اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ۔اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَالَّيْلِ اِذَا يَسْرِ﴾۔
وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ﴿وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾۔وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾۔
وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَامَ لَیْلَةَ الْقَدْرِ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"۔وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ فِیْهِ: "لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ"۔وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ: "إِذَا كَانَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِیلُ فِی كَبْكَبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ یُصَلُّونَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ یَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ"۔وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ فِی الْمُعْتَكِفِ: "هُوَ یَعْتَكِفُ الذُّنُوبَ وَیَجْرِی لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا"۔وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ: "تَحَرَّوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ"۔
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: "مَنْ شَهِدَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي جَمَاعَةٍ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهِ مِنْهَا"۔وَكَأَنَّهُ تَفْسِيرٌ لِلْمَرْفُوعِ: "مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ"۔ فَالَّذِي شَهِدَ فِي جَمَاعَةٍ لَمْ يُحْرَمْ خَيْرَهَا۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِیُّ الْكَرِیْمُ۔
معزز خواتین و حضرات!چند دنوں کے بعد ایک انتہائی مفید اور برکت والی بہار آ رہی ہے، ان شاء اللہ، اللہ ہمیں اس تک پہنچائے۔ رمضان شریف بذاتِ خود بہار ہے۔ نیکیوں کا، گناہوں سے بچنے کا، کیونکہ شیطان قید ہو چکا ہوتا ہے اور نفس پہ بھی پاؤں پڑ چکا ہوتا ہے۔ نفس کو قابو کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ عقلمندی ہے۔ اور اللہ پاک نے تو اس کو لازم فرمایا ہے: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾۔
تو رمضان شریف میں نفس پہ بھی پیر پڑ جاتا ہے، دباؤ میں آ جاتا ہے، ماننا شروع کر لیتا ہے۔ ویسے تو نفس باغی ہے، بغاوت پہ آمادہ ہوتا ہے اور شیطان اس کو نت نئے گمراہی کے راستے دکھاتا ہے، سکھاتا ہے۔ لیکن جس وقت شیطان قید ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں ایک قسم کا اس کے خلاف کام کرنے کا پورا ایک موقع مل جاتا ہے۔ اور یہ رمضان شریف میں ہے۔ اس وجہ سے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
یہ Army والے جو ہیں نا، ان کو اس چیز کا پتہ ہوتا ہے جس وقت لڑائی ہوتی ہے تو یہ اپنے مورچے سے نہیں نکلتے۔ لیکن جس وقت ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ باہر سے حملہ نہیں ہے، یعنی گولیاں نہیں چل رہیں، تو پھر وہ مورچے سے نکل کر زیادہ سے زیادہ Advance کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہی ان کی کامیابی ہوتی ہے۔ چاہے ایک کلومیٹر، چاہے ڈیڑھ کلومیٹر، چاہے دو کلومیٹر جتنا بھی نصیب ہے، اتنا وہ Advance کرتے ہیں کیونکہ ان کو موقع ملا ہوتا ہے۔
تو اب یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ہمارے اوپر Shelling رک چکی ہے۔ شیطان کی طرف سے حملہ نہیں ہے۔ ہمارا نفس ہی ہے جو شرارت کرنے پہ تلا ہوا ہے، تو اس کے خلاف کام کرنے کا اچھا موقع ہے، اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ تو یہ تو پورے رمضان شریف میں ہے اور اس کا جو پہلا عشرہ ہے، فرماتے ہیں یہ رحمت کا عشرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اس میں، لوگوں کے قلوب پلٹ جاتے ہیں۔
آپ ذرا غور فرمائیں، رمضان شریف سے ایک دن پہلے جماعت میں جو نمازیوں کی تعداد ہے ان کو دیکھیں، اور رمضان شریف کے شروع ہوتے ہی آپ اس کی تعداد کو دیکھیں، کچھ فرق محسوس ہوتا ہے؟ اچھا خاصا فرق، بعض دفعہ تو دگنے سے بھی، تگنے سے بھی زیادہ افراد آ جاتے ہیں۔ گویا کہ جو باؤنڈری پر ہوتے ہیں وہ پہلے ہی ماشاء اللہ عشرے میں اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی آخری عشرہ ختم ہو جاتا ہے، چاند رات ہو جاتی ہے، تو تراویح کے لیے اگر آٹھ نو صفیں ہیں، تو صرف عشاء کی نماز کے لیے دو صفیں بھی نہیں ہوتیں۔ یہ کیا وجہ ہے؟ کیونکہ شیطان پھر کھل چکا ہوتا ہے اور اب وہ بدلہ لے رہا ہوتا ہے۔
اس وجہ سے ہم لوگوں کو ایک ذہن میں یہ بات رکھنی ہے کہ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ اس پہ تو میرے خیال میں کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔ جو بھی مسلمان ہو گا تو وہ یہی کہے گا کہ شیطان ہمارا دشمن ہے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا: ﴿إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾، وہ بے شک تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس وجہ سے شیطان ہمارا دشمن ہے اس میں تو کوئی شک نہیں ہے۔ تو پھر دشمن کی بات کیوں مانی جائے؟ دشمن کی باتوں میں کیوں آیا جائے؟ ہاں جی؟ اس کے ساتھ دشمنی کرنی چاہیے، یعنی اس کی بات نہیں ماننی چاہیے۔
اب جب یہ بات سمجھ میں آ گئی، تو آخری عشرہ کے ختم ہونے کے بعد، چاند رات میں ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اب حملہ کرے گا وہ۔ اب حملہ کرے گا۔ تو اس وقت حملے کے وقت میں اکیلے نہ رہیں۔ جیسے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جماعت سے علیحدہ نہ ہو کیونکہ اکیلے بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے، اور ہمارا بھیڑیا شیطان ہے۔ اس وجہ سے جماعت سے علیحدہ نہیں ہونا چاہیے۔
مجھے یاد ہے منیٰ میں ایک دفعہ طوفان آیا تھا، پانی کا بہت سیلاب آیا تھا۔ بہت سارے لوگ بہہ گئے تھے اس میں۔ تو ایک عورت تھی وہ اس طرح بچی ہوئی تھی کہ وہ جو لائٹ کے جو مطلب وہ کھمبے لگے ہوئے تھے نا، وہ اس کے ساتھ ٹکرا گئی تو اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ تو پانی اس کو بہا نہیں سکا اور وہ بچ گئی، جس وقت پانی اتر گیا تو نیچے آ گئی۔ ہاں جی؟ اب دیکھو اس کے لیے کھمبا بچنے کا ذریعہ بن گیا۔
تو اس طرح ایسی مجالس جہاں لوگوں کی بچت ہوتی ہے اس فتنہ کے سیلاب کی صورت میں، اس کے ساتھ ایسی صورت میں چمٹنا چاہیے۔ اور ہرگز اس سے علیحدہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ علیحدہ ہونے کا مطلب کیا ہے؟ سیلاب میں بہہ جانا۔ سیلاب میں بہہ جانا۔ اس وجہ سے آخری جو دن ہو گا، اس میں ہمیں اس پہ، اس کے لیے بہت محتاط ہونا چاہیے کہ ہم لوگ جماعت سے علیحدہ نہ ہوں۔
اپنے آپ کو سمجھائے کہ بے شک کچھ بھی ہو جائے میں نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی ہے، میں نے اللہ والوں کے ساتھ رہنا ہے، میں نے فسق و فجور والوں کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔ پانچ چھ دن ذرا مزید محنت کر لیں، سبحان اللہ، یہ Establish ہو جائے گا۔ اور پھر پورے سال آپ کے یہ نسبت کام آئے گی۔ تو یہ آخری جو، مطلب جو ہے نا وہ جو شوال کے جو چھ روزے ہیں، اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ شوال کے چھ روزے جب فوراً، ایک دن عید کرنے کے بعد شوال کے چھ روزے شروع ہو جاتے ہیں، اس سے ماشاء اللہ وہ روزے کے جو برکات ہیں وہ تو حاصل ہوتے ہی ہیں اور ان چیزوں سے بچنے کا سامان بھی ہو جاتا ہے۔ ہاں جی؟ کہ اس کو فوراً شروع کر لے۔
تو بہرحال میں بات عرض کر رہا ہوں کہ ابھی ان شاء اللہ چند دنوں میں وہ بہار آنے والی ہے۔ جس کو آخری عشرہ رمضان کہتے ہیں۔ اس میں ایک رات ہے، سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابھی یہ آیت کریمہ، ابھی جو ہے نا حدیث شریف گزری ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تَحَرَّوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ"۔ آخری عشرہ جو ہے اس میں تلاش کرو لیلۃ القدر۔
لیلۃ القدر کیا ہے؟ یہ اللہ نے بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔ اور بڑے عجیب انداز سے بتایا ہے۔ جیسے درود شریف کی فضیلت اللہ تعالیٰ نے بڑے عجیب انداز سے قرآن پاک میں فرمائی ہے نا، اس طرح یہ بھی بہت عجیب انداز سے ہے۔ کتاب اللہ، رسول اللہ، سبحان اللہ! اور پھر یہ جو آخری عشرہ کے جو لیلۃ القدر ہے، اس میں عجیب انداز فرمایا گیا۔ اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾۔ بے شک ہم نے نازل کیا قرآن کو لیلۃ القدر میں۔ اب یہ، یہ جو فقرہ آ رہا ہے نا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، یہ بڑا عجیب ہے۔ ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ﴾۔ تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ یعنی یہ اصل میں وہ انداز ہے کہ کسی چیز کی اہمیت بتانے کے لیے جس کو سنایا جا رہا ہے، اس کو پہلے سے بتایا جاتا ہے کہ تمہیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ﴾، تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ اللہ پاک پھر فرماتے ہیں: ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾۔ سبحان اللہ! لیلۃ القدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔
بھئی ایک چیز ہے۔ مثال کے طور پر آپ ایک جگہ سروس کر رہے ہیں۔ وہاں آپ کو پچاس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ ایک شخص آتا ہے آپ کے کان میں کہہ دیتا ہے میں آپ کو ایک جگہ بتاتا ہوں جہاں آپ کو پانچ لاکھ روپیہ تنخواہ ملے گا۔ کیا خیال ہے وہاں ٹکے گا؟ ہاں جی؟ پانچ لاکھ! اوہ ہو! رسیاں بھی تڑا دے گا۔ کوئی نصیحت اس پہ اثر نہیں کرے گی۔ وہ جلد سے جلد اس کو جوائن کرنے کی کوشش کرے گا۔ پچاس ہزار کو چھوڑ کر پانچ لاکھ۔ کتنا نسبت ہے؟ ایک نسبت دس۔ ایک نسبت دس کے لیے وہ کیا کر رہا ہے؟ وہ جو ہے نا وہ، رسیاں تڑا رہا ہے۔
لیکن دین کی بات ہے، ثواب کی بات ہے، آخرت کی بات ہے، جس پہ کسی خوش قسمت ہی کو یقین ہوتا ہے۔ تو اس کا یہ حال ہے کہ اللہ میاں خود فرماتے ہیں، درمیان میں کوئی راوی بھی نہیں ہے، اللہ پاک قرآن میں خود فرماتے ہیں: ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾، لیلۃ القدر تو وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔
اب ذرا سمجھنے کی کوشش فرما لیں کہ یہ مطلب کیا ہے اس کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی لیلۃ القدر میں، تو ایسا سمجھو جیسا کہ ہزار مہینے ہر رات کے اندر تو نے دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ ہزار مہینے تو نے دو رکعت ہر رات میں نماز پڑھی ہے۔ ہزار مہینے۔ یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے، آج کل یہ بھی Fashion ہے، جو کام نہیں کرنا ہے کہتے ہیں ضعیف حدیث ہے۔ خدا کے بندو! جو تلاش کرنے والے ہیں تو ضعیف کے پیچھے بھی جاتے ہیں۔ جو محبت کرنے والے ہوتے ہیں ان کے لیے ضعیف روایت بھی بہت کچھ ہوتی ہے، کیونکہ لینا ہوتا ہے نا۔
یہ مجھے بتاؤ یہ مضاربت والے جو مارے گئے تھے بیچارے، وہ ضعیف روایات کے پیچھے گئے تھے نا؟ کیا وہ اصلی صحیح روایتیں تھیں؟ بھئی اتنا فائدہ ہو جائے گا، اتنا فائدہ ہو گا، سارا سرمایہ اس کے اندر ڈبو دیا بعض لوگوں نے۔ حلال اور حرام کو بھی نہیں دیکھا۔ تو جب دنیا کی بات ہوتی ہے وہاں تو ضعیف کیا موضوع روایتوں پر بھی عمل کرتے ہیں۔ لیکن دین کی بات ہے تو قرآن بتا رہا ہے۔ یہ ضعیف روایت ہے؟ قرآن بتا رہا ہے ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔
اس کا مطلب کیا ہوا؟ ہزار مہینوں سے مراد تراسی (83) سال ہیں۔ اور راتوں کا اندازہ کر لیں تو تقریباً تیس ہزار راتیں بنتی ہیں۔ تیس ہزار راتیں بنتی ہیں۔ تو تیس ہزار راتیں آپ مسلسل جو ہے عبادت کریں، وہ اس رات اکیلی رات کے برابر نہیں ہے۔ ﴿خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾ فرمایا گیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ برابر ہے۔ فرمایا ﴿خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾، یعنی اس سے زیادہ ہے، بہتر ہے۔ اب جو لوگ نہیں لینا چاہتے تو ان کی اپنی مرضی۔ اللہ پاک نے تو فرما دیا ہے۔
اب ذرا غور سے سن لو، بعض لوگوں نے غلط فہمیاں پھیلائی ہیں۔ بغیر علم کی باتیں کرتے ہیں۔ اور لوگوں نے یہ مشہور کیا ہوا ہے کہ لیلۃ القدر کی رات پتہ نہیں کس کو ملے۔ کیونکہ انسان کوشش کرتا ہے، کرتے کرتے جس وقت وہ وقت آ جاتا ہے تو نیند آ جاتی ہے۔ خدا کے بندے! یہ کوئی لمحۃ القدر ہے؟ یہ ہے لیلۃ القدر۔ لیلہ، لیلہ پوری رات ہوتی ہے غروبِ آفتاب سے لے کر فجر تک پوری رات ہوتی ہے۔ اور قرآن میں بھی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ﴾۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے، اس وقت تک یہ رات جاری رہتی ہے۔ تو پتہ چلا کہ اس رات میں ہر لمحہ لیلۃ القدر کا لمحہ ہے۔ لہٰذا جو اس وقت جو عمل کرے گا، اچھا، ثواب والا، اس کا ثواب تیس ہزار گنا بڑھ جائے گا کم از کم۔ تیس ہزار گنا کم از کم بڑھ جائے گا۔ تو ایسی صورتحال میں ہمیں پھر کیا کرنا چاہیے؟
اب یہ بات ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں جی ملتا نہیں، نہیں بھئی۔ سب کو ملتا ہے، ہاں، ہر ایک کی کوشش کے بہ قدر۔ مثلاً جو نمازی ہیں، اور وہ نماز پڑھتے ہیں، تو اس رات میں بھی نماز پڑھیں گے نا، کیوں اس رات چھوڑ دیں گے؟ اس رات بھی نماز پڑھیں گے۔ تو ان کی جو دو نمازیں ہیں فرض، مغرب کی اور عشاء کی، اس میں آ گئی یا نہیں آئی؟ اور فرضوں کے برابر تو نوافل کبھی نہیں پہنچتے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دو نمازیں تو سب کی آ گئیں۔
اور ایک شخص جماعت کا ماشاء اللہ مطلب وہ اہتمام کرتا ہے، جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتا ہے، تو اس کی دو نمازیں جماعت کے ساتھ آ جائیں گی۔ تو اس کا درجہ ان سے اوپر ہو گا۔ اور جو تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام کرتا ہے، تو ان کی نمازیں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ جماعت والی آ جائیں گی۔ سبحان اللہ! ان کا درجہ ان سے بھی اونچا ہے۔ جو زیادہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، ان کا درجہ ان سے بھی اونچا ہو جائے گا۔ جو نماز کے اہتمام کے لیے وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں مسجد، اور وہاں بیٹھ جاتے ہیں نماز کا انتظار کرنے لگتے ہیں، تو حدیث شریف کے مطابق وہ اس وقت بھی نماز میں ہوتے ہیں۔ جو نماز کے انتظار میں ہوتا ہے، وہ اس وقت نماز میں ہوتے ہیں۔ تو ان کا درجہ ان سے بھی آگے بڑھ جائے گا۔
اب ہر ایک کی اپنی اپنی کوشش ہے نا، کتنا وہ کر سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو باقی وقت ہے مغرب اور عشاء کے درمیان، اور عشاء اور فجر کے درمیان، اس کے ساتھ کوئی کیا کرتا ہے؟ یہ بھی ایک اپنا ذوق ہے۔ اب تراویح تو پڑھنی ہے نا سب نے؟ تو تراویح تو اس میں آ گئی۔ معاف کیجیے گا، بڑے حوصلے کی بات ہے کہ ان راتوں میں بھی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ بڑے حوصلے کی بات ہے کہ ان راتوں میں بھی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ خدا کے بندو! لینے کا راتیں ہیں! جو آٹھ رکعتیں پڑھتے ہیں وہ بھی بیس رکعتوں کو بدعت نہیں کہہ سکتے۔ تو جب بدعت نہیں ہے، کم از کم نفل تو ہے؟ تو ان نفلوں کو کیوں چھوڑتے ہو؟ رمضان شریف میں نفل فرضوں کے برابر ہو جاتا ہے۔ حدیث شریف باقاعدہ، خطبہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ تو کیوں چھوڑتے ہو؟ اور دوسروں کو کیوں چھڑواتے ہو؟ کیوں خواہ مخواہ ان کا بلا اپنے سر لیتے ہو؟ یہ باتیں دل کو جلانے والی ہوتی ہیں۔ خود بھی کام نہ کرے، دوسروں کو بھی نہ کرنے دے۔
تو ایسی راتوں میں مانگو اللہ تعالیٰ سے، لو اللہ تعالیٰ سے۔ دینے والے ہیں اللہ تعالیٰ۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا سنو۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں جو مکہ مکرمہ کے حضرات تھے، تابعین تھے، وہ بیس رکعت پڑھتے تھے تراویح۔ تو ایک ترویحہ میں وہ طواف کر لیتے تھے۔ چونکہ خانہ کعبہ موجود تھا، طواف کرتے تھے۔ یہ ان کا معمول تھا مکہ والوں کا۔ امام مالک صاحب کو پتہ چل گیا، امام مالک صاحب نے اپنے ساتھیوں کو کہا ہمارے ہاں تو کعبہ نہیں ہے، تو چلو اس کی جگہ ہم چار رکعت اور پڑھ لیتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں، مسجدِ نبوی میں، چار رکعت اور پڑھ لیتے ہیں اس کی جگہ۔ اس وجہ سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور مذہب چھتیس (36) رکعتوں کا ہے۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟
یہ ہے لینے والے۔ وہ اتنے حریص تھے اس مسئلے میں کہ مدینہ منورہ سے نکلتے نہیں تھے۔ بڑے مشکل سے حج کے لیے گئے تھے اور جلدی جیسے حج مکمل ہو گیا پھر مدینہ منورہ، کہ کہیں مدینہ منورہ سے باہر موت نہ آ جائے۔ اور اگر کسی کو کام ہوتا تو مدینہ منورہ کے کنارے پہ جا کر، اندر رہ کر ان سے بات کرتے۔ مدینہ منورہ سے باہر نہیں جاتے تھے۔ حریص تھے۔ اسی کو حرص کہتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان لوگوں کے راستوں پہ چلنا چاہیے۔ جو لینے چاہتے ہیں تو ان کے لیے پھر یہ طریقے ہیں۔ نہ کہ کمی کرو۔ یہ بھی نہ کرو، یہ بھی نہ کرو، یہ بھی نہ کرو۔ بھئی کم از کم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئی بدعتی نہیں کہہ سکتا۔ تو بیس رکعت کس نے شروع کیے؟ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سارے صحابہ کو جمع کیا۔ تو اس کا مطلب کیا ہوا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پہ ہمیں بہت محتاط زبان اختیار کرنی پڑے گی۔ صحابی کے بارے میں بات اور پھر خلیفہ راشد کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ"، تمہارے اوپر میری سنت کا اتباع لازم ہے اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کا اتباع لازم ہے۔
تو الحمد للہ ہمیں جو نصیب ہوئی ہے ان حضرات کی برکت سے یہ چیزیں، ان کی قدر کرنی چاہیے۔ خیر یہ تو درمیان کی بات آ گئی۔ اصل بات میں عرض کرتا ہوں کہ تراویح تو پڑھتے ہی ہیں، ان شاء اللہ پڑھیں گے۔ اس کے بعد پھر کیا کریں؟ تو اس کے بعد پھر سنو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حدیث شریف ہے کہ آخری عشرے میں خود بھی جاگتے تھے، اپنے آلِ خانہ کو بھی جگاتے تھے۔ خود بھی جاگتے تھے اور اپنے آلِ خانہ کو بھی جگاتے تھے۔ اس کی اہمیت کے پیشِ نظر۔ آلِ خانہ کو جگانا، اس سے پتہ چل گیا کیا؟ اس سے پتہ چل گیا کہ ہم لوگوں کو، ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں ہمارے پیارے اس چیز سے محروم نہ ہو جائیں۔
تو بہرحال میں آخر میں بات عرض کروں گا۔ ان سب چیزوں کا آسان طریقہ کیا ہے؟ اعتکاف۔ مرد حضرات کے لیے مسجد میں، عورتوں کے لیے اپنے گھروں میں اعتکاف۔ کیونکہ اعتکاف میں کیا ہوتا ہے؟ انسان اللہ کے دروازے پہ ہوتا ہے۔ یعنی اللہ پاک کے دروازے پہ جیسے کوئی بیٹھ جائے کہ میں کچھ لے کے جاؤں گا۔ ہاں جی؟ تو اس میں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ لیلۃ القدر کو پانے کا طریقہ اعتکاف ہی ہے۔ تو اعتکاف کریں۔ اعتکاف کرنا سنت ہے، دسویں بیسویں تاریخ سے شروع ہوتا ہے، یہ اعتکاف سنت ہے۔ لیکن اس کے اندر مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک فرض قوی شروع کر لیا ہے، اور وہ کیا ہے؟ اصلاحِ نفس۔ اصلاحِ نفس فرض ہے۔ تو اس کو "اصلاحی اعتکاف" بنا دیا کہ اس کے لیے جو حضرات آتے تھے ماشاء اللہ اصلاحی اعمال ہوتے تھے اور ان کی اصلاح ہو جاتی تھی۔ اور یہ ہمارا تجربہ ہے کہ ان دس راتوں میں جتنی اصلاح ہوتی ہے، پورے سال میں اتنی نہیں ہوتی۔ ان دس، ان دس راتوں میں جو ہوتی ہے۔
لہٰذا جو حضرات اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، تو جہاں جہاں پر بھی اصلاحی اعتکاف ہو رہے ہیں، وہاں شامل ہو جاؤ۔ الحمد للہ ہمارے ہاں جہانگیرہ میں بھی الحمد للہ اعتکاف ہوتا ہے، اصلاحی اعتکاف ہوتا ہے۔ تو جو اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، تشریف لائیں سر آنکھوں پہ۔ ہمارے مہمان ہوں گے۔ اللہ کے مہمان ہوں گے، ہم تو خود اللہ کے مہمان ہوں گے ان شاء اللہ۔ تو بہرحال یہ ہے کہ وہ تشریف لا سکتے ہیں۔ اس میں اصلاح ہو جاتی ہے، سبحان اللہ۔ اصلاح کا مطلب کیا ہے؟ ہمارا نفس قابو میں آ جائے حدیث شریف کے مطابق، اور اللہ تعالیٰ کے لفظوں کے مطابق صفائی ہو جائے، نفس کی صفائی ہو جائے، تزکیہ ہو جائے۔ ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾۔ اس کام کے لیے ہم اعتکاف کو بھی شروع کر دیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔
یقین جانیے بڑا موقع ہے۔ یہ موقع جب گزر جاتا ہے نا، پھر انسان کو حسرت ہوتی ہے۔ اوہ! مجھے پتہ نہیں تھا۔ تو اس کے بارے میں ایک کلام ہے، میں نے رضوان صاحب کو بھیجا ہے، آپ کو مل گیا نا؟ آپ کو میں نے بھیج دیا ہے۔ ہاں وہ ایک کلام ہے، وہ کلام آپ لوگ ان سے لے لیں۔ اگر نہ بھی دیں تو زبردستی لے لیں۔ ہاں جی، ٹھیک ہے نا۔ تو، تو بہرحال یہ ہے کہ وہ اس میں، اس کو سنیں۔ بعض دفعہ اشعار کے عنوان میں جو چیز انسان کو سمجھ میں آ جاتی ہے، وہ نثر میں سمجھ میں نہیں آتی۔ تو ماشاء اللہ وہ چیز ہے، اللہ جل شانہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔