دل کے ارادوں پر پکڑ اور اللہ کی رحمت کی وسعت
درس نمبر 252 جلد 1، باب 17: بَابٌ فِيْ وُجُوبِ الْإِنْقِيَادِ لِحُكْمِ اللَّهِ
صحابہ کرام کا خوفِ خدا اور کامل اطاعت کا درس
اختیاری ارادوں اور غیر اختیاری وساوس میں فرق
انسانی استطاعت اور اللہ کی رحمت کا ضابطہ
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَفِيْهِ مِنَ الْأَحَادِيْثِ حَدِيْثُ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَذْكُورُ فِيْ أَوَّلِ الْبَابِ قَبْلَهُ، وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَحَادِيْثِ فِيْهِ. (168) ﴿وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَىٰ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ للهِ مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ الْآيَةَ اشْتَدَّ ذٰلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللهِ كُلِّفْنَا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ: الصَّلٰوةَ وَ الْجِهَادَ وَالصِّيَامَ وَالصَّدَقَةَ وَ قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هٰذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا؟ بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ وَ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَىٰ فِيْ إِثْرِهَا اٰمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ، كُلٌّ اٰمَنَ بِاللهِ وَ مَلٰئِكَتِهِ وَ كُتُبِهِ وَ رُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ وَ قَالُوا سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ“ فَلَمَّا فَعَلُوا ذٰلِكَ نَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ: ”لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا“ قَالَ: نَعَمْ ”رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا“ قَالَ: نَعَمْ ”رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَ ارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ“ قَالَ: نَعَمْ﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر للهِ مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ ”جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے، تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا“ نازل ہوئی صحابہ کرام پر یہ آیت شاق گزری،
یعنی ان کو پریشانی ہوئی۔
ترجمہ: وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل گر پڑے، عرض کی یا رسول اللہ ہمیں ان اعمال کے بجالانے کا مکلف بنایا گیا ہے جن کی ہم استطاعت رکھتے ہیں مثلاً نماز، جہاد، روزہ، صدقہ اور اب تو آپ پر (مذکورہ بالا) آیت نازل ہو چکی ہے جس کی ہم استطاعت نہیں رکھتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تم اس طرح کا جواب دو کہ جس طرح کا جواب تم سے پہلے یہود و نصاریٰ نے دیا یعنی ”ہم نے سنا اور نافرمانی کی“ بلکہ تمہارا جواب یہ ہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے تابعداری کی اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی جانا ہے، جب اس آیت کو لوگوں نے پڑھا اور ان کی زبانیں اس سے نرم ہوگئیں، تو اللہ پاک نے اس کے پیچھے یہ آیت نازل فرمائی اٰمَنَ الرَّسُولُ الیٰ آخرہ یعنی رسول اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں، اور مؤمن بھی، سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا، اے پروردگار! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا اسے ان کا نقصان پہنچے گا، اے پروردگار! اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کیجئے، اے پروردگار! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالئے جیسا آپ نے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار! جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو اور اے پروردگار ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب کر۔
تو اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ
تشریح: للهِ مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ ظاہر کرو دل کی بات یا چھپاؤ اس کو، اللہ تم سے حساب لے گا۔ دل کی چھپی ہوئی چیزوں کا بھی حساب ہوگا۔ اس پر کوئی سوال کرے کہ حدیث میں فرمایا گیا: إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ. اللہ تعالیٰ نے میری امت کو معاف کر دیا ہے جو ان کے خیال میں بات آئی ہے جب تک زبان سے نہ کہا یا عمل نہ کیا جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ وساوس اور غیر اختیاری خیالات ہیں جو انسان کے دل میں بغیر قصد اور ارادے کے آجاتے ہیں یہ معاف ہیں۔ مگر قرآن میں جس محاسبہ کا ذکر ہے اس سے وہ ارادے اور نیتیں ہیں جو انسان اپنے قصد و اختیار سے اپنے دل میں جماتا ہے،
مثلاً وہ پلاننگ کرتا ہے۔ کہ میں نے چوری کرنی ہے۔ اب وہ اللہ کے علاوہ کسی کو پتا نہیں۔ لیکن اللہ کے ساتھ ریکارڈ تو ہو گیا۔ اس میں ان کا ارادہ شامل ہے، ارادے سے مراد وہ پلاننگ ہے۔ یعنی اس نے باقاعدہ اس کی منصوبہ بندی کی، بے شک وہ کامیاب نہ ہو اس میں۔ لیکن اللہ تعالی کے ہاں وہ ارادہ ریکارڈ ہو گیا۔ لہٰذا وہ ان میں شامل ہو جائے گا۔ یہی سے مراد ہمارا یہ ہے کہ جو چیز انسان کے ارادے کی ہو، ایک ہوتا ہے مطلب خود بخود خیالات کا آ جانا۔ وہ اس کے ہم مکلف نہیں ہے، مطلب ظاہر ہے کہ وہ تو بس جیسے ہوا آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ تو آپ اس کی پروا نہ کریں۔ آپ اس کی پروا نہ کریں۔ لیکن ایک ہوتا ہے کہ آپ بلوئر کے ذریعے سے خود ہوا ڈائریکٹ کر لیں۔ تو اس پر مؤاخذہ۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اگر خود خیالات جنریٹ کر لے۔ اس میں پلاننگ ہو، اس میں ارادہ ہو، اس میں یہ تمام چیزیں ہوں بے شک وہ چھپے ہوئے ہیں ابھی تک وہ ظاہر نہیں ہوئے کسی پر سوائے اللہ کے۔ تو اس کا تو اللہ تعالی حساب لے گا۔ لیکن جو چیزیں۔۔۔ مثال کے طور پر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اللہ پاک تمہاری آنکھوں کی خیانت کو اور دلوں کے جو اندر ہے، وہ جانتا ہے۔ اب اس کا دوسرے لوگوں کو پتا نہیں ہوتا۔ اللہ کو پتا ہوتا ہے۔ کہ ان کے دل کے ارادے کیا ہیں۔ مثلاً بعض لوگ کنکھیوں سے اس طرح دیکھتے ہیں کہ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ نہیں دیکھ رہے۔ مہارت ہوتی ہے ان کو۔ تو ظاہر ہے، مطلب ہے کہ وہ اللہ کو تو پتا ہوتا ہے کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔ یعنی بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ واقعی کسی خاتون کو ... مثال کے طور پر کسی خاتون کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس کے خیال میں یہ ہے کہ میری بیوی ہے۔ یا میری بہن ہے یا میری بیٹی ہے، اس کا یہ خیال ہے۔ اس کو گھور گھور کر دیکھ رہا ہے لیکن مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے خیال میں یہ ہے کہ میری بیٹی ہے یا بہن ہے یا بیوی ہے یا ماں ہے۔ یعنی محرمات میں۔ تو اس پہ گناہ نہیں ہے اس وقت تک جب تک اس کو پتا نہ چلے، پتا چل گیا، اب برقرار رکھا تو پھر جرم ہے۔ اس وقت تک اس کے اوپر کوئی وہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کوئی دور سے کوئی خاتون آ رہی ہے۔ تو اس کو پتا ہے کہ مطلب بیوی آ رہی ہے لیکن اس کو اس کے خیال میں کوئی غیر عورت ہے۔ اب اس کو گھورنا شروع کر لے۔ دیکھنا شروع کر لے، اب اگرچہ اس کی بیوی ہے لیکن اس کو گناہ مل رہا ہے غیر محرم عورت کے دیکھنے کا۔ کیونکہ وہ اس کے دل میں یہ بات ہے۔ اس کے مطابق عمل کر رہا ہے تو یہ وہ چھپی ہوئی باتیں ہیں جو کہ اللہ جل شانہ ریکارڈ کر لیتا ہے۔ اور اس کو وہ اللہ تعالی اس پہ پکڑ بھی لیتے ہیں۔ تو یہاں سے مراد مطلب وہ چیز ہے۔ یہ
تشریح: عمل میں لانے کے لئے بھی تدبیریں کرتا ہے مگر پھر کسی وجہ سے اس پر عمل نہیں کر سکا قیامت کے دن اس کا محاسبہ ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر اللہ معاف کرنا چاہے تو کون پوچھ سکتا ہے۔ ”اشْتَدَّ ذٰلِكَ عَلَى“ یہ آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کو شاق گزری، وہ یہ سمجھے کہ ہر قسم کے خیالات پر محاسبہ ہوگا۔ پھر ان کو بتایا گیا کہ وہ خیالات جو قصدًا لائے جاتے ہیں ان پر محاسبہ ہوگا جو خود ہی آتے جاتے ہیں ان پر محاسبہ نہیں ہوگا اس سے صحابہ کو اطمینان ہوا۔
تو اللہ جل شانہ نے اس کو کلیئرلی بتا دیا:
تشریح: ”لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا“ کہ غیر اختیاری وساوس اور خیالات پر اگر مواخذہ ہو تو اس سے آدمی مشقت میں پڑ جاتا ہے، اس کا مواخذہ صرف ان خیالات اور ارادوں پر ہوگا جس کو وہ قصداً لائے اور جو خیالات خود آجاتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔
تخریج حدیث: اخرجه صحيح مسلم كتاب الايمان (باب بيان انّ الله سبحانه تعالى لم يكلف الا ما يطاق).
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔