خواتین بیان
خواتین بیان
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات، ما شاء اللہ حضرت مفتی صاحب یہاں جو آپ تشریف لائے ہیں جوڑ کے لیے، اور مختلف جگہوں پر جو آپ سن رہی ہیں۔ یہ آج جوڑ کی مناسبت سے جو مضامین ہیں، اس پہ ان شاء اللہ آپ کی خدمت میں بات کی جائے گی۔ عظمتِ صحابہ، سنت کی اہمیت اور بدعات اور رسومات، اور اصلاحِ باطن کی فکر کے بارے میں بات جو مفتی صاحب کے ہاں جوڑ میں آئے ہوئے ہیں، انہوں نے تفصیل سے سن لی ہوگی۔ اب ان کا میں چونکہ بہت ساری خواتین اس جوڑ میں نہیں تھیں، جو بعد میں ظاہر ہے یا ان کو پتہ چلا یا بہت دور ہیں، ہمارے اس بیان کو سن رہی ہیں لیکن وہاں پر موجود نہیں ہو سکتی تھیں، تو ان کے لیے میں اس کا ایک خلاصہ عرض کرنا چاہوں گا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی جو عظمت ہے، وہ قرآن سے بھی ثابت ہے اور احادیث شریفہ سے بھی ثابت ہے۔ قرآن پاک میں تو اس کے بارے میں بہت ہی عجیب انداز سے مضمون آیا ہے۔ کہ اس کی مثال دی ہے، جیسے کہ ایک کونپل نکلے، پھر وہ بڑھتی رہے بڑا ہوتا رہے، اس کی شاخیں اور تنا پھیلتے رہیں، پھر اپنے اس پہ کھڑے ہو جائیں، یعنی اپنی سختی پہ کھڑے ہو جائیں، کسی اور چیز کے سہارے کی ضرورت نہ ہو۔ تو یہ فرمایا گیا ہے کہ صحابہ کی مثال ایسی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے، اس رکوع سے پہلے «مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ» یہ فرمایا کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کے ساتھ جو ہیں۔ تو یہ بات ایسی ہے۔ اور پھر اخیر میں جو ارشاد فرمایا کہ یہ بات اللہ پاک فرماتے ہیں، میں کیوں کر رہا ہوں صحابہ کی تعریف کیوں کر رہا ہوں؟ یہ فرمایا «لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ»، تاکہ کفار کو غصہ دلانا، ان کے دل جلانا۔ تو یہ بذات خود یہ آیت کریمہ دو طرف اثر کر رہی ہے۔ ایک جو کفار پہلے سے ہیں، ان کا دل جلتا ہے صحابہ کی تعریف سے، یعنی اس سے ثابت ہوا۔ اور دوسرا یہ ہے کہ جو صحابہ کی تعریف سے جن کا دل جلتا ہے، ان کے بارے میں اپ خود سوچیں پھر کہ کیا ہوگا؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام اللہ پاک کو اتنے پسند ہیں، کہ ان کا اس انداز میں تذکرہ قرآن میں ہوا ہے۔
صحابہ رضوان اللہ اجمعین یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین مخاطب ہیں۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بات ہے، وہ ان صحابہ کے ذریعے دوسروں تک پہنچی ہے۔ اب میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ مثال ہے کہ آپ ایک بہت بلند عمارت کے ساتھ ایک زنجیر ہے، بڑا مضبوط، اس کے ساتھ آپ لٹکے ہوئے ہیں، اور نیچے دس منزل کی ہائٹ ہے، یعنی ہوا میں آپ لٹکے ہوئے ہیں۔ بالکل جو آخر میں جو کڑا ہے، وہ درمیان سے آپ نکال دیں تو آپ کہاں ہوں گے؟ ظاہر ہے پھر آپ خود اپنا سوچیں کہ کہاں ہوں گے۔ تو اس طرح یہ کہ جو ہدایت کا نظام ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پہنچا ہے ہم تک۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو صحابہ نے پوری دنیا میں پھیلایا۔ لہذا صحابہ پر اعتراض اس پورے دین پر اعتراض ہے۔ اور صحابہ سے کٹنا پورے دین سے کٹنا ہے۔ تو اس وجہ سے صحابہ کے بارے میں محتاط رویہ رکھنا یہ بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی ہے۔ «اَللّٰهَ اَللّٰهَ فِيْ أَصْحَابِيْ، لَا تَتَّخِذُوْهُمْ غَرَضًا مِّنْۢ بَعْدِيْ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ»۔ اے میری امتیو! میرے صحابہ کے بارے میں تمہیں خدا کا واسطہ، ان کو میرے بعد ملامت کا نشانہ نہ بناؤ۔ جو ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں، وہ اصل میں میرے ساتھ محبت کی وجہ سے محبت رکھتے ہیں۔ کیونکہ صحابہ کون ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں نا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں، وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں۔
اب ابوجہل کو اگر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پسند نہیں تھے، تو کس وجہ سے نہیں تھے؟ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے۔ اگر کسی کو عمر پسند نہیں تھے، اس لیے پسند نہیں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے۔ یہ اگر ان کے ساتھی ہو جاتے پھر ان کو پسند ہوتے۔ عثمان رضی اللہ عنہ اگر پسند نہیں ہیں، اس لیے پسند نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔ علی کرم اللہ وجہہ اگر کسی کو پسند نہیں ہیں، اس لیے پسند نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔ حسنین کریمین رضوان اللہ اجمعین اگر کسی کو ان سے محبت نہیں ہے، تو اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے حسنین کریمین کے ساتھ محبت ہے۔ تو یہ سب باتیں ہمیں جاننی چاہئیں، سوچنی چاہئیں، سمجھنی چاہئیں، اور اس کے مطابق عمل اپنانا چاہیے۔ ورنہ خسارے میں ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عجیب انداز سے اس بات کی ضرورت سمجھائی ہے۔ فرمایا، یہود میں تہتر فرقے بن گئے، نصاریٰ میں بہتر ہو گئے، میری امت میں عنقریب تہتر ہو جائیں گے، لیکن صرف ایک نجات پائے گا، ایک۔ صحابہ کرام نے ڈر کے مارے پوچھا، یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے؟ فرمایا «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ»، جس پر میں چل رہا ہوں، جس راستے پر اور جس راستے پر صحابہ چل رہے ہیں، اس راستے پہ جو چلیں گے وہ کامیاب ہوں گے، وہ صحیح ہوں گے۔ «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ»۔ پس پتہ چلا کہ صحابہ کرام یہ ہمارے لیے ہدایت کے معیار ہیں۔
اس چیز کو سمجھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، «أَصْحَابِيْ كَالنُّجُوْمِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اِهْتَدَيْتُمْ»۔ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کے پیچھے جاؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔ پس صحابہ میں مختلف النوع حضرات، خواتین تھیں، صحابیات۔ کوئی شہری ہے تو کوئی دیہاتی ہے، تو کوئی اونچی ذات کے ہیں، کوئی غلام ہے، کوئی گورے ہیں کوئی کالے ہیں۔ کوئی بہت ذہین ہیں کوئی بہت سادہ ہیں۔ کوئی مرد ہے کوئی عورتیں ہیں۔ ہر قسم کے صحابہ کرام موجود، اور وہ ہر قسم کے لوگوں کے لیے ہدایت کے نور ہیں۔ دیہاتی صحابہ دیہاتیوں کے لیے معیار ہیں، شہری صحابہ شہریوں کے لیے معیار ہیں، مرد صحابہ مردوں کے لیے معیار ہیں، عورتیں صحابیات عورتوں کے لیے معیار ہیں۔ اونچے ذات والے صحابہ جو تھے، وہ ایسوں کے لیے معیار ہیں، اور جو غلام ہیں یا جو نیچے ہیں، وہ ان کے لیے معیار ہیں۔ یہ ہے کہ ہر طرح کے نمونے موجود ہیں ان میں۔ یہی اصل میں ضرورت تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک ہیں نا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرد ہیں عورت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہری ہیں دیہاتی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت اونچی ذات سے ہیں، کم سے نہیں۔ تو وہ انہی کے لیے یعنی وہ لوگ کہہ سکتے تھے کہ ہم تو، باقی لوگ کے لیے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی تربیت فرمائی اس طرح صحابہ کی۔ سب قسم کی کی، اب سب قسم کے صحابہ سب کے لیے معیار ہیں۔ اس میں بڑی بات یہی ہے، تو صحابہ کو اگر درمیان سے نکالو گے، کہیں بھی نہیں رہو گے۔ کہیں بھی نہیں رہو گے۔ لہذا صحابہ کے بارے میں بہت محتاط ہونا ہے۔
پھر صحابہ میں تین گروہ ہیں، اور ہر گروہ اپنے آپ ایک معیار ہے۔ وہ صحابہ جو اہل بیت نہیں ہیں، یعنی عام صحابہ ہیں، جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، جابر رضی اللہ عنہ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ، اس طرح اور صحابہ۔ وہ جو اہل بیت ہیں، علی کرم اللہ وجہہ، حسنین کریمین، فاطمہ رضی اللہ عنہا۔ اس طرح جو صحابیات میں سے امہات المومنین ہیں۔ ان تین گروہوں سے اپنا اپنا علم امت کو پہنچا ہے۔ پس ان میں سے جس سے بھی کوئی نہیں لے گا، اتنا دین سے، اس دین سے محروم ہو جائیں گے۔ اور اگر کسی ایک کی مخالفت کرے گا، تو کچھ بھی نہیں لیں گے، کیونکہ وجہ کیا ہے؟ وہ مخالفت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی ہے، ان تینوں گروہوں کی اپنے اپنے طور پہ۔ لہذا جس نے بھی ان میں سے کسی کی مخالفت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی، لہذا کچھ کہیں پر بھی نہیں رہیں گے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نا کہ میرے جو اہل بیت ہیں، وہ ایسے ہیں جیسے نوح علیہ السلام کی کشتی۔ جو اس میں بیٹھ گیا بچ گیا، جو نہیں بیٹھا تباہ غرق ہو گیا۔ تو اہل بیت کے ساتھ محبت نہ کرنا، اپنے آپ کو تباہ کرنا ہے۔ اور صحابہ جو ہیں یہ کیا ہیں؟ یہ سبحان اللہ معیار ہدایت ہیں۔ جیسے ہمارے پاس ایک انڈیکیشن ہوتی ہے، جیسے مینار ہے یا ستارہ ہے، اس کی طرف جاؤ گے تو صحیح جگہ پہ پہنچ جاؤ گے۔ اب اگر آپ اس طرف نہیں جاؤ گے، تو نہیں پہنچ سکو گے۔
تو حضرت مولانا ادریس کاندھلوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عقائد کے باب میں بڑی عجیب بات لکھی۔ فرمایا، سفینۂ اہل بیت میں، یعنی محبت میں بیٹھ کر، اہل بیت کی محبت کے سفینے میں بیٹھ کر، صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے ہدایت کی روشنی میں، ہم ان شاء اللہ اپنی منزل کو پہنچیں گے۔ یعنی معیار صحابہ ہے ہدایت کے، اور محبت اہل بیت یہ بچت کا ذریعہ ہے۔ یہ بچت کا ذریعہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو تینوں گروہوں کا پاس کرنا چاہیے۔ ان میں سے کسی کی مخالفت تباہی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو نصیب فرمائے۔
آگے جو ٹاپک ہے، بہت اہم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ۔ دیکھیں، ہم پڑھتے ہیں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ»۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا مطلب آپ سب لوگوں کو پتہ ہے، نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ، اس کا مطلب ہے اللہ ہی کے لیے سب کچھ کرنا ہے۔ جو بھی دین کا کام ہے وہ اللہ ہی کے لیے کرنا ہے۔ کسی اور کے لیے کرو گے تو وہ تمہارے فائدے کی نہیں بنے گی وہ، اگر دین کی چیز ہے۔ نماز کسی اور کے لیے پڑھو گے، ختم۔ حج کسی اور کو راضی کرنے کے لیے کرو گے تو ختم۔ اس طرح کوئی اور عمل دین کا، وہ صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیے کیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد ہم کامیابی کی امید کر سکتے ہیں۔ ورنہ کیا ہوگا؟ ورنہ تباہی ہے۔ تو جب یہ والی بات سمجھ میں آگئی تو پھر ہمیں فکر ہونی چاہیے کہ اب کیسے کریں کہ اللہ پاک کو پسند آ جائے، اللہ پاک اس کو قبول فرمائے۔ تو وہ کیا ہے؟ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر یہ کام کرنا پڑے گا۔ نماز پڑھنا پڑے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ روزہ رکھنا پڑے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ حج کرنا پڑے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ زکوۃ دینا پڑے گا اور ساری چیزیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہیں اسی طریقے پر۔ معاملات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ صحیح کرنے پڑیں گے۔ معاشرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ کرنی پڑے گی۔ اور اس طرح اخلاق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنائیں گے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا سارا کچھ دین کا سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔
اب بتاؤ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے ہی میں کامیابی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا ہے؟ وہ سنت رسول ہے۔ تو سنت پر چلنے میں کامیابی ہے۔ «أَطِيْعُوا اللّٰهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ»۔ تو یہ ہے کہ اگر ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلیں گے، کامیابی ہے۔ تو سنت کی اہمیت تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ جو ہے، وہی اللہ نے برقرار رکھا ہے معیار کے طور پر۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ جو کام بھی حضور کے طریقے پر نہیں ہوگا، وہ ہوا میں چلا گیا۔ اس وجہ سے ہمیں اپنے آپ کو اس مضبوط کڑے کے ساتھ، مضبوطی کے ساتھ باندھنا پڑے گا۔ کسی طرح بھی اس طرح بھی ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ہٹ نہ جائیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ہٹنے کا مطلب کیا ہے، وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ بدعت کہلاتا ہے۔ بدعت کہلاتا ہے۔ ہر وہ دین کا کام، ہر وہ دین کا کام، دیکھیں میں ذرا ایک ایک لفظ پہ غور فرمائیں۔ ہر وہ دین کا کام جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور صحابہ کا طریقہ موجود ہو، اس کو اس طریقے کے مطابق نہ کرنا، یہ بدعت ہوگا۔ یہ ہے کہ وہ دین کا کام جس میں طریقہ موجود ہو، یعنی اب دیکھو اس سے میں نے یہ تعریف کیوں کی ذرا محتاط انداز میں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ جو بدعتی ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں دیکھو اس وقت تو جہاز بھی نہیں تھا، تو جہاز میں بیٹھنا بھی بدعت ہے۔ بھئی جہاز کا تعلق دین کے ساتھ تو نہیں ہے نا۔ وہ تو ایک دنیاوی چیز ہے۔ کیا اس میں جہاز میں بیٹھنے کو کوئی ثواب سمجھتا ہے؟ سمجھتا ہے تو میرے خیال میں پاگل ہی ہوگا۔ جہاز میں بیٹھنا کوئی ثواب تو نہیں سمجھتا، ہاں جائز ہے۔ جائز ہے، لیکن اس میں ثواب ہم نہیں سمجھتے، اس کی وجہ کیا ہے، ایک دنیاوی چیز ہے۔ بھئی میں اگر اچھا کھانا کھاؤں، اس پر شکر کروں تو ثواب ہے۔ لیکن میں اگر اس پر شکر نہ کروں تو بس کھانا ہے بس ٹھیک ہے کھا لیا جائز ہے۔ حضور کے طریقے پہ کھا لیا تو ثواب ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ کھا لیا تو ثواب ہوگا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ نہیں کھایا صرف کھانا کھا لیا تو بس کھا لیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی کام دین کا کام ہے جس میں ثواب کی نیت کی جاتی ہے۔ وہ کیا ہے، وہ حضور کے طریقے پر اور صحابہ کے طریقے پر کیونکہ «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ» فرمایا گیا ہے۔ جس پر میں ہوں جس پر میرے صحابہ ہیں۔ صحابہ کو چونکہ اپنے ساتھ شریک کیا ہے، لہذا صحابہ کو ساتھ رکھنا پڑتا ہے کیونکہ صحابہ سے ہم سیکھ رہے ہیں کہ سنت پہ چلنا کیسا ہوتا ہے۔
ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ گئے تھے۔ کھانا کھا رہے تھے، لقمہ گر گیا۔ سنت یہ ہے کہ اس کو اٹھا کے صاف کر کے کھا لیا جائے۔ اب اٹھا کے صاف کرنا چاہتے تھے، کسی نے کان میں کہا یہاں کے لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے، یعنی ان کی تہذیب کے خلاف ہے۔ صحابی کو جوش آ گیا۔ کہا اچھا! میں ان بیوقوفوں کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑوں گا؟ اور اس طریقے سے اٹھا کے پاک کر کے صاف کر کے اس کو اس طرح لہرا کے سب کو دکھا کے منہ میں لے جا کے کھا لیا۔ میں ان بیوقوفوں کے لیے حضور کی سنت کو چھوڑوں گا؟ یہ تھے صحابہ کرام۔ تو صحابہ کرام نے پوری دنیا کو دین پہنچایا ہے۔ لہذا «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ» کی برکت سے ہم لوگ یہی کریں گے، کہ جو طریقہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر اور پھر صحابہ کرام نے اس کو جس طرح سیکھا ہے اور کیا ہے، اس طریقے پر اگر ہم کرتے ہیں، اس میں ثواب کی نیت ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے، پھر ہم اس میں ثواب کی نیت نہیں کر سکتے، وہ محض ایک دنیاوی کام ہے۔ اور اگر دین کا کام حضور کے طریقے پر نہیں کیا گیا، تو پھر وہ بدعت ہو جائے گی۔ پھر وہ بدعت ہو جائے گی۔ اگر اس میں ثواب کی نیت کی جا رہی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے اظہار کے لیے، وہ جو چراغاں کرتے ہیں اور جلوس نکالتے ہیں۔ یہ اس لیے بدعت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے ایسا نہیں کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو ہم سے کم عشق کوئی سمجھے؟ تو ان کو تو لتر مارنے چاہئیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کم محبت ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے مقابلے میں، یہ کیا بکواس ہے؟ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نہیں تو پھر کس کو محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ؟ جس کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے۔ «مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ أَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ»۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے اگر کوئی کام نہیں کیا، ایک مثال دیتا ہوں۔
اذان دین کا کام ہے۔ دین کا کام ہے۔ اذان کا احترام کرنا دین کا کام ہے۔ اور اس طرح اذان کا جواب دینا، یہ دین کا کام ہے۔ اس لیے اس کو اسی طریقے پہ کرنا پڑے گا جس طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کیا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا طریقہ بتایا ہوا، سناتا ہوں آپ کو۔ مسلم شریف کی روایت ہے۔ حدیث شریف کس کی، کہاں کی ہے؟ مسلم شریف کی روایت ہے۔ مسلم شریف یہ وہ کتاب ہے جس کو دو صحیحین جس کو کہتے ہیں، دو صحیح کتابیں، ان میں ایک ہے یہ۔ یعنی بخاری شریف ہے پھر اس کے بعد مسلم شریف ہے۔ مسلم شریف کی روایت ہے، جب اذان ہونے لگے تو جن الفاظ کو مؤذن کہتا ہے تم ان الفاظ کے ساتھ اس کا جواب دو۔ مؤذن کہے «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» تم بھی کہو اَللّٰهُ أَكْبَرُ۔ مؤذن کہے «أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» تم بھی کہو أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ مؤذن کہے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ» تم بھی کہو أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ مؤذن کہے «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» یہاں پر دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں وہی حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کہہ دو، ایک روایت میں «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ہے، دونوں میں سے جو بھی ہو آپ ٹھیک ہے، کیونکہ دونوں روایتیں ثابت ہیں۔ مؤذن کہے اَللّٰهُ أَكْبَرُ تم بھی اَللّٰهُ أَكْبَرُ۔ مؤذن کہے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ تم بھی کہو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ پھر فرمایا، ایک بار درود شریف پڑھو۔ پھر اس کے بعد وہ دعا پڑھو، «اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا الَّذِيْ وَعَدْتَّهٗ»۔ یہ کون سا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ سکھایا، صحابہ کرام بھی اس طرح کرتے تھے۔ پس اگر کسی نے اذان سے پہلے درود شریف اس لیے پڑھے کہ اسی میں ثواب ہے، تو پھر کیا ہو جائے گا؟ خود ہی بتاؤ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا اور یہ کیا کر رہا ہے؟ درود شریف پڑھنے کا موقع کدھر ہے؟ اخیر میں ہے۔ جب اذان ہو جائے، اس کے بعد کہو نا، کس نے روکا ہے؟ تو اس سے پہلے کہنا کسی صحابی نے نہیں کہا، لہذا تم بھی نہ کہو۔ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ»، اس کا جواب أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ دینا چاہیے۔ یہی ہے سنت۔ وجہ کیا ہے؟ کیا تو نے شہادت نہیں دینی، صرف مؤذن نے شہادت دینی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محمد رسول اللہ ہیں؟ اور کیا مؤذن أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے بعد صلی اللہ علیہ وسلم کہتا ہے؟ تو درود کس لیے جاتے ہیں، تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ سمجھ میں آگئی نا، میرے خیال میں عقل سے بھی تھوڑا بہت کام لینا چاہیے نا۔ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ شہادت ہے، مؤذن شہادت دے رہا ہے، تو شہادت نہیں دے گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟ تم بھی شہادت دے دو۔
اب آپ کا ایک سوال ہے، جس کا جواب میرے ذمے ہے۔ وہ سوال کیا ہے، پھر یہ جو فرمایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آ جائے تو درود پڑھو۔ حدیث شریف موجود ہے، بالکل صحیح ہے۔ اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا نا کہ جب اذان پوری ہو جائے پھر اس کے بعد درود شریف پڑھو نا۔ کیونکہ آپ کے سامنے دو حکم آگئے۔ ایک حکم اذان کا جواب ان الفاظ سے دو جو مؤذن کہتا ہے، اور ایک وہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جب نام آ جائے تو درود شریف پڑھو۔ تو دونوں پر عمل اس طرح ہو سکتا ہے کہ جب تک اذان ہو رہی ہے تو ایک حکم پر عمل ہو ہی رہا ہے نا۔ جیسے وہ حکم پورا ہو جائے، اس کے بعد دوسرے حکم پہ عمل کرو۔ اور وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود شریف پڑھو۔ سبحان اللہ! کوئی مشکل نہیں ہے۔ اب یہی طریقہ بہترین ہے۔ اب اگر کوئی اس طریقے پر عمل کر لے اور کوئی کہہ دے، اوہ! یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق نہیں ہے۔ اس سے بڑا بدعتی کون ہوگا جو یہ کہے گا؟ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرتا ہے، اس کو یہ کہتا ہے عاشق نہیں ہے، اور خود اپنے آپ کو عاشق کہتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہ عمل کرتے ہوئے، تو اس سے بڑا بدعتی کوئی ہوگا؟ بس یہی عقل سے کام لینا ہے ہمیں۔ ہمیں یہ چیزیں سمجھنی چاہئیں، سوچنی چاہئیں، اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ یہ کوئی اپنے آپ سے تھوڑی کہہ رہا ہوں میں، یہ تو آپ کے سامنے احادیث شریف رکھی ہیں۔
تو اسی طریقے سے بدعت یہ تو کسی خاص سنت کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ جہاں کہیں کوئی بدعت آ جاتی ہے، اس کے مطابق وہاں سے سنت رخصت ہو جاتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف ہے «كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»۔ ساری بدعتیں گمراہی ہیں، اور ہر گمراہی جہنم تک لے جانے والی ہے۔ حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حوضِ کوثر پہ کھڑے ہوں گے، سب کو پانی پلا رہے ہوں گے امتیوں کو۔ ایک بڑی جماعت آ رہی ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے یہ میرے امتی ہیں، میرے امتی ہیں۔ بھلے میں ان کو پانی پلاؤں گا، اور جیسے قریب پہنچیں گے درمیان میں ایک دیوار گر جائے گی۔ یہ لوگ اس طرف، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے پریشان ہوں گے یہ کیا ہوا؟ یہ لوگ خود بھی بڑے پریشان ہو جائیں گے کہ ہم پہنچ گئے تو درمیان میں رہ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرشتے عرض کریں گے، یا رسول اللہ! آپ کو اندازہ نہیں تھا، یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے بعد میں دین میں نئی نئی باتیں شامل کی تھیں۔ لہذا ان کا آپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب بتاؤ۔ کدھر جائیں گے یہ لوگ؟ اتنی محنت بھی کریں اور محروم بھی ہو جائیں۔ اس لیے سنت پہ آنا چاہیے۔ ہم اہل السنۃ والجماعۃ ہیں۔ ہم کیا ہیں؟ اہل السنۃ والجماعۃ ہیں۔ اہل السنۃ والجماعۃ کا مطلب کیا ہے؟ سنت پر چلنے والے اور صحابہ کرام کے طریقے کو اپنانے والے، یہ ہے اہل السنۃ والجماعۃ۔ جماعتِ صحابہ۔ جماعتِ صحابہ کے طریقے کو اپنانے والے اور سنت پر چلنے والے، یہ ہمارا طریقہ ہے، اہل السنۃ والجماعۃ۔ تو کیوں خوامخواہ اپنے آپ کو خراب کر رہے ہیں؟ نہ خراب کریں نا اپنے آپ کو۔
تو یہ تو میں نے عرض کیا کہ سنت کے مقابلے میں جو عمل ہوتا ہے، وہ بدعت ہوتا ہے۔ اور رسومات کیا ہیں؟ یہ لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ چیزیں بنائی ہوتی ہیں، ان کو لازم سمجھتے ہیں۔ یہ رسومات ہوتے ہیں۔ بے شک اس کو دین نہ کہیں۔ رسومات کو کوئی دین نہیں کہتا۔ لیکن رسم تو کہتا ہے نا۔ تو خوامخواہ اپنی طرف سے کیوں طریقے اختیار کر لیں؟ بھئی شادی کا طریقہ ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ کرو، حکم کیا ہے؟ غمی کا طریقہ ہے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ کرو۔ اب یہ رسمِ قل، اس کے ساتھ لفظ کون سا لگا ہوا ہے؟ رسمِ قل۔ خود کہتے ہیں نا رسم۔ پھر؟ تو اسی طریقے سے یہ جو رسومات لوگوں نے بنائے ہوتے ہیں، ان رسومات سے بچنا ہے۔ اور رسومات آپ کو پتہ ہے کن کو زیادہ معلوم ہوتے ہیں؟ جاہلوں کو اور خواتین کو۔ جاہلوں کو اور خواتین کو، یہ ان سے سیکھتے ہیں۔ بھئی اس وقت کون سی رسم کرنی ہے؟ اب خدا کے بندو کیا کر رہے ہو؟ کتاب کو کھول کے دیکھو کیا ہے۔ یہ کیا ہے کہ عورتوں سے پوچھ رہے ہو کہ کون سا رسم؟ تو رسومات جو ہیں، یہ خوامخواہ اپنے آپ کو خراب کرنے والی۔ بہت سارے لوگوں کی رسومات سے تباہی ہو گئی۔ وہ فکر آگئی ذرا دے دیں۔ رسومات کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں آپ کو۔ رسومات نے پتہ نہیں کتنے لوگوں کا بیڑا غرق کر دیا۔ جوش میں آ کر وہ سب کچھ کرتے ہیں، اور اصل کو نہیں دیکھتے کہ بھئی یہ کیا چیز ہے، میں کر کیا رہا ہوں؟ تو یہ اصل میں فوتگی کے بارے میں ہے۔ سوال و جواب کی صورت میں ہے۔ جو فوتگی کی رسومات ہیں کیا ہیں اور پیر کا اس پر عمل۔
شاگرد استاد سے کہتا ہے
مرے استاد میں نے عجیب طریقہ دیکھا
میں نہ سمجھا میں کہوں کیا، کہ میں نے کیا دیکھا؟
مرے ایک دوست کا والد، سنا کہ فوت ہوا
جنازہ کے لیئے اس گھر کی طرف تیز چلا
جب پہنچا تو اس کے گھر میں بہت ہی شور تھا
عورتوں کے بین سے سوگوار وہ ماحول دیکھا
عورتیں کیا کہ مرد ان کے روتے جاتے تھے
پوز رونے کے وہ عجیب اک بناتے تھے
یہ جو رونا تھا مصنوعی سا نظر آتا تھا
بعد میں اس کا اثر مفقود، میں تو پاتا تھا
ہر مرد رونے کی اک شکل جب بناتا تھا
اس طرح ان سے محبت وہ اک جتاتا تھا
اٹھی چارپائی جب، میت کو لے کے جانے لگے
کلمہ وہ سارے پھر زور سے دہرانے لگے
جب جنازہ پڑھا گیا تو لوگ آنے لگے لوگ
چہرہ انہیں میت کا پھر دکھانے لگے
اور کچھ لوگ گلے لگ کے گھر کو جانے لگے
وہ جنازے میں حاضری کو یوں جتانے لگے
دفن کے واسطے چارپائی اٹھی بالآخر تب
جو باقی رہ گئے تھے قبر پہ آئے وہ سب
قبر میں پھر میت نیچے اتارے جانے لگی
دفن کے بعد مٹی بھی پھر ڈالے جانے لگی
مٹی قبر کی بھی پھر درست کرائی جانے لگی
اور اس کے بعد تلاوت کرائی جانے لگی
دعا کے بعد رسمِ قل کا بھی اعلان ہوا
رسم کا نام تو سن کر ہی میں حیران ہوا
تین دن گھر میں دعوتوں کی فراوانی تھی
مرے نصیب میں دیکھ کر اسکو حیرانی تھی
دیکھی جاتی نہیں اس دوست کی پریشانی تھی
رشتہ داروں اور دوستوں کی تو مہمانی تھی
میں تھا حیران اور حیران ہوا جاتا تھا
اور ان حالات میں پریشان ہوا جاتا تھا
رسمِ قل میں تو وہ پڑھنا، برائے نام سا تھا
لوگوں کو اس آنے میں، ایک کام سے تھا
ملنے جلنے سے اور گپ شپ، دعا سلام سے تھا
اسی میت کے وسیلے سے فیضِ عام سے تھا
یعنی اندازِ ضیافت بڑا شاندار رہا
مجھ پہ تو دیکھ یہ، غم بڑا سوار رہا
یعنی آپ اندازہ کر لیں کہ ایک جگہ پہ، جو دیگ پکی تھی نا وہ لیٹ ذرا پہنچی تھی، کیوں راستے میں رکاوٹ بھی ہوتی ہے رش بھی ہوتا ہے۔ تو ایک مولوی صاحب ان کو ذرا تسلی دینے کے لیے، کہ لوگ شور نہ کریں، وہ مسئلے بتا رہے تھے، کسی طریقے سے لوگ چپ بیٹھے رہیں۔ اتنے میں وہ دیگ آ پہنچی، تو مولوی صاحب بھی سچے آدمی تھے، انہوں نے کہا بھئی جس چیز کا انتظار تھا وہ آ گیا۔ جس چیز کا انتظار تھا وہ آ گیا۔ تو اب مجھے بتاؤ یہ کیا چیز ہے؟ یہ خوشی کا موقع ہے یا غم کا موقع ہے؟ یہی بات ہے، جو ہو رہی ہے، عقل کو ختم کرنے والی۔ یا کریم! اس قسم کے کام۔
اور چہلم میں انتظام اور عجیب ہوا
کارڈ بھیجے گئے چہلم جو کچھ قریب ہوا
دوسرا شاندار ایک طعام پھر نصیب ہوا
کھایا مالداروں نے محروم تو غریب ہوا
قرض پر قرض مرے دوست پہ چڑھتا ہی رہا
یہ وہ خدمت اپنے والد کی سمجھتا ہی رہا
مرے مشفق یہ جو دیکھا یہ طریقہ کیا ہے؟
میری آیا نہ سمجھ میں یہ ماجرا کیا ہے؟
خرچ کرنے کا اس اندا ز میں سلسلہ کیا ہے؟
اس کے بارے میں اکابر کا بھی فتویٰ کیا ہے؟
استاد کا جواب
مرے بیٹے ان طریقوں سے ہم انجان نہیں
اس لیئے اس طرح کاموں پہ ہم حیران نہیں
لوگ رسومات میں اپنی عقل کو چھوڑتے ہیں
مذہبی بات بھی، کلچر کی طرف موڑتے ہیں
اس طرح نفس کے چکر سے رشتہ جوڑتے ہیں
اور سنت کی طریقوں سے رشتہ توڑتے ہیں
ہر جگہ، ہر طرح، لوگوں کی خوشنودی مطلوب
واہ کیا کام ہوا، یہ سنیں، یہ ہی مطلوب
ایک دفعہ ایک صاحب نے دعوت کی تھی۔ تو خیر یہ تو لوگوں کو خوش کرنے کے لیے تھا نا تو پھر ذرا راستے میں ایک پل، پلیا سی تھی تو اس پہ لوگ جاتے تھے تو وہیں اندر نیچے بیٹھ گیا کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ میں نے بڑا وہ کیا نا۔ تو ساتھ کھانے کے بھی ایک روپیہ بھی دیتا تھا۔ خوش کرنے کے لیے۔ تو راستے میں بیٹھ گیا تو دو آدمی آ رہے تھے آپس میں بات کرتے، یار ویسے کمال کی دعوت تھی، لیکن ایک روپے، دو بھی تو دے سکتے تھے۔ یہ کون سے کامیاب ہیں، پھر بھی بخل سے کام لیا۔ لوگوں کو کوئی خوش کر سکتا ہے؟ لوگ خدا تعالیٰ سے ناراض ہیں، وہ شکوے کرتے ہیں، تو تم کون ہو وہ جو ان کو خوش کر سکتے ہو؟
آپﷺ نے جذبات کا بے شک ہے احترام کیا
جو ہر اک کر سکے، تو اس طرح ہر کام کیا
دور تکلف کو کیا، سادگی کو عام کیا
شرکیہ کاموں اور ٹوٹکوں کا اختتام کیا
یہ سادگی ہمیں پھر راس کیوں نہیں آتی؟
تکلفات کی جو عادت ہے وہ نہیں جاتی؟
رونا غالب ہوتو رونے میں قباحت بھی نہیں
عورتیں بین کریں اس کی اجازت بھی نہیں
اور رونے کے محض پوز کی حاجت بھی نہیں
غم مزید اور بڑھانے کی ضرورت بھی نہیں
مرد قوام ہیں، عورتوں کو تسلی دے دیں
رو کے خود، ان کو یہ رونے کی شہہ نہیں دے دیں
میت ہو مرد، تو عورتوں کے درمیان نہ ہو
تاکہ پھر چہرہ دکھائی کا بھی سامان نہ ہو
نیز غیر محرم عورتوں کا امتحان نہ ہو
غسل کے واسطے کوئی بھی پریشان نہ ہو
عورتیں چارپائی اٹھانے میں مزاحم بھی نہ ہوں
سامنے اضطراری اس میں غیر محرم بھی نہ ہوں
چاہے لے جانے میں میت کو ہم عزت دے دیں
اس کی چارپائی کو کندھے سے رفاقت دے دیں
اور گھروالوں کو حوصلہ دیں اور ہمت دے دیں
ان کو اس وقت پہ جس چیز کی ہو حاجت، دے دیں
ہم خموشی سے چلیں ساتھ اور عبرت پکڑیں
اور کرائے کے ذاکرین کی نہ حاجت پکڑیں
حق میں میت کے، جنازہ ہی تو بڑی ہے دعا
تو اس کے بعد بھی دعا ہی ہو تو یہ ہے کیا؟
ضروری کام ہے میت کو اب دفن کرنا
تو اس کے واسطے فوراً ہے قبر پر جانا
یہی سنت ہے کہ فوراً ہو اب تدفین کا عمل
کوئی اچھا یا برا کام نہ ہو اس میں مخل
بڑی عزت سے اس میت کی ہو تدفین ابھی
مٹی ڈالنے میں بھی شریک قبر پر ہوں سبھی
دیکھ لیں سب کو جو آنا ہے وہ جگہ ہے یہی
پس یہی روز بھلائے ہمیں دشمن نہ کبھی
قبر پر وعظ یہی ہو کہ یہاں آنا ہے
جو بھی دنیا میں ہے موجود، سب کو جاناہے
تین دن تک ہوگی تعزیت اس کے گھر والوں سے
کہ ہم قریب رہیں غم میں سوگواروں سے
ساتھ ہونے کا ہو اظہار ان کےپیاروں سے
چاہیں مہمانی نہیں ایسے غم کے ماروں سے
بلکہ تین دن تک ان کے گھر میں آگ جلے ہی نہیں
ہم کھلائیں انہیں، کچھ بھی وہاں پکے ہی نہیں
ہو جو میت کے لیئے کوئی بھی ایصالِ ثواب
نہ بنادے اسے رسم و رواج اور یوں اک عذاب
ان کو آزاد رکھیں جس طرح بھی جانیں صواب
ورنہ ان کی کہیں ہوجائے نہ نیت ہی خراب
کیونکہ لوگوں کے لئے جو بھی کریں گے، وہ عمل
بنے ریا، خدا کے ہاں نہ وہ رہا یہ اصل
اس میں تخصیصِ رواجی کا احتمال نہ ہو
اور غیر شرعی طریقوں کا استعمال نہ ہو
اور لوگوں کی خوشی کا بھی اس میں خیال نہ ہو
کسی مالک کے بھی ترکے سے یہ فی الحال نہ ہو
ترکہ میت کا ورثاء میں ہو تقسیم فوراً
اس کی تقسیم کی دی جائے بھی تعلیم فوراً
فرض، واجب کے مقابل مستحب کچھ بھی نہیں
جب خدا راضی نہ ہو پھر، تو یہ سب کچھ بھی نہیں
حق میں میت کے یہ سب شور و شعب کچھ بھی نہیں
بس محض ضد ہو تو پھر اس سے عجب کچھ بھی نہیں
ضد میں شیطان نے، شبیرؔ تیر کیا مارا ہے
سوچ لیں ہم اگر ارادہ یوں ہمارا ہے
تو یہ دیکھیں دو قسم کی چیز کا میں نے نمونہ بتایا، ایک فوتگی کی رسم اور ایک شادی بیاہ کی رسم۔ اور دونوں سب کو ہوتے ہیں۔ کوئی بھی اس سے خالی نہیں۔ کوئی گھر بھی اس سے خالی نہیں، غم بھی ہر جگہ آتا ہے، خوشی بھی ہر جگہ آتی ہے۔ اب خوشی پہ ہم کیا کرتے ہیں، غم پہ کیا کرتے ہیں؟ یہ ایک اپنا اپنا کام ہے۔ جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ دونوں کو اللہ پاک کی خوشنودی کے لیے اس طریقے پہ کرتے ہیں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کیا ہے۔ اور جو دوسرے لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں، یا لوگوں سے ڈرتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اصل نقصان کیا چیز ہے، لوگ کیا کہیں؟ یہاں پر میں ایک بات بتاؤں، تھوڑا سا اس فقرے کو چینج کر لیں کہ خدا کیا کہیں گے؟ اگر یہ بدل لیا تو بس سارا کام بدل جائے گا۔ بھئی لوگوں نے تو آپ کو یہ خوشی نہیں دی ہے نا، یہ تو اللہ پاک نے دی ہے۔
تو لہذا ایک دفعہ کہتے ہیں ہمارے حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ اپنے مواعظ میں فرمایا ہے۔ کہ ایک صاحبزادہ تھا۔ تو اس کا والد صاحب فوت ہو گئے۔ تو ظاہر ہے صاحبزادے کی برادری بھی صاحبزادوں میں تھی۔ سب ہر طرف صاحبزادے اور وہ تھے، بڑے بڑے لوگ تھے۔ تو کھانا بہت زبردست طریقے سے پکایا، خوب اچھا جتنا صاحبزادے کا ہوتا ہے۔ پکا کے سب کو بلایا ان سے کہا جی کھانا تو تیار ہے، لیکن اگر مجھ سے ایک بات سن لیں تو اس کے بعد۔ کہا بھئی جو کہو۔ انھوں نے کہا دیکھو اس وقت یہ غم کا موقع ہے۔ اور آپ میرے قریبی ہیں، تو آپ لوگوں نے مجھے تسلی دینی تھی کہ اس غم میں میرے شریک ہو جائیں۔ تو کیا اس وقت یہ گل چھرے اڑانے، یہ کوئی اچھا طریقہ ہے؟ کہ آپ اس وقت یہ مزے کریں اور ہم تکلیف میں مبتلا ہوں۔ چلیں جی کھانا تیار ہے کھانا کھا لیں۔ اس وقت کون کھانا کھا سکتا تھا؟ سب ظاہر ہے عزت دار لوگ تھے، تو انہوں نے کہا ہماری بے عزتی ہو گئی، سب بڑبڑا کے چلے گئے کہ یہ اس کا کھانا ہم کیوں کھاتے ہیں، اس کی ہمیں حاجت نہیں، فلانا نہیں۔ بس وہ لوگ چلے گئے، جب لوگ چلے گئے، اپنی برادری چلی گئی، تو غریبوں کو پہلے سے اس نے سمجھایا ہوا تھا کہ میں بلاؤں گا۔ وہ تو جو بیٹھے تھے ان کو کہا، آؤ جی بس اب کھاؤ۔ ان کو کھانا کھلایا، کہتے ہیں ان کو کیوں کھلاؤں گا تو میرے والد کو فائدہ ہوگا نا۔ ہاں، تو مالداروں کو میں کیوں کھلاؤں؟ تو سب کو کھلایا۔ یہ اس لیے کیا، حضرت نے فرمایا کہ اگر یہ نہ کرتے تو لوگ کہتے کنجوس ہے۔ کنجوس کی مہر لگوا دیتے۔ تو انہوں نے کہا نہیں کنجوس نہیں ہوں، لیکن میں شریعت پر چلوں گا۔ تو اس طرح اہتمام کر کے اپنے آپ کو کنجوسی کی مہر سے بھی بچایا۔ اور ما شاء اللہ، تو بہرحال یہ ہے کہ واقعتاً یہ عجیب عجیب باتیں ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
اس میں ذرا بھر بھی عقل کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ تھوڑا سا بھی عقل آ جائے نا، تو بات سب سمجھ میں آ جاتی ہے۔ کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ اس وقت لوگ عقل کو سلاتے ہیں۔ یار تو نہ بولنا، یہ جگہ تیرے بولنے کی نہیں ہے۔ یہ جا اس جگہ تو جاہلیت چاہیے۔ جو ہماری تعریف کر لے کہ بڑا اچھا کیا، یہ کیا، وہ کیا۔ تو اس سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔ تو ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ کیا صرف ایک لیکچر سے ایک بیان سے ٹھیک ہو جائے گا یہ؟ کیا بیان لوگ سنتے نہیں ہیں؟ ہاں بیان سنتے ہیں، پڑھتے بھی ہیں۔ اپنے آپ کو عاشقِ رسول بھی کہتے ہیں۔ سب کچھ ہونے کے باوجود عمل نہیں ہوتا، تو کیوں نہیں ہوتا؟ اس پہ بھی تو سوچنے کی ضرورت ہے نا۔ کیوں نہیں ہوتا؟ اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم نے اپنے نفس کی اصلاح نہیں کی ہوئی۔ یہ ساری شرارت نفس کی ہے۔ دیکھو نفس کی تین شرارتیں بہت عام ہیں۔ حبِ جاہ، شہرت کا شوق۔ حبِ باہ، مزوں کا شوق۔ اور حبِ مال، مال کو جمع کرنے کا شوق۔ یہ تین بلائیں ہیں، اور یہ تین شوق ہیں جو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ تو جو لوگ اس قسم کی رسومات کرتے ہیں، ان کو حبِ جاہ ہوتا ہے۔ اور جو اس طرح مزے اڑاتے ہیں، ایسے موقعوں پہ ان کو حبِ باہ ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے انسان جو ضروری، جہاں پر خرچ کرنا جیسے زکوۃ میں خرچ کرنا ہے، حج میں خرچ کرنا ہے، وہاں نہیں خرچ کرتے، وہاں حبِ مال ہوتا ہے۔ یہاں پر حبِ جاہ اور حبِ باہ غالب آ جاتا ہے۔ لہذا وہ حبِ مال دب جاتا ہے۔ لیکن وہاں پر حبِ مال غالب آ جاتا ہے زکوۃ میں اور حج میں، اور یا خیر خیرات میں، صحیح جگہ پہ جو خرچ کرنا ہوتا ہے، تو وہاں پر حبِ مال غالب آ جاتا ہے، وہاں پھر نہیں کرتے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو ہم نے ان تین جذبوں کو دبانا ہے۔ اور یہ اصلاحِ نفس کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اصلاحِ نفس کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا۔
تو اصلاحِ نفس کیسے ہو سکتا ہے؟ اب دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ بہت موٹی سی بات ہے۔ اگر کسی کا میٹر جو اس سے وہ کام کر رہا ہے۔ مثلاً ٹمپریچر ناپ رہا ہے، یا نمی ناپ رہا ہے، یا وولٹیج ناپ رہا ہے، یا ایمپیئر ناپ رہا ہے، جو بھی ناپ رہا ہے، وہ ایک میٹر ہے۔ وہ میٹر فالٹی ہو، بس وہ ٹھیک نہیں ہو، تو کیا آپ اس پر عمل کریں گے؟ ظاہر ہے میٹر فالٹی ہوگا تو رزلٹ فالٹی ہوگا، تو اس پر آپ عمل نہیں کر سکتے آپ کو اگر معلوم ہے تو۔ اور معلوم نہیں ہے، تو تباہی الگ ہوگی۔ کچھ کا کچھ ہو جائے گا نتیجہ۔ اب بلڈ پریشر کا آلہ آپ کا خراب ہے۔ اب مریض کا بلڈ پریشر ہائی ہے اور وہ کم بتا رہا ہے۔ اور آپ اس کو کم بلڈ پریشر کی دوائی دے دیں۔ تو اس کو تو آپ نے فارغ کر دیا۔ اس کے لیے کیا کریں گے؟ اس کے لیے کسی ایسی جگہ جائیں جہاں کا بلڈ پریشر کا آلہ ٹھیک ہو۔ آپ اندازہ کر لیں، مدینہ منورہ میں مجھے بلڈ پریشر کا ہو گیا اس دفعہ نہیں بہت عرصہ پہلے کی بات۔ تو میں ڈاکٹر کے پاس چلا گیا، ظاہر ہے وہ سعودی وہ تھا وہاں پر ڈسپنسری تھی۔ تو وہاں یہ آٹومیٹک آلے تھے۔ تو اس سے لے لیا، تو وہ زیادہ تھا۔ تو ڈاکٹر کے پاس گیا، وہ رزلٹ بتایا، کہتے ہیں، یہ آٹومیٹک آلے سے آپ نے لیا ہے یا وہ جو مینوئل ہے؟ میں نے کہا آٹومیٹک، کہتے نہیں نہیں، میں نہیں مانتا۔ میں نہیں مانتا۔ اس نے پھر مینوئل سے ریڈنگ لے لی۔ یعنی اس پر اس کو یقین ہی نہیں تھا حالانکہ ڈاکٹر تھے۔ اور وہ بظاہر پڑے ہوئے تھے۔ وہ کہتے نہیں، اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی چیز درمیان میں کام چھوڑ دے، تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اور جب مینوئل لیتا ہے تو کم از کم اس کو نظر تو آتا ہے نا کہ ہو کیا رہا ہے۔ تو اس کو پتہ چلتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، فالٹی میٹر سے آپ لوگ صحیح نتیجہ نہیں حاصل کر سکتے۔
اس لیے ایک انسان جس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی، وہ خود فیصلہ نہیں کر سکتا۔ کہ میں اپنی اصلاح کیسے کروں۔ اول اپنی حالت ہی سمجھ میں نہیں آئے گی، مثلاً ایک آدمی ہے اس کو تکبر ہے، وہ سمجھ رہا ہوگا کہ مجھ میں خودداری ہے۔ اس کو خودداری سمجھے گا۔ ایک شخص ہے اس کے اندر وہ یعنی عزتِ نفس کا مسئلہ ہے، وہاں پر یہ سمجھے گا کہ شاید مجھ میں تواضع ہے۔ تو فرق ہی نہیں کر سکے گا۔ اور یہی تو وجہ ہے کہ آپ کسی کو یہ کہہ دیں، تو وہ الٹا وہ کہہ دے گا کہ یہ کیسے تو نے کہا، مجھ میں تو یہ مسئلہ نہیں ہے۔ دوسرے کو نظر آتا ہے لیکن اس کو نظر نہیں آتا۔ تو اس کا مطلب ہے فالٹی میٹر سے کوئی اپنا علاج کوئی نہیں کر سکتا۔ تو جس کا میٹر ٹھیک ہو اس کے پاس جانا پڑے گا۔ تو اس لیے اس کے لیے شیخ کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اپنے آپ کو کسی شیخ کے سپرد کرنا پڑے گا۔ جب تک شیخ کے سپرد نہیں ہوں گے، اس وقت تک آپ خطرے میں ہیں، رسک پر ہیں۔ رسک پر ہیں۔ ایک تو یہ بات، پھر اس کی بات ماننی پڑے گی۔ جب آپ کو پتہ چل گیا وہ میرا خیر خواہ ہے۔ اور مجھے وہ ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔ اس میں تلاش کرو نا، ایسا نہ ہو کہ کسی دنیا دار کے پاس چلے جاؤ۔ وہ تمہاری غلطی ہوگی۔ اگر تم کسی دنیا دار کے پاس چلے گئے تو وہ تمہاری غلطی ہوگی۔ کیوں جاتے ہو اس کے پاس؟ وجہ کیا ہے کہ دنیا دار دنیا داروں کو پسند کرتے ہیں۔ «اَلْجِنْسُ يَمِيْلُ إِلَى الْجِنْسِ»۔ تو دنیا دار دنیا داروں کو پسند کرتے ہیں، تو ایسے پیروں کے پاس جاتے ہیں جو دنیا دار ہوتے ہیں۔ تو پھر اپنے کیا اپنے سر۔ تو پھر ظاہر ہے جو نتیجہ ہوتا ہے تو یہی ہوتا ہے۔ مجھے آپ بتا دیں، کیا آپ کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیں گے جو اپ کو بہت زیادہ اکرام کرے، آپ کو صوفے پہ بٹھائے، آپ کو چائے پلائے، آپ کو یہ، لیکن اپ کا علاج نہ کرے؟ تو اس کے لیے کسی ایم این اے کے پاس جاؤ۔ ایم پی اے کے پاس جاؤ۔ ان کے ساتھ تمہارا یہ معاملہ ہے، ڈاکٹر کے ساتھ تمہارا یہ معاملہ تو نہیں ہونا چاہیے نا۔ ڈاکٹر سے تو آپ علاج چاہیں گے۔ بلکہ اگر وہ کچھ کرے گا بھی، تو آپ کہیں گے ڈاکٹر صاحب چھوڑو، میں جس چیز کے لیے آیا ہوں بس وہ ہو جائے۔ تو اس طرح شیخ سے بھی یہ چیزیں نہ مانگو۔ شیخ سے بھی یہ چیزیں نہ مانگو۔
جب آپ دیکھیں شیخ میری اصلاح کر رہا ہے، اس وقت خوش ہونا چاہیے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ سمجھیں کہ بھئی یہ تو شیخ میرا اکرام کر رہے ہیں، اس کا مطلب ہے مجھے اصلاح کے قابل ابھی نہیں سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ جو شیخ کسی کا اکرام کرتا ہے نا، تو صحیح بات یہ ہے کہ یہ فی الحال ابھی اس میں کمی ہے۔ یعنی وہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے، کہ وہ اصلاح برداشت کر سکے۔ تو اس کو تیار کرنے کے لیے ذرا اکرام وغیرہ اس کا کرتے ہیں۔ تو اب ظاہر ہے کہ جو آپ کی اصلاح کرے تو سمجھو خوش ہونا چاہیے کہ یہ ما شاء اللہ میرے خیر خواہ ہیں اور میری اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ تو اگر ایسی بات ہے تو پھر ٹھیک ہے، تو اس میں آٹھ نشانیاں ڈھونڈو۔ آٹھ نشانیاں کیا ہیں؟ نمبر ایک نشانی، اس کا عقیدہ ٹھیک ہو، جو میں نے ابھی بتائی نا اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ، صحیح۔ دوسری بات، ان کو فرضِ عین درجے کا علم حاصل ہو۔ کم از کم۔ تیسری بات، اس پر عمل حاصل ہو۔ ایک شخص ہے نماز نہیں پڑھتا، آپ کیسے آپ کا پیر بن جاتا ہے؟ بٹیر لڑاتا ہے، کیسے آپ کا پیر بن گیا؟ خیر لوگ ایسے پیر ہیں یا نہیں ہیں مجھے بتاؤ؟ ہاں ہیں، وہ ایک صاحب، ڈرائیور تھے، ہم ان کے ساتھ گاڑی میں جاتے تھے۔ تو مجھے سمجھ آئے کہ بھئی یہ تو صوفی ہے، تو وہ زیادہ تصوف کی باتیں کرنے لگے۔ مجھے کہتا ہے ہمارے پیر صاحب جو ہوتے ہیں نا، وہ نماز مکہ مکرمہ میں پڑھتے ہیں۔ میں نے کہا، اچھا! چلو اچھی چھٹی ہو گئی۔ وہ ادھر سے غائب ہو جاتے ہیں، مکہ مکرمہ چلے جاتے ہیں، کھانے کے لیے پھر ادھر آ جاتے ہیں۔ تو یہ عجیب و غریب۔ یعنی اس ڈرائیور نے مجھے عجیب بات کہی۔ کہتے ہیں کہ ایک صاحب نے کہا، حضرت آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ اس نے کہا جاؤ اس کمرے میں دیکھو۔ کہتے ہیں وہ کمرے میں گیا، اور کمرے کے دروازے میں کھڑا ہو کر کبھی پیر صاحب کو دیکھتا ہے، کبھی اندر دیکھتا ہے، کبھی پھر۔ لوگوں نے کہا بھئی کیا کر رہے ہو؟ کہتے ہیں پیر صاحب اندر نماز پڑھ رہے ہیں، باہر ادھر حقہ پی رہے ہیں، یہ کیا بات ہے؟ ایسے لوگوں نے اپنے ٹاؤٹ چھوڑے ہوتے ہیں نا، بنانے کے لیے، بھئی تم یہ ناٹک چلاؤ، تو بس لوگوں کو یقین ہو جائے گا۔ تو میں نے کہا، یار ویسے آپ لوگ واقعی سادہ لوگ ہو۔ تو کم از کم عمل کرتا ہو۔ ایک بات، دو بات۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہ ان کی صحبت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ اخر یہ تو ہو گیا عمل کرتا ہو، علم رکھتا ہو پھر عمل کرتا ہو۔ تیسری، چوتھی بات یہ ہے کہ ان کی صحبت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تک پہنچتا ہو۔ یہ برکت ہے۔ کیونکہ صحبت سے اونچی برکت کی چیز کوئی نہیں ہے۔ اور پانچویں بات یہ ہے، کہ ان کی ریپوٹیشن اچھی ہو۔ یعنی علماء اور صلحاء ان کو صحیح سمجھتے ہوں اس وقت کے۔ اور چھٹی بات یہ ہے، کہ وہ مروت نہ کرتا ہو اصلاح کرتا ہو۔ جیسے ابھی میں نے بات کر لی۔ اور آخری بات یہ ہے، کہ ان کی مجلس میں بیٹھ کر آپ کو اللہ یاد آ جائے، دنیا کی محبت کی کمی ہو جائے۔ اگر اپ کی دنیا کی محبت وہاں بڑھ گئی، تو اپ نے پھر کیا پایا؟ تو اس طرح یہ چیزیں، آٹھ نشانیاں ڈھونڈو، اگر ایسا پیر اپ کو مل جائے اور اس میں اس کے ساتھ مناسبت بھی اپ کو ہو، تو پھر اس کے بعد بھول جاؤ کہ اس میں کشف بھی ہے، کرامت بھی ہے، کیونکہ یہ چیزیں اللہ کی ہیں یہ انسان کی نہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ جس کو جس وقت دینا چاہتے ہیں دے دیتا ہے، نہیں دینا چاہتے۔ بہت سارے صحابہ کرام تھے ان کی کرامات نہیں تھی، تو کیا وہ صحابی نہیں تھے؟ اور ولی، کوئی ولی صحابہ کے برابر تو نہیں ہو سکتا۔ تو ان سے اونچے تھے، لیکن اگر ان کی کرامت نہیں تھی اس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی لازم چیز نہیں ہے۔ نہ کشف لازم چیز ہے۔ ہو جاتی ہیں بہت سارے لوگوں کو، لیکن یہ کشف ایسی چیز ہے کہ بزرگوں کو بھی ہو سکتی ہے، مجنونوں کو بھی ہو سکتی ہے، کافروں کو بھی ہو سکتی ہے، فاسق فاجر کو بھی ہو سکتی ہے، اب بتاؤ فرق کیا کرو گے؟ جوگیوں کو نہیں ہوتی؟ تو ان چیزوں پر یقین نہ کرو، یہ اپنی باتیں ہیں۔ بہرحال پھر اس کی بات مان کے چلو۔ مان کے جو وہ کہے اس کو کرتے رہو، جس سے روکے اس سے رکتے رہو۔ خاصیت یہ ہے کہ وہ چیز پہلے ہی شریعت ہی کی ہوتی ہے۔ اللہ نے اپ کو پہلے ہی اس سے روکا ہوا ہے، لیکن پیر کے کہنے سے اپ کو عمل کی توفیق ہو جائے گی۔ اپ کر لیں گے۔ ویسے نہیں کر سکو گے۔ یعنی نہیں کرو گے۔ تو اس سے ما شاء اللہ راستہ اپ کا بن جائے گا، کیونکہ ہوتا تو اسی سے کہ نفس کی مخالفت سے ہی نفس ٹھیک ہوتا ہے۔ تو پیر اپ کو نفس کی مخالفت پر رکھے گا رکھے گا رکھے گا، حتی کہ اپ کا نفس ماننا شروع کر لے گا۔ بس کام بن جائے گا۔ یہی بات ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ راز، یہ بات سمجھ میں آنی چاہیے کہ اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ اور ایک دفعہ اصلاح ہو جائے ان شاء اللہ، پھر یہ سارے اعمال جتنے بھی ہیں، وہ سب شریعت کے مطابق خود بخود ہونے لگیں گے۔ لیکن ابتداء میں نہیں، کوئی یہ کہتا ہے بس وہ جیسے میں اس کو دیکھوں یا وہ مجھے دیکھے بس سارا کام خود بخود ہونے لگے، یہ کام ایسا نہیں ہو سکتا، لیکن یہ قانون نہیں ہے۔ یہ قانون نہیں ہے۔ کبھی کبھی ہو جائے تو ٹھیک ہے ہو گیا لیکن قانون ایسا نہیں ہے۔ جیسے کرامت اور معجزہ ہر وقت تو نہیں ہوتا نا۔ لیکن ہو تو سکتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے، خاتمہ بالخیر فرمائے۔
دوسرا مقرر: یہ وہاں پر مفتی صاحب کے ہاں کچھ بچوں کا ختم ہو رہا ہے، تو ابھی ان شاء اللہ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔
قاری: أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ إِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلَالٍ وَّعُيُوْنٍ۔ بیشک پرہیزگار لوگ سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَ۔ اور میوے، جس قسم کے وہ چاہیں گے۔ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ کھاؤ اور پیو مزے سے، بسبب اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ إِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۔ بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو۔ وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا إِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ۔ کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا، بیشک تم مجرم ہو۔ وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ۔ اور جب کہا جاتا ہے انہیں رکوع کرو، وہ رکوع نہیں کرتے۔ وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ فَبِأَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ۔ پس کس بات پر اس کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيْمُ۔
مقرر: دعا شروع کر لیں جی۔ مفتی صاحب دعا شروع کر لیں؟ دوسرا مقرر: جی حضرت دعا شروع فرمائیں۔
مقرر: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ۔ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِيْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا، رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا، رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ، وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا، أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِيْنَ۔
اے اللہ، اپنے فضل و کرم سے جو اس مجلس میں مرد آئے ہیں، خواتین آئی ہیں، یا اللہ ان کا آنا قبول فرما دے۔ اور یا اللہ اس دین کے سیکھنے کے جتنے بھی شعبے ہیں، یا اللہ ان کو شاداب رکھ۔ اور یا اللہ ان کے جتنے بھی فوائد ہیں وہ ہم سب کو نصیب فرما دے، اور مشکلات سے اللہ ہمیں نکال لے۔ یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے قرآن پاک کی خدمت یا اللہ جو ہو رہی ہے اس کو قبول فرما دے۔ اور قرآن پاک کے جو مضامین یا اللہ اس وقت سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ترجمے کے لحاظ سے، یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو اس کے صحیح مفاہیم سمجھا دے۔ اور پورے دنیا میں، یا اللہ تمام مسلمانوں کو اس کی سمجھ عطا فرما دے۔ اور جتنے بھی باقی لوگ ہیں جو کافر ہیں ان کو ہدایت عطا فرما دے، ایمان کی روشنی سے منور فرما دے۔ اور یا اللہ قرآن پاک کے علوم سے مستفید کروا دے۔ اور یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہماری پوری زندگی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں سے یا اللہ مزین فرما۔
یا اللہ العالمین، ہمیں ہر کام کو اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ بدعات اور گمراہیوں سے اللہ ہماری حفاظت فرما دے۔ اور یا اللہ جو حق ہے وہ ہمیں حق دکھا دے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ اور یا اللہ جو باطل ہے ہمیں باطل دکھا دے، اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ نفس کی شرارت سے ہمیں محفوظ فرما دے۔ ہمارے نفسوں کی مکمل اصلاح فرما دے۔ یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں نفسِ مطمئنہ عطا فرما، کیفیتِ احسان عطا فرما، اور یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے یا اللہ ہمارے قلب کو قلبِ سلیم بنا دے، عقل کو عقلِ فہیم بنا دے۔ اور یا اللہ اپنے رضا کی دولتِ عظیم ہمیں عطا فرما دے۔ یا اللہ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت پاک میں اپنا دیدار پاک عطا فرما، اور یا اللہ جب تو فرمائے گا کہ میں تم سے راضی ہوا پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، اے اللہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما دے۔
اور یا اللہ ہمیں نامہ اعمال دائیں ہاتھ سے عطا فرما۔ یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے یا اللہ موت کے وقت یا اللہ تمام مشکلات سے بچا دے۔ اور یا اللہ وہاں پر ہم سے یا اللہ حساب کتاب کے بغیر یا اللہ ہمیں یا اللہ معاف فرما دے۔ اور یا اللہ ہمیں جنت الفردوس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جگہ عطا فرما دے۔ اور یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے تمام مسلمانوں کو یا اللہ آخرت کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ جتنے مسلمان فوت ہو چکے ہیں سب کی مغفرت فرما، اور جو ہمارے اکابر دنیا سے گئے ہیں ان کے درجات بہت بلند فرما، ان کے فیوض و برکات سے مکمل و وافر عطا فرما۔
اور یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام کا قلعہ بنا، جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا اس کے لیے قبول فرما دے، اور جو بھی پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے اس کو اس مقصد سے ہٹانا چاہتا ہے اول ان کو ہدایت عطا فرما، اگر ہدایت ان کے نصیب میں نہیں تو ان کو عبرت کا نمونہ بنا۔ حرمین شریفین کی بالخصوص حفاظت فرما دے۔ اور یا اللہ وہاں پر بھی جو کوئی گند لانا چاہتا ہے، یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ان کے پر بال کاٹ دے۔ اور یا اللہ ان کو اس گند سے محفوظ فرما دے۔ اور یا اللہ حرمین شریفین کو ہر قسم کے گند سے محفوظ فرما۔ یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے، یا اللہ یا اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کو دیکھ کر تو خوش ہوتا ہے۔ یا اللہ اپنی رضا کی دولتِ عظیم عطا فرما دے۔ ہماری آنکھوں، کانوں، زبانوں، اور یا اللہ جس نے بھی ہمارے دین کے لیے یا اللہ یہ جان مال وقت لگایا ہے، یا اللہ ان کی جان مال وقت سب کو قبول فرما لے، اور ان کو اپنے دین کے لیے استعمال فرما دے، جان مال وقت اولاد سب اپنے دین کے لیے استعمال فرما۔
اور یا اللہ کوئی بھی ایسی چیز جو، جس کا ہم سے مطالبہ ہو، تو یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور یا اللہ فضول اور لغو چیزوں کے پیچھے ہمیں نہ ڈال، اور یا اللہ اس سے ہمیں محفوظ فرما دے۔ ہماری آنکھوں کی، کانوں کی، زبانوں کی، ہاتھوں کی، ہاتھ پاؤں کی، جسم کے سارے اعضاء کی یا اللہ ایسی لغویات سے اور غلط چیزوں سے یا اللہ ہماری حفاظت فرما دے۔ یا اللہ اس مشکل دور میں جس میں فتنہ بہت عام ہے، یا اللہ ہماری خصوصی حفاظت فرما دے۔ یا اللہ دجال اور دجالی فتنوں سے ہماری حفاظت فرما، اور یا اللہ سنت کے راستے پر یا اللہ ہمیں چلنے کی توفیق عطا فرما، اور امام مہدی علیہ السلام ہمارے وقت میں آ جائیں تو ان کے ساتھ ہمیں شامل فرما دے۔ اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
یا اللہ جو یہاں خانقاہ میں جتنے بھی معمولات ہو رہی ہیں، اور یا اللہ جتنے بھی کام یا اللہ تیرے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلنے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں ان کوششوں کو برابر فرما دے، اس میں اگر کوئی خامی ہو تو اس کو دور فرما دے۔ اور یا اللہ اس کو انتہائی مفید فرما دے، اور یا اللہ ہماری خانقاہ کو ہماری تمام خانقاہوں کو، بلکہ ساری خانقاہوں کو یا اللہ قبول فرما دے، اور یا اللہ اس کے اندر صحیح وہ روشنی جو ہمارے اکابر کی محبت کی، اور تیرے حبیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبت کی اور صحابہ کرام کے طریقے پر چلنے کی چلی آ رہی ہے یا اللہ وہ ہم سب کو نصیب فرما دے۔ اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
جہانگیرہ کی جو خانقاہ ہے اس کے اندر جو کام ہو رہا ہے یا اللہ اس کام کو بھی قبول فرما۔ اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ