کنکری مارنے (خذف) کی ممانعت اور دینی مصلحت کی بنا پر بائیکاٹ کا شرعی حکم
درس نمبر 248 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 166
- انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر مارنا (خذف) ممنوع ہے کیونکہ یہ شکار یا دفاع کے بجائے محض جسمانی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
- سنت کی مخالفت کرنے والے، اہل بدعت اور فاسق سے دینی مصلحت کی خاطر قطع تعلق کرنا جائز ہے۔
- کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کی ممانعت محض دنیاوی رنجشوں پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ دینی مصلحت کے مقاطعہ میں دنوں کی کوئی قید نہیں۔
- دین کے مخالفین سے کیے جانے والے بائیکاٹ میں یہ حکمت ضرور پیشِ نظر ہونی چاہیے کہ اس اقدام سے دین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
- اس قطع تعلق کا بنیادی مقصد حق کی مخالفت کرنے والے کو تنبیہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی غلطی کا احساس کر کے توبہ کر لے۔
اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
کنکری سے کھیلنا منع ہے
(166) ﴿الْحَادِيَ عَشَرَ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ وَ قَالَ: ”إِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ وَ لَا يَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَ إِنَّهُ يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَ يَكْسِرُ السِّنَّ“ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَ فِيْ رِوَايَةٍ أَنَّ قَرِيبًا لِابْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ، فَنَهَاهُ وَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَ قَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.﴾
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خذف (یعنی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان کنکر رکھ کر مارنے سے) منع فرمایا اس لئے کہ یہ چیز نہ تو شکار کو قتل کرنے کا موجب ہے اور نہ دشمن کو ہلاک کرنے کا سبب ہے البتہ آنکھ کو پھوڑتا ہے اور دانت توڑتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے کسی کو پتھر مارا، انہوں نے اس کو روکا اور کہا رسول اللہ ﷺ نے اس طرح پتھر مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا یہ شکار کو مار نہیں سکتا، اس نے دوبارہ یہی کام کیا، ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں تجھے بتا رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے لیکن تو اس کام کے کرنے سے رکتا نہیں ہے پس میں تجھ سے کلام نہیں کروں گا۔“
یہ
تشریح: ”لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا“ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بدعت، فاسق و فاجر اور سنت کی مخالفت کرنے والے سے قطع تعلق کرنا جائز ہے۔
مطلب یہ بات ہے۔ کیونکہ مطلب ظاہر ہو جائے گا کہ تم سے جو فرق ہے۔ اب یہ سوال آتا ہے
تشریح: سوال: ایک دوسری روایت میں آتا ہے: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَّهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلٰثٍ. ترجمہ: ”کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع تعلق رکھے۔“ جواب: اگر قطع تعلق کسی دنیوی غرض کے لئے ہو تب تو تین دن سے زائد قطع تعلق رکھنا جائز نہیں جیسے کہ حدیث میں معلوم ہوا، اگر یہ قطع تعلق کسی دینی مصلحت کی خاطر ہو تو اس میں دنوں کی کوئی قید نہیں جیسے کہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین صحابہ سے پچاس دن تک قطع تعلق کیا گیا۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک عرصہ تک بات چیت نہیں کی، اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے بلال سے قطع تعلق کر لیا تھا۔ غرض قطع تعلق اگر کسی دینی معاملہ کے لئے ہو تو یہ تین دن سے زیادہ بھی رکھا جاسکتا ہے۔
اَللَّهُ أَكْبَرُ
تخریج حدیث: صحيح بخاری کتاب الادب (باب النهى عن الخذف) و كتاب التفسير تفسير (سورة الفتح اذ يبايعونك تحت الشجرة) و صحيح مسلم كتاب الصيد (باب اباحة ما يستعان به على الاصطياد والعدو و كراهة الخذف) والنسائى.
تو اس میں مطلب یہ ہوا کہ جو کام دین کے لیے ہو، اس کی الگ مطلب بنتی ہے صورت۔ اور جو دین کے لیے نہیں دنیا کے لیے ہے، اس کی الگ صورت بنتی ہے۔ تو اگر دین کے لیے آپ کسی کے ساتھ محبت کرتے ہیں تو اس پر اجر ہے۔ اور ماشاءاللہ یہ ایک دین کی بات ہے۔ لیکن اگر آپ دنیا کے لیے کرتے ہیں تو ٹھیک ہے، بس دنیا میں اس کا فائدہ آپ کو ہوگا یا نقصان ہوگا فائدہ ہوگا جو بھی ہوگا دنیا میں ہوگا۔ مطلب اس کے ساتھ اس کا دین کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ تو بات یہ ہے کہ اگر یہاں پر یہ بات ہے کہ جس کے ساتھ قطع تعلق کیا جا رہا ہے آیا وہ دین کی وجہ سے ہے یا اپنے کسی ذاتی بات کے لیے، دنیاوی مقصد کے لیے ہے۔ مثلاً بعض دفعہ تجارت کے لحاظ سے یا کسی اور چیز کے لحاظ سے لوگ مطلب وہ نہیں ملنا چاہتے۔ نہیں بنتی، اس میں کوشش کریں کہ آدمی تین دن سے زیادہ مقاطعہ نہ کرے۔ لیکن اگر دین کے لیے جیسے قادیانی ہے، بائیکاٹ ہے ان کے ساتھ۔ تو یہ باقاعدہ دینی تقاضا ہے۔ یا یہودیوں کے ساتھ بائیکاٹ ہے یا جو کسی اور، تو وہ مطلب ٹھیک ہے۔ البتہ حکمت ضرور اس میں ہونی چاہیے کہ اس کا آپ کے دین کو فائدہ ہے یا نہیں ہے، مطلب اس کے لحاظ سے دیکھا جائے گا۔ وہ ایک الگ مینجمنٹ ہے۔ صورتحال ہے۔ اس کو دیکھا جائے گا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر کسی نے اس وجہ سے کی ہے تو اس میں پھر کوئی ۔۔۔۔ تو وہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کبھی کوئی اس قسم کی بات کوئی کر لیتا ہے تو تنبیہ کے طور پر جب اس سے قطع تعلق کیا جائے تو پھر اس کو احساس ہوتا ہے۔ اور پھر ہے بعض دفعہ توبہ بھی کر لیتا ہے، راہِ راست پر آ جاتا ہے۔ ورنہ اس کو بات بڑی لائٹ لگتی ہے کہ بھئی اس میں تو کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اگر آپ کوئی بات کر لیں لیکن جب آپ اس پر اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں تو اس کو تنبیہ ہو جاتی ہے۔ اور وہ ماشاءاللہ اچھی بیلنس پر آ سکتا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔