اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (9) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا(10)
وَقَالَ اللہُ تَعَالیٰ: اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (197)
معزز خواتین و حضرات!
آپ ماشاءاللہ آج پھر شامل ہوا چاہتی ہیں اس جوڑ میں جو آپ کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ جوڑ کیوں یہاں منعقد کیے جاتے ہیں؟ اصل میں ہم سب کو جو احکامات ہیں، اوامر و نواہی ہیں، اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں ضروری ہے کہ ہم اس کا علم حاصل کرلیں۔ اور علم کے بارے میں فرمایا ہے:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ
مسلم میں مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ تو علم کا حاصل کرنا فرض ہے تمام مسلمان مردوں اور عورتوں پر۔ تو اس علم کو حاصل کرنا پڑتا ہے عمل کے لیے۔ پھر عمل کرنا پڑتا ہے۔ تو عمل میں پھر دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ عمل جو محض عمل ہے، جس میں اخلاص نہیں۔ اور ایک وہ عمل ہے جس میں اخلاص ہے۔ پھر اخلاص کے درجات ہیں۔ تو جو جس درجے کا اخلاص رکھتا ہے، اس درجے کا اس کے عمل میں طاقت ہوتی ہے۔
اب دیکھیں تقویٰ اور ایمان مل کر ولایت بن جاتی ہے۔ یعنی جو شخص مومن ہے، اس نے تقویٰ اختیار کیا وہ اللہ کا ولی ہے۔ کتنا بڑا ولی ہے؟ جتنا اس میں تقویٰ ہے۔ کیونکہ ایک آیت میں یہ بھی فرمایا:
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔۔
اس میں تقویٰ کا اس میں نہیں فرمایا گیا۔ تو جتنے مسلمان ہیں، سب اللہ پاک کے دوست ہیں اس معنی میں کہ کم از کم ایمان ان کو حاصل ہے۔ بالاٰخر دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ لیکن ساتھ تقوٰی کی شرط بھی ہے:
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(62) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ(63)
تو جو خاص اولیاء ہیں، وہ ہیں جو متقی بھی ہوں۔ اور پھر جس درجے کا تقویٰ ان میں ہوگا، اس درجے کی ولایت ان کو حاصل ہوگی۔
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ۔۔۔
پس اللہ جل شانہ نے قانون تو بتا ہی دیا۔ اور وہ کیا ہے؟
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (9) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا(10)
یقیناً کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا رذائل سے۔ یعنی رذائل کو دبا دیا۔ اور جنہوں نے اپنے نفس کو میلا کیا، یعنی اس کی صفائی نہیں کی، تو پھر کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ تباہ و برباد ہو گیا۔ تو اس تباہی سے بچنے کے لیے یہ جوڑ قائم کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کم از کم کچھ علم حاصل ہو جائے، کچھ عمل حاصل ہو جائے اور کچھ عمل میں اخلاص حاصل ہو جائے۔ اور یہ طریقہ چلتا رہے۔
بہت ساری خواتین مجھ سے سوال کرتی ہیں۔ شاہ صاحب! مرد تو آپ کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں، وہ تو آپ کی صحبت میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہم کیا کریں؟ مطلب آپ کی صحبت میں تو ہم نہیں آ سکتیں۔ تو آج میں جواب دیتا ہوں۔ تم لوگ یہ کرو، تم لوگ جوڑ میں شامل ہوا کرو۔ تمہیں جو بتایا جائے اس پر عمل کرو۔ تم اپنے گھروں میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کیا کرو، اللہ کے ساتھ تعلق بناؤ۔ یہ سارا کچھ آپ کو اپنے گھر بیٹھے حاصل ہو سکتا ہے۔ ہاں، جوڑ کے لیے آیا کرو۔ کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ ایک دوسرے سے سیکھیں گی۔
تو اس کے لیے ماحول بنایا گیا ہے کہ آپ لوگ ایک دوسرے سے سیکھیں۔ کیونکہ کوئی عورت جو سمجھدار ہے، عالمہ ہے، جو یعنی لوگ چاہیں کہ ان سے فائدہ حاصل کریں، تو دو صورتیں ہیں نا۔ دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ وہ عورت گھر گھر جا کر لوگوں کو پڑھائے۔ یا پھر عورتیں اپنے گھروں سے نکل کر ان کے گھر جائیں اور ان سے سیکھیں۔ دو صورتیں ہیں، اس کے علاوہ تیسری صورت کون سی ہے؟
تو ان دونوں صورتوں میں عورت اپنے گھر سے نکل رہی ہے یا نہیں نکل رہی؟ یہ آج کل کے جو لوگ ہیں ان کو جواب دے رہا ہوں۔ جو کہتے ہیں جی، گھروں سے نکلنا عورتوں کا نکلنا ٹھیک نہیں، لہٰذا ایسے جوڑوں میں نہیں آنا ٹھیک۔ خدا کے بندو! کیا کرتے ہو؟ ذرا تھوڑا اپنی نیتوں کو ٹٹولو کہ آپ کے گھر کی عورتیں shopping جو کرتی ہے، وہ کیا بات ہے پھر؟ اس کے لیے تو تم لوگ اجازت دیتے ہو۔ اس میں تو ان کے ساتھ بھی نہیں جاتے ہو۔ وہ خود shopping کرتی ہے، جہاں جاتی ہے جہاں جانا چاہتی ہے، چلی جاتی ہے۔ اور یہاں پر تمہاری غیرت جاگ جاتی ہے!
کہ یہاں پر وہ عورتیں آئیں گی، تو گھروں سے نکلنا ہو گا، گھروں سے نکلنا تو شریعت کے خلاف ہے۔ تو کیا وہ شریعت کے مطابق ہے؟ لیکن یہاں:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
وہ نکلنا دنیا کے لیے ہے، یہ نکلنا دین کے لیے ہے۔ تو اگر مدرسے کے لیے عورتوں کا گھر سے نکلنا جائز ہے، تو اس کے لیے پھر جائز کیوں نہیں ہوگا؟ ہاں، محفوظ طریقے سے۔ محفوظ طریقے سے ہو۔ خلاف شرع طریقے سے نہ ہو اور غلط نقصان والے طریقے سے نہ ہو۔ تو اس کے لیے اللہ پاک کا فضل و کرم ہے، ہم نے بندوبست کیا ہے، عورتیں صرف اپنی جگہ پر ہی بیٹھی ہوتی ہیں جو ان کے لیے بنایا گیا ہے specially، بلکہ شکر الحمدللہ، ہمارے ساتھیوں کو پتا ہوگا کہ یہ جو نیچے basement ہے، ہم نے خواتین کی نیت سے بنوایا ہے۔
یہ علیحدہ ہے جو اس کا مزید فائدہ حاصل کر رہے ہیں ہم لوگ۔ یعنی جب آپ لوگ نہیں ہوتیں، تو یہاں پر ہمارے ساتھی سونے کے لیے آتے ہیں۔ یہ صرف ان کے لیے ایک extra فائدہ ہے کہ وہ چونکہ اس وقت آپ نہیں ہوتیں تو اس کو استعمال کر لیتے ہیں۔ اصل یہ مقصد تمہارے ہی لیے ہے۔ لہٰذا اگر تم لوگوں کی ضرورت ہوئی کسی بھی چیز میں، تو ان کی ضرورتوں کو قربان کیا جائے گا۔ تمہاری ضرورتوں کو اولیت دی جائے گی۔ کیونکہ یہ بنایا گیا ہے تمہارے لیے۔ تو اس میں ہم لوگ آپ کے مشورے سے سب کچھ کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کے لیے جگہ بنائی ہوئی ہے تو آپ لوگ اس کو استعمال کر لیا کریں۔ تو بہرحال ایک تو یہ بات کہ اپنی اصلاح اس کے لیے یہاں آنا ہے۔
دوسرا یہ ہے، آج کل ماشاءاللہ موسمِ حج ہے۔ سبحان اللہ! وہ جو حج پہ جاتے ہیں نا تو ان کے اس پہ لکھا ہوتا ہے موسمِ حج۔ تو آج کل موسمِ حج ہے۔ تو اس موسمِ حج میں پھر حج کی باتیں ہونی چاہئیں۔ عمرے کی باتیں ہونی چاہئیں۔ ان کے مسائل معلوم ہونے چاہئیں۔ فضائل معلوم ہونے چاہئیں۔ بہت سارے لوگ ہیں جن پر حج فرض ہوتا ہے، وہ مطمئن بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان کو پتا نہیں ہوتا کہ دیکھو نا وقت ہمارا گزر رہا ہے، اللہ بچائے۔
تو جو لوگ جا سکتے ہیں، وہ تو جائیں۔ اور جو لوگ نہیں جا سکتے، وہ نیت کر کے جائیں کہ جب بھی ہمیں... دو نیتیں دو طریقے سے ہوتے ہیں۔ ایک تو ہوتا ہے نا کہ انسان کے پاس پیسے نہ ہوں، استطاعت نہ ہو تو اس کے اوپر حج فرض ہی نہیں ہے۔ اور ایک یہ ہے کہ وہ try کر لے، نہ ہوا، مجبوری ہے، کیونکہ خود انسان اپنی مرضی سے نہیں جا سکتا ادھر۔ جائے گا تو... طریقے کار سے جائے گا۔ visa ہوگا، passport ہوگا۔ جہاز میں بیٹھنا ہوگا، ticket ہوگا۔ سارا کچھ۔
تو اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ نہیں جا سکتا۔ تو اگر کوئی کوشش کر لے، ان کو یہ چیزیں نہ ملیں تو ان کی نیت محفوظ ہے۔ لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ پہلے نیت کر لیں کہ ہم نے جانا ہے۔ اور اس کے لیے، یہاں تک میں عرض کرتا ہوں کہ دیکھو آج کل کے دور میں لوگ کہتے ہیں جی بس جی داخلے ہو گئے ہیں اور اب ہم... اب جگہ نہیں ہے۔ نہیں، خدا کے بندو! try کرو۔ try کرنا لازم ہے۔ chance مل جاتا ہے۔
بعض دفعہ بالکل آخری وقت میں۔ ایک دفعہ ہم نے نیت کی تھی الحمدللہ ہماری جماعت، ماشاءاللہ جانے والی تھی۔ جہاز سارے کے سارے ہو چکے تھے یعنی اس میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ شاید ہمارے ساتھیوں کو یاد ہوگا کہ خانقاہ میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور ہم درود تنجینا پڑھ رہے تھے یا ختمِ خواجگان کر رہے تھے۔ کہ اللہ پاک کوئی راستہ نکالے۔
تو راستہ کیسے نکلا، اطلاع آ گئی کہ ایک وزیر صاحب ہیں، جو کہ اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں، وہ meeting میں ہیں۔ جب وہ باہر آئے گا تو فیصلہ کرے گا کہ ایک اور جہاز کی وہ منظوری دینا چاہتے ہیں یا نہیں دینا چاہتے؟ سعودی ایئرلائن کا۔ ایک اور جہاز کی وہ منظوری دے گا یا نہیں دے گا۔ تو ہم انتظار میں بیٹھے تھے، ہم ذکر کر رہے تھے، دعائیں کر رہے تھے۔ مرد بھی، عورتیں بھی، جو اس میں شامل تھے، باقی لوگ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ تو جس وقت الحمدللہ وہ ہماری مجلس ہوئی... تو اس وقت میں اطلاع آ گئی کہ وہ وزیر صاحب باہر آ گئے اور اس نے ایک اور جہاز کی منظوری دے دی۔ تو پہلے سے ہمارا چونکہ اس پہ line پہ تھا، ہمارے اس میں آگئے۔ الحمدللہ۔ ہم چلے گئے۔ ماشاءاللہ اس سال حج کا... حالانکہ کوئی chance نہیں تھا۔ بظاہر کوئی chance نہیں تھا۔ اللہ پاک نے سامان پیدا کر دیا۔ تو اس وجہ سے اخیر تک انسان کو امید ہونا چاہیے کہ ممکن ہے اس وقت ہمیں مل جائے۔
try کر لے۔ try کرنے میں کیا ہے؟ اپنا عقل دوڑائے کہ کس طریقے سے ہو سکتا ہے، لوگوں سے مشورے کر لے۔ بہرحال جس پر فرض ہے اس کے لیے تو لازم ہے۔ اس طرح قربانی، ماشاءاللہ سب پر ہے، جو صاحبِ استطاعت ہیں۔ جو صاحبِ نصاب ہیں۔ ان پر قربانی واجب ہے، واجب ہے، واجب ہے۔ اس میں relax نہیں کہ اچھی بات ہے۔ اچھی بات والی مستحب ہوتی ہے۔
یہ واجب ہے۔ نہیں کیا تو جرم ہے۔ سزا ہوگی۔ محرومی ہوگی، تو ساتھ لیکن سزا ہوگی۔ اور اتنی بڑی فضیلت ہے اس کی، کہ اُس دن، قربانی کے دن اگر واجب ہے، بے شک تو سارا مال خرچ کر دے اللہ کے راستے میں اور قربانی نہ کرے... دوسرا قربانی کر لے اور ایک پیسہ بھی حتیٰ کہ گوشت بھی خود کھائے، وہ قربانی والا ماشاءاللہ جیت گیا اور یہ ہار گیا۔ دوسرا ہار گیا۔ تو یہ قربانی جو ہے، اس حد تک لازم ہے۔
اللہ پاک نے قرآن پاک میں اس کے لیے واضح طور پر فرمایا کہ تمہارے قربانی کا خون اور گوشت ہم تک نہیں پہنچتا، بلکہ وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو تمہیں حاصل ہے اس میں۔
اس طریقے سے ماشاءاللہ قربانی کا جو جانور ہے، اس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔ شعائر اللہ ہے۔ اس وجہ سے اس کا ادب بھی ہے۔ اس کا احترام بھی ہے۔ یہ عام جانور کی طرح نہیں ہے۔ جو جاننے والے ہیں اس کا پھر خیال رکھتے ہیں۔ ایک مکینیکل انداز میں قربانی نہیں ہوتی، بس جانور لے لیا اور جانور ذبح کر دیا اور بس قربانی۔ قربانی ہو جائے گی، لیکن اس کے جو برکات ہیں، وہ تب ملیں گے، جب آپ اس قربانی کے جانور کو وہ due respect بھی دیں گے۔ اس کے ساتھ محبت بھی... اصل میں اس میں طریقہ کار کیا ہے، وہ ذرا عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مجازی انداز میں حقیقت تک پہنچنے والی بات ہے۔ مجازی انداز میں حقیقت تک پہنچنے والی بات ہے۔ لوگ مجازی عشق، مجازی عشق کی باتیں کرتے ہیں، پتا نہیں کن چیزوں میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ چیزیں ہیں اصل میں، دیکھو! ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا۔ اپنا بیٹا ذبح کرو۔ یعنی حکم اس طرح کہ خواب میں دیکھا کہ میں بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔ تو چونکہ پیغمبر کا خواب جو ہوتا ہے وہ وحی ہوتا ہے۔ سمجھ لیا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ بیٹے سے پوچھتے ہیں۔ بیٹا میں نے ایسا خواب دیکھا ہے، کیا کہتے ہو اس کے بارے میں؟ اور بیٹا بالکل بچہ۔ اب بچہ خواب کی تعبیر کیا جانے۔ لیکن یہ معاملہ ہی اور تھا۔ ایک پیغمبر تھا، دوسرا پیغمبر ہونے والے تھے۔ تو بیٹا کہہ رہا ہے، ابا جان! تو کر گزر جس کا تجھے حکم ہے۔ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ اب بتاؤ، سمجھ آ گئی یا نہیں آئی؟
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
تو مطلب یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام نے یہ کہہ دیا۔ تو ابراہیم علیہ السلام سن کے خوش ہو گئے۔ پھر اسماعیل علیہ السلام کہتا ہے، ابا جان! جب آپ مجھے ذبح کرنا چاہیں تو مجھے اُوندھے منہ لٹا دیں۔ تیز چھری سے مجھے ذبح کر دیں تاکہ اللہ کے حکم میں کوئی دیر نہ ہو جائے۔ اور اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لیں۔ اب یہ کون سی بات ہے؟ کہاں سے سیکھی؟
آنکھوں پہ پٹی باندھ لیں۔ تو ایسا ہوا کہ ویسے انہوں نے سب کیا۔ جب ایسا کیا، اب اسماعیل علیہ السلام کو ابراہیم علیہ السلام ذبح فرما رہے ہیں، لیکن دیکھ تو نہیں رہے کہ کس کو ذبح کر رہا ہوں، نظر ہی نہیں آتا پٹی باندھی ہوئی ہے۔ تو چھری نہیں چل رہی۔ اب حیران ہو گئے چھری تو میں نے بڑی تیز رکھی ہے، یہ کیوں نہیں چل رہی؟ اتنے میں اللہ جل شانہٗ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا۔ فوراً ایک مینڈھا جنت سے لے کر ان کے سامنے ڈالو، ایمرجنسی میں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فوراً وہ مینڈھا جنت سے اٹھا کے وہاں پر پہنچا دیا۔ ان کے سامنے ڈال دیا۔ اب اللہ پاک کا حکم چھری کو ہو گیا کہ اب کاٹو، پہلے حکم تھا نہ کاٹو۔ اب جو کٹنے کا حکم ہوا ہے، تو بس چھری چل گئی اور ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے، شاید کام ہو گیا۔ آنکھیں کھولیں تو دیکھا مینڈھا ذبح ہوا ہے اور اسماعیل علیہ السلام سائیڈ پہ کھڑے ہیں۔ حیران ہو گئے، یہ کیا ہوا؟ اتنے میں وحی آئی، اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ کہ دیکھو ابراہیم علیہ السلام نے ذبح نہیں ہوا۔ ذبح کون سی چیز ہوئی؟ مینڈھا ذبح ہوا۔ مینڈھے کا تو حکم نہیں تھا۔ ذبح ہوا مینڈھا، لیکن اللہ پاک فرما رہے ہیں، تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا۔ اس کا مطلب ہے تو نے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کیا۔
یعنی اس کی equivalence ہے۔ یعنی یہ اس کے equivalent ہے۔ اس پر جو ہے نا وہ... یہ ایک step ہے۔ دوسرا step یہ ہے کہ ہم وہ اسماعیل علیہ السلام کا مینڈھا کہاں سے لائیں؟ ابراہیم علیہ السلام کا۔ وہ ہمارے بس میں تو نہیں۔ تو اللہ پاک نے ہمارے اس عمل کو جو ہم کرتے ہیں، جانور کو خریدتے ہیں، اس کو پالتے ہیں، پھر اس کو ذبح کرتے ہیں۔
تو وہ اس کا قائم مقام بنا دیا۔ ذرا تھوڑا سا دیکھیں، ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو جو تھا، والدین پالتے ہیں سب کچھ۔ تو اب یہ جو ہے نا اگر ہم لوگ بھی اس طرح جانور کو لیں، اس کو پالنے لگیں، اس کے ساتھ محبت ہو جائے، ایسے جیسے بیٹے کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔ تو جتنی محبت اس کے ساتھ ہوگی جب ہم اس کو ذبح کریں گے، اتنا ہی اس مجازی محبت کے ذریعے سے حقیقی محبت حاصل ہوگی۔
کیونکہ ہر چیز جس چیز کے لیے قربان ہوتی ہے، وہ اس سے بڑی ہوتی ہے۔ تو جس محبت کو آپ نے جانور کے ساتھ حاصل کیا ہوگا، اس محبت کو جس وقت آپ قربان کریں گے، تو حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ یہ قربانی جب کرتے تھے، گائے کی قربانی کرتے تھے، گائے کی قربانی وہاں ہندوستان میں کرنا آسان نہیں ہوتی تھی۔ گائے کی قربانی کرتے تھے، پہلے سے خریدتے تھے، پھر اس کے ساتھ دوڑتے تھے۔
اور اس طرح مطلب ہے کہ خدمت کرتے تھے، ان کے ساتھ اتنی محبت ہو جاتی کہ جب اس کو ذبح فرما رہے تھے تو رو رہے ہوتے تھے۔ ایسے ہی تھے۔ یہ محبت... یہ محبت اصلی ہے۔ یہ محبت کیا ہے؟ وہ محبت... تو اس محبت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اللہ پاک کی محبت ہے۔ تو قربانیاں جو ہیں، وہ اصل میں ہم لوگوں کو اس طریقے سے کرنی چاہئیں۔ ہاں، حج کرنے کے فضائل میں نے بتا دیے۔ اور قربانی کے بھی۔ اصل میں اس کے مسائل بھی ہیں۔
جب بھی کوئی فضیلت والی چیز ہوتی ہے تو اس کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔ اور وہ طریقہ کون بتائے گا؟ ظاہر ہے اس کے لیے قرآن و سنت میں احکامات ہوتے ہیں۔ ان احکامات کو فقہائے کرام نے مدون کیا ہوتا ہے۔ اور وہ ہمارے پاس علمائے کرام کے ذریعے سے پہنچتی ہیں۔ تو ہم علمائے کرام سے پوچھیں، یا علمائے کرام کی کتابیں پڑھ کر اس موضوع پر جو ہوتی ہیں۔ ان کو پڑھ کر ہم ان کو سیکھیں۔ پھر اسی کے مطابق حج بھی کریں۔ اسی کے مطابق عمرہ بھی کریں، اسی کے مطابق ہم قربانی بھی کریں۔ پھر ماشاءاللہ بات بنے گی۔ اور اگر آپ نے اس طریقے سے نہیں کیا، اپنی مرضی سے کیا، تو آپ نے وہ عمل پورا نہیں کیا۔ جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُونِیْ أُصَلِّیْ، نماز پڑھو ایسے جیسے کہ مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہو۔ اور اس طرح حج کے لیے بھی فرمایا کہ مناسک سیکھو، کیونکہ شاید میں اگلے سال نہ ہوں۔
تو صحابہ کرام آتے تھے، یہ عمل ہم نے ایسے کیا، تو آپ ﷺ فرماتے تھے اس طرح ہے، اس طرح ہے۔ تو یہ فقہ جو ہے نا اس وقت مرتب ہو رہا تھا، سنت کی صورت میں۔ تو وہ ہمارے پاس فقہائے کرام نے پھر رکھا ہے اس کو سامنے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ ان مسائل کو بھی سیکھنا چاہیے۔ اور یہ مسائل کتابوں میں موجود ہیں، لیکن کتابوں سے براہ راست استفادہ ہر ایک نہیں کر سکتے۔
سمجھانے والے بھی ہونے چاہئیں۔ تو یہاں پر جو جوڑ کا انتظام ہو چکا ہے، اسی لیے ہو چکا ہے کہ جن کو سمجھ ہے وہ باقیوں کو سمجھائیں ان شاءاللہ۔ یہ خواتین ہی ہیں، یہ خواتین ہی آپ کو سمجھا رہی ہیں۔ تو آپ ان سے اس کو سمجھ لیں۔ اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو اس کے متعلق کتابیں موجود ہیں۔ نہیں ہیں تو ماشاءاللہ فتاویٰ، فتووں کی جگہیں موجود ہیں، استفتائیں کر لیں۔ ٹیلیفون کر لیں، مسائل سیکھیں۔ یہ تو ایک ہمارا مسلسل کام ہے۔اس کے ذریعے سے ہم آگے بڑھیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو صحیح عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
اخیر میں یہ میں عرض کروں گا کہ توجہ کے ساتھ یہ سارے بیان سن لیں۔ اس وقت آپ کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو توجہ کے ساتھ سنیں۔ وقت کو ضائع نہ کریں۔ ادھر ادھر دوسری عورتوں کے ساتھ باتوں میں نہ لگیں۔ باتیں پھر بعد میں ہو جاتی ہیں۔ اس وقت جو ہو رہا ہے، اس سے فائدہ حاصل کر لیں۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.