حق و باطل کا معیار اور فقہی وسعت
درس نمبر 253 جلد 1، باب 18: بَابٌ فِی النَّهْيِ عَنِ الْبِدَعِ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ
حق اور گمراہی کا فرق
اجتہادی مسائل میں شرعی گنجائش
خارجی سوچ اور تنگ نظری کی مذمت
وسعتِ قلبی اور ائمہ کا احترام
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
بَابٌ فِی النَّهْيِ عَنِ الْبِدَعِ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ
بدعتوں اور دین میں نئی باتوں کے ایجاد کرنے سے روکنے کا بیان
قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلَالُ﴾ (یونس: 32)
ترجمہ: ”حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟“
تشریح: آیت شریفہ کے بارے میں مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں پر سوال انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کے بعد گمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق اور گمراہی کے درمیان کوئی اور چیز نہیں، جو حق نہیں ہوگا وہ گمراہی ہوگی کوئی ایسا کام نہیں ہو سکتا جو نہ حق ہو نہ گمراہی۔ مگر یہ قاعدہ فقہاء کے اجتہادی مسائل میں نہیں چلتا۔ وہاں پر جانب خلاف کو ضلال اور گمراہ نہیں کہہ سکتے۔
ماشاء اللہ بہت بڑا علم ہے اس کے اندر۔ سبحان اللہ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بعض چیزیں binary ہوتی ہیں، مطلب اس میں یا ایک ہوتا ہے یا دوسرا ہوتا ہے۔ مثلاً فجور ہے یا تقویٰ ہے۔ اگر فجور ہے تو تقویٰ نہیں اور اگر تقویٰ ہے تو فجور نہیں۔ روشنی ہے تو تاریکی نہیں، تاریکی ہے تو روشنی نہیں۔ دن ہے تو رات نہیں، رات ہے تو دن نہیں۔ مطلب اس کے اندر یہ درمیان کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ تو اسی طریقے سے جو دین ہے، تو جتنا ہے بس وہی دین ہے۔ اس سے آگے پیچھے نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں اگر کوئی کمی کرے گا تو وہ تفریط ہے اور اگر کوئی زیادتی کرے گا تو افراط ہے۔ تو بعض لوگ جب بگڑتے ہیں تو یا تفریط میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا افراط میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تفریط میں جو مبتلا ہوتے ہیں وہ جو چیزیں دین ہیں ان کو بھی دین نہیں مانتے، یعنی وہ کمی کی طرف جاتے ہیں۔ اور جو افراط ہے، وہ جو دین نہیں ہوتا وہ بھی اس کو دین سمجھ لیتے ہیں لہٰذا وہ بھی گمراہ۔ تو اس وجہ سے یہ جو بات ہے کہ اس میں دو باتوں میں سے ایک ہے۔ دیکھیے جو اخیر میں جو فرمایا کہ یہ قاعدہ فقہاء کے طریقوں میں نہیں چلتا، اس کی وجہ کیا ہے کہ وہاں پر اجتہاد ہے، ہر امام نے حق کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ تو جو اپنے دلائل کے ذریعے سے حق کی بات کو جو سمجھ چکا۔ تو اگر وہ نہیں بھی ہے تب بھی اس کو گناہ گار نہیں کہتے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اس کو ایک ثواب ملے گا۔ اور اگر وہ حق تک پہنچ گیا تو اس کو دو ثواب ملیں گے۔ اس کی ایک نظیر صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے دور میں ملتی ہے جس سے یہ چیز ثابت ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ، بنو قریظہ کے بارے میں فرمایا صحابہ کرام کو،کہ عصر کی نماز قریظہ جا کر ہی پڑھنی ہے۔ تو صحابہ کرام چل رہے تھے، اتنے میں عصر کی نماز کا وقت نکلتا جا رہا تھا۔ تو دو گروہ ہو گئے۔ کچھ صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ حکم دیا ہے کہ وہیں جا کر پڑھنی ہے لہٰذا ہمارا کام تو یہ ہے کہ ہم نے ادھر جا کے پڑھنی ہے۔ اس کی نظیر موجود ہے نا، مزدلفہ۔ مطلب یہ ہے کہ مزدلفہ میں نماز پڑھنی ہے حاجی کو۔ تو راستے میں مغرب کا وقت نکل بھی جائے تو پھر بھی اس نے مغرب کی نماز کہاں پڑھنی ہے؟ مزدلفہ جا کر پڑھنی ہے۔ راستے میں اس نے پڑھ لی تو اس کی نماز نہیں ہوئی۔ اس کا وقت ابھی داخل نہیں ہوا، اس کے داخل ہونے سے مزدلفہ میں داخل ہونے کے ساتھ اس کا وقت داخل ہوگا۔ تو یہ ایک مثال موجود ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم تو وہاں جا کر ہی پڑھیں گے۔ دوسرے نے فرمایا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اوقات فرض قرار دیے ہیں، لازم قرار دیے ہیں نماز کے، تو اگر ایک حکم پر ہم عمل نہیں ہو سکا تو دوسرا تو نہ جانے پائے نا۔ یہ تو مقصد صرف یہ تھا کہ ہم جلدی پہنچ جائیں، تو جلدی نہیں پہنچ سکے، اس پر عمل نہیں ہو سکا، تو دوسرا تو نہ جانے پائے۔ تو انہوں نے پڑھ لی۔ اب دیکھو بظاہر کیا ہے، دونوں بالکل مختلف ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب یہ حال پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے بھی نہیں کہا کہ تم نے غلط کیا۔ دونوں کی تصویب ہو گئی۔ تقریری حدیث ہے۔ تو اس سے پتا چلا کہ ایسی صورت حال ہو سکتی ہے اجتہادی طور پر۔ تو یہ وسعتِ علمی ہے۔ یعنی اس میں اللہ پاک نے آسانی رکھی ہے۔ تو اس آسانی کو اپنے اوپر بند نہیں کرنا چاہیے۔ جنہوں نے اپنے اوپر بند کیا ہے نا، تو وہ بہت زیادہ گمراہی میں پڑ گئے اور بہت نقصان پہنچایا اپنے آپ کو۔ جن میں ایک مثال خوارج کی ہے۔ خوارج نے صرف اپنے آپ کو حق پر کہا، باقی سب کو غلط کہا۔ اور بڑے بڑے اولیاء اللہ کو شہید کیا ان ظالموں نے۔ ایک دفعہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بیٹھے ہوئے تھے، تو خوارج آ گئے اور نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ شہید کرنا چاہا۔ تو امام صاحب نے ان سے کہا کہ بھئی تم آخر مجھے کسی وجہ سے مارنا چاہتے ہو یا ویسے ہی مارنا چاہتے ہو؟ مطلب کوئی بات تو ہو گی نا جس کی وجہ سے تم مجھے مارنا چاہتے ہو۔ تو انہوں نے کہا کہ تم فاتحہ نہیں پڑھتے، یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ امام کے پیچھے۔ جو کہ فرض ہے۔ تو انہوں نے کہا بھئی بات کر لیتے ہیں نا، اس میں یہ کون سا مشکل کام ہے؟ اگر میں غلطی پر ہوں تو میں رجوع کر لوں گا، لیکن مجھے سمجھاؤ تو سہی۔ تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے، اس پر بات کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا سارے لوگ بات کریں گے یا کوئی ایک بات کرے گا؟ اب مجھ سے آپ کوئی چن لیں گے اپنے آپس میں کہ مجھ میرے ساتھ وہ آپ کی طرف سے بات کرے؟ کہتا ہم ایک آدمی کو چن لیتے ہیں۔ اب یہ ساری باتیں عقلی ہیں، اس میں نقلی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہم اپنے آپ میں سے چن لیتے ہیں، تو آپ کے ساتھ بات۔ انہوں نے کہا بالکل کرو۔ انہوں نے چن لیا، وہ صاحب جب آیا، تو انہوں نے کہا کہ جی، یہ بات ہے۔ انہوں نے کہا بھئی آپ تو مسئلے کو حل کر چکے ہیں، دوبارہ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا کہاں؟ بات ہی شروع نہیں ہوئی، تو آپ کہتے ہیں بات حل ہو چکی ہے، کیسے حل ہوئی؟ انہوں نے کہا تم میرے اوپر یہ اعتراض کر رہے ہو کہ میں فاتحہ نہیں پڑھتا امام کے پیچھے۔ یہی ہے نا؟ کہتے ہاں۔ تو اب دیکھیں میں کیوں نہیں پڑھتا؟ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ امام میری طرف سے اللہ تعالیٰ کے سامنے پڑھ رہا ہے، قِرَاءَةُ الْاِمَامِ قِرَاءَةُ الْمَامُومِ۔ تو امام میری طرف سے پڑھ رہا ہے تو بس بات ہو گئی نا۔ تو میری دلیل تو تم لوگوں نے مان لی۔ تم نے ایک آدمی مقرر کر لیا، سارے لوگ باتیں نہیں کر رہے، تو اسی طرح نماز میں بھی ہم سارے لوگ فاتحہ نہیں پڑھتے۔ وہ ہے کہ وہ، ظاہر ہے مطلب ہے کہ سب خاموش ہیں، امام پڑھ رہا ہے۔ تو بس وہ وہ سر سر جھکا کے بس چلے گئے۔ تو اب یہ، یہ جو، یعنی مطلب یہ ساری باتیں عقلی ہیں۔ لیکن اس سے استدلال پیدا ہوتا ہے۔ تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس قسم کی بات ہو، تو یہ تو امام صاحب کی دلیل ہے نا۔ اب کسی اور امام کی دلیل اور ہو گی، اور وہ بھی، اس کو بھی ہم حق سمجھیں گے۔ یہ بنیادی بات ہے۔ اگر کوئی اس چیز کو سمجھ گیا، تو بہت سارے اختلافات سے اور مشکلات سے بچ جائے گا۔ وسعتِ قلبی اس کو مل جائے گی۔ مولانا ولی مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ جا رہے تھے۔ ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ پی ایل ایس سسٹم آیا تھا نا ایک بینک میں، پی ایل ایس، پرافٹ لاس وہ وہ سیونگ اکاؤنٹ، تو اس کا اس کے بارے میں حضرت کا فتویٰ یہ تھا کہ سود ہے۔ جبکہ مولانا تقی عثمانی صاحب اس کو سود نہیں کہتے تھے۔ تو ایک آدمی نے راستے میں پوچھا کہ حضرت یہ کیا سود ہے؟ فرمایا، ہاں ہمارے نزدیک سود ہے، لیکن تم عام آدمی ہو، تم مولانا تقی سے پوچھو، ان کے نزدیک سود نہیں ہے، اس پر عمل کر لینا۔ مولانا تقی صاحب اس کو چونکہ سود نہیں سمجھتے، تم ان سے پوچھ لینا اور اس پر عمل کر لینا۔ ہم سے پوچھو گے تو ہم اس کو سود کہیں گے۔ اب دیکھیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ وسعتِ قلبی ہے۔ تو یہ وسعتِ قلبی جس میں نہیں ہوتی، وہ اپنے لیے بھی مصیبت ہوتا ہے، دوسروں کے لیے بھی مصیبت ہوتا ہے۔ اس وقت بھی بہت سارے لوگ خوارج کے انداز میں کام کر رہے ہیں۔ یہ جو داعش اور یہ اس قسم کی چیزیں ہیں، یہ خوارج کی قسم ہے۔ یہ اس دور کے خارجی ہیں۔ تو ظاہر ہے پھر ہو گا۔ پھر تو ان سے ایسی ہی بات ہو گی۔ اور بھی ہیں، مطلب، صرف میں مطلب تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، لیکن جو صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور باقی اہلِ حق کو حق پر نہیں سمجھتے، تو وہ خارجیت کے راستے پہ چل رہا ہے۔ نقصان مطلب یہ ہوتا ہے۔ وہ بشیر احمد بھگوی صاحب ہے نا، وہ پندرہ درجے اور اٹھارہ درجے میں اس قسم کا تشدد کرتا ہے۔ اور بڑے بڑے مفتیوں کے خلاف بھی باتیں کرنا شروع کر لیتا ہے، مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا تقی عثمانی صاحب اور یہ اور وہ سارا۔ تو اس کو میں نے کہا، میں نے کہا اگر آپ نے یہ چیز چھوڑی نہیں تو میں آپ کو خارجی کہوں گا۔ کیونکہ ظاہر ہے یہ خارجیت کی چیز ہے۔ مطلب یہ جو اپنے آپ کو اتنا مستقل سمجھ لینا کہ دوسرے کا۔ حالانکہ جس کی بات آپ کر رہے ہو، وہ میرے سامنے کہہ چکے ہیں کہ پندرہ بھی اب میں کہہ سکتا ہوں کہ صحیح ہو سکتا ہے، اٹھارہ بھی صحیح ہو سکتا ہے، انیس بھی صحیح ہو سکتا ہے۔ تو جن سے تم ثبوت لے رہے ہو وہ تو یہ فرما رہے ہیں۔ تو تم کہاں سے آ گئے ہو؟ تمہاری بات کیسے مطلب میں مانوں؟ تم خارجیت میں چلے آئے ہو۔ تو اللہ پاک اس چیز سے بچائے، یہ بہت خطرناک چیز ہے۔ انتہائی درجے کی نقصان دہ چیز ہے۔ یہ سارے اولیاء اللہ ہیں، جتنے بھی امام ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ۔ اب میں ان کو غلط کہوں، سب کو، صرف اپنے امام کو ٹھیک کہوں؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ یہ پارٹی بازی ہے، یہ مسلک والی بات نہیں ہے۔ مسلک میں تو وسعتِ قلبی ہوتی ہے۔ اور جو پارٹی بازی ہوتی ہے اس میں تنگ نظری ہوتی ہے۔ آدمی صرف اپنی پارٹی کی بات کو صحیح کہتا ہے، باقی کی بات کو غلط کہتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو حق پر قائم رکھے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔