عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت، احکامِ حج اور حجاجِ کرام کے لیے اہم ہدایات

خطبات الاحکام سے خطبہ نمبر 50: ماہِ ذوالحجہ کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
عزیزیہ - مکہ مکرمہ
  • عشرہ ذی الحجہ کی قرآنی اور نبوی فضیلت، بالخصوص روزوں کا بے پناہ اجر۔
    • حجاجِ کرام کے لیے احرام کے دوران چہرے کے پردے کا محتاط طریقہ (کیپ اور اسکارف کا استعمال) اور خوشبو سے مکمل پرہیز کی تلقین۔
      • مختلف فقہی مسالک (حنفی، شافعی وغیرہ) کا احترام اور حرمین شریفین میں اپنے مسلک پر مضبوطی سے قائم رہنے کی اہمیت۔
        • تکبیراتِ تشریق کے اوقات اور خواتین و حضرات کے لیے اس کے احکام۔
          • وقوفِ عرفات کا وقت، مسنون دعاؤں کا طریقہ اور دجالی فتنوں سے حفاظت کی دعاؤں پر زور۔
            • مزدلفہ کا قیام، رمی جمرات کے اوقات (بالخصوص خواتین اور ضعیفوں کے لیے آسانی) اور سنت کی پیروی۔
              • نظم و اشعار کے ذریعے حج اور وقوفِ عرفات کی عاشقانہ کیفیات اور اللہ کی رحمتوں کا تذکرہ۔

                الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

                ﴿وَالْفَجْرِ ۝ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ۝ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ﴾

                وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى:

                ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾

                وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

                «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ»

                لَا سِيَّمَا صَوْمَ عَرَفَةَ الَّذِي قَالَ فِيهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:

                «صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ»

                وَمِنْهَا التَّكْبِيرُ دُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ. وَكَانَ عَلِيٌّ يُكَبِّرُ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَيُكَبِّرُ بَعْدَ الْعَصْرِ. وَمِنْهَا إِحْيَاءُ لَيْلَةِ الْعِيدِ.

                صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.


                معزز خواتین و حضرات! ابھی ما شاء اللہ انتہائی مبارک ایام میں ہم داخل ہونے والے ہیں، بلکہ داخل ہو چکے ہیں۔ یہ جو پہلا عشرہ ہے ذی الحجہ کا، انتہائی درجے کا مبارک عشرہ ہے۔ اللہ جل شانہٗ اپنے کلام پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ جو ابھی آیت کریمہ میں نے تلاوت کی، ﴿وَالْفَجْرِ ۝ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ۝ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ﴾، اس میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں، حق تعالیٰ شانہٗ نے قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی، اور طاق کی، اور جفت کی۔ قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی، اور طاق کی، اور جفت کی۔ دُرِ منثور میں متعدد اسناد سے روایت درج کی گئی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے اس آیت میں ﴿لَيَالٍ عَشْرٍ﴾ سے عشرۂ ذی الحجہ مراد ہے۔ اور وتر طاق سے عرفہ کا دن، اور شفع سے جفت سے جفت قربانی کا دن مراد ہے، جو عید کا دن ہوتا ہے۔


                تو اب دیکھیں، دس راتیں تو شروع ہیں۔ اور نو ذی الحجہ، یہ پرسوں آ رہا ہے ہمارے ہاں، پاکستان میں اس کے ایک دن بعد آئے گا۔ اور دس ذی الحجہ اس کے بعد آ رہا ہے۔ تو یہ سب ہمارے لیے مبارک دن اور مبارک راتیں ہیں۔ کرنا کیا ہے اس میں؟ جو حدیث شریف ابھی گزری ہے، اس سے ہمیں کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کیا کرنا ہے۔ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی دن عشرۂ ذی الحجہ کے سوا ایسے نہیں کہ ان میں عبادت کرنا خدا تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو۔ ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال روزہ رکھنے کے برابر ہے۔ البتہ دسویں کو روزہ حرام ہے، اس میں تو نہیں رکھنا چاہیے۔ پس یہ فضیلت نو دنوں کے لیے ثابت ہو گئی۔ اور ان کی ہر رات کا جاگنا شبِ قدر کے برابر ہے۔ ترمذی، ابنِ ماجہ کی روایت ہے۔ اور مسلم شریف کی روایت ہے جس میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ عرفہ کا روزہ کفارہ ہو جاتا ہے ایک سال گزشتہ کا، اور ایک سال آئندہ کا۔


                تو اب اس میں روزہ رکھنا یہ مستحب ہے، لیکن اعلیٰ درجے کا مستحب ہے۔ کیونکہ اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ اور یقیناً چونکہ آج کل گرمی ہے، اور گرمی کے روزوں کا اجر اور زیادہ ہو جاتا ہے مجاہدے کی وجہ سے۔ روزے کا جو ثواب ہے، تصور انسان نہیں کر سکتا۔ بہت زیادہ ثواب ہے جس میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ میں اس کی جزا دیتا ہوں۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ دوسرے کاموں کی جزا، وہ تو اللہ جل شانہٗ فرشتوں کے ذریعے سے دلواتے ہیں، لیکن اس کی جزا خود دیتے ہیں اپنی شان کے موافق۔ بابِ ریان سپیشل ایک دروازہ ہے تو جنت میں۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اس فضیلت کو حاصل کرنا چاہیے۔


                چونکہ میری بات حاجیوں کے پاس بھی جا رہی ہے اور غیر حاجیوں کے پاس بھی جا رہی ہے۔ جو حاجی خواتین ہیں، ان تک بھی بات پہنچ رہی ہے۔ ان کے لیے تو بہتر یہ ہے کہ نو اور دس کا نہ رکھیں۔ دس کا تو خیر نہیں، آٹھ اور نو کا نہ رکھیں۔ ترویہ اور عرفہ کا روزہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی مشقت اور مجاہدہ حج کا زیادہ ہے، اور حج پر اثر پڑ سکتا ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ وہ نہ رکھیں۔ لیکن جو حج نہیں کر رہیں، ان کے لیے تو یہ سعادت بہت زبردست ہے۔ تو ان کو یہ رکھنا چاہیے۔ اب میں اس حرص میں ہوں کہ آپ لوگ رکھیں گی ان شاء اللہ، تو اس میں مجھے بھی اجر ملے گا۔ چونکہ ہم تو نہیں رکھ سکتے، حاجی ہیں، تو اس وجہ سے یہ حرص ہے کہ آپ لوگ اگر رکھیں گی تو ان شاء اللہ اس کا اجر ہمیں بھی ملے گا ان شاء اللہ۔ تو کوشش کر لیں کہ یہ روزے رکھ لیں۔


                مستحب ہے، فرض و واجب نہیں ہے۔ لیکن بہت اعلیٰ درجے کا مستحب ہے۔ لہٰذا ہم مستحبات میں اگر ہمت اور کوشش کریں گے تو ہماری سنتیں محفوظ ہوں گی۔ اور سنتوں پہ اگر ہم استقامت اختیار کریں گے تو واجبات و فرائض ہمارے بچیں گے۔ اور فرائض و واجبات اگر ہمارے مستقل ہوں، تو ان شاء اللہ ایمان محفوظ رہے گا۔ تو اس وجہ سے آج کل کے فتنے کے دور میں ان چیزوں کا اہتمام انتہائی مفید ہے۔ تو ہم لوگوں کو اس میں کمی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔


                اب اس میں جو حج کر رہی ہیں، ان کے لیے چند باتیں میں عرض کروں گا۔ اور جو حج ابھی نہیں کر رہی ہیں، ان کے لیے میں چند باتیں عرض کروں گا۔ جو حج کر رہی ہیں، ان سے میں عرض کروں گا کہ ایک تو بہت زیادہ اہتمام کے ساتھ مطلب جو حج کے جو اعمال ہیں، ان کو سیکھیں۔ ابھی چونکہ ایک دن باقی ہے، کل سے ان شاء اللہ اعمال شروع ہو جائیں گے۔ تو اس کو بہت اہتمام کے ساتھ سیکھیں۔ اس کی کتابیں موجود ہیں۔ جن کی ہمارے نیٹ تک رسائی ہے، تو tazkia.org، tzkia.org، اس پر ہمارے فقہ کے باب میں جو عبادات کا سیکشن ہے، اس میں عمرہ اور حج کا پورا سپیشل مطلب ظاہر ہے یہاں پر ہے، بلکہ اس کے اوپر، اس کے فرنٹ کے اوپر حج اور عمرے کا طریقہ بھی دیا ہوا ہے۔ وہ جو مطلب خواتین اس کو مطلب پڑھ سکتی ہیں، تو اس کو اچھی طرح پڑھیں۔ اور اچھی طرح سمجھیں۔ اگر نہ سمجھ میں آئے، تو ہم سے پوچھ سکتی ہیں ابھی ہمارا ان کے پاس ٹائم ہے۔ مطلب ان سے پوچھ سکتی ہیں۔


                لیکن یہ بات ہے ضرور کہ اس کو پڑھیں ضرور۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علم جو ہوتا ہے نا، وہ انسان کے پاس ہو بھی، لیکن مستحضر نہ ہو تو اس وقت غلطی ہو جاتی ہے۔ تو علم کا مستحضر ہونا ضروری ہے۔ اور مستحضر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان جس وقت اس پہ عمل کر رہا ہو، تو اس سے پہلے ذرا اس کو دیکھ لے۔ کیونکہ احکام تو کبھی کبھی ہوتے ہیں نا، بعض لوگوں کو تو صرف زندگی میں ایک مرتبہ ہی ملتا ہے۔ تو بعض لوگوں کو بار بار ملتا ہے، تو کم از کم سال تو گزر ہی جاتا ہے۔ تو اس میں کچھ چیزیں انسان بھول جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے کم از کم اس کو گو تھرو کر لیں۔ تاکہ جو چیزیں سمجھنی ہوں، وہ یاد رہیں۔


                اب خواتین کے بارے میں عرض کروں گا بہت ساری خواتین کا یہ خیال ہے کہ اس میں چہرہ کھلا رکھنا ہے۔ یعنی جس کو مطلب ہم کہتے ہیں احرام میں۔ تو وہ پرواہ نہیں کرتیں، وہ بالکل ہی کھلا رکھتی ہیں۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ کھلا رکھنے کا مطلب کیا ہے کہ اس کے اوپر کپڑا نہ لگے۔ یہ احرام ہے ان کا۔ اب کپڑا نہ لگنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان چہرہ بالکل اس طرح مردوں کے سامنے بالکل کھلا رکھے۔ یہ مناسب نہیں کیونکہ چہرہ جو ہے یہ فتنے کی جگہ ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو چھپانا ضروری ہے۔ تو کیسے چھپائیں؟ مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، سب کا تو ایک جیسا ضروری نہیں ہے۔ اب عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی جو روایت ہے، اس میں تو یہ فرماتی ہیں کہ جب مرد سامنے نہیں ہوتے تھے تو ہم اپنا چہرہ کھلا رکھتی تھیں۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ آڑ لیتی تھیں۔ تو آڑ مختلف طریقوں سے لی جا سکتی ہے۔ اس کا ایک آسان طریقہ بھی ہے۔ تجربے کی بات کر رہا ہوں۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہوتا ہے نا چجے والی ٹوپی ہوتی ہے نا سکولوں کی ٹوپی ہوتی ہے جیسے یہ آرمی والوں کی بھی ہوتی ہے۔ چجے والی ٹوپی ہوتی ہے۔ اس چجے والی ٹوپی کو اگر پہنیں، اس کے نیچے اسکارف ہو۔ تو اس چجے والی ٹوپی، اس کے اوپر اسکارف ہو۔ تو وہ جو اسکارف کا جو کور ہے، مطلب پردہ ہے، وہ جب اس کے اوپر ڈالا جاتا ہے تو چہرے کو نہیں لگتا۔ وہ چجے کے اوپر لٹک جاتا ہے۔ تو مطلب ظاہر ہے چہرے کو نہیں لگے گا۔ لیکن یہ والی بات ضرور ہے کہ وہ ما شاء اللہ آڑ ہو جائے گی۔ تو بس آڑ کی بات ہے۔


                اب میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اس وہ صحابہ کا دور تھا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! صحابہ کی نظریں پاک تھیں۔ اس وقت وہ آڑ لینا بھی کافی ہوتا تھا، مطلب چونکہ قصداً تو دیکھتے نہیں تھے، صرف غلطی سے نظر پڑتی تھی۔ تو اس کے لیے وہ بات کافی ہوتی تھی کہ بس آڑ لے لے، کسی کے پیچھے ہو گیا کوئی اس طرح۔ اب تو اللہ معاف فرمائے فسق و فجور کا دور ہے۔ تو ایسی صورت میں لوگوں کو امتحان میں نہیں ڈالنا چاہیے۔


                تو اب جیسے خوشبو کی بات ہے۔ تو ظاہر ہے مردوں کی خوشبو جو ہے نا وہ تیز خوشبو ہو سکتی ہے، مردوں کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اس میں رنگ زیادہ ہو اور خوشبو کم ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح یہ ہوتی ہے۔ تو اب یہ وہ بھی فتنے سے بچنے کے لیے ہے۔ تو اس وجہ سے فتنے سے بچنے کے لیے جتنا سامان ہو سکتا ہے چونکہ ﴿لَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾، تین باتوں سے خصوصی طور پر روکا گیا ہے۔


                تو رفث یہ نظر بد، بد نظری سے شروع ہو جاتی ہے۔ تو اب یہ بد نظری جو ہے، ایک خاتون ہے، وہ خود تو نہ کرے لیکن کرنے کا موقع دے دے تو سبب تو بن گئی نا۔ سبب تو بن گئی۔ تو اس وجہ سے جو ہے نا وہ اس سبب بننے سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے دوسرے کے لیے وہ مسئلہ بن جائے۔ تو بہرحال اپنی طرف سے کوشش ہے۔ اور اگر اپنی طرف سے کوشش کریں اس نیت کے ساتھ کہ باقی لوگ محفوظ رہیں، تو ان شاء اللہ اللہ پاک اس پر بہت اجر دے گا۔ آج کل کے دور میں بہت ضروری باتیں ہیں یہ۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ایک بات تو یہ احرام والی بات میں عرض کرنا چاہتا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ احرام یہ مردوں کے لیے چادروں کو نہیں کہتے۔ اور عورتوں کے لیے یہ خاص ہیئت جو مطلب یہ ہے اس کو نہیں کہتے، بلکہ اصل میں یہ نیت کی بات ہوتی ہے۔ تو نیت جس وقت ہو گئی، تو اس کے بعد پھر اپنے کپڑوں میں بھی ہو تو احرام کی پابندیاں اس پر لگ جائیں گی۔ اور ان میں سے ایک پابندی یہ بھی ہے کہ مرد صرف دو چادریں اوڑھیں۔ اور عورتیں جو ہے نا مطلب جس طریقے سے احرام کا طریقہ میں نے بتا دیا، اس طریقے سے کریں گی۔ عورتوں کا یہ خیال ہے کہ شاید یہ بالوں کا چھپانا جو ہے یہ صرف احرام میں ہے۔ یہ ویسے بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بالوں کا جو ہے نا وہ نظر نہ آنا یہ بال جسم کا حصہ ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ نظر نہیں آنے چاہئیں، وہ عام بات بھی ہے۔ البتہ یہ والی بات ہے کہ اس میں اہتمام ہے اور یہ چہرے پہ جو ہے نا وہ کپڑا نہیں لگنا چاہیے یہ ضروری ہے۔ تو وہ مطلب اس کا اہتمام کریں اور پابندی کریں۔ ایک پابندی تو یہ ہے۔


                دوسری پابندی یہ ہے کہ خوشبو استعمال نہ کریں۔ خوشبو استعمال نہ کریں۔ یعنی احرام کی نیت کے بعد۔ پھر قصداً یا غیر قصداً غلطی سے، کسی اور کی غلطی سے بھی اگر خوشبو لگ جائے تو اس سے بھی جنایت آ سکتی ہے۔ تو اس وجہ سے جس کو، میں اس پہ ایک بار سوچ رہا تھا کہ اس میں کیا حکمت ہے؟ مطلب ظاہر ہے وہ تو اس میں بظاہر یہ بات نظر آ رہی ہے کہ اس میں اللہ پاک ہمیں اوور الرٹ کرنا چاہتے ہیں بعض چیزوں کے بارے میں۔ یعنی بعض چیزوں کے بارے میں ہم اوور الرٹ ہوں، کہ غلطی سے بھی وہ نہ ہو۔ اس کی مثال میں دیتا ہوں یعنی ہمارے دنیا کی چیزوں میں کہ سیفٹی کے جو اصول ہوتے ہیں نا، تو اس میں یہ بات ہوتی ہے کہ جو بہت زیادہ تباہ کن چیزیں ہوتی ہیں تو ان کی سیفٹی کئی طرح ہوتی ہے۔ اگر ایک فیل ہو جائے تو دوسرا ہو، دوسرا فیل ہو جائے تو تیسرا ہو، تیسرا فیل ہو جائے تو چوتھا ہو۔ مطلب کسی نہ کسی طریقے سے وہ محفوظ رہے، کسی نہ کسی طریقے سے بھی وہ جو ہے نا مطلب اس سے نقصان سے بچا جائے۔ تو یہ اوور الرٹنس ہمارے، حاجی کے اندر یہ اللہ پاک پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دو چیزوں میں ہے، ایک احرام میں ہے اور ایک اعتکاف میں ہے۔ اعتکاف میں بھی اگر غلطی سے کوئی اپنا سٹیشن چھوڑ گیا جو معتکف ہے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ مطلب یہ عذر نہیں ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ بس غلطی کیوں ہوئی؟ آپ الرٹ رہتے! تو اسی طرح احرام کی حالت میں بھی اوور الرٹنس چاہیے ہوتا ہے کہ تاکہ کسی طریقے سے بھی غلطی کا امکان نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے جو ڈھیلے ڈھالے لوگ ہوتے ہیں نا، جو پرواہ نہیں کرتے، ڈھیلے ڈھالے طریقے سے چلتے ہیں، ان کو کوئی گویا ہے کہ یہ ایک میسج ہوتا ہے کہ یہ ڈھیلا ڈھالا پن چھوڑ دیں اور ہوشیار مطلب باہوش رہیں، اور کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے جو ہے نا مطلب آپ کا جو غلط کام ہے، وہ اس کے اندر فرق آ جائے۔ تو یہ احرام جو ہے نا مطلب ہے کہ اس کے لیے ہمارے لیے ایک ذریعہ ہے۔ تو اس احرام کے اندر یہ پابندی کرنی چاہیے۔ اور اس میں جو ہے نا مطلب خیر وہ تفصیلی چیزیں ہیں کہ وہ جو ہے نا مطلب مکہ مکرمہ کی حدود میں وہ کسی چیز کا نقصان نہیں کرنا چاہیے درختوں کا، یا شکار کا، یا کوئی اس قسم کی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، وہ تفصیلات ہیں۔


                لیکن بہرحال یہ ہے کہ کم از کم ہمارے اب تیسری بات یہ ہے کہ خوشبو جو ہے وہ کھانی بھی نہیں چاہیے۔ تو کھانے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ ہے کہ یعنی جو سیال چیز ہوتی ہے جیسے پانی ہے۔ اس کے اندر خوشبو ملی ہو تو اس کا الگ حکم ہے۔ اور خوشبو پکی ہو کسی چیز میں تو وہ مطلب اس کا الگ حکم ہے۔ تو اگر پکی ہوئی خوشبو ہے جیسے کھانے میں کوئی الائچی ڈال لیتے ہیں یا کوئی پودینہ ڈال لیتا ہے، یا کوئی اور اس قسم کی چیز ڈال لیتے ہیں، اور پک جائے، تو پھر ٹھیک ہے وہ صحیح ہے۔ لیکن اگر وہ کچی ڈال لیں تو پھر وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اور اس طریقے سے شربت وغیرہ میں جو اگر کوئی مطلب وہ ڈال لیں جوس وغیرہ جو آتے ہیں تو خوشبو تو وہ پھر ٹھیک نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔ ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔


                بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو مشتبہ ہوتی ہیں، ان کے بارے میں تعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کہاں ہے، کس چیز میں ہے، آیا جائز میں ہے، ناجائز میں ہے؟ ان سے بچنا بہتر ہے۔ ان سے بچنا کیا ہے؟ بہتر ہے۔ اور جو واضح طور پر منع ہے اس سے بچنا لازم ہے۔ تب ہی انسان جو ہے نا مطلب ہے اس کی، اپنے آپ کی حفاظت کر سکتا ہے۔ اور بہت ساری چیزیں انسان کھا سکتا ہے، انسان پی سکتا ہے۔ تو خوامخواہ کیوں جو ہے نا مطلب اپنے آپ کو رسک میں ڈالے؟ بہت ساری باتیں چلو چند دن نہ سہی۔ تو آپ دودھ پی سکتے ہیں، آپ جو ہے نا ما شاء اللہ پانی پی سکتے ہیں، زم زم پی سکتے ہیں۔ اور ما شاء اللہ بہت ساری چیزیں آپ کھا سکتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تو وہ سیب، کیلا کھا سکتے ہیں، مالٹا کھا سکتے ہیں، یہ سب چیزیں آپ کے لیے بہت، تو کیوں خوامخواہ اپنے آپ کو رسک میں ڈالیں؟


                اصل میں یہاں پر ایک بات میں عرض کرتا ہوں مکہ مکرمہ سبحان اللہ یہ پورے عالم کا شہر ہے۔ عالمی شہر ہے۔ تو اس عالمی شہر میں ہر قسم کے لوگ آتے ہیں۔ اور ہر مسلک کے لوگ آتے ہیں، اور سب کا حق ہے۔ تو اب یہ بات ہے کہ مثال کے طور پر کوئی چیز ایک کے مسلک میں جائز ہے، دوسرے کے مسلک میں جائز نہیں ہے۔ تو انسان اپنے اپنے مسلک پہ عمل کرے۔ اپنے اپنے مسلک پہ عمل کرے۔ اب دیکھو نا مجھے اگر خون آ جائے تو میں اپنا وضو دوبارہ کرتا ہوں۔ کیونکہ ظاہر ہے میں حنفی ہوں۔ لہٰذا میں تو وضو کروں گا دوبارہ کیونکہ خون آ گیا ہے۔ لیکن اگر شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کا کوئی پیروکار ہو۔ اس کو اگر خون آ جائے تو اس پہ جو ہے نا ان کا وضو دوبارہ لازم نہیں ہے۔ لیکن اگر مثال کے طور پر کسی کا اپنے اعضائے تناسل کے ساتھ ہاتھ لگ گیا تو احناف کے نزدیک اس پہ وضو دوبارہ نہیں ہے۔ لیکن دوسرے اماموں کے نزدیک مطلب وہ ہے، مطلب وضو کرنا پڑے گا ان کو دوبارہ۔ اور یا کسی کا اپنی محرم عورت سے بھی ہاتھ لگ گیا مرد کا، تو ان کا وضو ان کے نزدیک ٹوٹ گیا، ہمارے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔


                اب کچھ سختیاں ہمارے ہاں ہیں، کچھ سختیاں ان کے ہاں ہیں۔ ٹھیک ہے نا۔ اب یہاں پر سب لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ سب لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ تو ہر ایک نفس کی خواہش جو ہوتی ہے وہ آسانی چاہتا ہے۔ تو وہ ایک دوسرے سے آسانی لیتے ہیں۔ تو نتیجتاً ایک عجیب و غریب صورتحال بن جاتی ہے، اور کہتے ہیں جی فلاں اس طرح ہو رہا تھا، وہ حرم شریف میں ایسا ہو رہا تھا بھئی! خدا کے بندے حرم شریف میں تو سب لوگ آتے ہیں۔ حرم شریف میں تو اس قسم کا امکان زیادہ بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا ان چیزوں کو نہیں دیکھنا چاہیے، دیکھنا چاہیے میرا مسلک کیا ہے! اپنے مسلک کو جو ہے نا مضبوطی سے پکڑنا چاہیے، تب آپ بچیں گے۔ ورنہ پھر کیا ہو گیا؟ اب دیکھو نا فاتحہ، سورۃ فاتحہ کا پڑھنا نماز کے اندر یہاں احناف کے نزدیک حرام ہے۔ امام کے پیچھے، امام کے پیچھے۔ ہاں، لیکن ان کے نزدیک فرض ہے۔ اب کیا کریں؟ تو بس ٹھیک ہے ان کو کرنے دیں اور ہم نہیں کریں گے۔ نہ ان کے اوپر ہمارا اعتراض ہے۔ اور نہ ہم ان کی طرح کریں گے۔ تو آسان بات یہی ہے۔ تو ہم لوگوں کو یعنی اس طریقے سے رہنا ہے، تو بہت ساری چیزیں ایسی ہوں گی۔


                اب دیکھو منیٰ کے اندر رہنا جو ہمارا ہے۔ اب جیسے ہمارا جو وہ ہے خیمہ ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق یہ مزدلفہ میں آتا ہے۔ تو ہمیں مسئلہ زیادہ نہیں ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک ہمارے امام کے نزدیک منیٰ میں مبیت جو ہے سنت ہے۔ سنت ہے۔ جبکہ جو دوسرے بعض امام ہیں، ان کے نزدیک واجب ہے۔ ان کے نزدیک واجب ہے۔ تو اب ظاہر ہے مطلب اگر وہ مبیت نہیں کریں گے تو ان پہ دم آ جاتا ہے۔ لیکن ہم پر دم نہیں آتا۔ ہاں، بہتر یہ ہے کہ ہم سنت پر عمل کریں۔ تو اگر ہماری مجبوری ہے تو ٹھیک ہے مطلب ظاہر ہے مجبوری کی وجہ سے ہم رہ گئے، تو ہمارے اوپر دم بھی نہیں آتا۔ اور ظاہر ہے مطلب ان شاء اللہ ہمارا کوئی مسئلہ بھی نہیں ہو گا، ارادہ تو تھا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ، اسی میں کچھ آسانیاں ادھر ہیں، کچھ آسانیاں ادھر ہیں۔ تو ہم لوگ بس اپنی آسانیاں، اپنی مشکلات اپنے امام کے لیے لیں۔ اس میں جو ہے نا ہم یہ نہ کریں کہ بھئی دوسرے کی طرف نظر ڈالیں کہ وہ تو یہ کرتے ہیں۔ وہ بہت ساری چیزیں۔


                میں ایک دفعہ حرم شریف میں جا رہا تھا، تو برآمدے میں ایک بڑے میاں نماز پڑھ رہے تھے۔ تو ان کے سامنے ایک عورت گزر گئی۔ نماز میں شامل نہیں تھی۔ نماز میں شامل نہیں تھی، گزر گئی۔ اس نے نماز توڑی۔ اور بڑے غصے سے کہا "المرأۃ امامی وانا شافعی!" (عورت میرے آگے اور میں شافعی ہوں!) مطلب صاحب نے عورت گزر گئی اور میں شافعی ہوں! تو اب یہ ظاہر ہے مطلب ہے وہ غصے سے وہ کہہ رہا تھا کیونکہ ظاہر ہے اس کے لیے وہ نماز اس کی ٹوٹ گئی۔ اب ہماری نماز تو نہیں ٹوٹتی نا، مطلب یہ ہے تو اب ہم تو ہمارے سامنے گزر جائے تو دلائل اپنے اپنے ہیں اس پہ، تفصیلات میں میں نہیں جاتا ہوں۔ سارے امام ٹھیک ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگ کسی کو غلط نہیں کہتے، لیکن یہ والی بات ہے کہ ان کا مسئلہ ہے۔ اب ان کے لیے کتنا مشکل ہے؟ یہ مشکل ہے یا نہیں ہے؟ یہ بڑا مشکل ہے حرم شریف میں ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں کوئی عورت آپ کے سامنے نہ گزرے!



                مجھے بتاؤ کسی کا واجب طواف رہ سکتا ہے؟ آج کل، مطلب اس دور میں، بہت مشکل ہے۔ آپ کیسے... مطلب ہے کوئی آڑ تو آپ کے پاس ہے نہیں۔ نتیجتاً کیا کریں گے، کہ جس تک ابھی پڑھیں گے، اچانک کوئی عورت آپ کے سامنے گزر جائے گی۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اب ہم محفوظ ہیں لیکن وہ مشکل میں ہے۔

                تو اس طرح بہت ساری چیزیں جو ان کے ہاں مشکل ہیں، بہت ساری چیزیں جو ہمارے ہاں مشکل ہیں۔ جیسے خون والا مسئلہ۔ ہمارے ہاں مشکل ہے۔ اب کسی کا طواف کے اندر خون آ گیا، تو اگر وہ چار چکر کر چکا ہے، تو پھر تو چلو اس کے چار چکر محفوظ ہیں، اب وضو کر کے آ جائے، تین چکر باقی کے... باقی کر لے۔ لیکن اگر وہ تین چار چکر سے پہلے ہی آ گیا، تو سارا طواف گیا۔ سارا طواف گیا تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کو پھر دوبارہ نئے سرے سے طواف کرنا پڑے گا۔ تو یہ مسائل ہمارے لیے تو ہیں، ان کے لیے نہیں ہیں۔

                تو ہر ایک کے لیے اپنا اپنا مسئلہ ہے، اپنی اپنی فکر ہے، لہٰذا ہم لوگ اس اپنی اپنی مسئلہ... اس وجہ سے کہتے ہیں اپنے اپنے علماء سے مسئلہ پوچھا کرو۔ اپنے اپنے علماء سے مسئلہ پوچھا کرو۔ کسی اور مسلک کے عالم سے اپنا مسئلہ نہ پوچھا کرو۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ اپنے مسلک کے مطابق بتائے گا تو بے شک وہ ان کے لیے جائز ہوں، لیکن آپ کے لیے تو سوال بن جائے گا نا کہ آپ کے لیے وہ جائز ہے یا ناجائز ہے۔ لہٰذا ہر چیز کو اپنے طریقے سے کرنا چاہیے، تو ہمیں یہ... مطلب یہ خیال رکھنا چاہیے۔


                تو بہرحال یہ ہے کہ ما شاء اللہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو موقع دیا ہے۔ اب آپ کل یا آج کسی رات کے وقت میں ادھر منیٰ لے جائیں گے۔ تو منیٰ میں ہم نے کیا کرنا ہے؟ منیٰ میں ما شاء اللہ ہم نے اللہ کا ذکر کرنا ہے، نمازیں پڑھنی ہیں، تلاوت کرنی ہے۔ اور ما شاء اللہ عرفات جانے کے لیے تیاری وہ انتظار کرنا چاہیے۔


                تو بہرحال یہ ہے کہ منیٰ میں ہم رہیں گے ان شاء اللہ۔ اور اس سے اگلے دن، جو نویں ذی الحجہ ہے۔ اس کی ابتداء فجر کی نماز سے جو ہوتی ہے، فجر کی نماز کے فوراً بعد تکبیرات شروع ہو جائیں گی۔ یہ عام لوگوں کے لیے بھی ہے اور حاجیوں کے لیے بھی ہے۔ "اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ"۔


                مردوں کے لیے تو آسان ہے کیونکہ جماعت میں کوئی بھی شخص جس کو یاد آئے، وہ جب زور سے پڑھ لیتا ہے تو باقی سب پڑھ لیں گے۔ عورتوں کے لیے ایک بات کہ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتی ہیں وہ۔ اور دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ وہ زور سے نہیں پڑھتیں۔ لہٰذا ان سے بھول جانے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ اور یہ چیز اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ بعض عورتوں کے نزدیک عورتوں پر ہے ہی نہیں! نہیں عورتوں پر بھی واجب ہے۔ اس کے لیے وہ اہتمام کر لیں، اہتمام کرنے کا مطلب کیا ہے؟ کہ اپنے ہاتھ پہ کوئی نشانی لگا دیں۔ مثال کے طور پر کوئی تار وغیرہ باندھ دیں، کوئی اور چیز۔ تو اس کو دیکھ کر یاد آ جائے گا کہ اچھا میں نے تو تکبیرات بھی پڑھنی ہیں۔ اس کو اپنے آپ کو ریمائنڈ یعنی کرنے کا کوئی طریقہ سوچ لیں۔ تو اس سے پھر یہ ہوتا ہے کہ مطلب آپ کو پتہ چل جائے گا تو آپ یہ ما شاء اللہ وہ کر لیں گے۔ تو یہ ہے کہ تکبیرات پڑھ لیں گے۔ تو ایک دفعہ تکبیر پڑھنا واجب ہے۔ "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ"۔ یہ کرنا ہے۔


                عورتیں آہستہ پڑھیں گی، مرد جو ہے نا وہ زور سے پڑھیں گے۔ ہاں پڑھیں گے۔ اور اس طریقے سے مطلب یہ رہے گا چوتھے دن تک، یعنی عید کے جو ہے نا مطلب عید کا جو دن ہے مطلب تیرہویں کا جو ہے، اس کا جو ہے نا مطلب جو عصر کا وقت ہے وہاں تک جو ہے نا وہ رہے گا۔ تو اس پہ جو ہے نا مطلب ہم لوگ ان شاء اللہ العزیز اس کو بس پورا کر لیں گے۔


                تو یہ تکبیرات ہیں، اور ساتھ ہمارا تلبیہ تو ہے ہی نا۔ جب احرام کی حالت میں ہوں گے تلبیہ تو ہے ہی۔ وہ ہر نماز کے بعد وہ کوئی بھی چینج آئے تو اس وقت تلبیہ تو پڑھیں گے۔ تو یہ ہمارا سلسلہ چلتا رہے گا۔


                پھر ہم ان شاء اللہ عرفات جائیں گے۔ ممکن ہے کہ جو بسوں میں یا ٹرینوں میں جاتے ہیں، ان کو پہلے لے جائیں۔ یہ مجھے نہیں پتا، یہ انتظامی امور ہیں۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ پہلے لے جا سکتے ہیں۔ بہرحال یہ ہے کہ جو مسنون طریقہ ہے، وہ تو یہ ہے کہ جو ہے نا ہمارا نو ذی الحجہ کہ اشراق کے لگ بھگ کا ٹائم جو ہے، اس وقت انسان روانہ ہو جائے۔ اور جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ عرفات پہنچنے کی کوشش کر لے۔ زوال سے مغرب تک کا جو ہے نا وہ اصل جو ہے نا مطلب وہ عرفات کا ٹائم ہے۔ اس میں وہاں نمازیں پڑھنی ہیں دو۔ اور ساتھ دعائیں کرنی ہیں۔ وقوف کرنا ہے عرفہ کا۔ یہ جو ہے نا دو نمازیں پڑھنی ہیں۔ دو نمازیں اگر مسجدِ نمرہ میں کوئی پڑھتا ہے تو پھر تو ان کو دونوں نمازیں امام کے ساتھ اکٹھی پڑھنی ہوتی ہیں۔ اور اگر مسجدِ نمرہ میں نہیں، اپنے اپنے خیموں میں ہیں جیسے ہم لوگ اپنے خیموں میں ہوں گے تو ان کو جو ہے نا اپنے اپنے وقت میں، ظہر کا وقت ظہر میں، اور عصر کا وقت عصر میں، یہ نمازیں پڑھنی چاہئیں۔


                اور ما شاء اللہ چونکہ ہم مسافر لوگ ہیں، تو اپنی اپنی سفر کی نمازیں پڑھیں گے۔ ٹھیک ہے نا۔ مسافر اس لیے کہ ہمارے 15 دن سے کم وقت مطلب وہ ہیں منیٰ میں۔ منیٰ سے روانگی سے پہلے پہلے ہمارے پندرہ دن سے کم بنتے ہیں۔ لہٰذا مسافر ہیں تو اپنے سفر کی نمازیں اپنے اپنے وقت پہ پڑھیں گے۔


                اور اس کے بعد پھر ان شاء اللہ مغرب تک جو ہے نا ہماری دعائیں ہوں گی ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ اجتماعی دعا کا انتظام ہم کرتے ہیں۔ وہ اس طرح ہے کہ عرفات میں چونکہ ہمارا آن لائن سسٹم ہوتا ہے۔ الحمد للہ۔ تو اس کا ٹائم بتا دیا جائے گا سب کو، تو ان شاء اللہ اس پہ سب لوگ دعا میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز۔ اور پھر جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ مغرب کے بعد ہماری روانگی ہوتی ہے عرفات سے۔ اس صورت میں ہم لوگ مغرب کی نماز نہیں پڑھیں گے۔ مغرب کی نماز ہماری مزدلفہ جا کر ہی ہو گی! یعنی عشاء کے وقت میں مزدلفہ جا کر، پہلے مغرب کی نماز پڑھنا، پھر اس کے بعد عشاء کی نماز پڑھنا۔ یہ ہمارا ہو جائے گا۔


                اس کے بعد سنت طریقے کے مطابق کچھ وقت آرام کرنا۔ اور یہ برکت ہے اس جگہ کی، یہاں تھوڑی دیر میں ما شاء اللہ بڑا انسان فریش ہو جاتا ہے۔ تو کچھ دیر آرام کر لیا، جیسے گھنٹہ، دو گھنٹہ آرام کر لیا، پھر اٹھے، پھر وضو وغیرہ کیا۔ اور پھر اس کے بعد ما شاء اللہ اللہ کے سامنے پڑ گئے۔ اللہ کے سامنے رونا دھونا، اور دعائیں کرنا۔ آج کل مسلمانوں کو اور پوری امت کو دعاؤں کی بڑی ضرورت ہے۔ ایک ایک کی دعا کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انتہائی فتنے کا دور ہے۔ اپنے آپ کا بھی غرق ہونے کا امکان، بچوں کے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے، پڑوسیوں کے لیے، اور پوری امت کے لیے بہت زیادہ گڑگڑا کر رونے کی ضرورت ہے۔ یہ ہر شخص کے لیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پتہ نہیں کس کی دعا قبول ہو جائے! اور کس کی دعا کام کر جائے! اور ما شاء اللہ رستہ بن جائے۔ تو اپنے ایمانوں کی حفاظت کے لیے بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔ خدا نہ کرے خدا نہ کرے ہمارے دور میں اگر دجال آ گیا تو دجال سے بچنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں پہلے سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں کر دے جو دجال کے دجل میں نہ آئیں۔ اور بچ جائیں۔


                اس وقت عبرت کے سامان کے لیے بہت ساری چیزیں موجود ہیں۔ جب ہمیں نظر آ رہی ہیں کہ کیسے اچھے اچھے ہوشیار لوگ دجل و فریب میں آ جاتے ہیں! ان کو پتا بھی نہیں چلتا۔ اور وہ اس میں آ چکے ہوتے ہیں۔ اپنے لیے دلائل بھی ڈھونڈ لیتے ہیں، مسائل بھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ تو وہ چیزیں آج کل بہت زیادہ عام ہیں۔ لہٰذا دجل و فریب سے بچنے کے لیے خصوصی دعائیں کرنی چاہئیں۔ ایک دعا بہت ضروری ہے، اس دعا کو تو آپ اپنے ساتھ پلے باندھ لیں۔ اور اس کو ہر حالت میں کریں۔ اور وہ کیا ہے؟


                "اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ"

                یعنی اے اللہ! ہمیں حق، حق دکھا دے۔ اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ اور ہمیں باطل، باطل دکھا دے، اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔


                یہ دعا تو انسان آج کل جو ہے نا ہمارے ہمارے لیے بہت زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ ہدایت اور گمراہی یہ بالکل ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ ایک ہی گھر میں ایک شخص ہدایت پر ہو گا، دوسرا گمراہ ہو گا۔ ایک بھائی ہدایت پر ہو گا، دوسرا بھائی گمراہ ہو گا۔ میاں ہدایت پر ہو گا، بیوی گمراہ ہو گی۔ بیوی ہدایت پر ہو گی، میاں گمراہ ہو گا۔ میرے پاس تو آتے ہیں، مطلب ظاہر ہے میرے پاس تو لوگ اپنے واٹس ایپ بھیجتے رہتے ہیں، ابھی بھی میرے پاس ایک خاتون کا جو ہے نا مطلب ایک میسج ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بارے میں کہہ رہی ہے کہ میرے شوہر تو ایسے ہیں! میں کیا کروں؟ مطلب ظاہر ہے بالکل ساری چیزیں مطلب سامنے ہیں۔ تو اس وجہ سے مطلب اس قسم کے حالات میں اپنے آپ کو بچانا بہت زیادہ ضرورت ہے۔


                دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ حضرت مریم علیہا السلام ما شاء اللہ عورتوں میں بہت اونچے درجے کی تھیں، اللہ نے ان کو بہت شان دی تھی۔ لیکن وہ تو پیغمبروں کی مطلب وہ تھیں نا مطلب پروردہ تھیں۔ لیکن جو نمرود کی بیٹی ہے۔ اور جو فرعون کی بیوی ہے وہ تو دیکھیں کتنے بڑے کافروں کی مطلب ہوتی ہیں! لیکن اللہ نے ان کو بھی ولایت عطا فرمائی تھی۔ وہ اتنی بڑی شان اللہ پاک نے ان کو عطا فرمائی تھی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہر حالت میں انسان بچ سکتا ہے۔ اگر بچنا چاہے تو۔ ہر حالت میں بچ سکتا ہے۔ اور نہ بچنا چاہے تو پیغمبر کی بیوی! وہ پیغمبر کا باپ! پیغمبر کا بیٹا! ہر مثال موجود ہے نا؟ مطلب یعنی وہ غلط ہو سکتا ہے۔


                تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کو اپنی اپنی حفاظت کے لیے اللہ پاک کے حضور بہت بہت ہی زیادہ رونا دھونا چاہیے۔ یہ جو عرفات کا دن ہے، اسی لیے ہے۔ اس میں مانگیں اللہ تعالیٰ سے۔ یہ مانگنے کے دن ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ مانگنا چاہیے۔ اپنی اپنی زبان میں مانگو۔ لیکن مانگو ضرور! ایک بات۔


                دوسری بات یہ کہ بہتر طریقہ جو مانگنے کا ہے، وہ یہ بات ہے کہ آپ ﷺ نے جس طریقے سے مانگا ہے۔ ہر کام میں آپ ﷺ کا طریقہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔ تو آپ ﷺ نے جس طریقے سے مانگا ہے، اس طریقے سے ہم مانگیں۔ اور اس میں آپ ﷺ کے جو الفاظ ہیں وہ انتہائی مبارک الفاظ ہوں گے۔ اس کے لیے مناجاتِ مقبول ایک کتاب ہے۔ جس میں قرآنی اور حدیث کی دعائیں۔ وہ ما شاء اللہ موجود ہیں۔ تو طریقہ انہوں نے یہ رکھا ہے کہ انہوں نے سات دنوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کو منزل کہتے ہیں۔ بعض لوگ اس پہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ یہ کہاں سے آ گیا؟ بھئی ایک انتظامی امر ہے۔ یہ کوئی شرعی امر نہیں ہے، کیا ہے؟ انتظامی امر ہے۔ آپ ایک کام کرتے ہیں، میں اس کو سات حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ پہلے یہ کرتا ہوں، پھر یوں کرتا ہوں، پھر یوں کرتا ہوں۔ اس کو لازم نہیں سمجھتا۔ تو اس پر کون سا اعتراض ہے؟ مطلب لازم تو نہیں سمجھتا نا، کہ بھئی خوامخواہ میں اسی طریقے سے کروں گا۔ لیکن ایک انتظامی چیز ہے، ایک انتظامی طور پر ہو گیا سہولت کے ساتھ ایک کام کرنے کے لیے انتظام ضروری ہوتا ہے۔ اب جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ میں ساری دعائیں، ساری کی ساری ایک دن میں اگر نہیں پڑھ سکتا، تو چلو میں پورے ہفتے میں ایک تقسیم کر لیا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو دعائیں دعائیں ہیں، وہ تقسیم کی ہوئی ہیں۔


                تو چلو باقی دنوں میں تو ایک ایک منزل پڑھو نا، دن میں۔ لیکن یہ تو مبارک دن ہے، اس میں تو آپ کو یہ دن پتہ نہیں دوبارہ ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ اس میں تو پورے کا پورا پڑھو! پورے کا پورا پڑھو۔ اور اس طریقے سے مزدلفہ میں بھی پورے کا پورا پڑھو!


                تو ماشاءاللہ یہ ماشاءاللہ مقام ہے دعائیں مانگنے کا تو ہمیں دعائیں مانگنی چاہیے۔ اور ساتھ یہ ہے کہ ماشاءاللہ مغرب تک ہمیں عرفات میں ہی رہنا ہے۔ اول تو نکلنا نہیں عرفات سے، لیکن اگر کسی کام سے نکلے کوئی تو فورا داخل ہونا چاہیے۔ مغرب سے پہلے کم از کم داخل ہونا چاہیے۔ کیونکہ مغرب اگر ایسی حالت میں آ گئی یعنی سورج غروب ہو گیا اور ہم باہر ہوں تو دم آگیا۔

                تو اس وجہ سے اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ مغرب کے وقت میں کم از کم اس سے پہلے ہم عرفات کے اندر ہوں۔ حاجی اس کا خیال کریں۔ اور پھر اس کے بعد ہم إِنْ شَاءَ اللَّهُ مغرب کے بعد روانہ ہوں گے۔ مزدلفہ جائیں گے۔

                تو جو حاجی ہوتی ہے ہوتا ہے یا حاجی، وہ جو ہے نا مطلب ان کے اوپر مغرب کی نماز ادھر نہیں ہے راستے میں نہیں ہے بلکہ مزدلفہ جا کر عشاء کے وقت میں دونوں نمازیں پڑھنی ہیں۔ اور یہ رات ماشاءاللہ لیلۃ القدر کی طرح رات ہے۔ تو دو رکعت دو مطلب پھر تھوڑا سا آرام کر کے پھر اس کے بعد تہجد اور یہ میں نے جو عرض کیا کہ جیسے یہ دعائیں پڑھیں صبح فجر کی نماز کے بعد وقوف مزدلفہ شروع ہوگا۔

                اور وہ وقوف مزدلفہ کھڑے ہوکر ہم دعائیں کرتے ہیں۔ تو وہ دعائیں ہم کرتے رہیں جتنا ہم کر سکتے ہیں۔ مبارک کیونکہ ایک دعا آپ ﷺ کی جو عرفات میں قبول نہیں ہوئی تھی وہ مزدلفہ میں قبول ہوئی تھی۔ تو ماشاءاللہ یہ بہت اہم جگہ ہے تو یہاں دعائیں کرکے پھر اس کے بعد ہم جائیں گے کنکریاں مارنے کے لیے۔ کنکریاں مارنے کے لیے جائیں گے منیٰ۔ اس میں ماشاءاللہ کنکریاں ماریں اور عورتوں کے لیے رات کا وقت بہتر ہے۔ رات کا وقت بوڑھوں کے لیے کیونکہ رش وغیرہ سے بچنے کے لیے، بے پردگی سے بچنے کے لیے وہ رات کا وقت ان کے لیے ہے۔ اور مردوں کے لیے جو ہے نا وہ جو طاقت رکھتے ہیں وہ دن کے وقت۔ وہ جیسے پہنچ جائیں، بس رمی کر لیں۔ تو رمی کرنے کے بعد پھر ان کو سبحان اللہ اختیار ہے کہ اب قربانی کریں۔ قربانی کے لیے جو انتظام ہو گا اس کے مطابق قربانی کروا دیں کروا دیں۔ جب اطلاع ہو جائے قربانی ہو گئی ہے پھر اس کے بعد حلق کر لیں۔ اور عورتیں قصر کر لیں۔ مطلب وہ جو ہے نا مطلب اپنے ہاتھ سے یا کسی اور کے ہاتھ سے وہ قینچی سے ہاں ایک پور یا اس سے کچھ زیادہ بال جو ہے نا وہ کاٹ لیں۔


                تو بس ان کا جو ہے نا وہ ہو جائے گا۔ تو پھر اس کے بعد ان شاء اللہ العزیز اپنے کپڑوں میں آ جائیں گے۔ تو ان شاء اللہ اگر موقع مل گیا فوراً تو طوافِ زیارت اسی دن کر سکتے ہیں، افضل تو یہی ہے۔ لیکن اگر موقع نہیں ملا تو 12 ذی الحجہ تک مغرب تک ہم کر سکتے ہیں۔ مطلب یہ طوافِ زیارت۔ اس سے پہلے پہلے کرنا ہے۔ اس کے بعد پھر دم آ جاتا ہے۔ کرنا بھی پڑے گا اور دم بھی ہو گا۔ تو یہ بات ہے۔ جب یہ بات پوری ہو جائے تو پھر اس کے بعد 12، 13، 11، 12 ذی الحجہ جو ہے نا وہ صرف رمی ہے وہاں پر۔ اور رمی ایک کی نہیں، پہلے دن تو ایک کی ہے نا، بڑے شیطان کی ہے۔ لیکن 11 اور 12 کو جو ہے نا زوال کے بعد شروع ہوتا ہے ٹائم۔ مغرب تک بہترین ہے۔ مردوں کے لیے۔ اور عورتوں کے لیے مغرب کے بعد۔ تو یہ مطلب بہترین ہے۔ اور اس کا جو ہے نا مطلب یہ صبح صادق تک ہو سکتا ہے کسی بھی حالت میں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ تو 11، 12 کا ہو گیا۔


                13 کا جو ہے نا یہ آپشنل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی کرے گا تو ثواب ہے۔ قرآن پاک میں بھی اس کے بارے میں یہی بات ہے۔ کوئی کرے گا تو کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن کوئی مطلب جو ہے نا وہ کرے گا تو تیرہویں کو تو تیرہویں کو کرنے کا ثواب بتایا گیا ہے۔ لہٰذا جو ثواب کے لیے آئے ہیں، تو ثواب تو زیادہ اسی میں ہے۔ تو وہ 13 ذی الحجہ کو بھی ٹھہر جائے۔ اور زوال کے بعد رمی کر کے پھر چلا جائے ان شاء اللہ۔ آسان بھی ہو گا، کیونکہ رش نہیں ہوتا۔ آسان بھی ہوتا ہے۔ تو اس کے بعد پھر ما شاء اللہ پھر ہم دوبارہ مکہ آ جائیں گے۔


                اور مکہ آنے کے بعد ما شاء اللہ پھر عام لوگوں کی طرح، مکہ کے لوگوں کی طرح ہم رہیں گے۔ اس میں جتنے عمرے کرنا نصیب ہے تو کر سکتے ہو، جتنے طواف نصیب ہیں، طواف کرو، جتنی نمازیں حرم شریف کی پڑھ سکتے ہو تو پڑھو۔ لیکن بہرحال انتہائی مبارک وقت ہے۔ اس سے پھر جتنا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہو، فائدہ اٹھاؤ۔ اور اس کے بعد سبحان اللہ جب ہمارے جانے کا وقت آئے گا تو اس وقت طوافِ وداع ہو گا۔ طوافِ وداع۔


                اللَّهُ أَكْبَرُ! کچھ لوگ خوش نصیب پہلے سے مدینہ منورہ ہو آئے ہیں۔ اور کچھ کو جانا ہے، جن میں سے ہم بھی ہیں۔ ان شاء اللہ۔ تو مدینہ منورہ کے بارے میں پھر ان شاء اللہ تفصیل سے بات ہو گی۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو حقیقی معنوں میں حجِ مبرور نصیب فرمائے۔ اور حقیقی معنوں میں ہم سب کی مغفرت فرمائے۔ حقیقی معنوں میں اللہ پاک ہم سب کو اپنا بندہ بنائے۔ اسی کے لیے کوشش ہے، اسی کے لیے محنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ محنت کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


                کتنا اس کا ٹائم ہو گیا؟


                ابھی چونکہ انتہائی مبارک موقع ہے اور جذبات کو انگیخت کرنے کا بھی وقت ہے۔ کیونکہ وجہ کیا ہے کہ بعض جگہ جذبات جذباتی نہیں ہونا چاہیے، اور بعض جگہ جذبات مطلوب ہیں۔ جیسے لبیک اللہم لبیک کہتے ہوئے، ولولہ، جوش اور محبت کا جذبہ کہ حاضری کے وقت کیفیت کیسی ہونی چاہیے تو وہ جو ہے نا مطلب ہے، وہ مطلوب ہے۔ تو ہمیں بھی اس جذبے کو اور بعض دفعہ جذبہ نہ ہونے کی وجہ سے کامن سینس سے رہ جاتا ہے آدمی۔ اب جیسے عرفات ہے۔ اس میں اگر آپ کا یہ جذبہ ہے کہ میں اللہ جل شانہٗ سے لینے کے لیے جا رہا ہوں، اللہ جل شانہٗ مجھے وہ مطلب اپنی یہ نعمتیں نصیب فرمائے۔ تو اس وجہ سے ہمیں اس کا جو ہے نا وہ موبائل میرا ادھر۔


                تو یہ وہ اس کے لیے جذبات کو انگیخت کرنا۔ تو میں عرفات والا لگا لیتا ہوں کہ عرفات میں ہمارے کیا جذبات ہونے چاہئیں۔ اور دوسرا پھر یہ بات ہے کہ پھر ان شاء اللہ وہ تیرہویں کی جو ذی الحجہ کی جو رمی ہے مطلب یہ اس کے لیے وہ کیا ہمارے جذبات ہونے چاہئیں۔ وہ ان شاء اللہ میں دو لگا دیتا ہوں۔ تو ان شاء اللہ آپ کو جو ہے نا وہ اس کا فائدہ ہو جائے گا۔ جزاک اللہ!


                پہلے عرفات کا ان شاء اللہ:


                تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا

                ملے گا تجھ کو وہاں پہ رحمت کا آج کتنا بڑا خزانہ

                تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا


                قدم قدم پر ملے گا تجھ کو کیا؟ یہ سمجھو ذرا اے حاجی

                اصل میں یہ تو ہے رب کی جانب سے مغفرت کا بس اک بہانہ

                تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا


                یہ وہ جگہ ہے جہاں پہ شیطان کو آج ملتی ہے کتنی ذلت

                معاف کروا کے خود کو رو کر، لے اس کے دل کا ذرا نشانہ

                تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا


                یہی تو دن ہے کہ اس کی خاطر یہ لوگ آئے ہیں کہاں کہاں سے

                قبول تیری یہ حاضری ہے، تو منہ پہ لبیک خوب سجانا

                تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا


                اگرچہ کچھ بھی نہیں ہیں رکھتے کہ پیش کر دیں ہم اسکے آگے

                پسند اس کو مگر بہت ہے تری ادا آج یہ عاشقانہ

                تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا


                یہاں پہ محشر کا ایک سماں ہے تری نہ لوگوں پہ کچھ نظر ہو

                شبیؔر یکسو تو خود کو کرلے کہیں نہ رہ جائے اس کو پانا

                تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا قدم بڑھانا قدم بڑھانا

                ملے گا تجھ کو وہاں پہ رحمت کا آج کتنا بڑا خزانہ

                اس میں جو آخیر میں جو شعر ہے اس کو ذرا سمجھنے کی کوشش فرما لیں کہ:

                یکسو خود کو کر کے کہیں نہ رہ جائے اس کا پانا

                یہ اصل میں بہت اہم بات ہے یعنی اس میں آدمی اپنے کھانے پینے، یقیناً ضروری کھانا پینا تو ہے لیکن اس میں سبیلوں کے پیچھے بھاگنا اور بہت زیادہ تعیش والے کھانا، ان سے اپنے آپ کو یکسو کر لے۔ ملنے جلنے سے بھی اپنے آپ کو یکسو کر لے۔ ہاں جی، ہر چیز سے اپنے آپ کو یکسو کر لے، صرف ایک ہی دھن ہو کہ مجھے اللہ ملے۔

                یہی ایک بات ہو، بس اس کے بارے میں ہماری سوچ ہو، ہمارے سوچ ہو، ہمارے ارادہ ہو، ہماری تگ و دو ہو کہ وہ یہ کام رہ نہ جائے۔ باقی تو بعد میں جی وا بہت ساری باتیں ہو سکتی ہیں۔ بہرحال یہ ہے کہ اس کے اوپر پھر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔

                تو اس کے بارے میں بھی ایک کلام ہے اور وہ یہ ہے کہ... حضرت کیا تھا؟ شبیر یکسو تو خود کو کر کے... Second last line... کیا تھا؟ ہاں ہاں، شبیر یکسو تو خود کو کر کے، کہیں نہ رہ جائے اس کا پانا۔ ہاں مطلب اس میں اس سے پہلے جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ... آپ کہہ رہے ہیں یہ تو... ہاں بالکل۔

                تو یہ بات کا جو ہے نا مطلب ہے کہ ابھی جو ہے نا میں جو... اس کے بعد پھر ملتا کیا ہے؟ وہ بھی ذرا میں اِنْ شَاءَ اللّٰهُ عرض کر لوں، کیونکہ اس سے بھی مَاشَاءَ اللّٰهُ بہت فائدہ ہوگا۔ ہاں یہ آ گیا۔



                محبوب کے مہمان تھے جانے اس نے کیا دیا

                دریائے مغفرت میں ہی غوطہ لگوا دیا


                نکلے یہاں پہ تیرے جو آنکھوں سے ہیں آنسو

                ان کو بھی مغفرت کا ذریعہ بنا دیا

                دریائے مغفرت میں ہی غوطہ لگوا دیا

                اس تیری مغفرت سے تو شیطان ہوا ذلیل

                کچھ کر نہیں سکا تواپنا منہ چھپا دیا

                دریائے مغفرت میں ہی غوطہ لگوا دیا


                کیا آج اس عرفات کو آنے کا تھا مقام

                جواد نے دریائے مغفرت بہا دیا

                دریائے مغفرت میں ہی غوطہ لگوا دیا


                ہے مزدلفہ عشق کی منزل ترے آگے

                وہ دن کی اِس کو رات کی منزل بنا دیا

                دریائے مغفرت میں ہی غوطہ لگوا دیا


                مغرب پڑھیں گے کب کتاب عشق میں ڈھونڈو

                مزدلفہ پہنچ کر ہی،کسی نے سنا دیا

                دریائے مغفرت میں ہی غوطہ لگوا دیا


                سمجھا کہ سمجھنا کتاب عشق میں یوں ہے

                شبیؔر وہی ٹھیک جو اس نے بتا دیا

                دریائے مغفرت میں ہی غوطہ لگوا دیا

                محبوب کے مہمان تھے

                یہ مزدلفہ کی بات تھی۔ اب جو ہے نا آخری جو ہے تیرہویں کی رمی۔ اس کے بارے میں اصل میں یہ چیزیں جو ہیں نا واقعی انسان کو سمجھ نہیں آتیں، تو خوامخواہ بھگدڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اس کا پتہ ہو کہ مجھے ملتا کیا ہے اس سے، تو ان شاء اللہ اس بھگدڑ سے بچیں گے۔ اور جس چیز سے زیادہ فائدہ ہوتا ہو، وہ ان شاء اللہ کریں گے۔



                تھوڑی محنت سے گر سنت پرعمل ہووے نصیب

                خوش قسمتی ہے اس سے اور یوں جنت کے قریب



                تیرہویں کی رمی زوال کے بعد ہم کر لیں

                برکات اس کی ملیں ہم کو پھر عجیب و غریب


                تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب



                کچھ مشکلات انتظامی تو نظر آتی ہیں

                اگر ہمت ہو یہ سب اجرِ عظیم کی ہیں نقیب


                تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب



                عقل جو رب نے عطا کی ہے استعمال کر لیں

                جو محبت بھی ہو اس کی بنے کیا خوب ترکیب


                تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب



                ہر ایک مشکل میں وہ آسان کرے ہے رستہ

                ہم اگر سامنے رکھیں شبیر اس کی ترتیب


                تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب



                خوش قسمتی ہے اس سے اور یوں جنت کے قریب

                تھوڑی محنت سے گر سنت پر عمل ہووے نصیب


                ما شاء اللہ!

                عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت، احکامِ حج اور حجاجِ کرام کے لیے اہم ہدایات - خواتین کیلئے اصلاحی بیان - اشاعت اول