الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ.
أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات! ابھی ماشاءاللہ درود شریف کی تعلیم جاری ہے۔ یعنی فضائل درود شریف کی۔ اور یہ درود شریف اصل میں ایک ایسا عمل ہے جس کا حکم اللہ جل شانہ نے ایک منفرد شان سے دیا ہے۔ ویسے تو جو بھی اللہ پاک کے احکامات ہیں اس پر عمل کرنا ضروری ہے، لیکن جس طرح درود شریف کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے، اس طرح کسی اور عمل کے بارے میں نہیں فرمایا۔ کیونکہ اس کے بارے میں پہلے ارشاد فرمایا کہ میں بھی کرتا ہوں، میرے فرشتے بھی کرتے ہیں، تم بھی کرو۔ تو یہ بات کسی اور چیز کے لیے نہیں فرمائی ہے۔
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَاۤ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
اور یہ انتہائی محبوبیت والا اور مختصر راستہ ہے اللہ جل شانہ کی محبت کو حاصل کرنا۔ اب دیکھیں، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ ہمیں آپ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔ یہ اس کا کرم ہے۔ اگر نہ پیدا فرماتے تو ہم کیا کر سکتے تھے؟ اور آپ ﷺ کے دل میں ہمارے لیے اتنی محبت ڈالی، اتنی شفقت ڈالی کہ اس کا ہم حساب نہیں کر سکتے۔ تو یہ بھی بات ہو گئی۔ پھر یہ جو احسانات ہیں، ہمارے اوپر آپ ﷺ کے اور اللہ جل شانہ کے، تو اس کا ہم تو ظاہر ہے اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن ﴿هَلْ جَزَاۤءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ﴾ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی شفقت اور محبت کا جواب ہم درود شریف کے ذریعے سے دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا اللہ پاک نے خود ارشاد فرمایا اور آپ ﷺ نے بھی اس کے بڑے فضائل فرما دیے ہیں۔ اور بہت سارے مواقع پر درود شریف ہے لیکن امت میں اس چیز کا رواج نہیں رہا۔ مثلاً یہ مسجد میں داخل ہونے کی جو دعا ہے، تو صرف ﴿اللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ﴾، صرف اکیلے نہیں بتایا، بلکہ ساتھ ﴿بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ﴾ اور بعض جگہوں پہ ﴿بِسْمِ اللَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ﴾، اور پھر اس کے بعد ہے ﴿اللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ﴾۔ نکلتے وقت بھی اس طرح ﴿بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللَّه﴾، پھر اس کے بعد ﴿اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ﴾۔
تو یہ امت میں اس کا رواج نہیں رہا۔ اور اس طریقے سے مختلف مواقع پر، جب بھی ہم دعا کرتے ہیں تو ساتھ درود شریف اور یہ درود شریف دعا کی قبولیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ تو ہمیں اس سے اندازہ لگانا چاہیے۔ اور پھر یہ درود شریف جو پڑھتا ہے، تو کئی طرح سے اس کا اکرام ہوتا ہے۔
پہلا اکرام ؛یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اس کو سنتے ہیں، اور قبول فرماتے ہیں، دس نیکیاں عطا فرماتے ہیں، دس گناہ معاف فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ تک یہ پہنچایا جاتا ہے، پھر آپ ﷺ سنتے ہیں۔ آپ ﷺ قبول فرماتے ہیں، ہمارے لیے دعا فرماتے ہیں۔ اس طریقے سے ماشاءاللہ دس دفعہ ہم پر رحمت اللہ پاک نازل فرماتے ہیں۔ اب کتنی سعادتیں ہیں! جو اس کے ذریعے سے ہم حاصل کر سکتے ہیں۔
ہاں البتہ، عادت نہ ہو تو کرنا مشکل ہے۔ تو اس کی عادت بنانے کے لیے مجالس ہیں۔الحمد للہ، الحمد للہ! تحدیث نعمت کے طور پر عرض کر رہا ہوں کہ یہی ان مجالس سے بعض لوگ ایسے تیار ہوئے جو لاکھوں مرتبہ درود شریف ماشاءاللہ پڑھتے ہیں۔ایک صاحب جو بیعت ہوئے، ڈیڑھ سال کے بعد بتایا چھبیس (26) لاکھ مرتبہ درود شریف اس نے پڑھا ہے۔ تو ہر مہینے کتنا ہو گیا؟ بعض لوگ صرف ربیع الاول میں سوا لاکھ پڑھتے ہیں نا؟ ٹھیک ہے وہ بھی نعمت ہے۔ لیکن یہ صاحب ربیع الاول کے علاوہ باقی مہینوں میں بھی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پڑھ رہے تھے۔ بلکہ دو لاکھ سے زیادہ، ہاں ڈیڑھ لاکھ، ڈیڑھ سال میں۔ تو اب دیکھ لیں، کتنی بڑی سعادت ہے!
ایک خاتون ہیں، ماشاءاللہ وہ مختصر عرصے میں ستر (70) لاکھ مرتبہ درود شریف پڑھ لیا الحمد للہ۔ اس طرح اور ہمارے ساتھی ہیں جن کا روز ماشاءاللہ معمول ہے، دس ہزار مرتبہ، پندرہ ہزار مرتبہ۔ ظاہر ہے وہ لوگوں کو بتائیں گے تو نہیں، ظاہر ہے صرف مجھے بتائیں گے۔ ہیں الحمد للہ ایسے جوان مرد۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں جو ہماری مجالس ہیں درود شریف کی، ویسے نہیں ہیں۔ اس سے ماشاءاللہ ذہن بنتا ہے، دل بنتا ہے، اور پھر عمل کی توفیق ہوتی ہے۔
تو الحمد للہ ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ عمل ہم کریں۔ ماشاءاللہ وقت چونکہ تھوڑا ہے، لہذا ابھی مختصر سی نعت شریف ہے، اور اس کے بعد پھر جو چہل درود شریف پڑھا جائے گا اور اس کے بعد ان شاءاللہ دعا ہو گی۔
یہ جو نعت شریف ہے، اصل میں اس میں، جیسے ذہن سازی ہوتی ہے، تو ذہن سازی کے لیے ہم لوگ کچھ ایسی باتیں بھی سامنے لاتے ہیں، جن کا چونکہ رواج نہیں ہوتا، تو لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔ تو اس وجہ سے پھر ہم لوگ وہ سامنے لاتے ہیں، ورنہ ہر مسلمان کو یہ خود معلوم ہونا چاہیے، کوئی عجیب بات نہیں ہوتی۔ اب جیسے آپ ﷺ کے ساتھ محبت کرنا، آپ ﷺ نے خود اس کے لیے ارشاد فرمایا ہے۔ اور آپ ﷺ کی اتباع کرنا، تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن بتانا ضروری ہوتا ہے تاکہ ماشاءاللہ ہم لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور پھر اس پر عمل کریں۔
محبت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول ﷺ کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول ﷺ کی
اب سارے طریقے جو ہیں منسوخ ہو گئے
اللہ کو پسند ہے سنت رسول ﷺ کی
اللہ نے جو جمال و کمال ان کو دیا تھا
دل پر تو اس لیے ہے حکومت رسول ﷺ کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول ﷺ کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول ﷺ کی
معیار اب اچھے برے کا کیسے ہو مشکل
جب تجھ کو ہے معلوم شریعت رسول ﷺ کی
جو ان کے بن گئے ہیں وہ اللہ کے بن گئے
اللہ کے ساتھ ہے کیسی حیثیت رسول ﷺ کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول ﷺ کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول ﷺ کی
شبیر بن جا اب تو ان کا سچا متبع
مل جائے وہاں تجھ کو شفاعت رسول ﷺ کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول ﷺ کی