دعوت الی الخیر کی اہمیت اور دینی شعبوں کا باہمی احترام

درس نمبر 265 جلد 1، باب 20: بَابٌ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى خَيْرٍ وَالدُّعَاءِ إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ

دعوت الی الخیر کی فرضیت اور معاشرتی ذمہ داری

دین کے مختلف شعبہ جات اور ان کی اپنی اپنی اہمیت

اکابرین کا طرزِ عمل اور باہمی اتحاد و یگانگت

علماء و مشائخ کا احترام اور کسی شعبے کی تنقیص سے پرہیز

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ﴾ (آل عمران: 104)

ترجمہ: اور فرمایا: ”اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے۔“

تشریح: اس آیت شریفہ میں پوری امت پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ عائد کیا گیا ہے اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت کا سبب ہی اس خاص کام کو بتایا گیا ہے۔ اس بات کے ثبوت کے لئے آپ ﷺ کے متعدد ارشادات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ ”يَدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ“ کہ اس جماعت کا وظیفہ حیات ہی یہ ہے کہ لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیتی ہے۔ خیر کی تفسیر خود آپ ﷺ سے ”اَلْخَيْرُ هُوَ اتِّبَاعُ الْقُرْآنِ وَسُنَّتِيْ“ منقول ہے۔ اس سے زیادہ خیر کی جامع تفسیر اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ فرمایا کہ خیر سے مراد قرآن مجید اور میری سنت کا اتباع ہے۔ ”يَدْعُوْنَ“ صیغہ مضارع ہے مسلسل اور لگاتار کرنا، کہ یہ جماعت مسلسل اور لگاتار اپنے وظیفہ حیات میں لگی رہے۔ اس میں کسی قسم کی سستی نہ آنے دے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امر بالمعروف نہی عن المنکر یہ تو ہر فرد پر ضروری ہے مگر ایک جماعت پر جس کا یہی وظیفہ ہو جیسے کہ دوسری روایت سے ثابت ہے کہ جو برائی دیکھے اسے ہاتھ سے روکے ورنہ زبان سے ورنہ دل میں تو برا جانے، اگر یہ کیفیت نہیں ہے تو ذرہ برابر بھی ایمان نہیں۔ پھر اس دعوت الی الخیر میں بھی دو درجے ہیں۔ 1 غیر مسلموں کو خیر یعنی اسلام کی طرف دعوت دینا۔ مسلمانوں کا ہر فرد عموماً اور یہ جماعت خصوصاً دنیا کی تمام قوموں کو اسلام کی طرف دعوت دے زبان سے بھی اور عمل سے بھی۔ 2 دوسرا درجہ خود مسلمانوں کو دعوت خیر کی تبلیغ کرے اور فریضہ دعوت الی الخیر کو انجام دے۔ صحابہ دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کو لے کر اٹھے اور قلیل عرصہ میں دنیا پر چھا گئے۔ روم و ایران کی عظیم سلطنتیں روند ڈالیں اور دنیا کو اخلاق و پاکیزگی کا درس دیا۔

میرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ و روپ بگڑ گیا
جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

اللہ جل شانہ ہم سب کو بھی للّٰہیت کے ساتھ دعوت الی اللہ، دعوت الی الخیر دینے کے لیے قبول فرمائے۔ یہ بہت ضروری ہے اصل میں ہر شخص کے لیے۔ اور اپنے اپنے لحاظ سے ہوتا ہے۔ یعنی گھر میں جو گھر کا بڑا ہے، اس پہ اپنے چھوٹوں کو دعوت دینا لازمی۔ دفتر میں جو بڑا ہے وہ اپنے subordinates کو دعوت دینے پر وہ ہے۔ اس طرح جو مطلب ہے جہاں جہاں پر ان کو اللہ تعالیٰ نے رسوخ دیا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ان کو یہ فریضہ پورا کرنا چاہیے۔ تو یہ ہے کہ ہے تو اس لحاظ سے سب کا۔ لیکن ایک جماعتی سطح پر ایک جماعت بھی ہونی چاہیے جو یہ فریضہ سرانجام دے۔ اور اس کے لیے ہمہ وقت اپنے وقت کو استعمال کرے۔ ماشاءاللہ ہمارے ہاں ہے، الحمدللہ۔ جماعتِ تبلیغ کی جو دعوت ہے مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی، وہ اسی بنیاد پر کھڑی کی گئی تھی۔ کہ ایک جماعت مستقل ایسی ہونی چاہیے جو کہ یہی کام کرے۔ تو ماشاءاللہ یعنی یہ ہمارے اوپر اللہ پاک کا احسان ہے کہ ہمارے اس دور میں اس کام کے لیے لوگوں کو پیدا کیا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کام کے پھر اپنے تقاضے ہیں۔ یعنی وہ اپنی مرضی سے ہم نہیں کر سکتے۔ بلکہ جس چیز کی ہم دعوت دے رہے ہیں، اس پر سب سے پہلے ہم عمل کریں گے۔ اور وہ ہے شریعت کا احترام۔ یعنی اللہ پاک نے جو چیز جس درجے میں رکھی ہے، اس درجے میں ان کو رکھنا۔ تو ظاہر ہے جس طرح دین کے جتنے شعبے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ظاہر ہے مطلب قرآنِ پاک میں بھی آیاتِ مبارکہ ہیں اور احادیثِ شریفہ میں بھی ان کا ذکر ہے، جیسے علمائے کرام ہیں، تدریس کا کام ہے۔ تو ظاہر ہے ان کے لیے بھی اللہ پاک نے مطلب وہ فرمایا ہے۔ اور مجاہدین ہیں، جہاد۔ وہ تو پورا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس سے بھری ہوئی ہے۔ پھر میں عرض کرتا ہوں نا کہ یعنی آخری دس سال جو ہے حضرت کے، اس میں ستائیس غزوات اور ستاون سرایا۔ یعنی ہر سال تقریباً تین کم از کم غزوات۔ اور ہر سال تقریباً یعنی چھ سرایا۔ تو اس کا مطلب ہے تقریباً ہر وقت۔ تو مطلب یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ اس طرح یہ جو اصلاحِ نفس ہے۔ یہ تو قرآنِ پاک کا ارشاد ہے۔ اپنے اپنے طور پر سب کو کرنا پڑے گا۔ اور دین نافذ کرنے کی کوشش جو ہے ملک میں، یہ اپنے طور پر بہت ضروری ہے۔ تو اس کا اپنا ایک شعبہ ہے۔ تو ان تمام شعبوں کو آپس میں مل کے کام کرنا، مل کے کام کرنا یہ ہے کہ ایک دوسرے کا احترام کرنا، ایک دوسرے کے لیے دعائیں کرنا، ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا اپنی اپنی جگہوں پہ۔ یہ ضروری ہے۔ بڑی عجیب بات تھی، وقت تھا کہ مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ خود اس کام کو کر رہے تھے۔ اور دوسری طرف مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ شریعت کے نفاذ کی کوششیں کر رہے تھے، انگریز کو نکالنے کے لیے۔ تو ایک جگہ پر غلطی سے مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے اجتماع کا اعلان کیا حالانکہ ادھر جلسے کا پروگرام تھا مولانا کا۔ اور مولانا نے جلسے کا پروگرام کیا، حالانکہ ادھر مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا اجتماع کا پروگرام تھا۔ تو جس وقت دونوں ایک جگہ پہنچے، اگرچہ میدان مختلف تھے لیکن گاؤں وہی تھا، علاقہ وہی تھا۔ مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کو جب پتا چلا، انہوں نے کہا، اوہ! یہ تو غلطی ہوئی، چلو آج ہم مولانا کے جلسے میں شامل ہوتے ہیں، وہ بھی دین کا کام ہے، تو اس کی طرف چل پڑے۔ ادھر مولانا کو جب پتا چل گیا مولانا مدنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے کہا، اوہو! یہ تو ہمیں پتا نہیں تھا، چلو آج ان کے بیان میں چلتے ہیں۔ تو وہ ادھر سے آ رہے تھے اور یہ ادھر سے جا رہے تھے، راستے میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ یہ ہے بات۔ ایسا ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جذبات۔ پھر بات بنتی ہے نا۔ اگر ایسا نہ ہو، ایک دوسرے کی مخالفت شروع ہو جائے تو یہ پھر ٹھیک نہیں ہے، یہ پھر شیطان درمیان میں گھس جاتا ہے۔ مطلب اس میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح تدریس کا شعبہ ہے۔ ایک جماعت میرے پاس آئی خانقاہ میں، حالانکہ مجھے خوب یاد ہے کہ ان کو مشائخ علماء کو دعوت دینے سے منع کیا گیا ہے۔ ان کے سامنے کارگزاری رکھنی ہوتی ہے، ان کو دعوت نہیں دی جاتی۔ یہ مطلب باقاعدہ ممانعت ہے۔ کیونکہ ان کے اپنے شرح صدر ہوتے ہیں، شرح صدر پہ چلتے ہیں۔ ایک جماعت آئی تو مجھے دعوت دی۔ میں نے کہا یہ تو ہماری خانقاہ کا کام ہے، تو میں تو اس سے نہیں جا سکتا ہوں۔ کہتے میں بھی مدرسے میں پڑھاتا ہوں، تو میں نے کسی اور کے درس حوالہ کر دیا تو اس طرح آپ بھی یہ حوالے کر لیں۔ میں نے کہا یہ حوالہ نہیں ہو سکتا۔ درس حوالہ ہو سکتا ہے لیکن پیری حوالہ نہیں ہو سکتی۔ اب میں کسی اور پیر کو دے دوں کہ اچھا ٹھیک ہے جی، آپ اس کی تربیت کر لیں، ایسا تو ممکن نہیں ہے۔ تو بس یہی مسئلہ ہوتا ہے۔ یہ غلط بات ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ٹھیک ہے، مطلب اپنے کام کو ترجیح دینی چاہیے، مطلب ظاہر ہے ایک فطری بات ہے کہ جس کام میں آپ لگے ہیں تو اس کے لیے آپ فکر کریں۔ لیکن دوسروں کی فکر کا اتنا حق ہے کہ ان کو کم نہ سمجھیں۔ اس کو بھی ضروری سمجھیں۔ اور اپنے طور پر جتنا ہو سکتا ہے، ان کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔ تو کوئٹہ سے آئی تھی جماعت، تو الحمد للہ ہم نے ان کا بہت اکرام کیا اور کیونکہ وہ اس چیز کو جانتے تھے، عالم تھے اور وہ جانتے تھے۔ تو اس نے بہت جوڑ کے ساتھ وہ کیا، تو ان کو پھر میں نے خود اپنی خانقاہ میں بلایا، ان کو دعوت دی۔ تو اگر اس قسم کے ہوں تو پھر آپس میں بات چلتی ہے۔ پھر ماشاءاللہ یعنی بات ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایسی بات ہو کہ بیچارے پہ ابھی کام نہیں کھلا۔ یہ باتیں میں نے سنی ہیں، تو یہ بات غلط ہے علماء کو بیچارے کہنا، مشائخ کو بیچارے کہنا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اور کہنے والے کیا ہوتے ہیں؟ دکاندار۔ یا کوئی ریڑھی والا۔ وہ کہہ رہے ہیں جی علماء کے اوپر بات ان کے اوپر بات نہیں کھلی۔ تو خدا کے بندے! کم از کم عالم کا احترام تو آپ کے اوپر واجب ہے۔ کیونکہ آپ غیر عالم ہیں۔ تو غیر عالم پر تو عالم کا احترام واجب ہے۔ یا عالم ہو جاؤ یا پھر علماء کے خادم ہو جاؤ، یہی باتیں ہیں نا فرماتے ہیں۔ یا عالم بنو یا علماء کے خادم بنو۔ یہ کون سا طریقہ ہے کہ آپ ان کو اپنا خادم بنا رہے ہیں؟ تو یہ غلط حرکت ہے۔ اور میرے خیال میں ہر طبقے کے جو دینی کام ہیں، ان سب کو اپنے چھوٹوں کو یہ سمجھانا چاہیے کہ کسی اور دینی کام کی تنقیص نہ کریں۔ جس سے منع کیا گیا ہے۔ تو اس وجہ سے اس سے سب کو رکنا چاہیے۔ تب مطلب ہمارا دینی کام پھیلے گا، ورنہ توڑ ہو گا اور جو کام ہے وہ بھی خراب ہو جائے گا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ