صراطِ مستقیم کی وحدت اور فقہی و اجتہادی اختلافات کی حقیقت

درس نمبر 255 جلد 1، باب 18: بَابٌ فِی النَّهْيِ عَنِ الْبِدَعِ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

صراطِ مستقیم ایک اور باطل کے راستے کثیر

فقہی و اجتہادی اختلاف کی شرعی حیثیت

واقعۂ بنو قریظہ اور فہمِ دین میں تنوع کی نبوی تائید

دینِ اسلام کی کاملیت اور نام نہاد ادیان کی تردید

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ اَیِ الْکِتَابِ وَالسُّنَّةِ. (النساء: 59)

ترجمہ: ”اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔“ یعنی کتاب وسنت کے حوالہ کرو۔

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهِ﴾ (انعام: 153)

ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور راستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے راستہ سے الگ ہو جاؤ گے۔“

تشریح: ”وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطی مُسْتَقِیْمًا“ ھذا، کا اشارہ دینِ اسلام کی طرف ہے یا قرآن یا سورت انعام کی طرف۔ پہلی دوسری صورت میں مطلب آیت کریمہ کا یہ ہوا کہ دینِ اسلام یا قرآن میں سیدھا راستہ ہے پس اس کی ہی اتباع کرو۔ تیسری صورت میں ترجمہ ھذا کا اشارہ سورت انعام کی طرف ہے کیونکہ انعام میں بھی اللہ نے پورے اصولِ اسلام، توحید، رسالت اور اصول واحکام کو بیان فرمایا ہے کہ اس سورت میں جو مضمون بیان ہوئے ہیں یہی میرا راستہ ہے پس اس کی ہی اتباع کرو۔ ”وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ“ سبل یہ سبیل کی جمع ہے بمعنی راستہ۔ یعنی اللہ تک پہنچنے کا اور اس کی رضاء حاصل کرنے کا اصل راستہ تو ایک ہی ہے مگر لوگوں نے اپنے اپنے خیالات میں مختلف راستے بنا رکھے ہیں، ان راستوں میں سے کسی پر مت چلو ورنہ حق سے دور ہو جاؤ گے۔ ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور خطوط کھینچے اور فرمایا: کہ ان راستوں میں ہر ایک پر ایک شیطان مسلط ہے جو لوگوں کو سیدھے راستے سے ہٹا کر اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ ﷺ نے آیت بالا ”اَنَّ ھٰذَا صِرَاطیْ مُسْتَقِیْمًا“ تلاوت فرمائی۔

صراط مستقیم سیدھا راستہ سیدھا راستہ مطلب جو ہوتا ہے یہ ایک ہوتا ہے۔ البتہ اس سے جتنے بھی deviations ہیں مطلب چاہے دائیں ہو چاہے بائیں ہو چاہے اوپر چاہے نیچے۔ وہ سب جو ہے نا سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے راستے ہوتے ہیں۔ لہذا باطل کثرت سے ہوتا ہے مطلب یعنی مختلف صورتوں میں ہوتا ہے جبکہ جو حق ہے وہ ایک ہی صورت میں ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ہی راستے پر ہوتا ہے۔ اب اس میں ایک سوال اتا ہے۔ سوال یہ اتا ہے کہ جیسے امام شافعی امام ابو حنیفہ امام مالک امام احمد بن حنبل یہ ان نے تو اپنے اپنے ظاہر ہے اجتہادات سے جو مذہب کی تشریح فرمائی ہے تو وہ تو مختلف نظر اتے ہیں تو یہ ایک راستہ کیسے اور یہ غیر مقلد اس چیز کو استعمال بھی کرتے ہیں۔ مطلب اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اس کی تشریح ضروری ہے۔ تو اس میں بات یہ ہے کہ ایک راستہ اس لیے ہے کہ ہر ایک کا استدلال قران اور سنت کی طرف ہے۔ ہاں البتہ یہ الگ بات ہے کہ ہر ایک نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق جو قران اور سنت کو سمجھا یعنی مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ۔ اپنی انانیت کو چھوڑ کے اخلاص کے ساتھ اور علم نافع کے ساتھ جو انہوں نے سمجھا اس کو بیان فرمایا اور یہ چونکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی ہوا تھا۔ لہذا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے یہ مختلف راستے پہ نہیں ہے۔ جیسے صحابہ کرام میں بھی اختلاف ہو جاتا تھا۔ ہاں جی یہ مطلب یہ جتنے بھی اختلافات ہمارے نیچے ائے ہیں امتیوں میں اور ظاہر ہے مطلب بعد میں تو وہ سب اس وقت حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان موجود تھے۔ وہ نیچے ائے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کسی امام نے اپنی طرف سے کوئی بات کی ہو ان کے پاس ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی صحابی کی دلیل ہوتی ہے اور صحابہ اپس میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ تو اب جیسے زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ وہ میراث کو وہ جو ہے نا جب ذوالفروض عصبات اور نہ ہوتے تو پھر بیت المال کو دے دیتے تھے۔ اب جو ہے نا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور دوسرے صحابہ کرام جو تھے وہ مطلب ان کی رائے یہ تھی کہ نہیں مطلب یہ ہے کہ ذوی الارحام بھی ہوتے ہیں۔ اب دیکھیں مطلب یہ ہے کہ صحابہ ہیں۔ اس طرح اور بہت ساری باتوں میں مطلب ظاہر ہے اختلاف مطلب موجود ہو سکتا ہے۔ تو ان اختلافات کو ہم اختلافات نہیں کہتے سب سے بڑا واقعہ جو قریظہ کا واقعہ ہوا تھا بنو قریظہ کا۔ جس میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عصر کی نماز بنو قریظہ جا کر ہی پڑھنا ہے۔ categorical حکم تھا۔ راستے میں وقت بہت تھوڑا رہ گیا عصر کی نماز کا وقت جاتا رہا تو دو گروہ ہو گئے۔ ایک نے نماز پڑھ لی کہ چونکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تو اس لیے تھا کہ جلدی پہنچو اب جلدی نہیں پہنچ سکے ایک حکم پر عمل نہیں ہو سکا تو دوسرا حکم تو نہ ضائع ہو۔ نماز کا حکم تو موجود ہے لہذا ہم نماز پڑھیں گے۔ دوسرے حضرات نے کہا کہ ہمیں دین تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے پہنچا ہے۔ تو جو کچھ ہمیں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اس پہ ہمیں من و عن کا عمل کرنا ہے۔ اب بے شک نماز جاتی رہے لیکن یہ ہے کہ ہمیں تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنا ہے۔ جیسے مزدلفہ کا میں نے بتایا تھا کہ مزدلفہ میں مطلب جو نماز مغرب کی حاجیوں کے لیے وہ مزدلفہ جا کر ہی مطلب جائز ہوتی ہے اس سے پہلے جائز نہیں ہوتی۔ حالانکہ مغرب کا وقت ہو چکا ہوتا ہے اور جو غیر حاجی ہوتے ہیں وہ راستے میں پڑھ بھی رہے ہوتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے انہوں نے سمجھا۔ اب بالکل عمل میں مختلف لیکن جب اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی نہیں روکا کہ تم نے غلط کیا ہے۔ ان کو اپنے اپنے اس پر چلتے رہنے دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مختلف راستہ نہیں ہے۔ کیونکہ دونوں ظاہر ہے صحابہ سے ثابت ہیں اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویب اس کو نصیب ہوئی ہے لہذا یہ دونوں مختلف راستے نہیں ہیں ایک ہی ہے۔ ہاں البتہ ہر ایک کی اجتہادی رائے پر موقف ہے۔ تو اجتہادی رائے جو ہے نا وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بلکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ میں اجتہادی بات تھی۔ تو اس میں مطلب بات یہ ہے کہ جو چیز categorical انداز میں اللہ تعالی کا حکم ہو۔ تو اس میں جو اجتہاد کی بات اتی ہے اس میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ تو یہ والی بات ہے کہ اس میں تو گنجائش ہے۔ لیکن یہ بات نہیں ہے کہ ہم مطلب مختلف دینوں کو جیسے عیسائیت بھی ٹھیک ہے اور یہودیت بھی ٹھیک ہے اور اسلام بھی ٹھیک ہے یہ نہیں ہو سکتا۔ جیسے اج کل بعض ظالم لوگ اکٹھے کر رہے ہیں دین ابراہیمی کے نام پر۔ کہ مطلب یہ ہے کہ یہ سب جو ہے نا چونکہ ایک ہی باپ کی اولاد ہیں لہذا ٹھیک ہے مطلب یہ ہے کہ سارے ٹھیک ہیں۔ ان کا اپس میں۔ ہاں جی یہ جو ہے نا گمراہی ہے۔ مطلب اس کو صحیح نہیں کہا جا سکتا کیوں اپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو گزشتہ سارے دین منسوخ ہو گئے۔ صرف اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا دین ہوگا۔ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ؕ اب categorically بتایا گیا کہ اسلام ہی دین فطرت ہے اسلام ہی دین دین ہے اللہ تعالی کا پسندیدہ۔ تو یہ بات نہیں ہو سکتی کہ مختلف دینوں کو ہم ملا دیں جیسے بادشاہ اکبر نے کیا تھا یا یہ لوگ کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا تو اللہ جل شانہ ہم سب کو یہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔