گناہ کی ابتدا کا وبال اور دورِ حاضر میں معاشرتی احتیاطیں
172 درس نمبر 262 جلد 1، باب 19: بَابٌ فِيْمَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً اَوْ سَيِّئَةً: حدیث نمبر
برائی کی شروعات کا انجام اور حضرت عثمانؓ کا تقویٰ
شادی کے وقت طلاق کے شرعی مسائل سیکھنے کی ضرورت
بچوں کی حفاظت اور موبائل کے فتنوں سے ہوشیاری
معاشرتی برائیوں (رشوت وغیرہ) کی روک تھام اور حضرت عمرؓ کی نصیحت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
ہر قتل کا گناہ قابیل کو بھی پہنچتا ہے
(172) ﴿وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِّنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی شخص جو ظلماً قتل ہوجاتا ہے مگر آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر اس کے خون کا حصہ ہوتا ہے اس لئے کہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کو شروع کیا۔“
اس سے وہی پہلے والی حدیث شریف کا تسلسل ہے ایک قسم کا یعنی معناً۔ کہ جس میں کوئی نیک کام شروع کر لیتا ہے تو اس کے نیک کام کا اجر اس کو ملتا رہتا ہے باقی جو دوسرے لوگ اس پہ کام کریں۔ اور جو برا کام شروع کر لیتا ہے تو پھر اس کا وہ دوسرے لوگ جو اس پہ عمل کرتے ہیں تو اس کا بھی اس کو نقصان ملتا رہتا ہے۔ تو یہ وہی ہے کہ قابیل نے چونکہ قتل کیا تھا اپنے بھائی کو، ہابیل کو۔ تو اب چونکہ اس نے شروع کیا ہے تو جتنے بھی لوگ قتل کریں گے تو اس کی سزا اس پر بھی پڑے گی، قابیل پر۔ تو اس سے ذرا ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر خدا نخواستہ کوئی اس طرح حرکت کر لے کہ ایک ایسی حرکت شروع کر لے تو کتنا نقصان ہوگا۔ اور اس سے ہمیں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تقویٰ کا پتا چلتا ہے۔ کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی جان تو دے دی لیکن خوں ریزی شروع نہیں کی۔ یعنی قتال شروع نہیں کیا اپنی طرف سے۔ اور ان کو یہی ڈر تھا کہ میں اگر شروع کروں گا تو پھر قیامت تک چلے گی۔ تو کہیں میرے اوپر اس کا وبال نہ آ جائے۔ تو یہ بات ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس سے بچا لیا۔ تو یہ بات ہے کہ جو شخص بھی کوئی برائی کا شروع کام شروع کرتا ہے تو اس کے بعد جتنے لوگ بھی برے کام کرتے ہیں وہ سب اس کے ذمے پڑتے ہیں۔ قرآن پاک میں اس کے بارے میں آیت ہے۔
تشریح: وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَىْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ۔
تشریح: یہ حدیث اس سے پہلی حدیث کے ضابطہ کی مثال ہے۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو بھی کسی غلط کام کو شروع کرے گا تو اس کو اس کا گناہ بھی اور جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کا گناہ بھی اس کو ملے گا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ اس حدیث میں تنبیہ ہے کہ آدمی کوئی ایسا کام شروع نہ کرے جو خلاف شریعت اور برا کام ہو کہ بعد میں لوگ اس کی اس کام میں تقلید کرتے رہے یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت تک جو بھی وہ کام کریں گے ان سب کا گناہ اس بدعت ایجاد کرنے والے کو ہوگا۔ جیسے کہ اس سے پہلے روایت میں آیا تھا کہ کوئی اچھی سنت جاری کر دے تو اس کا ثواب اس سنت کے جاری کرنے والے کو ہمیشہ ملتا رہتا ہے۔
یہ ایک بات بعض دفعہ میں سخت باتیں بھی کرتا ہوں مجبوراً کیونکہ ظاہر ہے وہ آگے نقصان ہو سکتا ہے نہ بتانے کا۔ مثلاً میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ شادی کے وقت طلاق کے مسائل سیکھنے چاہئیں۔ شادی کے وقت طلاق کے مسائل سیکھنے چاہئیں۔ کیونکہ اگر طلاق کے مسائل اس کو پتا نہیں ہوں تو بعد میں غصے میں آ کر اس کو پتا نہیں ہوگا تین دے دے گا پھر مولویوں کے پیچھے پھرے گا کہ اب اس کو کیسے ختم کریں۔ تو گولی تو چل چکی ہوگی کام تو ہو چکا ہوگا۔ تو اس کو پہلے سے پتا ہے بھائی اگر دینی بھی ہے اللہ نہ کرے تو طریقہ کیا ہے؟ ایک ایک کر کے اور طہر میں اور تمام چیزیں جیسے شریعت کے مطابق۔ تو بچ جائیں گے۔ ایسے لوگ بچ جاتے ہیں۔ خیر۔ دوسرا یہ کہ جو بچیاں ہوتی ہیں نا بچیاں چھوٹی بچیاں ان، کئی نوجوان لڑکے جو ہوتے ہیں وہ abuse کر لیتے ہیں۔ وہ سلسلہ پھر چلتا رہتا ہے۔ تو جب تک وہ گناہ میں مبتلا رہیں گے یہ آدمی اس میں۔ یہ بات خطرناک ہے۔ اس وجہ سے ایسے موقعوں سے بھاگنا چاہیے، جب اس قسم کے حالات ہوتے ہیں۔ اور آج کل تو بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موبائل کا چکر ہے اور سب گویا کہ اللہ بچائے اس کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ تو ذرا بھر بھی تنہائی کا موقع اگر آتا ہے تو اس میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تو میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ بھئی اس میں پہلے سے انسان بچے۔ ایسی جگہوں سے بچے جس میں انسان کو اس قسم کے خطرات واقع ہو سکتے ہیں۔ اور یہ اور تو چھوڑیں پرائے تو کزن اور وہ تو چھوڑیں اب تو خطرہ یہ ہے کہ اپنے جو محرمات ہوتے ہیں وہ ان کے ساتھ مسائل شروع ہو گئے ہیں۔ تو ان کے اوپر بھی چیک لگنے چاہئیں کہ ایسا نہ ہو کہ مطلب یہ اس قسم کے مسائل آج کل ہیں۔ ہمیں اس کا پتا اس لیے چلتا ہے کہ ہمیں بعض دفعہ لوگ خود بتاتے ہیں۔ تو باقی لوگوں کی تو سنی سنائی باتیں ہوتی ہیں ہمارے پاس تو دیکھی ہوئی باتیں ہیں۔ اس وجہ سے بہت ہی زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے۔ اور ان کو آزاد نہیں پھرنے دینا چاہیے چیکے رکھنا چاہیے۔ اور اس کے بارے میں خبردار ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ frank ہونا چاہیے تاکہ وہ ہر قسم کی بات کر سکیں۔ ورنہ پھر اور لوگ ان کو اپنائیں گے۔ اس وجہ سے یہ میں عرض کرتا ہوں کہ بہت محتاط ہونا چاہیے آج کل کے دور میں یہ معاملہ گڑبڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ تو یہ حدیث شریف جو ہے یہ جو ابھی بیان ہوئی ہے یہ متفق علیہ حدیث شریف ہے۔ اور قابیل کب کا گزر چکا ہے۔ اب جتنے بھی قتل ہو رہے ہیں اس کے کھاتے میں ڈالے جا رہے ہیں۔ تو اس طریقے سے ہم لوگ کوئی ایسا غلط کام نہ شروع کر لیں جس سے پھر وہ سلسلہ چلتا رہے۔ مثلاً رشوت کا سلسلہ جس نے شروع کیا اب جتنے لوگ رشوت لے رہے ہیں سب اس کے پیچھے۔ اچھا چلو وہ تو خیر جو بھی ہو گیا لیکن اس وقت بعض دفتروں میں نہیں ہوتا تو جو پہلی دفعہ شروع کرے گا تو آہستہ وہ کہتے ہیں نا وہ یہاں تک بھی فرماتے ہیں کہ جس برائی کو ختم کرنے کی طاقت نہ ہو تو اس کے بارے میں بات بھی نہ کرو۔ کیونکہ وہ اس کے پھیلنے کا باعث بن جاتا ہے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ کہ جس برائی کو ختم نہ کر سکتے ہو تو پھر اس کے بارے میں بات بھی نہ کرو۔ تو یہ ہمیں ان چیزوں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت سے نوازے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔