نیکی اور خدمتِ خلق میں باہمی تعاون

درس نمبر 264 جلد 1، باب 20: بَابٌ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى خَيْرٍ وَالدُّعَاءِ إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ

بِر اور تقویٰ: مفہوم اور فضیلت

اسوۂ رسول ﷺ اور فلاحی کام

رفاہِ عامہ اور صدقۂ جاریہ کی اہمیت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوى﴾ (مائده: 2)

ترجمہ: اور فرمایا: ”(اور دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔“

تشریح: اَلْبِرّ اور تقوی کے اہل لغات نے متعدد معنی بیان کئے ہیں یہاں پر فعل الخیرات یعنی نیک عمل مراد ہے۔ تقویٰ ترک المنکرات کہ ایک دوسرے کا نیک اعمال اور برائیوں کے ترک کروانے میں تعاون کیا جائے۔اس کو دوسری روایت میں اَلدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ فرمایا گیا کہ نیکی کا راستہ بتانے والے کو ایسا ہی ثواب ملتا ہے جیسے کہ نیکی کرنے والے کو۔ اسی طرح ایک دوسری روایت میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ جو شخص لوگوں کو ہدایت اور نیکی کی طرف دعوت دے تو جتنے آدمی اس کی دعوت پر نیک عمل کریں گے ان سب کے برابر اس کو بھی ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے ثواب میں کچھ کم کیا جائے۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس میں علامہ ماوردی رحمہ اللہ بھی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ تقویٰ کے ذریعہ سے آدمی اللہ کو راضی کرتا ہے اور بر کے ذریعہ لوگوں کو خوش کرتا ہے۔ اللہ اور بندوں کی رضامندی سے ہی انسان کی سعادت اور یہی اللہ کی اس پر نعمت عظمیٰ ہوتی ہے۔

تقویٰ گویا کہ اللہ کے لیے ہے اور بر اس سے بندوں کی خوشی مطلوب ہے۔ اب ظاہر ہے بندوں کے ساتھ احسان کرنا بھی تو اللہ کو پسند ہے۔ اَلْخَلْقُ عِيَالُ اللّٰهِ۔ مطلب لوگ وہ اللہ کا کنبہ ہیں فرماتے ہیں۔ تو لہذا جو لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو اللہ پاک اس پر خوش ہوتے ہیں۔ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ۔ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ اس کی ضد پھر یہی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ یعنی اللہ پاک سے ڈر سے جو کام ہے اس میں بھی تعاون کرو اور جو لوگوں کی بھلائی کے کام ہیں اس میں بھی تعاون کرو۔ بلکہ میں کہتا ہوں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے جو واقعات ہیں اس میں یہ چیزیں بڑی نمایاں ہیں کہ نیکی کے کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت تعاون کرتے تھے۔ یعنی وہ حجرِ اسود والا واقعہ ہے۔ اور اس طرح مطلب ہے کہ جب بھی کوئی نیک کام انجام دیا جاتا تھا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدہ حصہ لیتے تھے۔ تو یہ ایک فطری بات ہے کہ نیک لوگ جو ہوتے ہیں وہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں بھلائی کے کاموں میں۔ جس کو ہم آج کل رفاہی کام کہتے ہیں۔ مثلاً پل بنا لینا، راستہ بنانا۔ درخت لگانا۔ مطلب یہ ہے کہ راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹانا۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں یہ نیکی کے کام ہیں۔ اور لوگوں کی نفع رسانی کے وہ ہوتے ہیں نا اور ماشاءاللہ اس کا ثواب ملتا ہے۔ پہلے وقتوں میں یہ پانی بڑا مسئلہ ہوتا تھا تو لوگ پانی کے وہ انتظام کر لیتے تھے راہگیروں کے لیے۔ تو اس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا۔ یہ جو یہودی نے وہ جو ان کا کنواں تھا پانی کا تو بہت مہنگے داموں پانی بیچتا تھا۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو خرید لیا اور ماشاءاللہ اس کو یعنی وہ کر لیا وقف کر دیا کہ لوگ اس کو استعمال کریں۔ ابھی تک وہ کنواں ہے بئرِ عثمان۔ اللہ پاک ہم سب کو نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ