لیا اور ختم کر دیا۔ تو اس کا مطلب ہے آپ کی immunity full ہے۔ لہٰذا آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں احتیاطی طور پر اس نے کچھ دوائیاں دے دیں فرمایا کہ نہیں آپ کو کچھ نہیں ہو گا بس ہو گیا اس نے پکڑ لیا۔ تو اب دیکھیں جانتا تھا اس کو تو کوئی مطلب۔ تو اس طرح immunity اگر ہوتی ہے تو آ بھی جائے تو پھر واپس۔ اور immunity نہ ہو تو دور سے بھی۔

تو بہرحال یہ ہے کہ اب جو وہم بنیاد ہے تو وہم نہ کرو۔ تو بہت سارے جو لوگ مرے ہیں کرونا میں وہ دہشت سے مرے ہیں۔ یہ تو باقاعدہ proven چیز ہے کہ سانپ سارے زہریلے نہیں ہوتے۔ یعنی بہت زیادہ زہریلے جس سے انسان مرتا ہے۔ تکلیف تو ہوتی ہے لیکن بہت زیادہ زہریلے جس سے انسان مرتا ہے وہ بہت کم ہیں وہ سانپ۔ لیکن اگر کسی کو سانپ سے ڈر ہونا اور جیسے سانپ کو دیکھے کہ اس نے اس کو ڈس لیا تو بس گیا۔ اس کی ساری immunity بیٹھ جاتی ہے۔

بلکہ ایک واقعہ میں نے پڑھا ہے۔ ناقابلِ فراموش واقعات میں کہ ایک نانبائی نے یہ بتایا تھا کہ میں دودھ بیچتا تھا۔ تو کہتے ہیں کہ اخیر میں وہ دودھ زرد رنگ کا ہو گیا۔ یعنی جب پیچھے کچھ رہ گیا نا تو۔ میں نے کہا یہ زرد کیوں ہوا تو اخیر جب نیچے تک گیا تو اس میں ایک سانپ مرا ہوا پڑا تھا۔ میں نے کہا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ تو مصیبت ہو گئی پتہ نہیں میرے گاہکوں کے ساتھ کیا ہو چکا ہو گا۔ بڑا ڈر گیا تھا کہ مجھے بھاگنا ہو گا یا کیا کروں۔ اسی سوچ میں تھا۔ صبح کے وقت پہلا گاہک آ گیا جو مستقل گاہک تھا۔ تو بشاشت کے ساتھ ملا میں نے کہا بھئی وہ دودھ کل والا پیا تھا کہتا ہے: "ہاں"۔ کیا کیسا محسوس؟ کہتے ہیں بڑی مزے کی نیند آئی تھی۔ میں نے کہا چلو جی کام بن گیا، کچھ نہیں ہوا۔ تو اس کو میں نے بتایا کہ یہ تو اس قسم کی چیز تھی۔ کہتے ہیں سننا ہی تھا کہ وہ گر پڑا۔ اور مر گیا۔ اور بعد میں کہتے ہیں پوسٹ مارٹم وغیرہ کہ سانپ کی وجہ سے، کاٹنے سے مرا ہے۔

اب دیکھ لیں۔ اس کی باڈی نے اس کو ختم کر دیا تھا مطلب یعنی کہ وہ زہر کو یعنی وہ کر لیا تھا، ختم کر دیا تھا۔ کہ بس کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن جیسے ہی وہ اس نے سن لیا تو بس وہ اس کی immunity بیٹھ گئی اور زہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ تو اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں، یہ بڑی strong چیزیں ہیں ہمارے پاس۔ تو اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ بلاوجہ وہم نہ کریں۔ تو ہمیں جو فرمایا گیا ہے یہ اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ کہ وہم نہ کریں۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ خواہ مخواہ نقصان ہو گا۔

دوسری بات؛ یہ جو فلاں چیز منحوس ہے، فلاں چیز منحوس ہے، فلاں چیز منحوس ہے۔ یہ دیکھیں میں نے عرض کیا کہ اسلام کے اندر نیک شگون ہے برا شگون نہیں ہے۔ آپ کسی کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ ما شاء اللہ اس کا آنا مبارک۔ یہ ٹھیک ہے ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ اب تیرا آنا منحوس۔ نہیں کسی کے لیے آپ منحوس کا لفظ نہیں استعمال کر سکتے۔ بھئی منافق نہیں کہہ سکتے ہو کسی کو جب تک آپ کو یقینی طور پر معلوم نہ ہو۔ یقینی طور پر کیسے معلوم ہو گا؟ یقینی طور پر تو معلوم ہو ہی نہیں سکتا۔ تو منافق ہی نہیں کہہ سکتے، تو منحوس کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو یہ بات ہے کہ یہ اپنی طرف سے یہ بدشگونی لینا۔

اور بہت سارے عاملوں نے لڑائیاں لوگوں میں کروائی ہیں کہ وہ ان کے پاس جاتی ہیں عورتیں ان کو کہتے ہیں جی آپ کے فلاں بہت قریبی اس کا نام "ف" سے شروع ہوتا ہے۔ اور یہ اس طرح بہت قریبی ہے آپ کا رشتہ دار بس چلو جی۔ اس کا نام جس کا "ف" سے شروع ہوتا ہے ان کے ساتھ ان کی پکی لڑائی شروع ہو گئی۔ مزید تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔

تو یہ بہت تباہیاں ہیں وہ جو لوگ کر جاتے ہیں۔ اپنی حفاظت کرو اس میں کوئی شک نہیں میں نہیں کہتا کہ حفاظت حفاظت تو ایک جنرل وہ چیز ہوتی ہے نا۔ لیکن آپ اپنے اندازوں سے تو کسی کو نہیں کہہ سکتے، بغیر کسی تحقیق کے بغیر کسی دلیل کے۔ آپ کسی کو اپنا وہ تو نہیں کر سکتے۔ تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔ تو اسی لیے کہتے ہیں کہ اچھے گمان کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اور برے گمان کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔ تو حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اس سے عجیب نقطہ نکالا ہے۔ فرمایا دوسروں کے اوپر بدگمانی بالکل نہ کرو کیونکہ اس کی آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ دلیل ہو مثلاً مشاہدہ ہو یا کوئی اس قسم کے تو پھر تو آپ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں کہ مطلب کہ اندازے سے محض کہہ دو۔ لیکن اپنی برائیوں کی تو آپ کے پاس دلیل موجود ہے پورا سامنے ہے آپ کے، مثلاً آپ نے جھوٹ بولا آپ کو پتہ ہے کہ جھوٹ بولا ہے۔ آپ نے دھوکہ کیا تو پتہ ہے کہ میں نے دھوکہ کیا ہے۔ یا کوئی اور غلطی کی ہے، نماز نہیں پڑھی تو پتہ ہے نماز نہیں پڑھی۔ تو آپ کو اپنی غلطیوں کا پورا احساس ہے، پتہ ہے۔ تو اس کے بارے میں فکر نہیں کرتے ہو اور جن کے بارے میں محض گمان ہے اس کے بارے میں سوچتے ہو تو یہ کیا بات ہے؟ تو حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت شیخ شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں، انہوں نے بڑا عجیب شعر فرمایا ہے۔ فرمایا مجھے اپنے شیخ شہاب سے ایک بہت بڑی نصیحت پہنچی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ:

بَر غَیر بَد بِین مَبَاش
دوسرے کے اوپر بدگمان نہ ہو

وَ بَر خُود خُوش بِین مَبَاش
اور اپنے اوپر نیک گمان نہ رکھو۔

یہ دو نصیحتیں انہوں نے مجھے فرمائی ہیں۔ عورتیں ان کے اندر بدگمانی کوٹ کوٹ کے بھری ہوتی ہے الا ما شاء اللہ کوئی بچ جائے تو بچ جائے۔ گھر اس پہ تباہ ہو گئے بدگمانی سے۔ مطلب کوئی کام کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ اور وہ اسے پکی طرح اپنے ذہن میں ٹھان لیتی ہیں کہ جیسے کہ بس سو فیصد یقین ہے اس کو۔ حالانکہ اگر آپ باقاعدہ تحقیق پر آ جائیں تو پتہ کچھ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ بس صرف اپنی سوچ ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی آدمی ہونٹ ایسے ہلائے، آپ نے یہ کہہ دیا۔ اب کیا پتہ بھئی میں نے کیا کہہ دیا، آپ کو کیا پتہ؟ میں نے ہونٹ ہلائے تو اس میں تو میں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں۔ ممکن ہے قرآن ہی پڑھ رہا ہوں۔ اور یا کوئی اور بات کر رہا ہوں۔ اور وہ کہتے ہیں نہیں آپ نے یہ بات کہہ دی۔ تو اس طرح بدگمانی بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ کو بچانا چاہیے ان چیزوں سے اگر اللہ کے نزدیک ہم پسندیدہ لوگ ہونا چاہتے ہیں۔ تو ایسے کام نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ پاک اس کو پسند نہیں کرتے، إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ۔ قرآن شریف میں یہ ہے۔ کہ یہ بعض گمان جو ہوتے ہیں وہ گناہ ہوتے ہیں۔

آخری، اچھا آخری چہار شنبہ؛ یہ لوگوں نے زبردست ایک رسم بنائی ہے۔ یہ رسم ہمارے علاقوں میں بھی ہے، شاید پتہ نہیں ادھر ہے یا نہیں -واللہ اعلم- لیکن ہمارے علاقوں میں تو باقاعدہ تواتر کے ساتھ وہ چلی آ رہی ہے۔ اور وہ کیا ہے کہ آخری بدھ جو صفر کا ہوتا ہے۔ اس میں وہ ایک خاص طریقے سے روٹی پکاتے ہیں۔ پھر اس سے چوری بناتے ہیں۔ اس میں پھر گھی اور سونف اور میٹھا اور پتہ نہیں میوے اور مختلف قسم کی چیزیں ڈال کے نا، پھر اس کو تقسیم کرتے ہیں لوگوں پہ۔

بھئی چوری بڑی اچھی چیز ہے میں اس کا منکر نہیں ہوں۔ مجھے بھی پسند ہے۔ لیکن اس دن کیوں کرتے ہو؟ اس کے ساتھ ایک رسم کو کیوں associate کرتے ہو؟ کسی اور دن بناؤ نا۔ اگر پسند ہے تو بنا لو اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن یہ بات نہ کرو کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایسا ہوا تھا اور بیمار ہو گئے تھے اور اس سے صحت ہو گئی تھی پھر بیبیوں نے پکایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں کون سی ہیں؟ اعلیٰ درجے کی صحابیات ہیں۔ ان پر جھوٹ بناتے ہو؟ یہ کوئی اچھی بات ہے؟ جب تک واقعے کی تحقیق نہ ہو جائے، اس وقت تک بات نہیں کرنی چاہیے۔ یہ تو حدیث شریف سے بالکل غلط نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کب ہوئی تھی اور پھر کیا ہوا تھا پھر یہ ساری چیزیں موجود اس ہیں ۔ تو یہ ایک من گھڑت بات ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ لہٰذا اس بنیاد پر نہ کرو، خود اگر پسند ہے تو کھاؤ تم بھی خود بھی کھاؤ ہمیں بھی پہنچا دو کوئی بات نہیں ہم بھی کھا لیں گے۔ لیکن اس دن بھیجیں گے تو نہیں کھائیں گے۔ کیونکہ وجہ کیا ہے، کیونکہ یہ تو ایک رسم ہو گئی اور ایک جھوٹ پر مبنی رسم ہے۔ لہٰذا اس کو کھایا نہیں جا سکتا، مطلب اس کو نہیں کھانا چاہیے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بدفالی شرک ہے۔ اس کو تین مرتبہ فرمایا۔

بدفالی شرک ہے۔ بدفالی سے مراد یہ ہے کہ آپ باہر جائیں، بلی گزر جائے، اوہو یہ تو کام خراب ہوگیا۔ پھر تو میں نہیں جاتا یا کچھ اور اس قسم کی ان لوگوں نے مطلب یہ نہیں ہوتا یہ مطلب دائیں طرف پھڑکنے لگے بائیں طرف پھڑکنے لگے تو اس کے اپنے اپنے انہوں نے وہ بنائے ہوتے ہیں۔ اور پتہ نہیں کہ جوتے ایک آمنے سامنے آ جائیں تو کیا ہوتا ہے۔ مختلف قسم کی چیزیں لوگوں نے بنائی ہوئی ہیں۔ تو اس میں بالکل بدفالیاں جو ہیں وہ بالکل نہیں کرنی چاہئیں۔ اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچانا چاہیے۔ صاف ستھرے دین پر رہنا چاہیے۔ اس میں کچھ بھی مطلب نہیں۔

اور بعض لوگوں نے یہ کیا ہے کہ فلاں مہینے میں شادی نہیں کرنی چاہیے۔ تو یہ بھی اپنی طرف سے ان لوگوں نے باتیں بنائی ہیں۔ محرم میں بھی بعض لوگ شادی نہیں کرتے نا۔ تو میں نے کہا محرم جن کی وجہ سے آپ لوگوں نے مشہور کیا ہوا ہے، انہوں نے جو کی تھی۔ انہوں نے تو اسی انہی دنوں میں کی تھی۔ تو کیسے آپ کہتے ہو کہ محرم میں شادی نہیں کرنی چاہیے؟ تو یہ بات ہے کہ لوگوں نے اپنی اپنی طرف سے یہ باتیں بنائی ہوتی ہیں۔ یہ نوحہ کی جو رسم ہے، اس کو تو باقاعدہ منع کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ اور باقاعدہ بیعت عورتوں سے لیتے تھے اس پر کہ نوحہ نہیں کرو گی۔ تو خواہ مخواہ لوگوں نے اپنی طرف سے جو یہ باتیں بنائی ہیں۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کو خیال نہ آتا ہو۔ لیکن اس کو توکل کے ذریعے سے بھگا دیتا ہے۔

اب دیکھیں خیال آنا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً دیکھو کہیں ایسا نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو، یہ خیال ہے۔ یہ خیال ہے۔ توکل یہ ہے، جو اللہ کرے گا وہی ہو گا۔ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اصل میں ہوتا کیوں ہے اس طرح؟ انسان جو ہے اپنی دنیا کے معاملے میں بڑا حریص ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے بھی فرمایا ہے نا "كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ"۔ (ہرگز نہیں بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو لیتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو) ۔ اب دنیا کے معاملے میں بڑا حریص ہوتا ہے۔ تو اس کو اگر کسی طریقے سے پتہ چل جائے کہ دنیا کی چیز اس سے خراب ہو سکتی ہے۔ تو بہت الرٹ ہو جاتا ہے۔ تو میں اکثر ایک بات کرتا ہوں۔ ٹیسٹ کرو۔ ایک مکان بن رہا ہو۔ اور اس پہ معمار دیوار کو چڑھا رہا ہو۔ آپ اس مکان کے قریب گزر کر اس طرح اشارہ کر کے، یار یہ دیوار تو کچھ ٹیڑھی سی لگ رہی ہے۔ بس پھر دیکھیں۔ وہ مالک جو ہو گا وہ کہے گا یہ دیوار ٹیڑھی ہے۔ معمار کہے گا بھئی ساہل سے ناپ لو، بالکل دیکھ لو۔ اب وہ سال استعمال بھی نہیں کر سکے گا، کہے گا نہیں ایسا نہیں ہے وہ اس کے پاس دوسرے کو بلائے گا، کہے گا نہیں تم اس کا دوست ہو اس لیے کہتا ہوں۔ مطلب اس کو یقین نہیں آئے گا۔ صرف اس بات پہ کہ وہ بہت زیادہ اپنی چیز کے لیے وہ ہے۔ تو بعد میں آپ اس کو بتا دیں یار میں تو ویسے کہہ رہا تھا۔

تو یہ مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہوتی ہے انسان کو بہت زیادہ وہ پریشان کر دیتی ہے۔ تو فرمایا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ خیال ہمیں بھی آتا ہے لیکن ہم توکل کے زور سے اس کو بھگا دیتے ہیں۔ پرواہ نہیں کرتے۔

اب اخیر میں جو قرآن پاک کی آیت ہے۔ فرماتے ہیں:

جو رسول اصحاب قریہ کی طرف بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے کفار سے فرمایا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ کیا نحوست اس کو سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جاتی ہے؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔

ہوتا یوں تھا کہ جب کوئی نبی آتے نا۔ تو کچھ لوگ مانتے اور کچھ لوگ نہیں مانتے تھے۔ اب گھر میں دو آدمیوں نے مان لیا، چار آدمیوں نے نہیں مانا۔ اختلاف تو ہو گیا نا۔ اب آپس میں ممکن ہے بول چال بند ہو جائے، تکلیفیں شروع ہو جائیں، کچھ اس طرح۔ تو وہ کہتے ہیں تم منحوس ہو تم ہمارے درمیان آ گئے ہو تو دیکھو لڑائی جھگڑے ہمارے درمیان شروع کروا دیے۔ تو اس طرح کچھ باتیں تھیں تو قرآن پاک میں ان کی طرف ذکر ہے کہ انہوں نے کفار سے فرمایا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ یعنی کفر۔ کیونکہ کفر ہی منحوس ہے نا جو انسان کو تباہ کر دیتا ہے بالکل، ہر چیز کو تباہ کر دیتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ کیا نحوست اس کو سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جاتی ہے؟ یعنی مسلمان ہونے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔

تو یہ بات ہے کہ اچھی بات کے لیے روڑے اٹکانا، یہی نحوست ہے۔ یہی نحوست ہے۔ جب بھی کوئی خیر آئے، اور خیر کے آپ روکنے والے بن جاؤ۔ تو یہ نحوست ہے۔ کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرنے والے ہو۔ بجائے اس کے کہ تم اچھی بات کو منحوس کہو۔

تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اپنا یقین مضبوط کرنا چاہیے۔ اور کبھی اس قسم کی بات نہیں کرنی چاہیے۔ جس میں ہم لوگ کسی وہم کی وجہ سے شریعت مطہرہ کے کسی قانون کو توڑنا شروع کر لیں۔ کیونکہ شریعت جو ہے یہ کیا چیز ہے، یقینی چیز ہے۔ اس میں وہ نہیں ہے۔ قرآن بھی یقینی ہے اور سنتِ رسول بھی یقینی ہے۔ اور شریعت انہی پر چلنے کا نام ہے۔ تو لہٰذا شریعت تو یقینی ہے۔ لیکن وہم جو ہے یہ تو بالکل ظنی ہے اس کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہوتا۔ تو اس کے لیے آپ یعنی یقینی چیز کو کیوں چھوڑتے ہو؟

تو ایک تو یہ بات ہے کہ ہم لوگ خود موٹا موٹا علم حاصل کر لیں۔ تاکہ ہم دوسرے لوگوں کی گمراہ کن جو information ہے اس سے اپنے آپ کو گمراہ نہ ہونے دیں۔ آج کل یہ سوشل میڈیا ہے۔ اس میں بعض دفعہ ایسی چیزیں آ جاتی ہیں، ہم لوگ کم از کم جب بچے تھے اس وقت بھی ہوا تھا اور پھر بعد میں جوانی میں بھی ہوا پھر بعد میں مطلب میرے خیال میں کم از کم میری عمر میں تقریباً پانچ چھ دفعہ تو میں نے دیکھا ہے، ہوا ہے۔ اور وہ کیا؟ ایک کاغذ یعنی وہ لوگ مشہور کر لیتے ہیں۔ اس میں کہتے ہیں فلاں مدینہ منورہ میں فلاں کوئی شیخ احمد تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سخت عذاب آنے والا ہے اور یہ ہو گا، وہ ہو گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اتنی مرتبہ یہ پڑھے تو اس سے بچ جائے گا۔ اور جس نے اس کو مان لیا اس کو فلاں دنیا کا فائدہ ہو گیا۔ اور جس نے نہیں مانا اس کو فلاں نقصان ہو گیا۔ اور جو اس کی اتنی تعداد میں فوٹو کاپی کر کے کرے گا تو اس کو اتنا فائدہ ہو جائے گا۔ یہ اس قسم کا کاغذ۔ تو کیا ہوا؟ ہم دیکھتے تھے کہ بھئی اس طرح لوگ اس کو چھاپنا شروع کر لیتے ہیں۔

اب کیا ہے دنیا کے فائدے کے لیے بغیر تحقیق کے ایک چیز کو پھیلا رہے ہیں۔ شیخ احمد کون ہے؟ کچھ بھی نہیں پتہ۔ کس وقت ہوا، یہ بھی نہیں پتہ۔ کس قسم کا آدمی ہے یہ بھی نہیں پتہ۔ تو اب یہ ہے کہ یہ بغیر سند کی کوئی بات، اس لیے حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے صاف صاف عرض کرتا ہوں اگر کوئی بات سنو کسی سے۔ اس کو اس وقت تک کسی اور کو نہ بتانا جب تک آپ تحقیق نہ کر چکے ہوں کہ یہ بات ٹھیک ہے یا غلط۔ اور تحقیق بھی Solid ground پر ہو۔ مثلاً کسی عالم سے، کسی صحیح جاننے والے سے آپ تحقیق کر لیں یا کتاب میں باقاعدہ دیکھ لیں۔ تو پھر تو Reference دے کر آپ بات کر سکتے ہیں۔ لیکن، فلاں سے سنا ہے، نہیں، یہ والی بات نہیں۔ یہ دلیل نہیں ہے۔ تو اس کے بارے میں فرمایا کہ اگر کسی نے ایسا کیا، تو وہ جھوٹ ہے۔ تو جھوٹ پھیلانے والا ہوگا۔ اور آج کل تو بے تحاشا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ باقاعدہ Social media کی فیکٹریاں بنی ہوئی ہیں، جو اپنے مقاصد کے لیے زبردست Calculated جھوٹ پھیلاتے ہیں۔ اور جو اس فیکٹری کے ساتھ Associated لوگ ہوتے ہیں، وہ بغیر تحقیق کے دھڑا دھڑ اس کو پھیلاتے ہیں۔ Share کراتے ہیں۔ تو اس کا نقصان بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہ دیکھو Social media پر جتنے لوگ ہیں، موجود ہیں، مثال کے طور پر ہزاروں ہیں، اور ہیں بھی ہزاروں۔ اب اگر 500 جگہ سے آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ ہو گیا، تو چاہے بالکل جھوٹی بات ہو، آپ کا دماغ کہے گا کہ یار یہ تو اتنی دفعہ ہو گیا، تو اس کا مطلب ہے کہ ہے کچھ اس میں۔ بھئی دیکھو، یہاں صدر میں شروع ہو جائیں، تو یہ Board لگے ہوتے ہیں۔ اور اس کے اوپر جو Advertisement کی جو چیزیں لکھی ہوتی ہیں۔ بھئی اگر وہ ہزار Board بھی ہوں، تو جو لکھنے والے ہیں، اس کے اوپر depend کرتا ہے کہ اس نے کیا لکھا ہے۔ اب اگر جھوٹ ہو تو اگر دو پہ لکھے تو جھوٹ ہوگا، اور اگر ہزار پہ لکھو تو جھوٹ ہونا ختم ہو جائے گا؟ وہ تو وہی ہوا نا، جھوٹ! جھوٹ ہی ہوگا۔ تو یہ تو آپ کی اس پر ہے کہ آپ کتنی دفعہ اس کو پھیلاتے ہیں۔ تو بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔ تو یہ بات ہے کہ کوئی Criteria نہیں ہے کہ کتنے لوگوں سے آپ نے سنا ہے۔ یہ کوئی Criteria نہیں ہے۔ یہ دیکھو کہ کتنی Authentic ہے، مطلب ایک Source اس کا کتنا Authentic ہے۔ قرآن سے بات ہے، تو آپ کو آیت کا پتہ ہو گا کہ فلاں آیت ہے۔ حدیث سے بات ہے تو پتہ ہو گا کہ کون سی کتاب کے کون سی حدیث شریف ہے۔ وہ معلوم ہوگا۔ کسی فقیہ کی بات ہے تو اس فقیہ کا نام معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا ہے۔ یہ نہیں کہ اپنی طرف سے بس جو... اور پھر صرف زیادہ تعداد پر... یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ اور ہمارے اقبال صاحب نے کہا تھا نا:

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ اس کو نہیں دیکھتے کہ بات کون سی ہے، صحیح ہے یا غلط ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگوں سے ہے۔ اکثریت، نہیں بھئی اکثریت والی بات نہیں ہے۔ ہاں جی۔ مثال کے طور پر یہ سارے پاکستان اس پر متفق ہو جائے، -نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ-، کبھی اللہ نہ کرے ایسا... مثال کے طور پر کہتا ہوں، کہ نمازیں تین ہیں، تو کیا نمازیں تین ہو جائیں گی؟ بے شک سارے لوگ متفق ہو جائیں نا۔ اور ایک آدمی صرف کہہ دے کہ "نہیں ہے"۔ تو اس ایک آدمی کی بات مانیں گے ہم۔ کیونکہ اس کی ایک بات ایک آدمی کی بات قرآن اور سنت کے مطابق ہے۔ باقیوں کی قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ تو ہم نہیں مانیں گے اس کی بات۔

تو ہم لوگوں کو پکا دین دار ہونا چاہیے۔ یہ کچا دین دار جو ہوتا ہے نا، یہ ہواؤں کی طرح اڑتا ہے ہواؤں میں، مختلف قسم کے فتنے آتے ہیں، اس میں اڑ جاتا ہے۔ اور اگر اپنے آپ پر کچا ہونے کا گمان ہو نا، تو کسی پکے کھمبے کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لو۔ کسی وقت میں سونامی طوفان آیا تھا، بہت شدید پانی کا سیلاب آیا تھا۔ تو ایک عورت بچ گئی تھی اس میں، تو بچی اس طرح تھی کہ وہ پانی کے ساتھ بہہ کے ایک کھمبے کے ساتھ لگ گئی، تو اس نے اس کھمبے کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا۔ اس کو چھوڑا نہیں۔ بس وہ ظاہر ہے کھمبا جب تک رہا تو وہ، عورت بھی رہی۔ اور اس وجہ سے بچ گئی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ پھر اپنے آپ کو کسی مضبوط کونڈے کے ساتھ باندھ لو۔ جو صحیح ہو۔ اور ہرگز اس قسم کی بات کوئی، کسی اور کی بات کو نہ سنے، جو ادھر ادھر والی باتیں کر رہے ہوں، نہیں بھئی بس ٹھیک ہے جی بھئی ہم تو ادھر ہیں۔ جو صحیح قرآن و سنت والے لوگ ہوں، ان کے ساتھ اپنے آپ کو مضبوطی سے باندھ لو۔ اور ادھر ادھر کی باتیں نہ سنو۔ ورنہ پھر کیا ہے، اس وقت دورِ فتن ہے۔ دورِ فتن ہے۔ اس فتنے کے دور میں Information کا سیلاب ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ کچھ سے کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ:

چې رښتیا راځي نو دروغو کلي وران کړي وي

جب سچ آتا ہے تو جھوٹ نے گاؤں کے گاؤں تباہ کیے ہوتے ہیں۔ اور یہ بات بالکل سچ ہے۔ اور قرآن پاک میں بھی ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی خبر لے کے آئے، تو تحقیق کر لو۔ یہ کون سی آیت ہے؟ یاد ہے؟ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ مطلب یہ کہ ایسا نہ کرو کہ وہ اس پہ عمل نہیں، پہلے تحقیق کرو۔ ایسا نہ ہو کہ پھر تم پشیمان ہو جاؤ کہ یہ کیا ہم نے کر لیا۔ اور یہ واقعتاً ایسا ہوتا ہے۔ بڑی بڑی لڑائیاں اس وجہ سے ہوئی ہیں۔ بڑی بڑی لڑائیاں ہوئی ہیں، کہ جھوٹی خبر پھیلائی گئی کہ فلاں نے فلاں پر حملہ کر دیا۔ اب اس نے جواب دے دیا بس لڑائی چھڑ گئی۔ اس طرح ہوا ہے۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ اس میں بڑی پکی بات ہونی چاہیے۔ ہمارا یہ ہوتا ہے کہ ہم نے، فلاں ہمارا دشمن ہے اب اس کی وجہ سے کوئی بات آ جائے نا، تو ہم بغیر تحقیق کے آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں، چونکہ دشمن کے... نہیں بھئی، دشمن بھی ہو، دوست بھی ہو، جو بھی ہو، اصل تو تحقیق ہونی چاہیے نا کہ یہ بات کیسی ہے؟ اس کی، اس کی بات کرو۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو بہت محتاط رہنا چاہیے، یہ دورِ فتن ہے۔ اس دورِ فتن میں اپنے آپ کو بڑا ہوشیار رکھنا چاہیے۔ ورنہ پھر ہوشیاروں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ دو ہی باتیں ہیں نا۔ قرآن پاک میں بھی ہے نا:

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ

مطلب یا تو تم خود مطلب جو ہے نا وہ بینا ہو، اور یا پھر یہ والی بات ہے کہ بینا والوں کے ساتھ ہو، کم از کم اس کی بات تو اچھی طرح سنتے ہو۔ ورنہ پھر کیا ہوتا ہے؟ وہ خوامخواہ بس ہوا میں اڑتے رہو گے۔ کوئی اس طرف، کوئی اس طرف کرے گا، کوئی اس طرف کرے گا۔ تو ہم لوگوں کو بہت Standard grounds پر اپنی زندگی کو Base کرنا چاہیے۔ کبھی بھی کسی کمزور بات پر ہم لوگوں کو کوئی تحریک نہیں چلانی چاہیے، نہ کوئی کام کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں بڑے Solid grounds چاہیے۔

اور آج کل کے دور میں تو یہ بہت ضروری ہے۔ دجال کا دور بھی شاید قریب ہی ہو -وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ- اور اگر وہ ہے تو پھر امام مہدی عَلَيْهِ السَّلَام بھی تشریف لائیں گے۔ تو ایسے وقت میں دجال کے پاس Disinformation کے زبردست ذرائع ہوں گے۔ Disinformation، آج کل سب سے بڑا Tool یہی ہے نا۔ Disinformation۔ اس کے پاس زبردست ذرائع ہوں گے، تو لوگ ان کی باتوں پر یقین کرنا شروع کر لیں گے۔ اور اس کی طرف دوڑنے لگیں گے، حالانکہ اس کے ماتھے پہ "کافر" لکھا ہوگا۔ لیکن اس کے لیے لوگ تاویل کر دیں گے، تاویلیں کر لیں گے۔ تو پھر کیا ہو گا، اس کا شکار ہو جائیں گے۔

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اپنی بنیاد مضبوط بنانی چاہیے۔ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ کی آج کل کثرت کرنی چاہیے۔ کیونکہ واقعی اللہ ہی بچا سکتا ہے، اور اللہ ہی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اللہ پاک کے یعنی کرم کے دامن میں پناہ لینی چاہیے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ. وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ. وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ.

يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنَا إِلَىٰ أَنفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ. اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ. وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. اے اللہ! ہمارے دلوں کے اندر جو جائز حاجات ہیں، ان کو پورا فرما، اور جو ناجائز حاجات ہیں اس سے ہمارے دلوں کو فارغ فرما۔ ہمیں مستجاب الدعوات بنا۔ جن نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، سوچا ہے، توقع ہے، سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔ اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ. إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ. اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ. صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ. رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ. رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ. اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ. وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ. وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.