حجرِ اسود کا بوسہ: عقیدۂ توحید اور روحِ اتباعِ رسول ﷺ
درس نمبر 249 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 167
حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل کہ عبادت میں عقل اور مصلحت کے بجائے صرف نبی کریم ﷺ کی پیروی اصل ہے
حجرِ اسود کو چومنا حکمِ نبوی ہے، اس پر قیاس کر کے قبروں یا دیگر پتھروں کو چومنا جائز نہیں
جیسے والدین کی خدمت یا کوئی بھی نیکی محض جذباتی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ کا حکم سمجھ کر کرنا
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
حجر اسود میں نفع و نقصان نہیں ہے
(167) ﴿الثَّانِيَ عَشَرَ: وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، يَعْنِي الْأَسْوَدَ، وَ يَقُولُ: أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَ لَا تَضُرُّ، وَ لَوْ لَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: ”حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت فرماتے: میں خوب جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے تو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ تیرا بوسہ لیا کرتے تھے تو میں ہرگز تیرا بوسہ نہ لیتا۔“
یا کریم یعنی حضرت نے فرمایا
تشریح: ”مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے نفع و نقصان پر قادر نہیں، میرا رب مجھے بوسہ دینے کا حکم نہ کرتا تو میں بوسہ نہ دیتا۔“ یہی بات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہی جب کہ وہاں کچھ نو مسلم دیہاتی موجود تھے، وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ اس پتھر میں کوئی اثر ہے بلکہ اس کے چومنے کا مقصد اتباع رسول ہے کہ آپ ﷺ نے بھی چوما تھا، ان کی اقتداء میں چوما اور آپ ﷺ کو رب نے چومنے کو کہا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اتباع رسول ﷺ میں حکمت کو تلاش نہیں کرنا چاہئے کبھی حکمت سمجھ میں آتی ہے کبھی نہیں بھی جیسے کہ یہاں یہ حکمت سمجھ میں نہیں آتی اصل مقصد اتباع رسول ﷺ ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ حجر اسود کے سوا دوسرے کسی پتھر کو چومنا جائز نہیں ہے۔
یہ بات زبردست۔ کیونکہ بعض لوگ قبروں کے پتھروں کو چومتے ہیں نا۔ تو اس سے پھر شرک کا راستہ کھلتا ہے۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو چوما تھا، لہذا اس سے شرک کا راستہ نہیں کھلتا۔ کیوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ساری عمر شرک کے خلاف کام کرتے رہے۔ تو اس میں کوئی حکمت ہو گی تو حکمت یہ بات حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک وعظ میں بیان فرمائی ہے۔ جب عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات فرمائی۔ تو علی رضی اللہ تعالی عنہ ساتھ کھڑے تھے، فرمایا کہ کیوں فائدہ نہیں پہنچا سکتا، یہ تو ہمیں پہچانیں گے۔ قیامت کے دن ہمیں پہچانیں گے اور ہمارے ایمان کی گواہی دیں گے۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی خاصیت بیان فرمائی۔ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی حقیقت بیان فرمائی کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ تو دونوں نے اپنے اپنے لحاظ سے بات کی۔ کیونکہ خاصیت بھی تو اللہ تعالی ہی ڈالنے والے ہیں نا۔ اس میں ایک بات ذرا تھوڑی سی دور کی بات ہے لیکن ذرا سمجھ میں آ سکتی ہے۔ کہ ہم والدین کی خدمت کرتے ہیں۔ اور کرنی بھی چاہیے۔ تو اس میں یہ اللہ کی طرف سے جب ہم اس کو سمجھتے ہیں تو سبحان اللہ اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اور جب ہم اس کو اپنی ذاتی محبت کی وجہ سے کرتے ہیں تو وہ، اس کی حیثیت اور ہوتی ہے۔ تو اب یہی بات ہے کہ اگر ہم ہر چیز کا reference وہ لیں۔ کہ اللہ پاک کی بات۔ تو پھر اس کی نسبت مختلف ہو جاتی ہے۔ ہاں وہ خاصیت تو اللہ نے ڈالی ہوتی ہے، مطلب یہ ہے کہ جو چیز اچھی ہے وہ اچھی ہے، جو چیز بری ہے وہ بری ہے۔ لیکن اس میں نگاہ اللہ تعالی کی طرف جانا۔ یہ بڑی بات ہوتی ہے۔ تو یہ کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے، مطلب یہ ہے کہ۔ تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ پہ چونکہ یہ چیز بہت زیادہ غالب تھی۔ لہذا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی وقت specify کیا کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے، لہذا میں بھی کرتا ہوں۔ اس کی جو اصل خاصیت ہے وہ تو اللہ کو پتا ہے۔ لیکن میں تو اس لیے کر رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ Reference دے دیا۔
وَاخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔