علمِ الٰہی کی وسعت اور کتابِ ربانی کی جامعیت
درس نمبر 254 جلد 1، باب 18: بَابٌ فِی النَّهْيِ عَنِ الْبِدَعِ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ
آیتِ مبارکہ کی روشنی میں علمِ الٰہی اور دینی احکام کا احاطہ
لکھنے کی حکمت اور قرآن سمجھنے کے لیے انسانی محنت
اللہ تعالیٰ کی لامحدود صفات اور ہمارا عقیدہ
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ﴾ (انعام: 38)
ترجمہ: ارشادِ ربانی ہے: ”ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز کے لکھنے میں کوتاہی نہیں کی۔“
تشریح: ”الکتاب“ سے یا تو مراد لوح محفوظ ہے اس صورت میں مطلب آیت کریمہ کا یہ ہوا کہ لوح محفوظ یعنی اللہ جل شانہ کا علم ہمہ گیر ہے، ظاہر یا پوشیدہ کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں اور کوئی حیوان اور غیر حیوان ایسا نہیں جس کا اندراج لوح محفوظ میں نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور من شیء سے مراد دینی امور، اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ قرآن میں تمام دینی امور تفصیلاً یا اجمالاً موجود ہیں۔
اب اس پہ عام لوگوں کا ایک سوال ہے کہ
تشریح: سوال: اللہ جل شانہ کا علم ازلی اور محیط ہی کافی وشافی ہے تو اللہ نے کیوں لکھوائے؟ جواب: اللہ جل شانہ کا علم کافی ہی تھا مگر لکھنے کے ذریعہ منضبط کرلینا افہامِ عامہ کے قریب تر ہے۔
حوالے کے لحاظ سے۔ حوالے کے لحاظ سے۔ مطلب یہ ہے کہ ویسے تو اللہ پاک کے علم میں ہے۔ تو اللہ پاک کا جو علم ہے وہ تو لوحِ محفوظ میں ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ چیز تو ایک ہی ہو گئی۔ لیکن یہ بات ہے کہ حوالہ جب دیا جائے گا تو یہ کتاب میں مطلب کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے کہ کتاب میں ہے۔ تو ریفرنس کے طور پر ہے۔ تو چونکہ لوگوں کا فہم اس کے مطابق۔ اللہ جل شانہ کی جتنی بھی باتیں ہیں وہ جو جیسے قرآن ہے تو قرآن میں بھی لوگوں کے فہم کے مطابق بات آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی بات نہیں لائی گئی جس کو لوگ سمجھ نہ سکیں۔ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ اللہ پاک کسی کو ذمہ دار نہیں بناتے کسی چیز کا جو کہ وہ کوئی کر نہ سکتا ہو۔ تو اب اگر قرآن بھیجا ہے تو قرآن تو سمجھنے کے لیے بھیجا ہے نا۔ تو اگر کوئی سمجھ نہ سکے تو پھر تو ما لا یطاق والی بات ہے۔ مطلب ظاہر ہے وہ تو وہ والی بات ہے۔ تو اللہ جل شانہ نے قرآنِ پاک میں جو علوم بھیجے ہیں وہ محنت سے حاصل ہو سکتے ہیں کسبی طور پر۔ ہاں اللہ پاک جو کسبی طور پر کوشش کر رہے ہیں ان میں سے بعض کو لدنی کے طور پر بہت کچھ عطا فرما دیتے ہیں جس کے لیے کوئی بنیاد یا ذریعہ ظاہری نہیں ہوتا۔ ان کو اللہ پاک عطا فرما دیتے ہیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ اس کے لیے کسبی محنت اپنے طور پر ضروری ہے۔ صحابہ کرام نے بھی کسبی محنت کی تھی، اس کے لیے باقاعدہ سیکھتے تھے۔ مطلب جو علمائے کرام ہوتے تھے قرآن والے، قرآن کا فہم رکھنے والے، ان سے باقی دوسرے سیکھتے تھے۔ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ، ان سب حضرات نے ایسی باتیں کی ہیں اس کے بارے میں۔ تو یہ ہے کہ قرآن جو ہے اس میں بھی سارے دینی امور کے مطابق اجمالاً یا تفصیلاً باتیں آئی ہیں۔ تو اس کی طرف بھی ریفرنس کیا جا سکتا ہے۔ اور لوحِ محفوظ میں ہر قسم کی بات مندرج ہے۔ کوئی درمیان میں کوئی چیز رہ نہیں گئی۔ دیکھیں اللہ تعالی کی جو سمع و بصر ہے وہ لامحدود ہے۔ لہذا اللہ جل شانہ ہر ایک چاہے وہ کوئی بھی ہے جاندار جو ہے اس کی حرکت کی آواز اور یا پکار وہ سنتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی کمزور کتنا ہی دور کتنے ہی کیوں نہ ہو ، کوئی اس کا اثر نہیں پڑتا اللہ تعالی پر چاہے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو چاہے کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ اور دور کا تعلق تو ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالی تو سب چیزوں کے قریب ہے۔ تو اس وجہ سے ہے کہ اللہ جل شانہ کی سمع و بصر یہ بھی لامحدود ہے۔ اسی طریقے سے اللہ پاک کا علم بھی لامحدود ہے۔ وہ جو آٹھ خاص صفات ہیں، ان میں مطلب یہ آتا ہے سمع، بصر اور علم۔ مطلب یہ سب مطلب چیزیں آتی ہیں۔ قدرت بھی آتی ہے۔ تکوین بھی آتی ہے۔ مطلب یہ سب چیزیں مطلب اس میں آتی ہیں۔ تو ہم لوگوں کو اس کے مطابق یعنی اپنا عقیدہ بھی بنانا ہے اور ہمارے اوپر اس کا اثر بھی ہونا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اس کے لیے قبول فرمائے ہم سب کو۔ اور اللہ پاک ہم سے وہ کام کروائے جو اللہ پاک کو راضی کرے اور خوش کرے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔