دعوت و نصیحت کا درست اور مؤثر طریقہ

درس نمبر 263 جلد 1، باب 20: بَابٌ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى خَيْرٍ وَالدُّعَاءِ إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ

دعوت الی اللہ کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری

حکمت اور نرمی: نصیحت کا بنیادی اصول

اصلاح کے لیے مناسب وقت اور انداز کا انتخاب

سختی کے بجائے پیار اور ہمدردی سے تربیت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

بَابٌ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى خَيْرٍ وَالدُّعَاءِ إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ

بھلائی کی طرف رہنمائی کرنا اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانا

قَالَ تَعَالَى: ﴿وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ﴾ (قصص: 87)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”اور اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو۔“

تشریح: اس آیت کریمہ میں آپ ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ ﷺ اپنے رب کی توحید اور معرفت و عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کے اندر اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کوئی آپ کی بات سنے یا نہ سنے آپ کے ذمہ دعوت ہے، آپ دعوت دیتے رہے جیسے کہ ایک دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے کہ: ”سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔“ اس آیت میں ازلی کافروں کے بارے میں آپ ﷺ کا وعظ ونصیحت کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر قرار دیئے گئے ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ”علیھم“ کی قید کفار کے ساتھ لگا کر یہ بتایا کہ کفار کے حق میں برابر ہے کہ آپ ان کو تبلیغ کریں یا نہ کریں۔ آپ کو تبلیغ اور اصلاح کی کوشش کا ثواب ہر حال میں ملے گا وہ مانیں یا نہ مانیں۔

وَ قَالَ تَعَالَى: ﴿اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ (النحل: 125)

ترجمہ: اور فرمایا: ”(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستہ کی طرف بلاؤ۔“

تشریح: ”اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ“ اُدْعُ کے معنی بلانے کے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کا پہلا فرض منصبی ہوتا تھا پھر ختم نبوت کی وجہ سے پوری امت محمدیہ پر دعوت الی اللہ کو فرض کر دیا گیا۔ بِالْحِكْمَةِ: حکمت کے لغت میں متعدد معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر علامہ آلوسی نے حکمت کی تفسیر یہ کی ہے: إِنَّهَا الْكَلَامُ الصَّوَابُ الْوَاقِعُ مِنَ النَّفْسِ أَجْمَلَ مَوْقِعٍ. ”یعنی حکمت اس درست کلام کا نام ہے جو انسان کے دل میں اتر جائے۔“ بعض مفسرین نے حکمت سے قرآن، بعض نے فقہ اور بعض نے نبوت مراد لی ہے۔ الْمَوْعِظَةُ: وعظ کے لغوی معنی یہ ہیں کہ کسی خیر خواہی کی بات کو اس طرح کہا جائے کہ اس سے مخاطب کا دل قبولیت کے لئے نرم ہوجائے، اس کے ساتھ قبول کرنے کے ثواب و فوائد اور نہ کرنے کے عذاب و مفاسد ذکر کئے جائیں۔ الْحَسَنَةِ: نصیحت میں ایسا انداز اختیار کیا جائے جس سے مخاطب کا دل مطمئن ہوجائے۔ مخاطب یہ سمجھے کہ اس ناصح کو مجھ سے کوئی غرض نہیں صرف اس کی خیر خواہی کے لئے کہہ رہے ہیں۔ خیر خواہی اس طرح نہ کی جائے جس سے مخاطب کی اہانت ہو یا ان کے دل میں خراش پیدا کردے، اس کو ختم کرنے کے لئے ”حسنة“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔

یعنی دعوت دینا تو ہے لیکن دعوت دینے میں جن چیزوں کا خیال رکھا جائے گا وہ یہ ہے کہ اس انداز میں دعوت دیں کہ وہ اس کو قبول کر لے۔ اس سے اس کی اہانت نہ ہو۔ اس سے اس پر اس کی اپنی بڑائی کا اظہار نہ ہو۔ اور پھر یہ ہے کہ اس سے اس کو کوئی ایسی بات نہ پیش آئے کہ جس سے اس کو کوئی تکلیف وغیرہ ہو دل میں۔ تو اگر اس طریقے سے کوئی دعوت دے گا تو ایک تو مفید ہوگا۔ یعنی اس کی قبولیت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ شخص اس کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی۔ یعنی اگر کوئی دعوت اس طرح دے کہ جس میں یہ صفات نہ ہوں تو بجائے فائدے کے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اب میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں جس سے اندازہ ہو جائے گا کہ "مَوْعِظَة حَسَنَة" کیسے ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ ابھی بچے تھے۔ اور ایک بڑے میاں وضو فرما رہے تھے۔ لیکن غلط طریقے سے۔ اب حسن رضی اللہ تعالی عنہ ان کو سمجھانا چاہتے تھے کہ اس طرح نہیں کرنا چاہیے لیکن ان کو یہ نہیں کہا کہ آپ وضو غلط طریقے سے کر رہے ہیں۔ ان سے فرمایا: چاچا جان! کبھی کبھی میں وضو میں غلطی کر لیتا ہوں۔ تو آپ میرا وضو دیکھ لیں گے کہ میں ٹھیک کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: ہاں بیٹا، بتاؤ۔ تو انہوں نے پورا وضو ان کے سامنے کیا۔ تو اس بڑے میاں نے کہا: بیٹا تو ٹھیک ہے اور میں غلط ہوں۔ میں آئندہ صحیح وضو کروں گا۔ تو یہ مطلب اس طرح اگر کوئی کر لے تو فائدہ ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی کہہ دے یہ کس طرح اس طرح وضو کرتے ہو، ابھی تک تجھے وضو کرنا نہیں آیا؟ تو ادھر سے جواب میں بھی کچھ القاب و آداب سنے جائیں گے۔ تو یہ غلط بات ہے۔ اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ طریقے سے۔ بلکہ ایک بات میں عرض کرتا ہوں۔ یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ آپ اس کو اس وقت نہ کہیں۔ ورننگ ٹائم پہ نہ کہیں۔ اس کو دیکھیں کس وقت اس کا موڈ اچھا ہے۔ تو پھر بعد میں اس کو دیکھیں۔ اگر ایک بات کر لوں، آپ کے فائدے کی، کیا خیال ہے؟ وہ تو اچھے موڈ میں ہوتا ہے: ہاں بالکل ضرور۔ تو بتا دیں کہ اس طرح میرے خیال میں آیا تھا تو آپ سے میں نے کہا عرض کروں۔ تو امید ہے کہ اِنْ شَاءَ اللهُ مان لیں گے۔ ایک تو یہ بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے ان کے ساتھ خیر خواہی کرنی ہے، یہ نہیں کہ آپ نے دعوت خواہ مخواہ اس کو دینی ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ خیر خواہی کریں۔ تو خیر خواہی اس طرح بھی ہو سکتی ہے۔ کہ وہ جس شخص سے متاثر ہے یا جس شخص کے بارے میں اس کے دل میں احترام ہے ان سے عرض کیا جائے کہ آپ ذرا ان کو بتا دیجیے کہ مسئلہ اس طرح ہے۔ تو اگر ان کو پتہ چل جائے تو عمل کر لے گا۔ میں کہوں گا تو خواہ مخواہ مسئلہ ہو گا تو آپ کہہ دیجیے۔ تو اگر اچھی بات ہو تو ضرور کہہ دیں گے۔ تو ان کی بات کو مان لیں گے۔ اگر خود انسان کہہ دے تو ممکن ہے کہ اس کو رد کر لے۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں pain لینا ہوتا ہے۔ یعنی گویا کہ اس کے لیے انسان کو یہ خیال کرنا ہوتا ہے کہ میرا بھائی ہے، اس کو نقصان نہ ہو جائے۔ تو طریقے سے اس کو بتا دیتے ہیں۔ یہی دعوت کا طریقہ ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو دعوت کے صحیح طریقے سے دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ ایک دفعہ میں جس وقت چھوٹا تھا نا تو مجھے نماز پہ یعنی کھڑا کرنے کے لیے میرے والد صاحب نے پورا انتظام کیا کہ وہ سبق تو خیر میں سیکھ چکا تھا یعنی پڑھ چکا تھا۔ اب صرف یہ کہ نماز شروع کرانی تھی۔ اب نماز شروع کر رہے ہیں، میرے والد صاحب پتہ نہیں اس وقت کافی غصے تھے تو بات بات پہ ڈانٹ رہے تھے کہ یہ اس طرح پڑھنا ہوتا ہے، یہ کیا ہوتا ہے، اس طرح غصے میں تھے۔ تو میری چچی تھی، وہ ان سے عمر میں زیادہ تھی میرے والد صاحب سے، وہ آئی۔ سید علی شاہ اس طرح سکھاتے ہیں؟ ہٹ جائیں آپ، اور ان کو پھر مجھے اس نے بہت پیار سے، اس طرح کرتے ہیں، اس طرح کرتے ہیں، اس طرح کرتے ہیں، تو اس طریقے سے انہوں نے مجھے نماز سکھا دی۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ یہ طریقہ اچھا ہوتا ہے۔ اب دیکھو بچے کو بھی اگر آپ ڈانٹ سے سکھائیں گے نا تو وہ ڈر جائے گا۔ تو جو ٹھیک کرے گا وہ بھی غلط کرے گا۔ یہ بھی تو ہوتا ہے نا کہ بعض دفعہ ٹینشن میں آ کر انسان صحیح چیز بھی غلط کر لیتا ہے۔ تو اس وجہ سے یعنی وہ تمام چیزوں کو دیکھنا چاہیے کہ اچھی طرح ہو جائے اِنْ شَاءَ اللهُ۔ ایک دفعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں وہ ان دنوں ہم تھے تو وہاں پر میں کسی باہر سے کام سے گیا تھا، تو سائیکل پر، تو مغرب کی نماز میں لیٹ ہو گیا۔ تو مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے ایک مسجد میں چلا گیا، نماز تو ہو چکی تھی۔ کچھ لوگ اوابین پڑھ رہے تھے۔ اور بچے بھی تھے کچھ۔ وہ بچے بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے اپنی نماز پڑھ لی، پھر بچوں کی نماز کو میں نے دیکھا تو میں نے کہا کہ اس میں کچھ غلطیاں کر رہے ہیں۔ تو میں نے بڑے پیار سے ان بچوں کو کہا جی آپ دیکھو نا، میں آپ کو نماز بتاتا ہوں کہ نماز کس طرح پڑھتے ہیں۔ یعنی طریقے سے میں ان کو بتا رہا تھا۔ وہ ایک بڑے میاں تھے، وہ اس نے سلام پھیر دیا۔ تو مجھے دیکھا تو غصے سے بولا: کیوں اس طرح آئے ہو؟ ان کو نہ سکھاؤ۔ اچھی طرح مطلب وہ تو خود ہی کر لیں گے۔ تمہیں کیا ضرورت ہے؟ مجھے غصے سے کہا نا۔ تو خیر میں تو اس میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ میں کیا کہتا۔ ان بچوں نے کہا: بابا! یہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں، ہمیں نماز سکھا رہے ہیں، وہ کوئی غلط کام تو نہیں کر رہے۔ تو پھر اس وقت وہ خاموش ہو گیا۔ جو میں سکھا سکتا تھا وہ سکھا دیا الحمدللہ۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔